Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
بدھ، 19 فروری، 2025
ہمارے خون میں سفید خلیات کی اہمیت
منگل، 18 فروری، 2025
بلوچستان کے مختلف شہروں میں کتاب میلہ لگا یا گیا
بلوچستان کے مختلف شہروں میں کتاب فیسٹیول میں ’لاکھوں روپے کی‘ کتابوں کی فروخت -بلوچستان اکیڈمی کے چیئرمین غفور شاد کہتے ہیں کہ یہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلا فیسٹیول تھا، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے توقع سے بڑھ کر شرکت کی اورریکارڈ تعداد میں کتب کی خریداری کی غفور شاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا یہ پروگرام ضلع کیچ میں ایک نئی طرز کے فیسٹیول کی شروعات ہے، جس طرح پنجاب میں فیض اورسندھ میں ایاز میلو ہوتا ہے (عبدالغفار اور اسد بلوچ)بلوچستان کے شہر تربت میں ایک تعلیمی ادارے کے تحت کتب میلے کا انعقاد ہوا، جس کے بارے میں منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ میلہ ’لاکھوں‘ کی تعداد میں کتابوں کی فروخت کا باعث بھی بنا۔ ایک اور قابل زکر بات یہ ہے کہ یہاں آنے والوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے کیونکہ بلوچستان میں کتاب میلہ بلوچستان میں ایک نئ صبح کا آغاز ہے
بلوچستان اکیڈمی آف لٹریچر اینڈ ریسرچ کے زیراہتمام ایک ادبی، ثقافتی اور علمی فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکتب فکرسے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ بلوچستان اکیڈمی کے چیئرمین غفور شاد کہتے ہیں کہ یہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کا پہلا فیسٹیول تھا، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے توقع سے بڑھ کر شرکت کی اورریکارڈ تعداد میں کتب کی خریداری کی۔ان کے خیال میں یہ اس سے پہلے نہیں ہوا۔‘ اس پروگرام کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں ادبی شخصیات کے علاوہ ماہر معاشیات، گلوکاروں، دانشوروں سمیت سیاسی رہنماؤں نے بھی شرکت کی، اس کے علاوہ کتب میلہ، ثقافتی سٹال، فن پاروں کی نمائش، میوزیکل نائٹ اور مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ غفور شاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا یہ پروگرام ضلع کیچ میں ایک نئی طرز کے فیسٹیول کی شروعات ہے، جس طرح پنجاب میں فیض اورسندھ میں ایاز میلو ہوتا ہے۔ غفورکے بقول: ’میں اپنا تجربہ بتا رہا ہوں کہ کسی بھی ادبی فیسٹیول میں لوگ پینل ڈسکشن میں کم دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم ہمارے پروگرام میں جب یہ سلسلہ چلا تو 15 سو کے قریب کرسیاں رکھی تھیں، جو تمام بھر گئی تھیں اور یہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری کامیابی ہے۔
‘ اس فیسٹیول میں سیاسی رہنماؤں میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، ماہرمعیشت قیصربنگالی نے بھی شرکت کی اور شرکا کو معیشت کے حوالے سے آگاہی دی۔ غفورنے بتایا: ’اس فیسٹیول میں ہم نے مقامی کتب فروشوں کے علاوہ کراچی اور لاہور سے بھی پبلشرز کو دعوت دی تھی، جن کی تعداد 30 سے زائد تھی، جنہوں نے کتب کے سٹال لگائے تھے، ہمارے جمع کردہ اعداد وشمار کے مطابق لوگوں نے تقریباً 35 لاکھ کی کتابیں تین روز کے دوران خریدیں جو ایک ریکارڈ ہے۔بلوچستان کے ضلع کیچ کا شمار شورش سے متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔غفور کہتے ہیں کہ فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد یہاں کے لوگوں کو ادب اور کتب سے قریب کرنا اور علم دوستی کا فروغ تھا، جس کا نتیجہ ہر پروگرام میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کی شرکت کے ذریعے سامنے آیا، جب کہ اس میں مردوں اور خواتین کی شرکت کا تناسب آدھا آدھا رہاان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل اس قسم کی تقریبات کا ان کے ہاں رواج نہیں تھا۔ہم نے اس کی شروعات کی ہے، آئندہ بھی ہماری کوشش ہوگی کہ اس قسم کی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔‘
غفورنے بتایا کہ کتب فروشوں نے بتایا اورہم نے خود بھی مشاہدہ کیا کہ لوگوں نے کتب میں بہت زیادہ دلچسپی لی اور مختلف موضوعات کی کتابیں جن میں ثقافت، بلوچی زبان، ادب، تاریخ اور سائنس بھی شامل ہیں۔ اس فیسٹیول میں کتابوں کا سٹال لگانے والےعبدالغفار بھی شامل تھے، جنہوں نے بتایا کہ یہ دوسرے کتب میلوں سے اس وجہ سے مختلف تھا کہ طلبا اور عام لوگوں کی دلچسپی کتب میں زیادہ تھی، کوئی بھی ایسا فرد نہیں تھا جو کتب سٹال سے خالی ہاتھ گیا ہو۔ کتب فروش عبدالغفار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’لوگوں نے نصابی کتب کے علاوہ ناولوں کی زیادہ خریداری کی، جن میں اکثر وہ شامل تھے جو انگریزی زبان میں ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا اس کے علاوہ فکشن، سائنس، سیاست، نان فکشن، شاعری، پرانے کلاسیکل ناول خریدے گئے۔ غفارنے بتایا: ’ہمارے سٹالوں پر وہ طلبہ زیادہ تعداد میں آتے رہے، جو لٹریچر پڑھ رہے تھے اوران کے اساتذہ نے انہیں ایسی کتابیں خریدنے کی تلقین کی تھی، اس کے علاوہ خواتین کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مجھے جو تبدیل شدہ ماحول اس وجہ سے بھی لگا کہ جو طلبہ آتے تھے وہ مخصوص کتابوں کے بارے میں پوچھتے تھے، جیسے ان کو ان کے بارے میں پہلے سے آگاہی تھی۔میں بلوچستان کے ہر علاقے میں کتب کے سٹال لگاتا رہا ہوں لیکن تربت کا ماحول اس وجہ سے مختلف تھا کہ کتب کے شوقین جنرل کتابوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔‘ غفار نے بتایا کہ اس نے تین دنوں کے دوران اپنے سٹال سے تین لاکھ کی کتابیں فروخت کیں جو اس سے قبل اتنی بڑی تعداد میں نہیں ہوئی تھیں، ۔اس فیسٹیول کا نام بلوچستان کے بلوچی، اردو کے معروف شاعر عطا شاد کے نام پر رکھا گیا ہے۔
اس پر غفور شاد نے بتایا: ’عطا شاد نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی سطح پر ایک بڑا نام ہیں، دوسرا اگر کیچ میں اہم شخصیات کا ذکر کیا جائے تو عطا شاد سرفہرست نظرآتے ہیں، اس لیے ہم نے ان کے نام پرفیسٹیول رکھا۔‘
عطا شاد کون تھے؟ ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے اردو اور بلوچی زبان کے شاعرمحمد اسحاق جو بعد میں عطا محمد اورپھرعطا شاد سے مشہور ہوئے، وہ یکم نومبر 1939 کو سنگانی سر کیچ مکران میں پیدا ہوئے۔-بلو چستان کے شہروں کے کتب میلے بمقابلہ کڑوڑوں کی آبادی اور اعلی تعلیم یافتہ افراد کے کراچی اور لاہور شہر کے کتب میلے:بات شروع ہوتی ہے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے کتب میلے سے جو دنیا کے عظیم ترین کتب میلوں میں صف اول کا کتاب میلہ مانا جاتا ہے۔کوئی دس برس قبل فرینکفرٹ کے میلے میں شرکت کی تو وہاں اکلوتا پاکستانی اسٹال بھی مل گیا ۔اسٹال کا تفصیلی جائزہ لیا تو کوئی بیس فیصد سے زائد کتب مذہبی موضوعات سے متعلق تھیں۔ شام کو واپسی پر دوبارہ پاکستانی اسٹال پر جانے کا ارادہ کیا۔ راستے میں ایک ہال میں انڈیا کا پویلین آیا جو بائیس اسٹال پر مشتمل تھا ۔ اکثر انڈیا کے نامور ناشرین کے اسٹال تھے جن کی اکثریت کی اشاعت انگریزی میں تھی ۔ ان کے فکشن اور نان فکشن کے نامور ناشرین شامل تھے۔ کتابوں کے موضوعات میں ایک بڑا تنوع تھا۔ یہی تنوع ہندی کتابوں میں بھی تھا جو کہ ہندی اسٹال والوں سے گفت وشنید سے واضح ہوا۔ ایک اور بات بڑے گر کی ایک انڈین انگریزی ناشر نے بتائی کہ ہندوستان میں ناول کا اصل قاری انگلش ریڈر ہی ہے۔
پیر، 17 فروری، 2025
گلیات پاکستان کا ہی نہیں دنیا کا خوبصورت مقام ہے
فرینکفرٹ میں عظیم الشّان کتب میلہ بمقا بلہ بلوچستان میں قیدی کتابیں
فرینکفرٹ میں کتابوں کے سب سے بڑے میلے کا انعقاد
آج کا اخباریورپ سے19 اکتوبر ، 2019
فرینکفرٹ(سیّد اقبال حیدر) اکتوبر کے ماہ میں ہر سال دنیا کا سب سے بڑا ’’بک فیئر‘‘ فرینکفرٹ میں ہوتا ہے ،یہ کتابی میلہ1949 میں پہلی مرتبہ ہوا۔پچھلے 70 برس سے فرینکفرٹ میں ہونے والے اس کتابی میلے میں امسال دنیا بھر سے 100 ملکوں سے آئے 7500 کتاب اور نشر و اشاعت سے متعلقہ اداروں نے 4 لاکھ علمی شہ پارے اپنے خوبصورت اسٹالز پر دیدہ زیب انداز میں پیش کئے۔ جنہیں دلچسپی رکھنے والے لگ بھگ2,85,000 افراد نے دیکھا اور سراہا،دنیا کہ اس بڑے کتابوں کے میلے میں پاکستان کی مایوس کن نمائندگی سے پاکستانی شرکاء نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرینکفرٹ کے اس بک فیئر سے دیگر ایشین ممالک ہر سال کروڑوں یورو کا بزنس اپنے ممالک میں لیکر جاتے ہیں مگر پاکستان حکومت اس اہم صنعت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہی،یورپ اور امریکہ کے بڑے ادارے اپنی کتابیں چین ہندوستان اور دیگر ممالک میں چھپوا کر فروخت کر رہے ہیں،کتابی میلے میں دنیا بھر سے شاعر، ادیب، پبلشرز، بک سیلیز، لائیبریوں کے منتظمین و مالکان کے علاوہ معروف فنکاروں کی شرکت نے میلے کی رونق کو چارچاند لگا دیئے، کاغذ کی کتاب سے آن لائن کتابوں کی فراہمی کے لئے اسٹالز پر آفرز نے مشاہدین کو بہت متاثر کیا، دنیا بھر کے ٹی وی چینلز اوراخباروں نے بھی میلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مارکیٹنگ کی۔ پاکستان سے پرائیویٹ پبلشنگ کے صرف دو اسٹالز تھے جن میں پیرامائونٹ بُکس پرائیویٹ لمیٹڈ نے اپنی انگلش اور اردو کتابوں کو خوبصورت انداز میں سجا کر آنے والوں کو متاثر کیا
، پڑوسی ممالک سے ہندوستان، چین اور بنگلہ دیش سے کثیر تعداد میں پبلشنگ اور متعلقہ شعبوں کی بڑی تعداد میں اسٹالز کتابوں سے سجا کر ان کے نمائندے مغربی ممالک کے خریداروں سے لمبے آرڈرز لینے میں کامیاب نظر آ رہے تھے، میلے میں ہر قسم کی ایجوکیشن کے علاوہ کچن اور بچوں کی کہانیوں اور کارٹون کی کتابوں کی بھی خوب مارکیٹنگ ہوئی۔ ************
’انتشار پھیلانے‘ والی کتابوں کا سٹال لگانے کے الزام میں 4 بلوچ طالبعلم گرفتارلاہور(جدوجہد رپورٹ)گوادر کی ایک مقامی عدالت نے بلوچستان کتاب کارواں میلے میں ’انتشار پھیلانے‘ والی کتابوں کا اسٹال لگانے کے الزام میں گرفتار 4طلبہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 40ہزار کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔’وائس پی کے‘ کے مطابق بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی(بساک) نے نئے سال کے آغاز پر بلوچستان بھر میں ’بلوچستان کتاب کاروان‘ میلے منعقد کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اسی سلسلہ میں منگل کے روز گوادر میں ڈھوریہ اسکول کے باہر کتابوں کا میلہ لگایا گیا۔ پولیس نے چھاپہ مار کر کتابیں ضبط کر لیں اور سٹال پر موجود 4طالبعلموں کو حراست میں لے لیا تھا۔ گوادر پولیس کے مطابق طلبہ ’انتشار پھیلانے‘ والی کتابیں فروخت کر رہے تھے۔گرفتار طلبا ء کے خلاف پولیس کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 158 بی (طلبہ کو تعلیمی اداروں میں سیاسی سرگرمیوں پر اکسانا)، 188 (سرکاری احکامات کی خلاف ورزی)، 147 (ہنگامہ آرائی) اور 149 (غیر قانونی اجتماع) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ’ڈھوریہ اسکول کے سامنے شاہراہ عام پر ایک بہت بڑا مجمع کھڑا تھا جس کی وجہ سے شاہراہ عام مکمل طور پر بند ہو چکی تھی اور عام عوام کو آمد ورفت کیلئے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ ڈھوریہ اسکول کے سامنے روڈ پر بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے طلباء ایک اسٹال لگا کر انتشار پھیلانے والی کتابیں فروخت کر رہے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے طلبا پابندی کے باوجود غیر قانونی طور پر بک اسٹال لگا کر لوگوں میں انتشار پھیلانے والی کتاہیں سرعام فروخت کر کے طالب علموں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے، امن و امان میں خلل ڈالنے اور علاقہ میں انتشار پھیلانے کی فضاء پروان چڑھا ارہے تھے۔‘جبکہ طالب علموں کا کہنا تھا کہ یہی کتابیں کراچی میں بھی فروخت ہو رہی ہیں تو ان میں انتشار کہاں سے آ گیا -پولیس نے طالبعلموں سے کہا کہ اوپر سے آرڈر ہے کہ یہ تماشہ بند کرواور پھر علم کے شیدائ معصوم طلبہ اور کتابیں دونو ں حوالات کی سلاخوں کے پیچھے تھے -ٹوئٹر پر تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں -کیا کہا جائے سوائے اس کے کہ وائے رے تیرے نصیب بدقسمت بلوچستان
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں واقع کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ’گوادر کتب میلے سے غیر قانونی طور پر گرفتار بلوچ نوجوانوں سمیت کتابوں کو قید کرنا بلوچ دشمن اور علم دشمن عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔‘پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گودار کی طرح بلوچستان کے دوسرے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، اوستہ محمد، جھل مگسی، جعفر آباد، سبی، بارکھان،تونسہ، حب چوکی سمیت دیگر کچھ کتب میلوں پر پولیس اور سول وردی والے افراد نے دھاوا بول کر ہراساں کیا اور سٹالز کو بلاجواز بند کیاگیا۔‘دوسری جانب بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی طرف سے تربت یونیورسٹی میں طلبا ء کی گرفتاری اور کتب کو ضبط کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی -
اتوار، 16 فروری، 2025
الوداع 'غلامان جنت الوداع
خواجہ علی کاظم کی گاڑی کوحادثہ کیسے پیش آیا
معروف کمسن ثناء خواں خواجہ علی کاظم اور نوحہ خوان سید جان علی و زین ترابی ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے، خواجہ علی کاظم کی اسکردو اور علی جان کی شگر میں تدفین کردی گئی-خواجہ علی کاظم، جو ایک ننھا سا معصوم پھول تھا، ابھی تو کھلنے والا تھا، ابھی تو اس نے خوشبو بکھیرنی تھی مگر تقدیر نے اسے ہم سے چھین لیا وہ نعت خوانی 'منقبت پڑھ کر مجمع پرسحر طاری کر دیتا تھا ۔خواجہ علی کاظم، جان علی رضوی اور زین ترابی کراچی جاتے ہوئے مانجھند نزد سہون شریف کے قریب ایک المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوئے۔سہون میں انڈس ہائی وے پر دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں-(یہ خیانت ہے الفاظ کی) پولیس وین نے سامنے سے رانگ سائڈ سے ایک سو چالیس کی اسپیڈ سے آ کر ٹکر مار کر شہید کیا ہے ،) حادثے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے، 6 زخمی ہیں، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں کم عمر نعت خواں اور منقبت خواں خواجہ علی کاظم اور علامہ حسن ترابی کے بھائی زین علی ترابی بھی شامل ہیں۔کاظم خواجہ اپنے احباب کے ہمراہ انجمن حیدری خیرپور سے سالانہ جشنِ امامِ زمانہ میں شرکت کے بعد کراچی جا رہے تھے۔خواجہ علی کاظم نے اپنی موت سے قبل فیس بک پر کراچی آنے کی اطلاع اپنے چاہنے والوں کو دی تھی۔سوشل میڈیا پر لوگ خواجہ کاظم علی کے پڑھے ہوئے کلام کو شیئر کررہے ہیں اور ان کیلئے دعائے مغفرت بھی کررہے ہیں۔
پولیس کے مطابق سہون میں سن کے قریب انڈس ہائی وے پر دو گاڑیوں میں تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں کار میں سوار 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ 6 افراد زخمی ہیں۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ کار ڈرائیور کی جانب سے غلط سائیڈ پر کراسنگ کرنے کے باعث پیش آیا، جاں بحق افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔جاں بحق ہونےوالوں کی شناخت خواجہ علی کاظم، زین علی ترابی،خواجہ ندیم، عبدالغنی اور جان علی شاہ کےناموں سے ہوئی، حادثے کی شکار کار سیہون سے حیدرآباد جا رہی تھی جان علی کاظم کی گاڑی کو رانگ سائڈ سے ۱یک سو چالیس کی اسپیڈ سے آنے والی پولیس وین نے کچل دیاگلگت بلتستان کے معروف نعت خواں کاظم علی خواجہ، سید جان علی اور شہید علامہ حسن ترابی کے فرزند زین ترابی ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں، ان کی المناک حادثے میں وفات پر گلگت بلتستان بھرمیں سوگ کا سماں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نعت خواں کاظم علی خواجہ، سید جان علی اور شہید علامہ حسن ترابی کے فرزند زین ترابی سندھ کے علاقے خیرپور میں منعقدہ میلاد کی تقریب میں شرکت کے بعد کراچی واپس جارہے تھے کہ جامشورو کے قریب ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا،
جس کے نتیجے میں تینوں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئےمرحومین کے انتقال پر گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے اور سوشل میڈیا پر ان کی مغفرت کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے، مختلف مذہبی و سماجی شخصیات نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے ننھے نعت خواں خواجہ علی کاظم جو اپنی آواز سے سماں باندھ دیتے تھے، وی نیوز مہمان بھی بن چکے ہیں۔وی نیوز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، وہ جتنے اچھے نعت خواں ہیں اتنے ہی اچھے کرکٹر بھی ہیں۔، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،۔کیا یہ عجیب پُر اسرار حادثات نہیں۔۔؟ ایسے حادثے صرف ہمارے مقاومتی جوانوں کے ساتھ ہی کیوں پیش آتے ہیں۔
22 جنوری 1998 کو علامہ عرفان حیدر عابدی بمعہ اہلیہ ٹریفک حادثے میں شہید ہو گئے جب وہ خیرپور سے سپر ہائی وے کے راستے کراچی آ رہے تھے۔علامہ شہنشاہ حسین نقوی کی گاڑی کا بھی اندرون سندھ میں خیرپور جاتے اسی مقام پر پراسرار حادثہ ہوا مشہور نوحہ خواں عرفان حیدر و فرزند بھی کراچی سے خیرپور جاتے اسی مقام پر حادثے کا شکار ہوئ- علامہ سید سفیر شیرازی نجفی بھی اپنے گن مین و ڈرائیور کے ہمراہ پراسرار حادثے میں شہید کر دیئے گےشہید حسن ترابی جن پر دو مرتبہ بم دھماکہ سے حملہ کیا گیا آخری خودکش دھماکے میں آپ شہید ہوگئےاور اب آج صبح آپ کے عظیم مقاومتی جوان بیٹے زین ترابی اپنے مقاومتی ساتھیوں سمیت خیرپور سے کراچی جاتے اسی مقام پر بظاہر ٹریفک حادثے میں شہید کردئیے گےکیا سارے اتفاق ہیں ۔؟ اور ہم اہل عزاء اپنے شہید وں ' علی کاظم اور علی نادم سید عزیز جان آغا زین ترابی ان شاء الله ہم اس حادثے کی تحقیقات اب مولا امام زمانہ کے سپرد کرتے ہیں وہی ہماری آخری امید ہے۔۔۔ اب تعزیت کے الفاظ ختم ہوچکے ہیں اورآخری الفاظ ہیں الوداع غلامان جنت الوداع '
ہفتہ، 15 فروری، 2025
موہٹہ پیلس 'کلفٹن کا جھومر
قیام پاکستان سے قبل کی بات ہے ایک بہت اونچے درجے کے صنعت کار نے کلکتہ سے آکر کراچی میں آباد ہو نے کا فیصلہ کیا یہاں آ کر انہوں نے ا اور انھوں نے صنعتی شعبے میں جہاز رانی اور جہاز سازی کی صنعت میں قدم رکھا۔ اِس کے علاوہ وہ شوگر اور سٹیل ملز کے بھی مالک تھے ۔ اُنہوں نے کراچی میں کئی گھر بنائے لیکن پھر یوں ہوا کہ شیورتن کی بیوی کو ایک مہلک مرض لاحق ہو گیا اور ان کے معالجین نے کہا کہ ان کی صحت یابی صحت بخش سمندری ہوا اور فضاء سے ممکن ہے چنانچہ شیورتن نے کلفٹن کے علاقہ میں ایک وسیع عریض راجستھانی طرز کا پیلس بنانے کا فیصلہ کیا -یہی وجہ تھی کہ اُن کی نظرِ انتخاب اس وقت کے مایہ ء ناز آرکیٹیکٹ آغا احمد حسین پر پڑی جو اُس وقت کراچی میونسپلٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے، لیکن اُن کا زیادہ وقت راجھستان میں گزرا تھا۔آغا احمد حسین کو برِصغیر کے اولین مسلمان آرکیٹکٹ میں شمار کیا جاتے تھے جو موہٹہ پیلس سے قبل کراچی کی دو اور مشہور عمارتوں ہندو جیم خانہ اور کراچی چیمبر آف کامرس کے نقشے تیار کر چکے تھے۔ 1920ء کی دہائی میں تعمیر کروائے گئے اس پیلس کے لئےسینکڑوں گدھا گاڑیوں پر راجستھان کے مشہور گلابی پتھرجودھ پور سے کراچی لائے گئے تھے۔ جبکہ پیلے پتھر کراچی کے علاقے گزری سے لئے گئے تھے-
موہٹہ پیلس کو پہلی بار دیکھیں تو اس پر راجستھان کے کسی محل کا گمان ہوتا ہے۔پوری بلڈنگ جے پور فنِ تعمیر کے زیراثر ڈیزائن کی گئی ہے جس میں مغل طرزِ تعمیر کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ عمارت کی خاص پہچان گنبد، محرابیں اور مینار ہیں جو موہٹہ پیلس کو اُس دور کے کراچی کی دیگر عمارتوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ دو منزلہ محل میں سولہ کشادہ کمرے ہیں۔بیرونی دیواروں پر گُل بوٹوں اور پرندوں کی اشکال پتھر پر تراشی گئی ہیں۔ آغا احمد حسین مقامی تاریخ سے بخوبی واقف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے موہٹہ پیلس میں مکلی کے مزارات پر کندہ نقش استعمال کیے۔ برماٹیک لکڑی کے دروازے کھڑکیوں پر سٹین گلاس کا کام کیا گیا ہے۔محل کے اندر پوجا کے لیے شیو کا مندر بھی بنایا گیا تھا جس کا اب کوئی نشان موجود نہیں۔ عمارت کے اطراف خوب صورت اور وسیع باغیچہ تھا جس میں لگے فوارے آج بھی کام کرتے ہیں۔ میں تعمیر ہونے والا موہٹہ پیلس ہمیشہ اُن کا پسندیدہ رہا۔سیٹھ شیورتن موہٹہ نے پھر اپنے مستقل قیام کا فیصلہ کیا اور وہ اپنی بیمار بیوی کو لے کر اس محل نما عمارت میں آگئے -یہاں آنے بعد ان کی بیوی کی صحت لوٹ آئ اور سیٹھ شیورتن موہٹہ نے ان کی صحت یابی کا جشنِ صحت یابی منایا ۔ یہ جشن صحت کراچی کا ایک یادگار جشن تھا جس میں شہر کی سرکردہ شخصیات کو دعوت دی گئی۔ کراچی کے پہلے منتخب میئر جمشید نسروانجی مہتہ بھی مہمانوں میں شامل تھے
موہٹہ پیلس کی بناوٹ -عمارت میں تین مرکزی دروازے مشرقی سمت میں ہیں ۔ مرکزی ہال دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے جسے پوری عمارت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ چھت پر ابھرا ہوا کاشی کاری کا کام انتہائی نفاست سے کیا گیا ہے ۔ مرکزی ہال سے بائیں جانب ایک لمبا ہال موجود ہے جو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے فرش پر سرخ اور سبز ٹائل بچھائے گئے ہیں۔ بالائی منزل پر جانے کے لیے دو راستے ہیں جن کی 32, 32سیڑھیاں ہیں۔ سولہ سیڑھیوں کے بعد رنگین شیشے لگائے گئے ہیں اور چار ہوادار گنبد ہیں۔یہ ایک وسیع و عریض قلعہ نما گلابی رنگ کی دو منزلہ عمارت ہے،جس کے چاروں کونوں پر گنبد اور چھت کے بیچ و بیچ پانچ گنبد تعمیر کیے گئے ہیں جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی گنبد دراصل اس عمارت کی خوبصورتی کا اصل راز بھی ہیں۔ یہ کراچی کی انتہائی خوبصورت اور پرُکشش عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا فن تعمیر آگرہ کے لال قلعہ ‘ لاہور کی بادشاہی مسجد ‘ دہلی کے مغل حکمرانوں کی عمارات کی یاد تازہ کرتا ہے۔عمارت میں تہہ خانہ کے علاوہ کئی بڑے بڑے دالان یا ہال ‘ کمرے ‘ کشادہ بارہ دری‘ نو گول اور دو لمبوترے گنبد ہیں۔ اس عمارت کی بارہ دری سے سمندر کا منظر بے حد دل آویز اور سحر آفریں ہوتا ہے۔
مسٹر موہٹہ اکثر یہاں حکام بالا اور شہر کے معزز افراد کے اعزاز میں پارٹیاں منعقد کرتےتھےاور غریبوں میں کھانا بھی تقسیم ہوتا تھا۔ ہندو برادری کے تہواروں ہولی‘ دیوالی‘ دسہرہ ا ور دیگر موقعوں پر یہاں رنگا رنگ تقریبات منعقد ہوتی تھیں، جن میں برصغیر کے نامور فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے تشریف لایا کرتے تھے۔ ان تقریبات میں مسٹر موہٹہ جب اپنے روایتی مارواڑی لباس کو زیب تن کر کے اور اپنے کانوں میں ہیرے کے بُندے پہن کر اسٹیج پر پرشکوہ انداز میں بیٹھتے تو وہ کسی ہندو راجہ مہاراجہ سے کم نہ لگتے ۔ اس عمارت میں مسٹر موہٹہ نے آغا خان سوئم سرسلطان محمد شاہ کے اعزاز میں بھی ایک پُروقار ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔جس میں تحریک پاکستان کی ممتاز رہنما لیڈی غلام حسین ہدایت اللہ نے بھی شرکت کی تھی۔
یہ محل نما عمارت شیورتن موہٹہ کی پسندیدہ رہائش گاہ تھی۔لیکن اس محل کی تعمیر کے 14 سال بعد ہندوستان کا بٹوارہ ہوا اور کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت بنا لیا گیا، فیصلہ یہ ٹھہرا کہ جن کے پاس ایک سے زائد گھر ہیں، ان کا ایک گھر حکومت اپنے قبضے میں لے لے گی اور ایک روز شیورتن کو ایک با اثر شخصیت کی کال آئ کہ ان کا موہٹہ محل حکومت پاکستان کو وزارت خارجہ کا دفتر بنا نے کو درکار ہے موہٹہ خاندان پھر ہمیشہ کے لیے کراچی چھوڑ گیا- شیورتن موہٹہ کے بھارت چلے جانے کے بعد اس عمارت کو وزارت خارجہ کے حوالے کر دیا گیا۔
جمعہ، 14 فروری، 2025
تحقیق علمی کا میدان اورامام جعفر صادق علیہ السلام
مسلمانوں کو تعلیم دینے کا بندوست بعد کربلا امام زین العابدین نے اپنے گھر سے ہی شروع کر دیا تھا آپ علیہ السلام کے اس خاموش مشن کو امام باقر علیہ السلام نے آگے بڑھایا لیکن حکومت وقت کی بندشوں کے باعث امام بہت آگے نہیں بڑھ سکے لیکن پھر خلافت عباسیہ میں اقتدار کی رسہ عروج پر پہنچی تب امام جعفر صادق علیہا لسلام مسند امامت پر براجمان ہوئے اور عباسی خلفاء کی آپس کی چپقلش نے امام کو علم کے فروغ کا موقع فراہم کیا اور آپ نے مدینہ میں ایک عظیم الشان یونیورسٹی کی بنیاد رکھی لیکن اس دور کے بعد ساتویں امام موسیٰ کاظم کے حالات زندگانی آپ سب جانتے ہیں تمام عباسی خلفاء کا زور خاندان رسالت کو ختم کرنے میں ہی صرف ہوا لیکن امام جعفر صادق علیہ السلام علمی میدان میں فکر و تدبر اور تحقیق کے میدان آباد کر گئے تھے -اما م کی اس یونیورسٹی میں اس وقت تمام دنیا سے آئے ہوئے چار ہزار طلباء تعلیم حاصل کر رہے تھے جن کا قیام و طعام امام نے اپنے زمہ لے رکھا تھا اس مرکز علمی میں تعلیم کے حصول کے لئے دور دراز سے سفر طے کر کے طالب علم آتے تھے،
یہ یونیورسٹی ایک ایسا علمی مرکز تھی جہاں جابر بن حیا ن جیسے شہرہء آفاق مسلم سائنس دانوں نے جنم لیا یہ ایک ایسا تدریسی مقام تھا جہاں تحقیق کی نئی جہتوں نے سانس لینا شروع کیا، یہ ایک ایسا مکتب تھا جہاں نئی سوچ نے پنپنا شروع کیا، یہ علم و دانش کا مرکز، صرف مسلمانوں کے لئے اہمیت کا حامل نہیں تھا بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی معتبر و محترم تھا، کسی خاص مذہب ، کسی خاص فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے لئے نہیں نا کسی آنے والے سے اس کا دین اور دیگر کوائف معلوم کئے جاتے تھے بس مادر علمی علم کے پیاسوں کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی تھی بلکہ ہر طالب علم کا اس کی علمی تڑپ کی بنا پر اھلا وسھلا سے استقبال کرتی تھی اما م کا دور ختم ہوا تو عباسی خلیفہ مامون نے اس مرکز کو بند نہیں کیا بلکہ اپنی سرپرستی میں لے کر امام کا نام حذف کر کے اپنے نام کے ساتھ بیت الحکمۃ لگا کر جوڑ لیا برطانیہ کی یونیورسٹی آف سرے کے پروفیسر جم الخلیلی کہتے ہیں کہ ‘ہمارے لیے یہ مکمل تفصیلات اہم نہیں ہیں کہ بیت الحکمت کہاں اور کب قائم کیا گیا تھا
۔ اس سے بہت زیادہ دلچسپ خود وہاں کے سائنسی نظریات کی تاریخ ہے اور یہ کہ اس کے نتیجے میں وہ کیسے پروان چڑھے۔’اب یہ دنیا کو کیا بتائیں کہ ہماری میراث پر اپنا لیبل کیوں اور کس نے لگایا 750ء جب شہر بغداد کی بنیاد رکھی گئی تو ساتھ ہی خلیفہ منصور نے دارالترجمہ کی بنیاد رکھی، جہاں دنیا بھر کی کتب کے عربی تراجم کرنے کا اہتمام و انصرام کیا گیا، آٹھویں صدی کے اوائل میں بیت الحکمة ہارون الرشید کا ذاتی کتب خانہ شمار کیا جاتا تھا بعد ازاں خلیفہ مامون کی علمی دوستی نے اسے عوامی مرکز کی صورت میں ڈھال دیا، ایک بلند و بالا عمارت کی تعمیر کی گئی جس مین مختلف شعبہ جات قائم کئے گئے۔مؤرخين اس کی تعمیر کو ایک نادر و نایاب شاہ کار قرار دیتے ہیں، اس کی آرائش و زیبائش کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس عمارت کو قیمتی فانوس اور روشن قندیلوں سے آراستہ کیا گیا تھا تاکہ متلاشیان علم و دانش رات کے وقت بھی علمی دریا میں غوطہ زن ہو سکیں، اس کے فرش پر قیمتی قالین سجائے گئے اس کے در و دیوار کو دبیز ریشمی پردوں سے مزین کیا گیا، یہ دنیائےعالم میں سرکاری سطح کا پہلا علمی ادارہ تھا جس کے اخراجات کا بیڑا حکومت وقت نے اٹھا رکھا تھا۔درس و تدریس کے لئے دنیا بھر سے ماہرین کا انتخاب کیا جاتا، اس بات کو یکسر فراموش کر کے کہ اس کا تعلق کس مذہب سے ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کی گراں قدر خدمات میں عیسائی، ہندوؤں اور پارسیوں کا بھی ہاتھ رہا۔
اس ادارے مین مختلف شعبہ جات کا قیام المامون کے دور میں ہوا جن میں رصد گاہ، ہسپتال، طبی، ریاضی، کیمیائی، جغرافیائی تحقیق کے شعبہ جات شامل ہیں، دنیا کے کونے کونے میں وفود بھیجے گئے جو مسودات تلاش کر کے لائے اور ان مسودات کو عربی زبان میں ڈھال کر پیش کیا گیا، بیت الحکمة کی خدمات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگر اس کا قیام عمل میں نہ لایا جاتا تو آج بنی نوع انسان جدید سائنسی علوم سے نابلد نظر آتی۔بات اگر صرف تراجم تک محدود ہوتی تو شاید علوم کی نئی جہتیں متعارف نہ ہوتیں، بیت الحکمة میں صرف قدیم مسودات کے تراجم پر زور نہیں دیا بلکہ اس موجود مواد کی تحقیق بھی کی جاتی ، یہی وجہ ہے کہ اس ادارے میں جدید علوم کی بنیادیں رکھی گئیں اب چاہے وہ علم ریاضی ہو یا علم فلکیات۔بیت الحکمة کی خاص بات یہ تھی کہ ان عہد ساز شخصیات کو جنم دیا جو اپنے شعبے کے ماہرین تھے اور جنہوں نے نئی ایجادات متعارف کروائیں۔’ صفر’ کے عدد کو دیکھ کر الخوارزمی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے کہ جنہوں نے اسی ادارے میں بیٹھ کر الگورتھم اور الجبرا کی نئی اصطلاح متعارف کروائی، سنہ 821 میں الخوارزمی کو بیت الحکمت میں ماہرِ فلکیات اور چیف لائبریرین مقرر کیا گیا، جم الخلیلی کہتے ہیں ‘کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ بیت الحکمت بالکل بھی اتنا عظیم ادارہ نہیں تھا جتنا بعض لوگوں کی نظر میں ہے، لیکن اس ادارے کا الخوارزمی جیسے مفکروں سے تعلق، ریاضی، فلکیات اور جغرافیہ میں الخوارزمی کے کام سے تعلق میرے لئے کافی ثبوت ہے کہ بیت الحکمت صرف ترجمہ کی گئی کتابوں کی ایک لائبریری نہیں بلکہ علم و تحقیق کا ایک تقریباً مکمل ادارہ تھا۔’روشنی کے انعکاس کو اور سائنٹفک طریقہ پر روشنی کے عکس کو ابن الہیثم نے متعارف کروایا ان کا کہنا تھا کہ روشنی مرئیات سے پھوٹتی ہے اور یہ ایک انقلابی تحقیق تھی، ان کی مایہ ناز کتاب “المناظر” ہے جس کا ترجمہ انگریزی میں “فریڈریک ریزنر” نے کیا ہے، علم مکینیات پر گراں قدر خدمات بنو موسی برادران نے سر انجام دیا۔
بیت الحکمة کو منگولوں نے 1258ء میں تباہ کردیا تھا اس میں موجود تمام تر عملی مواد کو دریائے دجلہ کی نذر کردیا گیا تھا، مؤرخین لکھتے ہیں کہ کتب کی تعداد اس قدر تھی کہ دریائے دجلہ کا پانی کالا ہوگیا تھا، تاہم اس ادارے مین ہونے والی تحقیقات کو وہ نہ مٹا سکے ان محقیقین کا نام آج بھی زندہ اور تابندہ ہے۔بیت الحکمة میں موجود کتب کا اندازہ تو نہیں کیا جاسکتا لیکن اسے موجودہ دور کی لندن کی برٹش لائبریری اور پیرس کی ببلیوتھک نیشنل لائبریری سے مماثل قرار دیا جا سکتا ہے، اس ادارے نے ایک ایسے تہذیبی احیاء کا آغاز کیا جس نے ریاضی، فلکیات، طب، کیمسٹری، ارضیات، فلسفہ، ادب اور آرٹس کے علاوہ کیما گری اور علم نجوم کو جدیدت بخش دی اور بنی نوع کو ایک نئے میدان میں غوطہ زن ہونا سکھایا اور وہ میدان تحقیق کا میدان تھا۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...