جی ہاں! آزادئ ہند کی خونچکاں داستان دہلی میں انیس سو ستاون میں دہلی کے مسلمانوں کے خون سےرقم ہوئ -جب چشم فلک نے ایک صبح کی روشن کرنوں میں ایک دلخراش نظارہ دیکھا کہ دہلی کے تمام شہر میں کوئ درخت ایسانہیں تھا جس پر ایک مسلمان کی جھولتی ہوئ لاش نا ہو -اور دہلی کی گلیاں اور درو دیوار مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے اس سے اور آگے دیکھیں تو' توپ کے دہانوں سے باندھ کر مسلمانوں کے چیتھڑے بدن ہوا میں دور تک اچھلتے دیکھے جا سکتے تھے -پھر دہلی کے باسیوں نے اس ہولناک قتل عام کے بعد آزادی کے خواب کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا لیکن اس کے بعد دہلی کے بجائے یو پی میں آزادئ ہند کی لہر اٹھی جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر لی اوراس درخت سے نکلنے والی شاخوں نے آزادئ ہند کی فوج کا ایک ہراول دستہ تیار کیا لیکن اس مرتبہ تحریک کا مرکز لکھنؤ کا ایک بڑا مشہور مدرسہ غالباً مدرسہ نظامیہ تھا تحریک خلافت سنہ 1919 میں خلافت تحریک کا آغاز ہوا لیکن مولانا محمد علی جوہر کو جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور تحریک خلافت قصہء پارینہ ہو گیئ
وقت گزر کر اب انیس سو چالیس کا زمانہ آ لگا تھا اور لکھنؤ شہر میں آزادئ ہند کا ایک ہراول دستہ سر سے کفن باندھ کر پھر تیار تھا اس ہراول دستے میں میرے نانا جان سید صغیر حسین بھی شامل تھے- انگریز سر کار کو میرے نانا جان کی شکائت پہنچا دی گئ کہ وہ بھی آزادئ ہند کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے ہیں مقدمہ درج ہوا اور پیشیاں پڑنے لگیں ایسے میں راجہ صاحب محمود آبا د اول ان کے مددگار کے طور پر سامنے آئے انہوں نے بڑی رقم ضمانت کے طور پر پیش کی یہاں تک کہ راجہ صاحب نے ایک مقام پر کہا کہ وہ اپنی پوری ریاست بطور ضمانے دینے کو تیار ہیں لیکن سرکار راضی نہیں ہوئ اور پھر آخری پیشی پر عدالت نے میرے نانا جان کو بیس برس کی قید کی سزا سنائ گئ عدالت نے ان سے کہا کہ وہ گھر جا کر اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیاء لے کر آ جائیں نانا جان کو ایک پہریدار کے ساتھ گھر بھیجا گیا -ان دنوں میرے ناناجان کی دو بہنیں ضلع بہرائچ سے اپنے میکے یعنی میرے نانا جان کے گھر آئ ہوئ تھیں-نانا جان بلکل سکون کے ساتھ گھر آئے اور اپنی قید کے بارے میں بتایا تو گھر کے اندر ایک کہرام برپا ہو گیا لیکن نانا جان نے اپنا سامان رکھتے ہوئے گھر والوں سے کہا میری قید بیسویں روز پوری ہو جائے گی اور پھر میں تم لوگوں کے درمیا ن ہو ں گا -
نانا جان جیل جا چکے تھے اورگھر میں سوگ کا سماں تھا لیکن بیس دن کی مدت پوری ہونے میں اس دن بیسسواں ہی دن تھا دربان کے مطابق رات حسب معمول عبادت میں گزار کر میرے نانا جان سوئے تھے لیکن صبح نہیں اٹھ سکے دربان نے اس کو جگایا تو وہ خدا کے گھر جا چکے تھے اور اس طرح قید کے بیس روز مکمل بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ ان کی پیشین گوئ پوری ہو چکی تھی -اب نانا جان تو خدا کے گھر جنت مکین ہو چکے تھے اور ان کے پیچھے ان کے پسماندگان میں بے یارو مددگار ان کے پانچ بچے اور ایک بیوہ رہ گئ تھیں -/ جی ہاں آزادئ ہند کی خونچکاں داستان دہلی میں انیس سو ستاون میں دہلی کے مسلمانوں کے خون سےرقم ہوئ -جب دہلی کے تمام شہر میں کوئ درخت ایسانہیں تھا جس پر ایک مسلمان کی جھولتی ہوئ لاش نا ہو -اور دہلی کی گلیاں اور درو دیوار مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے اس سے اور آگے دیکھیں تو توپ کے دہانوں سے باندھ کر مسلمانوں کے چیتھڑے بدن ہوا میں دور تک اچھلتے دیکھے جا سکتے تھے -اس کے بعد دہلی کے بجائے یو پی میں آزادئ ہند کی لہر اٹھی جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر لی-اس درخت سے نکلنے والی شاخوں نے آزادئ ہند کی فوج کا ایک ہراول دستہ تیار کیا -
لیکن اس مرتبہ تحریک کا مرکز لکھنؤ کا ایک بڑا مشہور مدرسہ غالباً مدرسہ نظامیہ تھا تحریک خلافت سنہ 1919 میں خلافت تحریک کا آغاز ہوااب انیس سو چالیس کا زمانہ آ لگا تھا اور اس ہراول دستے میں میرے نانا جان سید صغیر حسین بھی شامل تھے- انگریز سر کار کو میرے نانا جان کی شکائت پہنچا دی گئ کہ وہ بھی آزادئ ہند کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے ہیں -مقدمہ درج ہوا اور پیشیاں پڑنے لگیں ایسے میں راجہ صاحب محمود آبا د اول ان کے مددگار کے طور پر سامنے آئے انہوں نے بڑی رقم ضمانت کے طور پر پیش کی لیکن سرکار راضی نہیں ہوئ اور پھر آخری پیشی پر عدالت نے میرے نانا جان کو بیس برس کی قید کی سزا سنائ گئ عدالت نے ان سے کہا کہ وہ گھر جا کر اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیاء لے کر آ جائیں نانا جان کو ایک پہریدار کے ساتھ گھر بھیجا گیا -ان دنوں میرے ناناجان کی دو بہنیں ضلع بہرائچ سے اپنے میکے یعنی میرے نانا جان کے گھر آئ ہوئ تھیں- نانا جان بلکل سکون کے ساتھ گھر آئے اور اپنی قید کے بارے میں بتایا تو گھر کے اندر ایک کہرام برپا ہو گیا لیکن نانا جان نے اپنا سامان رکھتے ہوئے گھر والوں سے کہا میری قید بیسویں روز پوری ہو جائے گی اور پھر میں تم لوگوں کے درمیا ن ہو ں گا -نانا جان جیل جا چکے تھے اورگھر میں سوگ کا سماں تھا لیکن بیس دن کی مدت پوری ہونے میں اس دن بیسسواں ہی دن تھا دربان کے مطابق رات حسب معمول عبادت میں گزار کر میرے نانا جان سوئے تھے لیکن صبح نہیں اٹھ سکے دربان نے انکو جگایا تو وہ خدا کے گھر جا چکے تھے اور اس طرح قید کے بیس روز مکمل بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ ان کی پیشین گوئ پوری ہو چکی تھی -اب نانا جان تو خدا کے گھر جنت مکین ہو چکے تھے اور ان کے پیچھے ان کے پسماندگان میں بے یارو مددگار ان کے پانچ بچے اور ایک بیوہ رہ گئں تھیں