سلطنت روما میں اس عہد کا سب سے بڑا تھیٹر تعمیر کیا گیا جسے2007ء میں دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔روم میں کولوزیم، جو دنیا کی سب سے مشہور اور حیرت انگیز تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے، رومی سلطنت کی طاقت کی علامت ہے اور اٹلی کے قدیم ترین ڈھانچے میں سے ایک ہے۔ یہ عظیم ایمفی تھیٹر، جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے، قدیم روم میں گلیڈی ایٹر کی لڑائیوں، تاریخی شوز اور شاندار تقریبات کا مقام رہا ہے۔ غیر معمولی فن تعمیر اور تاریخی اتار چڑھاؤ سے لے کر ان کہانیوں تک جو تاریخی پتھر کی دیواروں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔ کولوسیم کی تعمیر غالباً نیرو کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھی کیونکہ اس میں نیرو کا ایک دیوہیکل مجسمہ نصب تھا، اسی لیے یہ کے نام سے معروف ہو گیا ورنہ اس کا اصل نام فلیوین ایمفی تھیٹر تھا۔یہاں گلیڈیٹر کے نام سے باقاعدہ تربیت یافتہ غلاموں کو حکمرانوں اور شہریوں کی تفریح طبع کے لیے شیروں سے لڑایا جاتا اور ان کے بے بسی سے مرنے کا تماشا دیکھا جاتا۔ ان تماشوں سے یہاں بیک وقت 50 ہزار تماشائی لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہالی ووڈ کی فلم گلیڈیٹر میں اسی انسانیت سوز کھیل کو فوکس کیا گیا۔
برطانیہ کے قدیم قبرستان سے ملنے والے انسانی ڈھانچے پر شیر کے دانتوں کے کاٹنے کے نشانات ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رومن دور میں انسانوں کو شیروں سے لڑوایا جاتا تھا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق قدیم رومن دور کی تاریخ میں انسانوں کو جنگلی جانوروں سے لڑوائے جانے کے قصے ملتے ہیں جنہیں اس وقت کی تحریروں اور فن پاروں کا موضوع بھی بنایا جاتا رہا ہے، برطانیہ کے قدیم شہر یارک کے ایک قبرستان میں انسانی باقیات ملی ہیں جو اس حوالے سے واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں۔یارک شہر سے ملنے والے ایک انسانی ڈھانچے کے نچلے حصے پر شیر یا کسی وحشی جانور کے دانتوں کے کاٹنے کے واضح نشانات موجود ہیں۔آئر لینڈ کی مائینوتھ یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجسٹ پروفیسر ٹم تھامسن نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ شیروں کے ساتھ انسانوں کو لڑوایا جاتا تھا، جب یارک سے ملے ایک انسانی ڈھانچے کا فارنزک تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انسانی ڈھانچے پر پائے گئے دانتوں کے نشانات کسی بڑے جانور غالباً شیر کے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملنے والے اس انسانی ڈھانچے پر دانتوں کے نشان کے علاوہ چوٹوں کے نشانات بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی بڑے گوشت خور جانور کی جانب سے لگائے گئے تھے۔
اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں رومن دور میں یہاں خطرناک جانوروں اور انسانوں کی لڑائیاں کرائی جاتی تھیں۔واضح رہے کہ ان خونی کھیلوں میں حصہ لینے والے رومن جنگجوؤں کو گلیڈی ایٹرز کہا جاتا ہےاسی طرح معروف فلم بین حر BENHUR یروشلم میں 70ء یہودی بغاوت کے پس منظر میں بنی ہے جسکے مرکزی کردار ایک یہودی کو رومی اپنا غلام بنا کر روم لے آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلی صدی عیسوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے والے یہی رومی تھے۔رومی سلطنت پرعیسائیت کا غلبہ اور یونانی علمی ورثے کی تبا ہی تھی صدی عیسوی میں قسطنطین اعظم وہ پہلا رومی بادشاہ تھا جس نے عیسائیت قبول کی اور قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو روم کا دارالحکومت بنایا۔ بعد ازاں عیسائیت کو رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت دیدی گئی، یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے والوں کو پہلی مرتبہ غلبہ اور اقتدار حاصل ہوا۔ قسطنطین ہی کے زمانے سے چرچ نے سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے شرک پر مبنی قدیم رومی مذاہب کے ماننے والوں اور ان کی ثقافت کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے مندروں کو گرجاؤں میں تبدیل کیا، پاگان عبادت پر پابندی لگا دی گئی یہاں تک کہ ان کے علمی ورثہ تک کو تباہ کر دیا گیا۔
اسی صورتحال کا نتیجہ صرف روم ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے فکری و شعوری زوال کے طور پر سامنے آیا۔ اسی کے بعد کیتھولک چرچ کے زیراثر جو کلچر پروان چڑھا اس میں علم کی تحصیل خانقاہوں یا کانوینٹس (Convents) تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔بعد ازاں رومی سلطنت مشرقی (صدر مقام قسطنطنیہ) اور مغربی حصوں (صدر مقام روم) میں بٹ گئی۔ عوام میں پسماندگی پھیل گئ اور بادشاہوں میں عیش پرستی بڑھ گئ زراعت تباہ ہوگئ اور کسان شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے لگےشہروں میں گندگی کے ڈھیر لگ گئے جس کی صفائ مفقود ہو گئ مغربی رومی سلطنت جو کیتھولک چرچ کے زیراثر تھی، عظیم الشان رومن سلطنت کو زوال کیوں ہوا-اس زوال کی ابتداء رومن ایمپائر کی دو حصوں میں تقسیم سے ہوئ مشرق اور مغرب روم -مغربی رومی سلطنت کا زوال -رومیوں کی تاریخ کا ایک لمحہ ہے، جس میں مغربی رومی سلطنت کے زوال کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور اپنی حکمرانی کو نافذ کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ان کے جوانوں کا بڑا حصہ راہبانہ راستے پر چل پڑااور آخر کار ان کا وسیع علاقہ منہدم اور منتشر ہو گیا۔ آج کے مورخین فوج کی غیر موثریت اور کمی، روم کی صحت اور آبادی میں کمی، معیشت کا عدم استحکام، شہنشاہوں کی نااہلی، اقتدار کے حصول پر اندرونی کشمکش، وقتاً فوقتاً مذہبی تبدیلیوں اور نا اہلی جیسے عوامل پر غور کرتے ہیں۔ اندرونی حکومت کی طاقت اور صلاحیت کے کھو جانے کی وجہ کے طور پر جس نے رومیوں کو مشق کرنے کی اجازت دی وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے زیر اقتدار علاقوں اور صوبوں پر موثر تھا۔ نیز رومی تہذیب کے اردگرد وحشیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور حملے روم کے زوال اور تباہی کا سبب بنے۔