جمعرات، 18 ستمبر، 2025

پاکستانی لڑکی بسمہ آصف آسٹریلین پارلیمنٹ میں

 

لاہور کی بسمہ آصف آسٹریلوی ریاست کی پارلیمنٹ تک کیسے پہنچیں ’مجھے ان روایات پر فخر ہے، ہم ایک ایسا سنکسار چاہتے ہیں کہ جہاں ہم اپنے پریوار (ِخاندان) کے لیے محنت سے روزی روٹی کمائیں۔ عزت سے محنت کا پھل اور محنت کی روزی روٹی آپ کا حق ہے۔‘آسٹریلیا کی ریاست کوئینز لینڈ پارلیمنٹ میں بسمہ آصف کی بیک وقت انگلش، اردو اور پنجابی زبان میں کی گئی برجوش تقریر پر نہ صرف ایوان تالیوں سے گونج اُٹھا بلکہ ان  کی یہ تقریر  سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی۔پاکستان کے شہر لاہور  کے ایک خاندان میں میں پیدا ہونی والی پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری بسمہ آصف سنہ 2024 کے انتخابات میں اپنے علاقے کی سنڈیکٹ سے اپوزیشن لیبر پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئی ہیں۔پارلیمنٹ میں اپنی پہلی تقریر میں انھوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے پاکستانی اور پنجابی ہونے پر فخر ہے۔ میں یہاں پر اپنی تین آبائی زبانوں پنجابی، ہندی اور اردو میں بات کرنے پر فخر محسوس کر رہی ہوں۔‘پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری بسمہ لیبر پارٹی کی اپوزیشن رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئیں



بسمہ آصف 28 سال کی عمر میں آسٹریلوی پارلیمنٹ کی رکن منتخب ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جنوبی ایشیا، انڈیا، بنگلہ دیش میں مشہورہو گئیں۔بسمہ کہتی ہیں کہ پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریر انھوں نے خود ہی لکھی تھی جو پنجابی، اردو اور ہندی زبان میں تھی۔ انھوں نے کہا ’یہ تینوں زبانیں میری شناخت ہیں اور مجھے ان پر فخر ہے۔‘بسمہ کا کہنا تھا کہ ’میں ایسے معاشرے کے لیے جدوجہد کررہی ہوں جہاں محنت کش کو عزت اور احترام سے اُس کا معاوضہ ملنا چاہیے اور ان کی حفاظت بھی یقینی ہو۔‘بسمہ لاہور سے آسٹریلیا کیسے پہنچیں؟بسمہ آصف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بچپن میں انھیں ملالہ یوسفزئی کو دیکھ کو تعلیم حاصل کرنا کا شوق ہوا اور انھیں لگا کہ وہ ملالہ کی طرح لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔بسمہ اور اُن کا خاندان بہتر مستقبل کی تلاش میں سنہ 2004 میں لاہور سے آسٹریلیا منتقل ہوا۔ اُن کے دیگر عزیز و اقارب لاہور ہی میں رہائش پذیر ہیں اور بسمہ اُن سے ملنے کے لیے اکثر پاکستان آتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آسڑیلیا منتقل ہونے کے بعد انھوں نے انگریزی سیکھی لیکن اُن کی والدہ نے ہمیشہ انھیں اپنی مادری زبان اور روایات کے ساتھ جوڑے رکھا۔


 یہ خاندان گھر میں ہمیشہ پنجابی میں ہی بات کرتا تھا۔بسمہ کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کے د نوں میں لوگوں کی ملازمیتں ختم ہوئیں اور اسی وجہ سے انھیں اکنامکس، پبلک پالیسی پڑھنے میں دلچسپی پیدا ہوئی۔انھوں نے بتایا کہ مختلف سسٹم کا معائنہ کرنے کے بعد انھیں یہ سمجھ میں آیا کہ کیسے پالیسیاں عام عوام پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس دوران انھوں نے مقامی کیمونٹی کے مسائل میں دلچسپی لینا شروع کی۔پبلک پالیسی سے وابستہ شعبے میں ملازمت کے دوران بسمہ نے ایشیائی کیمونٹی کے ساتھ رویوں کو بہتر کرنے کے لیے حکومت کے لیے سفارشات تیار کیں۔بسمہ آصف نے بتایا کہ وہ جنوبی ایشیائی ممالک سے آسٹریلیا آنے والے افراد کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جانی والی عوامی بہبود کی سہولیات کے بارے میں آگاہ کرتی تھیں اور ان سب سرگرمیوں کی وجہ سے اُن کا را بطہ کیمونٹیز کے ساتھ اور بھی مضبوط ہو گیا۔ان کا کہنا تھا کہ زمانہ طالب علمی میں انھیں سیاست میں آنے میں دلچسپی نہیں تھی


 مگر تعلیمی اداروں کے انتخابات میں وہ جس بھی امیدوار کو سپورٹ کرتی وہ انھیں اپنی مہم کی نگرانی اور اس کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری دے دیتے کیونکہ کہ ’انھیں لگتا تھا کہ میں ایک اچھی منتظم ہوں۔‘بسمہ آصف کا کہنا تھا کہ ’ایک دن ہمارے حلقے کے مقامی ممبر جو کہ ریٹائرڈ ہونے والے تھے نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ ’بسمہ آپ کیمونٹی میں ملتی جلتی ہیں۔ آپ کے اندر ایک جذبہ موجود ہے تو اپ ایک اچھی چوائس ہوسکتی ہو۔ آپ آسڑیلیا اور کمیونٹی کے لیے مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’کیا آپ ٹکٹ لینا چاہیں  گی‘ تو ’میں نےسوچا کیوں نہیں اور پھر میں نے انتخابی مہم شروع کر دی۔‘’میرے والدین کو جب پتہ چلا کہ میں الیکشن لڑ رہی ہوں تو انھوں نے کہا کہ کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘بسمہ آصف کا یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے اس سفر میں نسل پرستی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ جس کا مجھے سامنے کرنا تھا۔‘انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ’منفی اور برے رویوں‘ کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا کیونکہ اُن کے بقول ’اچھے برے اور مختلف نظریات تو ہر معاشرے میں ہوتے ہیں مگر ’میں سب کو قائل کرنی کی کوشش کرتی تھی۔‘بسمہ کا کہنا ہے کہ انھیں نسل پرستی پر مبنی رویوں کا سامنا کرنا پڑا، اُن پر آن لائن تبصرے ہوئے لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور آج میں آپ کے درمیان موجود ہوں

بدھ، 17 ستمبر، 2025

فیروز خان نون 'قیام پاکستان کے ہراول دستے کا سپاہی

  




 فیروز خان نون 'قیام پاکستان کے ہراول دستے کا سپاہی کہنا بلکل بیجا  نہیں ہوگا  تحریک آزادئ ہند جو ازاں بعد  قیام پاکستان  میں بدل گئ  اس قیام پاکستان کے ہراول دستے کے صف اول کے  سپاہی  فیروز خان نون بھلوال سرگودھا سے تعلق رکھنے والے  امیر کبیر    زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور انگلستان سے انہوں نے بیرسٹری کے بعد اس وقت وکالت کی جب ابھی تحریک پاکستان کا آغاز ہورہا تھا ۔ کم عمری میں سیاست میں حصہ لیتے ہوئے وہ وزیر دفاع،وزیر خزانہ ،مغربی پنجاب(موجودہ) کے گورنر و وزیر اعلٰی رہے ۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں خارجہ تعلقات کی بنیادیں مضبوط بنانے کے لئے اپنا معتمد خاص بنا کر اسلامی ملکوں میں بھیجا تھا لہذا انہیں سیاست اور ملکی نظام چلانے کا بہت تجربہ تھا، ملک فیروز خان نون11 دسمبر 1957ء کو ملک فیروز خان نون ، پاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔!  ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958ء کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ واپس مل گیا تھا۔  ؟



ء میں بمبئی میں فیروز نون نے وکٹوریہ ریکھی نام کی   ایک  انگریز لڑکی سے دوسری شادی کر لی اور شادی سے قبل ریکھی نے ا سلام قبول کر لیا اور اِن کا اسلامی نام وقارالنسا نون ہوگیا بعد میں اُنہیں وکی نون بھی کہا جاتا رہا۔ فیروز نون نے تاریخ میں ڈگری حاصل کی تھی اور عالمی اور قومی سیاست پر بھی اُن کا گہرا مطالعہ تھا پھر 1945 ء میں جب وہ اقوام متحدہ میں مستقل رکن بنے تو دوسری جنگ عظیم کے بعد بدلتی دنیا جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہو ئے اُنہیں قیام پا کستان ، کشمیر اور ساتھ ہی گوادر کی اہمیت کا اندازہ بھی تھا اور اُن کی سیاسی بصیرت مستقبل میں اس تناظر میں ہونے والے فیصلوں کے امکانات اور اندیشوں سے بھی واقف تھی،پھر خصوصاً جب نون نے قائد اعظم کی ہدایت پر سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا تو آج کی متحدہ عرب امارات ، سلطنت عمان، ایران ،بھارت کے تناظر میں وہ پاکستان کے بحیرہ عرب پر ساحل مکران میں 2400 مربع میل کے گوادر ا ینکلیو کی اہمیت سے خوب واقف تھے اور غالباً اس پر قائد اعظم اور اُن کے درمیان گفتگو بھی ہوئی ہوگی۔ن کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958ء کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ واپس مل گیا تھا۔  ؟


  فیروز خان نون آکسفور ڈ جانے سے قبل بھی وہاں فٹبال اور ہاکی کے اچھے کھلاڑی کے طور پر متعارف ہو چکے تھے اور پھر واڈہیم کالج میں 1916 ء میں ہسٹری اور فارسی میں گریجویشن کرنے تک وہ اپنے کالج کی فٹ بال ٹیم کے ایک اچھے کھلاڑی رہے اور Isis Club کی جانب سے بھی فٹبال کھیلتے رہے ، اس دوران جب وہ برطانیہ میں زیرتعلیم تھے وہ امریکہ کی یو نیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ بھی گئے اور کوششیں کیں مگر واپس آکسفورڈ آگئے۔ وہ کالج کی تعلیم کے دوران اپنی پُرکشش شخصیت کی وجہ سے انگریزاور ہندوستانیوں طالب علموں میں اپنا خاض اثرو رسوخ پیدا کر چکے تھے۔اُن کے والد کی ہدایت کہ وہ بر طانوی کلچر کو اچھی طرح سمجھیں اس لیے وہ عموماً اعلیٰ سطحی تقریبات میں ضرور شرکت کیا کر تے تھے جہاں انگریزی ثقافت، تہذیب اور ادب کو سمجھنے کے مواقع میسر ہو تے تھے۔ یوں فیروز نون اپنی تعلیم کے دوران برطانیہ میں اعلیٰ طبقے میں اپنے دیگر ہم عصر ہندوستانیوںکے مقابلے میںکافی گہرے مراسم بنا چکے تھے پھر جب وہ 1916 ء میں بیرسٹر ان لا یعنی قانون کی ڈگری کے لیے لندن آئے تو یہاں بھی اِن مراسم میں اضافہ ہوا



، واضح رہے کہ اِن لارڈ اور اہم شخصیات کی اکثریت آنے والے دنوں میں برطانیہ میں ہاوس آف لارڈز اور ہاوس آف کامن کی رکن رہی اور اقتدار میں وزارتوں پر فا ئز رہی۔فیروز خان نون، برطانوی ہند کے اُس وقت کے ڈسٹرکٹ خوشاب میں 7 مئی 1893 ء کو پیدا ہوئے، اُن کا خاندان اپنی دولت اور علم وفضل اور نیک نامی کے سبب پورے پنجاب میں مشہور تھا۔ اُن کے آباؤ اجداد بھٹی راجپوت تھے، جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ مقامی سطح پر اسکول کی تعلیم مکمل کر نے کے بعد اور 1912 ء میں  کالج میں زیر تعلیم رہے س۔ پھر جب وہ 1916 ء میں بیرسٹر ان لا یعنی قانون کی ڈگری کے لیے لندن آئے تو یہاں بھی اِن مراسم میں اضافہ ہوا، واضح رہے کہ اِن لارڈ اور اہم شخصیات کی اکثریت آنے والے دنوں میں برطانیہ میں ہاوس آف لارڈز اور ہاوس آف کامن کی رکن رہی اور اقتدار میں وزارتوں پر فا ئز رہی۔جب فیروز خان نون 1917 ء میں وہ واپس ہندوستان آئے تو ابھی 1914 ء سے شروع ہو نے والی جنگ عظیم اوّ ل کے ختم ہو نے میں ایک سال باقی تھا اور روس میں لینن اشتراکی انقلاب لے آئے تھے،1918 ء میں جنگ عظیم اوّل کے خاتمے پر جہاں ترکی کی سلطنت عثمانیہ بکھر گئی تھی - برطانیہ سمیت دیگر یورپی اتحادی بھی جنگ کے بڑے اخراجات اور نقصانات اٹھانے کے بعد کمزور ہو چکے تھے

  



پیر، 15 ستمبر، 2025

کراچی کے سینما ہاؤسز کے عروج و زوال کی کہانی





مہاجر  وں کی بڑی تعداد  نے  اس وقت کے کراچی کے علاقے لالو کھیت، حالیہ لیاقت آباد میں پڑاؤ ڈالا   یہاں 50 کی دہائی میں ہندوستان کی سابقہ ریاست حیدرآباد دکن سے ہجرت کر کے آنے والے جناب عزیز اللہ جنگ نے ایک سینما تعمیر کیا جس کا نام فردوس رکھا گیا۔فردوس سینما اس وقت کی مین سڑک جو آئ آئ چندریگر روڈ سے ملاتی تھی   وہاں بنایا گیا اورپھر اس کے مقابل نیرنگ  سینما بھی بن گیا -ان دونوں سینما ہاؤسز میں ہفتے کے کسی ایک دن لیڈیز شو  میں کوئ اچھی فلم بھی چلتی تھی جس کا کرایہ محض ایک روپیہ ہوتا تھا  عزیز اللّہ جنگ نے 50 کی دہائی میں ہی کراچی کے علاقے ناظم آباد سائٹ میں ایک دوسرا سینما چمن کے نام سے بھی بنایا۔ ی۔60 کی دہائی آتے آتے کراچی ایک پر رونق اور جگمگاتے شہر کا روپ دھار چکا تھا۔ جس شہر کی آبادی 1947 میں محض ساڑھے چار لاکھ تھی وہ 60 کی دہائی کے وسط میں 20 لاکھ ہو گئی۔ عزیز اللہ جنگ ایک دور دس نگاہ رکھنے والے انسان تھے، تو انہوں نے کراچی کی روز افزوں ترقی کے پیش نظر 1965 میں ایک ایسے سینما کی بنیاد ڈالی جو پورے ایشیا میں اپنی نوعیت کا دوسرا سینما تھا اس سے پہلے ایشیا میں صرف جاپان میں اس طرح کا سینما 1962 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قسم کا دنیا میں پہلا سینما امریکہ کے شہر نیو جرسی میں رچرڈ ہولنگ ہیڈ (Richard Holling Head) نامی شخص نے تعمیر کیا۔ جس کا افتتاح 6 جون 1933 کو ہوا۔


 عزیز اللّہ جنگ کا کراچی کا یہ سینما (کھلی ہوا کا) اوپن ائر ڈرائیو ان سینما تھا۔ اس سنیما کا نام ” کاروان ڈرائیو ان موویز “ رکھا گیا۔عزیز اللہ جنگ نے اس مقصد کے لیے اب قصہ پارینہ بن جانے والی ڈالمیا سیمنٹ فیکٹری سے متصل ایک بلند پر فضا مقام پر وسیع و عریض قطع زمین حاصل کیا۔ اس زمانے کے لحاظ اس سینما کی تعمیر پر بھاری رقم خرچ کی گئی سینما کے میدان میں بیک وقت 500 کاریں آ سکتی تھیں اور فلم بین اپنی کاروں میں بیٹھے بیٹھے پوری فلم دیکھ کر لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہر کار کی پارکنگ کی جگہ پر ایک چھوٹے سے پول پر اسپیکر نصب ہوتا تھا، گاڑی کا شیشہ اتار کر اس اسپیکر کے ذریعے کار میں براجمان فلم بین فلم کے مکالمے وغیرہ سن سکتے تھے۔سینما کا اسکرین سطح زمین سے 20 فٹ اونچا 11 فٹ لمبا اور 50 فٹ چوڑا تھا، جو تمام شائقین کی کاروں سے صاف نظر آتا تھا۔ اس کے علاوہ مز200 آدمیوں کی گنجائش کا ایک امریکن طرز کا خوبصورت ریسٹورنٹ بھی موجود تھا کراچی کے سینما ہاؤسز کے عروج و زوال کی کہانی -جس کے لان میں کرسیوں پر بیٹھ کر بھی سنیما اسکرین پر دکھائی جانے والی فلم کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ فلم کی اسکرین کی لمبائی، چوڑائی اس قدر تھی کہ اس پر 70 ایم ایم فلمیں بھی چلائی جا سکتی تھیں۔


سنیما غروب آفتاب کے بعد شروع ہوتا تھا اور رات گئے تک چلتا رہتا تھا۔شائقین جب چاہیں یہاں آ اور جا سکتے تھے جب چاہیں کار سے اتر کر ریسٹورنٹ میں کھانے پینے کے ساتھ فلم کے مزے بھی لے سکتے تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ اس سنیما کی تیار میں اس وقت 20 لاکھ روپے خرچ ہو گئے تھے جو اس سستے زمانے میں ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت کے بیس لاکھ آج کے 60 کروڑ روپے بنتے ہیں۔کیا خوب صورت دور تھا، جب نیو کراچی سے ٹاور تک سینما گھروں کو نئی فلم کی ریلیز کے موقع پر برقی قمقموں سے دُلہن کی طرح سجایا جاتا تھا۔سب سے زیادہ سینما کراچی کے علاقے صدر میں تھے، سینما گھروں کا ایک جال بچھا ہوا تھا، بدھ کے روز خواتین کے لیے فلم کے خصوصی شوز ہوتے تھے۔سینما گھروں میں قائم کینٹین کا اپنا حسن تھا، پان کے کیبن میں حسین یادیں قید ہیں، نئی فلموں کی ریلیز کے موقع پر خوب ہنگامہ ہوتا تھا، ٹکٹیں بلیک ہوا کرتی تھیں۔سینما گھروں میں پاکستان کے سیاست دانوں نے ہمیشہ گہری دل چسپی لی، سابق صدر آصف علی زرداری کا بھی سینما انڈسٹری سے تعلق رہا۔


لندن میں اداکاری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے اداکار طلعت حسین نے کراچی کے ایک سینما گھر میں ٹکٹ چیکر کے طورپر کام کیا۔سستی تفریح کی وجہ سے فلمیں اور ان کے گیت سپرہٹ ہوا کرتے تھے، جدید سینما گھروں کی ابتداء ندیم مانڈوی والا نے لاہور کے ڈی ایچ اے سینما سے کی اور اس میں سب سے پہلے جیو اور شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ نمائش کے لیے پیش ہوئی تھری ڈی سینما کا آغاز بھی کراچی سے ہوا، ایک زمانے میں کراچی کی گلیوں میں پردے پہ فلموں کی نمائش ہوتی تھی، ایک جانب حضرات اور دوسری جانب خواتین بیٹھ کر فلموں سے محظوظ ہوتی تھیں۔قیام پاکستان کے بعد فلم انڈسٹری نے تیزی کے ساتھ ترقی کی، فلم سازی کے کام میں تیز رفتاری کے سبب یہاں نئے سینما ہاؤسز کی ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا، جس کے نتیجے میں پُورے ملک میں نئے سینما تعمیر ہونے لگے، شہر کراچی میں یہ تعداد 126تک پہنچ گئی تھی۔کراچی کا شمار پاکستان میں سب سے زیادہ سینما گھر والے شہر میں ہوتا تھا، آج پورے پاکستان میں اتنے سینما گھر نہیں ہیں، جتنے کراچی میں ہوا کرتے تھے۔آج 2019ء میں کوئی بھی پاکستانی فلم صرف 80/70 سینما گھروں میں ریلیز کی جاتی ہے، جب کہ بھارت میں نئی فلم 5 ہزار سینما گھروں کی زینت بنتی ہے



صبیحہ 'سنتوش فلمی دنیا کی حسین اور با صلاحیت جوڑی

 

 یہ  1957 کا دور تھا پاکستان کی فلمی صنعت  ابھی اپنے قدم جما رہی تھی کہ  فلمی دنیا میں ایک حسین و جمیل اور باصلاحیت اداکارہ نے   فلمی اسکرین پر قدم رکھا اور راتوں رات شہرت کے بام پر  براجمان ہو گئ- صبیحہ خانم اُس دور کی پہلی ہیروئن تھیں، جب پاکستانی سنیما پر کام کرنے والی زیادہ تر ہیروئنز متحدہ ہندوستان کی فلموں میں بھی کام کرچکی تھیں۔ وہ پہلی ہیروئن تھیں، جو پاکستانی سرزمین پر پیدا ہوئیں اور اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بھی اسی سرزمین سے  ۔ 1950ء میں بہ طور اداکارہ پہلی بار انہوں نے پنجابی فلم ’’بیلی‘‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جس کے ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ یہ حُسن اتفاق ہے کہ ان کے خاوند اداکار سنتوش کمار کی بھی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس فلم میں صبیحہ کا کردار ثانوی تھا۔ فلم کی ہیروئن شاہینہ تھیں۔ ’’بیلی‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والے ان دونوں ستاروں کا تعلق آگے چل کر اس قدر مضبوط ہوگیا کہ دونوں جیون ساتھی بن کر کام یاب اور پُروقار ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔سنتوش کمار 11جون 1982ء میں اپنی بیگم صبیحہ کو داغِ مفارقت دے گئے۔


ان کے جانے کے بعد وہ ان کی بیوہ بن کر باقی زندگی تادم گزارتی رہیں۔ صبیحہ خانم 16دسمبر 1938ء کو پنجاب کے شہر گجرات میں پیدا ہوئیں۔ اُن کی والدہ اقبال بیگم اور والد محمد علی ماہیا نے محبت کی شادی کی تھی۔ والدہ کا گھرانہ ایک متمول زمیندار تھا، جب کہ ان کے والد ایک کوچوان تھے۔ والد اور والدہ دونوں فنی دُنیا سے وابستہ رہے۔ ان کی والدہ نے متحدہ ہندوستان کی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فن کار ماں باپ کی اس بیٹی مختار بیگم، صبیحہ خانم بننے کے لیے کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ ابتدائی حالات کے دُکھ، والدہ کی موت کے بعد ان کی زندگی غم و یاس کی تصویر بنی رہیں، کم سن اور معصوم مختار صرف نام کی مختار نہیں، ان کے والد نےکم عمری میں ہی انہیں اپنے اداکار دوست سلطان کھوسٹ (معروف اداکار عرفان کھوسٹ کے والد) کے توسط سے ریڈیو پر لے گئے، نو برس کی اس لڑکی نے جب ریڈیو لاہور پر اپنی مترنم آواز میں یہ نظم پڑھی’’؎ اے مائوں بہنوں بیٹیوں دنیا کی عزت تم سے ہے‘‘ تو سُننے والی تمام سماعتیں محو ہوگئیں۔


 سلطان کھوسٹ اس بچی کے اندر چھپی ہوئی ایک بڑی فن کارہ کو بھانپ چکے تھے۔ فلمی دُنیا سے متعارف ہونے سے کچھ عرصےقبل لاہور کے ایک اسٹیج ڈرامے ’’بت شکن‘‘ میں انہیں ہیروئن کا کردار ملا۔ اس ڈرامے کو معروف فلمی صنعت فلم ساز و ہدایت کار عزیز میرٹھی نے لکھا تھا اور اس اسٹیج ڈرامے کو نفیس خلیل نے ڈائریکٹر کیا تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں پہلی بار ان کا نام صبیحہ ایم اے لکھا گیا تھا۔ سلطان کھوسٹ نے مختار کو صبیحہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ’’بت شکن‘‘ ڈرامے کو دیکھنے کے لیے اُس وقت کی متعدد فلمی شخصیات آئیں، جن میں حکیم احمد شجاع، انور کمال پاشا، مسعود پرویز اور سبطین نسلی کے نام شامل تھے۔ ان لوگوں نے اس ڈرامے میں صبیحہ کی اداکاری دیکھنے کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کے لیے ان کے والد کی رضامندی حاصل کی۔ پہلی بار فلمی کیمرے کا سامنا انہوں نے ہدایت کار شکور قادری کی فلم ’’ہماری بستی‘‘ کے ایک منظر کو فلماتے ہوئے کیا، لیکن ’’ہماری بستی‘‘ سے قبل ان کی فلم ’’بیلی‘‘ ریلیز ہوگئی۔ ’’ہماری بستی‘‘ میں اداکاری کے ساتھ انہوں نے گلوکاری بھی کی۔ 



یہ دونوں فلمیں 1950ء میں ریلیز ہوئیں۔ اسی سال ہدایت کار انور کمال پاشا کی پہلی کام یاب پاکستانی اردو فلم ’’دو آنسو‘‘ ریلیز ہوئی، جس میں صبیحہ اور سنتوش کمار نے لیڈنگ رول کیے۔ بہ طور ہیرو ہیروئن یہ ان دونوں کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم کے دو ہدایت کار تھے ۔ انور کمال پاشا اور مرتضیٰ جیلانی اس فلم سے پاکستان کی فلمی صنعت نےاپنی کام یابی کا سفر شروع کیا۔ 1951ء میں پہلی بار بہ طور سولو ہیروئن صبیحہ خانم کو فلم ساز و ہدایت کار امین ملک نے اپنی فلم ’’پنجرہ‘‘ میں اداکار مسعود کے مدِمقابل ہیروئن کاسٹ کیا۔ یہ پاکستانی فلمی صنعت کا ابتدائی دور تھا ، جب چند ہیروئنز اور چندہیرو کام کرہے تھے ۔ صبیحہ خانم جیسی حسین و جمیل اداکارہ کوفلم بینوں نے بے حد پسند کیا۔ ان کی آمد نے باکس آفس کو بھی سپر ہٹ فلمیں دیں۔ 1953ء میں نمائش ہونےوالی انور کمال پاشا کی یادگار کام یاب فلم ’’غلام‘‘ وہ پہلی فلم تھی، جس میں باکس آفس پر صبیحہ کو سپر اسٹار کا اعزاز دیا۔


 اس فلم میں ان کے ہیئر اسٹائل کو خواتین فلم بین نے بے حد پسند کیا۔ اس فلم میں ان کے بالوں کے ایک خوب صورت اسٹائل کو اُس دور کی خواتین نے اپنایا۔ بیوٹی پارلرز میں خواتین صبیحہ کی طرح ہیئر اسٹائل بنانے پر اصرار کرتی تھیں -اپنے محبوب شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی عمر کے باقی ماہ وسال اپنے بچوں کے ساتھ گزارے اور آخری میں معمر اور باوقار زندگی  اور ماضی کی حسین و درخشاں  یادیں  چھوڑ کر خالق حقیقی کے پاس چلی گئیں

اتوار، 14 ستمبر، 2025

اردو شاعری کا ایک نفیس نام 'اطہر نفیس

 



شاعر اطہر نفیس کا اصل نام کنور اطہر علی خان تھا۔ وہ 1933ء میں علی گڑھ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی اسکول علی گڑھ سے حاصل کی اور پھر ان کا خاندان پاکستان چلا آیا جہاں کراچی میں اطہر نفیس نے ایک روزنامے میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہ ادبی صفحہ کے نگراں رہے اور اس کام کے ساتھ ان کی مشقِ سخن بھی جاری رہی۔پنی شاعری کے حوالے سے ان کی اپنی یہ رائے ہے کہ یہ جذبات و احساسات نیز تجربات و مشاہدات کے اظہار کا ذریعہ ہے کے نزدیک ایک اچھا شاعر زندگی کی اعلیٰ اخلاقی اور تہذیبی قدروں کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بلکہ انہیں اپنے اندر جینے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے ایمانداری سے اپنے عہد کی صداقتوں کو اپنی شاعری کے توسط سے پیش کرنے کی سعی کی ہے اور مسلسل تخلیقی ریاضت سے اردو شعرو ادب میں اپنی شناخت مستحکم کی ہے۔شاعری واقعتاً ایک الہامی کیفیت ہے جس کا نزول حساس دلوں پر ہوتا ہے۔شعر گوئی کے لئے کسی سند یا تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 



معروف گلوکارہ فریدہ خانم نے 60 کی دہائی میں جب ریڈیو اور بعد میں ٹیلی ویژن سے اپنی پہچان کا سفر شروع کیا تو کئی مشہور شعراء کا کلام ان کی آواز میں سنا گیا۔ ان کی گائی ہوئی غزلیں، گیت بہت پسند کیے گئے، لیکن ایک غزل نے فریدہ خانم کو ملک گیر شہرت اور مقبولیت عطا کی۔ شاعر تھے اطہر نفیس اور اس غزل کا مطلع تھا:

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا

کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچّا شعر سنائیں کیا

آج اردو زبان کے اسی معتبر غزل گو شاعر اور صحافی اطہر نفیس کی برسی ہے۔ وہ 1980ء میں وفات پاگئے تھے۔ اطہر نفیس نے اپنی منفرد شاعری اور لب و لہجے سے ادبی حلقوں اور باذق قارئین میں اپنی شناخت بنائی اور پاکستان کے معروف شعراء میں سے ایک ہیں۔ فریدہ خانم کی مدھر آواز میں اطہر نفیس کی غزل اس قدر مقبول ہوئی کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ہر پروگرام میں باذوق سامعین اور ناظرین اسے سننے کی فرمائش کرتے تھے۔ گلوکارہ فریدہ خانم جب میڈیا اور نجی محفلوں میں غزل سرا ہوتیں تو ان سے یہی غزل سنانے پر اصرار کیا جاتا تھا۔



ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی اطہر نفیس کے متعلق لکھتے ہیں ’’اطہر نفیس کی غزل میں نیا ذائقہ اور نیا آہنگ ملتا ہے۔ ان کے لہجے میں نرمی ہے۔ زبان کی سادگی ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔ ان کی عصری حسیات نے نئے شاعرانہ وجدان کی تشکیل کی ہے۔ احساس کی شکست و ریخت سے ان کو حظ ملتا ہے اور اس کی ادائی ان کی شاعری کو ایک منفرد آہنگ عطا کرتی ہے۔ اطہر نفیس بھیڑ میں بھی اکیلے نظر آتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کی آواز میں انفرادیت اور نیا پن ہے۔ وہ اپنے اظہار کیلئے نئی زمینیں تلاش کرکے لائے۔‘اردو کے اس معروف شاعر نے اپنے منفرد لب و لہجے، خوب صورت اور دل نشیں اسلوب سے ہم عصر تخلیق کاروں کے درمیان اپنی الگ پہچان بنائی۔ وہ اپنے تخلیقی وفور اور دل کش اندازِ‌ بیان کے سبب ادبی حلقوں اور قارئین میں مقبول تھے۔ اطہر نفیس نے اردو غزل کو خیال آفرینی اور اس کے ساتھ ایک خوب صورت، لطیف اور دھیما لہجہ عطا کیا۔ اطہر نفیس کی شاعری کا مجموعہ 1975ء میں ’’کلام‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا تھا۔

 

سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں

میرے تو کئی روپ ہیں کس روپ میں آؤں

کیوں آ کے ہر اک شخص مرے زخم کریدے

کیوں میں بھی ہر اک شخص کو حال اپنا سناؤں

کیوں لوگ مصر ہیں کہ سنیں میری کہانی

یہ حق مجھے حاصل ہے سناؤں کہ چھپاؤں

اس بزم میں اپنا تو شناسا نہیں کوئی

کیا کرب ہے تنہائی کا میں کس کو بتاؤں

کچھ اور تو حاصل نہ ہوا خوابوں سے مجھ کو

بس یہ ہے کہ یادوں کے در و بام سجاؤں

بے قیمت و بے مایہ اسی خاک میں یارو

وہ خاک بھی ہوگی جسے آنکھوں سے لگاؤں

کرنوں کی رفاقت کبھی آئے جو میسر

ہمراہ میں ان کے تری دہلیز پہ آؤں

خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ

اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں

رہ جائیں کسی طور میرے خواب سلامت

اس ایک دعا کے لیے اب ہاتھ اٹھاؤں

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا

اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا

وہ زہر جو دل میں اتار لیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا

پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں

ہم خود بھی کسی کے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی

جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے

بے جذبۂ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

 اچھا شاعر زندگی کی اعلیٰ اخلاقی اور تہذیبی قدروں کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بلکہ انہیں اپنے اندر جینے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے ایمانداری سے اپنے عہد کی صداقتوں کو اپنی شاعری کے توسط سے پیش کرنے کی سعی کی ہے اور مسلسل تخلیقی ریاضت سے اردو شعرو ادب میں اپنی شناخت مستحکم کی ہے

قلعہ گولکنڈہ سے قطب شاہی مقابر کا منظرپارٹ 2

 

 مقابر کی  عمارات  کی تعمیر کے لیئے ایران سے انجینئرز ، معماروں کی بڑی ٹیم  اور دوسرے ماہرین کو ایک مدعو کیا  گیا تھا۔گولکنڈہ  دکن کے خوبصورت ترین اور تاریخی یادگار قطب شاہی گنبدوں پر توجہ دے کر اسے پھر سے نئ  شکل دی ہے ۔قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر ہندوستان اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں تاکہ دکن اور ایران کے صدیوں پرانے ثقافتی تعلقات کا احیا ہوسکے۔ ہرے بھرے گھنیرے درختوں کے سائے تلے  وہ بلند کردار قطب شاہی خاندان کے ارکان آرام کررہے ہیں جنہوں نے 200 سال تک دکن پر حکومت کی اور دنیا کو چارمینار اور شہر حیدرآباد کا تحفہ دیا۔قطب شاہی گنبدوں میں خوبصورت نقش و نگار اور پچی کاری کا کام آج بھی ماضی کی شان و شوکت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ان میں حیات بخشی بیگم کا مقبرہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ماں صاحب کے نام سے مشہور اس خاتون نے تین قطب شاہی بادشاہوں کے دور میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ایک بادشاہ کی بیٹی، ایک حکمران کی بیوی اور حیدرآباد کے بانی محمد قلی قطب شاہ کی والدہ تھیں۔



اسی مناسبت سے ماں صاحبہ کے لیئے سب سے شاندار مقبرہ بنایا گیا تھا اور کئی سال کی مرمت اور تزئین کے بعد یہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ان گنبدوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایسے بلند مقام پر تعمیر کیئے گئے ہیں کہ دور دور سے ان کا نظارہ کیا جاسکتا۔ ان میں سے کچھ مقبرے دو منزلہ اور کچھ ایک منزلہ ہیں اور ان تک پہنچنے کے لیئے سیڑھیوں پر چڑھ کر بلندی تک پہنچنا پڑتا ہے۔ سارے مقبرے اور ان کی کمانیں اور فصیلیں بالکل متوازن انداز میں ایک ہی طرح سے بنائی گئی ہیں اور ہر عمارت کے وسط میں قبروں کی نشانیاں بنی ہوئی ہیں۔ایران اور انڈیا کا تعاون -قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر انڈیا اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں کسی زمانے میں ان تمام قبروں پر انتہائی قیمتی ، نیلے اور سبز رنگ کے کتبے لگے ہوئے تھے لیکن بعد میں انہیں چرالیا گیا۔اب ریاستی حکومت نہ صرف ان تمام گنبدوں بلکہ پورے ابراہیم باغ اور اس میں موجود حیات بخشی مسجد اور سرائے کو بھی بحال کرنا چاہتی ہے۔


ریاستی وزیر سیاحت و ثقافت ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کا کہنا ہے کہ 10 کروڑ روپے کے اس منصوبے کا مقصد اس علاقے کو اتنا خوبصورت اور پرکشش بنادینا ہے کہ اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں جگہ حاصل ہوسکے۔حیدرآباد میں واقع ایرانی قونصل خانہ بھی اس پراجیکٹ میں گہری دلچسپی لے رہا ہے ایرانی حکومت کے سینٹر فار ہیریٹیج مانومنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خوشنویس نے اس سلسلے میں ریاستی عہدیداروں سے بات چیت کی ہے۔حیدرآباد میں ایران کے قونصل جنرل حسین راوش کا کہنا ہے کہ ایران پہلی بار ملک سے باہر کسی تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیئے کام کرے گا۔ گیتا ریڈی نے بتایا کہ ایرانی ماہرین کی ایک ٹیم بہت جلد حیدرآباد کا دورہ کرے گی تاکہ منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ریاستی حکومت میں محکمہ سیاحت کی پرنسپل سکریٹری چترا رامچندرن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت قطب شاہی گنبدوں کے اطراف ایرانی طرز کے ایک باغ کو ترقی دی جائے گی جن میں باغیچے، کیاریاں اور جھیل ہوں گی۔ یہ باغ بالکل اصفہان کے باغ کے طرز پر بنایا جائے گا۔



حال ہی میں اصفہان کے دورے سے واپس لوٹیں گیتا ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اصفہان اور حیدرآباد کی مماثلت دیکھ کر حیران رہ گئیں اور خود ایرانی عہدیدار بھی اس سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے بھی اس پراجیکٹ کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔یہ نقش و نگار ایران کی قدیم تعمیرات سے گہری مماثلت رکھتے ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہریاستی حکومت کو امید ہے کہ پھر ایک بار ایرانی ماہرین کے یہاں آنے سے نہ صرف ان یادگاروں کی اصل خوبصورتی اور رونق بحال ہوگی اور حیدرآباد سیاحت کے عالمی نقشے پر ایک اہم منزل بن کر ابھرے گا بلکہ ایران اور حیدرآباد کے قدیم تعلقات بھی پھر ایک مرتبہ اسی عروج پر پہنچیں گے۔حکومت اس منصوبے کو اس انداز میں روبہ عمل لانا چاہتی کہ ان مقبروں اور دوسری عمارتوں کی اصل حیثیت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ ایرانی ماہرین چارمینار، اور قلعہ گولکنڈہ کی تزئین اور بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ حیدرآباد کے شاندار تاریخی ورثے کا تحفظ ہوسکے۔ گیتا ریڈی نے امید ظاہر کی کہ یہ پراجیکٹ حیدرآباد کی خوبصورتی میں چار چاند لگادے گا۔1912ء میں صدر المہام حیدرآباد نواب میر یوسف علی خان، سالارجنگ سوم نے اِن مقابر کی بحالی و مرمت کا حکم جاری کیا۔اِس احاطہ میں ایک نیا کنواں کھدوایا گیا اور ایک خوشنماء باغ دوبارہ لگایا گیا۔

تحریر انٹر نیٹ  کی مدد سے  لکھی گئ  ہے 

ہفتہ، 13 ستمبر، 2025

گولکنڈہ 'باغ ابراہیم میں قطب شاہی سلاطین کے مقابر

 



جنوبی ہندوستان کا  قدیم شہر گولکنڈہ ایک ایسا شہر ہے جس کی تعمیرات اس کو کسی زمانے میں قدیم نہیں ہونے   دیتی ہیں گولکنڈہ کے روشن راستوں  پر چلتے ہوئے ہر قدم پر احساس ہوتا ہے کہ آپ خود اسی دور میں سانس لے رہے ہیں  جس میں گولکنڈہ سانس لے رہا ہے '  قطب شاہی مقابر گولکنڈہ، موجودہ حیدرآباد، دکن، بھارت میں واقع قطب شاہی سلطنت کے حکمرانوں کے مقابر ہیں۔ اِن مقابر کو قطب شاہی سلطنت کے طرزِ تعمیر کا شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد، دکن، میں یہ مقابر قدیم طرزِ تعمیر اور اسلامی معماری کے امتزاج کا نمونہ ہیں۔ یہ مقابر 1543ء سے 1687ء تک تعمیر کیے جاتے رہے۔ قطب شاہی سلطنت کے چھ حکمران یہیں مدفون ہیں۔  درجنوں تاریخی مساجد میں مکہ مسجد سے مشابہت رکھنے والی قطب شاہی سلطنت کے چوتھے بادشاہ ابراہیم قلی قطب شاہ کی جانب سے سنہ 1550 میں تعمیر کردہ مسجد ابراہیم باغ کا نام بھی قابل ذکر ہے یہ مسجد مکہ مسجد سے 20 کلو میٹر دور قلعہ گولکنڈہ کے قریب واقع ہے لیکن یہ وقف بورڈ اور حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ مسجد ابراہیم باغ زمین سے 200 فٹ اونچائی پر ہے۔ اس مسجد میں بیک وقت ایک ہزار مصلی نماز ادا کرسکتے ہیں۔


موجودہ حیدرآباد، دکن، بھارت میں قلعہ گولکنڈہ کے شمالی دروازے یعنی بنجارا دروازے سے شمال کی جانب موجودہ بڑا بازار روڈ سے گزرتے ہوئے مزید شمال کی جانب چلتے جائیں تو 1.8 کلومیٹر کے فاصلہ پر قطب شاہی مقابر کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ پیدل چلنے پر یہ راستہ 10-12 منٹ کی مسافت کا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ مقام ابراہیم باغ کہلاتا ہے۔ شارع بڑا بازار سے شمال مشرق کی جانب داخل ہوں تو یہ سڑک شارع سات مقبرہ (Seven Tombs Road) کہلاتی ہے۔قلعہ گولکنڈہ سے دیکھنے پر یہ مقابر نظر آتے ہیں۔یہ مقبرے ایک ہموار سطح زمین پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ مقبروں کی عمارت ایک بلندپختہ  اینٹوں  کے چبوتروں سے شروع ہوتی ہے۔ عمارت مربع چوکور نما ہے جن پر درمیان میں ایک گنبد کلاں مدور شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ گنبد اولاً نیلی اور سبز رنگ کی کاشی کار ٹائیلوں سے مزین تھے مگر امتدادِ زمانہ کے باعث اب صرف   پختہ اینٹوں  اور چونے کے رنگ کے باعث دیکھنے میں سیاہ نظر آتے ہیں۔



 تمام مقابر کی عمارات پرگنبدِ کلاں کے ساتھ چار  چھوٹے  گنبد  نما مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو کم بلند ہیں۔ عمارت   پر سیاہ مرمر لگایا گیا ہے جو زمانہ دراز گزرنے پر بھی سیاہی مائل دکھائی دیتا ہے اور اِس رنگ میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔عمارات میں سرخ پتھر کو بطور اینٹ کے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ عمارات بیک وقت ہندوستانی اور اسلامی معماری کا امتزاج دکھائی دیتی ہیں۔ مقبروں کی عمارات کے ساتھ خوشنماء باغ لگائے گئے تھے۔ 2015ء میں ان باغات کی بحالی و مرمت کا کام کیا گیا ہے۔یہ مقام پہلی بار بطور شاہی قبرستان کے 1543ء میں اختیار کیا گیا جب سلطان قطب شاہی سلطنت قلی قطب الملک کا انتقال ہوا۔ قلی قطب الملک کے مقبرے کا زمینی چبوترا چہار جانب سے 30 میٹر بلند ہے۔ مقبرہ ہشت پہلو ہے اور مقبرے کی ہر دیوار کی چوڑائی 10 میٹر ہے۔ مقبرہ پر ایک  راؤنڈشکل گنبد  ہے جو دور سے دیکھنے پر تاجِ شاہی نظر آتا ہے۔ اِس مقبرہ کے اندرونی جانب میں تین قبور اور بیرونی جانب 21 قبور ہیں۔ مقبرہ کا کتبہ شاہی خط ثلث، خط نسخ میں کندہ کیا گیا ہے۔ اِس کتبہ میں قلی قطب الملک کو بڑے مالک لکھا گیا ہے جو دکن کی عوام اُنہیں پکارا کرتی تھی۔



یہ مقبرہ 1543ء کے اواخر تک مکمل ہوگیا تھا۔اس سرزمین کو سب سے پہلے حضرت بابا شرف الدین 585۔687ھ) نے اپنے بابرکت قدموں سے تقدس اور وقار عطا کیا۔ آپ اپنے مرشد شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کی ہدایت پر عراق سے ہندوستان تشریف لائے اور نوبرس تک یہاں کے مختلف شہروں میں قیام کرنے کے بعد قطب شاہی سلطنت کے قیام سے پہلے654ھ میں دکن پہنچے(3)۔ حضرت بابا شرف الدین کے ساتھ آپ کے دوبھائیوں بابا شہاب الدین اور بابا فخرالدین کے علاوہ ستّر مریدین بھی شامل تھے۔ آپ نے اپنے قیام کے لیے ایک بلند پہاڑی کا انتخاب فرمایا تھا جو آج بھی آپ ہی کے نام سے موسوم ہے۔ حضرت باباشرف الدین نے کم وبیش37 سال تک باشندگانِ دکن کو اپنے روحانی فیض سے مالا مال کیا۔ آج بھی آپ کا آستانۂ مبارک حیدرآباد اور اس کے اطراف واکناف کے مسلمانوں اور ہندوؤں کی زیارت گاہ بناہوا ہے۔قطب شاہی گنبد- قطب شاہی خاندان ایرانی نژاد تھا اور اس با زوق خاندان  نے  اپنی تعمیرات میں محلات تاریخی یادگاروں اور مقبروں کا جو ورثہ چھوڑا ہے اس پر ایرانی طرز تعمیر کی چھاپ بالکل نمایاں ہے۔ 

جاری ہے

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر