منگل، 19 نومبر، 2024

بلتستان میں تاریخ عزاداری-حصہ اول

 

بشکریہ 

بلتستان میں تاریخ عزاداری

تحریر: سید قمر عباس حسینی حسین آبادی

تلخیص (بلتی اسلامی ثقافت پاکستان)

بلتستان میں چودہویں صدی عیسوی سے قبل اسلام کا نام و نشان نہ تھا -لیکن چودہویں صدی کے بعد اسلام اس شان وشوکت سے پھیلا کہ اب یہاں علوی اورحسینی تہذیب و تمدن جا بجادکھائی دیتا ھے ۔یہاں اسلام تشیع کی صورت میں پھیلا ھے کیونکہ جنہوں یہاں نوراسلام کو پھیلایا وہ  نور ولایت محمد وآل محمد  سے منور تھے۔یہی وجہ ہے کہ صد ھا سال بعد بھی اس علاقے میں محبان اہلیبیت اطہار علیہم السلام کی اکثریت موجود ہیں جن کے دل محبت آل محمد سے سرشار ہیں ۔آل محمد کی محبت میں یہ لوگ اپنا جان مال سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ۔جب بھی محرم کا چاند افق عالم پر نمودار ہوتا ہے بلتستان کے لوگ سیاہ لباس میں غم حسین منانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں ان ایام میں کام کاج چھوڑ کر صرف سیدہ زہرا کو ان کے دلبند کا ماتم وپرستہ دیتے ھیں۔جس دن بلتستان میں پہلا مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی پہنچے اسی دن سے عزاداری کی ابتداء ہو چکیلیکن باقاعدہ آداب اسلامی کے ساتھ فرھنگ و تمدن اسلامی کو ملحوظ نظر رکھ کر انجام پانے والے عزاداری کی تاریخ کو اس سرزمین میں دیکھنا ہو تو ہمیں میرشمس الدین عراقی کے دور (1490ء سے 1515ء)کا مطالعہ کرنا ہوگا۔


جس عصر میں میر شمس تبلیغ دین اور ترویج مذہب تشیع کی خاطر آئےتویہاں مقپون بوخا کی حکومت تھی۔مقپون بوخا کا بیٹا شیر شاہ میر شمس الدین عراقی معتقد تھابعد میں 1515ء میں جب وہ خود برسر اقتدار آیا تو اس نے اسلامی رسومات کے فروغ اور اشاعت اسلام کے لیے خدمات انجام دینے والوں کی سرپرستی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر انہیں پروٹوکول دئیے بہت سے علماکرام ،مبلغین دین اور ذاکرین کو مختلف علاقوں میں بھیجے تاکہ زیادہ سے زیادہ ترویج دین ہو سکے بہت سوں کو زمین بخش دئیے۔ان علما کرام کی کوششوں سے دیگر اسلامی آداب و رسوم کے ساتھ عزاداری بھی باقاعدگی سے شروع ھوئی۔بعد میں بلتستان کے معروف راجہ علی شیر خان انچن (1588ء تا 1625ء) کے دور میں رسمِ عزاداری اور فن شاعری کو بھی عروج ملنا شروع ہو گیا۔اس وقت عزاداری حکمرانوں کے درباروں میں ھوتی تھیں -اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مذہب تشیع کی ترویج اور فرھنگ وتمدن شیعی کو بلتستان اور گردو نواح میں مرائج کرنے میں مقپون راجاوں نے بڑا اہم کردار ادا کیاھے ۔


جب سید حسین رضوی کشمیر سے تبلیغ دین کے لئے کھرمنگ پہنچے تو وہاں کے راجہ نے از خود استقبال کئےاور اس سید بزرگوار کے حکم پر راجہ نے پولوگراونڈ میں ہی عزا خانہ بنایا گیا جہاں اب بھی عزاداری ابا عبداللہ ہوتی ہیں۔امام بارگاہ پاک و ہند میں مذہبی رسومات انجام دینے کے جگے کا نام ہے اسی کو خانقاہ بھی کہتے ہیں جنوب ہندوستان میں اسے عاشور خانہ بھی کہتے ہیں ۔پہلی بار نواب صفدر جنگ نے ۱۷۵۴م میں دھلی میں ایک مکان عزاداری کی خاطر تعمیر کروایا جسے پاک و ہند کا اولین امام بارگاہ مانا جاتا ہے اس کے بعد آصف الدولہ کا امام باڑہ ۱۷۸۴ میں تعمیر ہوا جس کے بعد سے امام باڑ تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔داءرۃ المعارف بزرگ اسلامی،ص۱۳۶، جلد دھم۔]احمد شاہ مقپون کی دور حکومت 1840ء میں سکردو میں امام بارگاہ کلاں کے نام سے پہلی امام بارگاہ بنی جس کے بعد امام بارگاہ لسوپی اور امام بارگاہ کھرونگ تعمیر ہوئیں۔ امام بارگاہوں کی تعمیر کے ساتھ ہی باقاعدہ عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا آج بلتستان کے ہر ہر علاقے میں امام بارگاہیں موجود ہیں جہاں لوگ اپنے علاقوں میں مسجد کو ضروری سمجھتے ہیں وہاں غم ابا عبداللہ الحسین منانے کے لئے عزاخانے کو بھی ضروری سمجھتے ہیں


 اس وقت  بلتستان کی سرزمین پر کوئی محلہ ایسا نہیں جہاں محرم اور صفر میں عزاداری نہ ہوتی ہو ۔لوگ امام بارگاہوں کے علاوہ اپنے گھروں میں بھی عزاداری کرتے ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمام رات باری باری لوگوں کے گھروں میں جا کر سیدہ زہرا کو ان کے لال حسین کا پرسہ دیتے ہیں ۔اہل بلتستان کے رگوں میں خون حسینی دوڑ رہا ہے یہ لوگ نام حسین پر سب کچھ فدا کرنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں ۔عقیدت کی انتہا یہ ہے کہ بعض اہل معرفت لوگ سال بھر میں ہر روز نماز صبح کے بعد ایک مرثیہ پڑھ کرکربلا والوں پر چند قطرے آنسو بھاتے ہیں ۔نہ صرف مرد حضرات ایسا کرتے ہیں بلکہ بعض خواتین کا بھی یہی روش رہتا ھے۔ڈوگروں کا 108 سالہ دور بلتستان والوں کے لیے ایک سیاہ ترین دور تھا لیکن عزاداری کے حوالے سے ڈوگرہ حکمرانوں نے بھی خصوصی سہولیات فراہم کیں۔ جب جلوسِ عزا امام بارگاہ کلاں کے نزدیک پہنچتا تھا تو ڈوگرہ فوج کا ایک خصوصی دستہ تعزیہ اور عَلم کو سلامی پیش کرتا تھا اور جلوس کے اختتام تک احتراماً اپنی سنگینوں کو سرنگوں رکھتا تھا۔


جب بلتستان میں آزادی کی تحریک چلی تو کربلا کی روایت بلتی شاعری میں پھولی پھلی، 1840ء میں بلتستان کے حکمرانوں سے حکومت چھین لی گئیں اور ہر قسم کے مظالم ان پر ڈھائے گئے اور تو اور اپنے ساتھ ہونے والے مظالم پر گلہ شکوہ یا احتجاج کرنے کو بھی ناقابل معافی جرم قرار دیا گیاتو یہاں کے لوگوں نے مرثیہ اہل بیت کے ذریعے اپنے دکھوں کا مداوا شروع کئےیوں مرثیہ نگاری کو فروغ ملا ۔بلتستان میں مرثیہ نگاری کو اوج کمال تک پہنچانے میں بلتستان کے آخری حکمران کے جلاوطن شہزادے حسین علی خان محب اور محمد علی خان ذاکر کا نام آتا ہےان دو ہستیوں کے علاوہ لطف علی خان عاشق، ملک حیدر بیدل اور امیر حیدر مخلص نے کشمیر میں قید اور نظر بندی کے دوران بے مثال شاعری تخلیق کی۔ محب اور ذاکر کو آج بھی بلتستان میں رثائی ادب کے حوالے سے انیس اور دبیر کا درجہ حاصل ہے۔ ان شعرا نے دیگر موضوعات کے علاوہ خصوصی طور پر بلتی ادب کے دامن کو نوحہ، مرثیہ اور منقبت کی دولت سے مالا مال کر دیا۔ 

پیر، 18 نومبر، 2024

فری لانسرز-پاکستان میں زرمبادلہ کی ترسیل کا زیعہ-پارٹ-2

 

 اآج کے اس دور میں ہر شخص گھر سے یا دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کام کرنا چاہتا ہے اور جو لوگ جاب کررہے ہیں وہ فری لانسنگ ٹرینر بننا چاہتے ہیں، اپنی معلومات لوگو ں سے شیئر کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ گھر میں رہنے والی خواتین کے لیے بہت اچھا پلٹ فارم ہے اور بہت ساری خواتین فری لانسنگ کر بھی رہی ہیں۔جن بچوں کو گیمز اور اینی میشن میں دل چسپی ہے وہ بھی مستقبل میں فری لانسنگ کی طر ف راغب ہوں گے۔ پاکستا میں صرف اس حوالے سے آگاہی کی کمی ہے ،جس دن یہ کمی دور ہوجائے گی، اُس دن دیکھیے گا۔ پاکستان فری لانسنگ میں چوتھے سے دوسرے یا   پہلے نمبر پر آ جائے گا  -اون لائن  کام کی خواہش رکھنے والے  کسی بھی ڈیجیٹل ورکر  کے لئے   بے شمار پلیٹ فارمز موجود ہیں جیسے  اپ ورک ،فائور ،فری لانسرز ڈاٹ کوم ،لنکڈان ،ٹاپ ٹیل اور دیگر بین الاقوامی پلٹ فارمز    جو اون لائن  صارف کو  متعدد پر وجیکٹس دیتے ہیں اور ان کی رہنمائ بھی کرتے ہیں جیسے  ان تمام پلٹ فارمز پر کس طرح اکائونٹ بنانا ہے اس کی ویڈیوز بھی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

 ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ہونے کے بعدجس فیلڈ میں آپ مہارت رکھتے ہیں اس بارے میں بتائیں، پورٹ فولیو دکھائیں اور گھنٹے کے حساب سے ڈالرز میں اپنے چارجز بتائیں۔سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں آپ کس ایک پلٹ فارم تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک ساتھ کئی پلٹ فارمز پر کام کرسکتے ہیں ۔بعدازاں آپ اپنی مہارت اور کام کو دنیا بھر میں سیل کرتے ہیں ،پھر یہ دیکھیں کہ اور کون سی ویب سائٹس ہیں جہاں پر آپ کام کرسکتے ہیں۔ بین الاقوامی پلٹ فارمز کے بعد آپ یہ دیکھیں کہ پاکستان میں کون سے پلٹ فارمز ہیں جن پر آپ کام کرسکتے ہیں۔ جب آپ قومی اور بین الاقوامی دونوں پلٹ فارمز پر کام کرتے ہیں تو اس طرح آپ کا پورٹ فولیومزید بہتر بن جاتا ہے۔

فری لانسنگ کام کرنے کا ایک اسمارٹ طریقہ ہے۔اس میں ایک پلٹ فارم تک محدود رہنے میں ایک نقصان یہ ہوتا ہے بعض مرتبہ وہاں سے کچھ دنوں تک کام نہیں ملتا تو فری لانسرز مایوس ہوجاتے ہیں اور پھر وہ فری لانسنگ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے زیادہ تر فری لانسرز ایک سے زیادہ پلٹ فارمز پر کام کرتے ہیں۔ فری لانسنگ صبح سے شام والی جاب نہیں ہے ،آپ اپناکام دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کریا کسی بھی وقت اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں ۔پاکستان میں فری لانسنگ کی شرح کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 1 ملین لوگ فری لانسنگ کررہے ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کی فری لانسنگ دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا ٹیلنٹ فری لانسنگ کی مد میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ چیز ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیوں کہ جتنا زیادہ لوگ فری لانسنگ کریں گے اتنی زیادہ ترسیل ہوگی اور ملک کی معیشت میں مزید بہتر ی آتی جائے گی۔اس ضمن میں پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن نےایچ ای سی سے منظور شدہ جامعات کی ایک فہرست تیار کی ہے اور ان جامعات کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کرانے شروع کردیئے ہیں۔ 

گزشتہ سال سے پورے پاکستان میں مختلف جامعات میں فری لانسنگ کے حوالے سے بغیر کسی معاوضہ کے سیشز کرانے کا انعقاد بھی کردیا ہے اور اب تک بیس سے زائد جامعات میں سیشنز کراچکے ہیں۔یہ کام شروع کرنے کا مقصد ان طالبات کو خود اعتماد بنانا اور دورانِ تعلیم یہ بتانا ہے کہ فری لانسنگ ہوتی کیا ہے۔ہم کوئی کورس نہیں کراتے صرف آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ جب یہ طالبات یونیورسٹی سے فارِغ التحصیل ہوگے تو وہ اپنے، اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے ہوں گےاور اُس میں فری لانسنگ باآسانی کرسکتے ہیں۔ اور جو پہلے سے فری لانسنگ کررہے ہیں ان کے لیول کو دیکھتے ہوئے مہار ت میں اضافہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔مثال کے طور پر اگر کوئی 100 ڈالر کما رہا ہے تو ہم اس کو وہ طریقہ بتاتے ہیں، جس کے ذریعےوہ ہزار ڈالر کما سکیں۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس ،چیٹ جی پی ٹی ،میشن لرننگ ،سائبرسیکیورٹی اورروبوٹکس سے متعلق آگاہی فراہم کریں ،تاکہ وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ جیسے جیسے نت نئی ٹیکنالوجیز متعارف ہورہی ہیں اس کے ساتھ فری لانسرز کو اپنی مہارت کو اپ ڈیٹ کرناضروری ہے،

۔ایک بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجیز متعارف ہورہی ہیں تو لوگوں کے ٹاسک بھی بدل رہے ہیں اور جو لوگ اپنی مہارت میں تبدیلی نہیں لاتے یا تو وہ اتنا ہی کما رہے ہوتے ہیں یا پھر وہ یہ کام ہی چھوڑ دیتے ہیں۔کیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے آنے سے فری لانسنگ متاثر ہوئی ہے ؟اس سوا ل کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس بھی ایک انسان نے ہی بنائی ہے اور کیا پتا مستقبل میں ہم چیٹ جی پی ٹی 4 سے ہی چیٹ جی پی ٹی 5 بنانے کا کہیں۔ میرے خیال سے یہ سب فری لانسرز کے لیے کافی مدد گار ثابت ہورہا ہے ۔لوگ اس سے کافی استفادہ کررہے ہیں، ان کام جلدی ہورہا ہے۔ہم اے آئی سے مدد تو لے سکتے ہیں لیکن ایک جو انسان کے لکھنے کا انداز ہوتا ہے وہ توخود ہی لایا جائے گا۔ مستقبل میں لوگوں کا رجحان فری لانسنگ کی طرف مزید بڑھے گا ؟اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال سےآنے والے وقتوں میں نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑی تعداد میں لوگ فری لانسنگ کی طرف آئیں گے۔

اتوار، 17 نومبر، 2024

او ور ایج لڑکیاں اور حوادث زمانہ

 


کراچی کے علاقے  شیریں جناح   میں کار سے لڑکی کی لاش اور ایک شخص بیہوشی کی حالت میں پایا گیا۔پولیس کے مطابق ڈیفنس فیز ٹو میں واقع ایک گیراج میں کھڑی کار سے لڑکی لاش ملی جبکہ کار میں کاشف نامی شخص بھی بیہوشی کی حالت میں پایا گیا۔پولیس کا بتانا ہے کہ متوفیہ کی شناخت جویریہ کے نام سے ہوئی جبکہ کاشف اس کا بہنوئی ہے۔پولیس سرجن کے مطابق پوسٹ مارٹم میں موت کی وجہ سامنے نہیں آسکی ہے اس لیے موت کی وجہ جاننے کیلئے لاش کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں ایس پی کلفٹن ماجدہ پروین کے مطابق ابتدائی تفتیش میں پولیس کو کار سے کوئی نشہ آور چیز نہیں ملی، بظاہر یہی لگتا ہے کہ واقعہ بند کار میں کاربن مونوآکسائیڈ بھرنے کے باعث پیش آیا۔ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لڑکی کی لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ہے، لڑکی کے اہل خانہ نے قانونی کارروائی سے انکار کردیا ہے تاہم گیراج کو سیل کردیا ہے، واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔  ھبتایا جاتا ہے کہ ۲۹ سالہ جویریہ کے اپنے بہنوء کاشف سے قریبی تعلقات تھے اور جویریہ کی بہن اپنے شوہر سے جھگڑا بھی کر چکی تھی لیکن وہ دونوں اپنی روش سے باز نہیں آ رہے تھے -وقوعہ والے دن صبح جویریہ نے اپنے والد سے کہا کہ  اسے اس کا بہنوئ کاشف لینے آ رہا ہے اور وہ جم جا رہی ہے -اس کے بعد یہ حادثہ پیش آیا 


اور یہ کراچی کے بعد  گوجرانوالہ میں پیش آنے والے حادثے کی خبر - گوجرانوالہ(آئی این پی )گوجرانوالہ میں کار سے نوجوان لڑکے لڑکی کی لاش برآمد ہوئی جسے پولیس نے تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کردیا۔ پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ تھانہ سبزی منڈی کے علاقے علامہ اقبال روڈ پر پیش آیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی نوجوان عاصم اور لڑکی آپس میں دوست ہیں، کار ایک بند گیراج میں کھڑی تھی جہاں دم گھٹنے سے کار کے اندر ہی دونوں جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق عاصم کے کزن نے گیراج کھولا تو کار میں لاشیں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کر لیے اور واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گاڑی میں گیس لکیج کے باعث دم گھٹنے سے دونوں کی موت واقع ہوئی ہے-


-کئی ناسمجھ والدین بچی کی اعلیٰ تعلیم کی خاطر اچھے رشتے سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جب بیٹی کئی سال بعد اعلیٰ تعلیم مکمل کر لیتی ہے تو پھر خواہش ہوتی ہے کہ تعلیمی لحاظ سے رشتہ اس کے برابر کا ہو ۔ خوش قسمت ہیں وہ جن کو فوراً رشتہ مل جائے ورنہ ایسے رشتے کے انتظار میں تعلیم کے بعد مزید کئی سال بیت جاتے ہیں۔ کئی بچیوں کو آپ نے اسی انتظار میں جوانی ڈھلتے ہوئے بھی دیکھا ہوگا۔ بلکہ بعض تو کنواری ہی پوری زندگی گزار دیتی ہیں۔ بندہ ایسے ماں باپ سے پوچھے کہ بچی کو اس قدر اعلیٰ تعلیم دلانے کا کیا فائدہ پہنچا۔ ۔ اعلیٰ تعلیم کے خلاف تو میں  بھی نہیں مگر جس تعلیم کی خاطر اچھے رشتے سے ہاتھ دھونا پڑیں تو یہ کوئی سمجھداری والا سودا نہیں۔اور پھر ۲۹ سالہ جویریہ کی کہانی ہو یا ۳۷ سالہ سارہ انعام جیسی اعلیِ تعلیمیافتہ لڑکی کی کہانی ہو جس نے  سوشل میڈیا کے زریعہ گھر و الوں سے چھپ کر ایک مجرمانہ زہینیت رکھنے والے مرد سے شادی کی اور بہت ہولناک انجام سے دو چار ہوئ


سارہ انعام  ایک مفکر تھی ذہین اور نرم گفتار ۔ وہ اپنا فارغ وقت نان فکشن کتابوں کو پڑھنے میں گزارتی تھیں-سارہ انعام پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت  پُرکشش شخصیت کی حامل ایک بے ضرر انسان تھیں   مگر اُن کے شوہر نے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پر مبینہ طور پر انھیں بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا تھا۔ اُن کے شوہر اور اس کیس کے مرکزی ملزم شاہنواز فی الحال جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں -سارہ انعام نے کینیڈا کی یونیورسٹی آف واٹر لو سے سنہ 2007ء میں آرٹس اور اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ یونیورسٹی آف واٹر لو کو دنیا بھر میں اکنامکس کی تعلیم کے لیے بہترین تعلیمی اداروں میں سمجھا جاتا ہے۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد سارہ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز جونیئر ایویلیوئیشن افسر کی حیثیت سے کینیڈا ہی سے کیا تھا  سنہ 2010ء میں انھوں نے ابوظہبی میں بزنس کنسلٹینسی کی کمپنی ’ڈیلوئیٹ‘ میں شمولیت اختیار کر لی جہاں وہ چار سال تک بحیثیت کنسلٹنٹ اور بعد ازاں سینیئر کنسلٹنٹ خدمات سر انجام دیتی رہیں۔ اس نوکری کے بعد انھوں نے ابوظہبی کے ادارے ’ایجوکیشن اینڈ نالج‘ میں شمولیت اختیار کی۔عمر کے اس حصے میں اب وہ اپنی فیملی لائف شروع کرنا چاہتی تھی اوراکثر اپنی دوستوں میں کہتی  تھی کہ وہ   چا ہتی ہے کہ اُن کو بھی کوئی بہت محبت دے   اور  ان کے  پاس ان کےاپنے دوست بچے ہوں  'مگر وائے افسوس کہ اعلیٰ تعلیم ان کی عمر کے سنہری دور کو کھا گئ  تو سوشل میڈیا پر ایک مجرم میسر آ گیا ۔

فر ی لانسرز پاکستان میں زر مبادلہ کی ترسیل کا زریعہ-پارٹ 1

 پاکستان بنے ہوئے  کچھ  برس گزرے تھے اور  میرا داخلہ اسکول میں ہو چکاتھا لیکن میرا اسکول ہمارے گھر سے  تقریباً پچاس منٹ کی دوری پر تھا جہاں میں پیدل جایا کرتی تھی  اس پیدل سفر میں میرا مشاہدہ یہ تھا کہ لوگوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں میں بھی روزگار کا بندوبست کیا ہوا تھا مثلاً ایک گھر میں بہت سے لڑکے اور مرد حضرات دو رویہ بیٹھے سیاہ  چمڑے کی کتابوں میں زور زور سے ان کو ہتھوڑے سے کوٹ رہے ہوتے تھے جب میری جستجو نے مجھے مجبور کیا کہ میں دیکھوں کہ آخر یہ کیاکوٹتے  ہیں تو میں نے باہر سے کھڑے ہو کر پوچھا یہ آپ لوگ کیا کرتے ہیں ایک آدمی نے جواب دیا بیٹی یہاں پر چاندی اور سونے کے  ورق بنائے جاتے ہیں  -اب باری تھی دوسرے مکان کی اس کا دروازہ بھی کھلا ہوتا تھا کیونکہ بجلی تو آئ نہیں تھی -اس گھر میں لاتعداد لوگ بیڑی کے پتے کاٹ کاٹ کر اس میں تمباکو بھر بھر کر پیک پیک کرتے تھے  یہ کام بھی منظم طریقے سے ہوتا تھا-ایک گھر میں جولاہے کا کاروبار تھا اسی کے قریب ایک گھر میں بیرونی حصے میں ہوٹل کھول لیا گیا تھا -


اور اب جدید زمانے میں یہ  تمام کاروبار فری لانسنگ سے وابستہ ہو چکا ہے    -فری ی لانسنگ گھر بیٹھے  پیسہ کمانے کا طریقہ-ٹیکنالوجی کی زبان میں فری لانسنگ سے مراد انٹرنیٹ پر کسی بھی ملک میں موجود ایک فرد یا کمپنی کے لیے کام کے عوض پیسے وصول کرناہے۔ پاکستان میں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے کئی طریقوں سے پیسے کما سکتے ہیں اور ماشاللہ کما رہے ہیں ۔ اس حوالے سے ایک طریقہ ای کامرس یعنی آن لائن کاروبار ہے جب کہ دوسرا طریقہ کونٹینٹ یعنی ایسا مواد لکھنا، تصاویر یا ویڈیوز بنانا جو لوگوں میں مقبولیت حاصل کر سکے۔ اسی طرح فری لانسنگ ایک تیسرا ذریعہ ہے جو پاکستان کے نوجوانوں میں تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے لیے لوگوں کو کسی دفتر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ ور چوئلی کام کرسکتے ہیں ۔ دنیا بھر میں بے روزگار، تعلیم یافتہ اور باہنر افراد کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا ترجیحی پیشہ بنتا جارہا ہے۔دیگر ممالک کے مقابلوں میں پاکستان میں فری لانسنگ تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ،پاکستان میں 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد فری لانسنگ کررہے ہیں ،جس سے وہ ملکی معیشت میں ایک ارب ڈالر کا حصہ ڈال رہے ہیں۔ اس طرح عالمی سطح پر اوسطاً سب سے زیادہ فری لانسنگ کرنے والے ملکوں میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔


پاکستان سمیت پوری دنیا میں ویب ڈیزائننگ پر سب سے زیادہ کام کیا جاتاہے۔ اس کے بعد گرافک ڈیزائن اور پھر رائٹنگ کا نمبر آتا ہے۔ فری لانسنگ بہترین مہارتوں، اخلاقیات اور ڈسپلن کا تقاضا کرتی ہے۔ بعض لوگوں کو یقین ہے کہ اس سے زیادہ پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ فری لانسنگ ایک ایسا راستہ ہے، جس پر چل کر آپ اپنی نئی کمپنی قائم کرسکتے ہیں اور اپنے کام سے اچھا خاصا معاوضہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن ایک اچھا فری لانسر بننے کے لیے آپ کا منظم، ایماندار اور پیشہ ورانہ سوچ کا حامل ہونا ضروری ہے۔ پاکستان میں فر ی لانسنگ کی شرح کیا ہے ،اس کی بنیادی چیزیں کیا ہیں اور پاکستان میں فری لانسرز کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ہمارا کلائنٹ کم ہو رہا ہے، ٹھیک ہے ہمیں تو نقصان ہے ہی لیکن یہ پیسا ملک میں آ رہا تھا، یہاں لوگوں کا روزگار لگا ہوا ہے، اصل نقصان تو حکومت کا ہے۔‘یہ بات پاکستان کے شہر لاہور میں مقیم ایک فری لانسر مہتاب نے انٹرنیٹ کے باعث اپنے شعبے سے منسلک مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہی۔پاکستان میں گذشتہ چند ہفتوں سے جہاں بھی جائیں ایک شکایت تو ضرور سننے کو ملتی ہے، اور وہ یہ کہ ’واٹس ایپ نہیں چل رہا‘، ’انٹرنیٹ بہت سلو ہو گیا ہے۔‘ملک میں اگر آپ اپنے فون سے کسی کو خصوصاً موبائل ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے واٹس ایپ کے ذریعے وائس نوٹ یا کوئی تصویر بھیجنے کی کوشش کریں، تو عین ممکن ہے کہ یہ اگلے صارف تک پہنچے ہی نہیں یا اگر آپ وصول کرنے والے ہوں تو یہ ڈاؤن لوڈ ہی نہ ہو


 اس بارے میں پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے سی ای او، طفیل احمد سے گفتگو کی ،جس کی تفصیل نذر قارئین ہے۔طفیل احمد نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا کہ سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فری لانسنگ کیا ہے ؟ فری لانسنگ میں آپ کسی ایک ادارے یا شخص کے ساتھ منسلک نہیں ہوتے بلکہ آپ ٹاسک کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں یعنی کوئی بھی ٹاسک یا پروجیکٹ جو آپ کو محدود مدت میں کرنا ہو وہ فری لانسنگ کہلاتا ہے۔کون سے پلان لینے ہیں، کن پروجیکٹ پر کام کرنا ہے،اپنی اسٹریٹیجیز خود بناتے ہیں۔ سب سے اہم بات فری لانسرز کو ڈالرز میں پیسے ملتے ہیں ،کیوں کہ 99.9 فی صد کام بیرون ممالک سے چلتا ہے تو اسی لیے پرائز ریٹ بھی کافی مختلف ہوتے ہیں ۔ انڈیپینڈٹ ہونا ،اپنے کام کا فیصلہ خود کرنا ،اپنی مرضی سے کام کرنا ،اپنے لیے کام خود تلاش کرنا۔فری لانسنگ بہت بڑا شعبہ ہے یہ کوئی ایک کام یا نوکری نہیں ہے۔جب کسی فیلڈ میں آپ فری لانسر بن جاتے ہیں، آپ کی ایک شناخت بن جاتی ہے تو گھنٹوں کے حساب سے آپ کا ایک ریٹ فکس ہوجاتا ہے۔ جب اس کو پاکستانی کرنسی میں چینج کیا جاتا ہے تو وہ اچھے خاصے پیسے بنتے ہیں۔ فری لانسنگ کے بنیادی نکا ت کیا ہیں؟ اس حوالے سے طفیل احمد کا کہنا ہے کہ فری لانسنگ کے کچھ اسٹیپس ہوتے ہیں ،سب سے پہلے تو اپنی کاؤنسلنگ خود کریں یا کسی ایکسپرٹ سےکروائیں کہ آپ کس چیزمیں مہارت رکھتے ہیں۔


بعدازاں یہ دیکھیں کہ آپ کس چیز میں اچھے ہیں یا کس چیز میں آپ کا تجربہ ہے اور آپ وہ کرنا بھی چاہتے ہیں۔ مثلا ً :ا گر کوئی لکھنے میں اچھا ہے تو وہ لکھاری کے لحاظ سے اپنی کاؤنسلنگ کریں۔ اگر کوئی بولنے میں اچھا ہے یا آواز اچھی ہے تو وہ وائس اوور آرٹسٹ کے طو ر پر اپنی کا ؤنسلنگ کروائیں۔کسی کی آرٹ اچھی ہے تو وہ اس طرف جائے ،اگر کسی میں مارکیٹنگ کرنے کا ہنر ہے تو اس شعبے میں فری لانسنگ کرسکتا ہے۔ غرض یہ کہ آپ مختلف شعبوں میں اپنی مہارت کے مطابق فری لانسنگ کرسکتے ہیں۔سب سے پہلا اسٹیپ تو یہ ہے کہ اپنی کاؤنسلنگ کرکے یا کروا کر اپنے شعبے کا انتخاب کریں ۔ضروری نہیں ہے کہ آپ کسی ایک چیز کا ہی انتخاب کریں بلکہ اپنی مہارت کے مطابق بیک وقت کئی شعبوں میں آپ کام کرسکتے ہیں۔دوسرے اسٹیپ میں یہ دیکھا جاتا ہے، جس چیزمیں آپ مہارت رکھتے ہیں جو صلاحیت آپ کے پاس موجود ہے، اُس کا پورٹ فولیو بناہوا ہے ۔چاہے آپ شعبے میں نئے ہوں یا کئی سال سے کام کررہے ہوں، اپنا پورٹ فولیو لازمی بنائیں۔تیسرے اسٹیپ میں آپ جس فیلڈ میں مہارت رکھتے ہیں ،اس میں پرو فائلنگ کریں ۔ویڈیو ایڈیٹر ،گرافک ڈیزائنر،وائس اوور آرٹسٹ ،اردو رائٹر ،انگلش رائٹر اور اینیمیٹر جس میں بھی آپ ایکسپرٹ ہیں۔ اس کے مطابق پر وفائل بنا ئیں۔ یہ سب کرنے کے بعد چوتھے اسٹیپ میں آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ ان صلاحیتوں کو کہاں، کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے تو اس کے لیے بہت ساری ویب سائٹس موجود ہیں جہاں پر آپ رجسٹرڈ ہو نے کے بعد اکائونٹ بنا سکتے ہیں۔


مثال کے طور پر اپ ورک ،فائور ،فری لانسرز ڈاٹ کوم ،لنکڈان ،ٹاپ ٹیل اور دیگر بین الاقوامی پلٹ فارمز موجود ہیں جو آپ کو متعدد پر وجیکٹس دیتے ہیں۔ ان تمام پلٹ فارمز پر کس طرح اکائونٹ بنانا ہے اس کی ویڈیوز بھی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ہونے کے بعدجس فیلڈ میں آپ مہارت رکھتے ہیں اس بارے میں بتائیں، پورٹ فولیو دکھائیں اور گھنٹے کے حساب سے ڈالرز میں اپنے چارجز بتائیں۔سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں آپ کس ایک پلٹ فارم تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک ساتھ کئی پلٹ فارمز پر کام کرسکتے ہیں ۔بعدازاں آپ اپنی مہارت اور کام کو دنیا بھر میں سیل کرتے ہیں ،پھر یہ دیکھیں کہ اور کون سی ویب سائٹس ہیں جہاں پر آپ کام کرسکتے ہیں۔ بین الاقوامی پلٹ فارمز کے بعد آپ یہ دیکھیں کہ پاکستان میں کون سے پلٹ فارمز ہیں جن پر آپ کام کرسکتے ہیں۔ جب آپ قومی اور بین الاقوامی دونوں پلٹ فارمز پر کام کرتے ہیں تو اس طرح آپ کا پورٹ فولیومزید بہتر بن جاتا ہے۔ فری لانسنگ کام کرنے کا ایک اسمارٹ طریقہ ہے۔اس میں ایک پلٹ فارم تک محدود رہنے میں ایک نقصان یہ ہوتا ہے بعض مرتبہ وہاں سے کچھ دنوں تک کام نہیں ملتا تو فری لانسرز مایوس ہوجاتے ہیں اور پھر وہ فری لانسنگ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے زیادہ تر فری لانسرز ایک سے زیادہ پلٹ فارمز پر کام کرتے ہیں۔ فری لانسنگ صبح سے شام والی جاب نہیں ہے ،آپ اپناکام دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کریا کسی بھی وقت اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں ۔پاکستان میں فری لانسنگ کی شرح کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 1 ملین لوگ فری لانسنگ کررہے ہیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کی فری لانسنگ دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے کہ ہمارے نوجوانوں کا ٹیلنٹ فری لانسنگ کی مد میں چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ چیز ملک کی معیشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، کیوں کہ جتنا زیادہ لوگ فری لانسنگ کریں گے اتنی زیادہ ترسیل ہوگی اور ملک کی معیشت میں مزید بہتر ی آتی جائے گی۔اس ضمن میں پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن نےایچ ای سی سے منظور شدہ جامعات کی ایک فہرست تیار کی ہے اور ان جامعات کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کرانے شروع کردیئے ہیں۔ گزشتہ سال سے پورے پاکستان میں مختلف جامعات میں فری لانسنگ کے حوالے سے بغیر کسی معاوضہ کے سیشز کرانے کا انعقاد بھی کردیا ہے اور اب تک بیس سے زائد جامعات میں سیشنز کراچکے ہیں۔یہ کام شروع کرنے کا مقصد ان طالبات کو خود اعتماد بنانا اور دورانِ تعلیم یہ بتانا ہے کہ فری لانسنگ ہوتی کیا ہے۔ہم کوئی کورس نہیں کراتے صرف آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ جب یہ طالبات یونیورسٹی سے فارِغ التحصیل ہوگے تو وہ اپنے، اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے ہوں گےاور اُس میں فری لانسنگ باآسانی کرسکتے ہیں۔ اور جو پہلے سے فری لانسنگ کررہے ہیں ان کے لیول کو دیکھتے ہوئے مہار ت میں اضافہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔مثال کے طور پر اگر کوئی 100 ڈالر کما رہا ہے تو ہم اس کو وہ طریقہ بتاتے ہیں، جس کے ذریعےوہ ہزار ڈالر کما سکیں۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس ،چیٹ جی پی ٹی ،میشن لرننگ ،سائبرسیکیورٹی اورروبوٹکس سے متعلق آگاہی فراہم کریں ،تاکہ وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ جیسے جیسے نت نئی ٹیکنالوجیز متعارف ہورہی ہیں اس کے ساتھ فری لانسرز کو اپنی مہارت کو اپ ڈیٹ کرناضروری ہے، تا کہ ان کے کام میں تبدیلی آئی اوراس سے آمدنی میں بھی فرق پڑے گا۔ایک بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجیز متعارف ہورہی ہیں تو لوگوں کے ٹاسک بھی بدل رہے ہیں اور جو لوگ اپنی مہارت میں تبدیلی نہیں لاتے یا تو وہ اتنا ہی کما رہے ہوتے ہیں یا پھر وہ یہ کام ہی چھوڑ دیتے ہیں۔کیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے آنے سے فری لانسنگ متاثر ہوئی ہے ؟اس سوا ل کے جواب میں ان کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس بھی ایک انسان نے ہی بنائی ہے اور کیا پتا مستقبل میں ہم چیٹ جی پی ٹی 4 سے ہی چیٹ جی پی ٹی 5 بنانے کا کہیں۔ میرے خیال سے یہ سب فری لانسرز کے لیے کافی مدد گار ثابت ہورہا ہے ۔لوگ اس سے کافی استفادہ کررہے ہیں، ان کام جلدی ہورہا ہے۔ہم اے آئی سے مدد تو لے سکتے ہیں لیکن ایک جو انسان کے لکھنے کا انداز ہوتا ہے وہ توخود ہی لایا جائے گا۔ مستقبل میں لوگوں کا رجحان فری لانسنگ کی طرف مزید بڑھے گا ؟اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال سےآنے والے وقتوں میں نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں بڑی تعداد میں لوگ فری لانسنگ کی طرف آئیں گے۔ اس دور میں ہر شخص گھر سے یا دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کام کرنا چاہتا ہے اور جو لوگ جاب کررہے ہیں وہ فری لانسنگ ٹرینر بننا چاہتے ہیں، اپنی معلومات لوگو ں سے شیئر کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ گھر میں رہنے والی خواتین کے لیے بہت اچھا پلٹ فارم ہے اور بہت ساری خواتین فری لانسنگ کر بھی رہی ہیں۔جن بچوں کو گیمز اور اینی میشن میں دل چسپی ہے وہ بھی مستقبل میں فری لانسنگ کی طر ف راغب ہوں گے۔ پاکستا میں صرف اس حوالے سے آگاہی کی کمی ہے ،جس دن یہ کمی دور ہوجائے گی، اُس دن دیکھیے گا۔ پاکستان فری لانسنگ میں چوتھے سے دوسرے یا تیسرے نمبر پر آجائے گا اور اس سے ملک بھی ترقی کرسکتا ہے۔ 

جمعہ، 15 نومبر، 2024

اسموگ 'ماحول کی دشمن


 انٹرنیٹ پر ایک تصویر نظر سے گزری جو میرے وطن کے صوبہ پنجاب کی تھی اسکول کے چھوٹے بڑے بچے جو اسموگ میں اسکول جارہے ہیں بلاشبہ صرف چند بڑے بچے تو ماسک لگائے ہوئے باقی تمام ماسک کے بغیر ہیں -میری اپنے وطن کی ماؤں سے گزارش ہے کہ اسموگ کے دنو ں میں بھی ماسک اسی طرح استعمال کروائیے جس طرح کرونا کے زمانے میں کروا رہی تھیں  کیونکہ دھند میں شامل تمام  گیسز انسانی زندگی کو گھٹانے والی ہوتی ہیں  -دوسری خبریں عام ہی تو ہیں  جیسےآج بھی اسموگ اور دھند کی لپیٹ میں رہا، اسموگ کے باعث آج بھی موٹرویز مختلف مقامات سے بند کردی گئی۔ترجمان ٹریفک اور موٹروے پولیس کے مطابق اسموگ اور دھند کے باعث حد نگاہ کم ہونے پر موٹروےایم2 کو لاہور سے کوٹ مومن تک، موٹروے ایم 4 کو لاہور سے درخانہ تک اور ایم 11سیالکوٹ موٹروے کو سمبڑیال تک بند کر دیا گیا ہے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ موٹرویز کو عوام کی حفاظت اور محفوظ سفر یقینی بنانے کے لیے بند کیا جاتا ہے، روڈ یوزرز اسموگ اور دھند سیزن میں دن کے اوقات میں سفر کو ترجیح دیا کریں-


موسمی تبدیلیوں اور سردی کی آمد کے ساتھ ہی اسموگ نے مختلف شہروں پر قبضہ جما لیا ہے جب کہ دھند کے باعث شہری آنکھوں میں خارش، کھانسی، گلے یا سینے میں خراش اور جلد کے مسائل  میں گرفتار ہو سکتے ہیں-  اسموگ ہوا میں موجود نائٹروجن آکسائیڈ ، سلفر ڈائی آکسائیڈ ،کاربن مونوآکسائیڈ، فیکٹریوں اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، مٹی اور آگ کے دھوئیں کے مرکب سےبنتی ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اگر فضا میں اسموگ موجود ہے تو کوشش کریں کہ کم سے کم باہر نکلیں اور وہ افراد جو سائیکلنگ یا جوگنگ کرتے ہیں انہیں چاہئیے کہ اپنی ان سرگرمیوں کو کچھ دنوں کے لیے موخر کردیں۔ اگر یہ ممکن نہیں تو شام کے وقت باہر نکلیں جب فضا میں اسموگ کی مقدار کم ہوتی ہے، وگر نہ   نمونیا، نزلہ زکام اور دیگر جان لیوا پھیپھڑوں کے امراض کا باعث بن سکتی ہے۔پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف اضلاع میں صبح کے وقت شدید دھند اور اسموگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے۔ 


سموگ کی وجہ سے اب تک ہونے والے ٹریفک حادثات میں6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں.موسمی تبدیلیوں اور سردی کی آمد کے ساتھ ہی اسموگ نے مختلف شہروں پر قبضہ جما لیا ہے جب کہ دھند کے باعث شہری مختلف امراض کا شکار ہورہے ہیں -ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلیوں اور گرمی کے بعد سردی کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں اسموگ اور دھند کا راج بڑھ جاتا ہے۔ ہر سال اسموگ کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سانس لینے میں دشواری، گلے میں تکلیف اورآنکھوں کا سوجنا، جلنا اورآنکھوں سے پانی نکلنا وغیرہ شامل ہیں۔اسموگ کی وجہ سے پنجاب بھر میں کوڑا جلانے، فصلوں کے مڈھ کو آگ لگانے اور اینٹوں کے بھٹے میں پرانے ٹائر جلانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ لیکن اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور ہر طرف لوگ چہروں پر ماسک چڑھائے نظر آتے ہیں،اسموگ انسانوں، جانوروں، درختوں سمیت فطرت کی پیدا کردہ  ہر فائدہ مند شئے کے لیے نقصان دہ ہے اور جان لیوا امراض کا  باعث بنتی ہے، خصوصاً پھیپھڑوں یا گلے کے امراض سے موت کا خطرہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شدید اسموگ سورج کی شعاعوں کی سطح کو نمایاں حد تک کم کردیتی ہے جس سے اہم قدرتی عناصر جیسے وٹامن ڈی کی کمی ہونے لگتی ہے جو امراض کا باعث بنتی ہے۔ 


کسی شہر یا قصبے کو اسموگ گھیر لیں تو اس کے اثرات فوری طور پر محسوس ہوتے ہیں  ماہر موسمیات اور محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد حنیف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سب سے پہلے تو اسموگ اور دھوئیں میں فرق کرنا لازمی ہے۔ کچھ لوگ اسموگ کو معمولی دھواں سمجھ کر نظرا نداز کردیتے ہیں لیکن ان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اسموگ اور دھواں دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ اسموگ صرف آلودگی اور گاڑیوں کے دھوئیں کی وجہ سے نہیں بنتی بلکہ ہریالی اور درختوں کی کمی کی وجہ سے بھی اسموگ وجود میں آتی ہے۔ لہٰذا اپنے علاقے میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی کوشش کریں۔ درخت اسموگ کو بننے سے روکتے ہیں۔پاکستان میں آنے والی اسموگ بہت غیر معمولی ہے۔ یہ پہلے بھی ہوتی تھی لیکن محدود علاقوں میں ہوتی تھی۔ ماضی میں اسموگ صرف چین اور بھارت میں دیکھنے میں آتی تھی لیکن اب یہ پاکستان کے میدانی علاقوں میں شدت سے آرہی ہے،ڈاکٹر حنیف کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستان میں آنے والی اسموگ کی شدت ماضی کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ بارشوں کا نہ ہونا ہے۔ موجودہ خشک سالی چھ ہفتوں سے زائد کی ہوگئی ہے اوررواں ماہ بھی بارش کا امکان نہیں ہے۔ ایک ہلکی بارش کی توقع تو ہے لیکن وہ ملک کے بالائی علاقوں تک محدود ہوگی۔


 پنجاب کے میدانی علاقوں میں بارش کا امکان نہیں ہے۔ اس وقت اس کی شدت سب سے زیادہ لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ہے۔ اگر ہلکی بارش ہوئی تو بھی اس کی شدت میں کمی ہوجائے گی۔ملک میں بارش کی کمی کے حوالے سے ڈاکٹر حنیف کا کہنا تھا کہ بارشوں کی کمی کی وجہ اور اسموگ کی وجہ سے اس وقت گندم کی کاشت نہیں ہورہی کیونکہ اسموگ کی وجہ سے اب تک چاول کی کٹائی مکمل نہیں ہوئی اور بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت متاثر ہورہی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق صوبے پنجاب میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباﹰ سوا کروڑ بچے زہریلے اسموگ کا شکار ہیں۔ حکام نے بیشتر آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے اور دکانوں کو بھی جلدی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔پنجاب کی حکومت نے کہا کہ "فضا میں دھواں، دھول یا کیمیائی اجزا کے سبب بیکٹیریا کے وائرل انفیکشن سے آشوب چشم یعنی آنکھ سے متعلق بیماری عام ہوتی جا رہی ہیں اور اس سے صحت عامہ کو ایک سنگین خطرہ لاحق ہے۔"حکومت نے اپنی نوٹس میں مزید کہا کہ کھلی فضا میں کھیلوں کی تقریبات، نمائشیں، تہوار اور ریس ٹورینٹس  میں کھانے پر پابندی عائد ہے، 


 

جمعرات، 14 نومبر، 2024

ہوٹل روز ویلٹ -پی آئ اے کے سنہری دور کی یادگار

       ایک خبر کے مطابق نگران وزیراعظم کی ہدایت پر پی آئی اے کے اثاثوں کی نجکاری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ میں پی آئی اے کے روزویلٹ ہوٹل کی فروخت کے لیے بھی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نجکاری کمیشن نے روز ویلٹ ہوٹل کی نیلامی سے متعلق فنانشل ایڈوائز کے تقرر کے لیے دلچسپی رکھنے والی فرموں سے 9 اکتوبر تک پیشکش طلب کر لی ہیں۔ روز ویلٹ ہوٹل اس وقت ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ قبل ازیں جنوری میں اس وقت کے وفاقی وزیر ریلوے اور ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے اعلان کیا تھا کہ روز ویلٹ ہوٹل لیز پر دینے کیلئے نیویارک سٹی ایڈ منسٹریشن کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے اور یہ معاہدہ ہونے سے دو سو بیس ملین ڈالر کی آمدنی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال کیلئے ہونے والا معاہدہ پاکستان کے مفاد میں ہے، تین سال بعد معاہدہ ختم ہونے پر ہوٹل واپس پاکستان کو مل جائے گا جبکہ معاہدے سے سول ایوی ایشن کا کوئی ملازم بیروزگار نہیں ہو گا۔


پی آئی اے کو ہوٹل کی عمارت خریدنے سے پہلے ہوٹل کے اسوقت کے مالک پال ملسٹین کے ساتھ ایک طویل قانونی جنگ لڑنا پڑی۔پال ملسٹین کا خیال تھا کہ ہوٹل کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے قبل سنہ 2005 میں پی آئی اے نے سعودی پرنس کے ساتھ ایک سودے میں روزویلٹ کے 99 فیصد شئیر خرید لیے اور سعودی شہزادے کے پاس صرف ایک فیصد شیئر ہی رہ گئے۔سنہ 2007 میں پی آئی اے نے ہوٹل کی مرمت اور از سر نو تزئین و آرائش کا کام شروع کیا جس پر چھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر کا خرچہ آیا۔نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کے قیام کو ایک صدی ہو گئی ہے۔ اس کا افتتاح 23 ستمبر سنہ 1924 میں ہوا تھا۔ امریکی صدر تھیوڈر روزویلٹ کے نام پر بنائے گئے اس ہوٹل کی تعمیر پر اس وقت ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر رقم صرف ہوئی تھی۔ یہ ہوٹل ایک خفیہ زیرِ زمین راستے سے نیویارک کے گرینڈ سینٹرل سٹیشن سے بھی جڑا ہوا تھا۔روزویلٹ ہوٹل دنیا بھر میں وہ پہلا ہوٹل تھا جس نے اپنے مہمانوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چائلڈ کیئر اور پالتو جانوروں کے لیے بھی خصوصی سروس مہیا کرنا شروع کی تھی۔


 اس کے علاوہ 1947 میں روزویلٹ وہ پہلا ہوٹل تھا جس نے کمروں میں ٹیلی وژن سیٹ مہیا کیے۔کونریڈ ہلٹن نے 1943 میں یہ ہوٹل خرید لیا۔ کونریڈ ہلٹن بعد میں والڈورف ایسٹوریا اور دی پلازہ جیسے اعلی معیار کے ہوٹلوں کے مالک بھی بن گئے لیکن انھوں نے اپنا قیام روزویلٹ ہوٹل کے صدارتی سوئٹ میں ہی رکھا۔روز ویلٹ ہوٹل میں کون کون ٹھہر چکا ہے؟سنہ 2015 میں جب نواز شریف نیویارک تشریف لے گئے تو اس وقت بھی انھوں نے ویلڈورف اسٹوریا کا ہی انتخاب کیا تھا جب کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی اس ہوٹل میں مقیم تھے۔جنوبی ایشیا کے ان دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کو اتنے مہنگے ہوٹلوں میں قیام پر امریکی صحافی اکثر حیران ہوا کرتے تھے۔سنہ 2008 میں صدر آصف علی زرداری جب نیویارک گئے تھے تو وہ روز ویلٹ ہوٹل میں ٹھہرے تھے اور ان کے قیام کے لیے ہوٹل کا صدارتی سوئٹ بک کرایا گیا جس کا ایک رات کا کرایہ چھ ہزار ڈالر یومیہ تھا۔


اس سے قبل سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے اکتوبر سنہ 2006 میں امریکہ کے دورے کے دوران نیویارک میں اس ہوٹل کا انتخاب کیا تھا۔ صدر مشرف کا یہ دورہ اخراجات کے اعتبار سے مہنگا ترین دورہ تھا۔اس زمانے کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق صدر مشرف کے قیام کے دوران پاکستان سفارت خانے نے 28 لیموزینز کرائے پر حاصل کی تھیں جن کا کرایہ لاکھوں ڈالر میں ادا کرنا پڑا تھا۔صدر مشرف اکتوبر سنہ 2001 میں بھی اپنے امریکی دورے کے دوران اسی ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔پی آئی اے کی ملکیت سنہ 1979 میں پی آئی اے نے سعودی عرب کے شہزادے فیصل بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے ساتھ مل کر اس کو لیز پر حاصل کر لیا۔


 اس لیز کی شرائط میں ایک شق یہ بھی شامل تھی کہ بیس برس بعد اگر پی آئی اے چاہے تو اس ہوٹل کی عمارت بھی خرید سکتی ہے۔ اس کے بعد پی آئی اے نے اپنے مالی خصاروں کو پورا کرنے کے ہوٹل کو بیچنے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا لیکن بعد میں یہ فیصلہ ترک کر دیا گیا۔روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے مرکز مین ہیٹن کی 45ویں اور 46 ویں سٹریٹ کے درمیان واقع ہے جو نیویارک کے گرینڈ سنٹرل سٹیشن سے صرف ایک بلاک دور ہے۔ یہاں سے ٹائمز سکوائر اور براڈ وے جانے میں صرف پانچ منٹ لگتے ہیں۔


 
 

بدھ، 13 نومبر، 2024

تحریک خلافت کے روح رواں "مولانا محمد علی جوہر"

 

 ہندوستانی مسلمانوں کے عظیم رہنما محمد علی،  ریاست رام پور 1878 عیسوی  میں پیدا ہوئے -  دو سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔۔ ابتدائی تعلیم رام پور اور بریلی میں پائی۔ اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ چلے گئے۔ بی اے کا امتحان اس شاندار کامیابی سے پاس کیا کہ آلہ آباد یونیورسٹی میں اول آئے۔ آئی سی ایس کی تکمیل آکسفورڈ یونیورسٹی میں کی۔ واپسی پر رام پور اور بڑودہ کی ریاستوں میں ملازمت کی مگر جلد ہی ملازمت سے دل بھر گیا۔ اور کلکتے جا کر انگریزی اخبار کامریڈ جاری کیا۔ مولانا کی لاجواب انشاء پردازی اور ذہانت طبع کی بدولت نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ہند بھی کامریڈ بڑے شوق سے پڑھا جاتا جاتا تھا۔انگریزی زبان پر عبور کے علاوہ مولانا کی اردو دانی بھی مسلم تھی۔ انھوں نے ایک اردو روزنامہ ہمدرد بھی جاری کیا جو بے باکی اور بے خوفی کے ساتھ اظہار خیال کا کامیاب نمونہ تھا۔ جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینے کے جرم میں مولانا کی زندگی کا کافی حصہ قید و بند میں بسر ہوا۔   تک تحریک خلافت کی تاریخ کا سوال ہے دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر مصنفین و مؤلفین اس پرسرسری گذر گئے اور جس نے کچھ لکھا بھی تو تاریخ اور سنہ تک موجود نہیں۔ البتہ گاندھی جی کی زندگی پر بہت کچھ لکھا گیا جس سے کافی مدد ملتی ہے کیونکہ ۱۹۱۸ء؁ سے ۱۹۲۵ء؁ تک گاندھی جی کی زندگی اور تحریک خلافت ایک ہی دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں۔



 اسلامی خلافت کا تصور اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ اسلام کا۔ لیکن آج وہ ایک بھولا ہوا سبق ہے۔ تحریک خلافت کا یہ پہلو بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے ہمارے ملک میں آزادی کامل کی بنیاد پڑی۔ اور ہندو مسلم اتحاد کا بیج بویا گیا۔ تحریکِ خلافت ایک مشعل تھی جس نے ہندوستان کے ضمیر کو روشن کیا اور اس اجالے میں اس نے اپنے آپ کو دیکھا۔ فروری ۱۹۲۰ءمین بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبۂ صدارت میں مسلۂ خلافت کی شرعی حیثیت بر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہئے ۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں۔ پس ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کا حکم شرعی ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے محفوظ رکھا جائے اس میں عراق کا ایک حصہ بغداد بھی داخل ہے۔




 پس اگر کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض ہونا چاہے یا اس کو خلیفہ اسلام کی حکومت سے نکال کر اپنے زیر اثر لانا چاہے تو یہ صرف ایک اسلامی ملک سے نکل جانے کا مسئلہ نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مخصوص سنگین حالت پیدا ہو جائے گی۔ یعنی اسلام کی مرکزی زمین پر کفر چھا جائے گا۔ پس ایسی حالت میں تمام مسلمانِ عالم کا اولین فرض ہوگا کہ وہ اس قبضہ کو ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام کے مقامامت مقدسہ میں بیت المقدس اسی طرح محترم ہے جس طرح حرمین شریف اسکے لئے لاکھوں مسلمان اپنی جان کی قربانیاں او یورپ کے آٹھ صلیبی جہادوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو دوبارہ غیر مسلموں کے قبضے میں نہ جانے دیں۔ خاص طور سے مسیحی حکومتوں کے قبضہ واقتدار میں۔ اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے خلاف دفاع کرنا صرف وہاں کی مسلمان آبادی ہی کا فرض نہ ہوگا بلکہ بیک وقت وبیک دفعہ تمام مسلمانانِ عالم کا فرض ہوگا‘‘  جوہر  مولانا جوہرؔ تحریک خلافت کے روح رواں اور جنگ آزادی کے میر کارواں تھے۔ ایک نڈر، حق گو، بے باک صحافی، مولانا عبدالماجد دریاآبادی نے ان کے لئے کہا تھا کہ ان کی آواز مشرق نے بھی سنی اور مغرب نے بھی“


 


مشہور نو مسلم انگریز مصنف و مترجم قرآن مسٹر محمد مارڈیوک پکتھال سابق ایڈیٹر ممبئی کرانیکل نے ڈاکٹر سید محمود کی کتاب’’خلافت اور اسلام‘‘ کے دیباچہ میں لکھا ہے:۔مذہب اسلام حیات انسانی کا مکمل قانون ہے اور تہذیب و شائستگی کا مخزن ہے جو ابھی تک اپنے عروج کو نہیں پہونچا ہے۔ خدا کے قوانین جو بنی نوع انسانی پرکلیتاً حکمراں ہیں اور وہ قوانین جن کی پابندی پر انسانی زندگی کی اخلاقی ترقی مبنی ہے سوائے قرآن شریف کے اور کسی کتاب میں صراحتاً موجود نہیں ہے۔ اسلامی تہذیب قوانین الٰہی پر مبنی ہے۔ خلیفہ اس کا دینوی سردار ہے، خواہ اہل عرب ہوں یا غیر اہل عرب۔ خواہ اس کا دارالحکومت بغداد ہو، مدینہ ہو یا قسطنطنیہ، اور اسلامی تہذیب اور ترقی کا مرکز، مرکزِ خلافت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے‘’’تحریکِ خلافت کے رہنماؤں میں اصل روح مولانا محمد علی جوہر کی کام کر رہی تھی وہ شعلہ جوالہ بنے ہوئے تھے۔ گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ پھر کر پورے ملک کو حرارتِ ایمانی اور جوشِ آزادی سے مخمور بنا دیا تھا۔ دراصل انھیں نے گاندھی جی کو ان کے گوشۂ عزلت سے نکالا اور ان کے ساتھ دورہ کر کے اور ان کی جے کارلگوا کر ان کو عوامی لیڈر اور ملک کا محبوب رہنما بنا دیا۔ تحریک خلافت و آزادی وطن کے ساتھ تحریک ترک موالات ضم کر کے غیر ملکی حکومت کے خلافت نفرت اور بغاوت کی آگ بھڑکادی اور آزادیٔ وطن کا صور اس بلند آہنگی سے پھونکا کہ سارے ملک میں یہاں تک فوج و پولس میں ایک جنبش اور مظبوط انگریزی فوج میں ایک ارتعاش پیدا ہوگیا‘‘


مہاتماگاندھی اس اعلان کے ساتھ تحریک خلافت میں شریک ہوئے تھے یہ مسلمانوں کا مذہبی معاملہ ہے اور جب ہمارے مسلمان بھائی بے چین ہیں تو ہم کیسے خاموش رہ سکتے ہیں۔ گاندھی جی نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں بار بار کہا تحریک خلافت کو مسلمانوں کا ایک مقدس معاملہ سمجھ کر اس میںشریک ہوا ہوں۔ عزل خلافت کے بعد مہاتما گاندھی نے کہا کہ اگر میں ایک نجومی یا غیب داں ہوتا اور مجھے معلوم ہوتا کہ ترکی میں خلافت توڑی جائے گی تب بھی میں اس میں اسی عزم و حوصلے کے ساتھ شرکت کرتا۔انہوں نے اپنے جذبات کو الفاظ کے سحر آگیں سانچوں میں ایسا ڈھالا کہ انگریز اقتدار اعلیٰ کی اکثریت کامریڈ کی پرستار بن گئی۔ یہاں تک کہ خود لیڈی ہارڈنگ بھی کامریڈ کے دفتر فون کر کے اگلے شمارے کے بارے میں دریافت کرتی تھیں۔ مولانا جوہر نے جس نصب العین کے لیے کامریڈ شروع کیا تھا، اسی نہج پر 23 فروری 1913 کو اردو میں ایک ہفت روزہ ہمدرد کی بھی اشاعت کا آغاز کیا۔ ہمدرد کے مضامین نے صحافتی میدان میں طوفان برپا کر دیا۔ جس نے ہندوستانیوں میں جذبہ حب الوطنی اور جدوجہد آزادی کے لیے نیا جوش و ولولہ پیدا کر دیا، نیز بلاامتیاز قوم وملت میں اتحاد اور قومی یکجہتی کو پروان چڑھایا 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر