پھر انسانیت کے زیور سے آراستہ صارفین نے اس ذہنیت کے خلاف ایک ٹرینڈ شروع کردیا۔ ہر طرف سے آوازیں اٹھنے لگیں کہ اس محنت کش کو تلاش کیا جائے، اس کی دل آزاری کا ازالہ کیا جائے۔اسی مرحلے پر “انسانیات” (Humanitarianism) نامی ایک معروف سماجی و فلاحی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سامنے آیا۔ یہ کوئی کاروباری صفحہ نہیں بلکہ ایسا پلیٹ فارم ہے جو انسانی وقار، مظلوموں کی آواز اور خیر کے اجتماعی کاموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ “انسانیات” نے اس واقعے کو محض جذباتی ردعمل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ عملی قدم اٹھایا۔ نزرول کی تلاش شروع ہوئی۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ بنگلہ دیش کے اُس غریب خاکروب نزرول کی بھر پور مدد کی جائے ۔ اس لیے نہیں کہ اس پر ترس کھایا جائے، بلکہ اس لیے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ عزت پیشے سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔جب نزرول عبد الکریم کو ڈھونڈ لیا گیا تو گویا رحمت کے دروازے کھل گئے۔ ایک طرف وہی لوگ تھے، جنہوں نے دل آزاری پر شرمندگی محسوس کی اور دوسری طرف وہ ہاتھ تھے جو خیر بانٹنے کے لیے آگے بڑھے۔
سونے کے زیورات، نقد رقم، قیمتی موبائل فون، گھریلو اشیائے ضرورت اور یہاں تک کہ اپنے وطن جا کر اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے سفری ٹکٹ مہیا کر دئے گئے ، ہر طرف سے عطاؤں کی بارش ہونے لگی -سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے ایک خواب بن کر جھلک رہا تھا اب نزرول کے ہاتھوں میں تھا۔ جیسے میرے رب کی قدرت اعلان کر رہی ہو کہ جس رزق پر تمہاری نگاہ تھی، وہ تمہارے لیے ممنوع نہیں تھا، بس تمھاری دسترس میں آنے کا وقت مقرر تھا۔ سونے کے اس سیٹ کی قیمت 25000 ریال سے بھی زیادہ تھی ۔ جبکہ نزرول کی تنخواہ بمشکل 700 ریال تھی ۔بعد ازاں نزرول کے بارے میں مزید باتیں سامنے آئیں۔ معلوم ہوا کہ کم آمدنی کے باوجود وہ غیر معمولی امانت دار اورنرم دل و ہمدرد انسان ہے۔ وہ اپنی معمولی سی کمائی میں سے بھی کچھ حصہ نکال کر سڑکوں پر بھٹکتی بھوکی بلیوں کو کھانا کھلا دیتا تھا۔ شاید اسی رحم نے آسمان پر اس کے لیے راستے کھول دیئے تھے۔
جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ حسرت بھری نگاہوں سے سونا کا سیٹ کیوں دیکھ رہا تھا؟ تو اس کا جواب دل کو چیر گیا:“میں صرف اتنا چاہتا تھا کہ میرے بیٹے کی شادی میں اس کی مدد ہو جائے۔”نہ سونا اس کا خواب تھا، نہ شہرت اس کی طلب، وہ صرف ایک باپ تھا، جو اپنے بیٹے ک کی شادی پر اس کے لیے سہارا بننا چاہتا تھا، عزت کے ساتھ۔یہ سچی داستان عرب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ بلکہ سمیت کئی عرب ذرائع ابلاغ نے اسے کور کیا۔ اس حقیقی واقعے سے کیا سبق ملا؟ یہی کہ لوگوں کے طنزیہ جملے وقتی ہوتے ہیں، مگر اللہ کریم کے فیصلے دائمی۔ اگر کبھی تمہیں تمہاری حیثیت، لباس یا پیشے کی وجہ سے حقیر سمجھا جائے تو یاد رکھو:اللہ نہ جھاڑو دیکھتا ہے، نہ سونا، وہ دل دیکھتا ہے۔اور یہی اس واقعے کا حاصل ہے:"ما عندکم ینفد۔۔۔ وما عند الله خير وأبقی“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔”
سورہ حجرات میں پروردگار عالم ارشاد فرما رہا ہےقل اتعلمون اللہ ۔۔۔۔۔۔ بکل شییء علیم (49 : 16) “ اے نبی ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ زمین اور آسمان کی ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے ”۔ انسان اپنے علم کے بارے میں لمبے چوڑے دعوے کرتا ہے حالانکہ وہ خود اپنے نفس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ وہ اپنے آپ کی شعوری دنیا کے بارے میں بھی پوری معلومات نہیں رکھتا۔ اور نہ اسے اپنے نفس کی پوری حقیقت معلوم ہے اور نہ شعور اور لاشعور کی۔ انسان یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی عقل کس طرح کام کرتی ہے۔ کیونکہ انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو اس وقت وہ خود اپنے دماغ کا ملاحظہ نہیں کرسکتا۔ اور جب وہ اپنے نفس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کا وہ کام رک جاتا ہے جو وہ کر رہا ہوتا ہے۔ لہٰذا ملاحظہ کے لئے کوئی چیز ہی نہیں رہتی۔ اور جب انسان کسی کام میں لگا ہوتا ہے اس وقت وہ نگرانی نہیں کرسکتا۔ اس لیے انسان خود اپنی ذات کی حقیقی معرفت سے بھی عاجز ہے۔ اور اس کے معلوم کرنے سے بھی عاجز ہے کہ انسانی دماغ کس طرح کام کرتے ہیں۔ حالانکہ یہی تو وہ چیز ہے جس پر انسان نازاں ہے“اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور “اور جو تمہارے پاس ہے، وہ ختم ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔جو اللہ کے پاس ہے وہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔سب سے معنی خیز منظر یہ تھا کہ وہی سونے کا سیٹ، جو کچھ دن پہلے شیشے کے پیچھے سے جس کو نزرول حسرت بھی نگاہوں سے تک تک رہا تھا آ ج اس کے ہاتھوں جگمگا رہا تھا
(عربی سے اردو ترجمہ: ضیاء چترالی)