جمعرات، 2 اکتوبر، 2025

لالہ زار باغوں کا شہرلاھور

 

 لاہور  کو ویسے تو  اس کے حاکموں نے ہر دور میں عزت و تکریم دی لیکن لاھور کو مرکزی حیثیت اس وقت نصیب ہوئی جب پہلے مسلمان حکمران قطب الدین ایبک نے اس شہر کو دہلی کے بعد دوسرا پایہ تخت قرار دیا تاہم غزنوی، غوری، غلاماں، تغلق اور لودھی حکومتوں میں یہ شہر دہلی کے راستے صرف ٹھہرنے کے مقام کے طور پر ہی جانا جاتا رہا، لیکن جب مغل دور حکومت شروع ہوا تو مغلوں نے اس شہر کی طرف توجہ دی اور اس میں باغ، پارک، کنوئیں اور درخت لگائے۔ ان کی پرداخت کی اور یوں یہ شہر اب تک باغوں کا شہر کہلاتا ہے۔مغلوں کی آمد سے قبل یہاں چند باغ تھے جو باغ ملک ایاز، باغ زنجانی، باغ شاہ اسماعیل، باغ قطب الدین ایبک، باغ شاہ کاکو چشتی اور باغ دولت آباد کے نام سے مشہور تھے۔ لیکن مغلوں کے دور میں لاہور جب ہندو پاک کا تیسرا بڑا شہر بنا تو اس شہر کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔ وہ لاہور کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ اکبر یہاں پندرہ سال تک رہا اور اس نے لاہور کی ترقی پر بھرپور توجہ دی۔ جہانگیر بھی لاہور کا گرویدہ تھا۔ حتیٰ کہ وہ فوت ہوا تو اس نے وصیت کی تھی کہ اسے لاہور میں دفن کیا جائے۔



 ملکہ نور جہاں بھی لاہور ہی میں رہی اور یہیں دفن ہوئی۔ شاہ جہاں بھی لاہور میں پیدا ہوا اور اس نے بھی اس کی طرف پوری توجہ دی۔ اس کے دور میں یہاں عمارتیں تعمیر ہوئیں اور باغ معرض وجود میں آئے۔شاہ جہاں کا بڑا بیٹا داراشکوہ ہمیشہ لاہور ہی میں رہا۔ وہ حضرت میاں میرؒ کا مرید تھا اور صوفیاء سے محبت کرتا تھا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد جب مغلوں کو زوال آیا تو لاہور کی شان میں بھی کمی آنے لگی۔ سکھوں نے تو اس شہر کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا۔مغل بادشاہ باغات سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے لاہور، دہلی، آگرہ اور کشمیر میں بے شمار باغ بنائے، حویلیاں تعمیر کیں، اورمسجدیں بنائیں۔ انہوں نے مخصوص پھلوں کے جو باغ لگائے وہ انگوری باغ اور انار باغ کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس طرح ہمایوں کے زمانے میں نولکھا باغ، باغ کامران اور اکبر کے زمانے میں باغ دل افروز، باغ خان اعظم، باغ اندر جان باجو باغ، باغ مالک علی کوتوال، باغ مرزا نظام الدین احمد، باغ زین خان کوکلتاش قائم ہوئے۔ جہانگیر کے دور میں باغ دلکشا(مقبرہ جہانگیر) باغ انار کلی لگائے گئے۔



 باغ دلکشا جسے اب مقبرہ جہانگیر کہا جاتا ہے کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ڈاکٹر سیف الرحمن ڈار کے مطابق سید محمد لطیف نے اسے باغ دلآمیز کا نام بھی دیا ہے اور فوق نے باغ مہدی قاسم خان کے نام سے بتایا ہے۔ یہ باغ 1775ء میں لگایا گیا بعد ازاں جب ملکہ نور جہاں نے اس پر قبضہ کیا تو اسے باغ دلکشا کا نام دے دیا گیا۔شالیمار باغ:شاہ جہاں جسے عمارتیں اور باغ تعمیر کرنے کا بے پناہ شوق تھا، مقبرہ جہانگیر کے بعد اس نے فردوس سے ملتا جلتا باغ بنانے کا خواب دیکھا چنانچہ اس نے اپنے مصاحب خلیل اللہ خان کو بلایا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس مقصد کیلئے راوی کے قریب ساٹھ ایکڑ اراضی حاصل کی گئی۔ ایک روایت کے مطابق یہ اراضی میاں افتخار الدین کے جدا مجد مہر مہنگا سے لی گئی تھی۔ شاہ جہاں نے جب اسے قیمت دینا چاہی تو اس نے قیمت لینے سے انکار کر دیا چنانچہ شاہ جہاں نے حکم دیا کہ اس باغ کی دیکھ بھال اس کے سپرد رہے گی۔ میاں صاحب کے جد امجد اس باغ کی دیکھ بھال کرتے رہے اور محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کرنے سے قبل تک یہی خاندان شالیمار کا باغبان تھا اور باغبانپورہ اس کی ہی وجہ سے مشہور ہے۔اس باغ کی تعمیر پر 17ماہ چار دن لگے۔ یہ باغ 1642ء میں مکمل ہوا



۔ شالیمار باغ کی درمیانی منزل کے مشرق کی طرف جھروکہ ہے۔ دولت خانہ خاص و عام اور نقارخانہ ہے۔ مغرب کی طرف خواب گاہ بیگم صاحبہ ہے۔ بیگم صاحبہ شاہ جہاں کی بڑی لڑکی جہاں آراء بیگم تھی۔1631ء میں ماں کی وفات کے بعد تمام مراعات بیٹی کو حاصل ہو گئیں۔درمیانے تختہ پر سنگ مر مر کی آبشار گرتی ہے جس کا نظارہ اورنگ زیب کی بیٹی زیب النساء کیا کرتی تھی۔باغ نور جہاں:جہانگیر کی وفات کے بعد نور جہاں اٹھارہ سال تک لاہور میں رہی۔ وہ 72سال کی عمر میں 1636ء میں فوت ہوئی۔ اسے جہانگیر اور آصف جاہ کے قریب اسی کے باغ میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو چہار چمن کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس کے درمیان میں جو عمارت ہے اسے اب مقبرہ نور جہاں کہا جاتا ہے۔شاہ جہاں کے دور میں ہی فیض باغ، باغ بلاول شاہ، نخلا وزیر خاں، مقبرہ بدر الدین شاہ عالم بخاری، مقبرہ حضرت سید محمد، باغ آصف جاہ، پرویز باغ، مشکی باغ، باغ عبدالحسن، باغ خواجہ ایاز، باغ نصرت، جنگ بہادر، باغ احسان، باغ علی مردان خان اور چوبرجی پارک تعمیر ہوئے۔چوبرجی:چوبرجی زیب النساء کے باغ کا دروازہ تھا۔ یہ دروازہ لاہور باغ کی دیوار 1646ء میں تعمیر ہوئی ۔ چوبرجی کے شروع میں ہی چار برج تھے۔


بدھ، 1 اکتوبر، 2025

ماریشس قدرت کی لہلہاتی ہوئ سر زمین

 

خوبصورت نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )پارت 1خوبصورت  اور لہلہاتے  قدرتی نظاروں  سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اگر آپ سورج غروب ہونے کے بعد اتریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ایک برقی روشنی میں نہائے ہوئے شہر میں اتر رہے ہیں - بحرِہند پر واقع قدرتی خوبصورتی سے مالامال جزیرہ ماریشس ہند وستان  کے باشندوں  کا بسایا  ہوا ایک   بے مثال ملک  ہے -اس ملک میں  مشرقی اور مغربی معاشرے کا عمومی عکس پایا جاتا ہے کیونکہ یہاں کی غالب آبادی انڈیا سے تعلق رکھتی ہے، ماریشس (موریطانیہ) بحر ہند کے انتہائی جنوب میں سیر و سیاحت کے حوالے سے دنیا میں مشہور ہے۔اس کی ملکیت  مختلف جزیرے ہیں جو  نباتات اور سبزہ  سے مالامال ہیں ۔ پورے ملک میں گنے کی فصل کے علاوہ آم اور پپیتے کے درخت کثرت سے ہیں ۔ماہرینِ زراعت کے مطابق ماریشس کی زمین بہت زرخیز ہے۔ماریشس کے جزائر قیمتی پودوں اور جڑی بوٹیوں سے بھرے ہوئے ہیں۔



 ایک سروے رپورٹ میں سامنے آیا کہ یہاں کئی پودے ایسے ہیں جو کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ طبی ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے یہاں پائی جانے والی نباتات پر تحقیق شروع کردی ہے۔ لیچی اور ناریل کے پھل یہاں بہت مرغوب ہیں۔ناری کے درخت بہتات میں ہیں اس لئے ناریل کا پانی بہت پیا جاتا ہے۔ پورے ملک میں گنے کی بھر پور فصل نظر آئے گی۔ اس کے علاوہ آپ کواکثر گھروں میں ناریل، لیچی، آم اور پپیتا کا درخت نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر آم کے پیڑ اور پپیتے کے درخت بہتات میں نظر آئیں گے۔ پھلوں کا بادشاہ کہلانے والا پھل آم ماریشس میں بے قدری کا شکار ہے۔ یہ یہاں زیادہ نہیں کھایا جاتا بلکہ سڑکوں پر گاڑیوں کے ٹائروں تلے بے دردی سے کچلا جاتا ہے۔ اور تقریباً یہی حال پپیتے کا ہے۔ یہ بھی مرغوب پھل نہیں۔ماریشس کی زمین اس قدر زرخیز ہے کہ آپ یہاں فصل کاشت کر سکتے ہیں سوائے دھان کے ۔


 عجیب بات ہے کہ چاول جو یہاں کے باشندوں کی بنیادی غذا ہے تمام باہر کے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں نے اب سبزی ترکاری بھی اگانی شروع کر دی ہے۔ پیاز، آلو، ٹماٹر، چقندر، گوبھی، کریلا، بھنڈی، کدو، کھیرے، پالک، بینگن، اروی اور بہت سی ایسی سبزیاں مقامی طور پر اگائی جا رہی ہیں۔ لیکن بہت سی زمین قابل کاشت پڑی ہے۔ پہاڑوں میں آپ کو بندراور ہرن بھی نظر آئیں گے۔ ماریشس کے بڑے شہر قابل دید شہر ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے طول عرض میں پھیلے ہوئے چھوٹے چھوٹے گاؤں ، قصبے اوربیچز قابل دید نظارے پیش کرتی ہیں،



سائنس دانوں نے حیرت انگیز انکشاف یہ کیا ہے کہ ان جزائر پر بعض ایسے پودے پائے جاتے ہیں جو کسی اور خطہ زمین پر موجود نہیں۔ان میں تین نباتات کو ایسالائفا انٹیگریفولیا، یوجینیا ٹینی فولیا، اور لیبروڈونیسیا گلوکا کہا جاتا ہے جو صرف اسی ملک میں پائے جاتے ہیں۔ طبی تحقیق  کے مطابق  یہاں کی کچھ مخصوص  نباتات میں سرطان کی رسولیا ں  ختم کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ماریشس کے نباتاتی خزانے کے ایک تہائی پودے برسوں سے مختلف  امراض کے علاج میں استعمال ہورہے ہیںجہاں سفر کرتے ہوئے آپ خود کو بہت ہی ہلکا پھلکا محسوس کریں گے اور قدرت کی اس صناعی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ یہ سب نظارے ایسے ہیں کہ بار بار دیکھنے پر بھی آپ کا جی نہیں بھرتا۔

نگاہوں کو مسحور کر دینے والا سوات کا سفید مرمریں محل

  میاں گل عبدالودود (المعروف بادشاہ صاحب) بہت خوبیوں کے م بڑے بازوق  صاحب اقتدار انسان  تھے۔  سفید محل کی تعمیر کے حوالے سے شاہی خاندان کے میاں گل شہر یار امیر زیب باچا (بادشاہ صاحب کا پڑپوتا) کا کہنا ہے کہ 'در اصل بادشاہ صاحب ہندوستان گئے تھے جہاں ایک دن ان کا گزر راجھستان کے علاقہ سے ہوا۔ وہاں انھوں نے سفید  سنگ مر مر  دیکھا۔ ان دنوں راجھستان   کے  علاقے میں یہ سنگ مر مر  بہت شہرت رکھتا تھا۔ بادشاہ صاحب نے راجھستان کے اس وقت کے مہاراجا کا محل دیکھا جس میں اسی سفید  سنگ مر مر  کا استعمال کیا گیا تھا۔ بادشاہ صاحب اس محل سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے۔ بعد میں جے پور سے اسی سفید سنگ مرمر  کو لایا گیا'۔سفید محل کے اندر سے صحن کا منظرایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ سفید محل میں استعمال ہونے والا ماربل دراصل وہی  سنگ مر مر  ہے جو تاج محل (آگرا، ہندوستان) میں استعمال ہوا ہے۔ اس محل کے گراؤنڈ فلور پر قائم کمر ےریاستی دور میں وزیروں اور مشیروں کے لیے مخصوص تھے۔سفید محل کے اندر لگے ریاستی دور کے برقی قمقمے اور پنکھے جو اَب نایاب ہیں۔بادشاہ صاحب کا ٹیبل لیمپ بادشاہ صاحب کا ٹیلی فون۔اور بادشاہ صاحب کے وقت کی نایاب اشیاء موجود ہیں 


’مرغزار‘‘ ضلع سوات کا واحد پرفضا مقام ہے جو مرکزی شہر مینگورہ سے تقریباً بارہ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ سیاح صرف قدرتی حسن اور معتدل موسم کی وجہ سے مرغزار کا رخ نہیں کرتے بلکہ وہاں پر قائم ریاست سوات دور کی ایک تاریخی عمارت سفید محل (1941ء) کی سیر کرنے بھی جاتے ہیں۔کیونکہ سیاح اگر سوات آیا اور اسنے مرغزار کی حدود میں اس نایاب سفید محل کی سیر نہیں کی تو پھر اس نے  سوات کی سیر کو ادھورا چھوڑا مینگورہ: جدید ریاست سوات کے بانی میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب (1881ء تا 1971ء) کے حکم سے جب سنہ 1941 کو سفید محل کی تعمیر مکمل ہوئی، تو اس محل کی بدولت مرغزار کا علاقہ ایک طرح سے ریاست سوات کے موسم گرما کا دارالحکومت ٹھہرا۔ گرمیوں میں یہاں سے شاہی فرمان جاری ہوا کرتے تھے۔ آج بھی سات دہائیاں گزرنے کے باوجود سفید محل مرجع خلائق ہے۔مگر سفید محل کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کا اولین نام ’’موتی محل‘‘ تھا۔



سفید محل کے اندر دیوار پر ٹانکی گئی میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب کی ایک نایاب تصویر بھی موجود ہے۔سفید محل تاریخی حوالہ سے اس لیے بھی مشہور ہے کہ یہاں سے ریاستی دور میں رعایا کے مستقبل کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔شہر یار امیر زیب باچا کے مطابق جب محل تعمیر ہوا، تو گرمیوں کے موسم میں حکومت کے امور سیدو شریف کی بجائے مرغزار میں طے ہوتے تھے۔ باالفاظ دیگر سردیوں میں ریاست سوات کا دارالخلافہ سیدو شریف اور گرمیوں میں سفید محل کی بدولت مرغزار ہوا کرتا تھا۔ریاستی دور کی تصاویر جن میں بادشاہ صاحب اور والئی سوات کی تصاویر نمایاں ہیں۔شہر یار کا کہنا ہے کہ مین بلڈنگ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے، تو اس میں ایک ڈرائننگ روم، ایک ڈائننگ ہال، ایک میٹنگ روم اور ایک بادشاہ کا اپنا کمرہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے احاطے میں دو تین درجوں میں کمرے بنائے گئے ہیں۔ جب بادشاہ صاحب گرمیوں میں مرغزار کا رخ کرتے، تو ان کے وزیر مشیر اور خان خوانین ان کے ہمراہ ہوتے۔



دوسرے درجے پر تعمیر شدہ کمروں میں یہی وزیر مشیر اور خان خوانین ہوتے اور تیسرے درجے میں تعمیر شدہ کمروں میں فیملی ممبران ہوا کرتے تھے۔بادشاہ صاحب کے بیڈ روم کے متصل ان کے خاص مہمانوں کے لیے مخصوص شدہ کمرہ۔ یہ وکٹورین طرز تعمیر کا شاہکار ہے۔ یہ اس وقت اپنی نوعیت کی پہلی عمارت تھی۔س عمارت کے تین حصے ہیں۔ محل کا پہلاحصہ بادشاہ صاحب کے لیے مخصوص تھا۔ دوسرا حصہ جس کے لیے سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں،وی آئی پی شخصیات کے لیے اور تیسرا اور آخری حصہ خواتین اور انگریزوں کے لیے مخصوص تھا جب کہ محل کی بیک سائٹ   کی جگہ  با ورچیوں اور دیگر خدام کے لیے تھی ۔بادشاہ چوں کہ مذہبی شخصیت تھے، اس لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں۔ سفید محل کے کھلے علاقے میں جو مسجد تعمیر کی گئی ہے، اس میں بادشاہ نماز پڑھنے اور قرآن شریف کی تلاوت کو ترجیح دیتے تھے۔ لیکن پھر    بادشاہ  صاحب  کی وفات کے بعد یہ  نایاب محل  ان کے وارث کے حصے میں آیا۔ جنہوں نے اس کی  دیکھ بھال کی اور رینو ویٹ  کر  کے  اس کو ہوٹل میں کنورٹ کر دیا  اور  اب  سفید محل  مرغزار آ نے  والے سیاحوں کےلئے ایک اچھا پکنک پوائنٹ بن چکاہے ۔‘‘ 

پیر، 29 ستمبر، 2025

پاکستانی ادیبہ ملک کا برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کی لارڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر تقرر

 

 یہ  برطانیہ  کا دستور ہے  کہ لارڈ لیفٹیننٹ   برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سےوزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ان کی  ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق ہے -ادیبہ ملک کے والد محمد صادق کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ 1958 میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ فہمیدہ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ ادیبہ ملک 30 ستمبر 1966 کو بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئیں (مسلم ویمنز کونسل فیس بک)ویسٹ یارک شائر کے شہر بریڈ فورڈ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی نژاد خاتون ادیبہ ملک کو برطانوی بادشاہ چارلس سوم کی جانب سے لارڈ لیفٹیننٹ مقرر کیا گیا ہے۔اس طرح وہ اس عہدے پر براجمان ہونے والی پہلی خاتون، مسلمان اور ایشیائی خاتون بن گئی ہیں۔ ادیبہ ملک کون ہیں؟ یہ عہدہ کیا ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں بادشاہ کی جانب سے اس تقرری کو کیوں اہم قرار دیا جا رہا ہے؟ادیبہ ملک کون ہیں؟58 سالہ پروفیسر ادیبہ ملک بریڈ فورڈ کےغیر سرکاری ادارے کیو ای ڈی فاؤنڈیشن سے بطور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر وابستہ ہیں،



ادیبہ ملک گذشتہ 30 سال سے اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس ادارے کے چیف ایگزیکٹو اور بانی ڈاکٹر محمد علی ہیں جن کا تعلق ضلع اٹک کی تحصیل حضرو سے ہےادیبہ ملک کے والد محمد صادق کا تعلق لاہور سے ہے۔ وہ 1958 میں برطانیہ منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی والدہ فہمیدہ کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ ادیبہ ملک 30 ستمبر 1966 کو بریڈ فورڈ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے گرنج سکول بریڈ فورڈ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہل یونیورسٹی سے گریجویشن اور پھر ماسٹرز کیا جس کے بعد بطور استاد پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ وہ کابینہ آفس کی سٹیٹ آنرز کمیٹی اور ہوم آفس کے سٹریٹیجک ریس ایڈوائزری بورڈ کی ممبر ہیں،شیفیلڈ ہالم یونیورسٹی کی گورنر بھی ہیں۔ انہیں ویمن اور ہوم میگزین نے جولائی 2023 کے ایڈیشن میں ’برطانیہ کی حیران کن خواتین‘ کی فہرست میں ٹاپ ٹین میں شمار کیا تھا۔انہیں گذشتہ سال ویسٹ یارک شائر کی ہائی شیرف بھی مقرر کیا گیا تھا۔ 


انہیں 2004 میں ایم بی ای اور 2015 میں سی بی ای کے قومی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔نہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کاؤنٹی کی 24 لاکھ سے زائد آبادی کے لیے بادشاہ معظم نے مجھے اپنا نمائندہ مقرر کر کے میری ہی نہیں تمام اقلیتی طبقوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ میں لارڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ویسٹ یارک شائر کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پر جوش ہوں۔‘لارڈ لیفٹیننٹ کا عہدہ کیا ہے؟لارڈ لیفٹیننٹ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سے وزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔بادشاہ یا شاہی خاندان کے جتنے دورے کاؤنٹی میں ہوتے ہیں ان کا انتظام و انصرام بھی لارڈ لیفٹیننٹ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بادشاہ کی جانب سے رائل گارڈنز میں جتنی بھی تقریبات ہوتی ہیں ان میں جو جو لوگ شریک ہوتے ہیں انہیں بھی لارڈ لیفٹیننٹ ہی بادشاہ کی جانب سے مدعو کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ مسلح افواج کی حمایت بھی انہی فرائض کا حصہ ہے۔


بادشاہ کی جانب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی جن جن شخصیات کو ایوارڈز دیے جاتے ہیں ان کی نامزدگی میں سب سے اہم کردار بھی لارڈ لیفٹیننٹ کا ہی ہوتا ہے۔ لارڈ لیفٹیننٹ اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے خیراتی اداروں کے ساتھ مل کر کام بھی کرتا ہے۔ ان سب عوامل کے باوجود ادیبہ ملک کو بادشاہ کا نمائندہ نامزد کرنا غیر معمولی ہی سمجھا جا رہا ہے۔انگلینڈ میں 48 کاؤنٹیز ہیں جن میں ویسٹ یارک شائر آبادی کے لحاظ سے چوتھی بڑی کاؤنٹی ہے۔بریڈ فورڈ کی مساجد کی تنظیم کونسل برائے مساجد کے سابق ترجمان اشتیاق احمد نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ادیبہ ملک یہ عہدہ پانے والی پہلی غیر سفید فام، ایشیائی اور مسلمان خاتون  بور لارڈ لیفٹیننٹ تقرری کو کیوں اہم قرار دیا جا رہا ہے؟لارڈ لیفٹیننٹ کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق برطانیہ کے بادشاہ ہر کاؤنٹی سے وزیراعظم کی مشاورت سے اپنا ایک نمائندہ چنتے ہیں جو بادشاہ کے مفادات اور وقار کے لیے کام کرتا ہے۔

یہ تحریر انٹرنیٹ سے لی گئ ہے 


اتوار، 28 ستمبر، 2025

مرکزروحانیت و تجلیات 'مسجد جمکران 'ایران

 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد مقدس جمکران کے 1073 ویں سالگرہ کے موقع پر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے اپنے پیغام میں ماہ مبارک رمضان کی عبادات کی قبولیت اور ایام شہادت حضرت علی (علیہ السلام) پر تسلیت پیش کرتے ہوئے مسجد جمکران کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی۔انہوں نے شیخ صدوق (رحمت اللہ علیہ) کے حوالے سے بیان کیا کہ یہ مسجد صرف ایک خواب کا نتیجہ نہیں بلکہ حضرت صاحب الامر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی براہ راست ہدایت پر حسن بن مثله جمکرانی کے ذریعے تعمیر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسجد جمکران ایک ہزار سال سے زائد عرصے سے اللہ سے راز و نیاز اور امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجه الشریف) کی طرف توجہ کا مقام رہی ہے۔آیت اللہ مکارم شیرازی نے اس مسجد میں انجام دیے جانے والے مخصوص اعمال کو توحیدی اور مؤمنین کی روح و جان کو پرووان چڑھانے والے اعمال قرار دیا۔ انہوں نے زائرین کے توسل اور دعاؤں کی کیفیت کو صحرائے عرفات میں حاجیوں کی مناجات سے تشبیہ دی



 اور کہا کہ ہر زائر یہاں اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے آتا ہے اور یہاں سے روحانی تازگی اور اجابت کے ساتھ واپس جاتا ہے۔ نہ  ۔محدث اور فقیہ بزرگوار مرزا حسین نوری نے ایک شخص بنام حسن بن مثلہ جمکرانی سے نقل کیا ہے کہ امام مہدیؑ سے ان کی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے اس جمکران نامی گاؤں میں مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔حسن بن مثلہ کی روایت کے مطابق 17 ماہ رمضان المبارک 373 ہجری(22 فروری، 984 عیسوی)کو جب وہ اپنے گھر سویا ہوا تھا تو ایک گروہ نے اسے آکر بیدار کیا اور کہا : اپنے مولا وآقا، امام مہدیؑ کی نداء پر لبیک کہو۔حسن بن مثلہ جمکرانی کہتاہے:میں اپنے گھر سے اس جگہ پر آیا جہاں پر ابھی مسجد جمکران موجود ہے وہاں پر میری ملاقات ایک 33 سالہ جوان اور ایک بوڑھے شخص سے ہوئی، وہ 33 سالہ جوان امام مہدیؑ اور وہ بوڑھا شخص حضرت خضرؑ تھے جنہوں نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد امام مہدیؑ نے مجھے اس جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت سے یہ مسجد ہر خاص و عام کی توجہات کا مرکز ہے



 لیکن اسلامی انقلاب کے بعد مسجد جمکران ایک عظیم الشان عمارت میں تبدیل ہو چکی  ہے جہاں ہر ہفتے شبِ بدھ کو ہزاروں کی تعداد میں زائرین مغرب کی نماز کے بعد دعائے توسل کی تلاوت اور اپنی حاجات طلب کرتے ہیں اور  15 شعبان امام مہدیؑ کی ولادت کی شب جشن منانے کی خاطر لاکھوں کی تعداد میں مومنین اور عاشقانِ مہدیؑ جمع ہوتے ہیں اور مناجات ، دعا ، نماز اور عبادات میں شب گزارتے ہیں    انہوں نے زور دیا کہ صوبے کی مرکزی توجہ ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر تھی جس کا موضوع "انتظار" تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تخمینے کے مطابق چار دن کے دوران قم صوبے میں چار ملین سے زائد زائرین نے شرکت کی، یہ وسیع شرکت اس وقت ہوئی جب کہ بہت سے ملک کے بہت سے صوبے شدید سردی اور برفباری کا سامنا کر رہے تھے۔



حجت الاسلام حسینی مقدم نے زائرین کی سہولت کے لیے قائم کردہ اسٹاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسٹاف نے 12 کمیٹیوں کے ذریعے زائرین کو بہترین خدمات فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کمیٹیوں میں سے ایک عوامی کمیٹی تھی جس کے تحت 800 عوامی گروپوں اور انجمنوں نے بلوار پیامبر اعظم کے سات کلو میٹر طویل راستے پر اپنی خدمات پیش کیں۔ اس کے علاوہ، مقامی گروپوں نے مختلف محلوں میں بھی پروگرام منعقد کیے۔انہوں نے اس دوران وسیع ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی پروگراموں کا اہتمام بڑے پیمانے پر کیا گیا اور زائرین میں انتظار امام اور معنویت کا جذبہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔ مختلف قسم کی میزبانی، طبی اور صحت کی خدمات، نیز ہلال احمر کے 200 سے زائد اراکین کی جانب سے ضروری مدد کی فراہمی، زائرین کو پیش کی گئی خدمات میں شامل تھیں۔

اب تو بھیڑیا مجھے کھا جائے گا -زرا عمر رفتہ کو آواز دینا

 مجھے  اپنے بچپن کے یہ دن بھلائے نہیں بھولےلاکھوں جھگیوں میں ہندوستان سے آئے ہوئے بے خانماں  شرفاء کے گھرانے  جو بس چاہتے تھے کہ  وہ  زمانے سے اپنے آپ کو چھپا کر رکھیں کیونکہ یہ دور بہت ہی نا آسودہ اور مشکل دور تھا اس  جب ہمارے گھرانے نے  ائر فورس کی چھاؤنی سے  لالوکھیت نقل مکانی کی تھی  اس وقت میری عمر   میری  عمر چار برس  تھی   عمر کے اس دور کے خوف بھی عجیب تھے ،راتوں کوبھیڑیوں کے  بڑے بڑے غول کے غول جھگیّوں کے آس پاس اپنی مکروہ آوازوں میں بولتے ہوئے اور غرّاتے ہوئے پھرتے تھےاس پر گھر کے بڑوں نے یہ باور کروا دیا تھا کہ بھیڑئے بچّوں کو منہ میں دبا کر اٹھا لے جاتے ہیں ہمارے بڑوں نے ہمیں اس لئے ڈرایا تھا کہ ہم بچّے دن میں گھر سے باہر نہیں پھریں لیکن اس ڈرانے کا نتیجہ میرے اوپر یہ ہوا کہ میں راتوں کو ڈر کے مارے جاگنے لگی،پھر یہ یہ خوف مستقل میرے زہن سے چپک گیا تھا کہ کسی رات کو بھیڑیا مجھے بھی سوتے میں اپنے منہ میں دبا کر چل دے گا



اور  مجھے کھا جائے گا یہ خوف مجھے ساری ساری رات جگائے رکھتا تھا نہی دنوں ایک رات  ہمارے یہاں   زور زور کی چیخ پکار ہونےلگی -میری آنکھ کھل گئ تب مجھے معلوم ہوا سچ مچ  ہماری جھگی کی چٹائ کو جانور پھاڑ رہا تھا کہ اباجان کی آنکھ کھل گئ اور انہوں نے اس جانور کو بھگا یا لیکن   وہ وقت  مجھے    بچّوں کی نفسیا ت کا یہ تجربہ بھی دے گیا کہ بچّے کی سوچوں کی دنیا صرف اپنی زات کے گرد ہی گھومتی ہے ،میں یہ کیوں نہیں سوچتی تھی کہ بھیڑیا میری چھوٹی بہن یا ننھے بھائ کو بھی تو لے جاسکتا ہے ڈر تھا تو بس اس بات کاکہ بھیڑیا مجھے لے جائے گااور پھر کھا جائے گا   بہر حال وہ کڑا وقت بھی آخر گزر ہی رہاتھا  پھر یون ہوا کہ میرے چھوٹے ماموں  سید سرکار حیدر (ان دنوں ایک 15/سولہ برس کے دبلے پتلے   سے نو عمر نوجوان ہوتے تھے )   لکھنؤ چلے گئے گھر میں معلوم ہواکہ کلیم کے کاغذات لینے گئے ہیں  ماموں جان  واپس آئے تو انہوں  نے سخت خفگی کا اظہار کیا تو میری امی جان نے میرے مامو ں جان سے کہا شکر کرو کہ زندہ سلامت لوٹ آ ئے ہو 


کیونکہ ان کے گھر پر  میرے نانا جان کے وہ عزیز قبضہ کر چکے تھے جن کو وہ اپنی امانت سپرد کر کے آئے تھے -اب سوچئے کہاں ایک پندرہ سولہ برس کا بچہ کہاں ایک زورآور قبضہ گروپ  'بس ماموں جان نے باغ وہیں لکھنؤ میں ہی فروخت کر دیا اور پیسہ کراچی لے کر آ گئے -یہ پیسہ اتنا تھا کہ میرے دو ما موؤوں اور میری امی سمیت تین بہنوں میں ترکہ تقسیم ہوا اور میری امی جان نے اس رقم سے ہمارے تنکے کے آ شیانے  کو پختہ گھر میں بدل دیا -ا ب میرا  ابتدائ تعلیمی سفر بھی شروع ہو چکاتھا اس زمانے میں رواج تھا کہ بچّے کو پہلے گھر پر ہی تین یا چار جماعتیں پڑھائ جاتی تھیں پھر اسکول میں داخلہ ہوتا تھا ،یہ بچّے اور اس کے گھر والوں کے لئے ایک اعزاز کی بات تھی کہ وہ گھر سے اتنا سیکھ کر اسکول آیا ہے چنانچہ میری تعلیمی زندگی کی باگ ڈور حسب حال میری والدہ نے اپنے ہاتھ میں لے لی  تھی  


،اب تختی کے ایک جانب وہ گہری پنسل سےالف  'ب لکھتی تھی اور دوسری جانب ایک سے دس تک گنتی ہوتی تھی اور ان کے لکھے ہوئے  برو کے قلم کو دوات میں ڈبو کر پھر اسے احتیاط سے نکال کر کہ سیاہی ادھر ادھر گرے نہیں مجھے ان کی تحریر پر قلم سے لکھنا ہوتا تھا   'اب تختی کی پریکٹس اپنی جگہ اہم تھی تو دوسری جانب میری امی جان نے  ہم بہن بھائیوں کو  سلیٹ اور چاک کے زریعہ بھی  لکھائ کے ہنر میں طاق کیا  - وہ ایک لفظ کو سلیٹ پر بار بار لکھواتی تھیں 'پہاڑے یاد کرنا  میرے لئے مشکل ترین کا م ہوتا تھا '  بہر حال  میں اپنی پیاری ماں کے کہنے کے مطابق سب  کام کر لیا کرتی تھی ،،پڑھنے لکھنے کے علاوہ میرا اہم کام اپنے والدین کے گھر تین برس یا اس کچھ کم یا اس کچھ زیادہ کی مدّت پر آنے والے اپنے چھوٹے بھائیوں کی دیکھ بھال تھی 






















زرا عمر رفتہ کو آواز دینا -جب مجھے ادب کا چسکہ لگا

 

میرا بچپن عام بچّوں کا بچپن نہیں تھا یہ وہ زمانہ تھا جب مہاجروں کے گھروں میں پانی کے لئے علاقے میں پانی کے ٹینکر آیا کرتے تھے اور میں بہت چھوٹی سی عمر میں ٹینکرکی آواز محلّے میں آتے ہی اپنا کنستر لےکر پانی لینے والوں کی لائن میں کھڑی ہو جاتی تھی ،اور ہمارے محلّے کا کوئ خداترس انسان میرا کنستر بھر کر ہمارے دروازے تک یا گھر کے اندر تک رکھ جایا کرتا تھا اس کے علاوہ پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ماشکی بھی صبح شام ایک ایک مشک پانی  معمو لی قیمت پر ڈال جاتا تھا پھر یوں ہوا کہ کچھ عرصے بعد پانی کے ٹینکر کا آنا موقو ف ہو گیا اورہماری گلی کے ختم پر  ایک عدد حوضی بنا کر اس میں سرکاری نل سے پانی کی ترسیل کا انتظام کیا گیا،میرے والد صاحب ،،اپنے والد صاحبکے تذکرے کے تصّور سے ہی   بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ہین کیونکہ مجھے اپنے والدکا بنک جانے سے پہلے نمازفجر کے وقت حوضی سے پانی بھرنا یاد آرہا ہے میں ابھی اتنی بڑی نہیں تھی کہ ان کاموں میں والد کا ہاتھ بٹا سکتی لیکن زرا سا وقت گزرنے پر  گھر میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لئے میں نے یہ ڈیوٹی اپنے زمّے لے لی تھی 




،میرے بھائ جان مجھ سے صرف سوا سال ہی بڑے تھے اور باجی جان ان سے تین برس بڑی تھین  ،یعنی ابھی ان کا کوئ بچّہ باہر کے کام کرنے کے قابل نہیں ہوا تھا ,,اسوقت ایک خدا ترس انسان نے اپنے گھر کے سامنے ایک کنواں بنوا کر وقف عام کر دیا تھا چنانچہ میں نے زرا سا ہوش سنبھانے پر یہ اہم ڈیوٹی اپنے زمّہ لے لی تھی کہ والد صاحب کے لائے ہوئے پانی کے علاوہ جو بھی کمی ہوتی اسے خود سے چھوٹے چھوٹے ڈول لے جا کر پانی بھر کر لے آیا کرتی تھی اور گھر میں پانی کی کمی   پوری کر دیا کرتی تھی اس وقت ہمارے محلّے میں کوئ حوضی نہیں بنی تھی لیکن اپنے گھر سے بیس منٹ کے فاصلے سے  کنوئین سے پانی بھر کر لانے لگی اس کنوئیں میں چمڑے کی بالٹی ایک مو ٹے رسّے کے زریعے کنوئیں کی تہ تک اتار کر بھر لی جاتی اور پھر الٹی چرخی چلا کر پانی کھینچ لیا جاتا تھا ،یہ ایک بہت محنت طلب کام ہوتا تھا لیکن میں اس کام کو بھی سر انجام دے لیا کرتی تھی  اس کے علاوہ جھٹ پٹا ہوتے ہی گھر کی لالٹینیں اور لیمپ روشن کرنا بھی میرے زمّے تھا 


میں سب لالٹینوں کی چمنیاں نکال کر ان کو چولھے کی باریک سفید راکھ سے پہلے انہیں  صاف کرتی پھر صابن سے دھو کر خشک کرتی تھی تو لالٹین کی روشنی بہت روشن محسوس ہوتی تھی،کوئلو ں کی سفید راکھ بنانے کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ دہکتے ہوئے کوئلوں کو یونہی چھوڑ دیا جاءے تووہ خود بخود بجھتے جاتے ہیں اور ان کے اوپر سفید راکھ کی موٹی تہ جمتی جاتی ہے یہ راکھ دیگچیوں کے پیندوں کو اجلا کرنے کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھی میں اس راکھ کو ایک ڈبّے میں محفوظ کر لیتی تھی اس کے ساتھ ساتھ میری ایک اہم ڈیوٹی گھر میں جلانے کے لئے ٹال سے لکڑیاں لانے کی بھی تھی ،اور یہ کام کوئ مجھ سے جبریہ نہیں کرواتا تھا بلکہ میں اپنی والدہ کے لئے کام کی سہولت چاہتی تھی با لآخرزمانے کے ان نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ہمارے گھرانے کی علمی صحبتیں برقر ار ہی تھیں اور ان ادبی صحبتوں کارنگ بھی میری زات پر نمایاں ہو نے لگا تھا  اور میں نے بہت جلد برّصغیر کے نامور ادیبو ں کیلا تعداد کتابیں پڑھتے ہوئے حفظ کر لی تھیں ،ان نامور ادباء میں کرشن چندر ،راجندر سنگھ بیدی عصمت چغتائ ،قرّۃ العین حیدر ،عظیم بیگ چغتا ئ ،را م لعل ،ساحر لدھیا  اور اس وقت کے جو بھی مشہور ادیب اور شاعر تھے  


 

سب کو بار بار پڑھایہ وقت جب ادب کے آسمان پر پاکستانی ادب بھی بھر پور انداز سے اپنا آپ منوانے کی جستجو مین جٹا ہواتھا اور یہاں کے ادیب بھی ہندوستانی ادیبوں سے کسی طور پر بھی کم نہیں تھے کرنل محمّد خان ،مشتاق احمد یوسفی  بریگیڈئیر صدّیق سالک ،ممتاز مفتی جبکہ خواتین بھی ادب کے میدان پر جلوہ افروز ہو چکی تھِن اور بھی کہنہ مشق ادیب و شاعر پاکستانی ادب کے آسمان پرجگمگا رہے تھے چنانچہ شادی سے پہلے تو میں بس پڑھتی ہی چلی گئ لکھنے کی باری  شادی کے بعد میں آئ جب کہ یہ احساس دل میں اجاگر ہواکہ میں کچھ کچّا پکّا ادب بھی تحریر کر سکتی ہوں لیکن میرے ادبی شوق کی ابتدا میرے بچپن کے ابتدائ دور میں ہی ہو چکی تھی بس اردو پڑھنی آئ ہی تھی کہ مجھے بچّوں کی کہانیاں پڑھنے کا چسکہ لگ گیا تھا اور شاعری میں بھی خاص دلچسپی لینے لگی تھی  مجھے ابھی بھی اچھّی طرح یاد ہے کہ میں نے  چھٹی کلاس میں ایک نظم اپنے وطن سے محبّت کے اوپرپڑھی تھی یہ ہمارے اسکول کی جانب سے طالبات کا مشاعرہ تھا جو بیگم رعنا لیاقت علی خان کے قائم کردہ فلاحی ادارے  اپوا کے زیر اہتما م ہواتھا اس مشاعرے میں ایک مشہور علمی گھرانے کی قد آور  شخصیت محترمہ وحیدہ نسیم صاحبہ مہمان خصوصی کے طور پر بلائ گئیں تھیں ،

 

انہوں نے میری نظم سن کر مجھے شاباشی بھی دی تھیاور پھر کلاس ہشتم کے بعد ہی اس زمانے کے رواج کے مطابق میری شادی ہوگئ -پچّیس اپریل انّیس سو پینسٹھ کی ایک سہانی شام میں اپنے والدین کے گھر سے اپنےمحترم شوہر نامد ار سیّد انوار حسین رضوی کے گھر آگئ ،میرے شوہر صاحب تو مجھے بہت ارمان سے بیاہ کر لائے تھے لیکن  در حقیقت اپنے سسرالی عزیزوں کے لئے میرا وجودایک دھچکے سے کم نہیں تھا وہ سر خ وسفید رنگت کے حامل مردانہ وجاہت اور حسن کا پیکر تھے اور میں قبول صورت سے بھی شائد کچھ کم اس پر میری رنگت گہری سانو لی ،مجھے اچھّی طرح یاد ہئے جب میرے شوہر صاحب نے میری والدہ سے میرا رشتہ مانگا تھا میری والدہ نے ان سے پہلی بات یہی کہی تھی کہ میاں میری لڑکی کا رنگ گہرا سانولا ہئے تم اس کو کا لی رنگت کے طعنے تو نہیں دو گے میرے شوہر اس بات پر کچھ جز بز تو ہوئے لیکن پھر انہوں نے میری والدہ سے کہا تھا کہ مجھے گہرا سانولا رنگ ہی پسند ہئے دراصل خاندان میں ا ن کو شادی کرنی نہیں تھی اس لئے سب ہی قریبی عزیز ان کی ہونے والی شریک حیات کو  ان کی ہی طرح کی خوبصورت  دیکھنے کے متمنّی تھے 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر