منگل، 23 دسمبر، 2025

عظیم الشان رومن سلطنت جب رو بہ زوال ہوئ


سلطنت روما میں  اس عہد کا سب سے بڑا تھیٹر تعمیر کیا گیا جسے2007ء میں دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔روم میں کولوزیم، جو دنیا کی سب سے مشہور اور حیرت انگیز تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے، رومی سلطنت کی طاقت کی علامت ہے اور اٹلی کے قدیم ترین ڈھانچے میں سے ایک ہے۔ یہ عظیم ایمفی تھیٹر، جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے، قدیم روم میں گلیڈی ایٹر کی لڑائیوں، تاریخی شوز اور شاندار تقریبات کا مقام رہا ہے۔ غیر معمولی فن تعمیر اور تاریخی اتار چڑھاؤ سے لے کر ان کہانیوں تک جو تاریخی پتھر کی دیواروں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔ کولوسیم کی تعمیر غالباً نیرو کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھی کیونکہ اس میں نیرو کا ایک دیوہیکل مجسمہ نصب تھا، اسی لیے یہ   کے نام سے معروف ہو گیا ورنہ اس کا اصل نام فلیوین ایمفی تھیٹر تھا۔یہاں گلیڈیٹر کے نام سے باقاعدہ تربیت یافتہ غلاموں کو حکمرانوں اور شہریوں کی تفریح  طبع کے لیے شیروں سے لڑایا جاتا اور ان کے بے بسی سے مرنے کا تماشا دیکھا جاتا۔ ان تماشوں سے یہاں بیک وقت 50 ہزار تماشائی لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہالی ووڈ کی فلم گلیڈیٹر میں اسی انسانیت سوز کھیل کو فوکس کیا گیا۔


برطانیہ کے قدیم قبرستان سے ملنے والے انسانی ڈھانچے پر شیر کے  دانتوں کے کاٹنے کے نشانات ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رومن دور میں  انسانوں کو شیروں سے لڑوایا جاتا تھا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق قدیم رومن دور کی تاریخ میں انسانوں کو جنگلی جانوروں سے لڑوائے جانے کے قصے ملتے ہیں جنہیں اس وقت کی تحریروں اور فن پاروں کا موضوع بھی بنایا جاتا رہا ہے،   برطانیہ کے قدیم شہر یارک کے ایک قبرستان میں انسانی باقیات ملی ہیں جو اس حوالے سے واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں۔یارک شہر سے ملنے والے ایک انسانی ڈھانچے کے نچلے حصے پر شیر یا کسی وحشی جانور کے دانتوں کے کاٹنے کے واضح نشانات موجود ہیں۔آئر لینڈ کی مائینوتھ یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجسٹ پروفیسر ٹم تھامسن نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ شیروں کے ساتھ انسانوں کو لڑوایا جاتا تھا، جب یارک سے ملے ایک انسانی ڈھانچے کا فارنزک تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انسانی ڈھانچے پر پائے گئے دانتوں کے نشانات کسی بڑے جانور غالباً شیر کے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملنے والے اس انسانی ڈھانچے پر دانتوں کے نشان کے علاوہ چوٹوں کے نشانات بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی بڑے گوشت خور جانور کی جانب سے لگائے گئے تھے۔


اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں رومن دور میں یہاں خطرناک جانوروں اور انسانوں کی لڑائیاں کرائی جاتی تھیں۔واضح رہے کہ ان خونی کھیلوں میں حصہ لینے والے رومن جنگجوؤں کو گلیڈی ایٹرز کہا جاتا ہےاسی طرح معروف فلم بین حر BENHUR یروشلم میں 70ء یہودی بغاوت کے پس منظر میں بنی ہے جسکے مرکزی کردار ایک یہودی کو رومی اپنا غلام بنا کر روم لے آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلی صدی عیسوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے والے یہی رومی تھے۔رومی سلطنت پرعیسائیت کا غلبہ اور یونانی علمی ورثے کی تبا ہی تھی صدی عیسوی میں قسطنطین اعظم وہ پہلا رومی بادشاہ تھا جس نے عیسائیت قبول کی اور قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو روم کا دارالحکومت بنایا۔ بعد ازاں عیسائیت کو رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت دیدی گئی، یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے والوں کو پہلی مرتبہ غلبہ اور اقتدار حاصل ہوا۔ قسطنطین ہی کے زمانے سے چرچ نے سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے شرک پر مبنی قدیم رومی مذاہب کے ماننے والوں اور ان کی ثقافت کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے مندروں کو گرجاؤں میں تبدیل کیا، پاگان عبادت پر پابندی لگا دی گئی یہاں تک کہ ان کے علمی ورثہ تک کو تباہ کر دیا گیا۔


 اسی صورتحال کا نتیجہ صرف روم ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے فکری و شعوری زوال کے طور پر سامنے آیا۔ اسی کے بعد کیتھولک چرچ کے زیراثر جو کلچر پروان چڑھا اس میں علم کی تحصیل خانقاہوں یا کانوینٹس (Convents) تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔بعد ازاں رومی سلطنت مشرقی (صدر مقام قسطنطنیہ) اور مغربی حصوں (صدر مقام روم) میں بٹ گئی۔  عوام میں پسماندگی پھیل گئ اور بادشاہوں میں عیش پرستی بڑھ گئ زراعت تباہ ہوگئ اور کسان شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے لگےشہروں میں گندگی کے ڈھیر لگ  گئے  جس کی صفائ مفقود ہو گئ  مغربی رومی سلطنت جو کیتھولک چرچ کے زیراثر تھی، عظیم الشان رومن سلطنت کو زوال کیوں ہوا-اس زوال کی ابتداء رومن ایمپائر کی دو حصوں  میں تقسیم سے ہوئ مشرق اور مغرب روم -مغربی رومی سلطنت کا زوال  -رومیوں کی تاریخ کا ایک لمحہ ہے، جس میں مغربی رومی سلطنت کے   زوال کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور اپنی حکمرانی کو نافذ کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ان کے جوانوں کا بڑا حصہ راہبانہ راستے پر چل پڑااور آخر کار ان کا وسیع علاقہ منہدم اور منتشر ہو گیا۔ آج کے مورخین فوج کی غیر موثریت اور کمی، روم کی صحت اور آبادی میں کمی، معیشت کا عدم استحکام، شہنشاہوں کی نااہلی، اقتدار کے حصول پر اندرونی کشمکش، وقتاً فوقتاً مذہبی تبدیلیوں اور نا اہلی جیسے عوامل پر غور کرتے ہیں۔ اندرونی حکومت کی طاقت اور صلاحیت کے کھو جانے کی وجہ کے طور پر جس نے رومیوں کو مشق کرنے کی اجازت دی وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے زیر اقتدار علاقوں اور صوبوں پر موثر تھا۔ نیز رومی تہذیب کے اردگرد وحشیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور حملے  روم کے زوال اور تباہی کا سبب بنے۔ 

اتوار، 21 دسمبر، 2025

شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی '' تحریر ''

     

 

 ·شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی اس  تحریر نے میرے دل کو خون کے آنسو رلایا ہے 

ہجرت کے نئے ریکارڈ — پاکستان کی بلند ترین “مہاجر ت”

 پاکستان کے نام ایک نیا ریکارڈ درج ہو رہا ہے، مگر یہ وہ ریکارڈ نہیں جس پر فخر کیا جائے۔ ہمارے ہاں جس “ہجرت” کا چرچا ہو رہا ہے، وہ کسی تہوار کی خوشی نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر روز ہمارے دلوں میں درد، ذہنوں میں سوالوں اور مستقبل کے بارے میں خوف کا بیج بوتی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ رواں سال بھی لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے باہر جا رہے ہیں — وہ تعلیم یافتہ جوان، ہنر مند پیشہ ور، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، اور وہ مزدور بھی جو اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں تقریباً 2,894,645 پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں — تقریباً 2.9 ملین انسان جو پاکستان سے باہر مواقع کی تلاش میں نکلے ہیں۔  یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہماری قومی ناکامی، حکومتی عدم دلچسپی اور مستقبل کے بحران کی گواہ ہے۔پاکستان سے جانے والوں میں صرف غیر ہنرمند مزدور ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ہم اپنی قوم کی امید سمجھتے تھے — ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، اساتذہ، اور دیگر پیشہ ور۔ 

اور یہ اعداد و شمار ہی نہیں رُکتے۔ صرف سال 2024 میں ہی 727,381 پاکستانی قانونی ملازمتوں کے لیے بیرون ملک منتقل ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 862,625 تھی — جو خود ایک بے مثال ہجرتی لہر تھی۔ یہ کوئی افواہ نہیں، یہ حقیقت ہے۔پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین ہجرت دیکھ رہا ہے —اور ذمہ دار وہی ہیں جو روز ٹی وی پر “سب اچھا ہے” کے نعرے لگاتے ہیں۔تقریباً 29 لاکھ پاکستانی صرف پچھلے تین سال میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔

2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار اور یہ سب کوئی فارغ لوگ نہیں تھےیہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹس، اساتذہ، اور ہنر مند نوجوان تھے۔ یعنی قوم کا دماغ، قوم کا مستقبل،قوم کی امید — سب جہاز میں بیٹھ گیا۔پھر حیرت ہوتی ہے کہ ایئرپورٹس پر لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟

سوال جواب کیوں؟

غصہ کیوں؟ جناب!

جب کوئی لاکھوں روپے لگا کراس “منحوس نظام” سے جان بچا کر نکلنے کی کوشش کرے گاتو وہ مسکرائے گا نہیں — وہ چیخے گا۔ طنز یہ ہے کہ

ایک طرف لوگوں پر آف لوڈنگ،دوسری طرف باہر ممالک سے بین لگوانے کی کوششیں،اور تیسری طرف قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ دیکھیں! برین ڈرین رک گیا ہے”۔ واہ!لوگوں کو زبردستی قید کر کے کہا جا رہا ہے“دیکھو، سب خوشحال ہیں”۔ یہ ہجرت نہیں…یہ اعتماد کا قتل ہے۔یہ ریاست سے مایوسی ہے۔یہ اس نوجوان کا جنازہ ہےجو کبھی کہتا تھا:میں پاکستان میں کچھ کر کے دکھاؤں گا” آج وہی نوجوان کہتا ہے:

“بس کسی طرح یہاں سے نکل جاؤں” یاد رکھیں:قومیں سرحدیں بند کر کے نہیں بچتیں  قومیں امید دے کر بچتی ہیں۔ اور جہاں امید ختم ہو جائے

وہاں پاسپورٹ ہی سب سے قیمتی دستاویز بن جاتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لاکھوں روپے کی ڈگریوں،سخت محنت، اور شب و روز آسانی سے نہیں حاصل کیں — مگر اب وہ اپنے وطن کے دروازوں کی بجائے دوسرے ملکوں کے سفرناموں میں نظر آ رہے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کبھی پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا جاتا تھا، مگر آج وہ اپنی صلاحیتیں، خواب اور مستقبل سب کے سب لے کر جا رہے ہیں — بس ملک چھوڑنے کا ٹکٹ ہاتھ میں ہے۔اب اگر کوئی حیران ہوتا ہے کہ جب لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں تو لڑائی جھگڑا، سوال جواب اور غصہ کیوں؟ جواب بالکل سادہ ہے: یہ لوگ اپنے َمستقبل، عزت، اور تحفظ کے لیے سوال پوچھ رہے ہیں — سوال جو شاید برسوں سے جواب کے انتظار میں رہ گیا ہے۔ اور ساتھ ہی، ہمارے یہاں حکومتی بیان بازیاں جاری ہیں کہ “سب ٹھیک ہے، خوشحالی نظر آ رہی ہے، ترقی کی رفتار تیز ہے” — ایسے بیانات جیسے ایک مایوس نوجوان کو تسلی دے دیں گے کہ واقعی ساری مشکلات ختم ہو گئی ہیں! حقیقت میں، نعرے بڑھتے جا رہے ہیں مگر زندگیاں اور خواب باہر نکل رہے ہیں۔ جب پاکستان دنیا بھر میں لوگوں کی بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسیاں اپناتا ہے، وہی پالیسیاں لاکھوں شہریوں کو مجبوراً ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں — اور یہ کوئی “ہجرت” نہیں، یہ ایک خروج ہے، ایک بھاگ نکلنے کی داستان ہے جس کا اختتام نظر نہیں آتا۔ آخر میں ایک سچ — یہ ہجرت صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا بریہ اشارہ ہے کہ اگر پاکستان نے آج اپنی نوجوان قوت کو روکنے کے لیے پالیسیاں، مواقع اور حقیقی مستقبل نہ دیا تو کل وہ لوگ نہ صرف ملے گے بلکہ وہ نام بھی دنیا کے نقشے پر پاکستان سے زیادہ روشن ہوں گے۔ پاکستان نے بہت سی بار اعلانِ ترقی کیے، مگر اصل ترقی تب آئے گی جب یہ نوجوان وطن میں رہ کر ترقی کے سفر کا حصہ بنیں، نہ کہ دروازہ کھول کر باہر کی زمین پر قدم جمانے کو مجبور ہوں۔  

ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

پروفیسر سلیمہ ہاشمی پاکستان کے علمی افق پر درخشاں نام

 


ہاشمی پاکستان کے  فنون لطیفہ کے اسٹیج پر  ایک  درخشاں  نام ہے       -پروفیسر سلیمہ ہاشمی مقبول شاعر فیض احمد فیض کی سب سے بڑی بیٹی ہیں وہ 1942 میں ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئیں۔ والدہ کانام ایلس تھا جو کہ برطانوی نژادخاتون تھیں۔ابتدائی زندگی کا کچھ عرصہ شملہ اور کچھ عرصہ دہلی میں گزرا۔قیام پاکستان کے بعدفیض صاحب لاہور منتقل ہوئے اور سلیمہ ہاشمی نے ابتدائی تعلیم کا آغاز لاہور سے کیا ۔چونکہ شروع سے ہی آرٹ سے خاصا لگاؤ تھا اس لئے 1962میں نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فن مصوری میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔اور اسی مضمون میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے انگلینڈ چلی گئیں۔ دوران تعلیم پینٹنگ اور فوٹوگرافی سلیمہ ہاشمی کے پسندیدہ مضامین تھے 1965میں باتھ اکیڈمی آف آرٹ(کورشم) سے آرٹ ایجوکیشن میں  ڈپلومہ حاصل                           سلیمہ ہاشمی کی عمر آٹھ سال کے قریب تھی جب فیض احمد فیض کو سیاسی خیالات کی بنا پر قید کر دیا گیا۔ انھیں، جیل میں والد کی عیادت کی یاد آتی ہے۔ بعد ازاں ، جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی کے جابرانہ سالوں کے دوران، سلیمہ کے والد کو ضیا کی حکومت کی طرف سے درپیش پریشانی کے نتیجے میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ لہذا، سلیمہ ایک سیاسی چارج والے ماحول میں پلی بڑھیں۔ پینٹنگ ان کا شعبہ بن گیا         ۔سلیمہ  نے رہوڈے آئی لینڈاسکول آف ڈیزائن امریکا سے تعلیم بھی حاصل کی



۔وطن واپس لوٹیں اورنیشنل کالج آف آرٹس کے کھلے دروازوں کی جانب قدم بڑھائے اور درس وتدریس کے ایک طویل سفر کا آغاز کیا ۔نیشنل کالج آف آرٹس میں انھوں نے تقریبا 31برس درس وتدریس کے فرائض انجام دیے چار برس پرنسپل کے عہدے پر بھی رہیں۔ ۔ان کی بنائی گئی مصوری کو ملکی سطح کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سطح پر بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی انھوں نے دنیا بھر کے ممالک کا سفر کیا اور انگلینڈ ،یورپ،امریکا ،آسٹریلیا ،جاپان اور بھارت میں ان کی بنائی ہوئی پینٹنگ کے لئے نمائش کا انعقاد کیا گیا ۔وہ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کیوریٹر اور کنٹیمپریری آرٹ کی تاریخ نویس بھی ہیں۔پاکستانی خواتین پینٹرز کو بین الاقوامی طور پر متعارف کروانے کا سہرا بھی سلیمہ ہاشمی کو ہی جاتا ہےانھوں نے بیرون ملک پاکستانی مصوروں کا مختلف طریقوں سے پیش کیا جس کے باعث بیرون ملک میں پاکستانی خواتین سے متعلق لوگوں کے منفی خیالات بدلنے میں مدد ملی۔جس کے بعد پاکستانی مصوروں کا کام دنیا بھر میں نمائش کےلیے پیش کیا گیا ۔سلیمہ ہاشمی مصورہ ہونے کے ساتھ چار مستند کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔مصورہ ہونے کے ناتے انھوں نے بیشمار تبصرے اور تنقیدی مضامین بھی لکھے جوفن مصوری کے طالب علموں کے لئے ایک ’’قیمتی خزانے‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں


۔ انھوں نے پاکستانی خواتین مصوروں کی حیات اور فن کے بارے میں کتابیں لکھیں۔بھارت اور پاکستان کے ایام آزادی میں صرف ایک دن کا فرق ہے ایک ہی وقت شروع ہونے والے اس سفر میں پاکستان کی مصورات کئی مراحل سے گزری ہیں۔اس مشکل سفر کو معروف مصورہ سلیمہ ہاشمی نے اپنی کتاب Unvailing the Visible کا موضوع بنایا ۔پاکستان کی خاتون مصوروں کی زندگی اور کام پر کتاب لکھنے کی وجوہات سے متعلق سلیمہ ہاشمی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ’’ ضیاالحق کے زمانے میں جب پاکستان میں انسانی حقوق پامال کئے جارہے تھے اور خاص طور پر عورتیں اسکا نشانہ بن رہی تھیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ میں دیکھ رہی تھی کہ عورتوں کا فن اس کے باوجود پختہ ہوتا جارہا تھا۔ مجھے حیرت بھی ہوئی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خواتین خراب ترین حالات میں بھی اچھا کام کررہی ہیں؟ لہٰذامیں نے سوچا کہ یہ ایک کہانی ہے اور یقینًا کہی جانی چاہیے۔سلیمہ ہاشمی نےپاکستان ٹیلی ویژن کے مزاحیہ پروگرام ٹال مٹول اور سچ گپ میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شعیب ہاشمی کے ہمراہ اسٹیج ڈراموں میں کام کیا اور1965 میں شعیب ہاشمی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔ان کا ایک بیٹا یاسرحسنین اور ایک ہی بیٹی صدف ہاشمی ہے۔ سلیمہ ہاشمی کے گھر میں مہمان بننے والے افراد ان کی شخصیت کی طرح ان کے گھر سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے کیونکہ آرٹسٹ کی سوچ نہ صرف اس کی شخصیت اور اسٹائل میں نظر آتی ہے بلکہ اس کا پرتو گھر کی سجاوٹ اور رہن سہن سے بھی اجاگر ہوتا ہے۔اور سلیمہ ہاشمی کا گھر ان کی شخصیت کی طرح آرٹسٹک ہے۔قدیم طرز تعمیر،قدیم اور علاقائی ستکاریاںاور فرنیچر ان کے گھر کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہیں


۔14 اگست 1998ء کو حکومت پاکستان نے ان کی قلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ۔آرٹ اینڈ ایجوکیشن کے لئے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا 2011میں’’وویمن آف انسپریشن ایوارڈ ،،کے لئے بھی منتخب کی گئیں 2013میں ایک مختصر دورانیے کے لیے پنجاب کی نگراں کابینہ میں بھی شامل رہیںسلیمہ ہاشمی کی عمر آٹھ سال کے قریب تھی جب فیض احمد فیض کو سیاسی خیالات کی بنا پر قید کر دیا گیا۔ انھیں، جیل میں والد کی عیادت کی یاد آتی ہے۔ بعد ازاں ، جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی کے جابرانہ سالوں کے دوران، سلیمہ کے والد کو ضیا کی حکومت کی طرف سے درپیش پریشانی کے نتیجے میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ لہذا، سلیمہ ایک سیاسی چارج والے ماحول میں پلی بڑھیں۔سلیمہ ہاشمی نے 2001 میں " انویلنگ دا ویزیبل: لائیوز اینڈ ورکس آف ویمن آرٹسٹس آف پاکستان " کے عنوان سے ایک تنقیدی طور پر سراہی جانے والی کتاب بھی تصنیف کی۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ذریعہ 2006 میں ، ہاشمی نے ہندوستانی آرٹ مورخ یشودھرا ڈالمیا کے ساتھ ایک کتاب "میموری، میٹافر، میوٹیشن: معاصر آرٹ آف ہندوستان اور پاکستان" کے ساتھ مشترکہ تصنیف کی۔ ان کا تازہ ترین کام، اپنے شوہر شعیب ہاشمی کے کیے گئے فیض کی شاعری کے انگریزی ترجمے کی اشاعت کے سلسلے میں ہے۔پینٹنگ اسلیمہ ہاشمی نے 2001 میں " انویلنگ دا ویزیبل: لائیوز اینڈ ورکس آف ویمن آرٹسٹس آف پاکستان " کے عنوان سے ایک تنقیدی طور پر سراہی جانے والی کتاب بھی تصنیف کی۔

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

پشاور کا تاریخی سیٹھی ہاؤس معماروں کے زوق تعمیر کا اظہار

 

 پشاور کا تاریخی محلہ سیٹھیاں اور سیٹھی ہاؤس جسے دیکھ کر اس کے معماروں کا زوق تعمیر عروج پر نظر آتا ہے - اس بے نظیر محلے کی آباد کاری  اس طرح  ہوئ  کہ پشاور کے محلہ سیٹھیاں میں قیامِ پاکستان سے قبل ایک امیرترین کاروباری خاندان اس خطے میں آ کر آباد ہوا، جس نے ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان پُل کا کام کیا۔ لاہوری دروازہ اور گھنٹہ گھر کے وسط میں واقع اس محلہ کی عمارتیں تہذیبی و تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ محلہ کے تمام مکانات دو اور تین منزلہ ہیں، جن کی تعمیر بخارا کے طرزِ تعمیر کے مطابق کی گئی ہے۔ ان رہائشی عمارتوں کی تعمیر کے لیے مختلف ریاستوں کے ماہر کاریگروں کی خدمات حاصل کی گئیں جبکہ ان کی آرائش کے لیے سامان بھی وسط ایشیائی ریاستوں سے منگوایا گیا۔ ان مکانات کی تعمیر میں کیا گیا لکڑی کا کام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کہیں لکڑی پر بیل بوٹے کندہ ہیں، کہیں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑ کر دروازوں اور چوکھٹوں کی سجاوٹ کی گئی ہے جبکہ جالیاں بھی نہایت نفیس ہیں۔ باہر سے نظر آنے والی بالکونیاں بھی لکڑی سے بنائی گئی ہیں۔ ان گھروں کے مرکزی دروازے، چھت پر لگے شہتیروں، روشن دان، پنجالیوں، دیواروں میں لگی الماریوں، چار پائیوں کے پایوں، باورچی خانہ میں جالی کی بنی ہوئی الماریوں اور چینی خانے کے فریموں سمیت ہر چیز کو تراشنے میں بڑی مہارت اور کمال فن کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔



ان مکانات کی تعمیر میں ’وزیری اینٹ‘بہ کثرت استعمال کی گئی جو کہ 3انچ چوڑی، 6انچ لمبی اور ایک سے ڈیڑھ انچ موٹی ہوتی ہے۔ گزشتہ ادوار میں نفاست لانے کے لیے اس اینٹ کا استعمال کیا جاتا تھا، جبھی تو ان مکانات کی شان و شوکت آج تک قائم ہے۔ مکانات میں داخلے کے ساتھ ہی کشادہ صحن بنے ہوئے ہیں، جہاں درمیان میں فوارہ لگا ہوا ہے۔ اس کے ارد گرد کمرے بنے ہوئے ہیں، جن کی دیواروں پر کاشی گری کے نمونے موجود ہیں۔ صحن میں کھلنے والی لکڑی کی کھڑکیوں کے شیشے رنگ برنگے ہیں۔ ان مکانات کی ڈیزائننگ اس طرح کی گئی ہے کہ یہ سردی میں گرم اور گرمی میں ٹھنڈے اور ہوا دار ہیں، اس خطے کے موسم کے اعتبار سے یہ بہترین تعمیرات ہیں۔ مرکزی کمرے یا مہمان خانہ کی آرائش کے لیے چینی خانے بھی بنائے گئے ہیں، جن میں وسطی ایشیا اور روس سے لائے گئے انتہائی نفیس اور مہنگے برتن (گردنر) سجائے جاتے تھے۔ محلہ سیٹھیاں میں تعمیر کیے گئے مکانات اس خاندان کے عمدہ ذوقِ تعمیر کی گواہی دیتے ہیں۔ اگر ان کی تزئین نو کرکے مناسب دیکھ بھال کا انتظام کیا جائے تو اس ثقافتی ورثہ کو دیکھنے کہیں زیادہ تعداد میں سیاح آئیں گے۔محلہ سیٹھیاں میں    صدر دروازے سے داخلے کے بعد صحن کے بیچوں بیچ فوارہ نظر آتا ہے۔ اس میں بارہ کمرے، ایک ہال، تختِ سلیمانی، چمنی خانہ اور تین تہ خانے ہیں۔ محلے کے دیگر مکانات کی طرح اس میں بھی زیادہ تر لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ کمروں کے دروازوں پر دیدہ زیب لکڑی کندہ ہےجبکہ چھتوں پر لکڑی سے نفیس، رنگ برنگی اور خوبصورت اشکال بنی ہوئی ہیں۔ سیٹھی ہاؤس کی تعمیر میں آرائشی شیشوں کا کافی استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے میں یورپ میں تیار ہونے والے ایک سے زائد شیشے لگائے گئے ہیں



سیٹھی ہاؤس-محلہ سیٹھیاں میں جداگانہ حیثیت رکھنے والے سیٹھی ہاؤس کے انوکھے طرزِ تعمیر میں جابجا امارت نظر آتی ہے۔ صدر دروازے سے داخلے کے بعد صحن کے بیچوں بیچ فوارہ نظر آتا ہے۔ اس میں بارہ کمرے، ایک ہال، تختِ سلیمانی، چمنی خانہ اور تین تہ خانے ہیں۔ محلے کے دیگر مکانات کی طرح اس میں بھی زیادہ تر لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ کمروں کے دروازوں پر دیدہ زیب لکڑی کندہ ہےجبکہ چھتوں پر لکڑی سے نفیس، رنگ برنگی اور خوبصورت اشکال بنی ہوئی ہیں۔ سیٹھی ہاؤس کی تعمیر میں آرائشی شیشوں کا کافی استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے میں یورپ میں تیار ہونے والے ایک سے زائد شیشے لگائے گئے ہیں۔ کمروں میں محراب بنے ہوئے ہیں جن کےاندر چراغ رکھنے کے لیے ترتیب سے چھوٹے چھوٹے محراب جوڑئے گئے ہیں۔ ہر محراب کے اندر آئینہ بنوایا گیا ہے جس پر گلدستہ اور پھول بنے ہوئے ہیں۔ آئینہ لگانے کا مقصد پورے کمرے میں چراغ کی روشنی کو پھیلانا تھا۔ آگ جلانے کیلئے کمروں کے درمیان چمنی خانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی باورچی خانہ موجود ہے، جس کے اندر کھانا کھانے کیلئے بالکونی نما ایک جگہ بنائی گئی ہے۔اگرچہ برتنوں کے بارے میں براہ راست معلومات نہیں ہیں، لیکن سیٹھی ہاؤس کی مجموعی شان و شوکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کٹلری بھی بہت اعلیٰ، نفیس اور ڈیزائن والی ہوگی، جو ان کے دولت مندانہ اور ذوق پر مبنی طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہے 


 غسل خانوں میں روشنی کے حصول کیلئےروشندان کی جگہ آئینے لگائے گئے ہیں جن سے سورج کی کرنیں منعکس ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوار کے ساتھ پانی کی ایک ٹینکی بنوائی گئی، جس کے پتھروں سے بنے پائپ کے ذریعہ پانی استعمال کیا جاتا تھا۔اس کے ہال کی الماریوں اور درو دیوار پر سونے کا کام کیا گیا ہے۔ سیٹھی ہاؤس کے تہہ خانوں کی سیڑھیاں سرخ اینٹوں سے بنی ہیں۔ پہلے تہہ خانے میں بینک ہوا کرتا تھا جہاں سیٹھی خاندان کے پیسے جمع تھے۔ اس میں لکڑی کی بڑی الماریاں موجود تھیں۔ اس کے ساتھ دو اور کمرے بھی تھے جہاں بینک کے عہدیدار مالی امور کی دیکھ بھال پر مامور تھے۔ سیٹھی ہاؤس میں پانی کی ترسیل کا جدید نظام موجود ہے۔ آخری تہہ خانہ میں ایک کنواں ہے، جو اُوپر کی طرف جاتا ہے اور ہر منزل پر کنویں سے پانی حاصل کرنے کیلئے پنگھٹ بنایا گیا ہے۔ اس کی چھت پر لکڑی سے بنے بڑے چبوترے کو ’تختِ سلیمانی‘کہا جاتا ہے، جہاں بیٹھ کر خاندان کی عورتیں دھوپ سینکا کرتی تھیں۔ اس قدیم مکان کے درودیواراور لکڑیوں پر بنے دلکش نقش و نگار سنہرے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں

بابا بلھے شاہ کی شاعری شرح عشق اور شرع کی مالا

 


بلھے شاہ کا اصل نام عبد اللہ شاہ ہے۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 3 مارچ 1680ء (1091ھ) میں مغلیہ سلطنت کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہو ئے۔ کچھ عرصہ یہاں رہنے کے بعد قصور کے قریب پانڈومیں منتقل ہو گئے۔ان کے والد سخی شاہ محمد درویش مسجد کے امام تھے اور مدرسے میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔ بلّہے شاہ نے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد قصور جا کر قرآن، حدیث، فقہ اور منطق میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق، نحو، معانی، کنز قدوری،شرح وقایہ، سبقاء اور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہو ئے۔ ایک خاص سطح تک حصولِ علم کے بعد ان پر انکشاف ہوا کہ دنیا بھر کے علم کو حاصل کر کے بھی انسان کا دل مطمئن نہیں ہو سکتا۔ سکونِ قلب کے لیے صرف اللہ کا تصور ہی کافی ہے۔ اسے اپنی ایک کافی میں یوں بیان کیا۔علموں بس کر او یار۔اکّو الف تیرے درکار،،،وہ خود سیّد زادے تھے لیکن انھوں نے شاہ عنایت کے ہاتھ پر بیعت کی جو ذات کے آرائیں تھے اس طرح بلّہے شاہ نے ذات پات، فرقے اور عقیدے کے سب بندھن توڑ کر صلح کل کا راستہ اپنایا۔ 


مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ ان کا جنون آمیز رشتہ ان کی مابعد الطبیعیات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ پکے وحدت الوجودی تھے، اس لیے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لیے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت ان کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔ انھوں نے شاعری میں شرع اور عشق کو ایک لڑی میں پرو دیا اور عشق کو شرع کی معراج قرار دیاان کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جو شرع پر چل کر پیغام حسینیت کو فروغ دیتا ہے اور یزیدیت کو ہمیشہ کے لیے شکست دیتا ہے بلّہے شاہ نے پیار محبت کے پیغام کو فروغ دیا عربی فارسی میں عالم ہونے کے باوجود انھوں نے پنجابی کو ذریعۂ اظہار بنایا تاکہ عوام سے رابطے میں آسکیں۔ ۔زندگی-بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کانمایاں ترین مظہر ہیں۔ ان کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتب فکر سے تھا۔ ان کی ذہنی نشو و نما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے ان کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔


ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لیے ان کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔ بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔شاعری اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں ” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماؤں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لیے اس کا گہرا اثر ان کے افکار پر بھی پڑا۔ ان کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی اور عالم گیر محبت کا جو درس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔


انتقال

بلھے شاہ کا انتقال بعمر 77 سال 22 اگست 1757ء میں قصور میں ہوا اور یہیں دفن ہوئے۔ان کے مزار پر آج تک عقیدت مند ہر سال ان کی صوفیانہ شاعری گا کر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ تاریخِ وصال کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔بقول تذکرہ اولیائے پاکستان ،1181ھ ہے۔آپ کا مزار مبارک " قصور" ریلوے روڈ پر زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔آپ کاعرس ہرسال شمسی ماہ بھا دوں میں جو چاند نظر آئے اس کی 11،12 تاریخ کو قصور میں منعقد ہوتا  ہے میں ملکی اور غیر ملکی عقیدت مند ہزاروں کی تعداد میں شرکت کر تے ہیں -اس تقریب سعید میں شہر میں ہر طرف گہما گہمی  نظر آتی ہے اور ہر طرف عید کا سماں ہو تا ہے عر س مبارک پر ملک بھر اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کا قصوریوں کی جانب سے جگہ جگہ استقبال کیا جاتا ہے۔ زائرین کیلئے پانی،دودھ کی سبیلوں کے ساتھ ساتھ لنگر کا وسیع انتظام کیا جاتا ہے دور دراز اور بیرون ممالک سے آنے والے زائرین کی رہائش کے انتظامات بھی کئے جاتے ہیں ہے ۔



جمعرات، 18 دسمبر، 2025

اوورسیز میں پاکستانی گداگرایک صوبے میں منظم مافیا

 

    آج ہی یہ تحریر انٹرنیٹ سے ملی ہے غور سے پڑھئے

سعودی عرب نے پاکستانی بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر سخت اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں: بڑے پیمانے پر ملک بدری: سال 2025 میں اب تک 24,000 سے زائد پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ (ملک بدر) کیا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی بھکاریوں کی تعداد 56,000 تک پہنچ گئی ہے۔ویزہ پالیسی میں تبدیلی: فروری 2025 سے سعودی حکومت نے پاکستان سمیت 14 ممالک کے لیے ملٹی پل انٹری وزٹ ویزے معطل کر دیے ہیں اور اب صرف 30 دن کا سنگل انٹری ویزہ جاری کیا جا رہا ہے تاکہ ویزے کے غلط استعمال اور غیر قانونی قیام کو روکا جا سکے۔پاکستان میں سخت کارروائی: حکومتِ پاکستان نے بھکاریوں کی وجہ سے ملک کی بدنامی روکنے کے لیے ان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔     2025 ایف آئی اے نے  اب تک 51,000 افراد کو مشکوک سفری دستاویزات یا بھیک مانگنے کے شبے میں ایئرپورٹس سے آف لوڈ کیا ہے۔


 اس کے علاوہ بھکاریوں کے گروہ چلانے والوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔عمرہ ویزے کا غلط استعمال: حکام کے مطابق بہت سے پیشہ ور بھکاری عمرہ ویزہ حاصل کر کے وہاں جاتے ہیں اور مقررہ مدت کے بعد واپس نہیں آتے،۔ کچھ عرب ممالک اور عراق میں گرفتار کیے جانے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ حرم کے اندر زیادہ تر جیب کترے بھی پاکستانی ہوتے ہیں۔پیشہ ور بھکاری عمرے یا وزٹ ویزا پر جاتے ہیں-، اسلام آباد میں مقیم سفیر ہمیں کہتے ہیں کہ آپ عادی مجرم ہمارے پاس بھیجتے ہیں جس سے ہماری جیلیں بھر گئی ہیں۔ یہ انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ ہے۔ بھکاری زیادہ تر عمرے یا وزٹ ویزے پر جاتے ہیں اور زیارات کے مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔ ہمارے کئی افراد اس لیے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں کہ وہ وہاں جاکر بھکاری بن جاتے ہیں۔"پاکستانی زائرین پر اب عراق میں بھی نظر رکھی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ افراد وہاں بھی گداگری کا پیشہ اپنا لیتے ہیں۔



  اب عراق نے بھی پاکستانی زائرین پر کافی سختی کر دی ہے، جس کا سبب پاکستانیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں ہیں، ”عراق میں معاوضہ ڈالر کی شکل میں ملتا ہے اس لیے کچھ لوگ زائرین کے روپ میں وہاں کمائی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اربعین کے دنوں میں بھیک مانگتے ہیں اور بعد میں وہیں چھپ کر مزدوری کرنے لگتے ہیں۔ جیسے ہی پکڑے جائیں تو ڈی پورٹ کر دیے جاتے ہیں۔‘‘عراقی قوانین میں بھکاریوں پر مالی جرمانہ اور ایک سے چھ ماہ تک کی قید کی سزا ہے۔ سید ہادی حسن کے مطابق یہ افسوسناک ہے لیکن بعض پاکستانی شہری ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جو باقی کمیونٹی کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے،''اب جب تک زائرین کے قافلے میں شامل تمام افراد واپسی پر ساتھ نہ ہوں عراقی حکام پلٹنے نہیں دیتے، چاہے کئی کئی دن سرحد پر انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔"عراق سے شائع ہونے والے آن لائن نیوز پیپر عراقی نیوز نے 2018ء میں دو سو پاکستانی بھکاریوں کی گرفتاری کی خبر دی تھی۔متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار دی نیشنل میں2017ء کے دوران ایک رپورٹ 'عمان اور یمن میں رمضان کے دوران پاکستانی بھکاریوں کے جھرمٹ‘ کے نام سے پبلش ہوئی۔اس کے مطابق، ”رمضان کے مہینے میں کچھ پاکستانی گوادر کے راستے عمان اور یمن پہنچ کر بھیک مانگتے ہیں۔ یہ گداگر مساجد کے باہر ہی نہیں بلکہ در در جا کر بھی یہ کام کرتے ہیں۔"



اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر  کہتے ہیں، ''بہت معمولی تعداد یہ شرمناک حرکت کرتی ہے مگر بطور پاکستانی بدنامی ہم سب کی ہوتی ہے۔"وہ کہتے ہیں، ”ہر سال لاکھوں پاکستانی محنت مزدوری کرنے ملک سے باہر جاتے ہیں ان میں کتنے افراد بھیک مانگتے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ چند سو جو مجموعی تعداد کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔ بعض اوقات میڈیا نان ایشو کو ایشو بنا دیتا ہے۔"وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس سے ملک کی ساکھ مجروح ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں جو واقعی پڑھنے کے لیے، زیارات کے لیے یا مزدوری کے لیے ورک ویزا پر جا رہے ہوتے ہیں۔لیکن دیلھا جاے تو ایک مسئلہ ہمارے ملکی معاشی حالات بھی ہیں جہاں ہماری بہت سے فیکٹریاں بند ہو چکی ہیی۔کاروبار چل نہیں رہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی انویسٹمنٹ اس وقت ملک میں نہیں آرہی ہے جسکی وجہ سے بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے اور ہر سال ان بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں مزیر اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کی  اتنی بڑی تعداد کو مثبت طریقے سے ملکی ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔ورنہ یہ ایک چلتا پھرتا اٹامک بمب ہیں۔جنکو بہت سے غلط سرگرمیوں میں ملوث لوگ چند پیسوں کا لالچ دے کر اپنی طرف مائل کر سکتے ہیں۔حکومتی سطح پر ایک سنجیدہ سوچ کا ہونا بہت ضروری ہے۔طلبہ کو ڈگریوں کی بجاے ٹیکنیکل تعلیم کی طرف لے کر جانا ہو گا۔سکلڈ ورکرز کی پوری دنیا میں مانگ ہوتی ہے۔اور کم از کم سکلڈ لوگ عزت سے پیسے کماتے ہیں اور ملکی عزت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔زرا سوچئے

منگل، 16 دسمبر، 2025

اللہ کی یونیورسٹی سے ڈگری ہولڈر انجینئر پرندہ ننھا بیا

  

  

ٍکیا آ پ جانتے ہیں کہ بیا جیسا ننھا پرندہ اپنی زات میں آرکیٹکٹ بھی ہے سول انجینئر بھی ہے اور انتہائ سگھڑ بھی ہے اس کے گھونسلے میں ایک کمرے میں اس کے بچوں کا  جھولا بھی ہوتا ہے- بئے ہمیشہ مشرق کی سمت گھونسلے بناتے ہیں اس کی وجہ یہ ہےکہ جنوب مغربی مون سون سے اس کا گھونسلہ محفوظ رہ سکے ۔ عموماً میل بیا ہی گھونسلہ بناتا ہے جو 18 دن کے اندر مکمل کرلیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  میل بیا  مکمل گھونسلہ نہیں بناتا ہے  بلکہ فیمیل بیا  پہلے اس گھونسلہ کی وذٹ  کرتی ہے اور دونوں جب ساتھ رہنے پر رضا مند ہوجاتے ہیں تب فیمیل بیا بھی گھونسلہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔ مادہ ‘اندرونی آرائش کرتی ہے ۔میل بیا  میٹھے سروں میں گانا گا کر فیمیل بیا کو لبھاتا ہے  ہے اور فیمیل بیا اس دھن پر لہک لہک کر میل بیا کے ساتھ گھونسلے کو بناتی جاتی ہے۔’’میل بیا ‘ ایک سے زائد چڑیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ پرندہ حالات کے اعتبار سے مادہ کو رجھانے کے لئے نیا گھونسلہ بنانے کے بجائے کسی پرانے گھونسلے پر توجہ دیتا ہے اور اس کو نئے انداز سے سجاتا ہے۔اسی لئے ہمیں ایک ہی درخت پر نئے پرانے ، مکمل ادھورے گھونسلے دکھائی دیتے ہیں


چاول، گھاس پھوس یا چھوٹے موٹے کیڑوں مکوڑوں وغیرہ پر زندگی گذارتا ہے ۔یہ سماجی پرندہ ہے جو عام طور پر مل جل کر زندگی گذارنا پسند کرتا ہے۔یعنی یہ  ہوتا ہے۔اسی لئے یہ اپنے گھونسلے بھی کالونی کی شکل میں بناتا ہے۔اس کی آواز میں زیادہ سریلا پن نہیں ہوتا ، اس کی آواز چٹ، چٹ جیسی ہوتی ہے۔یہ مزاج کے اعتبار سے نفیس پرندہ کیونکہ ان کو زمین پر اتر کر مٹی میں نہانا پسند نہیں ہوتا ۔اس پرندے کی شہرت کی وجہ اس کے گھونسلے ہیں،یہ گھونسلے کے درختوں یا ٹیلیفون کے تاروں یا درختوں پر بنائے جاتے ہیں یہ گھونسلے الٹی بوٹل جیسی ساخت یا  شکل کے ہوتے ہیں اس شکل کو’’ معوجہ ‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں درمیانی حصہ درخت سے زمین کی سمت نیچے لٹکا رہتا ہے اس گول حصے کا درمیانی علاقہ رہائشی ہوتا ہے اور اسی حصے کے اوپری جانب لمبی ٹیوب نما حصہ لگا رہتا ہے جس کے ذریعہ چڑیا گھونسلے کے اندرداخل ہوتی ہے۔اس پرندے کا ’’نر‘‘ گھونسلوں کو بناتا ہے ، ان گھونسلے بنانے کے لئے یہ چڑیا عام طور پر چاول کے لمبے پتوں  کے دھاگوں، گھاس پھوس کے تنکوں وغیرہ کو استعمال کرتی ہے،یہ دھاگے جیسی ساختیں عام طور پر 20 تا 30 سنٹی میٹر لمبی ہوتی ہیں۔ایک گھونسلے کو بنانے کے لئے اس چڑیا کواس مقام کے زائد از 500چکر کرنے پڑتے ہیں جہاں سے وہ گھونسلہ بننے کے لئے خام مال حاصل کرتی ہے۔


 نیا گھونسلہ بنانے کے لئےچڑیا پہلے پتوں کو کاٹتی ہے اور پھر اس کی درمیانی ورید کو علیحدہ کرتی ہے جس کو وہ سوکھنے سے قبل استعمال کرتی ہے کیونکہ سوکھے پتے کی وریدیں حسب منشا استعمال نہیں کیں جاسکتیں اسی لئے گھونسلہ بنانے کا عمل ان پتوں کی وریدوں کے سوکھنے سے قبل انجام پاتا ہے۔کبھی کبھار ان نسیجی دھاگوں کو نرم اور مضبوط بنانے کے لئے یہ چڑیا انہیں اپنی چونچ میں لے کر اونچا ہواؤں میں اڑتی ہے، عام طور پرایک گھونسلیمیں زائد از 3500نسیجی دھاگے ہوتے ہیں جن کی لمبائی 5 سنٹی میٹر سے 50 سنٹی میٹر تک ہو سکتی ہے ۔ گھونسلے کی ابتدا وہ دروازے سے کرتی ہے جس کو گول انداز میں بناتی ہے۔ ان کے گھونسلے اکثر اوقات ایسے درختوں کی شاخوں پر بنائے جاتے ہیں جو پانی کے اوپر پھیلے رہتے ہیں ۔ یہ چڑیا اپنا گھونسلہ بنانے کے لئے مسلسل گرہیں ڈالتی جاتی ہے اور ایک مخصوص پروگرام اور سونچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کو بناتی جاتی ہے۔اس کی گرہ ڈالنے کا انداز مکمل اور تعجب خیز ہوتا ہے کہ اس قدر مکمل گرہیں انسان بھی بآسانی نہیں ڈال سکتا ۔ درخت کی شاخ پرجھولتے ہوئے ان گھونسلوں کونیچے گرنے سے روکنے کے لئے اختیار کی جانے والی تدابیر،


ایک کے بعد دیگرے منصوبہ بند طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت، گھونسلے کو مخصوص شکل دینے کے لئے درمیانی دائروی حجم میں اضافہ کرنا ، گھونسلے کی دیواروں کو حسب ضرورت موٹا یا باریک کرنا اور گھونسلے کی مجموعی ساخت میں مضبوطی پیدا کرنے کی کوشش کرنا، ۔ایک طرف تو یہ نسیجی دھاگوں کو پیروں سے تھامے رہتی ہے اور دوسری طرف اپنی چونچ کی مدد سے ان نسیجی دھاگوں سے گھونسلے کی ساخت بنتی رہتی ہے۔کہیں بھی اس کے عمل سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ یہ کام پہلی مرتبہ انجام دے رہی ہے۔ کبھی کبھار یہ چڑیا گیلی مٹی بھی اپنے گھونسلے میں لگاتی ہے اور انہیں مضبوطی بخشتی ہے۔صرف یہی خصوصیت انسان کو اچھنبے میں نہیں ڈالتی بلکہ اس چڑیا کا درخت پر گھونسلہ بنانے کے لئے جگہ کا انتخاب بھی انسان کو حیران کردیتا ہے ۔ یہاں اس بات کا اظہار نا مناسب نہ ہوگا کہ کی بعض انواع پودوں کی نرم شاخوں میں اپنے لعاب  کو شامل کرکے خام مال تیار کرتی ہیں جو گھونسلے کو نہ صرف مضبوطی عطا کرتا ہے بلکہ گھونسلے کو واٹر پروف بھی بناتا ہے، زرا سوچئے  یہ تمام  سمجھ بوجھ اس ننھی سی جان کو کس نے عطا کی ہے

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر