'' اب وہ مصمم ارادہ کر چکا تھا کہ وہ اب اپنی زندگی اور اپنی دولت فلاحی کاموں میں خرچ کرے گا ۔اس نے ''راک فلر فاؤنڈیشن'' کی بنیاد رکھی کیونکہ فیلر جا ن چکا تھا کہ دنیا میں بے شمار اچھے کام ہیں جن کو انجام دینے سے دلی سکون اور راحت حاصل کی جا سکتی ہے اس نے سوچا صرف تریپن برس کی عمر میں اس کے پاس صرف وہ دولت ہے جو اس کی زندگی نہیں خرید سکتی ہے اس کی صحت اور زہنی سکون نہیں خرید سکتی ہے ،اس نے بار بار سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ انسان کی زندگی اور اس کی تمام حرکات سکنات کا ملک ایک اس زات سے ہے جس کے پاس اختیارات کی کنجی ہے پھر اس نے ان فلاحی تنظیموں کے بارے میں سوچا ، جنہیں باشعور اور دانشمند اور انسانیت کے لئے درد رکھنے والے انسان چلا رہے ہیں، یہ لوگ مختلف علوم و فنون میں تحقیقات کرتے ہیں، کالج اور دوسرے ادارے قائم کرتے جاتے ہیں۔ کسی بیماری کا تدارک کرنے کے لیے ڈاکٹرز جدوجہد کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات یہ اعلیٰ پائے کا کام محض روپے کی کمی کی وجہ سے ادھورا اور نامکمل رہ جاتا ہے۔ اس نے انسانیت کے ان مسیحا ؤں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں مالی مدد دینے کا تاکہ وہ اپنی مدد آپ کرسکیں۔
جب ڈاکٹروں نے راک فیلر کی زندگی بچانے کی ذمہ داری قبول کی، تو انہوں نے اسے تین اصول بتائے، جن پر وہ آخری دم تک حرف بہ حرف عمل کرتا رہا اور وہ اصول مندرجہ ذیل ہیں۔- فکر و تردد سے گریز کریں۔ کسی حالت میں بھی کسی چیز کے متعلق پریشان نہ ہوں۔ اپنے جسم کو آرام پہنچائیے اور کھلی ہوا میں کافی دیر تک ہلکی ورزش کریں۔ اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں۔ جب ابھی تھوڑی سی بھوک باقی ہو، کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں۔جان ڈی راک فیلر ان اصولوں پر عمل کرنے لگا اور غالباً انہی نے اس کی جان بچائی، وہ کام سے سبکدوش ہوگیا۔ اس نے گولف کھیلنا سیکھا۔ وہ باغبانی میں دلچسپی لینے لگا اور اپنے پڑوسیوں سے ہنسی مذاق کرنے لگا۔ وہ مختلف قسم کے کھیل کھیلنے اور گیت گنگنانے لگا۔
لیکن اس نے اس کے علاوہ بھی کچھ کیا اذیت کے ایام اور بے خوابی کی راتوں کے دوران میں جان کو سوچنے کا موقع ملا۔ وہ دوسرے لوگوں کے متعلق سوچنے لگا۔ اس نے فوراً سوچنا چھوڑ دیا کہ وہ کس قدر روپیہ کما سکتا ہے، اس کے بجائے وہ سوچنے لگا کہ وہ روپے کے عوض کس طرح انسانی مسرت خرید سکتا ہے۔''اس نے ''راک فلر فاؤنڈیشن'' کی بنیاد رکھی۔ ۔ آج آپ اور میں راک فیلر کے شکر گزار ہیں کہ اس نے پنسلین اور درجنوں معجزاتی دریافتوں سے دنیا کو مستفید ہونے کے مواقع بہم پہنچائے۔ اس کی دولت نے انہیں معرض وجود میں لانے اور پھلنے پھولنے میں مدد دی۔اور پھر راک فیلر کا کیا بنا؟ جب وہ اپنی دولت تقسیم کرنے لگا تو کیا اسے ذہنی سکون مل گیا؟ ہاں آخر کار وہ بالکل مطمئن ہوگیا۔ ایلن نیونز کا کہنا ہے،''اگر 1900ء کے بعد بھی لوگ سمجھیں کہ وہ سٹینڈرڈ آئل کمپنی کی مخالفت کے متعلق سوچ رہا تھا تو وہ سخت غلطی پر ہیں۔
'' راک فیلر خوش تھا، اس میں مکمل تبدیلی آچکی تھی۔ وہ اب بالکل پریشان نہیں ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ جب اسے اپنی زندگی کے سب سے بڑے نقصان کو قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا تو یہ حقیقت ہے کہ اس نے ایک رات کی نیند بھی گنوانے سے انکار کردیا۔ اس کا اسے اس وقت سامنے کرنا پڑا جب اس کی قائم کردہ عظیم الشان کارپوریشن، سٹینڈرڈ آئل کو،''تاریخ کا سب سے بڑا جرمانہ'' ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ حکومت امریکا کے دعوے کے مطابق سٹینڈرڈ آئل ایک اجارہ دار کمپنی تھی، جو انٹی ٹرسٹ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی تھی۔ یہ عدالتی جنگ پانچ سال تک جاری رہی۔ ملک کے بہترین قانونی دماغوں نے اس مقدمے میں حصہ لیا، جسے اس وقت تاریخ کا سب سے بڑا عدالتی مقدمہ کہا جاتا تھا۔ لیکن سٹینڈرڈ آئل کو شکست ہوئی جب جسٹس کینے ٹاؤماؤنٹین لینڈس نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا، راک فیلر کے وکیلوں کو اندیشہ ہوا کہ وہ اسے برداشت نہیں کرسکے گا۔
لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ راک فیلر میں کتنی بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ اس شام کو ایک وکیل نے اسے فون کیا اور جس قدر ممکن تھا، نرم ترین لہجے میں اس کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کی اور پھر متفکر ہوکر کہا۔''مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ فیصلہ بے چین نہیں کرے گا، مسٹر راک فیلر، مجھے امید ہے کہ آپ رات کو اچھی طرح سو سکیں گے۔'' اس نے فوراً سے ٹیلی فون پر جواب دیا۔''مسٹر جانسن فکر نہ کیجئے۔ میں رات کو سونا چاہتا ہوں اور آپ کو بھی پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اچھا شب بخیر۔''یہ اس شخص کے الفاظ ہیں جو ایک دفعہ محض اس لیے بیمار ہوگیا تھا کہ اسے ڈیڑھ سو ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ہاں جان راک فیلر کو اپنے تفکرات، اپنی پریشانیوں اور اپنی الجھنوں پر غالب آنے میں کافی وقت لگا۔ وہ 53 سال کی عمر میں موت کی آغوش میں جارہا تھا لیکن وہ 97سال تک زندہ رہا۔یہ نئی سمت بالآخر پینسلین کی دریافت کا باعث بنی، ملیریا، تپ دق اور خناق کا علاج۔ اپنی موت سے پہلے، اس نے اپنی ڈائری میں لکھا، *"سپریم انرجی نے مجھے سکھایا، کہ سب کچھ اس کا ہے، اور میں اس کی خواہشات کی تعمیل کرنے کے لیے صرف ایک چینل ہوں۔میری زندگی ایک طویل، خوشگوار چھٹی رہی؛ کام اور کھیل سے بھرپور۔میں نے پریشانی کو راستے میں چھوڑ دیا اب میں تھا اور میرا خدا تھا_میرے لیے ہر دن اچھا تھا۔