اتوار، 5 اکتوبر، 2025

تھر پار کر میں علم کی شمع روشن کرنے والی انیلا علی

 

   کوئی راز کی بات نہیں کہ ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا، پاکستان سے تعلیمی سرگرمیوں میں بہت آگے نکل چکے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کے حصول میں کرپشن، مہنگائی اور والدین کی اجازت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے-لیکن یہ سبھی مسائل بڑے شہروں میں ہیں۔ چھوٹے شہر اور قصبوں میں سرے سے تعلیمی ادارے ہی موجود نہیں۔ جہاں تعلیمی ادارے ہیں وہاں اساتذہ نہیں، عمارتیں نہیں، عمارتیں ہیں، تو فرنیچر نہیں۔ انیلا علی پاکستانی نژاد امریکی ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں تعلیمی میدان میں بہتری لانے کا عزم کیا، اور اس مقصد کی خاطر CalPak Education Services کا آغاز کیا۔ یہ ادارہ کیلیفورنیا سدرن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور پاکستان کے پسماندہ علاقوں، چھوٹے شہروں اور قصبوں میں تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ سندھ کے 12 ہزار سے زائد سکولوں میں اساتذہ ہی نہیں انیلا اور ان کی ٹیم تعلیمی اداروں میں موجود مسائل کی نشان دہی کرتی ہے


کیلیفورنیا سدرن یونیورسٹی کی ڈاکٹر گیوین فائن سٹون اس مسائل کے حل کے لیے جتنی رقم درکار ہو فراہم کرتی ہیں۔انیلا نے تھر پارکر کا رخ کیا اور وہاں تعلیمی اداروں، اسکولوں کی قلت کو شدت سے محسوس کیا۔ ڈاکٹر گیوین فائن سٹون کو ان حالات سے آگاہ کیا اور تھرپارکر میں اسکول کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر گیوین نے خیر مقدم کیا۔اس طرح اس کام کا آغاز ہوا۔ حال ہی میں     نے تیسرے سکول کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ ڈاکٹر گیوین اس موقعے پر پاکستان میں موجود تھیں۔ وہ پاکستان میں تعلیم کی کمی پر افسردہ ہیں اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم بھی۔ ڈاکٹر گیوین نہ صرف سکول بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے اساتذہ کی مدد سے پاکستان کے اساتذہ کو کچھ خاص کورس کروانے کا ارارے بھی رکھتی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میں پاکستان کے تعلیمی معیار یر یہاں کے اساتذہ کے پڑھانے کے طریقے کو بہتر کرنا چاہتی ہوں۔ ’


ہم نے اساتذہ کی باقاعدہ تربیت کا ارادہ کیا ہے۔ پہلے ہم صرف ان اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کریں گے، جو Calpak  نے بنائی ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی اور تعلیمی ادارہ ہم سے اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے رابطے کرے گا تو ہم یقیناً مدد کریں گے۔‘ڈاکٹر گیوین کا کہنا تھا کہ جب وہ تھرپارکر گئیں تو انہیں ایک حیرت انگیز مسرت نے گھیر لیا۔ وہاں لوگ بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، لیکن والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔ بچے علم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہنر سیکھنا چاہتے ہیں۔ زبان سیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اسکول میں پڑھنے والے بچوں کے والدین اور دیگر گھر والوں نے دعائیں دیں۔ تحفے تحائف دیے۔ مجھ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔‘ڈاکٹر گیوین کا کہنا ہے کہ ’جب تھرپارکر میں سکول قائم ہوا تو انیلا نے مجھے بتایا کہ ہم نے لڑکیوں کے لیے سکول قائم کیا ہے،


