زرا غور کیجئے قدرت کی ان نعمتوں پر جو ہم نے اس سے مانگی بھی نہیں اور اس نے ہم کو بن مانگے عطا کر دی ہیں ان نعمتوں میں ایک بیش بہا نعمت زعفران ہے آئیے زعفرا ن اور اس کی خوبیوں کو دیکھتے ہیں ۔ یاد رکھیں کہ زعفران کے بیج دانے دار یا کسی اور شکل میں نہیں ہوتے۔ پھول- اس وقت شروع ہوتا ہے جب درجہ حرارت 15-20 ڈگری سیلسیس سے نیچے گر جاتا ہے۔ ہر علاقے میں پھولوں کا موسم مختلف پایا گیا ہے۔ نوٹ کریں کہ بلب (زعفران کے بیجوں کو بلب کہا جاتا ہے) دسمبر کے اوائل میں اور کچھ علاقوں میں پھول آنے کے لیے جنوری کے آخر تک لگایا جا سکتا ہے۔ جبکہ زیادہ بیج پیدا کرنے کے لیے پودے مارچ تک لگائے جا سکتے ہیں۔ زعفران کے بلب اگست سے دسمبر تک کسی بھی موسم میں لگائے جا سکتے ہیں۔ زعفران کے بلب لگاتے وقت درج ذیل نکات کو مدنظر رکھنا چاہیے: معتدل آب و ہوا زعفران کے لیے بہترین ہے۔ ہے اور سرد موسم کے آتے ہی پھول کھلنے لگتے ہیں۔ زعفران کا بلب سردیوں میں اگنے لگتا ہے، زعفران کا بلب زمین میں بہت تیزی سے اگتا ہے۔ یہ 2 سے 4، 4 سے 8 اور 8 سے 16 اور کھال 32 ہو جاتی ہے۔ ہر 2 یا 3 سال بعد انہیں نکال کر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ یاد رکھیں، اگر صحیح طریقے سے محفوظ کیا جائے تو زعفران کا بیج 20 سال تک زندہ رہتا ہے۔ اور مزید ہزاروں بلب پیدا کرتا ہے۔
Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
جمعرات، 25 جولائی، 2024
زعفران-کھانوں کی جان
خیرپور کا فیض محل-قابل دید عمارت
خیرپور ریاست تالپور خاندان کی اہم ترین ریاست تھی اور جس وقت پاکستان کا قیام عمل میں آیا خیر پور میں پچاس سے زیادہ صنعتی یونٹس کام کر رہے تھے جس میں صرف مقامی افراد کا روزگار با آسانی مہیا تھا تعلیمی نظام سو فیصد تھا چوری ڈکیتی کوئ جانتا ہی نہیں تھا کسانو کے چہرے مسکراتے تھے -غرض یہ کہ خیرپور ایک مکمل فلاحی ریاست تھی-پھر ایک حکم کے زریعہ شب خون مارنے والوں نے صنعتی یونٹس کو تالا لگوا دیا اور خیر پور سے اس کی فلاحی شناخت چھین لی۔ چلئے ماضی کی بات پھر کبھی ابھی ہم بات کرتے ہیں خیر پور کے فیض محل کی’فیض محل‘‘ 200سالہ قدیم عمارت کو ’’لکھی پیلس ‘‘ بھی کہتے ہیں -تالپور حکم راں فن تعمیر سے گہری دل چسپی رکھتے تھے اور ان کی عمل داری میں بہترین معمار اور فن نقاشی کے ماہرین رہائش پذیر تھے ۔ ان کے دور حکومت میں قبو یعنی خوب صورت مقابر تعمیر کرائے، جن میں میران تالپورکے مقبرے شامل ہیں۔ ۔ تالپور حکم رانوں کا ایسا ہی ایک قدیم اور فن تعمیر کا شاہکار’’ فیض محل‘‘ بھی ہے، جو خیرپور کی ایک شان دار تاریخی عمارت ہے۔ خیرپور شہرکے شمال مغرب میں واقع فیض محل سابقہ خیرپور ریاست کے تالپور حکمرانوں کی وہ عظیم یادگار ہے، جس کی مثال پورے برصغیر پاک و ہند میں کم ہی ملے گی۔فیض محل پاکستان کے شاندار فن تعمیر کے نمونوں میں سے ایک ہے۔، اس خوب صورت محل کی تاریخ دو سوسال پرانی ہے، اس کی تعمیر خیرپور کے شاہی خاندان تالپور میرس نے 1798 میں کروائی ۔اسے آرام گڑھ اور ’’لکھی محل ‘‘ کے نام سے بھی معروف ہے۔ یہ مغلیہ طرز تعمیر اور آرٹ ورک کا بہترین شاہکار سمجھا جاتا ہے۔
میر فیض محمد خان تالپور ریاست خیرپور کےچوتھےحکم ران تھے، جنہوں نے اپنی خدادادصلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسا حسین محل تعمیر کروایا، جو آج بھی دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایک بادشاہ، سیاست دان، جنگجو، سپاہی، شہسوار اور باغبان، میر فیض محمد خان تالپور وہ باغ و بہار شخصیت تھے، جن کو فنون لطیفہ سے بے حد لگائو تھا، اسی ذوق و شوق کا لازوال عکس فیض محل میں دکھائی دیتا ہے، جو اپنے حسن اور طرز تعمیر کے باعث میران خیرپور کے تاریخی ورثے کا ایک نادر نمونہ ہے۔ میر فیض محمد خان تالپور 1894ء سے 1909تک ریاست خیرپور کے حکمران رہے۔ان کے اس تعمیری شاہ کار کو ان کے نام کی مناسبت سے فیض محل کا نام دیا گیا۔ کیوں کہ اس دور میں اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر پر ایک لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی اس لیے اسے ’’ لکھی محل ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔تاریخی حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ 1843ء میں جب چارلس نیپئر نے سندھ کا خطہ فتح کیا، تو سندھ کے آخر ی حکم راں، مبر جارج علی مراد خان تالپورکے ہاتھوں سے اقتدار چلا گیا اور انتظامی طورپر سندھ انگریزوں کی عمل داری میں آگیا
تالپور حکم رانوں کا تعمیر کرایا ہوا، فیض محل دو منزلہ عمارت ہے، جو لال اینٹوں سےتعمیر کی گئی ہے، جب کہ اس کا اگلا حصہ ہندوستان کے شہر جے پور سے منگوائے گئے زرد پتھروں سے سجایا گیا ہے، ان پتھروں کی سجاوٹ اور چمک دمک میں اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی کوئی فرق یا تبدیلی نہیں آئی ۔ فیض محل کا مرکزی ہال سرکاری تقاریب اور دربار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، روشن دانوں سے سجائے گئے اس خوب صورت ہال میں اس دور کا فرنیچر، جھولے اور نایاب اشیاء آج بھی موجود ہیں، دروازوں، کھڑکیوں سمیت جتنی بھی چیزیں اس میں ہیں وہ سب دیال، ساگوان، پرتل اور چلغوزے کی لکڑی سے بنی ہوئی ہیں، اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود یہ اشیاء آج بھی نئی لگتی ہیں۔ فیض محل میں ڈائننگ ہال بھی قائم ہے، ہال کے دونوں اطراف اخروٹ کی لکڑی سے بنوائی گئی ، ڈریسنگ ٹیبل بناوٹ کے لحاظ سے بے حد عمدہ اور بے مثال ہے میں اپنی عزاداری اور محرموں کے سلسلے میں شہرہ آفاق ہیں
اس شان دار محل کے آگے مغلیہ طرز کا ایک باغ بھی بنایا گیا ہے، جو تقریباً بیس ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے، کشادہ باغ میں املتاس، شیشم، کھجور کے درخت فضاء کو اور بھی خوش گوار بنادیتے ہیں۔ محل کی دائیں اور بائیں جانب توپیں نظر آتی ہیں۔ مرکزی ہال کی دیواروں پر تالپور حکمرانوں سے لے کر ان تمام شخصیات کی تصاویر آویزاں ہیں ، جنہوں نےفیض محل کے دورے کیے۔ ان میں پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان اور فیلڈ مارشل محمد ایوب خان بھی شامل ہیں۔اگرچہ حکومت اور محکمہ قدیم آثار و محکمہ ثقافت کی عدم توجہی کے باعث ہمارا تاریخی ورثہ زبوں حالی کا شکار ہے، مگر کچھ عمارتیں وقت کے ستم کےباوجود اپنا وقار اور شناخت برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ آج بھی فیض محل میں ہر ایک شے کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے، تاکہ اس تاریخی ورثے کو دیکھ کر گزرے زمانے کی یاد تازہ کی جاسکے۔ آ
اس محل میں ایک عجیب سی کشش ہے، جو خیرپورکی سیر کے لیے آنے والے افراد کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ اس محل کی بناوٹ اور فن تعمیر کی مہارت کو دیکھ کر کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، اس کے مختلف حصوں میں گھومنے کے دوران اس خوب صورت محل کا سحر انسان کو جکڑ لیتا ہے۔مغلیہ فن تعمیر کا نمونہ ، یہ عمارت خیرپور ریاست کی سب سے نمایاں عمارت رہی ہے۔ خیرپور ریاست کے دفاع کے لیے فوج بھی تھی مگر ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے بعد اس ریاست کو 1955ء میں پاکستان میں شامل کیا گیا اور اس طرح خیرپور ریاست کا وجود ختم ہوا اور اس نے ایک شہر کی حیثیت حاصل کرلی۔ آج بھی فیض محل میں ہر ایک شے کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے تاکہ اس تاریخی ورثے کو دیکھ کر گزرے زمانے کی یاد تازہ کی جاسکے
منگل، 23 جولائی، 2024
گوند کتیرا کیوں فائدہ مند ہے
آ ٹزم کو سمجھنے کی ضرورت ہے
۔عموماً آٹِزم سے متاثرہ بچے کئی دوسرے طبی مسائل کاشکار بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ مسائل آٹِزم کی نوعیت کے حساب سے ہرفرد میں مختلف ہوتے ہیں۔ایسے حالات میں آٹِزم کے اثرات زیادہ نمایاں ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ان بیماریوں اور آٹِزم کے ساتھ ان کے تعلق کو سمجھنا نہایت اہم ہےبائی پولر ڈِس آرڈر (Bipolar Disorder)اس مرض کا شکار افرادڈپریشن اور جنون کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔ آٹِزم کے شکار افراد میں یہ مرض زیادہ عام ہوتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ آٹِزم کو بائی پولر ڈس آرڈر سمجھ لیا جاتاہے یا بالکل اس کا الٹ ہوجاتاہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ ان دونوں کی علامات میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔
ڈپریشن-آٹِزم سے متاثرہ افراد میں عمر کے ساتھ ساتھ ڈپریشن کے امکانات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔آٹِزم سے متاثرہ زیادہ کام کرنے والے افرد میں بھی ڈپریشن زیادہ ہو سکتا ہے۔ ڈپریشن کی ان علامات کا خیال رکھنا چاہیے:آٹِزم سے متاثرہ فرد کی ان چیزوں میں دل چسپی ختم ہوجانا جو اسے کسی وقت بہت دل چسسپ لگتی تھیں۔ ذاتی صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھ پانا -مسلسل اداس رہنا -خود کو بےکار سمجھنا -ناامید رہنا چڑچڑاپن -شدت پسند ہوجانا اور اکثر موت یا خودکشی کے بارے میں سوچتے رہنا آبسیسوکمپلسو ڈس آرڈر (OCD)محققین کے مطابق(OCD) آٹِزم سے متاثرہ بچوں اور بڑوں میں زیادہ عام ہے لیکن اس کو آٹِزم والی چیزوں کو دہرانے والی عادات سے نہیں ملانا چاہیے بلکہ اس کی باقاعدہ تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
(Anxiety)آٹِزم کا شکار افراد میں سے 42 فیصد الجھن کا شکار رہتے ہیں۔ مسلسل الجھن دل کی دھڑکن میں اضافے، پٹھوں میں کچھاؤ، معدے میں تکلیف اور سر درد کی وجہ بن سکتی ہے۔ معاشرتی حالات بھی آٹِزم سے متاثرہ افراد میں الجھن کی وجہ بن سکتے ہیں۔ یہی کام نئی جگہوں، ہجوموں اور نئے لوگوں میں رہنے سے بھی ہو سکتا ہے۔مرگی-اس کا بھی آٹِزم سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ لوگوں کو خصوصاً بچوں کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ انھیں ہو کیا رہا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے آس پاس کے لوگوں کو بھی دورے پڑنے کے دوران سمجھ نہ آ سکے۔ دورے پڑنے کی نشانیوں کو ذہن نشین کر لینا چاہیے اور جلد از جلد مدد حاصل کرنی چاہیے۔ یہ نشانیاں درج ذیل ہیں:لمبے دورانیے کے لیے بلا وجہ گھورتے رہنا -شدید سر درد بے حد گھبراہٹ -بے ارادہ حرکات -معدے اور آنتوں میں خرابی (یہ خرابی آٹِزم سے متاثرہ بچوں میں کئ گنا زیادہ ہوتی ہے) معدے اور آنتوں میں خرابی-معدے اور آنتوں کی خرابی میں درج ذیل شامل ہیں:
آنتوں کی سوزش، پیٹ میں درد، دائمی قبض، معدے کے تیزاب کا خوراک کی نالی اور منہ میں آنا۔کھانے کے مسائل-یہ بھی آٹِزم سے متاثرہ بچوں میں بہت عام ہے۔ بچے کھانے کے معاملے میں بہت ہی نقطہ چیں ہو جاتے ہیں۔ کچھ چیزوں کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں اور بہت ہی محدود چیزیں کھاتے ہیں۔ کچھ تو مستقل طور پر ضرورت سے زیادہ کھانے لگتے ہیں۔ کچھ بچے نہ کھانے والی چیزیں بھی کھانے لگتے ہیں۔یہ کچھ ایسی بیماریاں ہیں جن کا تعلق آٹِزم سے ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ خرابیاں ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا بچہ آٹِزم سے متعلقہ کسی بیماری کا شکار ہے تو یہ جاننے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ کیا یہ واقعی آٹِزم کی وجہ سے ڈاون سنڈروم ایک نسلی کفیت ہے۔ یہ تب واقع ہوتا ہے جب بچہ 46 کی جگہ 47 کروموسوم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے- یہ زائد کروموسوم دراصل کروموسوم 21 ہوتا ہے۔ یہ زائد کروموسوم دماغ کی نشونما میں تاخیر اور جسمانی معذوری کا سبب بنتا ہے۔ ڈاون کروموسوم کے ساتھ پیدا ہونے والے بچے تمام سماجی و اقتصادی حثیت سے بالاتر ہوتے ہیں۔
آٹزم کی حتمی وجوہات کا تعین ابھی غیر واضح ہے۔ یہ عارضہ آپ کے دماغ کے ان حصوں میں مسائل سے پیدا ہوسکتا ہے جو حسیات سے آنےوالی معلومات اور زبان کی ترجمانی کرتے ہیں۔لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکوں میں آٹزم کا رجحان چار گنا زیادہ پایا جاتاہے۔ یہ کسی بھی نسل یا سماجی پس منظر کے لوگوں میں ہو سکتا ہے۔ خاندانی آمدنی، طرز زندگی، یا تعلیمی درجہ بچے کو آٹزم کےلا حق خطرے کو متاثر نہیں کرتے،تاہم چند خطرے والے عوامل درجہ ذیل ہیں:
جینز کے کچھ امتزاج بچوں میں آٹزم کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں کیونکہ یہ نسل در نسل بھی منتقل ہوتا ہے-بڑی عمر کےوالدین کے بچوں میں آٹزم کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ایسی حاملہ خواتین جو بعض ادویات یا کیمیکلز جیسے الکحل یا اینٹی سیزر ادویات کا استعمال کرتی ہیں، ان کے بچے کےآٹسٹک ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ دیگر قابلِ فکر عوامل میں زچگی کے میٹابولک حالات جیسے ذیابیطس اور موٹاپا شامل ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق آٹزم کو غیر علاج شدہ phenylketonuria جسے PKU بھی کہا جاتا ہے، ایک خاص انزائم کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہونے والا میٹابولک عارضہ اور روبیلا (جرمن خسرہ) سے بھی جوڑا جاتاہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ویکسین لگوانا آٹزم کا سبب بنتی ہےعام طور پر آٹزم کی علامات 3 سال کی عمر سے قبل ظاہر ہوتی ہیں۔جبکہ کچھ بچوں میں اس کی علامات پیدائش کے ساتھ ہی ظاہر ہوجاتی ہیں۔
آٹزم کی عمومی علامات درجہ ذیل ہیں:
• نظریں نہ ملا سکنا۔• محدودمشاغل یا بعض موضوعات میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی۔ ایک ہی عمل بار بار کرنا، جیسے الفاظ یا جملے دہراتے رہنا، آگے پیچھے ہلنامخصوص آوازوں، چھونے، بو، یا منا ظر سے خاص حساسیت جو دوسرے لوگوں کو عام لگتی ہیں۔ دوسروں کو دیکھنے اور سننے سے لا تعلقی۔ جب کوئی دوسرا شخص کسی چیز کی طرف اشارہ کرے تو اس چیز سے نظریں چرانا ۔ ملنے یا گلے لگانےسے گریز کرنا۔• بولنے، اشاروں، چہرے کے تاثرات، یا آواز کے لہجے کو سمجھنے یا استعمال کرنے میں دشواری• گانا گانے کے انداز میں یا سپاٹ اور مشینی آواز میں بات کرنا۔• روٹین میں تبدیلیوں کو اپنانے میں دشواریآٹزم کے شکار کچھ بچوں کو دورے بھی ہو سکتے ہیں ۔
اتوار، 21 جولائی، 2024
جون بن حوی' بہشت جاودانی کے خریدار
ہفتہ، 20 جولائی، 2024
جب حر نے جنت کا انتخاب کیا
کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ انسان کو کب توبہ کی توفیق میسر آجاءے تو ہوا یوں کہ امام عالی مقام نے جب سفر کربلا کے دوران زبالہ نامی قریہ کی جگہ میں قیام فرمایا اور کچھ آرام کے بعد دوبارہ سفر شروع کرنے کا ارادہ کیا تب حضرت عباس سے فرمایاپانی کا وافرذخیرااپنے ساتھ لے لو اطاعت گزار بھائ نےفوراً تعمیل کی اور بہت بڑی تعداد میں پانی سے بھرے مشکیزے اونٹوں پر لاد دئے گئے اور یہ قافلہ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا -درمیان راہ اچانک آپ علیہ السلا م کے اایک صحابی نے نعرہ تکبیر بلند کیاامام نے بھی اپنی زبان الہام بخش پر تکبیر کے الفاظ دہرائے اورتکبیر بلند کرنے کا سبب دریافت کیا انہوں نے جواب دیا:مولا میں کچھ کھجورکے درخت دیکھ رہاہوں، ؛دوسرے ہمراہیوں نے تعجب خیز !لہجے میں کہا کہ ہم اس جنگل سے آشنا ہیں یہاں پر تو کوئی کھجور کاباغ ہی نہیں ہے ،امام نے فرمایا: غور سے دیکھو!،کچھ دکھائی دے رہا ہے ؟صحابیوں نے جواب دیا:مولا ہمیں تو گھوڑوں کی کچھ گردنیں دکھائی دے رہی ہیں ،حضرت نے بھی ان لوگوں کے قول کی تائید کی ،یکایک ابن زیاد کالشکر آنکھوں کے سامنے تھا،اور شدت تشنگی سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں امام سے یہ منظر کربناک دیکھا نہ گیاآپ نے حکم دیاکہ ان کو سیراب کرو! ہاں ! ان کے گھوڑے بھی پیاسے نہ رہ جائیں -اس لشکر کا کمانڈر ابن زیاد کی فوج کا ایک جری جرنیل جس کانام حر بن یزید تمیمی تھا
اس دشت میں اس جرنیل کا تمام لشکر بہت پیاسا تھا اور تمام جانور بھی پیاسے تھے امام عالی مقام نے فوراً اس لشکر کی پیاس بجھانے کے لئے کہا اصحاب امام نے اس پانی سے جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے دشمن کے لشکر اور ان کے گھوڑوں کو پانی پلانا شروع کیا، پانی سے بھرے برتن گھوڑوں کے سامنے رکھے گئے یہاں تک کہ جانور بھی سیراب ہوگئے علی ابن الطعان کہتا ہے :کہ میں لشکر حر میں تھااور اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیاتھاجب میں پہونچا تمام لشکر والے اپنے جانوروں سمیت سیراب ہو چکے تھے اور مجھ پر پیاس کاشدید غلبہ تھا جیسے ہی امام حسین نے میری حالت قریب المرگ دیکھی تو پانی کی مشکوں سے لدے ایک اونٹ کی طرف میری رہنمائی فرمائی اور مزید فرمایا:کہ جاؤ !اور اس اونٹ کو بیٹھا کر اس سے پانی اتار کر پی لو !لہذا میں اونٹ کے قریب گیااور اس کو بیٹھاکر پانی اتار کر جیسے ہی پینا چاہتاتھاپانی میرے منھ سے نکل کر زمین پر بہنے لگا حضرتؑ نے یہ منظر دیکھا بنفس نفیس خود تشریف لائے اور مشک کو اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور مجھے پانی پلانا شروع کیایہاں تک کہ میں سیراب ہوگیا،اور میرے گھوڑے نے بھی جی بھر کر پانی پیا-ابن زیادکا یہ لشکر پانی پی کر آرام کرنے لگے یہاں تک کہ نماز ظہر کاوقت ہو گیا
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں حر بن یزید ریاحی قوت ادب و تہذیب کے ذریعے ایک قدم حق کی طرف آگے بڑھا ؟جیسے ہی ظہر کاوقت ہواسر کار سیّد الشہدآ ءنے اپنے قافلے کے مؤذن جناب حجاج بن مسروق جعفی سے فرمایا :اذان دو! پھر اس کے بعد حر کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا:کہ کیا تم پنے لشکر کے ہمراہ نماز پڑھو گے؟لیکن خلاف توقع لشکر دشمن کے سپہ سالار نے جواب دیا:فرزند رسول میں تو آپ کی معیت میں فریضہ ظہر ادا کروں گا -یہ ادب و تہذیب سے مملوء نماز کہ جس کو وہ فرزند رسول کی اقتداء میں پڑھنا چاہتا تھا در واقع یہ تہذیب دشمن سے بے نیازی اور پشت دکھانے کے مترادف ہے یہ چیز ان کو ایک قدم خالق حقیقی سے نزدیک لے گئی اور یہی وہ بنیادی قدم تھاکہ جو ان کے اوپر باب رحمت کھلنے کاسبب قرار پایاغرض تمام لشکر نے امام کی اقتداء میں نماز پڑھی
امام روؤف نے جواباً ارشاد فرمایا:" نعم ،یتوب اللہ علیک "ہاں تمہارے لئے بھی امکان توبہ ہے اپنے سر کو زمین سے اٹھاؤاللہ نے تمہاری توبہ کو قبول کر لیا ہے اور جیسا کہ ابن نمای حلی اپنی کتاب مثیر الاحزان میں نقل کرتے ہیں کہ حر نے امام حسین کی خدمت میں عرض کی یابن رسول اللہ!جس وقت میں کوفہ سے باہر آیا تو میری پشت کی جانب سے ایک آواز آئی کہ اے حر!تجھے جنت مبارک ہو !حضرت نے فرمایا:"لقد اصبت اجراً و خیراً"،حر تم نے خدا کی بشارت کو اچھی طرح پہچان لیااور یزیدیوں کو چھوڑ کر اہل بیت رسول سے ملحق ہو گئے اور خود کو اس بشارت تک پہونچا دیا-حر کوفہ کے مشہور ترین جنگی دلاوروں میں سے تھے بعض منابع نے اشتباہ کی وجہ سے انہیں عبید اللہ بن زیاد کے شُرطہ ہونے کے عنوان سے ذکر کیا ہے پس اس بنا پر وہ صاحب شرطہ کے عنوان سے نہیں بلکہ وہ ایک فوجی منصب کے حامل تھے اور انہیں عبیداللّه بن زیاد کی طرف سے تمیم و ہمْدان کے جوانوں پر مشتمل فوج کی سپہ سالاری کے فرائض کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کو روکنے کیلئے مامور کیا گیا
اگرچہ حر بن یزید ریاحی امام سے جنگ کرنے کیلئے مامور نہیں تھا لیکن وہ شروع سے ہی امام حسین ؑ کو ممکنہ جنگ کی تنبیہ کرتا رہا یہانتک کہ کہتے ہیں کہ اس نے امام کو تنبیہ کی کہ اگر جنگ ہوئی آپ یقینا قتل ہو جائیں گے ۔ جب موقع ملتا پاتا تو امام سے خدا کیلئے آپ اپنی جان کی حفاظت کریں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپ کا قتل ہونا یقینی ہے ۔لیکن امام نے اسے اس شعر میں جواب دیا:خدا کی راہ میں موت سے کوئی ڈر و خوف نہیں ہے پھر اس کے بعد حر نے امام سے اجازت لی اور میدان کارزار کی طرف روانہ ہوئے کوفیوں سے شدید قتال کیا آخر میں جا شہادت نوش کرکے اس بشارت کو پالیا صحاب امام حسین نے ان کے زخموں سے چور چور بدن کو زمین سے اٹھایا اور قریب خیمہ لاکر امام کے سامنے رکھ دیامولا حر کے سرہانے بیٹھ گئے اور ان کے خون آلود رخسار پر اپنا دست مبارک پھیرا چہرے سے غبار کربلا کو ہٹایا اور اس جملے کو فرمایا:"انت الحرّ کما سمتک امّک حرّاً فی الدنیا و سعید فی الآخرۃ ِ"اے حر!تو دنیا میں آزاد ہے جیسا کہ تیری ماں نے تیرا نام حر رکھا تھا اور آخرت میں نیک بخت اور خوش نصیب ہے -اور حر نے دنیا کو ٹھکرا کر آخرت کی منزل مراد پالی
جمعہ، 19 جولائی، 2024
اسیران حرم دربار ابن زیاد میں
چشم دید گواہوں کے مطابق اسیران آل رسول اور شہدائے کربلا کے سروں کو کوفہ کے شہر میں پھرانے کے بعد جب ابن زیاد دربار میں لایا گیا تو عوام کو دربار میں داخل ہونے کی اجازت دی اور امام حسینؑ کے سر کو اس کے سامنے رکھا گیا اور پھر اسیر خواتین اور امام حسینؑ کے بچوں کو دربار میں لایا گیا۔ جناب زینب سلام اللہ علیہا دیگر اسیر خواتین کے حصار میں تھیں اور دربار میں آنے کے بعد کونے میں بیٹھ گئیں۔عبیداللہ ابن زباد نے پوچھا: یہ عورت جو کونے میں خواتین کے درمیان ہے کون ہے؟ جناب زینب سلام اللہ علیہا نے جواب نہیں دیا۔عبیداللہ نے اپنا سوال پھر سے دہرایا۔ تو کسی کنیز نے کہا: وہ پیغمبر کی نواسی زینب ہیں۔عبيدالله بن زیاد: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے جس نے تمہارے خاندان کو رسوا کیا، مارا اور دکھایا کہ جو کچھ تم کہہ رہے تھے سب جھوٹ تھا۔
زینب سلام اللہ علیہا نے اس بد بخت کو جواب دیا-- تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں پیغمبر کے ذریعے نوازااور ہر ناپاکی سے دور رکھا۔ فاسق کے علاوہ کسی کی رسوائی نہیں ہوتی، اور بدکار کے علاوہ کوئی جھوٹ نہیں بولتا، اور بدکار ہم نہیں تم اور تمہارے پیروکار بدکار ہیں اور تعریف صرف اللہ کے لیے ہے۔ابن زیاد: دیکھ لیا کہ اللہ تعالی نے تمہارے خاندان کے ساتھ کیا کیا؟زینب سلام اللہ علیہا : اچھائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا! یہ وہ لوگ تھے جن کے مقدر میں اللہ تعالی نے شہید ہونا قرار دیا تھا اور انہوں نے بھی اطاعت کی اور اپنی ابدی منزل کی جانب چلے گئے اور بہت جلد اللہ تعالی تمہیں ان کے سامنے کرے گا اور وہ اللہ تعالی سے تمہاری شکایت کریں گے، تب دیکھنا کہ اس دن کون کامیاب ہوتا ہے، اے ابن مرجانہ کے بیٹے تم پر تمہاری ماں روئے!ابن زیاد: اللہ نے تمہارے نافرمان بھائی حسین، اس کے خاندان اور سرکش لشکر کو مار کر مرے دل کو ٹھنڈک دی۔
زینب سلام اللہ علیہا : خدا کی قسم تم نے ہمارے بزرگ کو مارا، ہمارے درخت کو کاٹا اور جڑ کو اکھاڑا، اگر یہ کام تمہاری دلی تسکین کا باعث ہو تو تم نے شفا کو پایا ہے۔ابن زیاد غصہ اور توہین آمیز حالت میں یہ بھی اپنے باپ علی کی طرح ماہر خطیب ہے؛ اپنی جان کی قسم! تمہارا باپ بھی شاعر تھا اور قافیے میں بات کرتا تھازینب سلام اللہ علیہا نے جب کہا: «ہم نے اچھائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا..... اے ابن مرجانہ تمہاری ماں تم پرروئے.....ان جملوں اور جناب زینب (س) کی نپی تلی اور باوقار گفتگو کو سن کر ابن زیاد غصہ میں آ گیا اوراس نے جناب زینب کو سزا دینا چاہی لیکن وہ اس پر قادر نا ہو سکا۔۔
اس کے بعد ابن زیادہ ملعون نے امام سجا دعلیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو کسی نے بتایا کہ یہ علی بن حسین علیہ السلام ہے۔ تو ابن زیادہ لعین کہتا ہے: علی بن حسین کو تو اللہ نے قتل نہیں کردیا؟ یہ سننا تھا کہ امام سجادعلیہ السلام نے نہایت شجاعت اور بغیر کسی خوف و ڈر کے گرجتی ہوئی آواز میں اس ملعون سے کہا: میرا ایک بھائی تھا جس کا نام علی بن حسین ہے لوگوں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ اس لہجے میں یہ جواب سن کر ابن زیادہ ملعون نے کہا:لوگوں نے نہیں بلکہ اسے اللہ نے قتل کیا ہے۔ امام سجادعلیہ السلام نے رسول خدا(ص) سے ورثے میں ملنے والی دانائی اور امیر المومنین علیہ السلام کی شجاعت کے ساتھ اس ملعون کو اپنے دلیرانہ لہجے میں کہا
: اللہ تو موت کے وقت روحوں کو قبض کرلیتا ہے،اور جو ابھی نہیں مرا اس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے۔ ابن زیادہ ملعون نے جب یہ جواب سنا تو اس نے کہا: تمہاری یہ جرأت کہ تم مجھے جواب دیتے ہو، پھر اس ملعون نے جلادوں سے کہا: اسے لے جا کر اس کی گردن اڑا دو۔ اس ملعون کی یہ بات سنتے ہی حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے بڑھ کر فرمایااے ابن زیاد تو ہم سے میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا، اگر تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو تو اس کے ساتھ مجھے بھی قتل کر دو۔ امام سجادعلیہ السلام نے فرمایا -اے میری پھوپھی جان آپ مجھے اس سے بات کرنے کی مہلت دیں۔ پھر امام سجادعلیہ السلام نے ابن زیاد ملعون کو مخاطب کر کے فرمایا: اے ابن زیاد کیا تم مجھے قتل کی دھمکی دیتے ہو؟ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ قتل ہو جانا تو ہماری عادت ہے اور شہادت تو ہمارے لیے اللہ کی طرف سے عطا کردہ سعادت ہے۔اسیران کربلا کے سامنے اپنی بے بسی دیکھ کراس ملعون نے دربار برخاست کر دیا
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...