ہفتہ، 6 ستمبر، 2025

سورائسز کے امراض میں بھٹے کے بالوں سے پائیدار علاج ممکن ہے-پارٹ'2

  








 

  یہ  بات تو ہر زی شعور جانتا ہے کہ اللہ پاک قادرو قدیر نے دنیا کی کوئ بھی شئے بیکار نہیں پیدا کی  ہے  اب دیکھ لیجئے بھٹہ  جو کہ  عام سی کھانے والی شے ہے اس کے اندر سورائسز جیسی تکلیف دہ بیماری کے لئے کیسی بہترین شفا رکھی ہےبھٹے کے بالوں کی چائے تین مہینے لگاتار استعمال سے سورائسز جیسی موزی بیماری سے مکمل نجات مل جاتی ہے  بھٹے کے  اوپر پائے جانے والے سنہری بالوں کی اہمیت اور اس  (کارن سلک)کے حیرت انگیز صحت سے متعلق فائدے 'ہم جب بھی بھٹہ کھاتے ہیں  اس کے اوپر موجود    ریشمی  دھاگوں  کو بھٹے سے علیحدہ  کر کے پھینک دیتے ہیں، ان ریشوں میں صحت کا وہ انمول خزانہ چھپا ہے کہ  آپ  کو جان کر حیرانی  ضرور ہو گی کیونکہ ان ریشوں کو، جسے کارن سلک بھی کہا جاتا ہے، ایسی چائے بنائی جا سکتی ہے جو صحت کے لیے بہت سے فوائد کے ساتھ آتی ہے۔مکئی کے موسم میں  اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ مکئی کی سلک چائے کو آزمائیں گے ۔ یہ جڑی بوٹیوں والی مشروب سے لطف اندوز ہونا آسان ہے۔ چاہے آپ کسی خاص مسئلے کا علاج کرنا چاہتے ہیں، 




 

 یہاں تک کہ اگر آپ اس چائے کے وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس کی وجہ سے اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔کارن سلک کے حقائق  مکئی کے ریشم میں انتہائی موثر ہیں۔ اس میں پودوں کے تیزاب بھی ہوتے ہیں جو   جلد کی حالتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم میں گلوکوز کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔کارن سلک کا استعمال کرنے کا سب سے عام طریقہ چائے کی شکل میں ہے۔ آپ کو یقینی طور پر اپنے گھر میں کارن سلک ٹی کو ایک اہم غذا بنانا چاہیے۔ کارن سلک ٹی اور اس کی خوبی:مکئی کی سلک چائے پر مسلسل تحقیق کی جارہی ہے اور یہ کہ یہ آپ کی صحت کو کیسے فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ اگر آپ ایک ہلکے، قدرتی علاج کی تلاش میں ہیں جو آپ کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے، تو یہ ایک بہترین آپشن ہے جسے آپ کو ضرور آزمانا چاہیے۔ اس کا ذائقہ بہت اچھا ہے اور یہ اینٹی آکسیڈینٹس، وٹامنز اور معدنیات سے بھری ہوئی ہے۔اس میں پولی فینول بھی پائے جاتے ہیں جو کہ بہت سی بیماریوں کو دور رکھتے ہیں۔


یہ مکئی کی ریشم کی چائے کو ایک فائدہ مند مشروب بناتا ہے، چاہے آپ کسی خاص حالت کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہوں یا صرف اپنی عمومی مجموعی صحت کو بہتر بنانا چاہتے ہوں۔محققین کے مطابق کارن سلک کے دیگر فوائد بھی ہیں۔یہ پروسٹیٹ، موٹاپا، PMS اور کارپل ٹنلسنڈروم سمیت حالات کے لیے ایک مؤثر قدرتی علاج پایا جاتا ہے۔ لہذا، جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، روزانہ ایک یا دو کپ کارن سلک چائے پینے سے آپ کے جسم پر بہت سے شاندار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مکئی کی سلک چائے بہت سے ضروری غذائی اجزاء حاصل کرنے اور بیماریوں اور بیماریوں کی ایک وسیع رینج کا علاج اور روک تھام کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔یہ ایک قدرتی علاج ہے جسے آپ اپنی روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنانے پر غور کریں اور ایسے بہت سے فوائد حاصل کریں جو کہ دوسری غذائیں آپ کو نہیں دے سکتیں۔


مکئی کے ریشے بال کا طبی استعمال ہ و  وا کے طور پر بھی کام کرے اور اگر ہم ان کو ایک ساتھ نہیں کھا سکتے تو ہم صرف ریشم کو بطور دوا لینے کے طریقے تلاش کریں۔موٹاپے سے لڑنے میں مدد کرتا ہے:موٹاپا آج کل انسانی آبادی کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرنے والا ایک بڑا صحت کا خطرہ ہے۔ اگرچہ موٹاپا جینیات سمیت ایک سے زیادہ عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے، کچھ لوگ جسم میں پانی کی زیادہ برقراری اور زہریلے مادوں کے جمع ہونے کی وجہ سے زیادہ وزن اٹھاتے ہیں۔چونکہ مکئی کا ریشم جسم سے اضافی پانی اور فضلہ کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے، اس لیے ایسے لوگوں کو وزن بڑھنے سے بچنے میں مدد ملے گی۔ زیادہ سے زیادہ فوائد کے لیے وہ دن میں دو یا تین بار یہ چائے پی سکتے ہیں۔ تاہم یہ خیال کرنا غلط ہوگا کہ یہ موٹاپے کا علاج ہے۔کولیسٹرول سے لڑنے میں مدد کرتا ہے:خون کے دھارے میں کولیسٹرول طویل مدت میں کئی سنگین بیماریوں کے آغاز کا باعث بنتا ہے (بشمول دل کی پیچیدگیاں)۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنا صحت مند رہنے اور دل کے خطرات سے بچنے کی کلید ہے


 مکئی کے ریشم کا استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا ہےگاؤٹ نقرس کو کم کرتا ہے ۔ یہ گاؤٹ سے وابستہ درد کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ دن میں 3 کپ کارن سلک چائے پینے سے شروع کریں۔ ایک بار جب آپ درد سے آرام حاصل کرتے ہیں. بستر پر پیشاب نکل جانےکا علاج کرتا ہے ماہرین اس مسئلے کے علاج کے لیے سونے سے پہلے 1 کپ کارن سلک ٹی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔گردے کے مسائل سے نمٹنے میں مدد کر  تا  ہے ، بشمول دردناک پیشاب، پیشاب کی نالی کا انفیکشن، مثانے کا انفیکشن، پیشاب کے نظام کی سوزش، گردے کی پتھری۔گردے کی پتھری چھوٹے کرسٹلائزڈ ذخائر سے بنی ہوتی ہے جو درد اور جھنجھلاہٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ گردے کی پتھری کو روکنے کے لیے مکئی کا ریشم قدیم زمانے سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ مکئی کے ریشم کا استعمال پیشاب کے بہاؤ کو بڑھا تا ہے اور گردے میں تلچھٹ بننے کے امکانات کو کم کر سکتا ہے، جو کہ آخر کار گردے کی پتھری کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، یاد رکھیں کہ اس کے استعمال سے گردے کی پتھری کا علاج نہیں ہوگا جو پہلے سے موجود ہیں۔وٹامن سی فراہم کرتا ہے:مکئی کی ریشہ بالوں کی چائے سے آپ کو وٹامن سی کی بھرمار ملتی ہے۔ یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو فری ریڈیکلز اور قلبی امراض کے نقصان کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خون کی گردش کو بھی متحرک کرتا ہے، جو جسم کے تمام اہم اعضاء کے بہترین کام کے لیے ضروری ہے۔- 

جمعہ، 5 ستمبر، 2025

سورائسز کے امراض میں بھٹے کے بالوں سے پائیدار علاج ممکن ہے -پارٹ'1

 

  مرض کوئ بھی ہو   بہر حال تکلیف دہ ہو  تا ہے لیکن   جلدی بیماری کا  بہت تکلیف دہ  ہوتی ہے -سورائسز  ایک جِلدی بیماری ہے، جسے چنبل بھی کہا جاتا ہے۔پاکستان میں اس مرض کے پھیلائو کی شرح آبادی کے اعتبار سے اندازاً 5فی صد، جب کہ پوری دُنیا میں اوسطاً 2تا3فی صد پائی جاتی ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سورائسز متعدّی مرض ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔سورائسز کی کئی اقسام ہیں۔ایک قسم جس میں عام طور پرکمر اور سینے پر سُرخی مائل بارش کے قطرے کی مانند 2سے3ملی میٹر حجم کے دائرے (جن پر چھلکے بنے ہوتے ہیں) نمودار ہوکرخارش کا سبب بنتے ہیں۔ ایک اور قسم میں یہ مرض بغل، جوائنٹس  اور زیریں سینے میں ظاہر ہوتا ہے،جس سےمتاثرہ جگہ سُرخی مائل ہوجاتی ہے، مگر چھلکے نظر نہیں آتے۔ سورائسز کی سب سے عام قسم میں سُرخی مائل دائروں میں چاندی کی مانند چمکتے باریک چھلکے پائےجاتے ہیں زیادہ تر مریضوں کو ان میں خارش محسوس ہوتی ہے۔ اس قسم میں مرض سَر، گردن، کلائی، ٹانگ، ناف کے گرداور کولھوں کو متاثر کرتا ہے۔

1

مرض کی شّدت کبھی کم اور کبھی بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ کھجانے پر نقطے کے برابر خون نظر آتا ہے۔ بعد ازاں، چھلکے والی جگہ خشک ہو جاتی ہےاس مرض میں جسم پر لال رنگ کے چمک دار چھلکوں کی مانند اُبھار بنتے ہیں، جو کھجانے پر جَھڑ جاتے ہیں۔ یہ مرض لاحق ہونے کے کئی اسباب ہیں، جن میں موروثیت، مدافعتی نظام کی کم زوری، گلے کا انفیکشن، انجیکشنز کے اثرات، ملیریا کی چند ادویہ، کوئی چوٹ، ذہنی دباؤ اور سورج کی تمازت وغیرہ شامل ہیں۔سورائسز کا مرض شیرخوار بچّے سے لےکرستّر سال کے معمر فرد کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔سورائسز کی ایک اور قسم میں ہتھیلیوں اور تلووں پر پیپ بھرے خارش والے دانے بن جاتے ہیں،جن سےمریض کے لیے چلنا پھرنا، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا اور دیگر ضروری امور انجام دینا خاصامشکل امر بن جاتا ہے۔بعض اوقات سورائسزخشک ہونے پر جِلد موٹی ہوجاتی ہے، نتیجتاً ادویہ مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔سورائسز کی ایک قسم میں جسم ،خصوصاً ہاتھ، پائوں کی انگلیوں کے جوڑ متاثر ہوجاتے ہیں۔ جوڑ متوّرم ہونے سے شدید درد محسوس ہوتا ہے،بسا اوقات ہاتھ ، پاؤں مُڑ بھی جاتے ہیں۔ چلنے پھرنے اور دیگر امور کی انجام دہی میں سخت دشواری پیش آ تی ہے۔ دوسری جانب، جِلدی خارش بھی چین نہیں لینے دیتی اور مریض دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے۔اندازاً 10تا 30فی صد سورائسز کے مریضوں میں جوڑ متاثر ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ سورائسز کی ایک قسم میں ناخن متاثر ہوکر کھردرے، بد رنگ ہوجاتے ہیں، ان کی سطح پر گڑھے، لائنیں بن جاتی ہیں، جب کہ ناخن کے نیچے کی جِلد موٹی ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ناخن موٹے ہو کر جڑ سے علیٰحدہ بھی ہوجاتے ہیں۔ 

2

واضح رہے، اگر سورائسز جوڑوں کاہو،تو ناخن زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جب کہ دیگر اقسام میں ناخن زیادہ خراب نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ اگر سورائسز منہ کے اندر اور باہر اثرانداز ہو، تو ہونٹ سُرخی مائل اور خشک رہتے ہیں۔بعض کیسز میں منہ کی اندرونی سطح پر انفیکشن شدید تکلیف کا باعث بنتا ہے۔  زبان کے اوپر سفید دھاریاں نمودار ہوجاتی ہیں۔ سورائسز کی ایک قسم میں آنکھوں کے اندر سُرخی اور جلن محسوس ہوتی ہے، جب کہ پپوٹوں کی جِلد پر بننے والے سورائسز کے چھلکوں اور خارش سے انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔ سب سے شدید قسم میں سورائسز پورے جسم میں پھیل کر90فی صد جِلد کو سُرخی مائل، چھلکوں سے بَھر دیتا ہے۔ مریض کوجوڑوں، منہ، ناخن، آنکھوںاور سَر میں شدیدخارش، جلن اور بے چینی محسوس ہوتی ہے اور انفیکشن بھی ہوجاتا ہے۔ بخار کی کیفیت اور کیلشیم، معدنیات کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔نیز، جِلد کا درجۂ حرارت کبھی بڑھ جاتا ،تو کبھی کم ہوجاتا ہے، کیوں کہ بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے والی جِلد خود کم زور ہوچُکی ہوتی ہے۔


3

جسم کا اندرونی نظام متاثر ہونے کے نتیجے میں نمونیا، دِل فیل ہوجانا، خرابیٔ جگر اور ذیابطیس جیسے عوارض اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔ مریض بتدریج کم زور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر زیادہ ملی گرام کی ادویہ استعمال کروائی جائیں، تو ان کے مضر اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچّوں میں سورائسز کی ایک قسم نیپکن سورائسز کہلاتی ہے، جو دو تا آٹھ ماہ کی عُمر میں بچّوں کے چڈّوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ابتدائی علامات کیا ہیں، جن کی بدولت تشخیص ممکن ہوسکے سورائسزکی ابتدائی علامات میں سب سے نمایاں علامت سُرخی مائل چھوٹے یا بڑے دھبّے ہیں، جن پر چاندی کی مانند چمکتے ہوئے چھلکے پائےجاتے ہیں۔ جب ان چھلکوں کو ہٹایا جائے، تو نیچے کی جِلد نہ صرف سُرخی مائل نظر آتی ہے، بلکہ یہاں نقطے کے برابر خون کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں، جو تشخیص میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔، لیکن سورائسز میں متاثرہ جگہ پر ایپی ڈرمس 4 تا 7 دِنوں میں نمو پاتی ہے، جس پر چھلکے تہہ بن کر چپک جاتے ہیں۔ چوں کہ متاثرہ جِلد کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے، تو خون کی باریک باریک نالیاں بھی یہاں زیادہ مقدار میں خون فراہم کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ متاثرہ جلد کی رنگت سُرخی مائل ہو جاتی ہے اور چھلکے کھرچنے پر خون کے نقطے دکھائی دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ یہ مرض لاعلاج ہے، تو کیاایسا ہی ہے؟-اس مرض میں بھٹے کے بالوں سے انتہائ شاندار علاج ممکن ہے جس کی تفصیل اس مضمون کی اگلی قسط میں  آپ کو پڑھنے کو ملے گی 


 

جمعرات، 4 ستمبر، 2025

عبید اللہ بیگ پاکستان کی علمی دنیا کا ایک بڑا معتبر نام

 

عبید اللہ بیگ پاکستان کی علمی دنیا کا ایک بڑا معتبر نام ہو کے گزرا ہے   'ویسے تو ان کا نام فلمساز'مترجم اور دانشور کے طور پر پہچانا جاتا ہے   لیکن وہ معلوماتِ عامّہ کے  پروگرام  کے سنگھاسن پر بیٹھے  جہاں سے ان کی شہرت اور مقبولیت کو چار چاند لگ گئے -ان کو در حقیقت  ایسی قابل و باصلاحیت شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جن کی وجہِ مقبولیت ’کسوٹی‘ بنا۔ یہ پاکستان ٹیلی ویژن کا معلوماتِ عامّہ پر مبنی پروگرام تھا۔ عبید اللہ بیگ اس پروگرام میں اپنی ذہانت، قوی حافظے اور وسیع مطالعے کے سبب کسی شخصیت یا کسی شے کو بوجھنے میں کام یاب رہتے اور ناظرین دنگ رہ جاتے تھے۔وہ ایک لائق فائق انسان تھے جن کی شہرت ایک شفیق اور منکسر مزاج کے طور پر بھی تھی اور یہی وجہ ہے عبید اللہ بیگ کو علمی و ادبی حلقوں اور ذرائع ابلاع میں بھی نہایت ادب و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ معلوماتِ عامہ کا میدان عبیداللہ بیگ کی بنیادی شناخت ہے۔ان کا خاندان بھارت کے شہر رام پور سے 1951ء میں ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ یہاں کراچی میں سکونت اختیار کرنے والے عبید اللہ بیگ کا بچپن اور نو عمری کا دور رام پور اور مراد آباد میں گزرا۔


 ان کے خاندان کے اکثر مرد شکار کے شوقین تھے اور عبید اللہ بیگ بھی اپنے بڑوں کے ساتھ اکثر شکار کھیلنے جایا کرتے تھے۔ اسی نے ان کے اندر سیر و سیاحت کا شوق پیدا کیا۔ انھیں اس دوران فطرت کو سمجھنے کا موقع ملتا اور وہ اپنی عقل اور ذہانت سے کام لینے کے قابل ہوئے۔کسوٹی وہ پروگرام تھا جس میں افتخار عارف، قریش پور اور غازی صلاح الدین جیسی نام ور اور قابل شخصیات بھی عبید اللہ بیگ کے ساتھ رہیں۔ یہ تمام ہی اپنے وقت کے نہایت قابل و عالی دماغ لوگ تھے۔  لیکن وہ ایک مدیر، صدا کار، دستاویزی فلم ساز، ناول اور ڈرامہ نگار، فیچر رائٹر، سیاح اور شکاری بھی تھے۔ ٹیلی ویژن کے بعد وہ ماحولیات کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم سے منسلک ہوگئے تھے جہاں بقائے ماحول کے لیے رپورٹنگ کے ساتھ انھوں نے بطور ماہرِ ابلاغ نئے آنے والوں کی تربیت بھی کی۔ عبید اللہ بیگ پاکستان ٹیلی وژن کے صدر دفتر میں شعبۂ تعلقاتِ عامّہ سے بھی منسلک رہے اور ایک جریدہ ’’ٹی وی نامہ‘‘ بھی جاری کیا تھا۔عبید اللہ بیگ کا اصل نام حبیب اللہ بیگ تھا۔


 ان کے والد محمود علی بیگ بھی علم دوست شخصیت تھے اور یوں گھر ہی میں مطالعہ کی عادت اور کتابیں پڑھنے کا شوق پروان چڑھا۔ عبید اللہ بیگ نے پاکستان ٹیلی وژن کے متعدد پروگراموں کے میزبان بھی رہے جن میں پگڈنڈی، منزل، میزان، ذوق آگہی اور جواں فکر کے علاوہ ایک تقریبِ اسلامی سربراہی کانفرنس بھی شامل ہے۔ حکومتِ پاکستان نے عبید اللہ بیگ کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔ریڈیو پاکستان کے لیے بھی عبید اللہ بیگ کام کیا اور اپنی منفرد آواز کے سبب ریڈیو کے سامعین میں مقبول رہے۔ ٹی وی پر کسوٹی سے پہلے ‘سیلانی’ کے نام سے بھی ان کا ایک فلمی دستاویزی پروگرام شروع ہوا تھا جسے چند وجوہ کی بناء پر بند کر دیا گیا۔ پی ٹی وی کے لیے عبید اللہ بیگ نے تین سو سے زائد دستاویزی فلمیں بنائیں جن کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی فلم وائلڈ لائف اِن سندھ کو 1982ء میں 14 بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ عورتوں کے مسائل پر ایک فلم کو 18 زبانوں میں ترجمہ کرکے نشر کیا گیا۔


 سندھ میں قدرتی حیات اور ماحول سے متعلق ان کی دستاویزی فلمیں بہت شان دار ہیں اور اس کام پر انھیں ایوارڈ بھی دیے گئے۔قلم اور کتاب سے ان کا تعلق فکر و دانش اور معلوماتِ عامہ کی حد تک نہیں تھا بلکہ وہ ایک ادیب بھی تھے جن کا پہلا ناول ’اور انسان زندہ ہے‘ ساٹھ کی دہائی میں شائع ہوا۔ دوسرا ناول ’راجپوت‘ 2010ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے شائع کیا۔ عبید اللہ بیگ فارسی، عربی اور انگریزی زبانیں بھی جانتے تھے۔ ہمہ جہت عبید اللہ بیگ علم و ادب کے شیدائیوں کے لیے ایک مکتب تھے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والا علم و حکمت کے موتی چن کر ہی اٹھتا تھا۔ فلسفہ، تاریخ، تہذیب و تمدن، سیاحت، ماحولیات، ادب کے ہر موضوع پر عبیداللہ بیگ 

مضمون انٹرنیٹ سے لے کر تلخیص کیا گیا ہے 

موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے-پارٹ 2

 



قران پاک میں ارشاد باری تعالیِ ہے 'زرا تم زمین میں چل پھر کے تو دیکھو ہم نے ان کو کیسے ہلاک کر مارا  -اب دیکھئے ایک عظیم  شہر تو دریافت ہو گیا لیکن اس کے مکین کہاں گئے تاریخ اس معاملے پر خاموش ہے -چلئے ا ب شہر کے خدوخال دیکھتے ہیں -  موہنجودڑو کا عمومی پلان ہڑپہ جیسا ہی تھا ۔ شہر کے مغرب میں قلعہ ہے، گلیوں کی ترتیب و مکانات اور اناج گھر سب ہڑپہ جیسے ہیں۔ البتہ یہاں کی منفرد اور سب سے نمایاں چیز بڑا اشنان گھر ہے جس کا مطلب ہے بڑا غسل خانہ یا عظیم حمام۔ یہ ایک بڑی سی عمارت ہے، جس کے وسط میں ایک بڑا سا تالاب ہے۔ یہ تالاب شمال وجنوب میں39فٹ لمبا اور شرقی و غربی میں23فٹ چوڑا اور آٹھ فٹ گہرا ہے۔ شمال اور جنوب دونوں سمت سے اینٹوں کے زینے نیچے اترتے تھے، جن پر لکڑی کے تختے لگادیے گئے تھے ۔ تالاب کی چار دیواری کی بیرونی سمت پر ایک خاص قسم کالیپ کیا گیا ہے، جسے ’بچومن لُک‘ کہاجاتا ہے۔ یہ لُک ہائیڈرو کاربن کا قدرتی طور پر نکلنے والا مادہ ہے اور فطرت میں مختلف حالات میں آج بھی دستیاب ہے۔ اس لیپ سے تالاب میںپانی رسنے کا سد باب کیا گیا ہے۔دراصل موہنجودڑو تو دریائے سندھ کے اندر ایک جزیرہ نما خشکی پر واقع تھا۔


 اس کے ایک طرف دریائے سندھ تھا اور دوسری طرف دریائے سندھ سے نکلنے والا نالہ بہتا تھا، جو آگے جا کر واپس دریا میں مل جاتا تھا ۔ اسی لیے شہر کی حفاظت کے لیے ایک میل لمبا حفاظتی بند باندھا گیا تھا ۔ موہنجودڑو میں بار بار سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت ملتا ہے ۔ سیلاب کی لائی ہوئی گاد سے اس شہر کی سطح زمین سے تیس فٹ بلند ہوگئی۔ کا خیال ہے کہ یہ کسی درخت کے گرد حفاظتی حصار ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ درخت مقدس تھا اور یہ عمارت اس مقدس درخت کا مندر تھی۔ شاید پیپل مندر۔ اس عمارت کے مختلف حصوں میں سفید چونے کے پتھر کے بنے ہوئے ایک بڑے مجسمے کے تین ٹکڑے ملے ہیں۔ ان کو جوڑیں تو مجسمہ مکمل ہوجاتا ہے۔ یہ ایک بیٹھا ہوا آدمی ہے۔ مجسمے کی مکمل اونچائی 1/2 16انچ ہے۔ اس داڑھی ہے مگر موچھیں منڈی ہوئی ہیں، بال اکٹھے کرکے سر کے پیچھے ان کا جوڑا بنایا ہوا ہے اور ایک باریک مینڈھی گوند کر سر کے ارد گرد باندھی گئی ہے۔ جو آگے ماتھے کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اگر مینڈھی نہیں تو کپڑے کی باریک پٹی ہے جو باندھی گئی ہے۔


 اس آدمی نے دونوں ہاتھ کولہوں پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک قدر اونچا ہے اور دوسرا نیچا۔ آنکھوں کے اندر غالباً موتی جڑے گئے تھے جو بعد میں گر گئے۔اس عمارت کی دیواریں موٹی، دروازہ عظیم الشان مگر رقبہ مختصر ہے۔   ۔موہنجودڑو میں ایک اور عمارت پر مندر ہونے کا شبہ کیا گیا ہے۔ اس کی بیرونی دیواریں 1/2 چار فٹ موٹی ہے اور آٹھ دس فٹ انچائی محفوظ ملی ہے۔ اس کے اندر کچھ اینٹوں کے چبوترے بنے ہوئے ہیں۔ یہ یا تو ان کے اوپر ستون تعمیر کیے گئے تھے۔ جن پر کوئی زبردست عمارت کھڑی تھی۔ یا پھر ان کا دوسرا کوئی مقصد بھی ہو سکتا ہے۔ عمارت کے وسط میں صحن ہے۔ جو 23   19 فٹ سائز کا ہے۔ دو چھوٹے صحن اس بڑے صحن کے شمال اور جنوب میں ہیں۔ جنوبی صحن میں ایک کنواں ہے۔ایک نہایت دلچسپ عمارت شہر کے شمال مغربی کونے پر ہے۔ اس میں آمنے سامنے دو قطاروں میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ جن کی تعداد سولہ ہے۔


 ان سولہ کمروں میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک اندرونی کمرہ ہے۔ گویا کل چوبیس کمرے ہیں۔ ہر بیرونی کمرے کے مقابلے میں اندرونی کمرے کا رقبہ دگنا ہے۔ سولہ کمروں میں سے ہر ایک میں ایک کونے میں پانی کا کھرا بنایا گیا ہے۔ دیوار میں پانی کی نکاسی کے سوراخ ہیں۔ سر مارٹیمر ویلر اور دوسرے ماہرین کا خیال ہے اندرونی کمرہ بیڈ روم تھ۔ لگتا ہے یہ غلاموں کی بیرکیں تھیں۔ پہلے اس عمارت پر مندر کا شبہ کیا گیا تھا مگر یہ بہت بڑی ہے۔ تو پھر ان بیرکوں کا غلاموں کی رہائش گاہ ہونا اور بھی یقینی ہوجاتا ہے۔ ان بیرکوں دیواریں بہت پتلی ہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہ ایک منزلہ تھیں۔ ان کے پاس ایک کنواں ہےشہر کا کچھ حصہ ابھی تک کھودا گیا۔ خاص طور پر بدھ اسٹوپہ جوں کا توں کھڑا ہے۔

 


سندھ کی مقامی زبان میں اسے موئن جو دڑو جبکہ اردو میں موہنجوداڑو کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’ مردو ں کا ٹیلا‘‘۔ موہنجودڑو کا قلعہ ایک ٹیلے پر واقع ہے، جو جنوب میں سطح زمین سے بیس فٹ اور شمال میںچالیس فٹ اُونچا ہے۔ آجکل دریائے سندھ کی ایک شاخ اس سے تین میل کے فاصلے پر بہتی ہے۔ جب یہ شہر آباد تھا تو اس وقت قلعے کی مشرقی دیوار کے پاس سے دریا کی ایک شاخ گزرتی تھی۔ مغربی جانب جو حفاظتی بند تھا، اس سے دریا ایک میل دور تھا ۔ یہ قلعہ ایک چبوترے پر بناہوا ہے، اس چبوترے کو مٹی اور کچی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔موہنجودڑو کو فن تعمیر اور انسانی ترقی کی ایک اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بربادی کے سینتیس سو برس بعد تک اس کی باقیات کا کوئی نشان نہیں ملا تھا، مگر انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں پہلی مرتبہ اس تہذیب کے کچھ بچے کھچے آثار اور نشانات ملے، جس کے بعد ماہرین نے اس قدیم شہر کے بارے میں حقائق کو باقاعدہ طور پر جمع کرنا شروع کیا۔1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپا کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال بعد اسی طرح کے آثار راکھال داس بینرجی کو موہنجودڑو کی سر زمین سے ملے، جس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کودی گئی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔اور  کھدائی کا کام شروع ہوا، 

بدھ، 3 ستمبر، 2025

موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے-پارٹ-1

  



 اگر آپ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں موئین جو دڑو سر فہرست رکھئے مو ہنجودڑوکا قلعہ اصل شہر کے اندر ایک منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا تھا، جس کے ارد گرد گلیاں ایک جال کی شکل میں پھیلی ہوئی ہیں -ہم جب موہنجودڑو جیسا عالی شان شہر دیکھتے ہیں جس کے مکانات پختہ، مضبوط اور دو تین منزلہ اونچے تھے، ساتھ ہی وہاں سڑکیں اور بازار قائم تھے، تو اس شہرخاموشاں کے باشندوں کی زندگی و رواج اور عادات سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ موہنجودڑو کے وہ آثار جو سب سے زیادہ گہرائی میں ہیں، سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں، جس کا مطلب یہی ہے کہ انسانی تہذیب کے سارے معاملات صدیوں پہلے عمل میں آچکے تھے اور یہ بنیادی ترقی میں یا تو بہت آگے نکل گئے ، یا پھر ختم ہوتے چلے گئے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ہم اپنے شہروں کو دیکھیں تو وہ اتنے منظم نظر نہیں آتے جتنا کہ صدیوں پرانی تہذیب کے شہر نظر آتے ہیں۔ اس پر ہمیں سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے-



خیا ل کیا جاتا ہے کہ موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے، اس شہر نے 2500 قبل مسیح سے 1700 قبل مسیح تک ترقی کی۔’یہ اپنے علاقے کا     ایک  مرکز ی شہر تھا جس کے سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور مذہبی روابط میسوپوٹیمیا اور مصر کے ساتھ تھے۔ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے شہروں کے مقابلے میں، جنھوں نے ایک ہی وقت میں ترقی کی تھی،  یہ تہذ یب  یافتہ شہر  1700 قبل مسیح میں ختم ہو گیا تھا، اور آج تک کسی کو قطعی طور پر یقین نہیں ہے کہ اس شہر کے باشندے یہاں سے کیوں نقل مکانی کر گئے یا وہ کہاں گئے۔آئے اب شہر کی سیر کرتےہیں  -اس شہر کی شمال مشرقی سمت میں   ایک طویل عمارت ہے۔ جو 230.78 فٹ ہے۔ اس کے وسط میں  وسیع عریض   صحن بھی ہے۔ اس میں تین برآمدے کھلتے ہیں۔ چاروں طرف بیرکوں کی طرح سے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ اکثر کمروں کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں۔ اس عمارت کو شاہی محل یا بڑے بچاری کا گھر سمجھنا مشکل ہے۔


 کیوں کہ اس کا طرز تعمیر رہائشی مکانوں جیسا نہیں ہے۔ اس لیے کھدائی کرنے والوں نے اسے کالج کا نام دیا تھا۔ جب تک مزید کھدائی سے اس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا کہ یہ عمارت کیا تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔اشنان گھر اور کالج کے جنوب میں ایک اور اجتماعی مقصد کی عمارت ملی ہے۔ جو بعد میں تبدیل کردی گئی ہے۔ لیکن ابتد میں یہ ایک بہت بڑا مربع شکل کا ہال تھا۔ جس کا ہر مربع 90 فٹ کا تھا۔ اس کے اندر اینٹوں سے بیٹھنے کی نشتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ پورے ہال میں گزرنے کے پانچ رستے ہیں۔ ہر دو رستوں کے درمیان میں نشتوں کی چار قطاریں ہیں۔ ہر قطار میں پانچ نشتیں ہیں۔ یا تو ان کے اوپر لکڑی کی خوبصورت نشتیں لگائی گئی تھیں یا انہی پر ہی سامعین بیٹھے تھے۔ یہ کل ایک سو نشتیں ہیں موہن جو وڑو میں ایک ایسی عمارت ملی ہے۔ جو اگرچہ رہائشی قسم کی ہے مگر بہت بڑی ہے۔ یہ شرقاً غرباً 250 فٹ لمبی ہے۔ یقیناً یہ ایک محل ہے۔ بیرونی دیوار 1/2 3 فٹ سے لے کر 7 فٹ تک موٹی ہے، اس میں دو بڑے صحن ہیں۔ جن کو ایک پانچ فٹ چوڑی غلام گردش آپس میں ملاتی ہے۔



 اس کے ایک سرے پر 8 فٹ چوڑا دروازہ ہے۔ گھر کے دو مختلف کمروں میں کنویں تھے۔ ایک کمرے میں ایک گول تنور تھا۔ اس کا قطر تین فٹ آٹھ انچ اور اونچائی 1/2 3 فٹ ہے، اس کی شکل موجودہ تنوروں سے جیسی ہے۔ محل میں چار زینے اوپر جاتے تھے۔شہر میں ایک اور پبلک بلڈنگ ملی ہے جو یا تو مسافروں کے ٹہرنے کے لیے سرائے تھی یا پھر ترتھ یاتریوں کے ٹہرنے کے یاتری استھان تھی۔ اصل عمارت ایک بہت بڑے ہال پر مشتمل ہے جو انگریزی کے حروف ایلL کی شکل کا ہے۔ اس ہال کی دیواروں کے باہر ارد گرد اینٹوں کے ستون بنے ملے ہیں، جن کے اوپر غالباً برآمدے کی چھت ڈالی گئی تھی۔ جو ہال کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی۔ جنوب مشرقی کونے پر ایک چار فٹ گیارہ انچ چوڑا دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔ بعد میں یہ دروازہ بند کرکے شمالی جانب مرکز میں دیوار کاٹ کر ایک دروازہ نکلا گیا تھا۔ اس کے قریب ایک رستہ پانی کے نکاس کا بنایا گیا تھا۔ 


جو زمین دوز سفالی پائپ سے ملحق تھا۔ ہال کے ایک کونے میں ایک فلیش سسٹم بیت الخلا بنایا گیا تھا۔ایک اور بڑی عمارت ملی ہے، 87 * 1/2 64 فٹ ہے۔ اس میں کچھ کمرے تو اندر صحن میں کھلتے ہیں جو رہائشی معلوم ہوتے ہیں اور کچھ باہر گلی میں کھلتے ہیں۔ ان کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں اور نہایت عمدگی سے بنائے گئے ہیں۔ باہر کا ایک بہت بڑا کمرہ ایسا ہے جس میں پانچ گول مخروطی گڑھے اینٹوں سے بنائے گئے۔ ان میں کڑاہ یا دوسرے برتن جو دھات کے ہوں گے ٹکائے جاتے ہوں گے۔ یا تو یہ کوئی ریستوان ہوگا یا رنگریز کا کارخانہ۔ایک اور اجتماعی نوعیت کی عمارت ملی ہے جو 52 * 40 فٹ ہے۔ اس کی دیواریں چار فٹ موٹی ہیں۔ اس کا دروازہ جنوب کی طرف سے ہے۔ جس میں دو متوازی سیڑھیاں اوپر چڑھتی ہیں۔ جو مرکز میں آ کر مل جاتی ہیں۔ دروازہ بہت بڑا ہے۔ اس عمارت کے اندر صحن میں اینٹوں کا ایک دائرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا اندونی قطر چار فٹ ہے۔

 جاری ہے


پیر، 1 ستمبر، 2025

زمین کی میخیں پہاڑ ہیں

 

  "'زمین کی میخیں پہاڑ ہیں  "پہاڑوں کا زمین کی سطح پر میخوں کی طرح گڑے ہونا!! مفسرین کرام کے مطابق جب زمین پیداکی گئی تو ابتداً لرزتی تھی ،ڈولتی تھی ،جھولتی تھی اور ادھر ادھر ہچکولے کھاتی تھی۔ایسی صورت میں انسان کا اس پر زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی پشت پر جابجا پہاڑوں کے طویل سلسلے میخوں کی طرح بنا دیے اور انہیں اس تناسب سے جابجا مقامات پر پیدا کیا جس سے زمین پر لرزش اور جھول بند ہو گئی اور وہ اس قابل بنا دی گئی کہ انسان اس پر اطمینان سے چل پھر سکے۔قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں ایک حیرت انگیز تحقیق ابھی حال ہی میں ماہرین ارضیات نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر موجود پہاڑوں کی ایک خاص اہمیت ہے اور یہ زمین کی سطح میں بالکل میخوں یعنی کیلوں کی طرح گھڑے ہوئے ہیں۔ جدید ماہرین ارضیات ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین کا نصف قطر 6,378 کلو میٹر ہے۔ زمین کی سب سے باہری سطح ٹھنڈی ہے لیکن اندرونی پرتین ا نتہائی گرم اور پگھلی ہوئی حالت میں ہیں۔


 اس پر مکانات وغیرہ تعمیر کر سکے اور سکون سے پوری زندگی بسر کر سکے۔دوسرے مقام پرارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَجَعَلْنَا فَی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بَھِمْ ص وَجَعَلْنَا فَیْھَا فِجَاجًا سُبُلًا  لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ)  اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈُھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں 'شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں''  (الانبیاء،21:31)  جہاں زندگی کا کوئی امکان موجود نہیں اور یہ کہ زمین کی سب سے بیرونی پرت جس پر ہم آباد ہیں ،نسبتاً انتہائی باریک ہے۔مختلف جگہوں پر اس کی موٹائی1 سے 70 کلومیٹر تک ہے چنانچہ یہ ممکن تھا کہ زمین کی یہ پرت یا تہہ (Crust) اپنے اوپر بوجھ کی وجہ سے کسی بھی وقت ڈگمگا جاتی۔ جسکی ایک وجہ''بل پڑنے کا عمل'' ہے جس کے نتیجے میں پہاڑ بنتے ہیں اور زمین کی سطح کو استحکام ملتا ہے۔ڈاکٹر فرینک پریس امریکہ کے ایک ماہر ارضیات ہیں اور یہ امریکی صدر جمی کارٹر کے مشیر بھی رہ چکے ہیں ۔انہوں نے ایک کتاب پہاڑوں کے اوپر تصنیف کی جو اب امریکی  ' یونیورسٹیز کے ارضیات کے نصاب میں شامل ہے ۔


 اس میں وہ لکھتے ہیں کہ کہ پہاڑ مثلث نما ہوتے ہیں ،زمین کے اندر گہرائی تک ان کی جڑیں ہوتی ہیں اور یہ کہ پہاڑ زمین کو استحکام فراہم کرتے ہیں۔ جغرافیائی ماہرین کے مطابق زمین کا اندرونی مرکز سطح زمین سے تقریبا ً6,378 کلومیٹر دور ہے جو کور (Core) کہلاتا ہے۔ اسکے اندرونی اور بیرونی حصے ہیں۔ اندرونی مرکزی حصہ ٹھوس لوہے کے ایک بڑے گیند کی شکل میں ہے۔ اس میں نکل اور لوہا ہے۔ اس کی بیر ونی سطح دھاتوں کے پگھلے ہوئے مادے پر مشتمل ہے جو زمین کی سطح سے نیچے گہرائی کی جانب تقریبا 2,900 کلومیٹر  دور واقع ہے ۔  اس کے اوپر والا حصہ (حفاظتی ڈھال یا غلاف) Mantale ہے جو زمین کی اوپر والی تہہ سے تقریباً 100 کلومیٹر نیچے سے شروع ہو کر 2,900 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔زمین کا زیادہ تر حصہ اسی پر مشتمل ہے لہٰذا اسی وجہ سے اس پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنا دیا گیا تاکہ زمین کاتوازن برقرار رہے اور یہ اپنی جگہ سے لڑھک نہ جائے 'قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کابار ہا مرتبہ تذکرہ فرمایا ہے۔ 


مثلاً...(اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا ۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا)'' کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخیں ''  ( النبا، 78: 6-7)قرآن یہ نہیں کہتا کہ پہاڑوں کو میخوں کی طرح زمین میں اوپر سے گاڑا گیا ہے بلکہ یہ کہ پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنایا گیا ہے۔ "اوتادا"ً کا مطلب خیمے گاڑنے والی میخیں ہی ہوتا ہے ۔آج جدید ارضیات بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ پہاڑوں کی جڑیں زمین میں گہرائی تک ہوتی ہیں ۔یہ بات انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں سامنے آئی تھی کہ پہاڑ کا بیش تر حصہ زمین کے اندر ہوتا ہے اور صرف تھوڑا سا حصہ ہمیں نظر آتا ہے ،بالکل اسی طرح جیسے زمین میں گڑی ہوئی میخ کا بیش تر حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے یا جس طرح ''آئس برگ'' کی صرف چوٹی ہمیں نظر آتی ہے جبکہ نوے فیصد حصہ پانی کے اندر ہوتا ہے ۔انڈین پلیٹ بحر ہند کے کنارے واقع ممالک خاص طور پر انڈیا،سری لنکا ،اورتھا ئی لینڈ سے انڈونیشیا اورملایا تک پھیلی ہوئی ہے۔  ماہرین ارضیات کے مطابق پہاڑ ٹیکٹونز پلیٹوں کے کناروں پر پائے جاتے ہیں یہ زمین کی بیرونی سطح کو جمانے اور مستحکم بنانے میں ممدومعاون ہیں۔


اتوار، 31 اگست، 2025

دریاؤں کے کنارے آباد قدیم تہزیبیں

 


 یہ کہانی آج کی نہیں بلکہ  روز ازل  سے انسان نے دریاؤ ں کے کنارے   رہنے اور بسنے کا رواج ڈالا مصر نے سمندر کی تہہ میں ایک قدیم ڈوبی ہوئی بستی کے آثار  برآمد کئے ہیں۔ ان کھنڈرات میں  عمارتوں کے حصے، قیمتی نوادرات اور ایک قدیم بندرگاہ شامل ہے، جن کی تاریخ ۲؍ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جا رہی ہے۔مصری حکام کے مطابق یہ مقام ابو قیر بے کے سمندر  میں واقع ہے اور ممکنہ طور پر قدیم شہر’’کینوپس‘‘ کا ہی حصہ ہے جوبطلیموسی شاہی  دور کا میں ایک اہم مرکز تھا۔ اس خاندان نے تقریباً۳۰۰؍ سال  مصر پر حکومت کی، جبکہ بعد میں رومی سلطنت نے یہاں تقریباً ۶۰۰؍  برس حکمرانی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل زلزلوں اور سمندری سطح بلند ہونے کی وجہ سے یہ شہر اور اس کے قریب کا بندرگاہی شہر’’ہیرکلیون‘‘ سمندر میں ڈوب گیا۔ اس کے بعد سے یہ علاقہ قدیم آثار کا ایک خزانہ بن چکا ہے۔جمعرات کو کرینوں کے ذریعے سمندر کی تہہ سے مجسمے نکالے گئے۔اس کامیابی پر غوطہ خور جو انہیں نکالنے میں شامل تھے، ساحل پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے۔


 مصری وزیر سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے کہا ہے کہ ’’سمندر کے نیچے اب بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے، لیکن ہم صرف مخصوص اور قیمتی اشیاء کو سخت معیار کے تحت نکال سکتے ہیں۔‘‘ یہ دریافت نہ صرف مصر کی سیاحتی صنعت کیلئےایک بڑی خوشخبری ہے بلکہ عالمی ماہرین آثارِ قدیمہ کیلئے بھی ایک انمول تحفہ سمجھی جا رہی ہے۔مصر نے سمندر کی تہہ میں ایک قدیم ڈوبی ہوئی بستی کے آثار  برآمد کئے ہیں۔ ان کھنڈرات میں عمارتوں کے حصے، قیمتی نوادرات اور ایک قدیم بندرگاہ شامل ہے، جن کی تاریخ ۲؍ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جا رہی ہے۔مصری حکام کے مطابق یہ مقام ابو قیر بے کے سمندر  میں واقع ہے اور ممکنہ طور پر قدیم شہر’’کینوپس‘‘ کا ہی حصہ ہے جوبطلیموسی شاہی  دور کا میں ایک اہم مرکز تھا۔ اس خاندان نے تقریباً۳۰۰؍ سال  مصر پر حکومت کی، جبکہ بعد میں رومی سلطنت نے یہاں تقریباً ۶۰۰؍  برس حکمرانی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل زلزلوں اور سمندری سطح بلند ہونے کی وجہ سے یہ شہر اور اس کے قریب کا بندرگاہی شہر’’ہیرکلیون‘‘ سمندر میں ڈوب گیا۔


 اس کے بعد سے یہ علاقہ قدیم آثار کا ایک خزانہ بن چکا ہے۔جمعرات کو کرینوں کے ذریعے سمندر کی تہہ سے مجسمے نکالے گئے۔اس کامیابی پر غوطہ خور جو انہیں نکالنے میں شامل تھے، ساحل پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے۔مصری وزیر سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے کہا ہے کہ ’’سمندر کے نیچے اب بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے، لیکن ہم صرف مخصوص اور قیمتی اشیاء کو سخت معیار کے تحت نکال سکتے ہیں۔‘‘ یہ دریافت نہ صرف مصر کی سیاحتی صنعت کیلئےایک بڑی خوشخبری ہے بلکہ عالمی ماہرین آثارِ قدیمہ کیلئے بھی ایک انمول تحفہ سمجھی جا رہی ہے- اب زرا ایک نظر دریائے سندھ کے کناروں پر آباد  قدیم تہذیبوں پر نظر ڈالتے ہیں - وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز  موئن جو دڑو بھی تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی، وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے۔یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ختم ہو گیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اسے قدیم مصر  کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔



 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ عظیم تہذیب کی دریافت-1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال کے بعد اسی طرح کے آثار راکھال داس بینرجی کو موہن جودڑو کی سر زمین میں دستیاب ہوئے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔ چنانچہ رائے بہادر دیا رام سہنی، ڈائریکٹر ارنسٹ میکے اور محکمہ آثاریات کے دیگر احکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا تاہم کھدائی کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ وادی سندھ کی تہذیب کی بے نقابی اور تشریح شاید بیسویں صدی کا عظیم ترین عصریاتی واقعہ ہے۔ کیوں کہ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہن جو دڑو کی کھدائی سے پہلے سمجھا ہی نہ جا سکا

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر