Knowledge about different aspects of the world, One of the social norms that were observed was greetings between different nations. It was observed while standing in a queue. An Arab man saw another Arab man who apparently was his friend. They had extended greetings that included kisses on the cheeks and holding their hands for a prolonged period of time. , such warm greetings seem to be rareamong many people, . this social norm signifies the difference in the extent of personal space well.
منگل، 22 جولائی، 2025
شیخ زید النہیان کی چولستان کے لئے خدمات
آخر چینی کی ہاہا کار کیوں مچی ہے -پارٹ -1
گذشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 750000 ٹن سے زائد چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ اور اب حکومت نے 750000 ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس ٹوپی ڈرامے میں سبسڈی کا فائدہ بھی چینی مافیا کو اور درآمد پر منافع بھی چینی مافیا کو آٹے کی مفت تقسیم میں سارا فائدہ منافع خور ما فیا کا یعنی حکومت اورشوگر مافیا ملکر عوام کا خون چوس رہے ہیں،کیونکہ حکومت اور مافیا ایک ہی ہیں -بتایا جا رہا ہے کہ عوام پر چینی کی مد میں 600 ارب کا بوجھ ڈالا جا ئے گا جو سیدھا سیدھا مافیا کی جیب میں جائے گا ،ملک میں اس وقت چینی کی قیمت بعض شہروں میں 200روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔پا کستان کے ادارہ شماریات کے مطابق گذشتہ ہفتے چینی کی فی کلو ریٹیل قیمت 182 فی کلو تھی جو گذشتہ سال 143 روپے تھی۔ چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے حکومت نے چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم تیس جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 750000 ٹن چینی کی برآمد کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے ذریعے شوگر ملز نے چینی برآمد کر کے غیر ملکی زرمبادلہ کی صورت میں آمدنی حاصل کی۔ دوسری جانب مقامی مارکیٹ میں صارفین کے لیے اس کی قیمت بڑھ گئی۔
موجودہ حکومت سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی ایسا ہی ایک تنازع پیدا ہوتا تھا۔ اپوزیشن کی تنقید کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ایف آئی اے نے ایک انکوائری بھی کی جس میں ملک میں چینی کی قلت اور اس کی قیمت میں اضافے کا ذمہ دار شوگر ملز کو قرار دیا گیا تھا۔ایف آئی اے کی اس انکوائری رپورٹ میں جے ڈی ڈبلیو یعنی جمالدین والی گروپ، رحیم یار خان گروپ، اومنی گروپ، شامین احمد خان گروپ کی شوگر ملز کو اس وقت چینی بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔اس انکوائری میں ملز کو چینی کی برآمد کے لیے برآمدی سبسڈی سے فائدہ اٹھا کر منافع کمانے کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافے سے زیادہ منافع کمانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔واضح رہے کہ اس وقت بھی چینی کی برآمد کی وجہ سے اس کی قیمت مقامی منڈی میں کافی اوپر چلی گئی تھی۔
جمالدین والی شوگر مل کی ویب سائٹ پر موجودہ معلومات کے مطابق جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیو گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ہیں جس کی ملکیت میں تین شوگر ملز ہیں -پاکستان میں کتنی شوگر ملز ہیں اور ان کے مالکان کون ہیںپاکستان کے صنعتی شعبے میں شوگر انڈسٹری کا حصہ قریب ساڑھے تین فیصد ہے۔پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کے مطابق اس تنظیم کے 48 ارکان ہیں۔ تاہم ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نامی سرکاری ادارے کے مطابق اس وقت مجموعی طور پر 72 شو گر ملز کام کر رہی ہیں۔جبکہ پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی تعداد 85 ہے --جن کی اکثریت 45 شوگر ملز پنجاب میں قائم ہیں جبکہ سندھ میں ان کی تعداد 32 اور خیبر پختونخوا میں آٹھ ہے۔
چینی سے جڑے تنازعات پر اکثر شوگر ملز مالکان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے منافع کی قیمت عام صارفین کو چکانی پڑتی ہے۔درحقیقت ملک میں قائم کئی شوگر ملز کاروباری افراد کے علاوہ بااثر سیاسی شخصیات اور خاندانوں کی ملکیت میں بھی ہیں تاہم ہم نے اس حوالے سے کچھ جانچ پڑتال کی ہے-پاکستان میں شوگر ملز کی ملکیت خالصتاً کاروباری افراد، جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کے ساتھ ساتھ سیاسی افراد کے پاس بھی ہے۔ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:جمالدین والی شوگر مل اور جہانگیر ترین -جمالدین والی شوگر مل کی ویب سائٹ پر موجودہ معلومات کے مطابق جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیو گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ہیں جس کی ملکیت میں تین شوگر ملز ہیں۔ ان میں دو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان اور ایک سندھ کے ضلع گھوٹکی میں موجود ہے۔
اس گروپ کے بورڈ کے ڈائریکٹر اور چیئرمین مخدوم احمد محمود ہیں جو سابق گورنر پنجاب ہیں۔ اسی طرح ان کے بیٹے سید مصطفی محمود بھی ایک بورڈ کے ایک ڈائریکٹر ہیں جو رحیم یار خان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر ایم این اے ہیں۔شریف گروپ، شوگر مل،شریف گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی ملکیت میں دو شوگر ملز ہیں جن میں سے ایک رمضان شوگر مل اور دوسری العربیہ شوگر مل ہے۔چینی فورینزک رپورٹ: ’ترین، زرداری، شریف خاندان سمیت چھ بڑے گروپس نے فراڈ اور ہیرا پھیری کی‘وفاقی کابینہ نے جمعرات کو چینی بحران سے متعلق فورینزک رپورٹ عام کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کے نو بڑے گروپوں کی ملز کی آڈٹ کی تفصیلات شامل ہیں۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیت جہانگیر ترین، سابق حکمران شریف خاندان، گجرات کے چوہدری برادران، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے ’فراڈ اور ہیرا پھیری کی ہے‘
کراچی میں نئ اجرک نمبر پلیٹس کے حصول میں دشواریاں
ویسے تو کئی سالوں سے کراچی کے تمام ہی علاقوں میں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں، انھوں نے کراچی کے لیے دعوے زیادہ اورکام برائے نام کیا۔ ہر ایک حکومت نے کراچی کو جی بھر کر لوٹا ہے۔ اب دیکھئے کہ کراچی کے اہم سرکاری دفاتر،گورنر، وزیر اعلیٰ ہاؤس، سٹی کورٹس اور ریڈ زون بھی کراچی کے پرانے ضلع جنوبی میں ہے جہاں مسائل کی بھی بھرمار ہے اور فراہمی و نکاسی آب، بجلی،گیس پانی و دیگر بلدیاتی مسائل کراچی کے سات اضلاع میں جنوبی ضلع میں سب سے زیادہ ہیں اوراب کراچی والوں کے لئے نئ افتاد یہ ہے کہ کراچی کے 60 لاکھ موٹرسائیکل سواروں کو نئی نمبر پلیٹں لگانے کا کہا گیا ہے۔اس فیصلے سے کراچی والوں کو مزید مالی بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔ حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ تمام موٹرسائیکلوں پر نئی اجرک والی پلیٹیں لگائیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے بڑھا دیے گئے ہیں اور یہ مہربانی پورے سندھ کے لیے نہیں صرف کراچی کے لیے ہے حالانکہ اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو اس کا اطلاق پورے سندھ پر ہونا چاہیے۔
سندھ حکومت کو کراچی کی تباہ حال سڑکوں، بجلی،گیس، پانی فراہمی و نکاسی آب کے مسائل کو حل کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ کراچی کی گاڑیوں کے لیے اجرک والی نمبر پلیٹ ضروری کیوں؟محکمہ ایکسائز کے ذرائع کے مطابق نئی نمبر پلیٹوں میں سکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ گاڑیوں کی شناخت کو مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے کراچی کے سوک سینٹر میں واقعہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے دفاتر میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہاں لوگ گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹیں حاصل کرنے آئے ہیں اور عمارت میں داخل ہونے 3والوں کے لئے کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہے۔اور عملے کی بے حد کمی ہے لوگ دفاتر سے چھٹی کر کے پلیٹس کے لئے دھکے کھا رہے ہیں -سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے پرانی نمبر پلیٹوں کو قبول نہ کرنے کے اعلان کے گاڑیوں پر نئی نمبر پلیٹیں نصب کروانا ضروری قرار پایا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے ذرائع کے مطابق نئی نمبر پلیٹوں میں سکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ گاڑیوں کی شناخت کو مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکےتاہم شہریوں کو ایکسائز کے دفاتر میں نمبر پلیٹیں حاصل کرنے کی غرض سے گھنٹوں کے انتظار کی کوفت اٹھانا پڑی رہی ہے۔
سوک سینٹر میں نمبر پلیٹ حاصل کرنے کی غرض سے لائن میں لگے ایک شہری نے بتایا کہ ’گاڑی اپنے نام پر ٹرانسفر کرنے کی مہلت 14 اگست کو ختم ہو جائے گی ۔‘ گاڑی کی نمبر پلیٹ حاصل کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ’نمبر پلیٹ تو مل گئی ہے، لیکن یہاں انتظامیہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ خواتین کے لیے تھوڑی سہولت ضرور ہے، مگر مجموعی طور پر بدانتظامی اور رش نے عوام کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔‘وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’سندھ حکومت نے نئی نمبر پلیٹوں پر سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک کا ڈیزائن شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جیسے اسلام آباد کی نمبر پلیٹس پر فیصل مسجد، پنجاب میں گندم کا خوشہ اور خیبرپختونخوا میں خیبر پاس کا نشان موجود ہے، ویسے ہی سندھ کی نمبر پلیٹوں پر اجرک کے ڈیزائن کو شامل کیا گیا ہےتاکہ قومی یک جہتی کے علاوہ ہر صوبے کی انفرادی پہچان بھی سامنے آئے۔‘
سندھ میں اجرک کے ڈیزائن اور ’چِپ‘ کے ساتھ نئی نمبر پلیٹس اسلام آباد میں رجسٹریشن کے ساتھ نمبر پلیٹ، پنجاب میں کیوں نہیں؟'سندھ تعلیمی اداروں میں اجرک اور ٹوپی کے تحفے پر پابندی کیوں؟انہوں نے مزید بتایا کہ ’تین اقسام کی نمبر پلیٹس جاری کی جا رہی ہیں: سرکاری گاڑیوں کے لیے سبز، پرائیوٹ گاڑیوں کے لیے سفید اور کمرشل گاڑیوں کے لیے پیلی۔ یہ نمبر پلیٹیں جدید سکیورٹی فیچرز سےآراستہ ہوں گی، جن میں بارکوڈ اور ایک مخصوص سکیورٹی تھریڈ نصب ہے، جو رات کے اندھیرے میں بھی نمبر پلیٹ کو کیمرے سے واضح طور پر شناخت کے قابل بناتا ہے جبکہ نئی نمبر پلیٹس سیف سٹی پراجیکٹ سے بھی منسلک ہوں گی۔‘ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’سکیورٹی فیچرز کے ذریعے مشتبہ گاڑیوں کی نگرانی، ٹریکنگ اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا آسان ہو جائے گا۔‘محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفاتر میں نئی نمبر پلیٹیں ھاصل کرنے والوں کی رش دیکھی جا سکتی ہے
( مکیش کمار کے مطابق: ’نمبر پلیٹ سکیم 2022 میں لانچ کی گئی تھی اور اب تک 21 لاکھ گاڑیوں کو نئی نمبرپلیٹس جاری کی جا چکی ہیں۔ سندھ میں تقریباً 12 لاکھ موٹر سائیکل ایسی ہیں جو ابھی رجسٹرڈ نہیں ہیں، جبکہ دو دو لاکھ پرانی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ایسی ہیں جنہوں نے نئی سکیورٹی فیچر والی نمبر پلیٹس حاصل کی ہیں۔‘ترجمان ٹریفک پولیس نے موقف بتایا کہ ’شہریوں کو نمبر پلیٹ کے معاملے پر بلاوجہ چالان نہیں کیا جا رہا، بلکہ صرف اُن گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جن کے پاس مکمل دستاویزات موجود نہیں ہیں یا جن پر نمبر پلیٹ ہی نہیں لگی۔
اتوار، 20 جولائی، 2025
اور ڈاکٹر امجد کا جنازہ تیار تھا
آپ کی عمر اگر پچاس سال ہو گئ ہے تو سمجھ لیجئے توبہ کا وقت آچکا ہے نا جانے زندگی کی رسی کسی بھی وقت کھینچ لی جائے گی اور آپ یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ جائیں گے آپ کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا اور آپ یہ بھی جان لیں چیونٹیوں کا اکٹھا کیا ہوا رزق ہمیشہ چوہے کھاتے ہیں لہٰذا خدا کے لیے چیونٹیوں کی زندگی نہ گزاریں‘ اپنے قد سے بڑے دانے نہ کھینچیں اور اپنی ضرورت سے زیادہ جمع نہ کریں‘ آپ کی حرص آپ کو جینے نہیں دے گی اور آپ کا جمع کیا ہوا پلے کارڈ بن کر آپ کے جنازے کے آگے آگے چلتا رہے گاجب کہ آپ کی ہوس کے بینی فشری پانچ دس ہزار کلو میٹر دور بیٹھ کر اپنے دوستوں کو ’’مائی ڈیڈ پاسڈ اوے‘‘ کے میسج کرتے رہیں گے اور ان کے دوست ’’اووو‘‘ کا جواب دے کر پارٹی میں مصروف ہو جائیں گے چناں چہ رک جائیں‘ آگے کھائی ہے اور اس کھائی میں ڈاکٹر امجد ایڈمرل منصور اور ڈبل شاہ جیسے ہزاروں لوگ گرے پڑے ہیں۔اور قبر کی اندھیری کوٹھری میں بد دعائیں ساتھ ہوں گی -استغفر اللہ میں نے یہ پیرا گراف اپنے وطن کے معروف جرنلسٹ محترم جاوید چوہدری کےکالم سے لیا ہے
اب میری تحریر پڑھئے برس گزرے پاکستان میں میگا کرپشن کیسز نے چپکے چپکے سر اٹھا یا تو سب سے پہلا کیس ایڈمرل منصور علی خان کا سامنے آیا پھر مشہور زمانہ اور بد نام زمانہ کیس ڈبل شاہ کا تھا اور اور اب جو کیسز سامنے آ رہے ہیں تو ان کی تفصیل جان کر آپ کہیں گے کہ ڈبل شاہ اور ایڈمرل منصور تو معصوم سے چور تھے تو اب بات ہو گی ڈاکٹر امجد کی جی ہاں دل تھام کر پڑھئےتو اب وقت گزر چکاتھا اوراور ڈاکٹر امجد کا جنازہ تیار تھا‘ ڈاکٹر امجد ایڈن ہائوسنگ سکیم کا مالک تھا‘ اس کے والد ڈپٹی کمشنر رہے تھے اور یہ آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کا داماد تھا‘ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے گھر میں دولت کا ہُن برس رہا تھا ڈاکٹر امجد نے اس دولت سے ایڈن ہائوسنگ سکیم کی بنیاد رکھی پھر اسکیم کے 13 ہزار ممبرز کے دس ارب روپے جمع ہو گئے جواس نے زاتی اکاؤنٹ میں جمع کر لئے اور پھر اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں نذر گوندل کے بھائی ظفر گوندل کے ساتھ مل کر ای او بی آئی کی رقم بھی غبن کر لی ‘
ڈاکٹر امجد نے فرضی پلاٹ دے کر ظفر گوندل سے دو ارب روپے لیے تھے اور یہ دونوں بعدازاں یہ رقم آدھی آدھی کر کے غصب کر گئے ‘ متاثرین نے پلاٹس کا تقاضا کیا اور نا ملنے کی صورت میں احتجاج شروع کیا‘ افتخار محمد چودھری چیف جسٹس کا طو طی بول رہا تھا سوموٹو ہوا‘ عدالت میں پیشیاں شروع ہوئیں‘ لاہور کے ایک وکیل کےذریعے چیف جسٹس اور ملزم کے درمیان رابطہ ہوا اور یہ رابطہ بہت جلد رشتے داری میں بدل گیا‘جی ہاں جیسی روح ویسے فرشتے ' ڈاکٹر امجد کے صاحبزادے مرتضیٰ امجد اور افتخار محمد چودھری کی صاحبزادی افرا افتخارکی شادی ہو گئی اور یوں ایڈن ہائوسنگ سکیم اور ای او بی آئی کے کیسز بند ہو گئے دور بدلا‘ نیب کے مقدمے شروع ہوئے تو پورا خاندان ملک سے فرار ہو گیا‘
نیب نے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے‘ ایف آئی اے نے 26 ستمبر 2018ء کو مرتضیٰ امجد کو دوبئی سے گرفتار کر لیا‘ افتخار محمد چودھری نےکوشش کی‘ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریڈ وارنٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا اور یہ پورا خاندان کینیڈا میں عیش کرنے لگا -کیسز چلتے رہے اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ ڈاکٹر امجد کو بچاتا رہا‘ فراڈ کی رقم 25 ارب روپے تک پہنچ گئی‘ یہ اس دوران پلی بارگین کے لیے بھی راضی ہو گیا لیکن یہ تین ارب روپے دے کر 25 ارب روپے معاف کرانا چاہتا تھا‘ نیب نہیں مانا‘ یہ اس دوران کسی پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا‘ پاکستان آیا‘ علاج شروع ہوا لیکن طبیعت بگڑتی رہی یہاں تک کہ دنیا بھر کے ڈاکٹرز‘ ادویات اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ بھی کام نہ آیا اور ڈاکٹر امجد 23 اگست 2021ء کو لاہور میں انتقال کر گیا‘ لواحقین نے اسے خاموشی کے ساتھ دفن کرنے کی کوشش کی لیکن متاثرین کو خبر ہو گئی اور یہ پلے کارڈز اور پوسٹرزلے کر پہلے اس کے گھر اور پھر جنازے پر پہنچ گئے
اور ’’ہماری رقم واپس کرو‘‘ کے نعرے لگانے لگے‘ پولیس بلائی گئی‘پولیس جنازے اور احتجاجیوں کے درمیان کھڑی ہو گئی‘ پولیس کی مدد سے جنازہ اٹھا کر پولیس کی ہی نگرانی میں اس غاصب ڈاکٹر امجد کو دفن کیا گیا‘ تدفین کو کئ مہینے ہو چکے ہیں لیکن متاثرین اس کی قبر پر بھی آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے خاندان نے وہاں گارڈز کھڑے کر دیے ہیں۔یہ انتہا درجے کا عبرت ناک واقعہ ہے لیکن آپ اس سے بھی بڑی عبرت ملاحظہ کیجیے‘ ڈاکٹر امجد نے جس خاندان اور جن بچوں کے لیے 25 ارب روپے کا فراڈ کیا تھا‘ وہ جنازے کے وقت کینیڈا میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کوئی بچہ اسے مٹی کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان نہیں آیا تھا۔یہ واقعہ دولت کے پیچھے باولے ہونے والے بے وقوفوں کے لیے نشان عبرت ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے انسان جب ہوس کے اندھے کنوئیں میں گرتا ہے تو اپنی دنیا کے ساتھ 'ساتھ عقبیٰ کی بربادی کا سامان بھی کرتا ہے جن کی قبروں پر لوگ فاتحہ خوانی کے لئے نہیں بد دعائیں اور کوسنے دینے لو گ آتے ہیں
ہفتہ، 19 جولائی، 2025
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
' ٹیلی ویژن کی معروف سینئر ادکارہ عائشہ خان کی انکے گھر سے7 روز پرانی لاش ملی، پولیس کے مطابق عائشہ خان کی طبعی موت واقع ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی صف اول کی اداکارہ عائشہ خان 77 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں، وہ گلشن اقبال بلاک 7نجیب پلازہ میں واقع اپنے فلیٹ سے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مردہ حالت میں پائی گئیں، پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ متوفیہ طویل عرصہ سے گھر میں اکیلی رہتی تھیں، جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اداکارہ کے فلیٹ سے تعفن اٹھا تو اہل محلہ نے پولیس کو بلا کر انکے فلیٹ کا دروازہ توڑ کراندر داخل ہوئےتو اداکارہ گھر میں مردہ حالت میں پائی گئیں جبکہ انکی لاش مسخ ہوچکی تھی،
لاش کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر متوفیہ کی لاش کو اسپتال منتقل کیا، جہاں پر متوفیہ کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا، پولیس کا کہنا ہےکہ متوفیہ بیمار تھی اور گھر میں اکیلی ہونے کی وجہ سے انکی دیکھ بھال نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے انکی طبعی موت واقع ہوئی ہے،اداکارہ کے بچے ملک سے باہر ہیں جس کی وجہ سے پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش کو سرد خانہ منتقل کردی ہے، پولیس کا کہنا ہےکہ ادکارہ عائشہ خان کے 3 بچے ہیں اور وہ ملک سے باہر مقیم ہیں ان سے رابطہ ہوگیا ہے، وہ ہفتہ کو کراچی پہنچیں گے، جسکے بعد اداکارہ کی لاش کو انکے بچوں کے حوالے کردی جائے گی
لیجنڈری اداکارہ عائشہ خان 76 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں،داکارہ عائشہ خان کی آخری رسومات خاموشی سے ادا کی گئیں،یہ المیہ ہمیں سمجھا رہا ہے کہ خاندان، خلوص، محبت اور خدا سے تعلق ہی فرد کی تنہائی کا مداوا ہیں جن کا نعم البدل کوئی ذہین سے ذہین ترین سائنسی ایجاد نہیں ہوسکتی۔ نہ میڈیا کو اطلاع دی گئی اور نہ ہی شوبز سے وابستہ کوئی شخصیت جنازے میں شریک ہوسکی۔ تاہم جس پہلو نے عوام کو گہرے دکھ میں مبتلا کیا وہ اُن کی المناک اور تنہائی بھری موت تھی۔یہ المیہ ہمیں سمجھا رہا ہے کہ خاندان، خلوص، محبت اور خدا سے تعلق ہی فرد کی تنہائی کا مداوا ہیں جن کا نعم البدل کوئی ذہین سے ذہین ترین سائنسی ایجاد نہیں ہوسکتی۔ اداکارہ کے انتقال کی خبر ایک ہفتے تک منظرِ عام پر نہ آسکی۔
بعدازاں، پڑوسیوں کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کی اور ان کی لاش کو ایدھی سرد خانے میں منتقل کردیا۔عائشہ خان کے جنازے میں کوئی شوبز شخصیت شریک نہ ہو سکی کیونکہ کسی کو اطلاع نہیں دی گئی اور تمام معاملات بہت خاموشی اور نجی انداز میں انجام دیے گئے۔ایک خوش اخلاق اور ملنسار خاتون تھیں، مگر زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے خود کو تنہا کر لیا تھا، اداکارہ کے پاؤں میں فریکچر ہوا تھا اور وہ شدید مایوسی کا شکار تھیں۔ماہرین نے اس تحقیق کے لیے بوڑھے، اور بڑھاپے میں چست رہنے والے افراد کا انتخاب کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ افراد جو بڑھاپے میں بھی چست تھے، دراصل وہ کبھی بھی یہ سوچ کر کسی کام سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے کہ زائد العمری کی وجہ سے اب وہ اسے نہیں کرسکتے۔وہ نئے تجربات بھی کرتے تھے اور ایسے کام بھی کرتے تھے جو انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں کیے۔ یہی نہیں وہ ہمیشہ کی طرح اپنا کام خود کرتے تھے اور بوڑھا ہونے کی توجیہہ دے کر اپنے کاموں کی ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالتے تھے۔ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں معمر افراد کی موجودگی کے باعث مختلف ایشیائی ممالک اپنے صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ معمر افراد کی دیکھ بھال پر خرچ کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھاپے میں لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں جیسے ڈیمنشیا، الزائمر، اور دیگر جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اوائل عمری سے ہی صحت کا خیال رکھا جائے اور صحت مند غذائی عادات اپنائی جائیں۔
ایک ڈرامہ ایکٹر نے بتایا کہ یہ خبر میرے لیے ایک صدمہ تھی۔‘انھوں نے ساتھی فنکاروں سے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈسٹری میں دوست ہوتے ہیں لیکن سب کی ذاتی مصروفیات اور گھریلو ذمہ داریاں بھی ہیں اور زیادہ تر دوستیاں اور ملاقاتیں سیٹ پر ہی ہو پاتی ہیں۔ چند ایک دوستیاں عام زندگی تک ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے لوگ چند ہی ہوتے ہیں سارے نہیں ہوتے۔ ہمارے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ ملاقات ہی چھ سے آٹھ ماہ بعد ہوتی ہے۔ ہاں اگر کام کر رہے ہوں تو روزانہ مل لیتے ہیں۔سینیئر اداکاروں میں شامل شہود علوی کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ویسے ہم سب کو ایک دوسرے کا پتا بھی ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے کی مدد بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن جب ہم کام نہیں کر رہے ہوتے ہیں یا عمر زیادہ ہوجاتی ہے اور کام بند کر دیتے ہیں تو تعلق کم سے کم ہو جاتا ہے۔‘’سینیئر آرٹسٹ جب کام چھوڑ دیتے ہیں۔ٹی وی سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کئی روز لاشوں کی خبر تک نہ ہونے کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ تعلق واسطہ کم سے کم رکھا جاتا ہے۔شہود علوی کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ ملتے ہی سال میں ایک بار ہیں اور صرف کام کے لیے۔ تو مشکل ہوتا ہے سب کچھ جاننا
ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں ہوشربا اضافے کا بل ارکان اسمبلی کو مبارک ہو
یہ جون 2025 کے آخری دنوں کی بات ہے جب مہنگائ اور بجلی اور گیس کے بلوں میں پستے ہوئے عوام کو خبر سنائ گئ کہ ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل ایوان نے کثرت رائے سے منظورکرلیا ۔تنخواہوں میں اضافے کا بل صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پیش کیا،بل پر اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے اعتراض اٹھایا،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کااعتراض مسترد کر دیا،انہوں نےکہا یہ بل قوانین کے مطابق ہے اور حکومت کا اچھا اقدام ہے۔بل کی منظوری کے بعد اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار سے بڑھا کر 4 لاکھ کر دی گئی ہے۔صوبائی وزراء کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار،اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر 9 لاکھ 50 ہزار کر دی گئی۔ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 20 ہزار سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار ہو گی،پارلیمانی سیکریٹریز کی تنخواہ 83 ہزار سے بڑھا کر 4 لاکھ 51 ہزار کر دی جائے گی۔بل کی منظوری کے بعد اسپیشل اسسٹنٹ کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار، ایڈوائزر کی تنخواہ بھی ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار ہوگی۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافےکامطالبہ پاکستان ریلوے ایمپلائز پریم یونین سی بی اے کے مرکزی صدر شیخ محمد انور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کم از کم سو فیصد اضافہ کیا جائے کیونکہ گزشتہ 3سال کے دوران موجودہ حکومت نے یوٹیلیٹی بلوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں جس قدر اضافہ کردیاہے اس نے عام آدمی خصوصاً سرکاری ملازمین کی زندگی اجیرن کردی ہے اور ان کے لیے بلوں کی ادائیگی کے بعد بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی، تعلیم اور صحت کی بنیادی ضروریات پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔شیخ محمد انور نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ پر سرکاری ملازمین اور پنشنرز پر بلاجواز نئے ٹیکس لگانے اور پرانے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے بجائے وزراء، ارکان اسمبلی، اعلیٰ افسران اور اعلیٰ عدلیہ کے جج -صاحبان کے پروٹوکول اور بے پناہ مراعات کا سلسلہ ختم کرےخیال رہے کہ اراکین اسمبلی اور وزرا کی تنخواہوں میں یہ اضافہ ان کی بنیادی ماہانہ تنخواہ پر کیا گیا ہے۔ ان کو ملنے والا ٹی اے ڈی اے، فری میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔تنخواہوں پر نظر ثانی کے اس بل کی منظوری پر پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ کی اکثریتی حکومت کو حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور سوشل میڈیا پر اس عنوان کو لے کر خوب تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
ایسے ہی کچھ خیالات کا اظہار سابق رکن پی ٹی آئی فواد چوہدری نے کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’پنجاب اسمبلی کے ممبران کی تنخواہ بڑھانا درست فیصلہ ہے، ہمارے ہاں ممبران اسمبلی کے لیے یہ ماڈل بنا دیا گیا ہے کہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس سیاست میں آہی نہ سکے تا کہ صرف اشرافیہ سیاست کرے ممبران کی تنخواہیں اچھی ہونی چاہئیں بلکہ ان کو اپنے حلقوں میں دفتر بھی دیں اور الیکشن کمپین اسپانسر کرنے کا بھی طریقہ کار ہو تا کہ متوسط طبقہ سیاست میں فعال ہو، اس کے ساتھ ممبران اسمبلی کی تربیت سازی بھی کریں پنجاب حکومت اور سپیکر کا فیصلہ درست ہے دوسرے صوبوں کو بھی تنخواہیں بڑھانی چاہئیں۔۔‘انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان دیوالیہ ہے، آئی ایم ایف کے قرض اور شرائط پر گزرا کر رہا ہے لیکن شریفوں کو پرواہ نہیں۔‘صارفین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔پنجاب اسمبلی میں اراکین کی تنخواہوں میں اضافے کے بل کی منظوری کو حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف احمد خان بچھر نے اس بل پر اعتراضات اٹھائے۔جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما مونس الہی نے بھی اس اضافے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے پیسہ ضائع کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان اراکین میں سے کسی کو بھی اس اضافے کی ضرورت نہیں اور یہ رقم کہیں اور خرچ ہونی چاہیے تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن اور رکن اسمبلی شوکت بسرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس موقعے پر جب عوام قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا غلط اقدام ہے۔یہ ایسا وقت ہے جب مہنگائی سے تنگ عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور حکومت اس قسم کی شاہ خرچیاں کر رہی ہے۔ ایسا کرنے سے پاکستان کے عوام کو غلط پیغام گیا ہے۔‘پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شوکت بسرا اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے کہ اس سے قبل اراکین اسمبلی کی ماہانہ تنخواہ بہت زیادہ کم تھی۔ وہ کہتے ہیں حکومت غلط بیانی کرتی ہے جب وہ یہ کہتی ہے کہ رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے تھی۔یہ صرف 76 ہزار روپے نہیں تھی۔ اسمبلی کے ایک رکن اور اس کی فیملی کو مفت علاج معالجے کی سہولت ملتی ہے، سال کے 150 سے زیادہ دن اسمبلی کا سیشن چلتا ہے تو اس کو ٹی اے ڈی اے کی مد میں بھی بہت پیسے ملتے ہیں۔ دیگر بے شمار مراعات اس کے علاوہ ہیں۔‘
شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے اسمبلی کے فلور پر بھی اس بل کی مخالفت کی تھی اور وہ آئندہ بھی اس کی مذمت کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی جماعت اس بل کی منظوری کے خلاف اسمبلی میں ایک قرارداد لانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ عوا م کا کہنا ہے کہ ان کو دی جانے والی مفت بجلی، گیس، پیٹرول، عالیشان رہائش، مہنگی گاڑیاں اور عیش و عشرت کے دیگر سامان کی فراہمی کی بچت کی رقم سے اندرونی اور بیرونی قرضے اداکیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزراء اورارکان اسمبلی کو 800فیصد تک اضافی تنخواہیں ادا کی جاسکتی ہیں تو غریب ملازمین اور پنشنرز کو 100فیصد اضافہ کیوں نہیں دیا جاسکتا؟ کیا ہمیشہ آئی ایم ایف کو سرکاری ملازمین اور پنشنرز ہی نظر آتے ہیں جبکہ ارکان اسمبلی، سینیٹ اور عدلیہ کے لوگ کبھی نظر ہی نہیں آتے۔ کیسا قانون ہے ہمارے ملک کا کہ جو شخص سب کچھ خرید سکتا ہے اُس کے لیے بجلی، گیس، پانی، پیٹرول اور تمام اشیاء مفت ہیں اور جو نہیں خرید سکتا اُس پر لازم ہے کہ وہ ہر چیز اپنی جیب سے خریدے۔
بدھ، 16 جولائی، 2025
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام-فضائل و مناقب
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کی ولادت 195 ہجری میں ہوئی آپ کا اسم گرامی ،لوح محفوظ کے مطابق ان کے والد گرامی حضرت امام رضا علیہ السلام نے، محمد، رکھا آپ کی کنیت ابو جعفر اور آپ کے القاب جواد، قانع، مرتضی تھے اور مشہور ترین لقب تقی تھا۔یہ ایک حسرتناک واقعہ ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام کو نہایت ہی کمسنی کے زمانہ میں مصائب اور پریشانیوں کا سامنا ہوا انہیں بہت ہی کم وقت ماں باپ کی محبت اور شفقت و تربیت کے سایہ میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکا۔ آپ صرف پانچ برس کے تھے کہ، جب حضرت امام رضا علیہ السلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے۔ امام محمد تقی علیہ السلام اس وقت سے جو اپنے باپ سے جدا ہوئے تو پھر زندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا، امام محمد تقی علیہ السلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السلام کی وفات ہو گئی، دنیا سمجھنے لگی کہ امام محمدتقی کے لیے علمی اور عملی بلندیوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا
، اس لیے اب امام جعفرصادق علیہ السلام کی علمی مسند شاید خالی نظر آئے، مگر خالق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علماء سے فقہ و حدیث و تفسیر اور کلام پر مناظرے کرتے اور ان سب کو قائل ہو جاتے دیکھا۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اپنے والد ماجد کے سایہ عاطفت سے ان کی زندگی ہی میں محروم ہو گئے تھے، ابھی آپ کی عمر 6 سال کی بھی نہ ہونے پائی تھی کہ آپ اپنے پدر بزرگوار کی شفقت و سائہ عاطفت سے محروم کر دیئے گئے، اور مامون رشید عباسی نے آپ کے والد ماجد حضرت امام رضا علیہ السلام کو اپنی سیاسی غرض کے ماتحت مدینہ سے خراسان طلب کر لیا تھا۔ اور ساتھ میں حکم حاکم تھا کہ خاندان کا کو فرد آپ کے ہمراہ نہیں جائے گا -مدینے سے خراسان جیسے دور دراز علاقے میں لے جانے کا مطلب یہ تھا کہ آپ کو ازیت پہنچا کر اہل و عیال سے دور کیا جائے - جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ سب کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ کر خراسان تشریف لے گئے اور وہیں عالم غربت میں سب سے جدا مامون رشید کے ہاتھوں ہی شہید ہو کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے لیے حضرت امام رضا علیہ السلام کی جدائی ہی کیا کم تھی کہ اب اپنی پھوپھی کے سایہ سے بھی محروم ہو گئے۔ ہمارے امام کے لیے کمسنی میں یہ دونوں صدمے انتہائی تکلیف دہ اور رنج رساں تھے لیکن مشیت الہی یہی تھا۔ آخر آپ کو تمام مراحل کا مقابلہ کرنا پڑا اور آپ صبر و ضبط کے ساتھ ہر مصیبت کو جھیلتے رہے۔امام جواد (ع) کم سنی میں ہی بے مثل شخصیت کے طور پر ابھرے شیعہ علماء و اکابرین کے مجمع میں دین پر وارد ہونے والے شبہات کا جواب، یحیی بن اکثم وغیرہ جیسے افراد کے ساتھ کم سنی میں مناظرے کیے، جن میں سب آپ (ع) کی منطق و علم دانش کے سامنے مغلوب ہوئے ـ یہ وہ اسباب تھے جن کی بنا پر آپ (ع) ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانے پہچانے لگے۔ ایک طرف سے یہ مقبولیت عامہ حاسد علمائے دربار کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، تو دوسری طرف ظلم و جور کی بنیادوں پر استوار ہونے والی سلطنت عباسیہ کو خطرے کا احساس ہوا۔
حضرت امام محمد تقی فضا ئل کے حامل تھے ،دنیا کے تمام لوگ اپنے مختلف ادیان ہونے کے باوجود آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں سے حیرت زدہ تھے ،آپ سات سال اور کچھ مہینے کی عمر میں درجہ ٔ امامت پر فائز ہوئے ،آپ نے ایسے علوم و معارف کے دریا بہائے جس سے تمام عقلیں مبہوت ہو کر رہ گئیں ، تمام زمانوں اور آبادیوں میں آپ کی ہیبت اور آپ کی عبقری (نفیس اور عمدہ )صفات کے سلسلہ میں گفتگو ہونے لگی۔ اس عمر میں بھی فقہا اور علماء آپ سے بہت ہی مشکل اور پیچیدہ مسا ئل پوچھتے تھے جن کا آپ ایک تجربہ کار فقیہ کے مانند جواب دیتے تھے ۔ راویوں کا کہنا ہے کہ آپ سے تین ہزار مختلف قسم کے مسائل پوچھے گئے جن کے جوابات آپ نے بیان فرمائے ہیں ۔ ظاہری طور پر اس حقیقت کی اس کے علاوہ اور کو ئی وجہ بیان نہیں کی جا سکتی ہے کہ شیعہ اثناعشری مذہب کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے ائمہ اہل بیت کو علم ،حکمت ،اور فصل الخطاب عطا کیا ہے اور وہ فضیلت عطا کی ہے جو کسی شخص کونہیں دی ہے ہم ذیل میں مختصر طور پر اس امام سے متعلق بعض خصوصیات بیان کر رہے ہیں :
امام نے اپنے والد بزرگوار کے زیر سایہ اور آغوش پدری میں پرورش پا ئی اور تکریم و محبت کے سایہ میں پروان چڑھے، جب مام رضا خراسان میں تھے تو امام محمد تقی آپ کے پاس خطوط لکھا کرتے تھے جو انتہا ئی فصاحت و بلاغت پر مشتمل ہوتے تھے ۔ امام علی رضا نے اپنی اولاد کو جو اعلیٰ تربیت دی ہے اس میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ان کو ہمیشہ نیکی، اچھا ئی اور فقراء کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے جیسا کہ آپ نے خراسان سے اُن کے نام ایک خط میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریر فرمایا : ''میری جان تم پر فدا ہو میں یہ چا ہتا ہوں کہ تمہاری آمد و رفت صرف بڑے دروازے سے ہونی چا ہئے ،اور جب بھی تم سوار ہو کر نکلو تو تمہارے ساتھ سونے ،چا ندی (درہم و دینار کے سکے )ضرور ہونا چا ہئیں ،تاکہ جو بھی تم سے مانگے اس کو فوراً عطا کردو ،اور تمہارے اقرباء میں سے جو کو ئی تم سے نیکی کا مطالبہ کرے اس کو پچاس دینار سے کم نہ دینا اور تمھیں زیادہ دینے کا بھی اختیار ہے ، امام رضا نے اپنے فرزند ارجمند کے دل کی گہرا ئیوں میں مکارم اخلاق سے آراستہ کیا تھا
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا
چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
-
نام تو اس کا لینارڈ تھا لیکن اسلام قبول کر لینے کے بعد فاروق احمد لینارڈ انگلستانی ہو گیا-یہ سچی کہانی ایک ایسے انگریز بچّے لی...