لیکن اب والدین کہتے ہیں کہ لڑکوں کے لیے بھی سکول قائم کیا جائے۔ یہ بات میرے لیے حیران کن تھی۔ میں سوچ سکتی ہوں کہ لڑکے، لڑکیوں کو دو الگ کمروں میں بیٹھا کر تعلیم دی جائے، لیکن ایک مکمل الگ سکول کا قیام، یہ بات بہت حیران کن اور عجیب لگی، لیکن میں ان بچوں کو تعلیم دلانے کے حق میں ہوں تو میں نے انیلا علی کی بات مان لی۔‘اچھی بات یہ ہے کہ Cal Pak کا کوئی مخصوص مشن نہیں، کوئی خاص ہدف نہیں۔ ڈاکٹر گیوین فائن سٹون بتاتی ہیں کہ ہم نے یہ نہیں سوچ رکھا کہ ایک ہی علاقے میں سو سکول قائم کر دیں اور سب کو بتاتے پھریں، بلکہ ہم ضرورت کے مطابق کام کریں گے۔ جہاں جتنی ضرورت ہو گی اتنے سکول قائم کریں گے اور وہاں اساتذہ کی تربیت کریں گے۔ڈاکٹر گیوین فائن سٹون، انیلا علی اور ان کی ٹیم ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انہوں نے دن رات ایک کر کے پاکستان کے ایک پس ماندہ علاقے میں تعلیم کا ایک چھوٹا سا دیا روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔تھرپارکر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد تشویشناک ہے.تھرسندھ 2021 کے سروے کے مطابق، 5 سے 16 سال کی عمر کے 2,13,613 بچے اسکول نہیں جاتے۔ یہ صورتحال بچوں کے مستقبل اور تعلیم کے حق کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔تعلیمی اصلاحات اور بچوں کو اسکول میں واپس لانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے ایک روشن مستقبل کے طرف قدم بڑھا سکیں۔

 

 

معصوم چہرے اور سادہ دل والے محمد شیرازسے ملئے

 


 یوٹیوب پر روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کر کے شہرت حاصل کرنے والے اس ننھے ستارے نے اپنی آمدنی کو وہ رخ دیا جس نے پورے گاؤں کی تقدیر بدل دی۔یہ شائد پچھلے برس کی بات ہے میں معمول کے مطابق کمپیوٹر پر کام کر رہی تھی  کہ اچانک  یوٹیوب اوپن کیا تو ایک چھوٹا خوبصورت بچہ ماشااللہ  اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ کھڑا تھا    اس  نٹ کھٹ بچے نے اپنی بہن سے پوچھا 'تمھاری  عمر کیا ہے بہن نے جواب دیا دوسو پچاس 'اور بہن کے جواب میں بچہ کی کھلکھلاتی ہوئ ہنسی کے ساتھ کچھ دیر بہن کے جواب میں ہنستا  چلا گیا اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ اس بچے کا نام محمد شیراز ہے ااور اس کی چھوی بہن کا نام  مسکان ہے گلگت  بلتستان کے ضلع اسکردو کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شیراز نے یوٹیوب پر اپنی روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت دنیا کے سامنے پیش کر کے بہت کم عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی گلگت بلتستان کے حسین وادی اسکردو سے تعلق رکھنے والے معصوم چہرے اور سادہ دل والے محمد شیراز نے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی ہونی چاہیے۔


 یوٹیوب پر روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کر کے شہرت حاصل کرنے والے اس ننھے ستارے نے اپنی آمدنی کو وہ رخ دیا جس نے پورے گاؤں کی تقدیر بدل دی۔محمد شیراز کے ولاگز ہر عمر کے ناظرین کو مسحور کر دیتے ہیں۔ ان کی معصومانہ باتیں اور قدرتی انداز دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لیتے ہیں۔مگر حال ہی میں شیراز نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے سب کو حیران بھی کیا اور متاثر بھی۔انسٹاگرام پر شیراز نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں سب سے پہلے انہوں نے گاؤں کے ایک پرانے اسکول کی افسوسناک حالت دکھائی۔ بچے زمین پر بیٹھنے پر مجبور تھے، کلاس رومز ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے اور سہولیات کا شدید فقدان تھا۔ پھر ویڈیو کا منظر بدلتا ہے اور وہی اسکول ایک شاندار عمارت میں تبدیل دکھائی دیتا ہے۔ جدید کلاس رومز، کھیل کے میدان اور جھولے اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ خواب اگر نیک نیت سے دیکھے جائیں تو حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔   شیراز نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا:"لوگ پوچھتے ہیں کہ سوشل میڈیا سے مجھے کیا ملا؟ تو میرا جواب ہے: ہم نے اپنے گاؤں کا خستہ حال اسکول ایک جدید تعلیمی ادارے میں بدل دیا۔”


شیراز نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں میڈیا پر کام کرنے والا ہر شخص یہ سوچ لے کہ اگر سچے دل سے محنت کی جائے تو کسی ایک گاؤں یا شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے، اور کامیابی کا اصل لطف تب ہے جب وہ دوسروں کے کام آئے۔گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شیراز نے یوٹیوب پر اپنی روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت دنیا کے سامنے پیش کر کے بہت کم عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔شیراز کے ولاگز ہر عمر کے افراد شوق سے دیکھتے ہیں اور ان کی معصومانہ گفتگو سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔اب ننھے ولاگر نے ایک اور ویڈیو شیئر کی ہے جس میں شیراز نے بتایا کہ انہوں نے گاؤں کے لوگوں کے لیے مفت ایمبولنس سروس کا آغاز کیا ہے تاکہ مجبور اور مستحق افراد کی بروقت مدد کی جاسکے، کیونکہ ان کے مطابق ہر انسانی جان بہت قیمتی ہے۔ویڈیو میں شیراز نے کہا کہ گاؤں میں علاج و معالجے کے لیے کوئی اچھا ہسپتال موجود نہیں، اسی لیے لوگوں کو علاج کے لیے ایک سے دو گھنٹے کا سفر کرکے شہر جانا پڑتا ہے، جو نہ صرف مشکل ہے بلکہ اخراجات کے باعث اکثر لوگوں کی پہنچ سے بھی باہر ہوتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ گاؤں کی خواتین کو  بیماری  کے دوران شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جب کہ برف باری اور سخت سردی کی وجہ سے یہاں بزرگ، خواتین اور بچے سب بہت کٹھن زندگی گزارتے ہیں، ایسے حالات میں اگر کوئی بیمار ہوجائے تو ایمرجنسی میں شہر لے جانے کے لیے گاڑی بھی میسر نہیں آتی۔شیراز نے کہا کہ انہی مشکلات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے گاؤں کے لوگوں کے لیے ایک ایمبولنس خریدی ہے تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں بزرگوں، خواتین اور بچوں سمیت سب کو بروقت علاج کے لیے ہسپتال پہنچایا جاسکے۔گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو کے خوبصورت علاقے سے تعلق رکھنے والے محمد شیراز نے یوٹیوب پر اپنی روزمرہ زندگی اور علاقے کی خوبصورت ثقافت دنیا کے سامنے پیش کر کے بہت کم عرصے میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی لگت بلتستان کے حسین وادی اسکردو سے لےتعلق رکھنے والےمعصوم چہرے اور سادہ دل والے محمد شیراز نے یہ ثابت کر دیا کہ کامیابی صرف اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے بھی ہونی چاہیے۔

 

اسکولز وکالجز آؤٹ سورس کرنے کی منظوری

  وزیر اعظم  شہباز شریف   کی حکومت کے حالیہ  فیصلے ' آؤٹ آف سورس کے عمل سے طلبہ اور اساتذہ  کیوں بے چین ہیں -اسکولز وکالجز آؤٹ سورس کرنے کی منظوری، خیبر پختونخوا میں طلبہ کا احتجاج -خیبر  پختونخوا کابینہ کا اسکول اور کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف طلباء اور اساتذہ سراپا احتجاج، حکومتی فیصلے کے خلاف صوبہ بھر میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے جبکہ ان کے ہمراہ اساتذہ اور خواتین لیکچررز بھی تھیں۔ جنہوں نے حکومتی فیصلہ مسترد کردیا۔وزیرِ اعلیٰ کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بتایا کہ کابینہ نے سرکاری کالجز میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کیلیے عارضی بنیادوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے، اس فیصلے کی روشنی میں تین ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کیے جائیں گے، ان عارضی اساتذہ کی بھرتی پر سالانہ تین ارب روپے لاگت آئے گی


 اسکول وکالج آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دینے کے ساتھ صوبائی کابینہ نے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام کو بی اے کی ڈگری کے مساوی ملازمت کیلیے موزوں قرار دینے کی منظوری دی، صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کے مجوزہ فیصلے کیخلاف صوبہ کے مختلف اضلاع میں کالجز کے طلبہ اور اساتذہ سراپا احتجاج بن گئے۔ضلع مردان میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلبا نے مین کالج چوک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلیے بند کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی، اسی طرح مردان میں بھی کپلا کی کال پر حکومت کی طرف سے سرکاری کالجز کی آؤٹ سورسنگ اور سروس رولز میں مجوزہ تبدیلیوں کے خلاف احتجاج اور کلاسز کا بائیکاٹ کیا گیا۔


سوات کے علاقہ مٹہ میں مختلف سرکاری کالجز کے طلبہ نے کالجوں کی نجکاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مٹہ چوک میں جمع ہو کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند رکھا اور صوبائی حکومت کے خلاف نعرے لگائے، اسی طرح تیمرگرہ میں آؤٹ سورسنگ پالیسی کے خلاف گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج تیمرگرہ کے ٹیچنگ اسٹاف نے کلاسز سے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا، کپلا لوکل یونٹ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں آج سے کلاسز کا مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا۔اس طرح ہری پور میں تعلیمی اداروں کو آؤٹ آف سورس کرنے کے خلاف گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج میں اساتذہ اور طالبات نے احتجاج کیا،



تعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف جمعرات کو گورنمنٹ کالج کوٹھا اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلبا نے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے اس دوران روڈ کو بطور احتجاج بند رکھا اور سرکاری تعلیمی اداروں کی پرائیویٹائزیشن کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیاضلع مردان میں بھی سرکاری کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کے خلاف احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، پروفیسرز، لیکچررز اور لائبریرینز نے کلاسز سے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا، اساتذہ کا کہنا ہے کہ حکومت فیصلہ واپس لے ورنہ احتجاج جاری رہے گا، کالج میں مظاہرین کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی

ہفتہ، 4 اکتوبر، 2025

پام سنڈے !غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد میں جلوس پارٹ- 4

 

گھر پہنچ کر  میں نے گھر والوں کو بتایا تو ان کو بھی اشتیاق ہوا کہ  ہم بھی جلوس دیکھنے جائیں گے ، میں نے بتایا کہ اب سب بند ہوچکا ہے، جلوس ختم ہوچکا، لہٰذا کچھ نہیں ملے گا، اور شاید اب بازار بھی بند ہوچکا ہو۔ لیکن پھر بھی ہوا خوری میں کوئی مضائقہ نہیں تو گھر پہنچ کر دوبارہ ہوا خوری کے لیے گھر والوں کے ہمراہ مرکزی چرچ کی راہ لی۔ ابھی چرچ سے کچھ فاصلے پر تھے کہ دوبارہ ڈھول و بینڈ کی آواز سنائی دی، مجھے حیرت ہوئی کہ اب یہ کیا!!خیر قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک اور جلوس چلا آرہا ہے، اور اس کے ساتھ نیا تعزیہ ہے جس پر کوئی خاتون نہیں بلکہ ایک تابوت ہے،


باقی جلوس کی ترتیب کم و بیش وہی ہے۔یعنی وہی  ماتمی لباس 'وہی تنظیم 'وہی احترام ' اس جلوس کی بدولت اب یہ معلوم ہوا کہ اس  دن شہر میں ایک نہیں بلکہ کئی جلوس نکلتے ہیں، اور سب اپنے اپنے علاقوں سے نکلتے ہیں، اور ان کا اختتام بھی الگ الگ وقت میں لیکن ایک مقام پر ہوتا ہے یعنی مرکزی چرچ پر، جہاں فرڈیننڈ اور ازابیلا کی قبریں ہیں۔ بلکل  کراچی کی طرز پر  جہاں ہر جلوس کا اختتام نشتر پارک پر ہوتا ہے


اس جلوس کو بھی قریب سے دیکھا، اور اس کا اختتام تقریباً رات 12 بجے مرکزی چرچ میں ہوا تو تمام تقریبات بھی اگلے دن تک کے لیے اختتام پزیر ہوگئیں۔راستے میں کھلی دکانیں بھی بند ہونا شروع ہوگئیں اور لوگوں نے اپنی اپنی راہ لی۔ کیونکہ اس تہوار میں پورے اندلس سے لوگ غرناطہ آتے ہیں لہٰذا یہ سیزن ہوٹلز کے لیے بھی بہت کمائی کا ذریعہ بنتا ہے، اس کے علاوہ مقامی دکان داروں کو بھی کاروبار کے مزید مواقع فراہم ہوتے ہیں۔غرناطہ کا یہ تہوار نہ صرف اس بات کی نشانی ہے کہ یورپ میں مذہب اب تک موجود ہے بلکہ اس کی بدولت اس مذہب کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا کام بھی بخوبی انجام دیا جارہا ہے۔ یہ اس حوالے سے اہم ہے کہ جس یورپ میں مذہب و لامذہب کی بحث موجود ہو وہاں بھی مذہب اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔


 میرا مشاہدہ ہے کہ کسی بھی مذہب پر فہم کے ساتھ عمل کرنے والوں کا رویہ زیادہ بہتر اور زندگی کے بارے میں ان کا تصور بلند ہوتا ہے۔ لادینیت کے اس دور میں مذہب کو کسی بھی صورت میں زندہ رکھنا ایک بڑی بات ہے اور میرے نزدیک قابلِ ستائش بھی ہے۔غرناطہ کا آخری دن میرے لیے زندگی کے حسین مشاہدات سے بھرا ہوا تھا… ایسے مشاہدات جو شاید لوگوں کو سالوں میں ہوتے ہیں وہ مجھے اللہ کے فضل و کرم سے ایک رات میں وہ بھی حادثاتی طور پر ہوگئے۔ ان مشاہدات نے صرف مجھے زندگی کو کئی زاویوں سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا  

غرناطہ جانے والے اس سیاح کا نام مجھے نہیں معلوم ہو سکا -اس لئے سیاح سے معذرت بھی اور تحریر عاریتاً لینے کا شکریہ بھی 


پام سنڈے !غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد میں جلوس پارٹ-3

 

حتیٰ کہ پیدل بھی اس راستے پر آپ نہیں جاسکتے جو جلوس کی گزرگاہ ہے، تاہم جلوس کی گزرگاہ کے دونوں اطراف اور اس کے پیچھے آپ چل سکتے ہیں۔جلوس ڈھول و بینڈ کی مخصوص آواز پر چلتا اور رکتا تھا۔ یہ رکتا اس لیے تھا کہ اس تعزیے کو اٹھانے والی کوئی گاڑی نہیں تھی بلکہ کچھ نوجوان تھے جو اسے اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے، اس کے وزن کی وجہ سے وہ رک جاتے، تھوڑا آرام کرتے اور پھر سفر شروع ہوتا، لیکن جلوس کے رکنے کے دوران بھی تعزیہ ان کے کندھوں سے نہیں اترتا تھا۔وہ کیا طریقہ کار اختیار کرتے، میں نے اس کو جانچنے کی کوشش کی، لیکن بے سود… کیونکہ ان کے اوپر تعزیہ تھا اور چاروں اطراف ایک جھالر لٹک رہی تھی جس سے اندر کا منظر نہیں دیکھا جاسکتا تھا، تاہم ان کے پیر نظر آرہے تھے۔ ساتھ ساتھ اس تعزیے کو گائیڈ کرنے والا بھی باقاعدہ ایک فرد تھا جو ہسپانوی زبان میں ان کو ہدایات دیتا تھا۔ 


اس فرد کی ہدایات اور مخصوص ضرب کی آواز سے وہ رکتے اور چلتے تھے۔اس تعزیے کے بینڈ کے افراد بھی مکمل یونیفارم میں ایک فارمیشن کے ساتھ چلتے اور رکتے تھے۔ ان کے مختلف سازوں کے ساتھ میوزک کی گائیڈ بھی موجود تھی جس کو رات کی تاریکی میں دیکھنے کے لیے انہوں نے چھوٹی لائٹس اس پر لگائی تھیں۔ اسی طرح تعزیے کی موم بتیاں چلنے سے اگر بجھ جائیں تو اس کے لیے بھی ایک فرد مقرر تھا جو لمبی موم بتی نما کوئی چیز لیے ان کو مسلسل جلاتا رہتا تھا۔ اس کے سامنے ایک فرد زنجیر سے بندھی دھونی سے دھونی دیتا چلا جارہا تھا۔تعزیے کے پیچھے سیاہ لباس میں ملبوس نوعمر لڑکیاں، چھوٹے بچے اور خواتین بھی موجود تھیں جو دو قطاروں میں بڑی موم بتیاں لیے چل رہی تھیں۔اس جلوس کی اہم ترین بات یہ تھی کہ ایک مکمل فیملی ایکٹیوٹی تھی۔



 اس جلوس میں حصہ لینے والوں کے اہلِ خانہ بھی اس جلوس کے ہمراہ چل رہے تھے۔ شاید یہ جلوس طویل ہوتے ہیں، لہٰذا جب جلوس رکتا تو وہ ان کو پانی اور دیگر سامان دینے آتے تھے۔اسی طرح چھوٹے بچے و بچیوں کو بھی اس میں خاص طور پر شریک کروایا گیا اور ان کے اہلِ خانہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود تھے۔ یہ ایک مکمل مذہبی تربیت گاہ کا ماحول تھا کہ جہاں سال میں ایک بار اس کام کو کرنے کے لیے اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کو مصلوب کرنے کی یاد کو تازہ کرنے اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا مکمل اہتمام موجود تھا۔ میں شاید واحد فرد ہوں گا جو اس جلوس کو بغیر کسی مذہبی جذبے کے دیکھ رہا تھا، ورنہ لوگوں کی عقیدت و محبت ان کی نگاہوں سے عیاں تھی۔اس سب کے باوجود کسی ایک فرد نے بھی نہ مجھے روکا کہ میں آگے جاکر تصاویر اور ویڈیوز کیوں بنارہا ہوں، اور نہ ہی مجھے عجیب نظروں سے دیکھا۔ اس معاملے میں ان کی وسیع النظری اور اعلیٰ ظرفی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔



 حتیٰ کہ میں ایک موقع پر جلوس کے ساتھ ساتھ اُس مقام تک چلا گیا جو جلوس کا اختتام تھا اور آگے مرکزی چرچ میں صرف تعزیہ اور مخصوص لباس میں ملبوس افراد کو جانے کی اجازت تھی۔ وہاں بھی صرف ایک پولیس والے نے ہاتھ کے اشارے سے روکا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کے آگے تو کوئی بھی نہیں جارہا، تو میں رک گیا۔جلوس کو دیکھ کر مجھے کراچی میں محرم الحرام اور ربیع الاول کے جلوس یاد آگئے۔ یہ بھی ایک تحقیق طلب معاملہ ہے کہ کس طرح جلوسوں کی یہ روایت برصغیر سے یورپ گئی یا یورپ سے برصغیر میں آئی۔ کیونکہ تمام تر جلوس اپنی جداگانہ حیثیت اور نظریے کے باوجود بھی برتاؤ میں عملاً یکساں نظر آتے ہیں۔میں اس پر سوچ بچار کر ہی رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور گھر والوں نے پوچھا کہ آپ کدھر چلے گئے ہیں، تو گھر کی راہ لی۔ جلوس کیونکہ ختم ہوچکا تھا، لوگ بھی جاچکے تھے اور رات کے11 بج رہے تھے تو میں نے سمجھا کہ اب جو کچھ بھی ہوگا کل ہی ہوگا۔ 

بلاگ ابھی جاری ہے


پام سنڈے ! غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جلوس حصہ دوم

      پام سنڈے ! غرناطہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جلوس-غرناطہ  کی  سیاحت کے دوران میں نے ایک جگہ دیکھا قدیم گرجا کے گرد  ، چند خواتین سیاہ لباس میں ہیں اور کچھ لوگ نائٹس کا قدیمی لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں۔ نائٹس دراصل صلیبی حکومت کے محافظ یا صلیب کے محافظوں کا لقب تھا۔ یہ لباس آج کل کے ترکیہ ڈراموں میں بھی آپ کو نظر آئے گا جس میں سفید لباس اور ایک طویل سرخ ٹوپی ایک کون کی مانند، جس سے منہ بھی مکمل نقاب کی طرح ڈھکا ہوا ہوتا تھا اور صرف آنکھوں کی جگہ سوراخ ہوتے ہیں تاکہ اس کو زیب تن کرنے والا دیکھ سکے۔ہم نے ان سے پوچھا تو ٹوٹی پھوٹی معلومات ہوئیں کہ کوئی مذہبی تہوار ہے۔ کیا؟ اس کا معلوم نہ تھا۔ہم اپنے راستے سے واپسی کا سفر کرتے ہوئے گھر کے قریب ہوئے تو دیکھا کہ ایک باقاعدہ پریڈ ہورہی ہے جس میں مرد و زن، بوڑھے، بچے سب موجود ہیں، سب نے مخصوص لباس زیب تن کیا ہوا ہے، اور اس پریڈ کو دیکھنے کے لیے سڑک کے دونوں طرف لوگوں کا ہجوم ہے۔



 خیر ہم نے کچھ مشاہدہ کیا اور آگے اپنی راہ لی۔ راستے میں دو مکمل فوجی بینڈ ٹائپ کے بینڈز نظر آئے جو اپنی دھنیں بجا رہے تھے۔ ان میں سے ایک بینڈ والی پارٹی سے پوچھا تو کئی ایک کے بعد ایک فرد ملا جس کو کچھ انگریزی آتی تھی، اُس نے بتایا کہ وہ غرناطہ سے سو میل دور سے یہاں اس تہوار میں شرکت کے لیے آیا ہے۔ اب یہ تہوار کیا ہے وہ انگریزی میں بتانے سے قاصر تھا، لہٰذا وہ ایک لڑکی کو تلاش کرکے لایا کہ یہ انگریزی میں بات کرسکتی ہے، یہ بتائے گی۔ لیکن وہ بھی دو جملوں کے بعد کچھ نہ بول سکی۔ انٹرنیٹ کی مدد سے معلوم ہوا کہ  یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یاد کا مخصوص تہوار ہے جسے ’پام سنڈے‘ بھی کہا جاتا ہے، اور یہاں اسپین میں اس کا آغاز چرچ کی جانب سے آج ہوا۔ اس کی تاریخ کا تعین بھی چاند کی تاریخ سے ہوتا ہے۔عیسائی مذہب کے مطابق چاند کی اس تاریخ کو حضرت عیسیٰؑ کا سفر یروشلم کی جانب شروع ہوا تھا کہ جہاں ان کو مصلوب کرنے کے لیے لے جایا گیا تھا۔ 



  جبکہ اس کے ساتھ پام کے درخت کی شاخ یا پتّے بھی موجود تھے۔ اندلس میں اس تہوار کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، یہ ایک ہفتے غرناطہ میں جاری رہتا ہے کہ جہاں پورے اندلس (موجودہ اسپین کا ایک صوبہ) سے لوگ غرناطہ آتے ہیں اور اس میں حصہ لیتے ہیں۔بھی چوک سے کچھ دور ہی تھا کہ ڈھول کی زوردار آوازیں اور شام والی دھنیں دوبارہ سنائی دینے لگیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ رات کے اس پہر تقریباً دس بجے تو یورپ میں یہ کام نہیں ہوتا! خیر کچھ آگے گیا تو دیکھا ایک جلوس جارہا ہے جس میں ایک تعزیہ نما چیز بھی ہے۔ جلوس کے قریب پہنچا تو وہی شام والا منظر تھا۔ جلوس سڑک پر تھا اور دونوں جانب لوگوں کا ہجوم اس کو دیکھ رہا تھا۔ مجمع میں جگہ بناکر آگے آیا تو دیکھا کہ پولیس بھی موجود ہے اور پرانے شہر کی تمام گلیوں میں یہ جلوس چل رہا ہے۔ تمام گاڑیوں کا داخلہ پولیس نے پہلے ہی بند کردیا ہے تاہم اگر آپ جلوس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو پیدل جائیں۔



 میں مجمع سے آگے گیا، لوگوں نے بخوشی راستہ دیا۔ جلوس کی ترتیب یہ تھی کہ آگے رہنمائی کرنے والے اور ایک تعزیہ جس پر ایک خاتون سفید لباس میں کھڑی تھیں، ان کے آگے بھی طویل موم بتیاں چار پانچ قطاروں میں نصب تھیں، ان خاتون کے اوپر ایک ترپال یا ٹینٹ تھا، اس کے بعد تین افراد (ایک مرد، دو خواتین) صلیب اور موم بتیاں ایک لاٹھی میں لگائے آگے تھے، ان کے پیچھے سیاہ لباس میں خواتین موم بتیاں لیے دو قطاروں میں چل رہی تھیں، ان کو منظم کرنے والی یا والیاں سفید لباس اور سرخ ٹوپی میں نائٹس کے لباس میں تھیں۔ اس میں بھی مرد و خواتین دونوں نے ہی نائٹس کے لباس زیب تب کئے ہوئے تھے، ان کے ہمراہ کچھ بچے بچیوں نے بھی یہ لباس پہنا ہوا تھا۔ ایک مکمل پروٹوکول میں یہ جلوس اپنی مخصوص منزل کی جانب جارہا تھا۔ قدیم غرناطہ شہر کی گلیاں بہت تنگ ہیں، لہٰذا اس جلوس کے لیے ان گلیوں و سڑکوں پر ٹریفک کا داخلہ مکمل بند کردیا گیا، 

 بلاگ ابھی جاری ہے 


وینکوور اپنی بہترین معیشت او رمعتدل آب و ہوا کی نسبت سے جانا جاتا ہے

 



وینکوور  اپنی بہترین  معیشت اور قدرتی خوبصورتی کے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔  2010 کے سرمائی اولمپک کھیلوں نے  وینکوور کی اس حیثیت کو نمایاں کیا تھا: کھیلوں کی میزبانی کرنے کی صلاحیت میں معیشت اور کھیلوں کے اشتہارات میں فطرت کی فراوانی ۔ ان اشتہارات نے بلند   پہاڑوں اور سرسبز جنگلات  پر  توجہ مرکوز کی ، تب اکثر دنیا نے دیکھا وینکوور  کینیڈا کے ان نایاب شہروں میں سے ایک ہے جس نے شہری ترقی اور قدرتی تحفظ کے درمیان ایک  بہترین  توازن حاصل کر لیا ہے۔بحر الکاہل کی آب و ہوا: وینکوور کینیڈا کے پیسفک آب و ہوا کے علاقے میں واقع ہے، یہ علاقہ اپنے ہلکے درجہ حرارت اور زیادہ بارش کے لیے جانا جاتا ہے۔موازنہ: شہر کی آب و ہوا اس کے منفرد ماحول، بلند و بالا درختوں، پر  جنگلی حیات، اور زراعت کے لیے زرخیز زمین کو سہارا دینے کی اجازت دیتی ہے وینکوور کینیڈا  کے اُن شہروں  میں شمار ہوتا ہے جہاں زرعی پیداوار کافی پیدا ہوتی ہے، یہاں کے میدانی علاقوں میں زرعی فارمزکثرت سے ہیں ہے۔ 



وینکوور میں موسم سرما 4 ماہ سے بھی کم رہتا ہے (13 نومبر سے 5 مارچ تک)۔ اس مدت کے دوران، اوسط زیادہ سے زیادہ روزانہ درجہ حرارت 9 ڈگری سیلسیس سے کم ہے. دسمبر وینکوور میں سرد ترین مہینہ ہے، اس مہینے میں اوسط کم از کم اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت بالترتیب 1 اور 6 ڈگری سیلسیس کے برابر ہے۔ میں نے مضمون کے شروع میں جو گراف رکھا ہے اس میں آپ مختلف مہینوں میں کم از کم، اوسط اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ سکتے ہیں۔بارش اور برفباری۔اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ وینکوور دامن میں واقع ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کی مقدار اور دھوپ کے دن مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر، Coquitlam کا شمال جنوب سے مختلف ہے۔جیسا کہ ہم نے اب تک بات کی ہے، وینکوور میں بارش بہت عام ہے۔ درحقیقت وینکوور میں سالانہ بارش 1200 ملی میٹر ہے۔ لیکن شمالی علاقہ جات میں جو پہاڑوں کے قریب ہیں، یہ سطح سالانہ 1600 ملی میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ 

 


نومبر اور مارچ کے مہینوں کے درمیان، بارش کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے اور گرمی کے موسم میں، بارش کی مقدار کم سے کم ہوتی ہے۔ نوٹ کریں کہ وینکوور براہ راست سمندر سے متصل نہیں ہے، لیکن آبنائے جارجیا کو دیکھتا ہے۔ یہ موضوع وینکوور کو سمندری آفات جیسے سونامی سے محفوظ بناتا ہے۔دوسری طرف وینکوور آئی لینڈ نامی ایک جزیرہ ہے جو مغرب سے براہ راست سمندر سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں، جزیرے کے مغرب میں (بحرالکاہل کے ساحل پر) بارش کی مقدار کینیڈا کے شہر وینکوور سے کہیں زیادہ ہے۔ وینکوور جزیرے (وکٹوریہ، نانیمو اور ٹوفینو) پر سالانہ 2500 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہوتی ہےمختلف مہینوں میں بارش کے دنوں کی تعداد بھی درج ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، بارش کے دنوں کی تعداد کا تعلق بارش کی مقدار سے ضروری نہیں ہے اور بارش کی شدت جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔



 

 اگر آپ مشرقی کینیڈا میں رہتے ہیں اور وینکوور میں ہجرت کرنا چاہتے ہیں، تو وینکوور اور ٹورنٹو کے دو شہروں کے درمیان فرق پر اور ٹورنٹو اور وینکوور کی تقابلی آب و ہوا کو  پڑھیں۔  کینیڈا کے دیگر حصوں کے برعکس، وینکوور میں آب و ہوا عام طور پر معتدل ہے۔ یعنی وینکوور میں بہت زیادہ سرد سردیاں اور بہت گرم گرمیاں نہیں ہوتیں۔ اس پوزیشن کی بہتر تفہیم کے لیے، وینکوور کے موسم سے متعلق مختلف مہینوں میں "کم سے کم، اوسط اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت" کو چیک کرنا بہتر ہے۔ اعداد و شمار    بتاتے ہیں ، جنوری میں وینکوور میں اوسط درجہ حرارت 4 ڈگری سیلسیس ہے۔ جولائی (موسم گرما) کے مہینے میں یہ سطح 22 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتی ہے۔ تو یہ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ وینکوور کا موسم سردیوں میں زیادہ ٹھنڈا نہیں ہوتا اور گرمیوں میں بھی زیادہ گرم نہیں ہوتا۔وینکوور کے سیاحوں کے سفر کا بہترین وقت جون اور ستمبر کے درمیان ہے۔ کیونکہ عام طور پر اس عرصے میں موسم زیادہ معتدل اور بارش کم سے کم ہوتی ہے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر