مغلیہ دور کےہندوستان میں مسلمانوں کے دور حکومت میں کئ ایسی خواتین کا ذکرملتا ہے جنہوں نے میدان جنگ میں اپنی نڈر اورقائدانہ سلاحیتوں کی بدولت اپنی فوجوں سے کہیں بڑی فوجوں کو نہ صرف شکست دی بلکہ برسوں تک ان کے نام کا دبدبہ قائم رہا ۔ سولہویں صدی کی ایک ہندوستانی بہادراور زیرک مسلمان حکمران چاند بی بی کا نام بھی بڑے احترام سے لیا جاتا ہے جس کی جنگجویانہ صلاحیتوں نے مغل شہنشاہوں کے تخت و اقتدار کو چیلنج کردیااور مغل شہزادوں کو شکست سے دوچار کردیا تھا ۔ چاند بی بی کو اسلامی تعلیمات پر مکمل عبور تھا ۔ چاند بی بی نے 1550 ءکو احمد نگر میں آنکھ کھولی۔ والد حسین نظام شاہ اوّل احمد نگر کے حکمراں تھے۔ 14 سال کی عمر میں اسکا بیاہ بیجا پور کے حکمراں علی عادل شاہ کے ساتھ اس ایما پر ہوا کہ احمد نگر اور بیجا پور کی پرانی دشمنی اور عداوت کو ختم کردیا جائے ۔بدلے کی اس شادی میں چاند بی بی کی شادی علی عادل شاہ سے اور چاند بی بی کے بھائی مرتضیٰ کی شادی علی عادل شاہ کی بہن ہدیہ سلطان سے ہوئی۔علی احمد کے مطابق ان شادیوں سے احمد نگر اور بیجا پور میں پرانی دشمنی ختم ہوئی۔ چاند بی بی، علی عادل شاہ کی کئی مہموں میں ان کے ساتھ رہیں۔ وہ میدانِ جنگ کی سختیاں جھیلتیں، ان کے ساتھ شکار کھیلتیں اور ضرورت پڑنے پرانھیں مشورے دیتی اور ان کی ہمت بندھاتیں۔چاند بی بی کے والد نے اس کی سپاہیانہ تربیت کی تھی -
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
جمعہ، 22 نومبر، 2024
بہترین قائدانہ صلاحیتوں کی مالک ملکہ چاند بی بی
جمعرات، 21 نومبر، 2024
فرنگی محل جہاں عظیم درس گاہ مدرسہ نظامیہ نے پرورش پائ
بدھ، 20 نومبر، 2024
لداخ خوبصورت اور زمینی حسن کا امتزاج
، لداخ پاکستان سے ملحقہ ہندوستان کے شمالی ترین مقام پر واقع ایک خطہ ہے۔ یہ خطہ شمال میں کونلون پہاڑوں اور جنوب میں ہمالیہ سے گھرا ہوا ہے اور اس کی آبادی ہندوستانی اور تبتی نژاد کا مرکب ہے۔ یہ علاقہ کشمیر کے سب سے کم گنجان آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ لیکن چینی حکومت نے 1960 کی دہائی میں اس خطے کو بلاک کر دیا۔ 1974 سے حکومت ہند لداخ میں سیاحت کی صنعت کو کامیابی سے بحال کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ چونکہ لداخ ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصہ ہے اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ کا شکار ہے، اس لیے اس خطے میں ہندوستانی فوج کی موجودگی واضح ہے۔ لداخ کا قدیم ترین شہر اور اس ضلع کا مرکز لیہہ شہر ہے، جو آج جنوبی ایشیا کی چند باقی رہ جانے والی ہندو اور بدھ بستیوں میں سے ایک ہے۔ لداخ کی زیادہ تر جمعیت ہندو بدھ مت ہیں اور باقی جمعیت را اور شیعہ بارہویں امام بناتے ہیں۔لداخ کی تاریخ (بخش کرزم)۔چورٹن۔لداخ کے بہت سے حصوں میں پائے جانے والے نقش و نگار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقہ نوع قدیم کے دور سے بنی نوع انسان کے ذریعہ آباد ہے - لداخ کے قدیم ترین باشندے ہند آریائی اور مون اور درد کے ایک گروہ کا مرکب تھے جو کہ ہیروڈوٹس سمیت متعدد یونانی مورخین کی کتابوں میں موجود ہے۔ , Nerchus, Magasthenes, Pliny اور Ptolemy کے ساتھ ساتھ قدیم ہندوستانی پران میں مذکور جغرافیائی علاقے۔ پہلی صدی عیسوی میں لداخ کشان سلطنت کا حصہ تھا۔ دوسری صدی عیسوی میں کشمیر کے راستے بدھ مت لداخ پہنچا اور تب سے لداخ کے لوگوں کی اکثریت بون مذہب پر یقین رکھتی تھی۔ 7ویں صدی عیسوی میں ایک چینی بدھ مت سیاح ژوانگ ژانگ نے اس علاقے کی تفصیل دی تھی۔
بلتستان میں تاریخ عزاداری حصہ دوئم
بعد میں حیدر خان حیدر، مراد خان اماچہ، بوا عباس، بوا جوہر، اخوند خدایار، سلطان شاہ، حاتم خان حاتم، ظفر علی خان ظفر، بوا اسفندیار، راجہ محمد علی شاہ بیدل، اخو بعد میں حیدر خان حیدر، مراد خان اماچہ، بوا عباس، بوا جوہر، اخوند خدایار، سلطان شاہ، حاتم خان حاتم، ظفر علی خان ظفر، بوا اسفندیار، راجہ محمد علی شاہ بیدل، اخوند حسین، اخوند حسن، محمد علی خان واحد، بوا شجاع، غلام مہدی مرغوب سمیت بے شمار شعرا نے نوحوں سمیت دیگر کئی اصناف میں بلتی شاعری کے حسن میں اضافہ کیا ۔1948ء میں اہالیان بلتستان نے ڈوگرہ فوج سے آزادی حاصل کر لی تو اس دوران بلتیوں کی بڑی تعداد ہندوستان کے کئی شہروں سے ہجرت کر کے بلتستان آئی۔ ان میں سےبعض نے سکردو میں عَلم، تعزیے اور ذوالجناح کے ماتمی دستے نکالنے کا سلسلہ شروع کیا۔ اور بعض جوانوں نے 1951ء، 1952ء میں اردو نوحہ خوانی اور ماتم کا سلسلہ شروع کیا۔
انہیں میں سے ایک موضع سکمیدان سے تعلق رکھنے والے جناب ذاکر علی جو ملک تھے جنہوں نے 1952ء میں محلہ سکمیدان میں باقاعدہ اردو نوحہ خوانی شروع کی انہوں نے دستہ آل عبا کے نام سے اردو ماتمی دستہ نکالنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یوں بلتستان میں جلوسوں اور اردو نوحہ خوانی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بلتستان میں جلوس عاشورا اور جلوس اسد کوترویج دینے اور پھیلانے میں علامہ سید علی الموسوی اعلی اللہ مقامہ نے نمایاں کردار ادا کیا ان سے پہلے صرف کھر گرونگ ،گنگوپی،سکمیدان،چھومیک اور سزگرکھور کے عوام ہی شرکت کرتے تھے۔ آج ماہ اسد میں ۲۵ سے زیادہ جلوس عزا نکالے جاتے ہیں۔شیعیان بلتستان نواسہ رسول مظلوم کربلا سید الشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین علیہ السلام کا عزاداری بے حد عقیدت و احترام سے سال میں دو بار مناتے ہیں۔ایک ماہ محرم الحرام میں اور دوسرا شمسی ماہ اسد میں۔
بعض جگہوں پر لوگ اول سال سے ہی محرم کی مجالس کے لئے تبرکات کا انتظام کر رکھتے ہیں لوگ آٹا وغیرہ جدا کئے رکھ دیتے ہیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجلس کے وقت یہ ختم ہوجائے اور ہم تبرک دینے سے محروم رہ جائے۔آداب عزاداری کے اعتبار سے بلتستان کو ایک خاص مقام حاصل ہےیہاں شروع میں آداب مجلس ایرانی طرز کے تھے، بعد میں ان میں کشمیری روایات بھی شامل ہو گئیں۔ مجلس کی ابتدا درج ذیل فارسی اشعار سے ہوتی ہےازما سلام برتن صد پارہ حسین بر ہمراہان کشتہ و آوارہ حسین- بر خفتگان ماریہ و رفتگان شام آن اختران ثابت وسیارہ حسین ایں خدمت وصال برایشان قبول باد صلوٰۃ بر رسول و بر آل رسول بادبرآں دو دست دادہ براہِ وفائے دوست عباس ؑ تشنہ کام جگر پارہ حسین ؑجب نوحہ خوانی اور سینہ زنی اپنے عروج کو پہنچ جائے تومجلس کو ختم کروانے کی خاطر کوئی فارسی کے یہ کلام بلند آواز میں پڑھ لیتے ہیں۔
داد از قتل حسین ؑ بیداد از زہر حسینؑ -یوں اس کلام کے ختم ہونے پر سینہ زنی تمام ہو جاتے ہیں اور دعاوزیارت ابا عبداللہ الحسین کے بعد مجلس ختم ہوجاتی ہے۔محرم کے مجالس کی تقسیم بندی بھی کچھ خاص انداز میں ہے تین محرم تک اصحاب امام عالی مقام کا ذکر کیا جاتا ہےچہار محرم کو حضرت مسلم ابن عقیل کی شہادت ،پانچ محرم کو طفلان مسلم کی شہادت، چھے محرم کو علی اصغر کی شہادت ،سات کو شہزادہ قاسم کی شہادت ، آٹھ محرم کو علی اکبر کی شہادت ،نویں محرم کو حضرت عباس کی شہادت اور دس محرم کو مظلوم کربلا نواسہ رسول امام حسین کی شہادت پرھی جاتی ہیں ۔نویں محرم کی رات مختلف امام بارگاہوں سے جلوس اور شبیہ علم برآمد ہوتی ہے جب کہ شب عاشور کو بھی تمام عزاخانوں میں مجالس منعقد کی جاتی ہیں اور بعد میں ماتمی جلوس برآمد کیے جاتے ہیں اور رات بھر ماتم کا سلسلہ جاری رہتا ہے-
عاشور کی صبح سیاہ لباس میں ملبوس ہو کر امام بارگاہوں کا رُخ کرتے ہیں جہاں مجالس کے بعد تعزیہ، عَلم اور ذوالجناح کے جلوس نکالے جاتے ہیں اور جلوس کے ہمراہ نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہوئے اپنے علاقے میں موجود مقدس مقام کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۔جب نماز ظہر کا وقت آئے تو باجماعت نماز ادا کی جاتی ہے نماز کے فورا بعد دوبارہ جلوس کی صورت میں عزاداری کرتے ہوئے جاتے ہیں ۔جلوس کو اپنی منزل مقصود تک پہنچا کر دوبارہ شام غریبان منانے امام بارگاہوں کا رخ کرتے ہیں ۔جہاں انتہائی درد اور سوز کے ساتھ مرثیے اور مصائب پڑھے جاتے ہیں ۔اس طرح ایام عزاء کا اختتام ہوتا ہے
منگل، 19 نومبر، 2024
بلتستان میں تاریخ عزاداری-حصہ اول
بشکریہ
بلتستان میں تاریخ عزاداری
تحریر: سید قمر عباس حسینی حسین آبادی
تلخیص (بلتی اسلامی ثقافت پاکستان)
بلتستان میں چودہویں صدی عیسوی سے قبل اسلام کا نام و نشان نہ تھا -لیکن چودہویں صدی کے بعد اسلام اس شان وشوکت سے پھیلا کہ اب یہاں علوی اورحسینی تہذیب و تمدن جا بجادکھائی دیتا ھے ۔یہاں اسلام تشیع کی صورت میں پھیلا ھے کیونکہ جنہوں یہاں نوراسلام کو پھیلایا وہ نور ولایت محمد وآل محمد سے منور تھے۔یہی وجہ ہے کہ صد ھا سال بعد بھی اس علاقے میں محبان اہلیبیت اطہار علیہم السلام کی اکثریت موجود ہیں جن کے دل محبت آل محمد سے سرشار ہیں ۔آل محمد کی محبت میں یہ لوگ اپنا جان مال سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ۔جب بھی محرم کا چاند افق عالم پر نمودار ہوتا ہے بلتستان کے لوگ سیاہ لباس میں غم حسین منانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں ان ایام میں کام کاج چھوڑ کر صرف سیدہ زہرا کو ان کے دلبند کا ماتم وپرستہ دیتے ھیں۔جس دن بلتستان میں پہلا مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی پہنچے اسی دن سے عزاداری کی ابتداء ہو چکیلیکن باقاعدہ آداب اسلامی کے ساتھ فرھنگ و تمدن اسلامی کو ملحوظ نظر رکھ کر انجام پانے والے عزاداری کی تاریخ کو اس سرزمین میں دیکھنا ہو تو ہمیں میرشمس الدین عراقی کے دور (1490ء سے 1515ء)کا مطالعہ کرنا ہوگا۔
جس عصر میں میر شمس تبلیغ دین اور ترویج مذہب تشیع کی خاطر آئےتویہاں مقپون بوخا کی حکومت تھی۔مقپون بوخا کا بیٹا شیر شاہ میر شمس الدین عراقی معتقد تھابعد میں 1515ء میں جب وہ خود برسر اقتدار آیا تو اس نے اسلامی رسومات کے فروغ اور اشاعت اسلام کے لیے خدمات انجام دینے والوں کی سرپرستی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر انہیں پروٹوکول دئیے بہت سے علماکرام ،مبلغین دین اور ذاکرین کو مختلف علاقوں میں بھیجے تاکہ زیادہ سے زیادہ ترویج دین ہو سکے بہت سوں کو زمین بخش دئیے۔ان علما کرام کی کوششوں سے دیگر اسلامی آداب و رسوم کے ساتھ عزاداری بھی باقاعدگی سے شروع ھوئی۔بعد میں بلتستان کے معروف راجہ علی شیر خان انچن (1588ء تا 1625ء) کے دور میں رسمِ عزاداری اور فن شاعری کو بھی عروج ملنا شروع ہو گیا۔اس وقت عزاداری حکمرانوں کے درباروں میں ھوتی تھیں -اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مذہب تشیع کی ترویج اور فرھنگ وتمدن شیعی کو بلتستان اور گردو نواح میں مرائج کرنے میں مقپون راجاوں نے بڑا اہم کردار ادا کیاھے ۔
جب سید حسین رضوی کشمیر سے تبلیغ دین کے لئے کھرمنگ پہنچے تو وہاں کے راجہ نے از خود استقبال کئےاور اس سید بزرگوار کے حکم پر راجہ نے پولوگراونڈ میں ہی عزا خانہ بنایا گیا جہاں اب بھی عزاداری ابا عبداللہ ہوتی ہیں۔امام بارگاہ پاک و ہند میں مذہبی رسومات انجام دینے کے جگے کا نام ہے اسی کو خانقاہ بھی کہتے ہیں جنوب ہندوستان میں اسے عاشور خانہ بھی کہتے ہیں ۔پہلی بار نواب صفدر جنگ نے ۱۷۵۴م میں دھلی میں ایک مکان عزاداری کی خاطر تعمیر کروایا جسے پاک و ہند کا اولین امام بارگاہ مانا جاتا ہے اس کے بعد آصف الدولہ کا امام باڑہ ۱۷۸۴ میں تعمیر ہوا جس کے بعد سے امام باڑ تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔داءرۃ المعارف بزرگ اسلامی،ص۱۳۶، جلد دھم۔]احمد شاہ مقپون کی دور حکومت 1840ء میں سکردو میں امام بارگاہ کلاں کے نام سے پہلی امام بارگاہ بنی جس کے بعد امام بارگاہ لسوپی اور امام بارگاہ کھرونگ تعمیر ہوئیں۔ امام بارگاہوں کی تعمیر کے ساتھ ہی باقاعدہ عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا آج بلتستان کے ہر ہر علاقے میں امام بارگاہیں موجود ہیں جہاں لوگ اپنے علاقوں میں مسجد کو ضروری سمجھتے ہیں وہاں غم ابا عبداللہ الحسین منانے کے لئے عزاخانے کو بھی ضروری سمجھتے ہیں
اس وقت بلتستان کی سرزمین پر کوئی محلہ ایسا نہیں جہاں محرم اور صفر میں عزاداری نہ ہوتی ہو ۔لوگ امام بارگاہوں کے علاوہ اپنے گھروں میں بھی عزاداری کرتے ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمام رات باری باری لوگوں کے گھروں میں جا کر سیدہ زہرا کو ان کے لال حسین کا پرسہ دیتے ہیں ۔اہل بلتستان کے رگوں میں خون حسینی دوڑ رہا ہے یہ لوگ نام حسین پر سب کچھ فدا کرنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں ۔عقیدت کی انتہا یہ ہے کہ بعض اہل معرفت لوگ سال بھر میں ہر روز نماز صبح کے بعد ایک مرثیہ پڑھ کرکربلا والوں پر چند قطرے آنسو بھاتے ہیں ۔نہ صرف مرد حضرات ایسا کرتے ہیں بلکہ بعض خواتین کا بھی یہی روش رہتا ھے۔ڈوگروں کا 108 سالہ دور بلتستان والوں کے لیے ایک سیاہ ترین دور تھا لیکن عزاداری کے حوالے سے ڈوگرہ حکمرانوں نے بھی خصوصی سہولیات فراہم کیں۔ جب جلوسِ عزا امام بارگاہ کلاں کے نزدیک پہنچتا تھا تو ڈوگرہ فوج کا ایک خصوصی دستہ تعزیہ اور عَلم کو سلامی پیش کرتا تھا اور جلوس کے اختتام تک احتراماً اپنی سنگینوں کو سرنگوں رکھتا تھا۔
جب بلتستان میں آزادی کی تحریک چلی تو کربلا کی روایت بلتی شاعری میں پھولی پھلی، 1840ء میں بلتستان کے حکمرانوں سے حکومت چھین لی گئیں اور ہر قسم کے مظالم ان پر ڈھائے گئے اور تو اور اپنے ساتھ ہونے والے مظالم پر گلہ شکوہ یا احتجاج کرنے کو بھی ناقابل معافی جرم قرار دیا گیاتو یہاں کے لوگوں نے مرثیہ اہل بیت کے ذریعے اپنے دکھوں کا مداوا شروع کئےیوں مرثیہ نگاری کو فروغ ملا ۔بلتستان میں مرثیہ نگاری کو اوج کمال تک پہنچانے میں بلتستان کے آخری حکمران کے جلاوطن شہزادے حسین علی خان محب اور محمد علی خان ذاکر کا نام آتا ہےان دو ہستیوں کے علاوہ لطف علی خان عاشق، ملک حیدر بیدل اور امیر حیدر مخلص نے کشمیر میں قید اور نظر بندی کے دوران بے مثال شاعری تخلیق کی۔ محب اور ذاکر کو آج بھی بلتستان میں رثائی ادب کے حوالے سے انیس اور دبیر کا درجہ حاصل ہے۔ ان شعرا نے دیگر موضوعات کے علاوہ خصوصی طور پر بلتی ادب کے دامن کو نوحہ، مرثیہ اور منقبت کی دولت سے مالا مال کر دیا۔
پیر، 18 نومبر، 2024
فری لانسرز-پاکستان میں زرمبادلہ کی ترسیل کا زیعہ-پارٹ-2
اآج کے اس دور میں ہر شخص گھر سے یا دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کام کرنا چاہتا ہے اور جو لوگ جاب کررہے ہیں وہ فری لانسنگ ٹرینر بننا چاہتے ہیں، اپنی معلومات لوگو ں سے شیئر کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ گھر میں رہنے والی خواتین کے لیے بہت اچھا پلٹ فارم ہے اور بہت ساری خواتین فری لانسنگ کر بھی رہی ہیں۔جن بچوں کو گیمز اور اینی میشن میں دل چسپی ہے وہ بھی مستقبل میں فری لانسنگ کی طر ف راغب ہوں گے۔ پاکستا میں صرف اس حوالے سے آگاہی کی کمی ہے ،جس دن یہ کمی دور ہوجائے گی، اُس دن دیکھیے گا۔ پاکستان فری لانسنگ میں چوتھے سے دوسرے یا پہلے نمبر پر آ جائے گا -اون لائن کام کی خواہش رکھنے والے کسی بھی ڈیجیٹل ورکر کے لئے بے شمار پلیٹ فارمز موجود ہیں جیسے اپ ورک ،فائور ،فری لانسرز ڈاٹ کوم ،لنکڈان ،ٹاپ ٹیل اور دیگر بین الاقوامی پلٹ فارمز جو اون لائن صارف کو متعدد پر وجیکٹس دیتے ہیں اور ان کی رہنمائ بھی کرتے ہیں جیسے ان تمام پلٹ فارمز پر کس طرح اکائونٹ بنانا ہے اس کی ویڈیوز بھی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
اتوار، 17 نومبر، 2024
او ور ایج لڑکیاں اور حوادث زمانہ
کراچی کے علاقے شیریں جناح میں کار سے لڑکی کی لاش اور ایک شخص بیہوشی کی حالت میں پایا گیا۔پولیس کے مطابق ڈیفنس فیز ٹو میں واقع ایک گیراج میں کھڑی کار سے لڑکی لاش ملی جبکہ کار میں کاشف نامی شخص بھی بیہوشی کی حالت میں پایا گیا۔پولیس کا بتانا ہے کہ متوفیہ کی شناخت جویریہ کے نام سے ہوئی جبکہ کاشف اس کا بہنوئی ہے۔پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے اس لیے موت کی وجہ جاننے کیلئے لاش کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں ایس پی کلفٹن ماجدہ پروین کے مطابق ابتدائی تفتیش میں پولیس کو کار سے کوئی نشہ آور چیز نہیں ملی، بظاہر یہی لگتا ہے کہ واقعہ بند کار میں کاربن مونوآکسائیڈ بھرنے کے باعث پیش آیا۔ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لڑکی کی لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ہے، لڑکی کے اہل خانہ نے قانونی کارروائی سے انکار کردیا ہے تاہم گیراج کو سیل کردیا ہے، واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ھبتایا جاتا ہے کہ ۲۹ سالہ جویریہ کے اپنے بہنوء کاشف سے قریبی تعلقات تھے اور جویریہ کی بہن اپنے شوہر سے جھگڑا بھی کر چکی تھی لیکن وہ دونوں اپنی روش سے باز نہیں آ رہے تھے -وقوعہ والے دن صبح جویریہ نے اپنے والد سے کہا کہ اسے اس کا بہنوئ کاشف لینے آ رہا ہے اور وہ جم جا رہی ہے -اس کے بعد یہ حادثہ پیش آیا
اور یہ کراچی کے بعد گوجرانوالہ میں پیش آنے والے حادثے کی خبر - گوجرانوالہ(آئی این پی )گوجرانوالہ میں کار سے نوجوان لڑکے لڑکی کی لاش برآمد ہوئی جسے پولیس نے تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کردیا۔ پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ تھانہ سبزی منڈی کے علاقے علامہ اقبال روڈ پر پیش آیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی نوجوان عاصم اور لڑکی آپس میں دوست ہیں، کار ایک بند گیراج میں کھڑی تھی جہاں دم گھٹنے سے کار کے اندر ہی دونوں جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق عاصم کے کزن نے گیراج کھولا تو کار میں لاشیں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر لیے اور واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گاڑی میں گیس لکیج کے باعث دم گھٹنے سے دونوں کی موت واقع ہوئی ہے-
-کئی ناسمجھ والدین بچی کی اعلیٰ تعلیم کی خاطر اچھے رشتے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب بیٹی کئی سال بعد اعلیٰ تعلیم مکمل کر لیتی ہے تو پھر خواہش ہوتی ہے کہ تعلیمی لحاظ سے رشتہ اس کے برابر کا ہو ۔ خوش قسمت ہیں وہ جن کو فوراً رشتہ مل جائے ورنہ ایسے رشتے کے انتظار میں تعلیم کے بعد مزید کئی سال بیت جاتے ہیں۔ کئی بچیوں کو آپ نے اسی انتظار میں جوانی ڈھلتے ہوئے بھی دیکھا ہوگا۔ بلکہ بعض تو کنواری ہی پوری زندگی گزار دیتی ہیں۔ بندہ ایسے ماں باپ سے پوچھے کہ بچی کو اس قدر اعلیٰ تعلیم دلانے کا کیا فائدہ پہنچا۔ ۔ اعلیٰ تعلیم کے خلاف تو میں بھی نہیں مگر جس تعلیم کی خاطر اچھے رشتے سے ہاتھ دھونا پڑیں تو یہ کوئی سمجھداری والا سودا نہیں۔اور پھر ۲۹ سالہ جویریہ کی کہانی ہو یا ۳۷ سالہ سارہ انعام جیسی اعلیِ تعلیمیافتہ لڑکی کی کہانی ہو جس نے سوشل میڈیا کے زریعہ گھر و الوں سے چھپ کر ایک مجرمانہ زہینیت رکھنے والے مرد سے شادی کی اور بہت ہولناک انجام سے دو چار ہوئ
سارہ انعام ایک مفکر تھی ذہین اور نرم گفتار ۔ وہ اپنا فارغ وقت نان فکشن کتابوں کو پڑھنے میں گزارتی تھیں-سارہ انعام پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت پُرکشش شخصیت کی حامل ایک بے ضرر انسان تھیں مگر اُن کے شوہر نے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پر مبینہ طور پر انھیں بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا۔ اُن کے شوہر اور اس کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز فی الحال جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں -سارہ انعام نے کینیڈا کی یونیورسٹی آف واٹر لو سے سنہ 2007ء میں آرٹس اور اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ یونیورسٹی آف واٹر لو کو دنیا بھر میں اکنامکس کی تعلیم کے لیے بہترین تعلیمی اداروں میں سمجھا جاتا ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد سارہ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز جونیئر ایویلیوئیشن افسر کی حیثیت سے کینیڈا ہی سے کیا تھا سنہ 2010ء میں انھوں نے ابوظہبی میں بزنس کنسلٹینسی کی کمپنی ’ڈیلوئیٹ‘ میں شمولیت اختیار کر لی جہاں وہ چار سال تک بحیثیت کنسلٹنٹ اور بعد ازاں سینیئر کنسلٹنٹ خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ اس نوکری کے بعد انھوں نے ابوظہبی کے ادارے ’ایجوکیشن اینڈ نالج‘ میں شمولیت اختیار کی۔عمر کے اس حصے میں اب وہ اپنی فیملی لائف شروع کرنا چاہتی تھی اوراکثر اپنی دوستوں میں کہتی تھی کہ وہ چا ہتی ہے کہ اُن کو بھی کوئی بہت محبت دے اور ان کے پاس ان کےاپنے دوست بچے ہوں 'مگر وائے افسوس کہ اعلیٰ تعلیم ان کی عمر کے سنہری دور کو کھا گئ تو سوشل میڈیا پر ایک مجرم میسر آ گیا ۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...