بدھ، 18 دسمبر، 2024

۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ -ایک خورشید تاباں

 

 خانقاہی  نظام  امن 'اور سکون   اور علم و حکمت کی   دانائ  اور  باطنی بینائ تقسیم کرتے رہنے کا  مکمل اور  شفاف نظام ہے  -زمانہ  اس بات  کا گواہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے حصے  میں جو صاحبان شریعت و طریقت  آئے ان میں پیر مہر علی شاہ جیسے نمائیندہ  و جان نشین      ان کے اجداد و سلف تھے  اولاد در اولاد کی کڑیاں جوڑتے ہوئے  یہ سلسلہ  بالآخر  پیر سید نصیر الدین نصیر  رحمۃ اللہ علیہ تک آ پہنچا  14-نومبر1949ء کو سرزمینِ گولڑہ شریف پر  آپ  کی ولادت باسعادت ہوئ  - ابتدائی تعلیم آستانہء عالیہ گولڑہ شریف کے علم ومعرفت کے روح پرور ماحول میں اپنے بزرگوں کی سرپرستی میں حاصل کی۔فنِ قراَت وتجوید میں استادالقّراء حضرت قاری محبوب علی لکھنوی سے کمال حاصل کیا۔ درسی  کتب نامور مدرس حضرت مولانا فتح محمد گھوٹوی سے پڑھیں    جبکہ   بخاری شریف،مسلم شریف اور فنون کی بعض اہم کتب ،معروف کتاب’’ مہرِ منیر ‘‘کے مؤلف حضرت مولانا فیض احمدؒ سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا۔

آ پ  اپنے دادا جان کے لئے فرماتے ہیں  کہ  دادا  حضور    حضرت سید غلام محی الدین المعروف بابوجی نے   میری  باطنی تربیت کا  خاص اہتمام کیا تھا  -حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرؒ خود حضرت بابو جی سرکارؒ کے بارے ارشاد فرماتے ہیں کہ’’بلا شبہ آپؒ کی قدر افزائیوں اور خصوصی نوازشات نے مجھے علم وادب کے میدان میں آگے بڑھنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا حوصلہ بخشا۔‘‘آپؒ نے حقیقی معنوں میں مسندِ سجادگی پر بیٹھنے کے تمام تر تقاضوں کو کماحقہ پورا کیا۔آپؒ روائتی سجادہ نشین نہ تھے بلکہ مجددِ ملت مہر علی شاہؒ کی روحانیت ومعرفت اور علم وسلوک کی انمول دولت کے حقیقی وارث ہونے کے ناطے’’نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری‘‘کا عملی ثبوت پیش کیا۔سلسلہ چشتیہ تونسویہ کے روحانی پیشوا حضرت خواجہ صوفی جمال الدین تونسویؒ المعروف دیوانہء سرکار(خانقاہ دارالجمال،دیپال پور)بھی پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کی اسی رسم شبیری کا تذکرہ اپنی مجالس میں بڑے فخر کیساتھ کیا کرتے تھے اور اگر کبھی کوئی آپؒ کے آستانہ پر مرید ہونے کے لیے آتا تو آپؒ اکثراسے پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کی خدمت میں بھیج دیتے اور اسے فرماتے کہ’’ پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کو میرا سلام کہنا اور انہیں عرض کرنا کہ مجھے دیپال پور سے صوفی جمال الدین دیوانہ نے آپؒ کے دستِ شفقت پر بیعت ہونے کیلئے بھیجا ہے۔

‘یاد رہے کہ صوفی جمال الدین تونسویؒ وہ ہستی ہیں کہ جنہیں 1994ء میں دورانِ حج مدینہ شریف میں ’’سنہری جالیوں‘‘کے سامنے پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کی موجودگی میں حضورِ اقدسﷺنے خصوصی طور پرایک خوبصورت’’تسبیح‘‘ عطا فرمائی،جو آپؒ کے تبرکات میں محفوظ ہے ۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ ،موجودہ دور کے خانقاہی نظام سے مطمئن نہ تھے ۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دینِ اسلام کی بے لوث خدمت اور عشقِ مصطفےٰﷺ سے مزین تھا۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کی یاد میں ہونے والے ریفرنس کے موقع پر پڑھا جانے والا سید مزمل حسین کے مضمون سے لی گئیں چند سطور پیشِ خدمت ہیں۔’بہت سے لوگوں نے کہا کہ ۔۔۔خورشید چھپ گیا ہے ستارے اداس ہیں۔۔۔ان کا یہ کہنادرست دکھائی دیتا ہے ۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کو سورج سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔کیوں؟۔۔۔اس لیے کہ انہوں نے روائتی خانقاہی نظام سے منسلک رہتے ہوئے اپنی دنیا آپ پیدا کی۔انہیں سورج سے اِس لیے تشبیہ دی جاسکتی ہے کہ اِن کی کرنیں ہر سُو پڑیں۔وہ ایک پیرزادے تھے چاہیے تو یہ تھا کہ اِس نظام میں رہ کر زندگی گزار دیتے،لیکن انہوں نے سوچا کہ میں پیر تو ہوں لیکن ذرا منفرد پیر بننے میں کیا حرج ہے؟

انہوں نے بھی تو اپنے وقت کے سب سے بڑے فتنے جس کی زد براہِ راست ختم نبوت کے عقیدے پر پڑی تھی،کا بھر پور محاسبہ کیا تھا۔پیر مہرعلی شاہؒ نے بھی تو شاعری کا سہارا لیا تھا اور اپنے پیغام کو لافانی بنا دیا تھا اور پیر سید نصیر الدین نصیرؒ نے بھی شعوری طور پر اِسی راہ پر سفر کیا ۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ کی نظر نے اچھی طرح دیکھ لیا تھا کہ اُن کے زمانے کا ایک فتنہ امتِ مسلمہ میں افتراق کا ہے ۔اور اُن کے زمانے کا دوسرا بڑا فتنہ اُمت کے دلوں سے حبِ رسولﷺ کو ختم کرنا ہے۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ نے اپنی زندگی انہی دو فتنوں کے سد باب کیلئے صَرف کردی۔انہوں اس کیلئے تقریرو تحریر کا بھر پور استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ نے اِنہیں جو وجاہت عطا فرمائی تھی اِس کا استعمال کیا اور بھرپور انداز میں اُمت کے اتحاد کی بات کی ۔انہوں نے حبِ رسولﷺ کو مزید پختہ کرنے کیلئے اپنی زبان اور قلم کا خوب استعمال کیا۔پیر سید نصیر الدین نصیرؒ ایسے افراد کے پاس بھی چلے جایا کرتے تھے جن کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا،لیکن مجال ہے کہ ان کے جذبے میں کمی آئ ہو-حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرؒ اپنے والدِ محترم حضرت غلام معین الدین المعروف بڑے لالہ جیؒ کے 1997ء میں وصال کے بعد مسندِسجادگی پر جلوہ افروز ہوئے۔اور تا دمِ واپسیں ،اس شان سے مسند نشین رہے کہ جس کی مثال بہت کم ملتی ہے،اور پھر 13 فروری 2009 میں اس خورشید تاباں نے  دائمی حیا ت کی جانب سفر اختیا ر کیا اور گولڑہ شریف کی دامن میں خاک کی چادر اوڑھ کر سو گئے-آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے آمین  

مری زندگی تو فراق ہے وہ ازل سے دل میں  مکیں  سہی  

وہ نگاہ شوق سے دور ہیں رگ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن وہ کسی طرح وہ کہیں سہی

ہمیں آپ کھینچے دار پر جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی

غم زندگی سے فرار کیا یہ سکون کیوں یہ قرار کیا

غم زندگی بھی ہے زندگی جو نہیں خوشی تو نہیں سہی

سر طور ہو سر حشر ہو ہمیں انتظار قبول ہے

وہ کبھی ملیں وہ کہیں ملیں وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی

نہ ہو ان پہ جو مرا بس نہیں کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں

میں انہیں کا تھا میں انہیں کا ہوں وہ مرے نہیں تو نہیں سہی

مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے مری آرزو کا بھرم رہے

تری انجمن میں اگر نہیں تری انجمن کے قریں سہی

ترے واسطے ہے یہ وقف سر رہے تا ابد ترا سنگ در

کوئی سجدہ ریز نہ ہو سکے تو نہ ہو مری ہی جبیں سہی

مری زندگی کا نقیب ہے نہیں دور مجھ سے قریب ہے

مجھے اس کا غم تو نصیب ہے وہ اگر نہیں تو نہیں سہی

جو ہو فیصلہ وہ سنائیے اسے حشر پر نہ اٹھائیے

جو کریں گے آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی تو نصیرؔ دیکھ ہی لیں گے ہم

 وہ ہزار آنکھ سے دور ہو وہ ہزار پردہ نشیں سہی

خاموش قاتل کاربن مونو آکسائڈ

  خاموش  قاتل کہلانے والی گیس کاربن مونو آکسائیڈ ایک بے رنگ  بے  مز  ہ گیس ہے جس کو   سونگھا یا چکھا نہیں جا سکتا۔ اس کا  حملہ  دل، دماغ اور پھیپھڑوں کے لیے زیادہ سے زیادہ  مہلک ثابت ہوتا ہے۔ بند جگہ میں جیسے گھر یا گاڑیوں میں کاربن مونو آکسائیڈ کی  معمولی مقدار انسانی جانوں کے  زیاں  کا باعث    ہوتی ہے۔یہ ایک زہریلی گیس ہےکاربن مونو آکسائڈ گیس یا سیال پٹرولیم گیس کے نامکمل طور پر جلنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔آپ اس کی بو محسوس نہیں کر سکتے ہیں اس کا رساؤ صحیح سے نہ لگائے گئے، ٹھیک طور سے مرمت نہ کیے گئے یا ناقص دیکھ بھال کیے گئے گیس کے آلات نیز باد کشوں، چمنیوں اور مسدود سوراخوں سے ہو سکتا ہے۔یک الارم آپ کی زندگی بچا سکتا ہے۔ 


یہ ایک خاموش قاتل ہےکاربن مونو آکسائڈ کو سانس کے ذریعہ اندر لینے سے، چاہے تھوڑی ہی مقدار میں، آپ کے جسم میں آکسیجن کی گردش رک جاتی ہے۔ اگر آپ کو گیس کی بو محسوس ہو یا آپ کو کاربن مونوآکسائڈ کے زہریلے پن کا شبہہ ہو، تو  گیس ایمرجنسی سروس کو فوری طور پر کال کریں۔طویل مدت میں، اس کی وجہ سے آپ کی صحت کو سنگین نقصان لاحق ہو سکتا ہے اور یہاں تک کہ آپ کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔امریکی ادارے کنزیومر پروڈکٹ سیفٹی کمیشن کا کہنا ہے کہ کاربن مونو آکسائیڈ کی ہلکی مقدار سے سر میں درد، تھکان، سانس لینے میں کمی، متلی، چکر محسوس ہو سکتے ہیں لیکن زیادہ مقدار انسانی جسم میں جانے سے قے، اعصاب کے توازن کا بگڑنا، ہوش کھونا اور موت واقع ہو جانا شامل ہے۔اندرونی کمبشن انجنوں سے چلنے والی مصنوعات اور آلات جیسے پورٹیبل جنریٹر، کاریں، لان کی گھاس کاٹنے والی مشینیں اور پاور واشر وغیر بھی کاربن مونو آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں۔


موٹر گاڑیوں میں کاربن مونو آکسائیڈ اگزاسٹ کے نظام میں لیک کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں یا پھر اگر کسی وجہ سے اخراج کا نظام بند ہو جائے تو یہ گاڑی کے اندر آنے لگتے ہیں۔اس سے بچنے کے لیے کیا کریں؟اسی لیے عام طور پر منع کیا جاتا ہے کہ گاڑیوں کا ایئر کنڈیشنر چلا کر اور تمام دروازے بند کر کے نہ سوئیں کیونکہ لیکیج کی صورت میں یہ عمل مہلک ہو سکتا ہے۔عام حالات میں بھی یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ کاربن مونو آکسائیڈ زہر سے بچنے کے لیے آپ کار کے اخراج کے نظام کی سال ں ایک بار ضرور جانچ کرائیں۔ و آن نہ کریں، ہمیشہ دروازے کھول دیں تاکہ تازہ ہوا مل سکے۔اور اگر آپ گاڑی کے پچھلے دروازے (ٹیل گیٹ) کو کھولیں تو کار کی کھڑکیوں اور شیشوں کو بھی کھول دیں تاکہ ہوا باہر نکلتی رہے کیونکہ اگر صرف پچھلا دروازہ کھلا ہو گا تو عین ممکن ہے کہ اگزاسٹ سے نکلنے والی گیس کار کے اندر کھنچی چلی آئے۔


جہاں تک مری کا معاملہ ہے اس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ گاڑیاں برف میں اتنی زیادہ پھنسی ہوئی ہیں کہ سائلنسر کا منھ تک بند ہو جانا بعید از قیاس نہیں۔ اس کے علاوہ باہر کی سردی سے بچنے کے لیے گاڑی کے انجن کا آن رکھنا بھی فطری نظر آتا ہے۔ایسے میں کاربن مونو آکسائیڈ کا گاڑی میں پھیل جانا اور گاڑی کے اندر کی فضا کا زہر آلود ہو جانا فطری ہو جاتا ہے۔کملیش سنکھ تاؤ لکھتے ہیں کہ ’مری میں جو ہوا وہ غلطی ہم عام طور پر دہراتے ہیں۔ ٹھنڈ سے بچنے کے لیے کار کے ہیٹر کو آن رکھتے ہیں۔ برف کی تہیں اگزاسٹ کو بند کر دیتی ہیں۔ اگزاسٹ کی گیس کار کے کیبن میں بھر جاتی ہے۔‘’کاربن مونوآکسائیڈ کا زہر میٹھا اور اس کی رفتار دھیمی ہوتی ہے اور اس کے شکار کو پتا بھی نہیں چلتا اور انسان موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔


پاکستان میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے انسپکٹر جنرل انعام غنی نے لکھا ہے کہ ’خدا نہ کرے اگر آپ کی کار برف میں پھنس جائے تو اور آپ کا انجن چل رہا ہو تو آپ کھڑکی کو ہلکے سے کھول کر اگزاسٹ سائلنسر پائپ سے برف صاف کر دیں۔‘’برف کی قبر میں دھنس گیا تھا، خوش قسمت تھا بچ گیا‘ جبکہ ڈاکٹر فہیم یونس نے لکھا کہ ’مری ہونے والی اموات ٹھنڈک سے ہوئی ہیں یا کاربن مونو آکسائیڈ کے زہر سے؟‘انھوں نے مزید لکھا: ’کاربن مونو آکسائیڈ بے رنگ اور مہلک ہے۔ اگر رکی ہوئی کار برف میں دھنس جاتی ہے تو اگزاسٹ (سائلنسر) بند ہونے سے کار میں سوار کی جلد موت واقع ہو سکتی ہے۔‘انھوں نے لکھا ’یہ سب کاربن مونو آکسائیڈ کے زہر سے مرے ہیں اور اس کی وجہ ہوا کا  گزر نا ہونا، انجن کا چلتے رہنا اور سائلنسر کا منھ بند ہونا ہے۔ اگر لوگوں نے صرف ذرا سی کھڑکی کھلی رکھتے تو۔‘پوری دنیا میں برف پڑنے سے پہلے تنبیہ جاری کی جاتی ہے کہ اس علاقے میں موسم کبھی بھی خراب ہو سکتا ہے اس لیے گھر میں رہیں لیکن مری میں الرٹ جاری کرنے میں بہت دیر کر دی گئی۔اس بارے میں ماہر ماحولیات توفیق پاشا معراج نے بی بی سی کی سحر بلوچ کو بتایا کہ برفباری کی صورت میں انتظامیہ کو سب سے پہلے مری جانے والی سڑکیں بند کرنی چاہیے تھیں۔

منگل، 17 دسمبر، 2024

کاربن مونو آکسائڈ کی تباہ کاریا ں پارٹ 2

 

 پورے 21 سال کے بعد پاکستان آیا تھا...... وہ گویا ہوا.
 . اپنے دیس.اپنے وطن ... اپنے بچوں کو پاکستان دکھانے..... اپنے حمزہ اسد اور گل کو لے کر....... خالی ہاتھ واپس جارہا  ہوں....... ہرا بھرا آیا تھا.... اجڑ کر جارہا ہوں.... مسلسل اپنے ہاتھ آگے کئے دیکھ رہا تھا... آپ بیٹھ جائیں پلیز..... عملے کے ایک فرد نے اسے کہا.... نہیں....... مجھے کچھ ہونے لگتا ہے...... 20 سال کے کا حمزہ تھا اور 9 سال کا اسد....... بیٹی میری 17 سال کے کی ہے... تین  بچے... کل کائنات....... یہاں لاہور میں بھائ کے بیٹے کی شادی تھی.... میرے بچوں نے پاکستان دیکھنا تھا.... دادا دادی سے ملنا تھا... اور خود مجھے اپنے پیاروں سے ملنا تھا.... سو سب کو لیے چلا آیا..... مہندی کی رات تھی...... محفل جمی ہوئ تھی... رات کا ایک پہر گزر گیا تو میرے بچے جو جلد سونے کے عادی ہیں... دونوں بیٹے سیڑھیوں سے اوپر والے کمرے میں چلے گیے.... لائیٹ گیی ہوئ تھی سیڑھیاں جہاں شروع ہوتی ہیں وہاں جنریٹر نصب تھا جو چل رہا تھا......بیٹی بیگم اور میں نیچے رت جگے کی محفل میں تھے..... لائیٹ آئ اور گئی....... لڑکیاں بالیاں ٹپے گاتی رہیں.... سب وہیں نیچے جس کو جہاں جگہ ملی سو گئے.... صبح سب اٹھے... مگر میرے بچے..... وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.... میرے بچے نہیں جاگے... جنریٹر کی گیس لیک ہوتی رہی..... اوپر کمرہ بھر گیا

 ایک بچے کی لاش برآمد کمرے میں اور دوسرے کی سیڑھیوں پر ملی......... ساتھ ہی سٹوری بک بھی....... کاربن مونو آکسائیڈ میرے بچوں کو کھا گئی.... انہیں پتہ بھی نہ چلا.... ایسی میٹھی نیند سلادیا....... میں خالی ہاتھ کہاں جارہا ہوں...... اپنے بچوں کی... اپنے حمزہ اور اسد کی لاشیں لے کر جارہا ہوں... وہ بار بار بار اپنے ہاتھ آگے کر رہا تھا اور کہتا جارہا تھا.... آنسو ہم سب کے رخسار بھگو چکے تھے.... ایسا کوئ حرفِ تسلی نہیں سوجھ رہا تھا جو اس تڑپتے ہوئے باپ کے زخموں پر رکھا جائے......... آپ نے تدفین یہیں کیوں نہ کی... کسی نے بےارادہ سوال کرلیا..... اسے دیکھ رہے ہیں آپ.... اس نے سرخ آنکھوں سے اپنی بیوی کی طرف سے اشارہ کیا.... ایسی نہیں تھی وہ.... پاگل بھی نہیں ہے... ڈاکٹر ہے ڈاکٹر.


.......... لیکن ماں ہے... کیسے لخت جگر یہاں چھوڑدوں.... وہیں دفن کریں گے.... قبر پہ جاکر باتیں تو کرلیا کریں گے.. وہ ہچکیوں سے رورہا تھا....... ساتھ ہی بیٹی بھی سامنے روتی نظر آرہی تھی لیکن ماں.... وہی گھمبیر چپ..... ایک آنسو نہیں ٹپکا... اسکا.... کچھ نہیں کھایا......... بس بمشکل پانی کے چند قطرے............ وہ باتیں کرتا رہا... سب دلجوئ کرتے رہے... جہاز منزل کے قریب پہنچنے کو تھا........ میں مستقل اس ماں کو ہی دیکھتی اور پوچھتی رہی تھی.......... لڑکی ماں کا ہاتھ تھام کر اٹھی اور اسے ریسٹ روم لے گئی.... باہر نکلی تو وہ آکر کھڑی ہوگئی...... ہم آمنے سامنے تھے میں اسے دیکھ رہی تھی اور وہ مجھے.......... میرے حمزہ اور اسد اچانک اس نے چیخ ماری اور مجھ سے لپٹ کر بلند آواز میں رونا شروع کردیا.. اسکے بین دل چیر رہے تھے.... چپ ٹوٹ گئی تھی..... وہ بے ہوش ہونے کو تھی... جہاز میں ڈاکٹر کی اناؤنسمنٹ شروع ہوگئی........ اسے سیٹ پرلٹا دیاگیا اور طبی امداد دے دی گی...مسافروں میں کئی ڈاکٹر مل گئے.


..... شوگر لیول ڈاؤن تھا سو ٹریٹمنٹ دے دیا گیا...... جہاز کچھ ہی دیر میں منزل مقصود پر اتر گیا اور سب سے پہلے وہیل چیئر منگا کر اس خانوادے کو جہاز سے د لاسوںآنسوؤں اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا گیا....... مانچسٹر میں وہ تین دن بہت بھاری گزرے... اور پھر کافی عرصے تک یہ واقعہ ایک فلم کی طرح زہن میں چلتارہتا....اور میں سب سے کے بچوں اور اپنے بچوں کے لیے دعائے خیر کرتی کہ خدا ہر ناگہانی سے بچائے وقت کی گرد نے اس واقعہ کو دھندلا دیا تھا لیکن نوبیاہتا جوڑے کی وادئ ہنزہ میں ہوٹل میں قیام کے دوران ہیٹر کی گیس لیک ہونے سے ہونے والے ناگہانی حادثے اور ان کی جواں مرگی نے اس واقعے کو پھر سے تازہ کردیا... دل بھاری ہے اور آنکھیں اشکبار.


.....کبھی وہ مسافرفیملی یاد آتی ہے تو کبھی ان نوجوان بچوں کے والدین کا خیال آتا ہے جنہیں میں نے نہیں دیکھا لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے جان سکتی ہوں کے بچے کیسے ارمانوں سے پال کر جواں کئے جاتے ہیں.... اور موت کا ظالم پنجہ جب کسی بھی بہانے سے ان کو چھین کے تو قرار آنا کتنا ناممکن ہے وہ تو خوش نصیب ہیں ہم کہ ہمیں غم حسین ع جیسی دولت نصیب ہے کہ جب کوئ غم کا اظہار پہاڑ ٹوٹتا ہے تو ہم مصائب حسین ع اور مصائب ِ محمد ص و آل محمد ص کو یاد کرتے روتے اور اپنا غم غلط کرتے ہیں.......... پروردگار سے دعا ہے کہ کہ مرحومین کے درجات بلند فرمائے اور جوار معصومین ع میں جگہ عطا فرمائے شفاعت امام حسین علیہ السلام نصیب ہو اور ان کے اعزہ و اقربا...... ان کے لواحقین بالخصوص والدین کو صبر و سکون اور اس صدمے کو جھیلنے کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے.......ہر ماں کا کلیجہ ٹھنڈا رہے اور ہم سب کے بچوں کو.. اولادوں کو نوجوانوں کو پروردگار ہر طرح کی ناگہانی آفات سے بچائے... نگاہ بدو حسد سےمحفوظ اور اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین بحق معصومین 

کاربن مونو آکسائڈ کی تباہ کاریاں

  ابھی  حال ہی میں کچھ  سچی اور دلدوز  کہانیا ں منظر عام پر آئیں ہیں اس لئے شعور ی بیداری کی نیت سے  کچھ  باتیں اپنے ریڈرز سے شئر بھی کی ہیں  نئ کہانی تو کراچی کی ہے جس میں ایک لڑکی اپنے بہنوئ کے ساتھ ریلیشن شپ میں تھی اور وہ دونوں  بند گیراج میں   کار کے اندر  گیس کی  لیکیج سے مر گئ  جبکہ بہنوئ کو بے ہوشی کی حالت میں نکا ل لیا گیا -اسغفراللہ -دوسری خبر ہے گوجرانوالہ کے ایک گھر کے بند  گیراج میں  موجود ایک  کار سے ایک نوجوا ن  لڑکی اور  نوجوان کی لاشیں برامد ہوئیں جو کہ کار میں  گیس   بھر جانے کے سبب دم گھٹنے سے ہلاک ہو چکے تھے    اب جو تحریر میں پیش کرنے جا رہی ہوں  یہ میں نے کچھ  مہینے پہلے انٹر نیٹ سے اپنے ڈرافٹس میں محفوظ کی تھی کیونکہ اتنی دلخراش تحریر کو پرنٹ کرنے کے لئے بھی ہمت چاہئے تھی لیکن  پے در پے گیس لیکیج حادثات نے مجھے مجبور کیا کہ شعوری بیداری کے لئے  بوجھل تحریر  کو  قارئین کے لئے پیش کرنا بہتر رہے گا - یہ تحریر ایک فضائ میزبان کی جانب سے لکھی گئ ہے جس کا نام مجھے نہیں معلوم اس  لئے مصنفہ  میری معذرت  قبول کر لیں


فلائیٹ لاہور سے مانچسٹر جارہی تھی جب میں نے اس فیملی کو جہاز کے دروازے پر دیکھا... دراز قامت اور صحت مند پختہ عمر کا مرد اور درمیانے قد کی قدرے سانولی مگر پرکشش خاتون انتہائ سوجی ہوئ سرخ آنکھوں کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی کا ہاتھ تھامے ہولے ہولے چلتی ہوئ.... جب میں نے ان کے ہاتھوں سے بورڈنگ پاس لیا تو اس کا خاتون کی آنکھوں کی وحشت اور چپ نے مجھے سہما دیا...... وہ اپنی نشست کا پوچھ کر آگے بڑھے اوراکانومی کلاس میں بالکل جہاز کے دروازے کے ساتھ والی نشست 21A'21B'21C پر بالترتیب کچھ اس طرح بیٹھ گئے کہ مرد کھڑکی کے ساتھ اور خاتون درمیان میں جبکہ لڑکی خاتون کے ساتھ بیٹھی تھی.... اور خاتون کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا.... اور وہی گہری چپ.... مرد نے نشست کو پیچھے کر کے آنکھیں موند لیں تھیں.... میں چاہتے ہوئے بھی ان پر سے نظریں نہیں ہٹا پارہی تھی.... گوکہ ایک معمول کی طرح اپنے فرائض کی انجام دہی میں میکانکی انداز میں مصروف تھی.

.. جہاز کے دروازے بند ہوئےمقررہ وقت پر جہاز نے اڑان بھری اور اپنی منزل کی طرف سے رواں دواں ہوگیا... پرواز شروع ہونے کے اور جہاز کے فضا میں سیدھا ہوتے ہی حفاظتی بند کے نشانات بجھنے کے بعدجہاز کا عملہ مستعدی سے مسافروں کی سہولیات کے سامان بہم پہنچانے میں مصروف ہوجاتا ہے اور اسکے ساتھ ہی طویل دورانیے کی پرواز پروقت کو جلد ہی مدِ نظر رکھتے ہوئے طعام فراہم کیا جاتا ہے تاکہ مسافر کھانے سے فارغ ہوکر آرام کریں...... جہاز میں گہماگہمی شروع ہوچکی تھی لیکن وہ تینوں ساکت بیٹھے تھے.... کھانا پیش کرتی ہوئ فضائ میزبان نے مہربان مسکراہٹ کے ساتھ ان سے ان کی سامنے والی کھانے کی میز کھولنے کی درخواست کی..نیم دراز مرد نے آنکھیں کھولی اور سیدھا ہوئے سپاٹ آواز میں کہا.... ہمیں کچھ نہیں چاہیے....علاوہ بلیک کافی اور وہ بھی صرف مجھے..... اور انہیں... فضائ میزبان نے اس کی بیوی اور بیٹی کی طرف سے استفہامیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا....عورت جوکہ ایک گھمبیر چپ کے ساتھ کسی بے جان مجسمے کی طرح بیٹھی تھی اور بیٹی کا ہاتھ مستقل اس کے ہاتھ میں تھا.... یہ کچھ نہیں لیں گی...... مرد نے ان کی طرف سے جواب دیا اور پھر آنکھیں موند کر نیم دراز ہوگیا.


... فضائ میزبان آگے بڑھ گئی.... یا وحشت...... کیا مسئلہ ہے ان کے ساتھ..... میں نے پھر مرد کے انتہا سے زیادہ تھکے ہوئے چہرے پر نظر کی اور پھر عورت کی سنسان بے جان اور وحشی سرخ آنکھوں اور سپاٹ چہرے پر سے میری نظر لڑکی پر گئی تو وہاں موسم بدل چکا تھا.... لڑکی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو ماں کے ہاتھ پر گر رہے تھے اور وہ آہستہ آہستہ ماں کو کچھ سمجھانے کی کوشش کررہی تھی..... سرخ ناک اور لرزتے ہوئے ہونٹ..... ہاتھوں میں کپکپاہٹ.... لیکن عورت پر کوئ اثر نہیں تھا..... اس کا ہاتھ لڑکی کے ہاتھ میں مستقل تھا اور وہ ہولے ہولے سہلا رہی تھی..... مگر دوسری طرف وہی ظالم چپ..... ہونٹ سختی سے ایک دوسرے میں پیوست.... آنکھیں ویران..... لڑکی نے ماں کی جیکٹ اتاری... اسکی نشست کو آرام دہ کیا... اور ایک کمبل مانگ کر اسے اوڑھا دیا..... اور پھر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں بیٹھ گئی.... وہ شاید ماں کو سلانے کی کوششوں میں تھی...تمام مسافر طعام سے فارغ ہو چکے تھے اور جہاز کی لائیٹیں مدھم کردی گئی تھیں..... کیسے پوچھوں کہ کیا مسئلہ ہے.

... مجھے سب کچھ عجیب لگ رہا تھا اسی اثنا میں بزنس کلاس سے سینئر پرسر نے آکر مجھ سے کہا... 21 ABCکے مسافروں کا کیا حال ہے...... آپ لوگ ان کا خیال رکھیے گا....وہ اپنے بچوں کی ڈیڈباڈی لاہور سے مانچسٹر لے کر جارہے ہیں.میں سن ہوگئی..... میری سمجھ میں ان کے روئیے آگئے..... عمومی طور پر ایسے کیسسز کے بارے میں میں پہلے بتا دیا جاتا ہے لیکن ان کو خود کو بھی بہت بعد میں معلوم ہوا تھا.... عملہ مزید مستعد ہوگیا کہ ان کا خیال رکھا جائے لیکن مرد آنکھیں موندے بے حس و حرکت نیم دراز تھا جب کہ خاتون مستقل خاموش خلاؤں میں گھور رہی تھیں.... لڑکی مستقل چپکے چپکے رورہی تھی...... ان کا درد سمجھ میں آیا تو سب کے دل بھاری ہوگئے...... پانی لے جاکر دیا..... اور کھانا کھلانے کی کوشش کی گئی مگر سب بے سود...... مرد نے منع کردیا کہ دونوں خواتین کو ان کے حال پہ چھوڑ دیا جائے اور خود اٹھ کر جہاز کے دروازے کے پاس کھڑا ہوگیا....... مجھے گھٹن محسوس ہورہی ہے... میں کچھ دیر یہاں کھڑا ہوجاؤں.... اس نے عملے سے اجازت چاہی... جی ضرور..... سب رنج بھی بٹانا چاہتے تھے...... اسے سننا چاہتے تھے.....  

پیر، 16 دسمبر، 2024

فیو میگیشن سانحہ - ڈیفینس خیابان سحر کراچی

 

  چند روز ہوئے کہ کراچی  کے علاقے ڈیفینس خیابان سحر میں رہائشی ایک خاندان بڑے المیہ سے دو چار ہوا -اس دن گھر کے مالک  ڈاکٹر ضیاء الدین  نے اپنے گھر  کو  فیومیگیٹ  کروایا  اور  پھر رات کو یوں ہوا کہ سب سے پہلے ان کا   سب چھوٹا بیٹا چل بسا  اس کے بعد اس سے بڑی شائد سات سال یا اسی کے آس پاس عمر کی بیٹی چل بسی جبکہ سب سے بڑا بیٹا  ونٹیلیٹر پر چلا گیا  پولیس ذرائع کے مطابق گھر سے ملنے والے بے ہوش افراد میں ڈاکٹرضیاء الدین شیخ، انکی اہلیہ اور 4 بچے شامل ہیں۔ ڈاکٹر ضیاء الدین شیخ سرسید اسپتال قیوم آباد کے مالک ہیں۔ مردہ حالت میں ہسپتال لائے جانے والے  5 سالہ بچے کی شناخت معین الدین کے نام سے ہوئی۔اس خاندان کو المیہ سو چار کرنے والی وہ ٹہری جو  گھر میں استعمال کی گئ تھی تو دوسری جانب   دوا کا اثر زائل ہوئے بغیر  گھر میں  رہنا  بھی خطر ناک ثابت ہوا -ہر زی شعور کو معلوم ہونا چاہئے کہ کیڑے مار  دوائیں ہر طرح سے مہلک ہوتی ہیں  -اور یہ  دوائیں  نظام تنفس  کے زریعہ سب سے پہلے پھیپھڑوں کو  گلا دیتی ہیں  اور انسان کی موت زراسی دیر میں وقع ہوجاتی ہے-


زہریلے مضر اثرات ہونے کی علامات:کسی بھی ذریعہ سے اگر کوئی کیڑے مار دوا جسم میں داخل ہو جائے، تو اس کے مضر اثرات فوری طور پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔۔ مضر اثرات کی بڑی بڑی علامات درج ذیل ہیں۔کپکپاہٹ ٭: سر درد  ٭بلڈ پریشر میں کمی : متلی، قے ٭: کمزوری٭پیٹ میں درد اور  اینٹھن :  ٭: بہت پسینہ آنا ٭: ٭: سانس کا مشکل سے آنا ٭:   :اگر کسی شخص میں کیڑے مار دوا کے مضر اثرات کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوں تو فوری طور پر درج ذیل ہدایات پر عمل کریں۔-1متاثرہ شخص کو فوراً دوا سے اور جس جگہ اس کا چھڑکائو کیا گیا ہو، وہاں سے دور لے جائیں۔ -2اس کے جسم سے دوائی آلود کپڑے اتروا دیں تاکہ جسم پر دوا کے اثرات ختم یا کم ہوجائیں۔ -3اس کے جسم کو پانی سے اچھی طرح دھولیں۔ -4اگر اس کا سانس بند ہو گیا ہو تو مصنوعی طریقے سے منہ در منہ اس کا سانس جاری کرنے کی کوشش کریں۔ -5مریض کو قریبی ہسپتال پہنچانے کا بندوبست کریں۔ خصوصی احتیاطی تدابیر:-1فیومیگیشن کے بعد کم سے کم تین دن گھر میں رہائش اختیار نہیں کی جائے۔   -4ابتدائی طبی امداد (فرسٹ ایڈ) کا بندوبست لازمی ہے تاکہ اس کے فوراً بعد کسی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچایا جا سکے۔


-5 ان کیمیائی دوائوں کا چھڑکائو کرنے کے بعد کم سے کم تین دن وہاں رہنے سے گریز کرنا چاہئے  …اب یہ خبر ملاحظہ کیجئے ٭جامعہ    کراچی مرکز برائے کیمیا اور حیاتیاتی علوم نے رپورٹ کمشنر کراچی کو پیش کردی-روزنامہ    ایکسپریس کے مطابق جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیا اور حیاتیاتی علوم کے سربراہ اقبال چوہدری نے ہلاکتوں پر ابتدائی رپورٹ کمشنر کراچی کو پیش کردی جس میں بتایا گیا ہے کہ 90 فیصد شواہد اور تجزیے سے ثابت ہوا کہ تمام ہلاکتیں زہریلی کٹھمل مار دوا ایلومینیم فاسفائیڈ سے ہوئیں، متاثرہ کمرے سے اس دوا کی کافی مقدار ملی۔یعنی  کھانے سے کوئ زہر ان کے جسموں میں نہیں گیا  لیکن ہلاکتوں کے پیش نظر  وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔ سندھ فوڈ اتھارٹی نے کھانوں کے سیمپل اور ہوٹل میں موجود زائد المعیاد کولڈڈرنک کی بوتلیں اور جوس کے ڈبے قبضے میں لے لئے جبکہ پولیس نے ہوٹل کو سیل کردیا۔


 متاثرہ خاندان کا تعلق کوئٹہ پشین سے ہے جو جمعرات کی شب ہی کراچی پہنچا تھا اور ہوٹل میٹروپول کے قریب واقع گیسٹ ہاﺅس قصر ناز میں ٹھہرا تھا جہاں انہوں نے صدر میں واقع ریسٹورنٹ نوبہار سے پارسل میں بریانی منگوا کر کھائی رات گئے اچانک بچوں ان کی ماں اور پھوپھی کی حالت خراب ہوگئی اور پانچ بچوں ڈیڑھ سالہ عبدالعلی‘ 4 سالہ عزیز‘ 6 سالہ عالیہ‘ 7 سالہ توحید اور 9 سالہ صلویٰ نے دم توڑدیا اس دوران بچوں ان کی ماں بینااور پھوپھی کو آغا خان اسپتال پہنچایا گیا جہاں بینانے بھی دم توڑ دیا اندوہناک واقعے کے بعد اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور مرنے والوں کی نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے جناح پہنچایا دوسری طرف سندھ فوڈ اتھارٹی نے بھی صدر میں واقع ریسٹورنٹ میں کارروائی کی سندھ فوڈ اتھارٹی کے چیئرمین امجد لغاری کے مطابق ریسٹورنٹ میں موجود دیگوں سے باسی بریانی برآمد ہوئی جبکہ زائد المعیاد جوس کے ڈبے‘ کولڈ ڈرنک کی تین درجن سے زائد بوتلیں ناقص تیل اور دیگر کھانوں کے سیمپل بھی قبضے میں لے لئے گئے 


فوڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاندان کوئٹہ سے کراچی پہنچا اور صدر کے ایک گیسٹ ہاؤس   میں قیام کیا جبکہ متاثرہ خاندان نے کوئٹہ سے کراچی سفر کے دوران خضدار اور حب میں کھانا بھی کھایا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاندان نے کراچی پہنچنے پر پارسل بریانی لی اور گیسٹ ہا ؤس کے کمرے میں کھائی اور بریانی کھانے کے بعد خاتون نے الٹیاں کرنا شروع کیں اور ان کے شوہر انہیں ہسپتال لے گئے دوسری جانب وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کے والدین سے خود جاکر ملیں اور اگر وہ واپس کوئٹہ جانا چاہتے ہیں تو ان کیلئے بندوبست کیا جائے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ واقعے پر دلی صدمہ ہوا بچوں کے والدین کی تکلیف محسوس کر رہا ہے ان کے ساتھ انصاف ہوگا۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے کہا ہے کہ یہ بات سامنے آئی ہے قصر ناز میں کیڑے مار پا ؤ ڈر ڈالا گیا تھا فیملی نے زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا تھا ہو سکتا ہے اس  پاؤڈر کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا ہو ممکن ہے کھانے کی وجہ سے ہی کچھ ہوا ہو۔ ایکسپریس کے مطابق جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیا اور حیاتیاتی علوم کے سربراہ اقبال چوہدری نے ہلاکتوں پر ابتدائی رپورٹ کمشنر کراچی کو پیش کردی جس میں بتایا گیا ہے کہ 90 فیصد شواہد اور تجزیے سے ثابت ہوا کہ تمام ہلاکتیں زہریلی کٹھمل مار دوا ایلومینیم فاسفائیڈ سے ہوئیں، متاثرہ کمرے سے اس دوا کی کافی مقدار ملی۔ 

ہفتہ، 14 دسمبر، 2024

باکما ل لوگ ' لاجواب سروس -عہد ماضی کا پی آئ اے

 

 کبھی  کبھی میرے دل میں  خیال آتا ہے   جب میرے وطن کی  دھرتی پر کرپشن کی آکاس بیل  نے سر نہیں   اُٹھایا تھا  تب میرے وطن کا گوشہ گوشہ  اُن چہروں سے منور تھا جو اس دھرتی کے  حقیقی خدمت گار تھے  وہ  اس دھرتی کی وہ خدمت کرتے تھے جو اپنی جنم دی ماں کی'کی جاتی ہے  ان خدمت گاروں میں بے شمار نام ہیں لیکن میں اس وقت بات کروں گی ایک ہونہار سپوت کی جس نے پی آئ اے کو دنیا کی صف اول کی ائر لائینز میں بہت کم عرصے میں لا کھڑا کیا تھا اور وہ نام ہے ایئر کموڈور ملک نور خان   ؎؎ملک نور خا  ن نے   1959 میں پی آئی اے کی قیادت سنبھالی۔ پی آئی اے کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار ارشاد غنی کا کہنا ہےکہ  ملک نور خان1959 ء کا  دور شروع ہوا جسے اکثر پی آئی اے کا گولڈن ایرا (یعنی سنہری دور) کہا جاتا ہے۔ پی آئ اے دن    بدن   ترقی  کی شاہراہ پر آگے بڑھتا  چلا گیا -یاد رہے کہ   انہوں نے     1978 سے 2013 تک فلائٹ آپریشنز، آئی ٹی، کارپوریٹ پلاننگ اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں اہم ذمہ داریو ں پر فائض رہے-جناب  ارشاد غنی نے بتایا کہ نور خان  کی  پی آئ اے کی سربراہی   کے عرصے میں پی آئی اے نے بے پناہ ترقی کی۔’

سنہ 1960 میں ڈھاکہ، کراچی اور لندن کے درمیان پہلی بار بوئنگ 707 سے فلائٹ شروع کی گئی۔پاکستان فضائیہ کے ائیر مارشل نور خان 1941ء سے 1971ء تک فوج میں خدمت انجام دی اور فضائیہ کے سربراہ رہے۔ 1965ء کی جنگ میں دادِ شجاعت دی۔ بعد میں کئی انتظامی عہدوں پر فائز رہ کر ان شعبوں میں اپنا لوہا منوایا۔’نور خان  کی دیانت داری کا یہ حال تھا  کہ  وہ مسافروں کے تبصرے خود پڑھتے اور ہر ایک کا دستخط شدہ جواب بھیجتے۔‘سمیر طارق ’ایکسپریس ٹریبیون‘ اخبار میں اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ان کے والد ٹریول اور ایئر لائن انڈسٹری کا حصہ تھے اور ان کے مطابق نور خان اکثر رات یا صبح کے وقت سرپرائز چیک کرتے اور صرف ہوائی جہاز کے حالات ہی نہیں بلکہ عملے کے یونیفارم کی صفائی اور چیک اِن کاؤنٹرز کی حالت بھی ذاتی طور پر چیک کرتے تھے۔نور خان کے انقلابی اقدامات کی بدولت پی آئی اے ایک بین الاقوامی معیار کی ایئرلائن بن گئی، جو پاکستان کے لیے فخر کا باعث تھی۔ اس دور میں  نور خان نے دلیرانہ فیصلے کیے اور پی آئی اے کو ایشیا کی صفِ اول کی ایئر لائن اور دنیا کی پانچ بہترین ایئر لائنز میں شامل کر دیا

نور خان نے  پی آئی اے   فضائیہ کو  اپنی   خدمات سے قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی  بہترین  مقام دیا ۔جہاں پاکستان کے سفارتی مشنز موجود تھے، وہاں پی آئی اے ان کی معاونت کرتی تھی اور جہاں سفارتی مشنز موجود نہیں تھے، وہاں پی آئی اے کی موجودگی نے پاکستان کے لیے بہت سی سہولیات فراہم کیں۔ یوں یہ ادارہ کئی ممالک میں پاکستان کے غیر رسمی سفیر کے طور پر اپنی خدمات انجام دیتا رہا۔‘ان دنوں پی آئی اے کے اشتہاری الفاظ تھے کہ ’ہر ساتویں منٹ میں پی آئی اے کی ایک پرواز دنیا کے کسی نہ کسی مقام پر اُترتی یا روانہ ہوتی ہے۔‘پاکستان  ائر فورس کے مایہء ناز سربراہ  ائیر مارشل نور خان  نے کافی عرصے  فوج میں خدمت انجام دیں ۔ 1965ء کی جنگ میں دادِ شجاعت دی۔ملک نور خان کا تعلق ضلع تلہ گنگ کے گاؤں ٹمن سے تھا جنہوں نے فضائیہ  کا عہدہ چھوڑنے کے  بعد میں کئی  انتظامی  عہدوں پر فائز رہ کر ان شعبوں کو چار چاند لگا دئیے 


 پی آئی اے ایشیا کی پہلی ایئر لائن تھی جس نے جیٹ ایئرکرافٹ آپریٹ کیا۔ مشرقی پاکستان میں ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے چھوٹے شہروں کو ڈھاکہ کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ مغربی پاکستان میں بھی سات، آٹھ چھوٹے سٹیشنز کو بڑے شہروں کے ساتھ منسلک کیا گیا  ساتھ اسی دور میں پی آئی اے کے دو پائلٹس، کیپٹن عبداللہ بیگ اور کیپٹن غیور بیگ نے لندن سے کراچی کی پرواز میں چھ گھنٹے 43 منٹ اور 55 سیکنڈ میں عالمی ریکارڈ قائم کیا، جو آج تک قائم ہے۔سنہ 1965 کی انڈیا، پاکستان جنگ سے کچھ عرصہ قبل، نور خان کو ایئر فورس اور ایئر مارشل اصغر خان کو پی آئی اے کا سربراہ بنا دیا گیا۔اصغر خان ہی کے دور میں پی آئی اے کے کیبن کریو یعنی عملے کا یونیفارم عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی ڈیزائنر پیئر کارڈین نے تیار کیا۔ یہ ڈیزائن پاکستان میں فیشن پر خوب اثرانداز ہوا۔سنہ ء 1962 میں مارچ کی اُس رات، لندن کی سرد ہواؤں کی سلامی لیتی، امریکی خاتونِ اول جیکولین کینیڈی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے کراچی سے پرواز بھرنے والے جہاز کی سیڑھیاں اُتریں تو وہ پرواز سے اس قدر خوش تھیں کہ گرم جوشی سے پائلٹ کو گلے لگایا اور پُکار اٹھیں ’گریٹ پیپل ٹو فلائی وِد۔‘پاکستان کی قومی ایئرلائن کو انگریزی میں یہ سلوگن کرکٹ مبصر اور مصنف عمر قریشی نے دیا تھا۔یہی نعرہ صحافی اور شاعر فیض احمد فیض نے اُردو میں یوں لکھا: ’باکمال لوگ، لاجواب سروس‘۔جیکولین کینیڈی نے نہ صرف پی آئی اے کے اس دعوے پر مہر ثبت کر دی بلکہ انڈیا کے نو اور پاکستان کے پانچ دنوں کے خیر سگالی دورے کے بعد امریکا واپسی سے پہلے برطانیہ میں اُترتے ہوئے اپنے آٹوگراف کے ساتھ جہازکے کپتان ایم ایم صالح جی کو ’نیک خواہشات کے ساتھ‘ اپنی تصویر بھی دی۔یہ ایک ایسی ریاستی ایئر لائن کا سنہرا دور تھا جس نے مختصر عرصے ہی میں دنیا میں اپنا نام اور مقام پیدا کر لیا تھا۔

 میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو بعض لوگوں کا خیال تھا کہ پی آئی اے بھی آدھی رہ جائے گی ’لیکن حکومتِ پاکستان نے کاروباری شخصیت رفیق سہگل کو پی آئی اے کا انتظام سنبھالنے کی دعوت دی۔ انھوں نے مینیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اعلان کیا کہ کسی ملازم کو نکالا نہیں جائے گا اور ادارہ مزید ترقی کرے گا اور ایسا ہی ہوا۔‘’سہگل کے دور میں اور بعد کے ادوار میں پی آئی اے کا بیڑا اور نیٹ ورک بڑھتا رہا۔ 1960 کی دہائی میں بوئنگ 707 آئے، 1970 کی دہائی میں ڈی سی 10، اور بعد میں بوئنگ 747 اور ایئربس اے 300 جیسے جدید طیارے شامل کیے گئے۔ پی آئی اے ایشیا میں بوئنگ 737-300 متعارف کرانے والی پہلی ایئرلائن تھی۔‘دو سال بعد نور خان کو پھر سے پی آئی اے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ارشاد غنی کے مطابق پی آئی اے نے 1992 تک کے ’سنہری دور‘ میں خطے میں ہوا بازی کے میدان میں سبقت حاصل کی۔ ’ادارے نے اپنی سہولیات خود تیار کیں، جیسے فلائٹ کچن، ٹریننگ سینٹر اور فلائٹ سیمولیٹر، مرمت اور دیکھ بھال کی تمام سہولیات بھی خود فراہم کیں، جس سے پی آئی اے خود کفیل بن گئی۔‘

جمعہ، 13 دسمبر، 2024

درہ بولان کی تاریخی اہمیت اور سیاحت -پارٹ -1

 

صدیوں سے سفر اور تجارت کے لیے استعمال ہونے والا درۂ بولان اور اس سے ملحقہ ریلوے لائنز تاریخی اہمیت کی حامل رہی ہیں  -یعنی آ پ بزریعہ ریل گاڑی  کر اچی سے سفر کر کے کوئٹہ  اور کوئٹہ سے سفر کر کے افغانستان کے قلب قندھار تک پہنچ سکتے تھے ۔درہ بولان کی سرنگیں تعمیرات  کا شاہکار ہیں -بلوچستان صدیوں سے ایران اور افغانستان سے آنے والے تجارتی قافلوں کی گزر گاہ رہا ہے۔ تاریخی حوالہ جات کے مطابق پندرہویں صدی میں آریا اقوام افغانستان سے چمن اور پھر درۂ بولان کے راستے سندھ میں داخل ہوئیں اور متعدد مرتبہ سندھ پر حملوں کے لیے یہی راستہ اختیار کیا گیا۔ صدیوں تک گھوڑوں کی ٹاپوں اور اونٹوں کے پیروں میں گھنگھرو بجنے کی آوازوں  کے قافلوں کے آوازیں سننے والے بلوچستان کے باسیوں نے جب اٹھارہویں صدی کے اواخر میں پہلی دفعہ ریل کے انجن کی آواز سنی اور انجن کا دیکھا  تو وہ ششدر و حیرا ن ہو گئے تھے ۔

درۂ بولان کے اطراف ریلوے لائن کا آغاز کب ہوا؟

  یہ انگریزوں کا بڑا احسان ہے کہ وہ   اپنے غاصبانہ قبضے کے ایام میں یہاں کی اقوام کو  بڑی بڑی سہولتیں دے گئے  ورنہ تو  آسمان گواہ ہے ہمارے حاکموں نے گزشتہ پچاس برس میں ہم کو پتھر کے دور میں پہنچا کر ہی دم لیا ہے لیکن انہوں نے  یورپی ملکوں میں اپنے لئے  جزیرے خرید کر وہاں  عالیشان محلات کھڑے کر لئے ہیں ۔ ارے دیکھئے میرا قلم بہک گیا -میں پھر آتی ہو ں  درے بولان کی  جانب -اس تاریخی  درے میں ریلوے لائن  بچھانےکی تجویز سب سے پہلے 1857ء میں اس وقت کے ریلوے چیئر مین مسٹر ولیم پیٹرک اینڈریو نے دی۔ جو وفد اس بارے میں لارڈ پامرسٹسن سے ملنے گیا تھا، اینڈریو اس کے ترجمان تھے۔ 1878ء تک فوجی لحاظ سے پشین اور قندہار کو ریل کے ذریعے ملانے کی اہمیت بہت زیادہ تھی اور براستہ ہرنائی اور براستہ بولان پاس دونوں تجاویز زیرغور آئیں ۔1879ء میں اس علاقے میں پہلی ریلوے لائن بچھائی گئی اور سن 1880 میں اسے وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چونکہ درہ بولان اونچے نیچے پر خم پہاڑی راستوں سے گزرتا ہے لہذا اطراف کے علاقے صرف ہلکے ٹریفک کے لیے ہی مناسب سمجھے گئے۔ مگر بعد ازاں اس علاقے میں شدید طوفانی بارشوں اور پہاڑی تودے گرنے کے باعث پرانی ریلوےلائن تقریبا معدوم ہو گئی اور نئے سرے سے براستہ ہرنائی نئی ریلوے لائن بچھانے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ یہ راستہ بھاری ٹریفک کے لیے بھی موزوں تھا۔ تقریبا 4 سال کے عرصے میں یہ نئی ریلوے لائن مکمل ہوئی اور 1887ء میں پہلی ٹرین بولان کے اس راستے سے گزری جسے آج تک سفر اور تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔


یہاں راستے بنانے کے لیے بلند اور سنگلاخ چٹانوں کو چیرا گیا، تقریبا نو مقامات پر یہ ریلوے لائن درۂ بولان کو عبور کرتی ہے۔ اس دوران کثرت سے آنے والی طویل سرنگیں ٹرین کے سفر کا لطف دوبالا کر دیتی ہیں اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان میں ہر سرنگ تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔بین الاقوامی شہرت یافتہ کوہ پیما، سائمن مورو نے نانگا پربت کی چوٹی سَر کرنے کے بعد پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ’’میں دنیا کا چپّہ چپّہ گھوم چکا ہوں، لیکن مَیں یہ بات پورے وثوق اور اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنے خوب صورت علاقے پاکستان میں ہیں، کم از کم اس دنیا کے اور کسی ملک میں نہیں۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جہاں اتنی بڑی تعداد میں پہاڑی سلسلے ہیں، جن پر آج تک کسی انسان کے قدم ہی نہیں پڑے۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے، ملن سار اور کھلے دل کے مالک ہیں   اور آپ مقامی آبادی کے ساتھ بہت  سکون سے سیاحت کر سکتے ہیں  -لیکن  ٹہرئے یہاں حکومت کی چشم پوشی کے سبب آپ کو کہیں کوئ سیاحتی سہولت نہیں ملے گی  -آپ کو اپنے لئے ہر شے ساتھ لانا ہو گی 


پیر غائب شاہ کا فضائی منظر

دّرہ بولان، کولپور سے شروع ہوکر بولان وہیر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ باہر سے جتنا خشک سنگلاخ اور پرخطر نظر آتا ہے، اندر سے اتنا ہی حسین و جمیل اور دل کش ہے۔ اونچے اونچے سربہ فلک پہاڑوں کے درمیان سانپ کی طرح بل کھاتی ندی، صاف شفّاف نیلگوں پانی میں تیرتی ہمہ اقسام کی رنگین مچھلیاں اور تہہ سے جھانکتے چمک دار نوکیلے پتھر بولان کے قدرتی حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ یوں تو پورا بولان ہی قدرتی حسن سے مزیّن ہے۔ تاہم، ان میں کچھ مقامات بین الاقومی طور پر بھی شہرت کے حامل ہیں، جن میں پیر پنجہ، دوزان چشمہ، کوہ باش، پرانا مچھ قابوی، گرم آپ، پیر غائب آب شار‘ کھجوری، بارڑی، گوکرت، پنجرہ پل، سراج آباد اور بولان وہیر شامل ہیں۔ یہاں پورا سال ہی سیّاحوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ یہ سب ہی علاقے قدرتی حسن و دل کشی سے مالا مال ہونے کے باعث اپنا ثانی نہیں رکھتے، لیکن درّے میں واقع سب سے سرسبز وشاداب اور دل فریب علاقہ ’’پیرغائب‘‘ ہے، جو صوبائی دارالحکومت، کوئٹہ سے 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہتے ہیں کہ اس علاقے کا نام ایک بزرگ ہستی کے نام پر رکھا گیا، جو برسوں پہلے اپنی بہن ’’بی بی نانی‘‘ کے ساتھ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ 


یہاں کے لوگ بت پرست تھے۔ اس لیے ان دونوں کے دشمن ہوگئے۔ یہاں تک کہ انہیں جان سے مارنے کے درپے تھے، تب بی بی نانی اپنے بچاؤ کے لیے بولان کی گھاٹیوں میں چھپ گئیں۔ جہاں کچھ عرصے بعد ان کی موت واقع ہوگئی، تو وہیں ان کا مزار بنا دیا گیا۔ بی بی نانی کا مزار بولان سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر پُل کے نیچے پہاڑ کے دامن میں موجود ہے، جب کہ پیر غائب چٹانوں کے درمیان چلے گئے، جس کے بعد سے ان کا کچھ پتا نہ چلا کہ کہاں گئے۔ مگر ان ہی کی وجہ سے یہ علاقہ ’’پیر غائب‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اس جنّت نظیر وادی میں پہاڑوں کے عین درمیان سے ایک حسین آب شار جب دو مختلف حصّوں میں تقسیم ہوکر گرتی ہے، تو بڑا پرُلطف نظارہ پیش کرتی ہے۔ آب شار کے دونوں حصّوں کا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا ایک وسیع تالاب سے جاملتا ہے۔ قدرت کا کیا خوب کرشمہ ہے کہ انتہائی خشک، سنگلاخ پہاڑ سے ٹھنڈے، میٹھے پانی کا چشمہ صدیوں سے مسلسل پھوٹ رہا ہے۔ اگرچہ سردیوں میں بھی یہاں کا موسم معتدل


درہ بولان کے حسین و دل نشیں تفریحی مقامات -آبشار سے بھرنے والا تالاب-بلاشبہ، وطنِ عزیز فطرت کے تمام ہی حسین رنگوں سے مزّین ہے۔ ۔ صوبہ بلوچستان کے تاریخی درّے، درّئہ بولان کا شمار بھی ایسے ہی مقامات میں ہوتا ہے، جو دل کشی و خوب صورتی کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں  جس کو میں اگلی  قسط میں آپ کی نذر کروں گی انشاللہ 


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر