بدھ، 17 ستمبر، 2025

فیروز خان نون 'قیام پاکستان کے ہراول دستے کا سپاہی

  




 فیروز خان نون 'قیام پاکستان کے ہراول دستے کا سپاہی کہنا بلکل بیجا  نہیں ہوگا  تحریک آزادئ ہند جو ازاں بعد  قیام پاکستان  میں بدل گئ  اس قیام پاکستان کے ہراول دستے کے صف اول کے  سپاہی  فیروز خان نون بھلوال سرگودھا سے تعلق رکھنے والے  امیر کبیر    زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور انگلستان سے انہوں نے بیرسٹری کے بعد اس وقت وکالت کی جب ابھی تحریک پاکستان کا آغاز ہورہا تھا ۔ کم عمری میں سیاست میں حصہ لیتے ہوئے وہ وزیر دفاع،وزیر خزانہ ،مغربی پنجاب(موجودہ) کے گورنر و وزیر اعلٰی رہے ۔قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں خارجہ تعلقات کی بنیادیں مضبوط بنانے کے لئے اپنا معتمد خاص بنا کر اسلامی ملکوں میں بھیجا تھا لہذا انہیں سیاست اور ملکی نظام چلانے کا بہت تجربہ تھا، ملک فیروز خان نون11 دسمبر 1957ء کو ملک فیروز خان نون ، پاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔!  ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958ء کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ واپس مل گیا تھا۔  ؟



ء میں بمبئی میں فیروز نون نے وکٹوریہ ریکھی نام کی   ایک  انگریز لڑکی سے دوسری شادی کر لی اور شادی سے قبل ریکھی نے ا سلام قبول کر لیا اور اِن کا اسلامی نام وقارالنسا نون ہوگیا بعد میں اُنہیں وکی نون بھی کہا جاتا رہا۔ فیروز نون نے تاریخ میں ڈگری حاصل کی تھی اور عالمی اور قومی سیاست پر بھی اُن کا گہرا مطالعہ تھا پھر 1945 ء میں جب وہ اقوام متحدہ میں مستقل رکن بنے تو دوسری جنگ عظیم کے بعد بدلتی دنیا جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہو ئے اُنہیں قیام پا کستان ، کشمیر اور ساتھ ہی گوادر کی اہمیت کا اندازہ بھی تھا اور اُن کی سیاسی بصیرت مستقبل میں اس تناظر میں ہونے والے فیصلوں کے امکانات اور اندیشوں سے بھی واقف تھی،پھر خصوصاً جب نون نے قائد اعظم کی ہدایت پر سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا تو آج کی متحدہ عرب امارات ، سلطنت عمان، ایران ،بھارت کے تناظر میں وہ پاکستان کے بحیرہ عرب پر ساحل مکران میں 2400 مربع میل کے گوادر ا ینکلیو کی اہمیت سے خوب واقف تھے اور غالباً اس پر قائد اعظم اور اُن کے درمیان گفتگو بھی ہوئی ہوگی۔ن کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958ء کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ واپس مل گیا تھا۔  ؟


  فیروز خان نون آکسفور ڈ جانے سے قبل بھی وہاں فٹبال اور ہاکی کے اچھے کھلاڑی کے طور پر متعارف ہو چکے تھے اور پھر واڈہیم کالج میں 1916 ء میں ہسٹری اور فارسی میں گریجویشن کرنے تک وہ اپنے کالج کی فٹ بال ٹیم کے ایک اچھے کھلاڑی رہے اور Isis Club کی جانب سے بھی فٹبال کھیلتے رہے ، اس دوران جب وہ برطانیہ میں زیرتعلیم تھے وہ امریکہ کی یو نیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ بھی گئے اور کوششیں کیں مگر واپس آکسفورڈ آگئے۔ وہ کالج کی تعلیم کے دوران اپنی پُرکشش شخصیت کی وجہ سے انگریزاور ہندوستانیوں طالب علموں میں اپنا خاض اثرو رسوخ پیدا کر چکے تھے۔اُن کے والد کی ہدایت کہ وہ بر طانوی کلچر کو اچھی طرح سمجھیں اس لیے وہ عموماً اعلیٰ سطحی تقریبات میں ضرور شرکت کیا کر تے تھے جہاں انگریزی ثقافت، تہذیب اور ادب کو سمجھنے کے مواقع میسر ہو تے تھے۔ یوں فیروز نون اپنی تعلیم کے دوران برطانیہ میں اعلیٰ طبقے میں اپنے دیگر ہم عصر ہندوستانیوںکے مقابلے میںکافی گہرے مراسم بنا چکے تھے پھر جب وہ 1916 ء میں بیرسٹر ان لا یعنی قانون کی ڈگری کے لیے لندن آئے تو یہاں بھی اِن مراسم میں اضافہ ہوا



، واضح رہے کہ اِن لارڈ اور اہم شخصیات کی اکثریت آنے والے دنوں میں برطانیہ میں ہاوس آف لارڈز اور ہاوس آف کامن کی رکن رہی اور اقتدار میں وزارتوں پر فا ئز رہی۔فیروز خان نون، برطانوی ہند کے اُس وقت کے ڈسٹرکٹ خوشاب میں 7 مئی 1893 ء کو پیدا ہوئے، اُن کا خاندان اپنی دولت اور علم وفضل اور نیک نامی کے سبب پورے پنجاب میں مشہور تھا۔ اُن کے آباؤ اجداد بھٹی راجپوت تھے، جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ مقامی سطح پر اسکول کی تعلیم مکمل کر نے کے بعد اور 1912 ء میں  کالج میں زیر تعلیم رہے س۔ پھر جب وہ 1916 ء میں بیرسٹر ان لا یعنی قانون کی ڈگری کے لیے لندن آئے تو یہاں بھی اِن مراسم میں اضافہ ہوا، واضح رہے کہ اِن لارڈ اور اہم شخصیات کی اکثریت آنے والے دنوں میں برطانیہ میں ہاوس آف لارڈز اور ہاوس آف کامن کی رکن رہی اور اقتدار میں وزارتوں پر فا ئز رہی۔جب فیروز خان نون 1917 ء میں وہ واپس ہندوستان آئے تو ابھی 1914 ء سے شروع ہو نے والی جنگ عظیم اوّ ل کے ختم ہو نے میں ایک سال باقی تھا اور روس میں لینن اشتراکی انقلاب لے آئے تھے،1918 ء میں جنگ عظیم اوّل کے خاتمے پر جہاں ترکی کی سلطنت عثمانیہ بکھر گئی تھی - برطانیہ سمیت دیگر یورپی اتحادی بھی جنگ کے بڑے اخراجات اور نقصانات اٹھانے کے بعد کمزور ہو چکے تھے

  



1 تبصرہ:

  1. یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے قہام میں ان مخلص لوگوں کی دامے درمے سخنے قدمے کاوشیں شامل تھیں

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر