Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
منگل، 16 دسمبر، 2025
اللہ کی یونیورسٹی سے ڈگری ہولڈر انجینئر پرندہ ننھا بیا
پیر، 15 دسمبر، 2025
پشاور کی مشہور اور قدیم ترین مسجد ’مہابت خان مسجد
مسجد مہابت خان، مغلیہ عہد حکومت کی ایک قیمتی یاد گار ہے اس سنہرے دور میں جہاں مضبوط قلعے اور فلک بوس عمارتیں تیار ہوئیں وہاں بے شمار عالیشان مسجدیں بھی تعمیر کی گئیں۔ مسجد مہابت خان، ایسی ہی شاندار مساجد میں سے ایک ہے جو مغلیہ دور حکومت میں پشاور کے حاکم مہابت خان نے تعمیر کروائی تھی چنانچہ یہ اسی کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ مسجد پشاور شہر کے عین وسط میں واقع ہے اس کی کرسی بہت اونچی ہے اندر داخل ہونے کے لیے تین شاندار دروازے ہیں جن پر چڑھنے کے لیے تینوں طرف زینے لگے ہوئے ہیں مغل سلاطین نے دنیا کےجن جن ملکوں میں اپنے قدم جمائے وہاں'وہاں بڑے بڑے محلات،باغات، قلعے، دروازے، مساجد ومقبرے وغیرہ تعمیر کرائے لیکن مساجد پر بالخصوص بہت دیدہ ریزی سے کام کیا - مسجد مہابت خان بھی اسی دور کی ایک خوبصورت مسجد بھی ہے جو پشاورکے قدیم تہذیب و تمدن اور تاریخی حیثیت کے حامل شہر میں قلعہ بالا حصار سے 50فٹ کے فاصلے پر اندرون شہر واقع ہے۔شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر کردہ 17ویں صدی کے مغل دور کے فنِ تعمیر کا ایک حسین شاہکار ہے- یہ مسجد 1670ء میں مغلیہ دورِ حکومت میں کابل کے گورنر،مہابت خان نے تعمیر کروائ اور اسی کے نام سے منسوب کی گئ ۔
پشاور کے قدیمی گنجان آباد علاقے میں تعمیر شدہ یہ مسجد 30ہزار اسکوئر فٹ رقبے پر پشاور میں قدیم فصیل بند شہر میں بنائ گئ ۔یہ نا صرف ایک مغل شاہکاربلکہ ماہ مقدس میں نمازیوں کی توجہ کامرکز نگاہ بھی ہے -گل کاری اور عربی خطاطی کی آرائش سے مزین یہ مسجد غیر ملکی سیاحوں کو بھی متوجہ کرتی ہے-مسجد مہابت خان بالخصوص ماہِ رمضان کے دوران روحانیت کا ایک پررونق مرکز بن جاتی ہے ۔ مقدس ماہِ رمضان میں ہمیشہ نمازیوں کی ایک بڑی تعداد میں آمد ہوتی ہے جب لوگ خصوصی نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں جس میں تقریباً چار ہفتوں کے دوران مکمل قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے-مہابت خان مسجد اپنے مغل طرزِ تعمیر کی بنا پر نمایاں مقام کی حامل ہے جس میں ایک کشادہ صحن، نیلے رنگ کے ٹائلوں والا وضو کا تالاب اور گل کاری کے ڈیزائن اور عربی خطاطی کے ساتھ وسیع آرائش ہے۔اپنے تاریخی جوہر کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ بحالی کی اہم کوششوں سے گذری ہے۔ آج یہ ایک پررونق عبادت گاہ اور ایک ثقافتی ورثے کا مقام ہے جو زائرین کو اپنی شاندار تعمیراتی تفصیلات کی طرف راغب کرتی ہے اور پشاور کی بھرپور ثقافت کے ثبوت کے طور پر کام کرتی ہے اس کے قدیم گنبد اور محراب دور دراز سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے تھے۔
مسجد مہابت خان 400 سے 450 سال پرانی ہے اور اس جگہ پر عرب اور دیگر ریاستوں سمیت بیرونی ممالک سے بہت زیادہ لوگ آتے ہیں۔"دوسرے ممالک سےآنے والے لوگ اس جگہ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک تاریخی مسجد ہے۔ وہ اس کی تاریخ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں ایسی جگہ بھی ہے۔ یہ ایک تاریخی مسجد ہے اور یہاں بڑی تعداد مین لوگ رمضان میں عبادت کرتے ہیں۔"پشاور کے ایک 31 سالہ رہائشی ضیاء الرحمٰن نے کہا کہ فصیل بند شہر میں آنے والے لوگ ہمیشہ اس مسجد میں نماز ادا کرنے کی خواہش کرتے تھے۔"رمضان میں وہ تمام لوگ جو ملحقہ سٹی بازار کی سیر کے لیے آتے ہیں ہمیشہ اپنی نماز پڑھنے مسجد میں آتے ہیں۔" ۔اس کا صحن 35 میٹر لمبا اور تقریباً 30 میٹر چوڑا ہے۔صحن کے درمیان میں ایک بہت بڑا حوض ہے۔ مسجد کی دیواروں اور گنبدوں کاشی کاری کے علاوہ نقش نگاری اور مرقع نگاری سے مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کے 34 میٹر بلند و بالا میناروں کے درمیان 6 چھوٹے چھوٹے مینار بھی ہیں۔اس کی چھت پر کل 7 گنبد تعمیر کیے گئے ہیں جن میں 3 گنبد کافی بڑے ہیں۔اس میں داخل ہونے کے لیے دو دروازے ہیں، ایک آساماہی روڈ پرجبکہ دوسرا اندرون شہرمیں کھلتا ہے۔
اتوار، 14 دسمبر، 2025
پاکستان کی مایہء ناز شخصیت حسن علی آفندی
حسن علی آفندی 14 اگست 1830 کو حیدرآباد سندھ کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ابھی بہت بچپن کا دور تھا کہ والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا اب ان کی پرورش ان کی والدہ اور بڑے بھائی نے کی۔ اپنے خاندان کی روایت کے مطابق، وہ قرآن پاک پڑھنے اور عربی اور فارسی سیکھنے کے لیے ایک مقامی مکتب میں داخل ہوئے۔ اس روایتی تعلیم کی تکمیل کے بعد انہیں نوشہرو کے ڈپٹی کلکٹر کے دفتر میں ملازمت مل گئی۔ وہاں اس کی اپنے ایک عیسائی ساتھی سے دوستی ہو گئی جس نے اسے انگریزی سیکھنے کی ترغیب دی۔اس وقت تک مسلمانوں کی اکثریت نے خود پر انگریزی زبان کو کسی بھی میڈیم میں استعمال کرنے کی پابندی تھی جبکہ حسن علی آفندی کا نقطہء نظر مختلف تھا وہ جانتے تھے کہ انگریزی میں ادب اور علم کا بے پناہ ذخیرہ ہے جسے مسلمانوں کی علمی اور مادی ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ لہذا، انہوں نے اپنے فرصت کے اوقات انگریزی سیکھنے میں صرف کیے اور اس میں مہارت حاصل کی۔ جیسے جیسے اسے انگریزی وقت گزرا ویسے 'ویسے انہیں انگریزی زبان کے مطالعہ کا بہت شوق ہو گیا، ۔یہ وہ وقت تھا جب زرائع نقل و حمل بہت محدود ہوا کرتے تھے، کیونکہ سڑکیں ابھی تک تیار نہیں ہوئی تھیں اور زمینی راستے غیر محفوظ تھے۔
اس وقت انگریزوں نے 'انڈس فلوٹیلا' ایک خاص قسم کی کشتیوں پر مبنی نقل و حمل کا نظام قائم کیا۔ کراچی سے ساٹھ میل شمال میں جھرک نامی دریائی بندرگاہ پر انڈس فلوٹیلا کشتیوں کا ہیڈ کوارٹر بنا یا گیا ۔ اس جگہ ایک بنیادی مستقل عملہ تھا جو اس وقت کسٹم اینڈ کلئرنس کے کا م کرتا تھا ۔یہاں حسن علی آفندی کو ایک جاب آفر کی گئ جس کو انہوں نے بخوشی قبول کر لیا ۔1860 کی دہائی کے وسط میں جب حسن علی کی عمر تقریباً پینتیس برس تھی تو اس کی ملاقات صوبہ سندھ کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جج مسٹر مڈلٹن سے ہوئی جسے ’’صدر کورٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاہم، جج نے رات بندرگاہ پر گزارنے اور اگلے دن دریا پار کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کے کھانے کے بعد جب سب فارغ ہو گئے تو اس نے حسن علی کو تیل کے چراغ کی مدھم روشنی میں انگریزی کی کتاب پڑھتے دیکھا۔ تعارف ختم ہونے کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ مختلف موضوعات پر حسن علی کی گرفت کے بارے میں جان کر جج کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ اسے یہ جان کر اور بھی حیرت ہوئی کہ وہ جس شخص سے بات کر رہا تھا وہ مسلمان تھا۔جج کو اپنی عدالت میں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو مقامی زبانیں جانتا ہو اور مسلم رسم و رواج سے بخوبی واقف ہو،
کیونکہ عدالت کو مقامی زبانوں میں مسلمانوں کی طرف سے دائر درخواستوں کے مندرجات کو سمجھنے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو عدالت کی معاونت کے لیے بالخصوص مسلمانوں سے متعلق معاملات میں مدد کرے لیکن ایسا شخص نہ مل سکا کیونکہ پورے صوبے میں اس کام کے لیے ایک بھی انگریز جاننے والا مسلمان دستیاب نہیں تھا۔ لیکن اب حسن علی میں اس نے اپنی ضرورت کے لیے ایک پرفیکٹ میچ ڈھونڈ لیا اور اسے فوری طور پر حسن علی کی موجودہ تنخواہ سے تقریباً دوگنی پر کراچی میں اپنی عدالت میں ملاقات کی پیشکش کی۔ انہوں نے یہ پیشکش قبول کر لی اور اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے کراچی منتقل ہو گئے۔جب انہوں نے مل کر کام کرنا شروع کیا تو حسن علی نے جج کو اپنی قانونی ذہانت اور قانون کے باریک نکات پر گرفت سے اس حد تک متاثر کیا کہ جج نے انہیں قانون کی رسمی اہلیت کے بغیر بھی قانون پر عمل کرنے کی خصوصی اجازت دے دی۔ یہ حسن علی کی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔یہ وہ وقت تھا جب پورے سندھ میں ان کے سوا ایک بھی مسلمان وکیل نہیں تھا۔
سندھ میں زیادہ تر وکلاء ہندو تھے جبکہ ان میں سے کچھ عیسائی اور زرتشتی تھے۔ ان حالات میں اس کے پاس کوئی حمایتی بنیاد نہیں تھی اور اسے اچھی طرح سے قائم وکلاء کے خلاف اپنی قابلیت کا ثبوت دینا تھا۔ لیکن، اس نے اسے ایک چیلنج کے طور پر لیا اور اپنی توانائی کا ہر قطرہ اپنے نئے پیشے کے لیے وقف کر دیا۔ اپنی ملازمت کے تئیں ان کی دلچسپی اور لگن نے انہیں قانونی برادری میں عزت بخشی اور انہیں سندھ کے پبلک پراسیکیوٹر کے سب سے باوقار عہدے کی پیشکش کی گئی۔ ان کی تقرری کا امتیاز یہ تھا کہ وہ سندھ کے پہلے غیر یورپی وکیل تھے جو اس عہدے پر تعینات ہوئے۔ ایک اور امتیاز یہ تھا کہ وہ چودہ سال تک اس عہدے پر فائز رہے اور ایک ریکارڈ قائم کیا۔حسن علی نادر صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہیں فارسی، عربی، انگریزی، ترکی، لاطینی اور فرانسیسی جیسی غیر ملکی زبانوں کا کافی اچھا علم تھا۔ زندگی بھر وقت پر نمازیں ادا کرتے ۔ سندھ مدرسہ میں مساجد کی تعمیر کے بعد، حسنی نے وہاں ہر ہفتے جمعہ کی نماز باقاعدگی سے ادا کرنے کو اپنا شعار بنایا، یہ معمول اس نے اس دنیا سے رخصت ہونے تک برقرار رکھا۔نجی زندگی میں بھی حسن علی نے زندگی بھر مناسب معمولات کا مشاہدہ کیا۔ گرمی تھی یا سردی وہ صبح پانچ بجے اٹھتے تھے۔ غسل اور نماز کے بعد قرآن پاک پڑھتے تھے۔ اس کے بعد وہ صبح کی سیر کے لیے چلے جاتے نجی زندگی میں بھی حسن علی نے زندگی بھر مناسب معمولات کو پیش نظر رکھا
ہفتہ، 13 دسمبر، 2025
مورقدرت کی رعنائ کا عکاس پرندہ
مور ایک خوبصورت دلکش اور انتہائی چوکنا رہنے والا پرندہ ہے جو برما‘ جاوا‘ ہندو پاکستان اور مشرقی ایشیا کے ممالک میں پایا جاتا ہے اس کے پروں کی رنگینی دم کا پھیلاؤ اور رقص انتہائی جاذب نظر ہوتا ہے جب یہ اپنی دم کو جو ۵ ۵ انچ سے ۷۲ انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ پھیلا کر چکر کاٹتا ہےنظروں میں مختلف رنگوں کی دنیا آباد ہو جاتی ہے جس طرح خزاں میں درختوں کے پتے جھڑتے اور بہار میں اگتے ہیں ۔ اسی طرح اس کے پر خزاں میں جھڑجاتے ہیں اور بہارمیں دوبارہ اگ آتے ہیں ۔ بہار کا موسم اس کے حسن کے نکھار کا زمانہ ہوتا ہے۔ اسی موسم میں جوڑ کھاتا ہے مورنی تین سال کی عمر سے انڈے دینے لگتی ہے اور اس کی اوسط عمر پینتیس برس ہوتی ہے ایک سال میں کم و بیش بارہ انڈے دیتی اور ایک مہینہ تک انہیں سیتی ہے۔ مور اپنی دلکشی و خوبصورتی سمجھا جاتا ہے۔ یوں کہ جس رنگ میں انہیں ڈبو دیا گیا ہے اس کے علاوہ کسی اور رنگ کی ان میں آمیزش نہیں کی گئی اور بعض اس طرح رنگ میں ڈبوئے گئے ہیں کہ جس رنگ کا طوق انہیں پہنا دیا گیا ہے وہ اس رنگ سے نہیں ملتا جس سے خود رنگین ہیں ۔ ان سب پرندوں سے زائد عجیب الخلقت مور ہے کہ (اللہ نے) جس کے (اعضاء کو) موزونیت کے محکم ترین سانچے میں ڈھالا ہے اور اس کے رنگوں کو ایک حسین ترتیب سے مرتب کیا ہے۔
یہ (حسن و توازن) ایسے پروں سے ہے کہ جن کی جڑوں کو (ایک دوسرے سے) جوڑ دیا ہے اور ایسی دم سے ہی جو دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے جب وہ اپنی مادہ کی طرف بڑھتا ہے تو اپنی لپٹی ہوئی دم کو پھیلا دیتا ہے اور اسے اس طرح اونچا لے جاتا ہے کہ وہ اس کے سر پر سایہ افگن ہوکر پھیل جاتی ہے۔ گویا وہ (مقام) دارین کیاس کشتی کا بادبان ہے جسے اس کا ملاح ادھر ادھر موڑ رہا ہو۔ وہ اس کے رنگوں پر اتراتا ہے اور اس کی جنبشوں کے ساتھ جھومنے لگتا ہے اور مرغوں کی طرح جفتی کھاتا ہے اور (اپنی مادہ کو) حاملہ کرنے کیلئے جوش و ہیجان میں بھرے ہوئے نروں کی طرح جوڑ کھاتا ہے۔ تم اگر بغور دیکھو گے) تو اس کے پروں کی درمیانی تیلیوں کو چاندی کی سلائیاں تصور کرو گے اوران پر جو عجیب و غریب ہالے بنے ہوئے ہیں اور سورج (کی شعاعوں ) کے مانند (جو پروبال) اگے ہوئے ہیں (انہیں زردی میں ) خالص سونا اور (سبزی میں ) زمرد کے ٹکڑے خیال کرو گے‘ اگر تم اسے زمین کی اگائی ہوئی چیزوں سے تشبیہہ دو گے تو یہ کہو گے کہ وہ ہر موسم بہار کے چنے ہوئے شگوفوں کا گلدستہ ہے
اور اگر کپڑوں سے تشبیہہ دو گے تو وہ منقش حلول یا خوشنما یمنی چادروں کے مانند ہے اور اگر زیوراتگ سے تشبیہہ دو گے تو وہ رنگ برنگ کے ان نگینوں کی طرح ہے جو مرصع بجواہر چاندی میں دائروں کی صورت میں پھیلا دئیے گئے ہوں وہ اس طرح چلتا ہے جس طرح کوئی ہشاش بشاش اور متکبر محو خرام ہوتا ہے اور اپنی دم اور پروبال کو غور سے دیکھتا ہے تو اپنے پیراہن کے حسن و جمال اور اپنے گلوبند کی رنگتوں کی وجہ سے قہقہہ لگا کر ہنستا ہے مگر جب اپنے پیروں پر نظر ڈالتا ہے تو اس طرح اونچی آواز سے روتا ہے کہ گویا اپنی فریاد کو ظاہر کر رہا ہے اور اپنے سچے درد (دل) کی گواہی دے رہا ہے۔ کیونکہ اس کے پیر خاکستری رنگ کے باریک اور پتلے ہوتے ہیں اور اس کی پنڈلی کے کنارے پرایک باریک سا کانٹا نمایاں ہوتا ہے اور اس کی (گردن پر) ایال کی جگہ سبز رنگ کے منقش پروں کا گچھا ہوتا ہے اور گردن کا پھیلاؤ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے صراحی (کی گردن) اور اس کے گڑنے کی جگہ سے لے کر وہاں تک کا حصہ کہ جہاں اس کا پیٹ ہے یمنی دسمہ کے رنگ کی طرح (گہرا سبز) ہے یا اس ریشم کی طرح ہے جو صیقل کئے ہوئے آئینہ پر پہنا دیا گیا ہو۔ گویا کہ وہ سیاہ رنگ کیاوڑھنی میں لپٹا ہوا ہے لیکن اس کی آب و تاب کی فراوانی اور چمک دمک کی بہتات سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ اس میں تروتازہ سبزی کی (الگ سے) آمیزش کر دی گئی ہے
اس کے کانوں کے شگاف سے ملی ہوئی بابونہ کے پھولوں جیسی ایک سفید چمکیلی لکیر ہوتی ہے۔ جو قلم کی باریک نوک کے مانند ہے وہ (لکیر) اپنی سفیدی کے ساتھ اس جگہ کی سیاہیوں میں جگمگاتی ہے۔ کم ہی ایسے رنگ ہوں گے جس نے سفید دھاری کا کچھ حصہ نہ لیا ہو اور وہ ان رنگوں پر اپنی آب و تاب کی زیادتی اپنے پیکر ریشمیں کی چمک دمک اور زیبائش کی وجہ سے چھائی ہوئی ہے۔ وہ ان بکھری ہوئی کلیوں کے مانند ہے کہ جنہیں نہ فصل بہار کی بارشوں نے پروان چڑھایا ہو اور نہ گرمیوں کے سورج نے پرورش کیا ہو۔ اس کے بال و پر لگاتار جھڑتے ہیں اور پھر پے درپے اگنے لگتے ہیں ۔جب اس کے پروں کے ریشوں میں سے کسی ریشے کو تم غور سے دیکھو گے تو وہ تمہیں کبھی گلاب کے پھولوں جیسی سرخی اور کبھی زمرد جیسی سبزی اور کبھی سونے جیسی زردی کی (جھلکیاں ) دکھائے گا
۔
الن فقیر کی سدابہار یادیں
پی ٹی وی پر فوک گلو کار الن فقیر نے آ کر اپنے ایک تارے کا سُر چھیڑا اتنے بڑے جیون ساگر میں تو نے پاکستان دیا ہو اللہ اور پورا پاکستان الن فقیر کا ہم نوا بن گیا -یہیں سے الن فقیر نے شہرت اور عزت کی اس سیڑھی پر قدم رکھا جس میں پیچھے پلٹ کر دیکھنا ناممکن ہو تھا-پھر وہ ملکوں ملکوں پاکستان کا چہرہ بن گئے-گلی گلی ان کی گائیکی کی دھوم مچ گئ سندھی زبان کے لوک فنکار الن فقیر صوبہ سندھ کے ایک چھوٹے سے علاقے جام شورو میں 1922ء میں پیدا ہوئے۔ الن فقیر نے صوفیانہ کلام گاکر ملک گیر شہرت حاصل کی۔، انہوں نے سندھی، اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں گائیکی کی۔ ان کی گائیکی کا ایک انوکھا انداز تھا جو انہیں دوسرے لوک فنکاروں سے منفرد کرتا ہے۔انہوں نے اپنی گائیکی کی بدولت کئی ایوارڈ حاصل کئے۔ان میں80 کی دھائی میں ملنے والا صدارتی ایوارڈ سرفہرست ہے۔ان کا انتقال 4 جولائی 2000ء کو ہوا مگروہ آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔الن فقیر کی گائیکی نے فلسفیانہ عشق الٰہی کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔انہوں نے روایتی لوک گائیکی کوایک نیا انداز بخشا۔الن فقیر نے شاہ عبد الطیف بھٹائی کی شاعری کو بھی اپنی آواز میں پیش کیا۔ ان کا گایا ہوا ایک گیت "تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا... اسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا۔۔" انہیں فن کی دنیا میں امر کرگیا ہے۔
لن فقیر 1932ء کو جامشورو، سندھ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام علی بخش تھا لیکن الن فقیر کے نام سے مشہور ہوئے۔ ریڈیو اور ٹیلی وژن پر یکساں مقبول تھے۔الن فقیر کو فنی دنیا میں متعارف کرانے کا سہرا سندھ کے ادیب، دانشور اور ماہرثقافت ممتاز مرزا کے سرجاتا ہے۔ الن فقیر نے سندھی، پنجابی، اردو، سرائیکی اور دوسری بہت سی زبانوں میں گانے اور صوفیانہ راگ گائے لیکن محمد علی شہکی کے ساتھ گایا جانا والا نغمہ تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا الن فقیر کی فنی شہرت میں اضافے کا باعث بنا۔اس کے علاوہ ان کا ایک ملی نغمہ اتنے بڑے جیون ساغر میں تو نے پاکستان دیا بھی بہت مشہورہوا۔ 1980ء میں انھیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ملا۔ سر پر اجرک کی پگڑی باندھے، گلے میں رنگ برنگے ہار لٹکائے یہ ہیں پنجاب کی تحصیل رحیم یار خان کے رہنے والے فقیر واحد بخش، جو سندھ کے مشہور صوفی گلوکار الن فقیر کا روپ دھار کر اپنے بیٹے کے ساتھ لوک ورثہ اسلام آباد میں اپنے فن کے جوہر دکھاتے ہیں۔الن فقیر سندھ کے شہر جامشورو سے تعلق رکھتے تھے، جنہوں نے سندھی، اردو، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں گائیکی کی۔فقیر واحد بخش نے ہو بہ ہو الن فقیر کا روپ دھار رکھا ہے۔
ہاں تک کے ان کی داڑھی مونچھوں اور بالوں کا انداز بھی الن فقیر جیسا ہی ہے اور وہ الن فقیر کے انداز میں ہی لاگ الاپتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں فقیر واحد بخش نے بتایا کہ ’الن فقیر سے میرا بہت لگاؤ تھا. انہیں جب جب سنتا تھا مزا آتا تھا. جب الن فقیر اس جہان سے چلے گئے تو میں نے ان کا روپ اختیار کیا اور جیسے میں ان ہی میں سما گیا۔‘فقیر واحد بخش کا تعلق پنجاب سے ہے لیکن وہ زیادہ تر وہی کلام گاتے ہیں جو الن فقیر سندھی زبان میں گاتے تھے۔ انہوں نے بتایا: ’سندھی کلچر (محکمہ ثقافت) والے کہتے ہیں کہ آپ کا شناختی کارڈ پنجاب کا ہے، پنجاب والے (ثقافت پنجاب) کہتے ہیں کہ آپ تو گاتے سندھی میں ہیں اور پروموٹ بھی اسی زبان کو کرتے ہیں۔ بات سچ بھی ہے میں اکثر سندھی میں ہی گاتا ہوں۔‘کوک سٹوڈیو کا گانا ’آئی آئی‘، جو وٹس ایپ کے ذریعے لکھا گیافقیر واحد بخش دو بار امریکہ اور پانچ بار انڈیا بھی جا چکے ہیں،جہاں انہوں نے صوفی فیسٹیولز میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔فقیر واحد بخش کہتے ہیں کہ ’فوک سنگر ملک کا اثاثہ ہیں۔‘اسلام آباد میں پرفارمنس کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ’لطیف سائیں (صوفی بزرگ و شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی) کی مہربانی سے ہمیں اسلام آباد میں پرفارمنس کا موقع ملا ۔
ہم یہاں پورے ملک کے لیے گاتے ہیں۔‘فقیر واحد بخش کے جواں سال بیٹے ساجد علی بھی ان کے ہمراہ گاتے اور جھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’مجھے والد کے ساتھ پرفارم کرکے مزا آتا ہے، والد کا اپنے استاد الن فقیر کے لیے پیار ہی اتنا ہے کہ ان کے گانوں پر ہم جھومے بغیر رہ نہیں پاتے۔‘موسیقی کے آلات ’یکتارو اور چپڑی‘ تو فقیر واحد بخش خود بناتے ہیں۔ وہ اور ان کے بیٹے ساجد علی اس فن کو نئی نسل میں منتقل کرنے کے لیے اپنے کئی شاگردوں کو صوفی گائیکی کی تربیت بھی دیتے ہیں۔فقیر واحد بخش صوفی شعرا شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، بابا بلھے شاہ اور دیگر شعرا کے کلام گاتے ہیں۔دونوں باپ بیٹا پرعزم ہیں کہ وہ صوفی ازم، صوفی شاعری اور پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے۔پاکستان میں حالیہ چند سالوں کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے گلوکاری کے میدان میں قسمت آزمائی کے واقعات میں قابل زکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز خاص طور پر یوٹیوب کی وجہ سے نئے گلوکاروں اور لوک فنکاروں کو حاصل ہونے والی وسیع پزیرائی اور ان کے مالی حالات میں آنے والی بہتری ہے۔اب سوشل میڈیا کے اس دور میں بیشتر لوک فنکار ایک ایسی خوشحال زندگی اور مقبولیت رکھتے ہیں، جس کا ماضی قریب میں تصور تک نہ تھا۔ گزشتہ نسلوں کے لوک گلوکاروں کی شہرت اور آمدن کا انحصار یوٹیوب وغیرہ کے برعکس شادی بیاہ کی محفلوں اور آڈیو کیسٹس پر ہوا کرتا تھا۔ آج کے لوک گلوکار اپنے ایک ہٹ گانے سے راتوں رات وہ شہرت اور دولت کما سکتے ہیں، جو ماضی میں فن کو تمام عمر دینے کے بعد بھی نصیب نہ ہوتی تھی۔اس کی ایک بہترین مثال صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے گلوکار ملکو کا گیت 'نک دا کوکا‘ ہے ۔ اس گیت کو صرف یوٹیوب پر چھ ماہ کے دوران چھ کروڑ سے زیادہ مرتبہ سنا گیا۔
جمعہ، 12 دسمبر، 2025
غربت کے اندھیروں سے کہکشاں کی روشنی تک کا سفراور باؤفاضل
باؤ فاضل کا جب بچپن کا زمانہ تھا اس وقت ان کے گھر میں غربت کے ڈیرے تھے غربت کے سائبان میں وہ صرف 6جماعتیں تعلیم حاصل کر سکے تھے 1960 ء کے لگ بھگ باؤ فاضل کے والد کا لاہو ر ریلوے اسٹیشن کے قریب معمولی سا ہوٹل تھا- وہ اپنے والد کے چھوٹے سے چائے کے ہوٹل میں مسافروں کے لئے چا ئے بناتے اور چائےکے گندے برتن بھی خود دھوتے تھے۔ باؤ کو یہ کام پسند نہ تھا۔خصوصاََ ان کو گاہکوں کے فضول قسم کے تبصرے سننا سخت نا پسند تھا۔ باؤ فاضل اپنا کوئی کام کرنا چاہتے تھے۔ ان دنوں فوٹو کھینچوانے کا بہت رواج تھا۔ چنانچہ آپ نے فوٹو گرافی کا کام کرنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے والد سے کچھ رقم ادھار لے کر ایک پرانا سا کیمرا خریدا اور اندرون شہر دو موریہ پل کے قریب فٹ پاتھ پر اپناکیمرا سیٹ کیا۔ یہ سارا دن فٹ پاتھ پر تصویریں کھینچتے اور ساری رات ہوٹل کے چھوٹے سے سٹور میں تصویریں دھوتے اور ان کے پرنٹ تیار کرتے۔ ان کا کیمرا پرا نا تھا جس کی وجہ سے بعض اوقات کوئی تصویر خراب ہو جاتی تو گاہک وہ تصویر ان کے منہ پر دے مارتا مگر باؤ نےحوصلہ نہ چھوڑا اور دن رات کام کرتے رہے۔ یہ کام ان کو پسند تھا اس لئے وہ ہر ناپسندیدہ بات کو نظر انداز کرتے گئے ۔ پانچ چھ سال کی سخت محنت کے بعد انھوں نے کچھ پیسے جمع کر لئے اور اسٹیشن کے قریب ایک چھوٹی سی دکان خرید لی۔ اس طرح اپنا سٹوڈیو فٹ پاتھ سے دکان میں منتقل کر لیا۔ اب وہیں تصویریں کھینچتے، وہیں دھوتے اور پرنٹ تیار کرتے۔انہی دنوں فوٹو کاپی مشین نئی نئی پاکستان میں آئی تھی۔
انھوں نے بھی ایک فوٹو کاپی مشین خرید لی اور سارا دن فوٹو کاپی کرتے۔ ان کے خیال میں جس دن انھوں نے فوٹو کاپی مشین خرید ی اسی دن سے ان کی قسمت بدل گئی۔ اب ان کی آمدن میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا اور جلد ہی ان کی آمدن دوگنا ہو گئی،پھر انھوں نے دکان کی دوسری منزل بھی تعمیر کروا لی۔ 1970 ء میں ان کے دو بیٹے بھی ان کے کاروبار میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے اپنے کام کو بڑھایا ۔ اب یہ کیمرے کی فلم تھوک میں خریدتے اور پرچون میں فروخت کرتے۔ ان سے ان کو اچھا منافع ہوتا۔1980ء میں انھوں نے کلر لیب بنائی جہاں رنگین فوٹو تیار ہوتے۔ اب ان کا کام اور بڑھ گیا۔ باؤ کے بیٹے بھی باپ کی طرح مواقع کی تلاش میں رہتے۔ اب انھوں نے کیمرے کی فلم باہر سے منگوانی شروع کی اور اسے پاکستان میں تھوک میں فروخت کرتے۔ یہ فلم اور پرنٹنگ پیپر ’’مٹسوبشی‘‘ والوں سے منگواتے تھے۔ فلم اور پرنٹنگ کاغذ کے بزنس میں انھیں خوب کمائی ہوئی۔ 1995 ء میں یہ کیمرے کی فلم اور پرنٹنگ کاغذ کے ہول سیلر بن گئے۔اب انھوں نے نسبت روڈ چوک کے پاس چیمبر لین روڈ پر پہلے ایک چھوٹی سی دکان خرید ی کچھ عرصہ بعد اس کے ساتھ والی دکان بھی خرید لی۔1998ء کے لگ بھگ نئے ڈیجیٹل کیمروں کی وجہ سے کیمرے کی فلم اور پرنٹنگ کے کاغذ کا بزنس کچھ کم ہوگا۔ انہی دنوں ان کا چھوٹا بیٹا لندن سے کر کے لوٹا تھا۔ وہ بھی والد کے بزنسمیں شامل ہو گیا۔ اسے کوئی نیاکام کرنے کا شوق تھا۔
چنانچہ انھوں نے پہلے انرجی سیور بلب اور پھر مٹرولا موبائل کا بزنس کیا۔ اس بزنس میں انھیں کوئی تجربہ نہ تھا جس کی وجہ سے انھیں کا فی نقصان اٹھانا پڑا۔باؤ فاضل کافی عرصہ سے’’مٹسو بشی‘‘ والوں کے ساتھ کیمرے کی فلموں اور پرنٹنگ کے کاغذ کا کاروبار کر رہے تھے۔ انھوں نے باؤ فاضل سے کہا کہ وہ پاکستان میں ان کی دوسری چیزیں بھی فروخت کریں۔ شروع میں یہ جھجکے مگر بعد ازاں ہامی بھر لی۔ چنانچہ ’’مٹسو بشی‘‘ والوں نے انھیں ان کے فروخت کرنے کو کہا۔ باؤ فاضل نے پانچ سو منگوائے اور معمولی منافع پر انکی فروخت کا اشتہار دیا۔ اس طرح یہ سارے پاکستان پہنچنے سے پہلے ہی فروختہ و گئے۔1998ء سے 2004 ء تک یہ’’مٹسو بشی‘‘ کے معمولی منافع پر فروخت کرتے رہے تا کہ وہ ایک بار کی مارکیٹ میں داخل ہو جائیں۔ پھر انھیں خود تیار کرنے کا خیال آیا۔ چنانچہ باؤ فاضل نے 2005 ء میں چوہنگ کے قریب 10 لاکھ روپے میں 32 کنال زمین خرید کر’’ مٹسوبشی‘‘ کے تعا ون سے ان کے AC اسمبل کرنے کا پہلا پلانٹ لگایا۔ 2007ء میں اورینٹ گروپ نے اپنی چیزیں بھی بنانا شروع کیں۔ اب یہ ’’مٹسو بشی‘‘ کے AC کے علاوہ اپنے)ORIENT( AC
‘ فریج‘ اوون اور واٹر ڈسچارجر وغیر ہ بنا رہے ہیں اورینٹ گروپ نے بہت تیزی سے ترقی کی تو ان کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ چنانچہ کوریا کی مشہور کمپنی Samsung والوں نے ان سے رابطہ کیا اور باؤ فاضل کے ساتھ مل کر کاروبار کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ چنانچہ 2009 ء سے باؤ فاضلSamsung والوں کے ٹی وی‘ فریج اور واشنگ مشین وغیرہ پاکستان میں فروخت کر رہے ہیں۔باؤ فاضل صرف پندرہ سال پہلے اپنے تین بیٹوں اور دو ملازمین کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اب ان کی کمپنی میں پانچ ہزار لوگ کام کر رہے ہیں۔ فٹ پاتھ سے کام شروع کر نے والا باؤ فاضل 30 سال کی محنت کے بعد اب ارب پتی بن گئے اور مصری شاہ کے چار مرلے کے مکان کے بجائے گلبرگ میں ساڑھے چھ کنال کے خوبصورت گھر میں شفٹ ہو گئے۔ ان کے خیال میں ان کی کامیابی کی وجہ اپنے رب پر بھر پور یقین، کام ، کام اور کام یعنی سخت محنت، کامیاب ہونے کی جستجو، نیک نیتی سے کام کرنا اور احساس کمتری کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینا ہے۔ باؤ فاضل پر ایسا وقت بھی آیا جب وہ تین تین دن بھوکے رہتے، کھانا نصیب نہ ہوتا مگر پھر بھی انھوں نے کوشش ترک نہ کی اور ثابت قدم رہے۔محمد فاضل انتقال کر گئے ہیں مگر ان کی اولا د پھل پھول رہی ہے۔آپ نے اورینٹ کا نام یقیناََ سنا ہو گا۔ یہ کمپنی ائر کنڈیشنر سے لے کر مائیکرو ویو تک گھریلو مشینری بنا تی ہے ۔ یہ کمپنی باؤ فاضل نام کے ایک ان پڑھ شخص نے بنائی اور انہوں نے اسے اللہ کے کرم اور شبانہ روز محنت سے پاکستان کے بڑے صنعتی گروپوں کی قطار میں لا کھڑا کیا۔آپ نے اورینٹ کا نام یقیناََ سنا ہو گا۔ یہ کمپنی ائر کنڈیشنر سے لے کر مائیکرو ویو تک گھریلو مشینری بنا تی ہے ۔یہ کمپنی باؤ فاضل نام کے ایک ان پڑھ شخص نے بنائی اور انہوں نے اسے اللہ کے کرم اور شبانہ روز محنت سے پاکستان کے بڑے صنعتی گروپوں کی قطار میں لا کھڑا کیا۔
//
جمعرات، 11 دسمبر، 2025
لاہورکی سینڑل جیل میں فیض احمد فیض کے قید کے دن
بھائی کی موت کے کچھ ہی عرصہ بعد عزیز دوست رشید جہاں کے ماسکو میں گزر جانے کی خبر ملی۔ ایلس کو خط میں لکھارشید کے ماسکو میں مرنے کی خبر کل پڑھی۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو شاید زارو قطار روتا لیکن اب تو رونے کو آنسو ہی باقی نہ رہے۔فیض کے دل پر جو بیت رہی تھی اس کا تخلیقی اظہار ان کی شاعری میں ہورہا تھا، ان کی کئی عمدہ نظمیں اسی زمانے میں لکھی گئیں جب وہ پسِ دیوار زنداں تھے۔ یہ زمانہ ذاتی حوالے سے عہد زیاں تھا لیکن تخلیقی اعتبار سے بہت بار آور رہا۔دونوں میاں بیوی جگ بیتی خطوط کی صورت رقم کر رہے تھے۔ فیض کے خطوط برسوں بعد انھی کے قلم سے ترجمہ ہو کر ’صلیبیں مرے دریچے میں‘ کے عنوان سے دنیا کےسامنے آ ئے۔ ایلس کے خطوط ’ڈیئر ہارٹ‘ کے نام سے انگریزی میں شائع ہوئے۔ ان کا اردو میں ترجمہ 'عزیز دلم' کے عنوان سے نیر رباب نے کیا۔ یہ خطوط ان کی زندگی کی ظاہری اور باطنی کیفیات کو سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔اس کے بارے میں میں فیض کے دوست شیر محمد حمید نے لکھا’فیض ایک لا ابالی، بے نیاز این و آں اور خود فراموش سا نوجوان تھا۔ ایلس نے اس کی زندگی میں ترتیب اور سنوار پیدا کر دی۔ اس کی بے قرار روح کو ایک حسین قالب میسر آ گیا۔
ایلس نے مغرب اور اس کی تہذیبی روایات کو خیر باد کہہ کر مشرق اور اس کی ثقافتی اقدار کو اپنا لیا۔ دیس کے ساتھ بھیس اور وطن کے ساتھ زبان قید خانے میں میں فیض کے دل پر جو بیت رہی تھی وہ تو ان کا دل ہی جانتا ہو گا لیکن چونکہ وہ کرب کے دور سے گزر رہے تھے ان کے قلم سے اس کا تخلیقی اظہار ان کی شاعری میں ہورہا تھا، ان کی کئی عمدہ نظمیں اسی زمانے میں لکھی گئیں جب وہ پسِ دیوار زنداں تھے۔ یہ زمانہ ذاتی حوالے سے عہد زیاں تھا لیکن تخلیقی اعتبار سے بہت بار آور رہا۔ دونوں میاں بیوی جگ بیتی اور ہڈ بیتی خطوط کی صورت رقم کر رہے تھے۔ فیض کے خطوط برسوں بعد انھی کے قلم سے ترجمہ ہو کر ’صلیبیں مرے دریچے میں‘ کے عنوان سے سامنے آ ئے۔ ایلس کے خطوط ’ڈیئر ہارٹ‘ کے نام سے انگریزی میں شائع ہوئے۔ ان کا اردو میں ترجمہ 'عزیز دلم' کے عنوان سے نیر رباب نے کیا۔ یہ خطوط ان کی زندگی کی ظاہری اور باطنی کیفیات کو سمجھنے میں بہت مدد دیتے ہیں۔’عزیز دلم‘ میں شامل آخری خط میں ایلس نے اپنے محبوب سے کہا’میری زندگی میں اور ہے کیا، تمھاری محبت، تمھارا انتظار اور تمھارے ساتھ مستقبل کے خواب۔ فیض صاحب کو حکومت وقت نے جب لاہور سینڑل جیل میں پابند سلاسل کر دیا تھا۔
وہ اُن دنوں علیل رہتے تھے۔ ایک روز اُن کے دانت میں سخت درد اُٹھا- جیل کے حکام نے اُنہیں پولیس کی حفاظت میں چیک اپ کرانے کے لیے دانتوں کے اسپتال بھیج دیا۔ ڈاکڑ صاحب اُن کے پرستاروں میں سے تھے لہٰذا اُنہوں نے روزانہ چیک اپ کے لیے بلانے کا طریقہ اختیار کیا تاکہ اس طرح جیل کے ماحول سے کچھ دیر کے لیے اُنہیں نَجات حاصل ہو جایا کرے- یوں روزانہ اُنہیں جیل کی گاڑی میں اسپتال لایا جاتا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ جیل والوں کے پاس گاڑی نہیں تھی- جیلر نے اُنہیں تانگے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس صورت میں انہیں ہتھکڑی پہنانا ضروری تھا۔ فیضؔ صاحب مان گئے- اس طرح وہ ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے تانگے کی پچھلی نشست پر بیٹھ گئے- پولیس کے سپاہی بندوق لیے اُن کے ساتھ تھے۔ اس حال میں وہ لاہور کے گلی کوچوں سے گزرے، انہوں نے تازہ ہوا کو محسوس کیا۔
بازاروں سے گزرتے ہوئے خوانچے والے، تانگے والے، بیل گاڑیاں سب بچھڑے ہوئے یاروں کی طرح اُن کے قریب سے گزرتے رہے- عجیب منظر تھا- وہ لاہور شہر کی جانی پہچانی سڑکوں سے گزرتے رہے- شہر اور اہلیانِ شہر یہ تماشا دیکھتے رہے- شاید کچھ لوگوں نے اُنہیں پہچان بھی لیا ہو- ارد گرد لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا جن میں نانبائیوں سے لیکر صحافیوں تک سبھی شامل تھے- اس طرح ایک جلوس کی شکل بن گئی- فیضؔ صاحب کہتے تھے میں نے زندگی میں ایسا دلکش جلوس نہیں دیکھا- اسی واقعہ سے متاثر ہو کر اُنہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ نظم لکھی
"آج بازار میں پابجولاں چلو۔"
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو
خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو
حاکم شہر بھی مجمع عام بھی
تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی
صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے
شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...