جمعرات، 25 دسمبر، 2025

ہم جنس پرستوں کا راکھ میں مدفون شہر'پومپئ'

 

  انسانی بستیوں سے چھینا گیا وہ شہر جسے قدرت نے 1500 سال بعد لفظ بہ لفظ دنیا کے سامنے پیش کر دیاکیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی پورا شہر، جس کی گلیاں، مکانات، کھانے پینے کی اشیاء اور یہاں تک کہ دیواروں پر لکھیہوئی روزمرہ کی باتیں بھی ایک ہی لمحے میں وقت کے ہاتھوں منجمد ہو جائیں، اور پھر ڈیڑھ ہزار سال بعد بالکل اسی طرح دوبارہ دریافت ہو جائیں؟ یہ کسی ٹائم کیپسول کی کہانی نہیں بلکہ رومن سلطنت کے مشہور شہر "پومپیئی" (Pompeii) کا سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔یہ واقعہ 79 عیسوی کا ہے، جب پومپیئی شہر اپنے عروج پر تھا اور رومن امراء کے لیے عیش و عشرت کا مرکز مانا جاتا تھا۔ یہ شہر نیپلز کے قریب، Mount Vesuvius نامی خوبصورت پہاڑ کے دامن میں واقع تھا۔ شہر کے باسی اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ پہاڑ دراصل ایک خطرناک آتش فشاں تھا جو صدیوں سے خاموش تھا۔24 اگست 79 عیسوی کو، ظہر کے وقت، Mount Vesuvius اچانک اور بغیر کسی وارننگ کے پھٹ پڑا۔ یہ پھٹنا اتنا خوفناک تھا کہ آسمان کالے دھوئیں، راکھ اور چٹانوں کے ٹکڑوں سے بھر گیا۔ راکھ کا یہ طوفان 15 میل کی اونچائی تک جا پہنچا۔ 



چند ہی گھنٹوں میں، پومپیئی شہر 20 فٹ سے زیادہ آتش فشانی راکھ کی موٹی تہہ کے نیچے دب گیا، اور اس کے ساتھ ہی شہر کی تمام زندگی بھی دفن ہو گئی۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ ہزاروں لوگ بھاگ نہیں پائے اور وہ جس حالت میں تھے، اسی میں منجمد ہو کر رہ گئے۔پومپیئی شہر اگلے 1500 سال تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا اور تاریخ کے اوراق سے مٹ گیا۔ پھر 1748 میں اتفاقی طور پر جب کھدائی کا کام شروع ہوا تو ماہرین آثار قدیمہ نے جو کچھ دریافت کیا، وہ دنیا کے لیے ایک صدمہ اور تاریخی معجزہ تھا۔راکھ کی یہ موٹی تہہ شہر کے لیے سب سے بڑی محافظ ثابت ہوئی۔ اس نے شہر کو وقت اور موسم کے اثرات سے مکمل طور پر بچا لیا۔ جب آثار قدیمہ کے ماہرین نے راکھ ہٹائی، تو انہیں ایک ایسا شہر ملا جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے تھم گیا تھا۔ انہیں دیواروں پر رنگین پینٹنگز، بازاروں میں روٹیاں، ہوٹلوں میں کھانے کے برتن، اور سڑکوں پر چلتے ہوئے لوگوں کی باقیات ملیں۔ گھروں کے اندر ان کا فرنیچر، سامان اور یہاں تک کہ چولہے پر رکھا کھانا بھی اسی طرح موجود تھا۔ دیواروں پر گرافیٹی (دیواروں پر لکھے گئے پیغامات) اور انتخابی پوسٹرز بھی اتنے تازہ تھے جیسے کل ہی لکھے گئے ہوں۔اس شہر کو وقت میں منجمد کرنے کا سب سے خوفناک پہلو انسانی باقیات تھیں۔ جب لاشیں سڑ گل گئیں تو ان کے گرد سخت راکھ کا ایک خول بن گیا۔ ماہرین نے ان خالی خولوں میں پلاسٹر آف پیرس بھر کر ان لوگوں کے حتمی لمحات کو مجسم کر دیا۔ آج بھی جب آپ پومپیئی جاتے ہیں، تو آپ ان لوگوں کی اشکال دیکھ سکتے ہیں جو اپنی جان بچانے کی آخری کوشش کر رہے تھے، یا بستروں پر سوئے ہوئے تھے، یا اپنے خاندان کو گلے لگا رہے تھے۔ یہ منظر کسی بھی زائر کو جذباتی کر دیتا ہے کیونکہ یہ ایک شہر کی ہولناک موت کی خاموش گواہی ہے۔پومپیئی کی دریافت نے رومی تاریخ، ثقافت، طرزِ زندگی اور فن تعمیر کے بارے میں معلومات کا خزانہ کھول دیا۔ ہمیں رومن سوسائٹی کے بارے میں وہ تفصیلات معلوم ہوئیں جو ہمیں تاریخی کتابوں سے کبھی نہ ملتیں۔


 قدرت کے اس شدید غضب نے ایک ایسا المناک معجزہ پیدا کیا جس نے شہر کو فنا تو کر دیا، لیکن اسے تاریخ کے ہاتھوں سے بچا کر ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ پومپیئی آج بھی ایک ایسی کھڑکی ہے جو ہمیں ڈیڑھ ہزار سال پہلے کی رومن زندگی میں جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔موجودہ ملک اٹلی کے علاقے کمپانیہ میں ناپولی کے نزدیک واقع تھا جولگ بھگ 2ہزار سال قبل 79ءمیں ویسوویوس نامی آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے یہ تباہ ہو گیا تھا۔ آتش فشاں سے اس قدر لاوہ اور راکھ نکلی تھی کہ یہ شہر 4 سے 6 میٹر (13 سے 20 فٹ) راکھ کے نیچے دفن ہو گیا۔ماہرین نے کھدائی کرکے پومپئی کے آثار دریافت کیے ہیں جن کی دیواریں پر اس قدیم زمانے کی زبان میں کچھ تحاریر موجود تھیں۔ اب ان تحریروں کا ترجمہ کر لیا گیا ہے جس سے ایسا انکشاف ہوا ہے جس نے اس شہر پر عذاب الہٰی نازل ہونے کی حقیقت بیان کر دی ہے۔دوہزار سال قبل لاوے اور راکھ میں دبنے کے باوجود جب اس شہر کی دریافت کے بعد کھدائی کی گئی توماہرین آثار قدیمہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے کہ لوگ مردہ حالت میں محفوظ ہیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ خدا نے اخلاق باختہ حرکتیں کرنے والی قوم کو آنے والی دنیاکے لئے نشانِ عبرت بنادیا ہ

بدھ، 24 دسمبر، 2025

قلعہ بالا حصار 'پشاور

،  زمانہ قدیم کی تاریخ دیکھئے  شہر فصیل بند بنائے جاتے تھے تاکہ حملہ آوروں سے  شہر اور ان کے باسیوں کو بچا  یا جا سکے،  پھر قلعوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ  ان قلعوں کی موجودگی شاہی طاقت اور حکمرانی کا مرکز ہوتی تھی،  یہ عسکری ضروریات  کے لئے  اپنے زمانے کا رائج اسلحہ محفوظ رکھتے تھے اس کے علاوہ  سیاسی اور انتظامی امور کی انجام دہی کے لیے استعمال ہوتے تھے، جن میں محل، مسجدیں،  بھی شامل تھے، جیسا کہ لاہور قلعہ. قلعوں کی تعمیر کے اہم مقاصد:دفاعی تحفظ: یہ سب سے اہم وجہ تھی۔ قلعے مضبوط دیواروں، برجوں اور خفیہ راستوں سے بنائے جاتے تھے تاکہ دشمن کے حملوں سے خود کو اور اندر موجود آبادی کو محفوظ رکھا جا سکے  -ان قلعوں میں بارش کا پانی جمع کرنے اور پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے تالاب اور ذخائر بھی بنائے جاتے تھے. اس کے ساتھ یہ قلعےطاقت اور رعب کا مظہر اور اختیار کی علامت ہوتے تھے. ان کی عظیم الشان تعمیرات سے عوام پر رعب قائم کیا جاتا تھا ثقافتی اور مذہبی مرکز: قلعوں میں مساجد، دربار اور دیگر مذہبی مقامات بھی تعمیر کیے جاتے تھے، جو فن تعمیر کا شاہکار ہوتے تھے. مختصر یہ کہ قلعے صرف فوجی چوکی نہیں ہوتے تھے، بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی، سماجی، اور دفاعی نظام کا مرکز تھے، جو حکمرانوں کو تحفظ اور اقتدار فراہم کرتے تھے. ،بالاحصار پشاور میں واقع ایک قدیم قلعہ اور تاریخی مقام ہے ۔ تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہیں۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا،


 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور انھوں نے اس کا نام سمیر گڑھ رکھا لیکن مقامی طور پر سمیر گڑھ کا نام مشہور نہ ہو سکا۔ اس وقت قلعے کو بطور فرنٹیئر کورپس ہیڈکوارٹر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے  -اس خوبصورت قلعے کے اندر ایک خوبصورت میوزیم بنایا گیا ہے جہاں مختلف کمروں میں فرنٹیئر کورپس کی مختلف شاخوں کی نمائندگی کی گئی ہے جن میں خیبر رائفلز، سوات سکاؤٹس، مہمند رائفلز، چترال سکاؤٹس، کُرم ملٹری، باجوڑ سکاؤٹس، شوال رائفلز، دیر سکاؤٹس، جنوبی وزیرستان و ٹوچی سکاؤٹس اور خٹک سکاؤٹس شامل ہیں۔ یہاں ان علاقوں میں مختلف آپریشنز سے بازیاب کیے گئے آلاتِ حرب، نقشے، سپاہوں کی وردیاں، تصاویر، تلواریں، پستول، جھنڈے، مختلف علاقوں کی ثقافتیں، ٹرک آرٹ اور چھوٹی توپیں شامل ہیں۔ یہاں ایک پھانسی گھاٹ اور خوبصورت چھوٹی سی سووینیئر شاپ بھی ہے جہاں سے آپ پشاور کی مشہور پشاوری چپل اور درہ خیبر کے ماڈل خرید سکتے ہیں۔ یہاں موجود ایک تختی پہ روڈیارڈ کپلنگ کے وہ مشہور الفاظ بھی درج ہیں جو انھوں نے اس فورس کے بارے میں کہے تھے :



الاحصار قلعہ پشاور،پاکستان میں واقع ایک قلعہ پشاور کا سب سے قدیم اور تاریخی مقام ہے ۔درانی سلطنت کا پشاور موسم سرما اور کابل موسم گرما میں دار الحکومت ہوتا تھا، اس لیے سردیوں میں درانی شاہان اس قلعے میں رہا کرتے تھے۔تیمور شاہ درانی نے اس قلعے کا نام بالاحصار رکھا جس کے لفظی معنی بلند قلعہ کے ہے۔ یہ قلعہ ایک طویل عرصے تک درانیوں کا زیر استعمال رہا، 19ویں صدی میں جب سکھوں نے پشاور پر حملہ کیا تو یہ قلعہ ان کے زیر استعمال آیا اور   اس وقت  سےقلعے کو فرنٹیئر کانسٹبلری بطور ہیڈکوارٹر استعمال کر رہی ہے۔ہندوکش زلزلہ 2015ء کے دوران میں اس قلعہ کا ایک دیوار جزوی طور پر متاثر ہوا تھا جسے دوبارہ تعمیر کرایا گیا ہے۔ یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی 92 فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی 50فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے جبکہ اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ بنتا ہے ایک پختہ سڑک بل کھاتی ہوئی قلعہ کے اندر تک جاتی ہے۔مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر نے اپنی خودنوشت تزک بابری میں قلعہ بالا حصار کا ذکر کیا ہے۔ وہ باگرام (پشاور) کے قریب اپنی فوجوں کے اترنے اور شکار کے لیے روانگی کا ذکر کرتا ہے۔ 


جب مغل بادشاہ ہمایوں نے افغان بادشاہ شیر شاہ سوری سے شکست کھائی تو افغانوں نے قلعہ بالا حصار کو تباہ کر دیا۔جب ہمایوں نے شاہ ایران کی مدد سے اپنا کھویا ہوا تخت دوبارہ حاصل کر لیا تو اس نے کابل سے واپسی پر پشاور میں قیام کیا اور قلعہ بالا حصار کو دوبارہ تعمیر کروایا اس نے قلعہ میں ایک بڑا فوجی دستہ تعینات کیا اور ایک ازبک جرنیل سکندر خان کو قلعہ کا نگران مقرر کیا۔ پہلی مرتبہ قلعے میں یہاں توپیں نصب کی گئیں۔احمد شاہ ابدالی نے بھی وادی پشاور مغلوں سے چھین لی تھی۔ احمد شاہ ابدالی کے فرزند تیمور ابدالی نے پشاور کو اپنا سرمائی دار الخلافہ بنالیا۔ اس نے قلعہ بالا حصار میں اپنی رہائش کے لیے محلات تعمیر کروائے اور اپنے حفاظتی دستے کے لیے ایرانی اور تاجک سپاہی بھرتی کیے۔ جب 1779ء میں ارباب فیض اللہ خان نے قلعہ بالا حصار پر یلغار کی تو اسی حفاظتی دستے نے تیمور شاہ کی حفاظت کی۔ 1793ء میں تیمور شاہ کی وفات کے بعد شاہ زمان سریر آرائے سلطنت ہوا۔ اس کے دور میں سکھ پنجاب پر قابض ہو گئے۔1834ء میں سکھوں نے پشاور پر قبضہ کر لیا پہلے تو سکھوں نے قلعہ بالا حصار کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن جلد ہی انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ہری سنگھ نلوہ اور سردار کھڑک سنگھ نے اس قلعہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے دوبارہ تعمیر کرایا۔ مہاراجا رنجیت سنگھ کے حکم پر شیر سنگھ نے قلعہ بالا حصار کچی اینٹوں سے بنوایا   تھا۔ سکھوں کے دور کی ایک لوح آج بھی قلعہ بالا حصار کی مرکزی دیوار میں نصب دیکھی جا سکتی ہے 


منگل، 23 دسمبر، 2025

رانا بھگوان داس محب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم

 

سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس   کے بارے میں  یہ ایک پرانا مضمون ہے  جو میں نے  اب پبلش کیا ہے-جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔18 دسمبر 2009سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعہ کو فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمیشن میں تعینات کیے جانے والے دو نئے ارکان سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔


ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہاکہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے-انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔


فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے اختیارات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سکریٹری اطلاعات نے کہا کہ صدر مشرف کے دور میں اس ادارے کے اس وقت کے سربراہ جمشید گلزار کیانی کو قومی سلیکشن بورڈ کو بھی سربراہ بنا دیا گیا تھا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے جمعرات کو چئرمین فیڈرل سروس کمیش کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی اور صدر آصف علی زرداری نے رانا بھگوان داس سے حلف لیا۔سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور چئرمین پبلک سروس کمیشن تقرری کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایک ایماندار اور منصف شخص کو اس ادارے کی قیادت سونپنے سے ملکی افسر شاہی کو سیاست سے پاک کرنے میں بڑی حد تک مدد ملے گی۔ ان مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس قسم کی شکایت سامنے آتی رہی ہیں کہ مختلف حکومتوں کے دورے میں بیوروکریسی میں سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں جس سے بیوروکریسی بھی سیاسی رسہ کشی کا حصہ بنتی رہی ہے۔سابق سکریٹری اطلاعات اشفاق گوندل نے رانا بھگوان داس کی تعیناتی پر کہا کہ وہ ایک نہایت ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل جج رہے ہیں اور ان کا چئرمین بننا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل سروس کمیشن وہ واحد ادارہ ہے جو میرٹ کی بنیاد پر سرکاری نوکریوں میں بھرتیاں کرنے کا مجاز ہے اور اس ادارے میں ایک ایماندار اور انصاف پسند شخص کی موجودگی ہے میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنانے میں بہت مدد ملے گی۔انہوں نے کہ اس ادارے کے تحت مقابلے کے امتحانات کے ذریعے ایک عام آدمی کو بھی اعلی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اور ایسی جگہ پر بھگوان داس جیسے شخص کی موجودگی ایک بہت ہی خوش آئند قدم ہے۔

 

۔ منتخب نعتیہ کلام بطور خراجِ تحسین

این جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​

خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​

یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی ​

تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​

مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​

نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​

ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی ​

میں جلوے کا طالب ہوں ، اے جان عالم!​

دکھادے ،دکھادے وہ شانِ جمالی ​

ترے آستانہ پہ میں جان دوں گا ​

نہ جاؤں، نہ جاؤں، نہ جاؤں گا خالی ​

تجھے واسطہ حضرتِ فاطمہؓ کا​

میری لاج رکھ لے دو عالم کے والی ​

نہ مایوس ہونا ہے یہ کہتا ہے بھگوانؔ

کہ جودِ محمدﷺ ہے سب سے نرالی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرش حق کی طرف جب چلے مجتبی

جلوہ آرا تھا ہر سمت نور خدا

کہکشاں سے بنا اک نیا راستہ

فرش خاکی تا سدرة المنتہی

احتراما تھے ایستادہ جن و ملک

نغمہ گر حور و غلماں تھے صل اعلی

نعرہ کرتے تھے سب اصفیاء اتقیاء

آج دولہا بنا سید الانبیاء

عرش اعظم سے آنے لگی یہ صدا

مرحبا  مصطفیﷺ  مرحبا مصطفیﷺ 

زد میں گردوں ہی کیا ماہ و انجم بھی ہیں

کس نے جانا ہے یاں عشق کا مرتبہ

پہنچے معراج میں جب رسول خدا

کائنات دوعالم سے آئی صدا

جب خودی کی حقیقت سے پردہ اٹھا

پھر کہاں دوسرا میں رہا دوسرا

حسن اور عشق میں آج پردہ کشا

فرش پہ مصطفیﷺ عرش پہ کبریا

شان معراج سے بس یہ عقدہ کھلا

مرکز عشق ہیں خاتم الانبیاءﷺ

لا نبیﷺ بعدی ہے قول محبوب حق

ورد اس کا ہے بھگوانؔ صبح و مسا[5]////


عظیم الشان رومن سلطنت جب رو بہ زوال ہوئ


سلطنت روما میں  اس عہد کا سب سے بڑا تھیٹر تعمیر کیا گیا جسے2007ء میں دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔روم میں کولوزیم، جو دنیا کی سب سے مشہور اور حیرت انگیز تاریخی یادگاروں میں سے ایک ہے، رومی سلطنت کی طاقت کی علامت ہے اور اٹلی کے قدیم ترین ڈھانچے میں سے ایک ہے۔ یہ عظیم ایمفی تھیٹر، جو 2000 سال سے زیادہ پرانا ہے، قدیم روم میں گلیڈی ایٹر کی لڑائیوں، تاریخی شوز اور شاندار تقریبات کا مقام رہا ہے۔ غیر معمولی فن تعمیر اور تاریخی اتار چڑھاؤ سے لے کر ان کہانیوں تک جو تاریخی پتھر کی دیواروں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔ کولوسیم کی تعمیر غالباً نیرو کے دور میں ہی شروع ہو گئی تھی کیونکہ اس میں نیرو کا ایک دیوہیکل مجسمہ نصب تھا، اسی لیے یہ   کے نام سے معروف ہو گیا ورنہ اس کا اصل نام فلیوین ایمفی تھیٹر تھا۔یہاں گلیڈیٹر کے نام سے باقاعدہ تربیت یافتہ غلاموں کو حکمرانوں اور شہریوں کی تفریح  طبع کے لیے شیروں سے لڑایا جاتا اور ان کے بے بسی سے مرنے کا تماشا دیکھا جاتا۔ ان تماشوں سے یہاں بیک وقت 50 ہزار تماشائی لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہالی ووڈ کی فلم گلیڈیٹر میں اسی انسانیت سوز کھیل کو فوکس کیا گیا۔


برطانیہ کے قدیم قبرستان سے ملنے والے انسانی ڈھانچے پر شیر کے  دانتوں کے کاٹنے کے نشانات ملے ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ رومن دور میں  انسانوں کو شیروں سے لڑوایا جاتا تھا۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق قدیم رومن دور کی تاریخ میں انسانوں کو جنگلی جانوروں سے لڑوائے جانے کے قصے ملتے ہیں جنہیں اس وقت کی تحریروں اور فن پاروں کا موضوع بھی بنایا جاتا رہا ہے،   برطانیہ کے قدیم شہر یارک کے ایک قبرستان میں انسانی باقیات ملی ہیں جو اس حوالے سے واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں۔یارک شہر سے ملنے والے ایک انسانی ڈھانچے کے نچلے حصے پر شیر یا کسی وحشی جانور کے دانتوں کے کاٹنے کے واضح نشانات موجود ہیں۔آئر لینڈ کی مائینوتھ یونی ورسٹی سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجسٹ پروفیسر ٹم تھامسن نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ شیروں کے ساتھ انسانوں کو لڑوایا جاتا تھا، جب یارک سے ملے ایک انسانی ڈھانچے کا فارنزک تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انسانی ڈھانچے پر پائے گئے دانتوں کے نشانات کسی بڑے جانور غالباً شیر کے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملنے والے اس انسانی ڈھانچے پر دانتوں کے نشان کے علاوہ چوٹوں کے نشانات بھی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی بڑے گوشت خور جانور کی جانب سے لگائے گئے تھے۔


اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں رومن دور میں یہاں خطرناک جانوروں اور انسانوں کی لڑائیاں کرائی جاتی تھیں۔واضح رہے کہ ان خونی کھیلوں میں حصہ لینے والے رومن جنگجوؤں کو گلیڈی ایٹرز کہا جاتا ہےاسی طرح معروف فلم بین حر BENHUR یروشلم میں 70ء یہودی بغاوت کے پس منظر میں بنی ہے جسکے مرکزی کردار ایک یہودی کو رومی اپنا غلام بنا کر روم لے آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلی صدی عیسوی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے والے یہی رومی تھے۔رومی سلطنت پرعیسائیت کا غلبہ اور یونانی علمی ورثے کی تبا ہی تھی صدی عیسوی میں قسطنطین اعظم وہ پہلا رومی بادشاہ تھا جس نے عیسائیت قبول کی اور قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کو روم کا دارالحکومت بنایا۔ بعد ازاں عیسائیت کو رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کی حیثیت دیدی گئی، یوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت پر ایمان لانے والوں کو پہلی مرتبہ غلبہ اور اقتدار حاصل ہوا۔ قسطنطین ہی کے زمانے سے چرچ نے سیاسی معاملات میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے شرک پر مبنی قدیم رومی مذاہب کے ماننے والوں اور ان کی ثقافت کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے مندروں کو گرجاؤں میں تبدیل کیا، پاگان عبادت پر پابندی لگا دی گئی یہاں تک کہ ان کے علمی ورثہ تک کو تباہ کر دیا گیا۔


 اسی صورتحال کا نتیجہ صرف روم ہی نہیں بلکہ پورے یورپ کے فکری و شعوری زوال کے طور پر سامنے آیا۔ اسی کے بعد کیتھولک چرچ کے زیراثر جو کلچر پروان چڑھا اس میں علم کی تحصیل خانقاہوں یا کانوینٹس (Convents) تک ہی محدود ہو کر رہ گئی۔بعد ازاں رومی سلطنت مشرقی (صدر مقام قسطنطنیہ) اور مغربی حصوں (صدر مقام روم) میں بٹ گئی۔  عوام میں پسماندگی پھیل گئ اور بادشاہوں میں عیش پرستی بڑھ گئ زراعت تباہ ہوگئ اور کسان شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے لگےشہروں میں گندگی کے ڈھیر لگ  گئے  جس کی صفائ مفقود ہو گئ  مغربی رومی سلطنت جو کیتھولک چرچ کے زیراثر تھی، عظیم الشان رومن سلطنت کو زوال کیوں ہوا-اس زوال کی ابتداء رومن ایمپائر کی دو حصوں  میں تقسیم سے ہوئ مشرق اور مغرب روم -مغربی رومی سلطنت کا زوال  -رومیوں کی تاریخ کا ایک لمحہ ہے، جس میں مغربی رومی سلطنت کے   زوال کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور اپنی حکمرانی کو نافذ کرنے میں ناکام رہے کیونکہ ان کے جوانوں کا بڑا حصہ راہبانہ راستے پر چل پڑااور آخر کار ان کا وسیع علاقہ منہدم اور منتشر ہو گیا۔ آج کے مورخین فوج کی غیر موثریت اور کمی، روم کی صحت اور آبادی میں کمی، معیشت کا عدم استحکام، شہنشاہوں کی نااہلی، اقتدار کے حصول پر اندرونی کشمکش، وقتاً فوقتاً مذہبی تبدیلیوں اور نا اہلی جیسے عوامل پر غور کرتے ہیں۔ اندرونی حکومت کی طاقت اور صلاحیت کے کھو جانے کی وجہ کے طور پر جس نے رومیوں کو مشق کرنے کی اجازت دی وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے زیر اقتدار علاقوں اور صوبوں پر موثر تھا۔ نیز رومی تہذیب کے اردگرد وحشیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور حملے  روم کے زوال اور تباہی کا سبب بنے۔ 

اتوار، 21 دسمبر، 2025

شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی '' تحریر ''

     

 

 ·شازیہ کیانی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کی اس  تحریر نے میرے دل کو خون کے آنسو رلایا ہے 

ہجرت کے نئے ریکارڈ — پاکستان کی بلند ترین “مہاجر ت”

 پاکستان کے نام ایک نیا ریکارڈ درج ہو رہا ہے، مگر یہ وہ ریکارڈ نہیں جس پر فخر کیا جائے۔ ہمارے ہاں جس “ہجرت” کا چرچا ہو رہا ہے، وہ کسی تہوار کی خوشی نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر روز ہمارے دلوں میں درد، ذہنوں میں سوالوں اور مستقبل کے بارے میں خوف کا بیج بوتی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ رواں سال بھی لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے باہر جا رہے ہیں — وہ تعلیم یافتہ جوان، ہنر مند پیشہ ور، ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، اور وہ مزدور بھی جو اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں تقریباً 2,894,645 پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں — تقریباً 2.9 ملین انسان جو پاکستان سے باہر مواقع کی تلاش میں نکلے ہیں۔  یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہماری قومی ناکامی، حکومتی عدم دلچسپی اور مستقبل کے بحران کی گواہ ہے۔پاکستان سے جانے والوں میں صرف غیر ہنرمند مزدور ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ہم اپنی قوم کی امید سمجھتے تھے — ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، اساتذہ، اور دیگر پیشہ ور۔ 

اور یہ اعداد و شمار ہی نہیں رُکتے۔ صرف سال 2024 میں ہی 727,381 پاکستانی قانونی ملازمتوں کے لیے بیرون ملک منتقل ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 862,625 تھی — جو خود ایک بے مثال ہجرتی لہر تھی۔ یہ کوئی افواہ نہیں، یہ حقیقت ہے۔پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کی بلند ترین ہجرت دیکھ رہا ہے —اور ذمہ دار وہی ہیں جو روز ٹی وی پر “سب اچھا ہے” کے نعرے لگاتے ہیں۔تقریباً 29 لاکھ پاکستانی صرف پچھلے تین سال میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔

2023 میں 8 لاکھ 62 ہزار2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار اور یہ سب کوئی فارغ لوگ نہیں تھےیہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ایکسپرٹس، اساتذہ، اور ہنر مند نوجوان تھے۔ یعنی قوم کا دماغ، قوم کا مستقبل،قوم کی امید — سب جہاز میں بیٹھ گیا۔پھر حیرت ہوتی ہے کہ ایئرپورٹس پر لڑائیاں کیوں ہوتی ہیں؟

سوال جواب کیوں؟

غصہ کیوں؟ جناب!

جب کوئی لاکھوں روپے لگا کراس “منحوس نظام” سے جان بچا کر نکلنے کی کوشش کرے گاتو وہ مسکرائے گا نہیں — وہ چیخے گا۔ طنز یہ ہے کہ

ایک طرف لوگوں پر آف لوڈنگ،دوسری طرف باہر ممالک سے بین لگوانے کی کوششیں،اور تیسری طرف قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ دیکھیں! برین ڈرین رک گیا ہے”۔ واہ!لوگوں کو زبردستی قید کر کے کہا جا رہا ہے“دیکھو، سب خوشحال ہیں”۔ یہ ہجرت نہیں…یہ اعتماد کا قتل ہے۔یہ ریاست سے مایوسی ہے۔یہ اس نوجوان کا جنازہ ہےجو کبھی کہتا تھا:میں پاکستان میں کچھ کر کے دکھاؤں گا” آج وہی نوجوان کہتا ہے:

“بس کسی طرح یہاں سے نکل جاؤں” یاد رکھیں:قومیں سرحدیں بند کر کے نہیں بچتیں  قومیں امید دے کر بچتی ہیں۔ اور جہاں امید ختم ہو جائے

وہاں پاسپورٹ ہی سب سے قیمتی دستاویز بن جاتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لاکھوں روپے کی ڈگریوں،سخت محنت، اور شب و روز آسانی سے نہیں حاصل کیں — مگر اب وہ اپنے وطن کے دروازوں کی بجائے دوسرے ملکوں کے سفرناموں میں نظر آ رہے ہیں۔یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کبھی پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا جاتا تھا، مگر آج وہ اپنی صلاحیتیں، خواب اور مستقبل سب کے سب لے کر جا رہے ہیں — بس ملک چھوڑنے کا ٹکٹ ہاتھ میں ہے۔اب اگر کوئی حیران ہوتا ہے کہ جب لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے یہ ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں تو لڑائی جھگڑا، سوال جواب اور غصہ کیوں؟ جواب بالکل سادہ ہے: یہ لوگ اپنے َمستقبل، عزت، اور تحفظ کے لیے سوال پوچھ رہے ہیں — سوال جو شاید برسوں سے جواب کے انتظار میں رہ گیا ہے۔ اور ساتھ ہی، ہمارے یہاں حکومتی بیان بازیاں جاری ہیں کہ “سب ٹھیک ہے، خوشحالی نظر آ رہی ہے، ترقی کی رفتار تیز ہے” — ایسے بیانات جیسے ایک مایوس نوجوان کو تسلی دے دیں گے کہ واقعی ساری مشکلات ختم ہو گئی ہیں! حقیقت میں، نعرے بڑھتے جا رہے ہیں مگر زندگیاں اور خواب باہر نکل رہے ہیں۔ جب پاکستان دنیا بھر میں لوگوں کی بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے نئی پالیسیاں اپناتا ہے، وہی پالیسیاں لاکھوں شہریوں کو مجبوراً ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہیں — اور یہ کوئی “ہجرت” نہیں، یہ ایک خروج ہے، ایک بھاگ نکلنے کی داستان ہے جس کا اختتام نظر نہیں آتا۔ آخر میں ایک سچ — یہ ہجرت صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا بریہ اشارہ ہے کہ اگر پاکستان نے آج اپنی نوجوان قوت کو روکنے کے لیے پالیسیاں، مواقع اور حقیقی مستقبل نہ دیا تو کل وہ لوگ نہ صرف ملے گے بلکہ وہ نام بھی دنیا کے نقشے پر پاکستان سے زیادہ روشن ہوں گے۔ پاکستان نے بہت سی بار اعلانِ ترقی کیے، مگر اصل ترقی تب آئے گی جب یہ نوجوان وطن میں رہ کر ترقی کے سفر کا حصہ بنیں، نہ کہ دروازہ کھول کر باہر کی زمین پر قدم جمانے کو مجبور ہوں۔  

ہفتہ، 20 دسمبر، 2025

پروفیسر سلیمہ ہاشمی پاکستان کے علمی افق پر درخشاں نام

 


ہاشمی پاکستان کے  فنون لطیفہ کے اسٹیج پر  ایک  درخشاں  نام ہے       -پروفیسر سلیمہ ہاشمی مقبول شاعر فیض احمد فیض کی سب سے بڑی بیٹی ہیں وہ 1942 میں ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئیں۔ والدہ کانام ایلس تھا جو کہ برطانوی نژادخاتون تھیں۔ابتدائی زندگی کا کچھ عرصہ شملہ اور کچھ عرصہ دہلی میں گزرا۔قیام پاکستان کے بعدفیض صاحب لاہور منتقل ہوئے اور سلیمہ ہاشمی نے ابتدائی تعلیم کا آغاز لاہور سے کیا ۔چونکہ شروع سے ہی آرٹ سے خاصا لگاؤ تھا اس لئے 1962میں نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فن مصوری میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔اور اسی مضمون میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے انگلینڈ چلی گئیں۔ دوران تعلیم پینٹنگ اور فوٹوگرافی سلیمہ ہاشمی کے پسندیدہ مضامین تھے 1965میں باتھ اکیڈمی آف آرٹ(کورشم) سے آرٹ ایجوکیشن میں  ڈپلومہ حاصل                           سلیمہ ہاشمی کی عمر آٹھ سال کے قریب تھی جب فیض احمد فیض کو سیاسی خیالات کی بنا پر قید کر دیا گیا۔ انھیں، جیل میں والد کی عیادت کی یاد آتی ہے۔ بعد ازاں ، جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی کے جابرانہ سالوں کے دوران، سلیمہ کے والد کو ضیا کی حکومت کی طرف سے درپیش پریشانی کے نتیجے میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ لہذا، سلیمہ ایک سیاسی چارج والے ماحول میں پلی بڑھیں۔ پینٹنگ ان کا شعبہ بن گیا         ۔سلیمہ  نے رہوڈے آئی لینڈاسکول آف ڈیزائن امریکا سے تعلیم بھی حاصل کی



۔وطن واپس لوٹیں اورنیشنل کالج آف آرٹس کے کھلے دروازوں کی جانب قدم بڑھائے اور درس وتدریس کے ایک طویل سفر کا آغاز کیا ۔نیشنل کالج آف آرٹس میں انھوں نے تقریبا 31برس درس وتدریس کے فرائض انجام دیے چار برس پرنسپل کے عہدے پر بھی رہیں۔ ۔ان کی بنائی گئی مصوری کو ملکی سطح کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سطح پر بھی خوب پذیرائی حاصل ہوئی انھوں نے دنیا بھر کے ممالک کا سفر کیا اور انگلینڈ ،یورپ،امریکا ،آسٹریلیا ،جاپان اور بھارت میں ان کی بنائی ہوئی پینٹنگ کے لئے نمائش کا انعقاد کیا گیا ۔وہ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کیوریٹر اور کنٹیمپریری آرٹ کی تاریخ نویس بھی ہیں۔پاکستانی خواتین پینٹرز کو بین الاقوامی طور پر متعارف کروانے کا سہرا بھی سلیمہ ہاشمی کو ہی جاتا ہےانھوں نے بیرون ملک پاکستانی مصوروں کا مختلف طریقوں سے پیش کیا جس کے باعث بیرون ملک میں پاکستانی خواتین سے متعلق لوگوں کے منفی خیالات بدلنے میں مدد ملی۔جس کے بعد پاکستانی مصوروں کا کام دنیا بھر میں نمائش کےلیے پیش کیا گیا ۔سلیمہ ہاشمی مصورہ ہونے کے ساتھ چار مستند کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔مصورہ ہونے کے ناتے انھوں نے بیشمار تبصرے اور تنقیدی مضامین بھی لکھے جوفن مصوری کے طالب علموں کے لئے ایک ’’قیمتی خزانے‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں


۔ انھوں نے پاکستانی خواتین مصوروں کی حیات اور فن کے بارے میں کتابیں لکھیں۔بھارت اور پاکستان کے ایام آزادی میں صرف ایک دن کا فرق ہے ایک ہی وقت شروع ہونے والے اس سفر میں پاکستان کی مصورات کئی مراحل سے گزری ہیں۔اس مشکل سفر کو معروف مصورہ سلیمہ ہاشمی نے اپنی کتاب Unvailing the Visible کا موضوع بنایا ۔پاکستان کی خاتون مصوروں کی زندگی اور کام پر کتاب لکھنے کی وجوہات سے متعلق سلیمہ ہاشمی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ’’ ضیاالحق کے زمانے میں جب پاکستان میں انسانی حقوق پامال کئے جارہے تھے اور خاص طور پر عورتیں اسکا نشانہ بن رہی تھیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ میں دیکھ رہی تھی کہ عورتوں کا فن اس کے باوجود پختہ ہوتا جارہا تھا۔ مجھے حیرت بھی ہوئی کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خواتین خراب ترین حالات میں بھی اچھا کام کررہی ہیں؟ لہٰذامیں نے سوچا کہ یہ ایک کہانی ہے اور یقینًا کہی جانی چاہیے۔سلیمہ ہاشمی نےپاکستان ٹیلی ویژن کے مزاحیہ پروگرام ٹال مٹول اور سچ گپ میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے ۔شعیب ہاشمی کے ہمراہ اسٹیج ڈراموں میں کام کیا اور1965 میں شعیب ہاشمی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔ان کا ایک بیٹا یاسرحسنین اور ایک ہی بیٹی صدف ہاشمی ہے۔ سلیمہ ہاشمی کے گھر میں مہمان بننے والے افراد ان کی شخصیت کی طرح ان کے گھر سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے کیونکہ آرٹسٹ کی سوچ نہ صرف اس کی شخصیت اور اسٹائل میں نظر آتی ہے بلکہ اس کا پرتو گھر کی سجاوٹ اور رہن سہن سے بھی اجاگر ہوتا ہے۔اور سلیمہ ہاشمی کا گھر ان کی شخصیت کی طرح آرٹسٹک ہے۔قدیم طرز تعمیر،قدیم اور علاقائی ستکاریاںاور فرنیچر ان کے گھر کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہیں


۔14 اگست 1998ء کو حکومت پاکستان نے ان کی قلمی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا ۔آرٹ اینڈ ایجوکیشن کے لئے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا 2011میں’’وویمن آف انسپریشن ایوارڈ ،،کے لئے بھی منتخب کی گئیں 2013میں ایک مختصر دورانیے کے لیے پنجاب کی نگراں کابینہ میں بھی شامل رہیںسلیمہ ہاشمی کی عمر آٹھ سال کے قریب تھی جب فیض احمد فیض کو سیاسی خیالات کی بنا پر قید کر دیا گیا۔ انھیں، جیل میں والد کی عیادت کی یاد آتی ہے۔ بعد ازاں ، جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی کے جابرانہ سالوں کے دوران، سلیمہ کے والد کو ضیا کی حکومت کی طرف سے درپیش پریشانی کے نتیجے میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ لہذا، سلیمہ ایک سیاسی چارج والے ماحول میں پلی بڑھیں۔سلیمہ ہاشمی نے 2001 میں " انویلنگ دا ویزیبل: لائیوز اینڈ ورکس آف ویمن آرٹسٹس آف پاکستان " کے عنوان سے ایک تنقیدی طور پر سراہی جانے والی کتاب بھی تصنیف کی۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے ذریعہ 2006 میں ، ہاشمی نے ہندوستانی آرٹ مورخ یشودھرا ڈالمیا کے ساتھ ایک کتاب "میموری، میٹافر، میوٹیشن: معاصر آرٹ آف ہندوستان اور پاکستان" کے ساتھ مشترکہ تصنیف کی۔ ان کا تازہ ترین کام، اپنے شوہر شعیب ہاشمی کے کیے گئے فیض کی شاعری کے انگریزی ترجمے کی اشاعت کے سلسلے میں ہے۔پینٹنگ اسلیمہ ہاشمی نے 2001 میں " انویلنگ دا ویزیبل: لائیوز اینڈ ورکس آف ویمن آرٹسٹس آف پاکستان " کے عنوان سے ایک تنقیدی طور پر سراہی جانے والی کتاب بھی تصنیف کی۔

جمعہ، 19 دسمبر، 2025

پشاور کا تاریخی سیٹھی ہاؤس معماروں کے زوق تعمیر کا اظہار

 

 پشاور کا تاریخی محلہ سیٹھیاں اور سیٹھی ہاؤس جسے دیکھ کر اس کے معماروں کا زوق تعمیر عروج پر نظر آتا ہے - اس بے نظیر محلے کی آباد کاری  اس طرح  ہوئ  کہ پشاور کے محلہ سیٹھیاں میں قیامِ پاکستان سے قبل ایک امیرترین کاروباری خاندان اس خطے میں آ کر آباد ہوا، جس نے ہندوستان اور وسطی ایشیا کے درمیان پُل کا کام کیا۔ لاہوری دروازہ اور گھنٹہ گھر کے وسط میں واقع اس محلہ کی عمارتیں تہذیبی و تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ محلہ کے تمام مکانات دو اور تین منزلہ ہیں، جن کی تعمیر بخارا کے طرزِ تعمیر کے مطابق کی گئی ہے۔ ان رہائشی عمارتوں کی تعمیر کے لیے مختلف ریاستوں کے ماہر کاریگروں کی خدمات حاصل کی گئیں جبکہ ان کی آرائش کے لیے سامان بھی وسط ایشیائی ریاستوں سے منگوایا گیا۔ ان مکانات کی تعمیر میں کیا گیا لکڑی کا کام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کہیں لکڑی پر بیل بوٹے کندہ ہیں، کہیں لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑ کر دروازوں اور چوکھٹوں کی سجاوٹ کی گئی ہے جبکہ جالیاں بھی نہایت نفیس ہیں۔ باہر سے نظر آنے والی بالکونیاں بھی لکڑی سے بنائی گئی ہیں۔ ان گھروں کے مرکزی دروازے، چھت پر لگے شہتیروں، روشن دان، پنجالیوں، دیواروں میں لگی الماریوں، چار پائیوں کے پایوں، باورچی خانہ میں جالی کی بنی ہوئی الماریوں اور چینی خانے کے فریموں سمیت ہر چیز کو تراشنے میں بڑی مہارت اور کمال فن کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔



ان مکانات کی تعمیر میں ’وزیری اینٹ‘بہ کثرت استعمال کی گئی جو کہ 3انچ چوڑی، 6انچ لمبی اور ایک سے ڈیڑھ انچ موٹی ہوتی ہے۔ گزشتہ ادوار میں نفاست لانے کے لیے اس اینٹ کا استعمال کیا جاتا تھا، جبھی تو ان مکانات کی شان و شوکت آج تک قائم ہے۔ مکانات میں داخلے کے ساتھ ہی کشادہ صحن بنے ہوئے ہیں، جہاں درمیان میں فوارہ لگا ہوا ہے۔ اس کے ارد گرد کمرے بنے ہوئے ہیں، جن کی دیواروں پر کاشی گری کے نمونے موجود ہیں۔ صحن میں کھلنے والی لکڑی کی کھڑکیوں کے شیشے رنگ برنگے ہیں۔ ان مکانات کی ڈیزائننگ اس طرح کی گئی ہے کہ یہ سردی میں گرم اور گرمی میں ٹھنڈے اور ہوا دار ہیں، اس خطے کے موسم کے اعتبار سے یہ بہترین تعمیرات ہیں۔ مرکزی کمرے یا مہمان خانہ کی آرائش کے لیے چینی خانے بھی بنائے گئے ہیں، جن میں وسطی ایشیا اور روس سے لائے گئے انتہائی نفیس اور مہنگے برتن (گردنر) سجائے جاتے تھے۔ محلہ سیٹھیاں میں تعمیر کیے گئے مکانات اس خاندان کے عمدہ ذوقِ تعمیر کی گواہی دیتے ہیں۔ اگر ان کی تزئین نو کرکے مناسب دیکھ بھال کا انتظام کیا جائے تو اس ثقافتی ورثہ کو دیکھنے کہیں زیادہ تعداد میں سیاح آئیں گے۔محلہ سیٹھیاں میں    صدر دروازے سے داخلے کے بعد صحن کے بیچوں بیچ فوارہ نظر آتا ہے۔ اس میں بارہ کمرے، ایک ہال، تختِ سلیمانی، چمنی خانہ اور تین تہ خانے ہیں۔ محلے کے دیگر مکانات کی طرح اس میں بھی زیادہ تر لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ کمروں کے دروازوں پر دیدہ زیب لکڑی کندہ ہےجبکہ چھتوں پر لکڑی سے نفیس، رنگ برنگی اور خوبصورت اشکال بنی ہوئی ہیں۔ سیٹھی ہاؤس کی تعمیر میں آرائشی شیشوں کا کافی استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے میں یورپ میں تیار ہونے والے ایک سے زائد شیشے لگائے گئے ہیں



سیٹھی ہاؤس-محلہ سیٹھیاں میں جداگانہ حیثیت رکھنے والے سیٹھی ہاؤس کے انوکھے طرزِ تعمیر میں جابجا امارت نظر آتی ہے۔ صدر دروازے سے داخلے کے بعد صحن کے بیچوں بیچ فوارہ نظر آتا ہے۔ اس میں بارہ کمرے، ایک ہال، تختِ سلیمانی، چمنی خانہ اور تین تہ خانے ہیں۔ محلے کے دیگر مکانات کی طرح اس میں بھی زیادہ تر لکڑی کا کام کیا گیا ہے۔ کمروں کے دروازوں پر دیدہ زیب لکڑی کندہ ہےجبکہ چھتوں پر لکڑی سے نفیس، رنگ برنگی اور خوبصورت اشکال بنی ہوئی ہیں۔ سیٹھی ہاؤس کی تعمیر میں آرائشی شیشوں کا کافی استعمال کیا گیا ہے۔ ہر کمرے میں یورپ میں تیار ہونے والے ایک سے زائد شیشے لگائے گئے ہیں۔ کمروں میں محراب بنے ہوئے ہیں جن کےاندر چراغ رکھنے کے لیے ترتیب سے چھوٹے چھوٹے محراب جوڑئے گئے ہیں۔ ہر محراب کے اندر آئینہ بنوایا گیا ہے جس پر گلدستہ اور پھول بنے ہوئے ہیں۔ آئینہ لگانے کا مقصد پورے کمرے میں چراغ کی روشنی کو پھیلانا تھا۔ آگ جلانے کیلئے کمروں کے درمیان چمنی خانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی باورچی خانہ موجود ہے، جس کے اندر کھانا کھانے کیلئے بالکونی نما ایک جگہ بنائی گئی ہے۔اگرچہ برتنوں کے بارے میں براہ راست معلومات نہیں ہیں، لیکن سیٹھی ہاؤس کی مجموعی شان و شوکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کٹلری بھی بہت اعلیٰ، نفیس اور ڈیزائن والی ہوگی، جو ان کے دولت مندانہ اور ذوق پر مبنی طرزِ زندگی کی عکاسی کرتی ہے 


 غسل خانوں میں روشنی کے حصول کیلئےروشندان کی جگہ آئینے لگائے گئے ہیں جن سے سورج کی کرنیں منعکس ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوار کے ساتھ پانی کی ایک ٹینکی بنوائی گئی، جس کے پتھروں سے بنے پائپ کے ذریعہ پانی استعمال کیا جاتا تھا۔اس کے ہال کی الماریوں اور درو دیوار پر سونے کا کام کیا گیا ہے۔ سیٹھی ہاؤس کے تہہ خانوں کی سیڑھیاں سرخ اینٹوں سے بنی ہیں۔ پہلے تہہ خانے میں بینک ہوا کرتا تھا جہاں سیٹھی خاندان کے پیسے جمع تھے۔ اس میں لکڑی کی بڑی الماریاں موجود تھیں۔ اس کے ساتھ دو اور کمرے بھی تھے جہاں بینک کے عہدیدار مالی امور کی دیکھ بھال پر مامور تھے۔ سیٹھی ہاؤس میں پانی کی ترسیل کا جدید نظام موجود ہے۔ آخری تہہ خانہ میں ایک کنواں ہے، جو اُوپر کی طرف جاتا ہے اور ہر منزل پر کنویں سے پانی حاصل کرنے کیلئے پنگھٹ بنایا گیا ہے۔ اس کی چھت پر لکڑی سے بنے بڑے چبوترے کو ’تختِ سلیمانی‘کہا جاتا ہے، جہاں بیٹھ کر خاندان کی عورتیں دھوپ سینکا کرتی تھیں۔ اس قدیم مکان کے درودیواراور لکڑیوں پر بنے دلکش نقش و نگار سنہرے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر