موسم بہار کی آمد پر پانچ فروری کو لاہور اور پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنت کا تہوار منایا جارہا ہے۔ جہاں پنجاب میں یہ سرکاری سطح پر بھی منایا جاتا ہے، وہیں سرحد کے معاشرے میں بسنت منانے کا رواج نہیں ہے۔ اس موقع پر چاروں طرف آسمان پتنگوں سے بھر جاتا ہے، رات کو سفید پتنگیں اور دن میں رنگ برنگی پتنگیں آسمان کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ محرم کی آمد کے سبب اس سال بسنت کا یہ تہوار جو پہلے فروری کےدوسرے یا تیسرے ہفتے میں منایا جاتا تھا اس سال پہلے ہفتے ہی میں منایا جارہا ہے۔بسنت کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس موقع پر بہت لوگ ہلاک یا زخمی بھی ہوجاتے ہیں۔ ہلاکتیں عام طور پتنگ کٹ جانے کے بعد پیش آنے والے حالات کے باعث پیش آتی ہیں۔ پتنگ جب تک اڑتی ہے تب تک وہ زندگی کی علامت ہے اور جب اس کی ڈور کٹ جاتی ہے تو کبھی کبھی وہ موت بن کرگرتی ہے۔کٹی پتنگ کے ساتھ اگر دھاتی تار ہو تو خون خشک کرنےاورجھلسا دینے والا کرنٹ جان لے لیتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی موت کا کھیل بن گئی ہے۔ دھاتی تار والی پتنت پر پابندی عائد ہے۔ صوبہ سرحد میں بسنت منانے کا رجحان نہیں ہے۔کیا اسلام میں تفریح پر کوئی پابندی ہے؟ پشاور یونیورسٹی کے اسلامک سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے: ’اسلام تفریع پر کوئی پابندی نہیں لگاتا بس صرف اس کے لئے چند اصول اس نے وضع کیے ہیں، اگر ان کے اندر رہ کر تہوار منائے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسلام تو تیر اندازی جیسے شوق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے
۔‘دورِ مغلیہ میں تصوف کے پیروکار بسنت کے موقع پر پیلے کپڑے پہنتے تھے، پیلے پھولوں سے سزاتے تھے، اور رات دن قوالیاں گاتے اور سنتے تھے۔ بسنت کی تاریخ میں صوفیوں کی شراکت رہی ہے۔ آج کل پاپولر مذہبی رہنما ماڈرن پاکستان میں بسنت کی ہندو تہوار کی حیثیت سے مذمت کرتے ہیں۔ یہ رکنا چاہئے تھا۔ تاریخی اعتبار سے لاہور وہ شہر ہے جہاں پتنگ بازی عام ہونے لگی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ کب سے امراء کے مشغلہ بن گئی۔پنجاب کی اکثریت اس وقت اسلام سے دور ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے آرمی میں ان لوگوں کی اکثریت کے باوجود ہروہ کام جو ملک کو تباہی کے دہانے پر لائے جارہا ہے وہ پروموٹ کیا جارہا ہے، مجھ کو پاکستانی ہونے پر شرم ہے۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔ غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ایک طرف تو ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہزاروں لوگ تنگ دستی اور بےروزگار سے تنگ آکر خود کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو لوگ روپئے کو پتنگ بناکر ہوا میں اڑا رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ ایک پاکستان میں دو پاکستان ہیں۔
غریبوں کا الگ پاکستان، امیروں کا الگ۔ اس جیسے خودساختہ تہواروں سے بےشک امیر لوگوں کو تفریح کا موقع ہاتھ آتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ غریب لوگ مزید احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔میرے خیال میں اگر مجھے کوئی چیز پسند نہیں تو کوئی بھی اس کو پسند نہ کرے۔ یا تو قدرت کا نظام ہی روزی دینے کا، جو لوگ اپنا بخار بھی کسی کو نہ دیں وہ بسنت والے دن ہزاروں روپئے خرچ کرتے ہیں اور اس دن اربوں روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ کتنوں کا روزگار لگا ہوا ہے۔بی بی سی انڈائریکٹلی بسنت کو پروموٹ کررہی ہے، ورنہ اس کو میڈیا میں لانے کا کیا مقصد ہے۔ یہ پبلسٹی کا بہت اچھا طریقہ ہے۔ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔اگر جناب قبلہ ایاز صاحب اس کو جائز قرار دے رہے ہیں تو وہ اپنا قبلہ درست کریں۔ وہ سلطان پرویز مشرف غزنوی کا ایاز نہ بنیں۔ یہ حرام کی کمائی سے کھیلا جانے والا امیروں کا کھیل ہے۔ جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بیہودہ حرکات و سکنات سے لوگوں کو متوجہ کرنے کی وکشش کرتے ہیں۔ یہ نام نہاد مشرفِزم کو ہوا دیے کے لئے کیا جارہا ہے۔اسلام میں انٹرٹینمینٹ منا نہیں۔ لیکن انٹرٹینمینٹ تہذیب کے دائرے میں ہونی چاہئے۔اس کو سرکاری سطح پر منانا صحیح نہیں ہے۔ یہ غریب لوگوں کا انٹرٹینمینٹ تھا جسے گیارہ ستمبر کے بعد کے روشن خیالوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہائیجیک کرلیا ہے۔پہلے تو اس کو ہم لوگ جشنِ بہاراں کا نام دیتے تھے لیکن اب ہم نے بسنت کہنا شروع کردیا ہے، یعنی کہ بہار کی آمد بہت ہی فضول رسم سے کرتے ہیں۔۔۔۔
یہ کام کافروں کا ہے مسلمانوں کا نہیں جو لوگ اللہ کے حکم کے آگے کاروں کو فالو کرتے ہیں ان کو اس کی سزا مرنے کے بعد بھگتنی پڑے گی اور جب کوئی اس گندے کام کو کرتے اسلام کسی بھی قسم کی تفریح سے نہیں روکتا۔ بشرطیکہ یہ تفریح کسی کی جان، مال یا عزت کو داؤ پر لگاکر نا حاصل کی جائے۔ اسی طرح بسنت کے لئے بھی اسلام میں کوئی منادی نہیں ہے لیکن اس کے لئے ضابطۂ اخلافق ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اول تو اس کھیل کو آبادی سے باہر منتقل کردیا جائے تاکہ دھاتی ڈور سے شہ رگ کٹنے کے واقعات نا ہوں اور نہ ہی کرنٹ لگنے کے واقعات ہوں۔ بسنت ہندو دھرم کا مخصوص تہوار ہے، جو ہزاروں سال سے اُن کی عید کے طور پر معروف چلا آرہا ہے، اس دن اِن کے ہاں طرح طرح کے کھانے پکاکربرہمنوں کوکھلائے جاتے تھے،مستند مؤرخ وریاضی دان ابوریحان البیرونی کہتے ہیں:”اسی مہینے ( یعنی بیساکھ) میں استواء ربیعی ہوتا ہے جس کا نام بسنت ہے، حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر اس دن عید کرتے اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں ۔”بہار کے پہلے ہفتے جب کھیتوں میں سرسوں کے پیلے پھول لہرانے لگتے ہیں تو یہ لوگ زرد کپڑے پہنتے ہیں ، پیلے چاول کھاتے ہیں ، بھنگڑا ناچ ہوتا ہے، یہ تہوار مناکر اپنی دیوی”سرسوتی” اور دوسری دیویوں اور دیوتاؤں کو یہ لوگ خراج تحسین پیش کرتے ہیں
سنت کا میلہ ہندوؤں کا تہوار ہےجو اب مسلمانوں میں بھی در آیا ہے
جواب دیںحذف کریں