جمعہ، 1 نومبر، 2024

ٹرک آر' ٹریٹ یعنی ہالو وین

     ہالو وین  در اصل امریکا  اور کچھ  یورپی ممالک میں منایا جانے والا ایک تہوار ہے جس  کا  تصو ر  بھوتوں چڑیلوں اور بدروحوں سے وابستہ ہے  -اس رات کے مشہور ہے کہ ماورائ بدی کی قوتیں زمین پر اترتی ہیں اور انسانوں کو تکلیف پہنچاتی ہیں اور ان بری قوتوں کو ان ڈراؤنے ملبوسات اور ڈراؤنے چہروں سے بھگایا جاتا ہےاس رات میں گلی کوچوں، بازاروں، سیرگاہوں اور دیگر مقامات پر جابجا ڈراؤنے چہروں اور خوف ناک لبادوں میں ملبوس چھوٹے بڑے بھوت اور چڑیلیں چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اکثر گھروں کے باہر بڑے بڑے کدو پِیٹھے نظر آتے ہیں جن پر ہیبت ناک شکلیں تراشی گئی ہوتی ہیں اور ان کے اندر موم بتیاں جل رہی ہوتی ہیں۔ کئی گھروں کے باہر ڈراؤنے ڈھانچے کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے قریب سے گزریں تو وہ ایک خوف ناک قہقہہ لگا کر دل دہلا دیتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ امریکا میں ہالووین کی ابتدا 1921ء میں شمالی ریاست منیسوٹا سے ہوئی اور اس سال پہلی بار شہر کی سطح پر یہ تہوار منایا گیا۔ پھر رفتہ رفتہ دو ہزار سال پرانا یہ تہوار امریکا کے دوسرے قصبوں اور شہروں تک پھیل گیا اور پھر اس نے قومی سطح کے بڑے تہوار اور ایک بہت بڑی کاروباری سرگرمی کی شکل اختیار کرلی-تاریخ دانوں کا کہنا ہے ہالووین کا سراغ قبل از مسیح دور میں برطانیہ کے علاقے آئرلینڈ اور شمالی فرانس میں ملتا ہے جہاں کیلٹک قبائل ہر سال 31 اکتوبر کو یہ تہوار مناتے تھے۔ ان کے رواج کے مطابق نئے سال کا آغاز یکم نومبر سے ہوتا تھا۔


موسمی حالات کے باعث ان علاقوں میں فصلوں کی کٹائی اکتوبر کے آخر میں ختم ہوجاتی تھی اور نومبر سے سرد اور تاریک دنوں کا آغاز ہو جاتا تھا۔ سردیوں کو قبائل موت کے ایام سے بھی منسوب کرتے تھے کیونکہ اکثر اموات اسی موسم میں ہوتی تھیں۔قبائل کا عقیدہ تھا کہ نئے سال کے شروع ہونے سے پہلے کی رات یعنی 31 اکتوبر کی رات کو زندہ انسانوں اور مرنے والوں کی روحوں کے درمیان موجود سرحد نرم ہوجاتی ہے اور روحیں دنیا میں آکر انسانوں، مال مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ روحوں کو خوش کرنے کے لیے کیلٹک قبائل 31 اکتوبر کی رات آگ کے بڑے بڑے الاؤ روشن کرتے تھے، اناج بانٹتے تھے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔ اس موقع پر وہ جانوروں کی کھالیں پہنتے اور اپنے سروں کو جانوروں کے سینگوں سے سجاتے تھے۔جب آٹھویں صدی میں ان علاقوں میں مسیحیت کا غلبہ ہوا تو اس قدیم تہوار کو ختم کرنے کے لیے پوپ بونی فیس چہارم نے یکم نومبر کو ’تمام برگزیدہ شخصیات کا دن‘ قرار دیا۔


 یہ دن اس دور میں ’آل ہالوز ایوز‘ کہلاتا تھا جو بعد ازاں بگڑ کر ہالووین بن گیا۔ کلیسا کی کوششوں کے باوجود ہالووین کی اہمیت کم نہ ہو سکی اور لوگ یہ تہوار اپنے اپنے انداز میں مناتے رہے۔امریکا دریافت ہونے کے بعد بڑی تعداد میں یورپی باشندے یہاں آکر آباد ہوئے۔ وہ اپنے ساتھ اپنی ثقافت اور رسم و رواج اور تہوار بھی لے کر آئے۔ کہا جاتا ہے کہ شروع میں ہالووین میری لینڈ اور جنوبی آبادیوں میں یورپی تارکین وطن مقامی طور پر چھوٹے پیمانے پر منایا کرتے تھے۔ انیسویں صدی میں بڑے پیمانے پر یورپ سے لوگ امریکا آکر آباد ہوئے جن میں ایک بڑی تعداد آئرش باشندوں کی بھی تھی۔ ان کی آمد سے اس تہوار کو بڑا فروغ اور شہرت ملی اور اس میں کئی نئی چیزیں بھی شامل ہوئیں جن میں، ٹرک آر ٹریٹ، خاص طور پر قابل ذکر ہے، جو آج اس تہوار کا سب سے اہم جزو ہے۔انیسویں صدی کے آخر تک امریکا میں ہالووین پارٹیاں عام ہونے لگیں یہ تو ہم سب  ہی جانتے ہیں کہ کوئ موقع ہو وہ کارپوریٹ طبقے کے ہاتھ آ جائے تو سمجھ لیں کہ اربوں کا بزنس ہاتھ آ گیا یہی کچھ اب ہالو وین کی رسم کے ساتھ ہو چکا ہے


ان پارٹیوں میں کھیل کود اور کھانے پینے کے ساتھ ساتھ ڈراؤنے کاسٹیوم پہنے جاتے تھے۔ان پارٹیوں میں اس دور کے اخباروں میں اس طرح کے اشتہار شائع ہوتے تھے جن میں ایسے بہروپ دھارنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی جنہیں دیکھ کر لوگ دہل جائیں بیسویں صدی میں1950ء کے لگ بھگ ہالووین کی حیثیت مذہی تہوار کی بجائے ایک ثقافتی تہوار کی بن گئی جس میں دنیا کے دوسرے حصوں سے آنے والے تارکینِ وطن بھی اپنے اپنے انداز میں حصہ لینے لگے۔ رفتہ رفتہ کاروباری شعبے نے بھی ہالووین سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے نت نئے کاسٹیوم اور دوسری چیزیں مارکیٹ میں لانا اور ان کی سائنسی بنیادوں پر مارکیٹنگ شروع کردی۔ یہاں تک کہ اب ہالووین اربوں ڈالر کے کاروبار کا ایک بہت بڑا ثقافتی تہوار بن چکا ہے۔کاروباری مراکز میں بھی یہ مناظر اکتوبر شروع ہوتے ہی نظر آنے لگتے ہیں۔ 31 اکتوبر کو جب تاریکی پھیلنے لگتی ہے اور سائے گہرے ہونا شروع ہو جاتے ہیں تو ڈراؤنے کاسٹیوم میں ملبوس بچوں اور بڑوں کی ٹولیاں گھر گھر جا کر دستک دیتی ہیں اور trick or treat کی صدائیں بلند کرتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو ہمیں مٹھائی دو، ورنہ ہماری طرف سے کسی چالاکی کے لیے تیار ہو جاؤ۔ گھر کے مکین انھیں ٹافیاں اور میٹھی گولیاں دے کر رخصت کر دیتے ہیں۔

 

منگل، 29 اکتوبر، 2024

بولیں اماں محمد علی کی 'جان بیٹا خلافت پہ دے دو



   سنہ ء  1857 میں  دہلی  کی جنگ آزادی  اور پھر مسلمانوں  کے قتل عام سے  کچلے جانے کے بعد ہندوستان کے عوام میں  دوباہ  آزادی کی چنگاریاں سلگ رہی تھیں لیکن اس بار ان کا مرکز دہلی نہیں تھا بلکہ  یوپی تھا -یوپی کے ایک شہر رام پور  کے مو لانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کی والدہ،(پیدائش: 1850ء – وفات: 12 نومبر 1924ء     رام پور  شہر  پیدا ہوئیں۔   وہ ایک سچی مومنہ تھیں۔انہوں نے ہندوستان کی عورت  میں آزادی کی روح پھونکتے ہوئے کہا    کہ    ہندوستان کی یہ انتہائی بدنصیبی ہے کہ یہاں کی عورتیں عیش و آرام کی عادی ہوگئی ہیں اور خود کو حب الوطنی کے فرائض سے الگ کرلیا ہے۔ بہنو! اب وقت آگیا ہے کہ ہر وہ مرد و عورت جس میں ذرّہ برابر ایمان اور خودداری ہو، اپنے آپ کو خدا کی فوج کا سپاہی سمجھے، ہم میں سے ہر مرد اور عورت والنٹیئر ہے۔ ملک و قوم کی حالت بے حد نازک ہے، قید خانوں سے خوف نہ کھائو، اپنے فرائض ادا کرو اور ساتھ ہی مذہبی اور سوشل ذمہ داریاں بھی فراموش نہ کرو، میں تم کو نصیحت کرتی ہوں کہ جذبات کو مشتعل کرکے اپنی گرفتاری کا سبب بھی پیدا نہ کرو، لیکن اگر گرفتار ہوجائو تو اس سے بھاگو بھی نہیں۔ اگر ہمارے مرد جیلوں میں چلے جائیں گے اُس وقت آزادی کے پھریرے اڑاتے ہوئے ہم آگے بڑھیں گے۔‘‘تو یہ تھی ایک غیر تعلیم یافتہ مگر سرفروش ماں کی تقریر، جس کو اللہ نے شوکت علی اور محمد علی جیسے آزادی کے علَم بردار بیٹے دیے تھے۔


انہوں نے اسلامی حمیت، جرأت، بے خوفی، ایثار و قربانی اور جذبۂ حریت کے جو نقوش تاریخ میں چھوڑے ہیں اس سے ان کا نام تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ اُس دور میں عورت کے لیے بہت بڑی چیز تھی انہیں تحریکِ آزادیِ مسلمانانِ ہند کی پہلی مجاہد خاتون کی حیثیت سے تاریخ میں جگہ ملی۔ بی اماں کے بیٹے جب جیل میں ڈال دیے گئے تھے تو انہوں نے برقع پہن کر ایک بڑے اجلاس کی صدارت کی۔ جب وہ دونوں ’’چھندواڑے‘‘ میں نظر بند تھے تو بی اماں وہاں موجود تھیں۔ حکومت کے لوگ مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کے پاس ایک ٹائپ شدہ معافی نامہ لے کر آئے کہ وہ ان پر دستخط کردیں۔ بی اماں دوسرے کمرے میں بیٹھی یہ گفتگو سن رہی تھیں، اُن کو خیال ہوا کہ کہیں ان کے بیٹے دستخط نہ کردیں، انہوں نے بے تابی سے محمد علی کو پکارا۔وہ آئے کہ نہ معلوم ماں کیا کہنا چاہتی ہیں؟بی اماں بولیں ’’تم دونوں بھائی معافی نامے پر دستخط نہیں کرو گے، اور اگر تم نے دستخط کردیے تو میں نہ تمہارا دودھ بخشوں گی، نہ تمہاری شکل دیکھوں گی، نہ تم کو کبھی گھر کے اندر گھسنے دوں گی، ذلت کی آزاد زندگی سے جیل کی کوٹھری ہزار درجہ بہتر ہے جہاں انسان کا وقار قائم رہے۔اور وقت نے بتایا کہ  بی اماں کے دونوں بیٹے اپنی ماں کے مشن پر ثابت قدمی سے قائم رہے 


‘‘بی اماں نے 30 دسمبر 1921ء کو آل انڈیا لیڈیز کانفرنس سے خطاب کیا جس میں ہر مذہب کی خواتین شریک تھیں۔ انہوں نے اس میں کہا کہ ’’بہنو! خدا کا قانون مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں ہے، قومیں مردوں اور عورتوں دونوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ملک کے لیے جو فرائض مردوں پر عائد ہوتے ہیں وہی عورتوں پر۔ ان کی خطابت نے ہندوستان کی عورتوں میں حریت کا جزبہ بیدار کیا -جس کے طفیل لاتعداد عورتیں بی اماں کے قافلے میں شال ہوتی گئیں -انہوں نے محدود وسائل میں بچوں کو اچھی تعلیم دلائی، اپنے زیور بیچ کر علی گڑھ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا۔  مولانا محمد علی جوہر  کے چچا نے انگریزی تعلیم کی مخالفت کی تو انہوں نے اپنا زیور بیچ کر چپکے چپکے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، لیکن ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی پورا خیال رکھا۔ نہ صرف دینی تعلیم دلائی بلکہ ان کے دلوں میں دین سے گہرا لگائو بھی پیدا کیا۔1887ء میں بی اماں نے مولانا محمد علی کو مزید تعلیم کے لیے انگلستان بھیجا۔ پہلی جنگِ عظیم (1914-18) کے بعد برطانوی سامراج نے خلافتِ عثمانیہ کو اپنی سازشوں کا نشانہ بنایا اور اندرونی اور بیرونی سازشوں کے ذریعے ترکی کی خلافت کا خاتمہ کردیا تو مسلمانانِ ہندوستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ خلافت کی بحالی کے لیے زبردست تحریک چلائی گئی۔ 


مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی نے بی اماں کے ساتھ مل کر ملک کے طول و عرض کے دورے کیے اور مسلمانو ں کی غیرت کو جھنجھوڑا۔1921ء میں دونوں بھائیوں کو انگریز حکومت نے گرفتار کرلیا اور مقدمہ چلانے کا حکم دیا۔ اس مقدمے کی سماعت کراچی کے خالق دینا ہال میں ہوئی۔ اُس زمانے میں کسی صاحبِ دل نے ’’صدائے خاتون‘‘ کے نام سے نظم لکھی جو دیکھتے ہی دیکھتے بچے بچے کی زبان پر چڑھ گئی۔ حالانکہ اس نظم کو پھیلانے میں سوائے زبان کے اور کسی میڈیا نے کوئی کردار ادا نہیں کیا تھا۔ قرائین بتاتے ہیں کہ مولانا  محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر  دونوں بھائیوں کو اپنی ماں کی فہم و فراست پر بڑا ناز تھا، وہ ہر سیاسی معاملے میں ماں کے مشورے پر عمل کرتے تھے اور ہمیشہ ان کا مشورہ بہترین ہوتا تھا، حالانکہ انہوں نے اردو کی چند ہی کتابیں پڑھی تھیں مگر بے حد زیرک اور عقل مند تھیں۔ ملکی سیاست پر انہیں پورا پورا عبور حاصل تھا۔‘‘تو یہ تھیں وہ پہلی مسلمان خاتون رہنما جنہوں نے ہندوستان میں تمام خاندانی جکڑبندیوں کو توڑ کر آزادیِ مسلمانانِ ہند کی راہ میں پہلا قدم  بڑھایا، یہ بی اماں تھیں جن کے ولولہ انگیز خطابت کے نتیجے میں ہندوستان کی عورت میں  آزادی  کا   بدل جذبہ  بیدار کیا اور پھر لاتعداد خواتین نے بی اماں کے قافلے میں شامل ہو کر اس   کو کارواں  میں بدل دیا

 


نومبر 1924ء میں بی اماں  راہئ  ملک عدم  ہوئیں  تو ان کے دونوں بیٹے ہی نہیں پوری قوم قابلِ احترام ماں کی شفقتوں سے محروم ہوگئی جن کے بارے میں شوکت علی نے کہا تھا کہ ’’ہماری ماں نے ہمیں زندہ رہنے اور آزادی سے زندگی گزارنے کا سبق دیا۔‘‘اور مولانا محمد علی جوہر کہا کرتے تھے کہ ’’ماں کی اصل خوب صورتی اس کی محبت ہے، اور میری ماں دنیا کی خوب صورت ترین ماں ہے۔‘‘مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ کہتی تھیں کہ ’’دونوں بھائیوں کو اپنی ماں کے فہم و فراست پر بڑا ناز تھا، وہ ہر سیاسی معاملے میں ماں کے مشورے پر عمل کرتے تھے اور ہمیشہ ان کا مشورہ بہترین ہوتا تھا، حالانکہ انہوں نے اردو کی چند ہی کتابیں پڑھی تھیں، مگر بے حد زیرک اور عقل مند تھیں، ملکی سیاست پر انہیں پورا پورا عبور حاصل تھا۔‘‘تو یہ تھیں وہ پہلی مسلمان خاتون راہ نما، جنہوں نے ہندوستان میں تمام خاندانی جکڑ بندیوں کو توڑ کر آزادیِ مسلمانانِ ہندکی راہ میں پہلا قدم بڑھایا۔یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی  مسلمان عورت یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ مسلمانانِ ہند کی آزادی کیا چیز ہے۔ ایسے دور میں رام پور  شہر کے   لوگوں کے درمیان بی اماں اپنے انفرادی کردار کے باعث حیرت انگیز طریقے سے سامنے آئیں۔اور آزادئ ہند کے دشمنوں کو ناکوں چنے چبوائے  

 بو لیں  اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو

ساتھ تیرے ہے شوکت علی بھی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو

ہو تم ہی میرے گھر کا اجالا ،تھا اسی واسطے تم کو پالا

کام کوئی نہیں اس سے اعلیٰ ،جان بیٹا خلافت پہ دے دو

اتوار، 27 اکتوبر، 2024

میرا تعارف-زرا عمر رفتہ کو آواز دینا

 

میرا تعارف

نحمدہ  ونصلّٰی علٰی  رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین

جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان 

 عمر  عزیز پاکستان  جتنی 

پاکستان  کی معزّز قوموں میں  معتوب قوم مہاجر  سے تعلّق ،

 میں سب سے پہلے اللہ کریم رحمٰن و رحیم , کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ اپنے والدین مر حومین کی بھی بے حد شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے مجھے   قرطاس وقلم کی اہمیت سےروشنا س کیا,اور زندگی کے لق ودق صحرا میں پیش آنے والی  اونچ نیچ سمجھائ ,,مشکلات کی کٹھن گھڑیوں میں  صبر اور نماز سے مدد کی  نصیحت کی  اور زندگی کے ہر ہر قدم پر میری رہنمائ کی  ان ہستیوں کے ہمراہ اپنےمحترم علم دوست شوہر  کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ جن کی قریب قر یب بیالیس سالہ رفاقت میں مجھے ا ن کے آ  نگن میں سائبا ن  عِلم نصیب ہواہجرت , جون انیس سو  انچاس بوجوہ سقوط حیدرآباد دکن کے بعد وہاں کے قتل عام سے بچنے کے بعد بعد از ہجرت تمام عمر اپنے پیارے محبوب وطن پاکستان کے قلب کراچی میں بسر ہوئ 

 اب میں قارئین کو اپنا خاندانی پس منظر بتانا چاہوں گی 

میری والدہ اور والد کے اجد ا دسرزمین ہند کے زی وقار اور منفرد تہذیب رکھنےوالے شہر لکھنؤ میں سادات کے سو سالہ دور حکومت  میں ایران سے وارد ہند ہوئے،ان کا شجرہء نسب نجیب الطرفین سادا ت سے ہوتا ہوا چوتھے امام حضرت اما م زین العابدین علیہ السّلام سے جا ملتا تھا اور وہ  ایران کے شاہی دربار سےمنسلک شاہانہ طرز حیات رکھنے والے  لوگ تھے   ان میں ادباء و فضلاء شعراءصاحبان علم وحکمت  تھے  اور جو دربار سے وابستہ نہیں تھے وہ ہیروں اور جواہرات کی تجارت کرنے والے ملک التّجار تھے چنانچہ ان کی لکھنؤ میں آمد پر شاہی دربار میں بھی ان کی خاص پذیرائ ہوئ اور یہ یہاں بھی شاہی دربار سے ہی وابستہ ہوئےان کی امارت کا یہ عالم تھا کہ جب میری والدہ شادی ہو کر حیدرآباد دکن آئیں اسوقت ان کا جہیز ریل کی دو بوگیاں ریزرو کر کے لایا گیا ،میری والدہ کے شادی کے جوڑے سونے کے تاروں اور ریشم کی آمیزش سے تیّار کئے گئے تھے جنہیں زربفت اور کمخواب  کہتے تھے ( ہجرت نے ہماری والدہ کواور ہم کو اس الغاروں سامان  سے فیضیاب ہونے کی مہلت نہیں دی اور سب کچھ بھرا گھر چھوڑ کر جان بچانے کو گھر سے نکل آ ئےامارت کے باوجود ہمارے خاندان میں علم و ادب کے شیدا ئیو ں میں  خواتین کا بھی علم سے  وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اس دور میں جب ہند وستان میں عورت کی تعلیم ایک جرم سمجھی جاتی تھی یہ لوگ اپنے گھر کی بچّیوں کی تعلیم پر بھی بھرپور توجّہ دیتے تھے  مجھے میری نانی جان نے بتایا تھا کہ سن انّیس سو تیس میں جب میری والدہ پانچ برس کی ہوئیں تب ان کو پڑھانے کے لئے ایک بزرگ استاد گھر پر رکھّے گئے اور میری والدہ نے اپنے استاد محترم سے فارسی عربی اردو اور انگلش کی تعلیم حاصل کی جبکہ ان کا داخلہ بھی ایک مسلم اسکول میں اسی عمر میں کروادیا گیا ،، صبح آٹھ بجے ان کی ڈیوڑھی پر پردے لگا ہوا یکّہ آکر رکتا تھا اور اس طرح اسکول جاتے ہوئے میری والدہ نے غیر منقسم ہندوستان میں ہی مڈل کلاس پاس کرلی تھی  اور ہمارے گھرانے کی خواتین بھی علم وادب کی دلدادہ تھیں    ہجرت  کی درماندگی کے باوجود میں نے اپنے گھر کے آنگن میں ادبی محفلیں سجتی ہوئ دیکھیں 

میری والدہ کے  قبلہ محترم رئیس امروہوی صا حب  سے  گھریلو مراسم تھے ،جبکہ  محترم سجّاد ظہیر صاح کے گھر ا نے سے  بھی والدہ کے ہمراہ آنا جانا لگا رہتا تھامیری والدہ صاحبہ کے  یہ خا ندانی  مراسم تقسیم ہند سے پہلے لکھنؤ سے ہی چلے آرہے تھے جیسا کہ میں نے بتایا کہ میری والدہ محترمہ کا تعلّق لکھنؤ کے سادات سے تھا جبکہ والد بھی یوپی کے سادات کے اہم خانوادے سادات نو گانواں میں عابدی سادات کےجیّد علمائے دین کے قبیلے  سے تعلعق رکھتے تھے ،میرے محترم دادا جان جنوبی ہندوستان میں قطب شاہی دور حکومت میں اپنا آبائ شہر چھوڑ کر حیدرآباد دکن آئے اور انہون نے یہیں پر مستقل سکونت اختیار کی ،جسے ازاں بعد ہم بھی چھوڑ کر پاکستان آگئے 

میرابچپن

 حالانکہ میرا بچپن عام بچّوں کا بچپن نہیں تھا ،کیونکہ ہجرت کے مصائب نے شائد مجھ کو قبل از وقت ہی بہت کچھ  سوچنے پر مجبور کردیا تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ گھر کے اندر کےادبی وتہذیبی ماحول کا اثر مجھ میں خوب اچھّی طرح سرائت کرنے لگا اور میں پرائمری جماعتوں کی تعلیم کے دوران ہی میں ناول بینی کی شوقین ہو گئ با لآخرزمانے کے ان نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ہمارے گھرانے کی علمی صحبتیں برقر ار ہی تھیں اور ان ادبی صحبتوں کارنگ بھی میری زات پر نمایاں ہو نے لگا تھا  اور  مجھے  ا دب سے دلچسپی ہو گئ  میں نے بچپن کے ہی دور میں  نامور ادباء میں کرشن چندر ،راجندر سنگھ  بیدی عصمت چغتائ ،قرّۃ العین حیدر ،عظیم بیگ چغتا ئ ،را م لعل ساحر لدھیانوی  اور اس وقت کے جو بھی مشہور ادیب اور شاعر تھے  سب کو بار بار  پڑھا اور پھر میرے اندر کی ادیبہ  جاگ اٹھی  اور میں نے  چھٹی کلاس میں ایک نظم اپنے وطن سے محبّت کے اوپرپڑھی یہ ہمارے اسکول کی جانب سے طالبات کا مشاعرہ تھا جو بیگم رعنا لیاقت علی خان کے  فلاحی ادارے  اپوا کے زیر انتظام  بیگم رعنا  لیاقت علی خان کے زیر    صدارت ہوا تھا  میں نے اس مشاعرے میں پاکستان کی آزادی پر نظم پڑھی تھی اور  مجھے مشاعرے کے اختتام پر ایک خوبصورت ڈائری بھی انعام میں ملی تھی 

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2024

ڈیڑھ سو سال جینے کی آرزو میں

 


عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکار۔ مائیکل جیکسن امریکی ریاست انڈیانا میں انتیس اگست انیس سو اٹھاون کو پیدا ہوا اسے بچپن سے گلوکار بننے کا شوق پیدا ہو گیا اور کڑی محنت کے بعد کنگ آف پاپ کے لقب سے جانا جانے لگا  مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان جو نظام فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا اسے چار چیزوں سے سخت نفرت تھی ‏اسے اپنے سیاہ رنگ سے نفرت تھی, وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا ‏اسے گمنامی سے نفرت تھی, وہ دنیا کا مشہور ترین شخص بننا چاہتا تھا۔اسے اپنے ماضی سے نفرت تھی وہ اپنے ماضی کو اپنے آپ سے کھرچ کر الگ کردینا چاہتا تھا۔‏اسے عام لوگوں کی طرح ستر اسی برس میں مر جانے سے بھی نفرت تھی وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا ‏وہ ایک ایسا گلوکار بننا چاہتا تھا جو ایکسو پچاس سال کی عمر میں لاکھوں لوگوں کے سامنے ڈانس کرے اپنا آخری گانا گائے پچیس سال کی گرل فرینڈ کے ماتھے پر بوسہ دے اور کروڑوں مداحین کی موجودگی میں دنیا سے رخصت ہو جائے ‏مائیکل جیکسن کی آنے والی زندگی ان چار خواہشوں کی تکمیل میں بسر ہوئی۔

اس نے 1982ء میں اپنا دوسرا البم ’’تھرلر‘‘ لانچ کیا یہ دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والا البم تھا۔ ایک ماہ میں اس کی ساڑھے چھ کروڑ کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور یہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا تھا۔ مائیکل جیکسن اب دنیا کا مشہور ترین گلوکار تھا، اس نے گمنامی کو شکست دےدی تھی ‏مائیکل نے اس کے بعد اپنی سیاہ جلد کو شکست دینے کا فیصلہ کیا اور پلاسٹک سرجری شروع کرا دیی، امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت، جلد، نقوش اور حرکات و سکناتبدل گئیں ‏سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی


‏اس کے بعد ماضی کی باری آئی، مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کردیا اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے، اس نے کرائے پر گورے ماں باپ حاصل کر لئے اور تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی کر لی۔ اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اسکی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی ‏اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی ‏لہٰذا اب اس کی آخری خواہش کی باری تھی۔


 وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئےدلچسپ حرکتیں کرتاتھا مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا وہ جراثیم وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ‏ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے ‏یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے، اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں، گردوں، آنکھوں، دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا۔یہ وہ ڈونر تھے، جن کے تمام اخراجات مائیکل اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے، چنانچہ اسے یقین تھا کہ وہ ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہے گا ‏


لیکن پھر 25 جون کی رات آئی، اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی، اس کےڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئر ڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو ہسپتال لے گئے ‏وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، جو ننگے پاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا، جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا، جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25 برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا ہو۔ وہ شخص صرف 50 سال کی عمر میں اور صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں آٹھ لاکھ لوگوں نے پڑھی، یہ گوگل کی تاریخ کا ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25 منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا کہ بہت زیادہ احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا، وہ سر سے گنجا ہو چکا تھا اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اس کے کولہے، کندھے، پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔‏وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا، چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز، یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہاں سے چلا گیا اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے، انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا فرعون اسے موت کا مزہ چکھنا لازم ہے-ڈیڑھ سو سال جینے کی آرزو  میں وہ محض پچاس کی عمر میں دنیائے فانی چھوڑ گیا  ‏  

جمعہ، 25 اکتوبر، 2024

خالق دینا ہال کراچی کا تاریخی ورثہ


   خالق دینا ہال کراچی کے تاریخی ورثہ  کی تعمیر کےلیے کراچی کے ایک مخیر‘ ممتاز اور علم دوست شخصیت تاجر غلام حسین خالق دینا نے اس وقت 18ہزار روپے کی رقم اور ایک قطعۂ اراضی 2289 گز  بھی عطیہ  کیا لیکن انہوں نے شرط یہ رکھی  کہ اس لائبریری کا نام ان کے نام سے منسوب کیا جائے، لیکن تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے اندازہ لگایا گیا کہ   ہال کے لیے جگہ کم تھی‘ اس لیے اس وقت کی  تعمیراتی کمیٹی نے مزید زمین کے لیے بمبئی حکومت کو ایک درخواست دی ،جو 11فروری 1902ء کو منظور ہوئی ،جس کے بعد حکومت نے اس کی تعمیر کے لیے 2522گز کا ملحقہ قطعہ اراضی دے دیا۔ ہال   زمین کا مسئلہ  حل ہونے کے بعد  بلڈنگ  کی تعمیر کے لیے رقم کی کم تھی  جس کے لیے کمیٹی نے کراچی میونسپلٹی کو مالی مدد کی درخواست دی جو قبول کر لی گئی اور میونسپلٹی نے 16ہزار کی رقم تعمیر کے لیے دی۔


 ہال کی تعمیر کا آغاز 1905ء میں ہوا اور ایک سال کے قلیل عرصہ میں تقریباً38ہزار روپے کی کثیر رقم سے یہ عمارت مکمل کی گئی ۔ اس کی تعمیر میں غلام حسین خالق دینا کے علاوہ سر بارٹل فریئر‘ مسٹر موتی رام‘ ایس ایڈوانی ‘تھل رام کھیم چند کابھی نمایاں حصہ ہے۔خالق دینا ہال70فٹ لمبا اور 45فٹ چوڑا ہےجبکہ چھت 30فٹ اونچی کنک پوسٹ پر بنائی گئی ہے۔ ہال میں700سے 800افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ ہال کے تین اطراف 10فٹ چوڑا برآمدہ اور سامنے 52فٹ لمبا اور 32فٹ چوڑا سائبان ہے۔ یہ سائبان 16ستونوں پر کھڑا ہے۔ ہال کے چاروں طرف پتھروں کی سیڑھیاں ہیں جن کی تعداد ہر طرف 7ہے۔ ہال کے دو بڑے دروازے ہیں جبکہ دونوں اطراف 7،7 دروازے ہیں۔ہال میں تقریباً 500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ۔عمارت کافرش سیمنٹ کی خوب صورت ٹائلوں سے مزین ہے‘ جبکہ اندرکناروں پر کالے ڈیزائن سے مزین فائل کئے ہوئے ہیں ، چھت پر برماٹیک کی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔عمارت کافرش سیمنٹ کی خوب صورت ٹائلوں سے مزین ہے‘ جبکہ اندرکناروں پر کالے ڈیزائن سے مزین فائل کئے ہوئے ہیں ، چھت پر برماٹیک کی لکڑی استعمال کی گئی ہے۔ اس کی تعمیر میں بھورے رنگ کا پتھر استعمال ہوا ہے۔ جب کہ ڈیزائن قدیم مغربی اور مشرق طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے


 اس کی تعمیر میں بھورے رنگ کا پتھر استعمال ہوا ہے۔ جب کہ ڈیزائن قدیم مغربی اور مشرق طرز تعمیر سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے۔مقدمہ بغاوت کے فیصلے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس عمارت میں کے ایم سی برابر کی حصہ دار ہوگی ،کیونکہ کے ایم سی نے کم و بیش اس کی تعمیر کے لئے آدھی رقم فراہم کی تھی۔ کمیٹی نے حکومت کے اس فیصلے پر احتجاج کیا لیکن بلآخر حکومت کے دبائو کے سامنے اس فیصلے کو آخر کار مان لیاکراچی شہر کی مرکزی شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع ایک قدیم‘ تاریخی اور خوب صورت عمارت خالق دینا ہال واقع ہے۔ یہاں تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے حوالے سے کئی اجلاس منعقد ہوئے جبکہ اس عمارت کو انگریز سرکار کی جانب سے عدالت کا درجہ دے کر تحریک خلافت کے عظیم رہنمائوں مولانا محمد علی جوہر ، ان کے بھائی مولانا شوکت علی ، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا نثار احمد کانپوری، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، پیر غلام مجدت سرہندی اور سوامی شنکر اچاریہ پر مقدمہ بغاوت چلایا گیا اور انہیں دو سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی


   اس  کے باعث خالق دینا ہال کو تاریخی حیثیت حاصل ہوئی اور اس عمارت میں جرأت، ہمت، شجاعت اور حریت کی شاندار تاریخ رقم ہوئی۔26ستمبر 1921ء کو کراچی میں مولانا محمدعلی جوہراور ان کے ساتھیوں پر جو مقدمہ 9جولائی 1921ء کو عید گاہ میدان میں منعقدہ خلافت کانفرنس میں اس قرار داد کے منظور کیے جانے کی پاداش میں چلایا گیا جس میں مولانا محمد علی جوہر اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوں کے لیے برطانوی افواج میں ملازمت کو کفر قرار دیا تھا۔ مقدمے میں مسلم قائدین نے الزامات کو قبول کیا-خالق دینا ہال میں قیام پاکستان کے بعد دسمبر 1947ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح نے کی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کے نام سے آل انڈیا کے الفاظ ختم کردیئے جائیں، اسی طرح 11 اکتوبر 1947 ء کو قائد اعظم نے سول اور فوجی افسران کے ایک اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’میرا پختہ یقین ہے کہ ہماری کامیابی اور فلاح نبی کریم ﷺکے مرتب کردسنہری اصولوں کو اپنانے میں ہی مضمر ہے، آئیں مل کر ہم اسلام کے زریں اصولوں پر مبنی جمہوریت کی بنیاد رکھیں۔ ‘‘


قدیم تاریخی اہمیت کا حامل ’’خالق دینا ہال‘‘23جون 1948کو سندھ کے گورنر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ نے کراچی کے خالق دینا ہال میں سندھ سیکریٹریٹ کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے سندھی عوام کو ہدایت کی کہ، وہ مہاجرین کے بارے میں وسیع القلبی کا عملی مظاہرہ کریں۔ غیر مسلم جہاں ہزاروں سرکاری آسامیاں خالی چھوڑ کر گئے ہیں ہمیں یہ خلا ہر صورت پُر کرنا ہے۔ مہاجرین کو متروکہ جائیدادوں اور خالی آسامیوں میں سے ان کے جائز حصّے سے محروم رکھنا غلط ہے۔انہوں نے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کو ملازمتوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔خالق دینا ہال، دراصل ایک لائبریری کے طور پر 1906ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔انگریزوں کے دور میں جب انگریز آفیسروں کی سرپرستی میں علم و ادب کی ترقی کا آغاز ہوا تو شہریوں کے لیے لائبریریوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔1851ء میں سندھ کے دوسرے کمشنر ،سربارٹل فریئر تھے، جن کے دور میں ان کاموں کا آغاز ہوکراچی کی پہلی لائبریری 1851ء میں لیڈیز کلب کے ایک کمرے میں وجود میں آئی جس کا نام جنرل لائبریری رکھا گیا تھا جسے بعد میں وسعت دی گئی۔ اور اسی وقت سے کراچی کے علم دوست یادگار لوگوں کا  پینل وجود میں آیا جنہوں نے اس وقت کے کراچی کے ماتھے  کے جھومر میں ایک نگینہ  عمارت کا اضافہ کیا 

جمعرات، 24 اکتوبر، 2024

پاکستان میں مذید صوبے وقت کی اہم ترین ضرورت

 

 دوسری بڑی ہی بدقسمتی ہے کہ  جب بھی ملک میں مزید صوبوں کی بات ہوتی ہے  انکی زبردست مخالفت شروع ہو جاتی ہے ۔اب اگر ہم پاکستان کی آبادی کا دوسرے ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ کریں ہمیں احساس ہوگا کہ کس طرح ہم اپنے ملک کے عوام سے زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں پاکستان کی آبادی  پچیس  کروڑ سے کچھ زیادہ  ہی ہو چکی ہے اسکے باوجود یہاں صرف چار صوبے ہیں جب کہ Ireland  -انگلستان ، ایران اور فرانس کی آبادی چھ کروڑ ہے اور صوبے بالتر تیب 54 ، 24 اور 22 ہیں یعنی فی صوبہ تناسب انگلستان گیارہ لاکھ گیارہ ہزار ایک سو گیارہ ، ایران پچیس لاکھ ، فرانس پچیس لاکھ ستائیس ہزار دو سو بہتر جبکہ سعودی عرب جسکی آبادی ایک کروڑ چھتیس لاکھ ہے وہاں 14 صوبے اور آسٹر یلیا جہاں کی آبادی ایک کروڑ چھ لاکھ ہے وہاں آٹھ صوبے ہیں ۔

 مصر پانچ کروڑ کی آبادی کا ملک ہے اور صوبوں کی تعداد وہاں بیالیس ہے وہاں کا فی صوبہ آبادی کا تناسب تقریبا گیارہ لاکھ نوے ہزا ر بنتا ہے جبکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت جسکا قیام ہمارے ساتھ ہی وجود میں آیا قیام کے وقت وہاں صرف آٹھ صوبے تھے اور اب 27 صوبے موجود ہونے کے با وجود مزید تین صوبوں کے قیام کی منظوری کا بل پارلیمنٹ میں موجود ہے-ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیئے کہ مزید صوبوں کے قیام کا منصوبہ تشکیل دیں اور اسے اپنی پالیسیوں میں اولین تر جیح دیں تبدیلی ہند میں صوبوں میں اضافے کے وجہ سے بھی ترقی کے رفتار بہت تیز رہی ہے ۔ہندآزاد ہواتو 13صوبے تھے70سال میں 36صوبے بن گئے جن میں 7یونین ٹیریٹریز بھی شامل ہیں ۔گویا 29بھر پور صوبوں کا درجہ رکھتے ہیں اور کچھ کم حقوق کی 7یونین ہیں کیونکہ ریاستیں ختم اور جاگیرداری نظام ختم ہوچکا تھا لہذا عوام میں شعور پیدا ہواتو نئے نئے صوبوں کا مطالبہ رہا ۔

تو ہر 2سال بعد نئے صوبوں کا رجحان بڑھا تو آج 13صوبے بڑھ کر 36صوبے بن چکے ہیں ۔ہمارے ان جاگیرداروں ،نوابوں ،زمینداروں نے نئے صوبے نہیں بننے دیئے بلکہ سب سے زیادہ نقصان کراچی کو پہنچا جو پاکستان کا دارالحکومت تھا ساتھ ہی ایک مکمل بڑا صوبہ بھی تھا۔ اسلام آباد کو دارالحکومت بنا کر کراچی کا کردار ختم کیا ۔پھر اس آزاد صوبے کراچی کو سندھ میں ضم کرکے صوبہ کادرجہ بھی چھین لیا اسی طرح خیر پور او ربہاولپور بھی الگ الگ صوبے تھے ان کو بھی بالترتیب سندھ اور پنجاب میں ضم کرکے ان کے عوام کو بھی محکوم بنا ڈالا۔وہ آج تک سرائیکی صوبے کاخواب دیکھ رہے ہیں ۔جس طرح ماضی میں کئی کمیشن بھی بنے انہوں نے بھی اپنی اپنی رپوٹوں میں اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی 25کروڑ کی آبادی ہونے کے باوجود نئے صوبے نہیں بنائے گئے جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کی دیگر ممالک کی طرح عوام کو ان کی بنیادی حقوق اورسہولیات فراہم کرنے میں ناکام ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔

کیونکہ جب تک پاکستان میں مزید صوبے نہیں بنائے جائیں گے، عوام کے معاشی وسماجی مسائل حل نہیں ہوسکیں گے ۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے صوبے اور نئے اضلاع بنائے جارہے ہیں تاکہ قومی وسائل کو منصفانہ طورپر تقسیم کرکے معاشرتی وتہذبی ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔ بھارت جب 1947ء میں آزاد ہوا تو اس وقت اس کے صرف آٹھ صوبے تھے اور آبادی چالیس کروڑ کے قریب تھی ، لیکن اب بھارت میں 36صوبے بن چکے ہیں اور آبادی ایک ارب بیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت میں آزادی کے بعد جتنے بھی صوبے بنے ہیں، ان کی تشکیل لسانی بنیادوں پر نہیں، بلکہ خالصتاً انتظامی ومعاشی بنیادوں پر کی گئی تھی یہی وجہ ہے جب بھارت میں نئے صوبے بنے تو آبادی کے کسی بھی طبقے کی جانب سے مزاحمت نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی فساد برپا ہوا۔ ہمارے ایک اور پڑوسی ملک افغانستان میں بھی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر کئی صوبے بن چکے ہیں، جسکی وجہ سے وہاں غربت وافلاس کا گراف نیچے آیاہے، اس قسم کا تجربہ بنگلہ دیش میں بھی ہوا ہے، اس لئے اگر پاکستان میں بھی مزید صوبے بن جاتے ہیں جس کا پاکستان میں کئی دہائیوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور وغوض کرنے کی ضرورت ہے ۔یہاںیہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس وقت پاکستان کی موجودہ آبادی اٹھارہ کروڑ نہیں بلکہ اب پچیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ اس  پچیس کروڑ کی آبادی میں بارہ کروڑ عوام خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں،

مزید براں ہمارا سیاسی نظام چند خاندانوں کی اجارہ داری تک محدود ہوچکا ہے، جبکہ ایک عام آدمی صرف ووٹ دینے کی حد تک تو ''جمہوریت‘‘ کے نام سے آشنا ہے، لیکن کوئی اسے حقوق دینے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ وسائل کی گردش بھی چند خاندانوں تک محدود ہے، اس لئے اگر پاکستان میں مزید صوبے بن جاتے ہیں جیسا کہ ہمارے پڑوسی ممالک  میں ہوا ہے، تو اس میں تشویش یا گھبرانے کی کیا بات ہے؟ دراصل مزید صوبوں کے مطالبے سے موجودہ سیاسی نظام کے تحت بننے اور پرورش پانے والے چند خاندان   ہیں  جو مزید صوبوں کے قیام کے مطالبے کو رد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر انتظامی بنیادوں پر سرائیکی صوبہ، ہزارہ صوبہ 'کراچی صوبہ ' اگر یہ صوبے بن جاتے ہیں تو ان کی وجہ سے عوام کے بہت سے مسائل حل ہوسکیں گے، نیز سیاست میں چند خاندانوں کی اجارہ داری بھی ٹوٹ سکے گی، جن کی زیادتیوں کی وجہ سے عوام ہر سطح پر مجبور ومحکوم نظر آرہے ہیں، سندھ میں مزید صوبوں کے قیام کے خلاف بیان دیتے ہوئے سندھ کے وزیر اعلیٰ جناب قائم علی شاہ نے'' طنزا ًکہا تھا ‘‘ کہ سندھ کسی کا برتھ ڈے کیک نہیں ہے، بچہ بچہ اسکی حفاظت کرے گا۔ قائم علی شاہ کا یہ بیان دراصل ان کی ترجمانی کررہا ہے جو سندھ کے موجودہ استحصالی نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینا نہیں چاہتے ۔حالانکہ سندھ میں مزید صوبوں کا قیام خود سندھیوں کے حق میں انتہائی با ثمر اور سود مند ثابت ہوگا۔وہ خود بھی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جب تک پاکستان میں بھارت کی طرز پر انتظامی بنیادوں پر صوبے نہیں بنیں گے، بڑھتی ہوئی آبادی کے سیاسی ، معاشی اور سماجی مسائل حل نہیں ہوسکیں گے۔ پاکستان میں مزید صوبوں کے قیام کا مطالبہ آئین اور عوام کی بڑھتی ہوئی معاشی ومعاشرتی ضروریات کے پیش نظر کیا ہے ۔ اس سے قبل کراچی کے ایک سیاسی رہنما اور دانشور ظفر انصاری مرحوم نے بھی پاکستان میں مزید صوبوں کے قیام کو پاکستان کی ترقی اور قومی یکجہتی کے ساتھ لازم وملزوم قرار دیا تھا۔اس وقت مرحوم نے تیرہ صوبوں کے قیام کی تجویز پیش کی تھی جبکہ پاکستان کی آبادی بارہ کروڑ سے زیادہ نہیں تھی۔ اب پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ تک پہنچ گئی ہے، وسائل سکڑتے جارہے ہیں ، 

بدھ، 23 اکتوبر، 2024

کربلا گامے شاہ کے خالق کو ن تھے

 یہ ان دنوں کا زکر ہے جب تخت لاہور پر  مہاراجہ رنجیت سنگھ  سریر آرائے سلطنت ہوا کرتا تھا -اسی کے دور حکومت میں باباگامے شاہ نے 1828ء میں سب سے پہلے ایک تعزیہ تیارکیا اور روز عاشور اپنے شانوں پر اٹھاکر اسے لاہور کی گلیوں اور سڑکوں پر   اما م حسین علیہ السلام کی مرثیہ گوئ اور ساتھ ہی گریہ و زار ی  کرتے ہوئے گشت کیا ۔مہاراجہ  رنجیت سنگھ کو یہ خبرملی تواس نے بابا گامے شاہ کو اپنے دربار میں بلوا کر اسے سخت الفاظ استعمال  کرتے ہوئے بے عزت کیا اور حکم جاری کیا کہ آئندہ وہ کبھی تعزیہ نہیں نکالے گا۔ اس پر گامے شاہ نے دلیری سے انکار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ہر  سال محرم کے مہینے میں  تعزیہ  بھی بنائے گا اور اس کے ساتھ سڑکوں پر گشت بھی  کرے گا اور زندگی بھر  ایسا کرتا رہے گا۔ رنجیت سنگھ نے یہ دوٹوک جواب سنا توحکم جاری کیا کہ گامے شاہ کو شاہی قلعہ لاہور میں قید کردیا جائے۔


 اسی رات سے رنجیت سنگھ کو رات میں سوتے ہوئے ڈراؤنے خواب آنے لگے۔ وہ یہ خواب دیکھ کر راتوں کو جاگتا رہا اور پھر پریشانی کے عالم میں اپنے وزیرفقیر سید عزیزالدین کو ساتھ لے کر اس جیل میں گیا جہاں بابا گامے شاہ کو قید کیا گیا تھا۔ پھر اس نے فقیر سید عزیزالدین کی موجودگی میں گامے شاہ سے معافی مانگی اور اسے قید سے رہا کردیا ۔گامے شاہ جب تک زندہ رہے تعزیہ نکالتے رہے ۔ لاہور کی تاریخ میں محرم کو عوامی طور پر منانے کی روایت اٹھارویں  صدی کے اوائل میں جاری ہوئی جو آج تک جاری ہے اور تاقیامت رہے گی … اندرون لاہور اور اسلام پورہ (سابق کرشن نگر) میں تعزیئے‘ ماتمی جلوس اور ذوالجناح دیکھنے والے ہوتے ہیں


اس طرح لاہور سے تعزیہ نکالنے کی ابتدا  درویش شخص غلام علی شاہ نے کی تھی جو بعد میں بابا گامے شاہ کے نام سے مشہور ہوئے اور آج تک اسی نام سے مشہور ہیں۔ گامے شاہ کے بارے میں روایت مشہور ہے کہ وہ عام لاہوریوں کی نظر میں تو دیوانے شمار ہوتے تھے‘ لیکن درحقیقت و عارف کامل اور شہیدانِ کربلا کے ایسے عاشق تھے کہ جس کی مثال اس وقت کے لاہور میں کہیں نہیں ملتی تھی۔ بابا گامے شاہ ہمیشہ سیاہ لباس پہنتے تھے اور دربار داتاصاحب کے قریب ایک قدیم برف خانہ تھا وہاں زمین پر بیٹھے رہتے تھے۔ ایک اور بڑھیا تھی جسے آغیاں مائی کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا۔ وہ بھی عاشورہ کے روز موچی دروازہ سے نوحہ خوانی کرتے اور اپنا سر پیٹتے ہوئے گامے شاہ کے ڈیرہ پر آجاتی تھی۔
 
 قید سے رہائی کے بعد بابا گامے شاہ ہرسال محرم کے دنوں میں اپنا بنایا ہوا تعزیہ اپنے سر پراٹھا کر لاہور شہرکے گلی کوچوں میں جاتے اور گریہ زاری کرتے ہوئے گزرتے تھے اور لاہوریوں کا ایک ہجوم ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگتا تھا جب بابا گامے شاہ کا انتقال ہوا توانہیں نہایت احترام کے ساتھ مزارحضرت داتا صاحب کے قریب جہاں وہ زندگی بھر بیٹھتے رہے تھے‘ اسی حجرے میں انہیں دفن کیا گیا۔ مزار کے ساتھ ہی ایک بڑے برتن میں کربلا کے میدان سے لائی گئی مٹی میں رکھی گئی ہے جو بابا گامے شاہ کی تعزیہ سازی اور محرم میں کربلا میں دی جانے والی بے مثال قربانیوں کی تشہیرکے حوالے سے ایک نذرانۂ عقیدت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس جگہ کو پھرکربلا گامے شاہ کا نام دے دیا گیا ۔ گامے شاہ کے مزار کے اوپری حصہ پر وہ قدیم تعزیہ میں جلوہ نما ہے جسے وہ اپنے سر پر اٹھاکر لاہور شہرکے گلی کوچوں میں گھوما کرتے تھے اور باآواز بلند گریہ وماتم بھی کیا کرتے تھے۔ یہ ماتمی سفر آج بھی لاہور شہر کے گلی کوچوں میں محرم کے دوران نمایا  ں دکھائی دیتا ہے بلکہ لاہورکے محرم کا  لازمی حصہ بن چکا  ہے

گامے شاہ کی وفات کے بعد تعزیہ سازی کی روایت کو برقرار رکھنے کیلئے نواب علی رضا قزلباش اور سر نوازش علی قزلباش نے کچھ اور لوگوں سے مل کر یہ جگہ خریدلی اور پھریہاں گامے شاہ کا مقبرہ بھی تعمیر کروایا اور مقبرے کے ساتھ ہی ایک ’’کربلا‘‘ بھی بنوائی۔ پھر اس جگہ کا نام کربلا گامے شاہ رکھا گیا۔ پھراس کربلا کو وہ شہرت ملی کہ لاہور میں بنائے جانے والے سارے تعزئیے دس محرم کو یہیں لائے جاتے ہیں۔ لاہور کی عزاداری کی تاریخ میں کربلا گامے شاہ بین الاقوامی شہرت حاصل کرچکی ہے۔ 1868ء میں پورے شہر لاہور میں تعزیہ سازی پر لاکھوں روپیہ خرچ ہونے لگا اور بے شمار ڈیزاءنو ں  تعزئیے بنائے جانے لگےیہ تعزیے سونے، چاندی ، لکڑی، بانس، کپڑے، کاغذ اور سٹیل سے تیار کیے جاتے ہیں ۔ پھریوں ہوا کہ تعزیوں کو شہر لاہور میں  بغرض زیارت گشت  کے بعد شہر سے باہر لے جاکر مٹی میں دفن کیا جانے لگا۔ عموماً یہ تعزئیے دریائے راوی کے کنارے میں دبائے جاتے تھے۔ جن تعزیوں پر قیمتی چیزیں لگائی گئی ہوتی تھیں‘ انہیں اگلے روز ریت سے نکال کر آئندہ محرم کیلئے محفوظ کرلیا جاتا تھا۔ بابا گامے شاہ کا جاری کردہ تعزیہ سازی اور ماتم گساری کا یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر