لاہور کو ویسے تو اس کے حاکموں نے ہر دور میں عزت و تکریم دی لیکن لاھور کو مرکزی حیثیت اس وقت نصیب ہوئی جب پہلے مسلمان حکمران قطب الدین ایبک نے اس شہر کو دہلی کے بعد دوسرا پایہ تخت قرار دیا تاہم غزنوی، غوری، غلاماں، تغلق اور لودھی حکومتوں میں یہ شہر دہلی کے راستے صرف ٹھہرنے کے مقام کے طور پر ہی جانا جاتا رہا، لیکن جب مغل دور حکومت شروع ہوا تو مغلوں نے اس شہر کی طرف توجہ دی اور اس میں باغ، پارک، کنوئیں اور درخت لگائے۔ ان کی پرداخت کی اور یوں یہ شہر اب تک باغوں کا شہر کہلاتا ہے۔مغلوں کی آمد سے قبل یہاں چند باغ تھے جو باغ ملک ایاز، باغ زنجانی، باغ شاہ اسماعیل، باغ قطب الدین ایبک، باغ شاہ کاکو چشتی اور باغ دولت آباد کے نام سے مشہور تھے۔ لیکن مغلوں کے دور میں لاہور جب ہندو پاک کا تیسرا بڑا شہر بنا تو اس شہر کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ وہ لاہور کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ اکبر یہاں پندرہ سال تک رہا اور اس نے لاہور کی ترقی پر بھرپور توجہ دی۔ جہانگیر بھی لاہور کا گرویدہ تھا۔ حتیٰ کہ وہ فوت ہوا تو اس نے وصیت کی تھی کہ اسے لاہور میں دفن کیا جائے۔
ملکہ نور جہاں بھی لاہور ہی میں رہی اور یہیں دفن ہوئی۔ شاہ جہاں بھی لاہور میں پیدا ہوا اور اس نے بھی اس کی طرف پوری توجہ دی۔ اس کے دور میں یہاں عمارتیں تعمیر ہوئیں اور باغ معرض وجود میں آئے۔شاہ جہاں کا بڑا بیٹا داراشکوہ ہمیشہ لاہور ہی میں رہا۔ وہ حضرت میاں میرؒ کا مرید تھا اور صوفیاء سے محبت کرتا تھا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد جب مغلوں کو زوال آیا تو لاہور کی شان میں بھی کمی آنے لگی۔ سکھوں نے تو اس شہر کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔مغل بادشاہ باغات سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے لاہور، دہلی، آگرہ اور کشمیر میں بے شمار باغ بنائے، حویلیاں تعمیر کیں، اورمسجدیں بنائیں۔ انہوں نے مخصوص پھلوں کے جو باغ لگائے وہ انگوری باغ اور انار باغ کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس طرح ہمایوں کے زمانے میں نولکھا باغ، باغ کامران اور اکبر کے زمانے میں باغ دل افروز، باغ خان اعظم، باغ اندر جان باجو باغ، باغ مالک علی کوتوال، باغ مرزا نظام الدین احمد، باغ زین خان کوکلتاش قائم ہوئے۔ جہانگیر کے دور میں باغ دلکشا(مقبرہ جہانگیر) باغ انار کلی لگائے گئے۔
باغ دلکشا جسے اب مقبرہ جہانگیر کہا جاتا ہے کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ڈاکٹر سیف الرحمن ڈار کے مطابق سید محمد لطیف نے اسے باغ دلآمیز کا نام بھی دیا ہے اور فوق نے باغ مہدی قاسم خان کے نام سے بتایا ہے۔ یہ باغ 1775ء میں لگایا گیا بعد ازاں جب ملکہ نور جہاں نے اس پر قبضہ کیا تو اسے باغ دلکشا کا نام دے دیا گیا۔شالیمار باغ:شاہ جہاں جسے عمارتیں اور باغ تعمیر کرنے کا بے پناہ شوق تھا، مقبرہ جہانگیر کے بعد اس نے فردوس سے ملتا جلتا باغ بنانے کا خواب دیکھا چنانچہ اس نے اپنے مصاحب خلیل اللہ خان کو بلایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس مقصد کیلئے راوی کے قریب ساٹھ ایکڑ اراضی حاصل کی گئی۔ ایک روایت کے مطابق یہ اراضی میاں افتخار الدین کے جدا مجد مہر مہنگا سے لی گئی تھی۔ شاہ جہاں نے جب اسے قیمت دینا چاہی تو اس نے قیمت لینے سے انکار کر دیا چنانچہ شاہ جہاں نے حکم دیا کہ اس باغ کی دیکھ بھال اس کے سپرد رہے گی۔ میاں صاحب کے جد امجد اس باغ کی دیکھ بھال کرتے رہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کرنے سے قبل تک یہی خاندان شالیمار کا باغبان تھا اور باغبانپورہ اس کی ہی وجہ سے مشہور ہے۔اس باغ کی تعمیر پر 17ماہ چار دن لگے۔ یہ باغ 1642ء میں مکمل ہوا
۔ شالیمار باغ کی درمیانی منزل کے مشرق کی طرف جھروکہ ہے۔ دولت خانہ خاص و عام اور نقارخانہ ہے۔ مغرب کی طرف خواب گاہ بیگم صاحبہ ہے۔ بیگم صاحبہ شاہ جہاں کی بڑی لڑکی جہاں آراء بیگم تھی۔1631ء میں ماں کی وفات کے بعد تمام مراعات بیٹی کو حاصل ہو گئیں۔درمیانے تختہ پر سنگ مر مر کی آبشار گرتی ہے جس کا نظارہ اورنگ زیب کی بیٹی زیب النساء کیا کرتی تھی۔باغ نور جہاں:جہانگیر کی وفات کے بعد نور جہاں اٹھارہ سال تک لاہور میں رہی۔ وہ 72سال کی عمر میں 1636ء میں فوت ہوئی۔ اسے جہانگیر اور آصف جاہ کے قریب اسی کے باغ میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو چہار چمن کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس کے درمیان میں جو عمارت ہے اسے اب مقبرہ نور جہاں کہا جاتا ہے۔شاہ جہاں کے دور میں ہی فیض باغ، باغ بلاول شاہ، نخلا وزیر خاں، مقبرہ بدر الدین شاہ عالم بخاری، مقبرہ حضرت سید محمد، باغ آصف جاہ، پرویز باغ، مشکی باغ، باغ عبدالحسن، باغ خواجہ ایاز، باغ نصرت، جنگ بہادر، باغ احسان، باغ علی مردان خان اور چوبرجی پارک تعمیر ہوئے۔چوبرجی:چوبرجی زیب النساء کے باغ کا دروازہ تھا۔ یہ دروازہ لاہور باغ کی دیوار 1646ء میں تعمیر ہوئی ۔ چوبرجی کے شروع میں ہی چار برج تھے۔