جمعہ، 30 جنوری، 2026

اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی

 

 مورخ  جب بھی تاریخ اُردو ادب لکھے گا  توضرور  ایک عظیم شخصیت علامہ سیماب اکبر آبادی کا نام اس تایخ میں ضرور لکھے گا  ہمہ جہت پہلووں سے سجی ہوئ ان کی شخصیت کے لئے کہنا مشکل ہے کہ وہ بڑے ادیب تھے یا بڑے غزل گو، یا بڑے نظم نگار،وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، در حقیقت  وہ ایک  پوری اد بی اکیڈمی تھے۔ تین سو سے زائد نظم و نثر کی چھوٹی بڑی کتابوں کے خالق  جنہوں نے اپنی زندگی کے پورے پچاس سال ادب کی خدمت گزاری میں گزارے-اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ان کے پوتے  کا کہنا ہے  کہ  (حضرت سیماب اکبرآبادی) کے انتقال کے وقت میری عمر ۵؍ یا ۶؍ سال کی تھی لہٰذا اُن کے بارے میں بہت سی باتیں آنکھوں دیکھی نہیں ہیں بلکہ کانوں سنی ہیں۔ اکثر باتیں والد صاحب (مرحوم اعجاز صدیقی) کی زبانی سنی ہیں۔


اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم" بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہمولوی فیروز الدین کی فرمائش پر مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ شروع کیا جس کے لیے وہ لاہور منتقل ہوئے اور اپنا ادارہ قصرادب بھی لاہور ہی لے آئے۔ مثنوی مولانا روم کو فارسی سے اسی بحر میں اردو میں منظوم ترانے کام شروع کیا اور اس کا نام الہام منظوم رکھا تقریبا 45 ہزار افراد 6 جلدوں میں ترتیب پائے۔ مولوی فیروز الدین کے بقول انھوں نے مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہ امیر مینائی سمیت کئی نامور شاعروں کے سپرد کرنا چاہا مگر یہ مشکل کام ان میں سے کسی کے بس کا نہ تھا۔


۔ اُن کے پوتے کا کہنا ہے اُن کی محبت و شفقت اس واقعہ سے بھی جھلکتی ہے کہ جب میں تھوڑا بڑا ہوا اور گھٹنوں کے بل چلنے لگا تو گھر میں (جو بڑی سی حویلی کی شکل میں تھا) قالین بچھوا دیا تھا تاکہ میرے گھٹنوں پر خراش نہ آئے۔ سفر پر جاتے تو میرا تکیہ ساتھ لے جاتے تھے تاکہ اپنائیت کا احساس کم یا ختم نہ ہو۔ اسی طرح مشاعرہ کیلئے روانہ ہونے سے قبل کہتے تھے کہ افتخار کو میرے پاس دے دو۔ روانگی سے قبل تھوڑی دیر مجھے کھِلاتے۔دادا جان، جیسا کہ والد صاحب سے سنا ہے، شاگردوں کی تربیت بڑی شفقت کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ چونکہ شاگردوں کی بڑی تعداد تھی جو ملک بھر میں پھیلی ہوئی تھی اس لئے کلام پر اصلاح خط و کتابت کے ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ اُن کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ کسی مصرعہ میں سقم ہو تو پورا کا پورا مصرعہ کبھی نہیں بدلتے تھے بلکہ ایک آدھ لفظ کو اِدھر اُدھر کرکے اُس سقم کو دور کردیا کرتے تھے۔ جو شعر اچھا ہوتا اُس کے آگے ’’ص‘‘ لکھ دیتے تھے۔ شاگردوں کو بتاتے تھے کہ قافیہ کس طرح خیال دیتا ہے۔ اُنہیں علم قوافی سے بھی روشناس کرتے اور یہ بھی بتاتے کہ حرف روی کیا ہوتا ہے۔ شاگردو ں میں جو خصوصیات پاتے وہ اُن پر اُجاگر کردیا کرتے تھے۔ اُنہیں یہ بھی سمجھاتے تھے کہ کاغذ کیسا ہو اور روشنائی کیسی، کس طرح لکھنا چاہئے اور حاشیہ کتنا چھوڑنا چاہئے۔ اُن کے شاگردوں کی تعداد ویسے تو ہزاروں میں تھی لیکن باقاعدہ تلامذہ کی تعداد لگ بھگ ۳؍ سو تھی۔ وہ اپنے تمام شاگردوں کو معنوی اولاد کہتے تھے۔


 اگر ان میں سے کوئی اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر آگیا تو خوب ضیافتیں ہوتی تھیں۔ اُن کے تلامذہ میں شاعرات بھی تھیں۔ کوئی شاگرد یا شاگردہ گھر آتی تو دادی اُن کی تواضع میں گویا بچھی جاتی تھیں اور جب وہ واپس جاتے تو اُنہیں تحائف دیئے جاتے تھے۔ اب اُن کا صرف ایک شاگرد بی ایس این جوہر بقید حیات ہیں جن کی عمر ۸۰؍ سال ہے اور میرٹھ میں مقیم ہیں۔ جہاں تک شاگردوں کے شاگرد کا تعلق ہے تو وہ بہت سے ہیں۔ مثلاً شہ زور کاشمیری (جن کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری ہوا تھا)، اُن کے شاگر حامدی کاشمیری ہیں۔ تخلیق شعر کے وقت اُن کی عجب کیفیت ہوتی تھی۔ اکثر اوقات یہ صبح کاذب کا وقت ہوتا۔ جب والد صاحب نے شعر کہنا شروع کیا تو ہدایت دی کہ اساتذہ کے پانچ ہزار اشعار یاد کریں تب ہی شعر کہنے کی اجازت ملے گی۔ بابو جی (والد صاحب) کیلئے یہ کام مشکل نہ تھا کیونکہ اُنہیں دیوان غالب تقریباً ازبر تھا۔ تربیت کا یہ اسلوب تھا دادا جان کا۔ یہی اسلوب والد صاحب نے میری تربیت کیلئے بھی اپنایا۔ جب میں شعر کہنے لگا تو والد صاحب نے تاکید کی تھی کہ اس سے پہلے اساتذہ کے پانچ سو اشعار یاد کریں۔ مجھے یاد ہے، میں نے اُنہیں ۱۰۰؍ شعر سنائے تھے۔ مشاعروں میں دادا جان شروع میں ترنم سے کلام سناتے تھے لیکن پھر تحت اللفظ میں سنانے لگے۔ ایچ ایم وی نے ایک ریکارڈ بنایا تھا جس میں اُنہیں ترنم اور تحت اللفظ، دونوں میں شعر پڑھتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔ 

جمعرات، 29 جنوری، 2026

گورنمنٹ ہاسپٹلز میں ا ینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں ہے

 

  پورے کراچی  کے    گورنمنٹ ہاسپٹلز  میں کتے  کے کاٹ لینے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے-جبکہ کتے کے کاٹنے کے واقعات  میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے-گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی اور عباسی شہید اسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین نہیں سال 2025 میں صوبے میں 22 شہریوں کی کتوں کے کاٹنے سے ہلاکت اور 29 ہزار افراد زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور ریبیز پروگرام کے تحت ویکسین کی عدم دستیابی کے معامل پر درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے آئینی بینچ کو تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے۔عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر فریقین سے چار ہفتوں میں رپورٹس طلب کرلی ہے۔ طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے 2024 میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ریبز کنٹرول پروگرام شروع نہیں کیا۔درخواست گزار نے کہا کہ کے ایم سی ہیلپ لائن نمبر 1093 بھی غیر فعال ہوچکا ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدر آمد کیوں نہیں کیا جارہا؟ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ویکسینشن ہر جگہ دستیاب ہیں باقی ڈی جی سے رپورٹ جمع کروا دیں گے۔طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ کیونکہ آوارہ کتوں کے غول کراچی کی ہر گلی اور محلے میں دندنا رہے ہیں


جسٹس یوسف علی سعید کا کہنا تھا کہ جواب آنے دیں تمام پہلووں کا جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کریں گے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کیس جلدی سنا جائے کتوں کے کاٹنے سے صوبے میں ہزاروں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ 2 دسمبر ،5 202کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) سندھ میں ریبیز اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں،جناح اور انڈس اسپتال میں 18 ہلاکتیں رپورٹ۔ وزارِت صحت سندھ  کے مطابق صوبے بھر میں ایک سال کے دوران کتے کے کاٹے کے 2 لاکھ 84 ہزار 138 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی تعداد بھی ہزاروں میں ہو سکتی ہے کیونکہ صوبے میں بیماریوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی مکمل اور منظم نظام موجود نہیں۔دوسری جانب انڈس اسپتال کورنگی میں زیرِ علاج جیکب آباد سے تعلق رکھنے والا 12 سالہ حیدر علی بدھ کو ریبیز سے انتقال کر گیا، جس کے بعد انڈس اسپتال میں رواں سال ریبیز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔


 انڈس اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ان ہلاکتوں کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جاں بحق ہونے والے پانچ افراد نے قریبی مراکز سے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی اس کے باوجود ریبیز کا مرض ان میں سرائیت کرگیا اور وہ جانبرنہ ہو سکے جس سے ویکسین کی افادیت اور لگانے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں بھی رواں سال ریبیز سے 9 مریض جاں بحق ہوئے۔ اس طرح صرف دو اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 18 افراد انتقال کر چکے ہیں، جو بیماری کی شدت اور سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹے کے بیشتر متاثرین کو بروقت اور مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) میسر نہیں آ پاتی، جس کے باعث معمولی زخم بھی جان لیوا بیماری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ بچاؤ مرض ہے تاہم علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ تقریباً ہمیشہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔


ماہرین صحت کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کی آبادی، ویکسینیشن، نس بندی اور ریبیز کو کنٹرول کرنے کے نظام میں واضح کمزوریاں موجود ہیں  اس لئےجب تک مؤثر ڈاگ کنٹرول، ماس ویکسینیشن اور ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ریبیز سے انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافے پر قانون ساز بنچ نے سماعت کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے میں سال 2025 کے دوران کتوں کے کاٹنے سے 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 29 ہزار سے زائد شہری زخمی ہوچکے ہیں درخواست گزار ایڈووکیٹ گزار طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ء2025 میں 2000 سے زائد افراد کو کنٹرول نہیں کیا۔ کے ایم سی کی ہیلپ لائن 1093 کو بھی غیر فعال کر دیا گیا ہے۔سماعت کے دوران یہ کڑوا سچ سامنے آیا کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی اور عباسی شہید اسپتال جیسے بڑے طبی مراکز میں بھی اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں۔ جہاں ایک طرف درخواست گزار نے ویکسین کی عدم دستیابی اور آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شکایت کی۔ جہاں پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ ویکسین ہر جگہ موجود ہے اور اس حوالے سے ڈی جی رپورٹ پیش کی جائے گی جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ حکم جاری کیا جائے گا،

بدھ، 28 جنوری، 2026

عطاؤں کی بارش جب برسنے کوآئ -حصہ دوم



 پھر انسانیت کے زیور سے آراستہ صارفین نے اس ذہنیت کے خلاف ایک ٹرینڈ شروع کردیا۔ ہر طرف سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ اس محنت کش کو تلاش کیا جائے، اس کی دل آزاری کا ازالہ کیا جائے۔اسی مرحلے پر “انسانیات” (Humanitarianism) نامی ایک معروف سماجی و فلاحی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سامنے آیا۔ یہ کوئی کاروباری صفحہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو انسانی وقار، مظلوموں کی آواز اور خیر کے اجتماعی کاموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ “انسانیات” نے اس واقعے کو محض جذباتی ردعمل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عملی قدم اٹھایا۔ نزرول کی تلاش شروع ہوئی۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ بنگلہ دیش  کے اُس غریب خاکروب   نزرول کی  بھر پور مدد کی جائے ۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ عزت پیشے سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔جب نزرول عبد الکریم کو ڈھونڈ لیا گیا تو گویا رحمت کے دروازے کھل گئے۔ ایک طرف وہی لوگ تھے، جنہوں نے دل آزاری پر شرمندگی محسوس کی اور دوسری طرف وہ ہاتھ تھے جو خیر بانٹنے کے لیے آگے بڑھے۔


سونے کے زیورات، نقد رقم، قیمتی موبائل فون، گھریلو اشیائے ضرورت اور یہاں تک کہ اپنے وطن جا کر اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے سفری ٹکٹ مہیا کر دئے گئے ، ہر طرف سے عطاؤں کی بارش ہونے لگی  -سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے ایک خواب بن کر جھلک رہا تھا اب  نزرول  کے ہاتھوں میں تھا۔ جیسے میرے رب کی قدرت اعلان کر رہی ہو کہ جس رزق پر تمہاری نگاہ تھی، وہ تمہارے لیے ممنوع نہیں تھا، بس تمھاری دسترس میں آنے  کا  وقت مقرر تھا۔ سونے کے اس سیٹ کی  قیمت 25000 ریال سے بھی زیادہ تھی ۔ جبکہ نزرول کی تنخواہ بمشکل 700 ریال تھی ۔بعد ازاں نزرول کے بارے میں مزید باتیں سامنے آئیں۔ معلوم ہوا کہ کم آمدنی کے باوجود وہ غیر معمولی امانت دار اورنرم دل و ہمدرد انسان ہے۔ وہ اپنی معمولی سی کمائی میں سے بھی کچھ حصہ نکال کر سڑکوں پر بھٹکتی بھوکی بلیوں کو کھانا کھلا دیتا تھا۔ شاید اسی رحم نے آسمان پر اس کے لیے راستے کھول دیئے تھے۔


جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ حسرت بھری نگاہوں سے سونا کا سیٹ کیوں دیکھ رہا تھا؟ تو اس کا جواب دل کو چیر گیا:“میں صرف اتنا چاہتا تھا کہ میرے بیٹے کی شادی میں اس کی مدد ہو جائے۔”نہ سونا اس کا خواب تھا، نہ شہرت اس کی طلب، وہ صرف ایک باپ تھا، جو اپنے بیٹے ک کی  شادی  پر اس کے لیے سہارا بننا چاہتا تھا، عزت کے ساتھ۔یہ سچی داستان عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بلکہ  سمیت کئی عرب ذرائع ابلاغ نے اسے کور کیا۔ اس حقیقی واقعے سے کیا سبق ملا؟ یہی کہ لوگوں کے طنزیہ جملے وقتی ہوتے ہیں، مگر اللہ کریم کے فیصلے دائمی۔ اگر کبھی تمہیں تمہاری حیثیت، لباس یا پیشے کی وجہ سے حقیر سمجھا جائے تو یاد رکھو:اللہ نہ جھاڑو دیکھتا ہے، نہ سونا، وہ دل دیکھتا ہے۔اور یہی اس واقعے کا حاصل ہے:"ما عندکم ینفد۔۔۔ وما عند الله خير وأبقی“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔”


  سورہ حجرات میں  پروردگار عالم ارشاد   فرما رہا ہےقل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اے نبی ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ انسان اپنے علم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے نفس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے آپ کی شعوری دنیا کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں رکھتا۔ اور نہ اسے اپنے نفس کی پوری حقیقت معلوم ہے اور نہ شعور اور لاشعور کی۔ انسان یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی عقل کس طرح کام کرتی ہے۔ کیونکہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو اس وقت وہ خود اپنے دماغ کا ملاحظہ  نہیں کرسکتا۔ اور جب وہ اپنے نفس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا وہ کام رک جاتا ہے جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ملاحظہ کے لئے کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ اور جب انسان کسی کام میں لگا ہوتا ہے اس وقت وہ نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان خود اپنی ذات کی حقیقی معرفت سے بھی عاجز ہے۔ اور اس کے معلوم کرنے سے بھی عاجز ہے کہ انسانی دماغ کس طرح کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی تو وہ چیز ہے جس پر انسان نازاں ہے“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور “اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے  سے جس کو نزرول حسرت بھی نگاہوں سے تک تک رہا تھا آ ج اس کے ہاتھوں جگمگا رہا تھا


(عربی سے اردو ترجمہ: ضیاء چترالی)

آٹسٹک بچوں کا ہومیو پیتھک علاج

  

آٹسٹک   بچوں کا  ہومیو پیتھک علاج   – 

آٹزم ایک ایسا ذہنی عارضہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی  بچے کو لاحق ہو چکا ہوتا ہے اس مرض میں  والدین کو گونا گوں  پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے   جیسے  بچے کی سمجھ بُوجھ   بات چیت کا انداز یا پھر مکمل خاموشی ، میل جول، سوچ سمجھ اور اپنے حواس کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ آٹزم سے متاثرہ مریض کا دماغ عام انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طریقے پر نشوونما پاتا اور کام کرتا ہے۔ یہ دنیا کو مختلف انداز سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ آٹزم کا شکار ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی علامات بھی دوسرے آٹزم بچوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہ بچے یا تو ہر پل تبدیلی چاہتے ہیں یا پھر یکسانیت کو پسند کرتے ہیں اور نئے ماحول یا ہر صورتِ حال کے مطابق ڈھلنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں اور اپنی بات سمجھا نہیں پاتے۔ عام طور پر یہ بچے دوسروں سے نظریں نہیں (poor eye contact) ملاتے۔ ان کا نام پکارا جائے تو متوجہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ اپنا نام سن رہے ہوتے ہیں۔ یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کے زیادہ قریب آئے اور ان کو چھوئے (don’t liked to be touch)۔ یہ اپنے جذ بات کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ان کو کچھ کام بہت آسان لگتے ہیں اور کچھ انتہائی آسان کام بہت مشکل لگتے ہیں۔ عام طور پر ایسے بچے کھلونوں سے کھیلتے نہیں ہیں بس انھیں جمع کرتے ہیں اور ایک خاص ترتیب میں رکھتے ہیں اور اس ترتیب میں تبدیلی برداشت نہیں کرتے۔ انھیں چیزوں کو گھمانا اور ان کو گھومتے ہوئے دیکھتے رہنا اچھا لگتا ہے۔یہ بہت دیر تک بغیر اکتائے پنکھے کو گھومتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں


  (hand flapping)  ۔ اپنی خوشی کا اظہار ہاتھوں کو پھڑپھڑا کر کرتے ہیں۔جبکہ کچھ آٹسٹک بچوں کے  ہاتھوں پر لرزہ بھی ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کومختلف انداز میں گھما گھما کر ان سے کھیلتے ہیں۔ چلنے کے دوران ایڑھیاں اٹھا کر چلتے (toe walking) ہیں اور سارا وزن پنجوں پر ڈال دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ مسلسل ایک ہی لفظ کو بہت دیر تک دہراتے رہتے ہیں۔ انھیں غصہ (aggressive) بہت زیادہ آتا ہے۔ کسی ایک ہی بات کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر فکر مند اور سوچوں میں رہتے ہیں یا پھر بالکل سپاٹ۔ کبھی یہ منہ سے عجیب وغریب آوازیں نکالتے ہیں تو کبھی عجیب و غریب شکلیں بناتے یعنی منہ بگاڑتے رہتے ہیں۔ منہ سے رالیں بہنا، اپنے پرائیویٹ پارٹ کو چھیڑتے رہنا، جنسی جذبات کو کنٹرول نہ کر سکنا، یکدم غصہ کرنا، چیزیں پھینکنا یا پھاڑنا یا آگ لگاتے رہنا، دانتوں سے خود کو یا دوسروں کو کاٹنا، اچانک رونے دھونے لگ جانا بھی اہم علامات ہیں۔ یہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے غافل نظر آ سکتے ہیں۔ دنیا سے رابطہ (socially isolated) نہیں رکھنا چاہتے۔ بعض آٹسٹک بچے ہر وقت بال کٹوانا چاہتے ہیں تو بعض کے بال یا ناخن کٹوانا بہت ایک بہت بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ یہ کئی کئی دن ایک ہی قسم کی خوراک کھانا چاہتے ہیں۔ اگر ڈر ہو تو مکھی، مچھر، چیونٹی تک کو دیکھتے ہی چیخیں مار مار کر بھاگیں گے اور اگر ڈر نہیں ہے تو کسی بھی چیز کی کوئی پروا ہی نہیں ہے۔ بادل کی گرج چمک، اندھیرا، روشنی، اونچی آواز سے بھی شدید قسم کا ڈر ہو سکتا ہے۔ یہ بہت زیادہ ایکٹو ہو سکتے ہیں کہ سارا دن چلتے، دوڑتے بھاگتے رہیں یا اتنے شل کمزور اور تھکے ہارے کہ کچھ بھی نہ کریں۔آٹزم کا شکار سب بچے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔


 اگر آپ کا بچہ آٹزم سے متاثر ہے تو ضروری نہیں کہ یہ تمام علامات اس میں موجود ہوں۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی علامات میں دیر سے بولنا (lack of speech)، دیر سے چلنا، تنہائی پسند ہونا اور حواس خمسہ (sensory issues) کو کنٹرول نہ کر پانا ہے۔ ان بچوں کا بولنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کا انداز عام بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔اگر ایک جگہ پر پچاس آٹزم بچے ہوں تو ان سب کی علامات ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی۔اکثر والدین یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ان کا بچہ کب تک ٹھیک ہو جائے گا؟ علاج کے لیے کتنا عرصہ درکار ہو گا؟درحقیقت یقینی طور پر کوئی بھی بڑے سے بڑا ڈاکٹر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ صرف آٹزم ہی نہیں دیگر پرانے اور شدید امراض جیسے دمہ (Asthma)، الرجی(Allergy)، چنبل (psoriasis)، گنٹھیا (Arthritis)، ہائپوتھائرائڈزم (Hypothyroidism)، ایگزیما (eczema)، مرگی (epilepsy) وغیرہ میں بھی علاج کی مدت بتانا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر انسان کے علاج کا دورانیہ دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ آٹزم کے پہلے لیول (mild autism) عام طور پر ایک سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور تیسرے لیول (severe autism) کے کیسز میں پانچ سے دس سال بھی لگ سکتے ہیں۔مکمل طور پر شفایابی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ مکمل صحت یابی کا مطلب ہے کہ بچہ بالکل ٹھیک ہو جائے۔


 اگر کسی ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے جلدی اور بروقت علاج کروایا جائے تو مائلڈ آٹزم (mild autism) میں بہت سے بچے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ دوسرے (mild to moderate autism) اور تیسرے لیول (severe autism) کے آٹزم کیسز میں ایک عرصے تک علاج سے ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ ہر تبدیلی مزید بہتری کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ علاج لمبا ہوتا ہے اور بہتری کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔عام طور پر ہاتھوں اور پیروں کی حرکات میں پہلے بہتری آتی ہے۔ بچے نارمل طریقے سے چلنے لگتے ہیں اور ہاتھوں کو بلاوجہ نہیں ہلاتے ۔نظریں ملانے (eye contact) کا مسئلہ بھی کچھ بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر بچوں کی سمجھ بوجھ (comprehension)،بات چیت اور حسی مسائل میں بہتری آتی ہے۔ وہ سماجی طور قابل قبول حیثیت اختیار کرنے لگتے ہیں؛ لوگوں میں گھلنے ملنے لگتا ہے۔ اس دوران دوسروں سے آنکھیں ملا کر بات کرنے میں بھی سدھار آنا شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح سب بچوں کی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں؛ اسی طرح ان کے علاج کا دورانیہ اور نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ بچوں میں کوئی ایک پہلو پہلے بہتر ہو جاتا ہے اور کچھ بچوں میں دوسرا۔ کچھ بچے پہلے چند ہفتوں میں ہی اچھا رسپانس دیتے ہیں اور کچھ بچوں میں بہتری آنے میں چند مہینے لگ جاتے ہیں۔ 

عطاؤں کی بارش جب برسنے کوآئ حصہ اول

 

اللہ سے 20 ڈالر کا سودا
یہ سچا واقعہ امریکی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
ایک لڑکی کی گاڑی نیو جرسی کی ایک ویران شاہراہ پر اچانک بند ہوگئی۔ بدقسمتی سے وہ اپنا پرس گھر بھول آئی تھی، جس میں اُس کا موبائل فون اور رقم دونوں تھے۔ سڑک سنسان تھی، نہ قریب کوئی آبادی، نہ کوئی مددگار۔ وہ حیران و پریشان کھڑی تھی کہ کیا کرے اور کس سے مدد مانگے۔اسی لمحے اس نے قریب ایک کچرے کے ڈبے کے پاس ایک درویش صفت، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس بے گھر شخص کو بیٹھے دیکھا۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا اور نرمی سے بولا "بیٹی! کیا تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے؟"لڑکی خوف زدہ ہوئی، جلدی سے بولی "نہیں!"وہ خاموشی سے واپس اپنی جگہ جا بیٹھا۔کچھ دیر گزری تو اس نے دیکھا کہ لڑکی اب بھی وہیں کھڑی ہے، پریشانی اس کے چہرے پر عیاں ہے۔ وہ دوبارہ قریب آیا اور بولا "مجھے یقین ہے تمہیں مدد چاہیے۔ ڈرو نہیں، مجھ پر بھروسہ کرو۔"لڑکی کچھ جھجکی، پھر اس کے اصرار پر بتا دیا "میری گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے۔ میں پرس بھول آئی ہوں۔ اب میرے پاس موبائل فون ہے اور نہ پیسے۔"اس غریب شخص نے سکون سے کہا "اچھا، تم گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرو، میں ابھی آتا ہوں۔"
لڑکی کے دل میں خوف مزید بڑھ گیا، نہ جانے وہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کرنے والا ہے۔


 مگر اب اُس کے پاس سوائے انتظار کے اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی، جس میں پیٹرول بھرا ہوا تھا۔ اس نے خاموشی سے گاڑی کا ٹینک کھولا، پیٹرول ڈالا، پھر لڑکی کے قریب آیا اور مسکرا کر بولا "معاف کرنا، میرے پاس صرف 20 ڈالر تھے، مگر امید ہے اتنے میں تم آرام سے گھر پہنچ جاؤ گی۔"لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کہا "میرے ساتھ چلو، میں تمہیں یہ رقم واپس دوں گی۔"وہ شخص مسکرا کر بولا "اس کی ضرورت نہیں۔ وہ 20 ڈالر ویسے بھی میرے نہیں تھے، کسی اجنبی نے دیئے تھے، بغیر مانگے۔"لڑکی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور گھر جا پہنچی۔ اگلے ہی دن اس نے اپنی کہانی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ لوگ اس سے بہت متاثر ہوئے اور اس لڑکی سے کہا کہ چلو، اس نیک دل آدمی کے لیے چندہ مہم چلاتے ہیں۔ پھر مہم شروع ہوگئی۔ چند ہی دنوں میں اس بے گھر شخص کے لیے ایک لاکھ ڈالر سے زاید کی رقم جمع ہوگئی تھی۔ اس رقم نے خاتون نے اس کے لیے ایک اپارٹمنٹ خریدا اور ساتھ اس روزگار کا انتظام کیا گیا۔اس نے اپنی جیب کے آخری 20 ڈالر ایک اجنبی کے لیے قربان کر دیئے اور اللہ تعالیٰ نے اُس قربانی کے بدلے اُسے ایک لاکھ ڈالر عطا فرمائے۔


 نزرول عبد الکریم ایک غریب، محنت کش مزدور تھا۔ بنگلہ دیش سے روزی روٹی کی تلاش میں نکل کر سعودیہ کی سڑکوں پر جھاڑو دینے والا پردیسی۔ ایک مرتبہ وہ ریاض کی ایک مصروف شاہراہ پر واقع ایک لگژری جیولری دکان کے باہر لمحہ بھر کو ٹھہر گیا۔ شیشے کے پار سونے کا ایک عالیشان سیٹ روشنیوں میں جگمگا رہا تھا۔ نزرول کے ہاتھ میں جھاڑو تھی، لباس سادہ، چہرے پر پسینہ اور وجود تھکا ہوا، مگر آنکھوں میں ایک ایسی خاموش حسرت تھی جو صرف وہی جانتا ہے جو خواب دیکھنا جانتا ہو، مگر وسائل سے محروم ہو۔ وہ اس قیمتی سیٹ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی اس پر نظر پڑ گئی۔نوجوان نے اس منظر کو انسانیت کی آنکھ سے نہیں، غرور کی نگاہ سے دیکھا۔ اس نے نزرول کی تصویر بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی، ساتھ ہی تمسخر سے بھرے الفاظ لکھ دیئے:
هذا حده ينظر إلى القمامة“ایسے لوگ صرف کچرے کو دیکھنے کے ہی قابل ہوتے ہیں، نہ کہ سونے کے ہار کو۔”مطل منہ اور مسور کی دال! ن الفاظ میں اس امیرزادہ نے نزرول کی غربت کا مذاق اڑایا تھا، حلال محنت کو ذلت بنا کر پیش کیا تھا اور ایک انسان کی عزت کو اس کے پیشے سے تول کر فیس بک میں لائیکس و کمنٹ وصول  کر نے کی گھٹیا کوشش کی تھی۔ 


گویا جھاڑو تھامنے والا ہاتھ انسان نہیں  محض ایک تماشہ ہو۔مگر یہ دنیا صرف انسانوں کے فیصلوں سے نہیں چلتی، یہاں ایک اور عدالت بھی ہے، وہ عدالت جو نیتوں کو دیکھتی ہے۔اللہ نے چاہا کہ ایک مظلوم کی خاموشی کو زبان ملے اور یوں وہ تصویر جو تضحیک کے لیے بنائی گئی تھی، عزت کی گواہی بن گئی۔ چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر فضا بدل گئی۔ لوگوں کے دل جاگ اٹھے۔ امیرزادہ کی پوسٹ پر واہ واہ کے بجائے غصے کا اظہار کرنے والے زیادہ تھے۔ غصہ طنز پر نہیں بلکہ اس ذہنیت پر تھا، جو محنت کو حقیر سمجھتی ہے۔
جاری ہے

منگل، 27 جنوری، 2026

جامعہ الازہر قاہرہ -مسلمانوں کی جامعہ افتخار

  





ہم مسلمانوں کے لئے اللہ ربالعالمین نے  اس زمین پر جو پہلا تحفہ بذریعہ فرشتہ بھیجا وہ علم کا نایاب تحفہ تھا  اور اس تحفے کی قدرو قیمت جانتے ہوئے جامعہ  الازہر جیسی عظیم درس گاہ  کی بنیاد رکھی گئ  جس میں دینی اور دنیوی تمام علوم کی تعلیم دی جاتی ہے، دینی تعلیم کے لیے جامعہ ازہر  کو عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مرجع مانا جاتا ہے۔اس وقت ازہر کے طلبہ کی ٹوٹل تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے جس میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی طلبہ ہیں۔ جن کا تعلق 100 سے زائد ممالک سے ہے، ان طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے 6 ہزار سے زائد فقط مصر میں ازہر کے معاہد(انسٹیٹیوٹس) اور اسکولز عالم وجود میں آئے۔جامعہ ازہر میں تعلیم سے متعلق تمام شعبہ جات کی تعداد تقریباً 70 ہیں۔ یہاں پر عصر حاضر کی عالمی  جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے تمام  شعبے    جیسے  میڈیکل  سائینس'  جامعہ ازہر میں  موجود ہیں،  اور دینی تمام قسم کے شعبے  مثلاً تفسیر اور علوم قرآن، حدیث اور علوم حدیث،، فقہ اور اصول فقہ، کلام اور عقیدہ، دعوہ، اسلامی معاشیات، بینکاری، تجارت، عربی زبان و ادب، تصوف، تربیت، سیرت، قراءت و تجوید، افتاء، فکر جدید اور مطالعہ غرب، استشراق و تبشیر، تقابل ادیان اور اسلامی ثقافت و حضارت وغیرہ سب کے سب تخصصات بحمد اللہ تعالی جامعہ ازہر میں موجود ہیں۔

مصری  طلبہ کے لیے  نرسری 2 سال، پرائمری 6 سال اور ثانویہ یعنی ہائی اسکول 3 سال، اس کے بعد کلیہ یعنی بی اے 4 سال (بی اے کچھ کلیات میں 5 سال کا بھی ہے)پھر  ایم اے 4 سال جس کے اخیر کے 2 سال میں 400 ؍500 صفحہ کا رسالہ لکھوایا جاتا ہے، اس کے بعد پی ایچ ڈی کم از کم 3 سال کی ہوتی ہے اس میں بھی کسی موضوع پر رسالہ لکھوایا جاتا ہے۔غیر ملکی طلبہ کے لیے نرسری اور پرائمری تو نہیں ہے، البتہ ان کے لیے ایک اضافی شعبہ ’’ معھد الدراسات الخاصۃ للغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بہا‘‘ اور’’ مرکز تعلیم اللغۃ العربیۃ للوافدین‘‘ ہے، جس میں غیر ملکی طلبہ(جو مصر میں بغیر کسی معادلہ کے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں) شروع میں عربی زبان سیکھنے کے لیے داخل ہوتے ہیں، باقی ان کے دوسرے مراحل بھی مصری طلبہ ہی کی طرح ہوتے ہیں، ہاں ایک بات اوران سے مختلف ہوتی ہے وہ یہ کہ وافدین کو کلیہ کے مرحلہ میں ہر سال کم از کم ایک پارہ حفظ کرکے اس کا تحریری و تقریری امتحان دینا لازمی ہوتا ہے، مگر مصر ی طلبہ کا معاملہ ان سے مختلف  اس  لئے ہوتا  ہے کہ ان مصری طلبہ  کو ہر سال ساڑھے سات پارے حفظ کرکے اس کا تحریری و تقریری امتحان دینا ضروری ہوتا ہے،اور اس طرح مصری طلبہ کلیہ کے مرحلہ میں ہی حافظ قرآن ہو جاتے ہیں، یہ جامعہ ازہر کا تمام اسلامی جامعات کے درمیان خاص وصف اور طرئہ امتیاز ہے،


 اس کے علاوہ جامعہ ازہر میں سہ ماہی ’’دورہ تدریبیہ‘‘ جسے ’’ ائمہ کورس‘‘ بھی کہتے ہیں، ملک اور بیرون ملک کے لیے مسلسل پورے سال رواں دواں رہتا ہے، اس میں تمام اسلامی مضامین، اسلامی معاشیات و اقتصاد، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور دیگر تمام اسلامی موضوعات پر لیکچرز ہوتے ہیں، ہم یہاں پر مرحلہ ثانویہ(ہائی اسکول)، کلیات(بی اے)، ماجستیر(ایم اے) اور دکتوراہ(پی ایچ ڈی) کا تفصیلی منہج پیش کر تے ہیں:دراسات علیا : (ایم اے، وپی ایچ ڈی):ایم اے و پی ایچ ڈی کے ابتدائی دو سال میں تقریباً کلیہ کے تخصص والے ہی مواد ہوتے ہیں البتہ بحثیں مختلف ہوتی ہیں، اس میں مطالعہ، بحث اور مصادر و مراجع کی طرف کثرت سے رجوع اور محنت و مشقت کلیہ سے بہت زیادہ مطلوب ہوتی ہے، ایم اے کا دو سال پاس کرنے کے بعد ایم اے کا مقالہ کسی خاص موضوع پر لکھنا ہوتا ہے، اس کی مدت کم از کم دو سال ہوتی ہے جسے ’’ رسالۃ التخصص الماجستیر‘‘ کہتے ہیں، پاک و ہند میں اسے ایم فل کا درجہ دیا جا تا ہے،اس کے بعد پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’رسالۃ العالمیۃ الدکتوراۃ‘‘ لکھنا ہوتا ہے جس کی مدت کم از کم تین سال ہوتی ہے، تقریباً تمام کلیات کے دراسات علیا کا یہی طریقئہ کار ہوتا ہے۔

شبرا مصر کے معھد القراء ات میں دو سال عام تجوید کے بارے میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، پھر تین سال عالیہ اور تین سال کے تخصص کا مرحلہ طے کرنا ہوتا ہے، اس طرح یہ آٹھ سال کا تجوید و قراء ت کا کورس ہے، اس کے علاوہ کلیۃ القرآن الکریم طنطا میں(بی اے ) چار سال، دراسات علیا (ایم اے ) چار سال اور(پی ایچ ڈی ) یعنی ڈاکٹریٹ تین سال کروایا جاتا ہے-کتب خانہ جامعہ الازہر ایک عظیم کتب خانہ ہے جو مسلمانوں کے لیے اور پوری دنیا کے لیے علم کا ڈھیروں خزانہ محفوظ کیے ہوئے ہے۔س کی لائبریری کو صرف دار الكتب والوثائق القومية کے لیے مصر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ الازہر مطبوعات کے تحفظ اور ان کی آن لائن ("الازہر آن لائن پراجیکٹ") کو شائع کرنے کے لیے تاکہ آخرکار لائبریری کے پورے نایاب مخطوطات کے مجموعہ تک آن لائن رسائی شائع کی جاسکے، جس میں تقریباً سات لاکھ صفحات پر مشتمل مواد شامل ہے

ہفتہ، 24 جنوری، 2026

پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے

  

سال 2005 میں پریڈی کوارٹرز میں کوارٹر نمبر 32 پر مقدمہ نمبر 56/2005 درج ہوا۔ یہ وہی کوارٹر ہے جہاں گل پلازہ قائم ہے۔ اس مقدمے میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق چیف کنٹرولر مرحوم بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر سمیت کئی افسران اور نجی فریقین کو بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے اس وقت گل محمد خانانی نامی شخص کو پریڈی کوارٹرز(گل پلازہ) کا مالک قرار دیا تھا۔کراچی کے علاقے صدر، پریڈی کوارٹرز میں واقع گل پلازہ ماضی میں تعمیر اور غیر قانونی منظوریوں، بلڈنگ کنٹرول کی بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کے ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا رہا ہے جبکہ حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے میں کئی لوگوں کی جانوں کا  نقصان  آپ کے سامنے ہے۔ اس پلازہ کی کہانی آج سے کوئی 15 سال قبل ایک کیس کے تناظر میں خوب سمجھ آسکتی ہے مذکورہ کیس کا آغاز سن 2005 میں ہوا جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران اور نجی فریقین کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 56/2005 کے تحت قائم ہوا جس کا تعلق پلاٹ نمبر PR-I/32، پریڈی کوارٹرز سے تھا۔ یہ وہی پلاٹ ہے جہاں بعد میں گل پلازہ تعمیر ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ درآمدی اشیا کا ایک بڑا تجارتی مرکز بن گیا۔ استغاثہ کے مطابق پلاٹ میں جو جگہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص تھی اسے غیرقانونی طور پر دکانوں اور تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا تھا جس سے شہری قوانین اور بلڈنگ ریگولیشنز کی صریح خلاف ورزی ہوئی تھی


۔اس مقدمے میں گل محمد خانانی کو گل پلازہ کے مالک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ایسی منظوری حاصل کی جو سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی دفعہ 5-C کے خلاف تھی۔ یوں گل محمد خانانی اس غیرقانونی تعمیر کے براہ راست فائدہ اٹھانے والے فریق قرار پائے۔5 جنوری 2008 کو خصوصی اینٹی کرپشن جج کراچی سید گل منیر شاہ نے اس مقدمے میں سابق چیف کنٹرولر کے بی سی اے بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر، دیگر افسران اور دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ گل محمد خانانی پر بھی فرد جرم عائد کی۔ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان پر تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت متعدد سنگین دفعات لگائی گئیں جن میں کرپشن، جعلسازی اور دھوکہ دہی شامل تھیں۔2008 کے دوران یہ مقدمہ مختلف سماعتوں اور التوا کا شکار رہا۔ عدالت میں ملزمان کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں تاہم کیس بدستور زیر سماعت رہا اور استغاثہ کی جانب سے موقف برقرار رکھا گیا کہ سرکاری افسران نے نجی فائدے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی       بالآخر اپریل 2010 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب حکومت سندھ نے فوجداری ضابطہ کارروائی کی دفعہ 494 کے تحت یہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست دائر کی۔ 


عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سابق کے بی سی اے چیف سمیت تمام ملزمان بشمول گل محمد خانانی کو الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مقدمہ کسی عدالتی ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچے بغیر حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ختم ہوا۔سابق کے بی سی اے چیف بریگیڈیئر ریٹائرڈ اے ایس ناصر سال 2024 جنوری کو گھر میں گر کر زخمی ہوئے اور کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے جبکہ حالیہ چند رپورٹس کے مطابق گل محمد خانانی سے متعلق بھی ابہام پایا جا رہا ہے کہ آیا وہ اس پلازہ کے مالک ہیں یا نہیں؟ بتایا جا رہا ہے کہ اس پلازہ کے مالک کا اصل نام بھی درست نہیں ہے تاہم ماضی میں گل محمد خانانی ہی مالک کے طور پر اس کیس میں نامزد کیے گئے تھے۔ ماضی کا یہ کیس اور اس پر کیا گیا فیصلہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کمزور نظام اور احتساب کے سوالات کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ یوں سرکاری اداروں کی کمزوریوں سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس قدر یہ نظام کھوکھلا چلا آرہا ہے۔ 31 اکتوبر 2004 کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ایک ٹیم سولجر بازار میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کرنے پہنچی تھی۔ یہ ٹیم فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع غیرقانونی تعمیرات گرانے کے لیے پہنچی تھی۔ یہ کارروائی سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر کی جا رہی تھی تاہم پولیس نے اس پوری ٹیم کو ہی حراست میں لے لیا۔


 اطلاع ملنے پر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جن کی مداخلت کے بعد کے بی سی اے کے اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔حالیہ کیس میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور ان واقعات کی کڑیاں ملائیں تو بہت کچھ کلئیر ہوجاتا ہے۔ یہ تمام واقعات میڈیا پر بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ کی عمارت اصل میں 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ ابتدائی تعمیر کے بعد 1998 میں اس میں اضافی منزلیں بنائی گئیں اور 14 اپریل 2003 کو مالک نے کمپلیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کیا تھا۔ نقشے کے مطابق اس میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی لیکن حقیقت میں وہاں 1021 سے زائد دکانیں (تقریباً 1200) بن گئی تھیں اور کچھ دکانیں تو باہر نکلنے کے راستوں پر بھی تعمیر ہو چکی تھیں جس نے آگ کے دوران لوگوں کی انخلا کو مزید مشکل بنایا جبکہ بعض رپورٹس میں آتا ہے کہ پارکنگ اور بیسمنٹ میں اضافی سامان بھی رکھا جاتا رہا ہے۔ دعویٰ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔ یوں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور جانوں کے ضیاع سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جب قانون پر عملدرآمد کرنے والے ادارے خود کمزور، باہمی کشمکش کا شکار اور سیاسی و انتظامی مداخلتوں کے تابع ہوں تو غیرقانونی تعمیرات سانحات کی بنیادیں بن جاتی ہیں 

ادیب  یوسف زئ  کی یہ  تحریر میں نے  اپنی فیس بک سے لی ہے

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر