یک اور خط میں بتایا:’پریشانیوں کا ایک سلسلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہےفیض کو اہلیہ کی کلفتوں کا خوب احساس تھا۔ وہ ان کے سائیکل پر سفرکے حق میں بھی نہیں تھے۔ ’لاہور کے موسم کی خبروں سے تشویش رہتی ہے۔ اس موسم میں جب تپتے ہوئے دفترسے تمھارے بائسکل پر اپ گھر آنے کا سوچتا ہوں تو اس خیال سے بچنے کے لیے زور سے آنکھیں میچ لیتا ہوں۔ اگر تم اتنا لکھ دو کہ ایک آدھ مہینے کے لیے تم نے سائیکل چلانا بند کردیا ہے تو کچھ اطمینان ہوگا۔ اس میں کچھ خرچ تو بڑھ جائے گا لیکن ایسا بھی کیا خرچ ہوگا۔ وعدہ ہے کہ ہم یہ پیسے پورے کردیں گے۔‘ایلس ہمدم و ہم ساز سے کہتی ہیں: ’سائیکل سے گھر آنا جانا یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم ٹانگے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے‘سردی کی شدت بھی بیوی اور دونوں بیٹیوں کی یاد دلاتی ہے۔’لاہور کا درجہ حرارت دیکھتا ہوں تو جھرجھری سی آ جاتی ہے اور اس خیال سے کہ اس غضب کی ٹھنڈک اور تنہائی میں تم پر اور بچوں پر کیا گزر رہی ہوگی۔دل دکھتا ہے۔‘ایلس سگھڑ بیوی کی طرح گھر چلا رہی تھیں۔ کفایت شعاری سے کام لیتیں۔ مہنگائی سے گھریلو بجٹ متاثرہونے پرقیدی شوہر کو صورت حال سے آگاہ کیا جاتا
فیض کے نام خطوط سے چند منتخب اقتباسات ملاحظہ ہوں: ’ لاہور میں رہنا مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ 16روپے من آٹا ہوگیا ہے اور ہم مشکل سے گزارا کر پا رہے ہیں۔‘’آخر یہ حکومت کر کیا رہی ہے؟ لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔ کل میں نے سولہ روپے کا ایک من آٹا خریدا۔ پچھلے سال مارچ میں جب تم گئے تھے تو من بھر آٹے کی قیمت نو روپے تھی‘ (میں نے اپنی حساب کی پرانی ڈائری میں چیک کیا تھا۔)’چیزوں کی قیمتوں میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ٹوتھ پیسٹ کی ایک ٹیوب تین روپے بارہ آنے کی، لکس صابن کا ایک پیکٹ چار روپے کا، ہم نے گھر میں ٹوتھ پاﺅڈربنا لیا تھا جو دو مہینے چلا۔‘اضافی یافت کے لیے ایک طالب علم کو انگریزی بھی پڑھائی۔ وائی ایم سی اے سے شارٹ ہینڈ کا کورس اس لیے کیا کہ نوکری جاتی رہے تو یہ کہیں اور کام کے لیے کام آ سکے۔ نوکری کے تین برس ہونے پر تنخواہ میں اضافے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں۔ایک دفعہ آموں کا موسم آنے پر شوہر رہ رہ کر یاد آیا۔ خط میں لکھا:خط کے ذریعے فیض اور ایلس کی آدھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ ’آموں کا موسم ہے اور میرا دل اداس ہے، مجھے یاد آتا ہے جب تم دوپہر کو کھانے پر گھر آتے تو بڑے بڑے آموں سے بھرا ایک تھیلا تمھارے ہاتھ میں ہوتا اور کبھی بھولتے نہیں تھے۔‘
شوہر بھی صابر شاکر، راضی برضا، ایک خط میں بیوی سے کہا:تم نے پوچھا ہے کہ تمھارے لیے ساتھ کیا لاﺅں؟ تم خود آجاﺅ اور ان دو ہنستے ہوئے چہروں کو ساتھ لیتی آﺅ، اس سے زیادہ مجھے اور کیا چاہیے۔‘ایلس کو تنہائی ستاتی اور وہ تلخیِ ایام کا ذکر خطوں میں کرتیں تو جواب ملتا:’ دن بہت آہستہ آہستہ گزر رہے ہیں اور ہر گزرنے والا دن دل کی سطح پر کراہت اور درد کا ایک ہلکا سا غبار چھوڑ جاتا ہے لیکن چند روز اورمری جان فقط چند ہی روز۔‘ تم نے اپنے گھر کی تنہائی کا ذکر کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ تنہائی کتنی کڑی اور جدائی کے لمحے کتنے گراں ہیں۔‘دونوں میاں بیوی خطوں میں دنیا جہاں کی باتیں کرتے، ذاتی دکھ درد، موسم، باغ باغیچے، بچوں کی باتیں، لوگوں کے رویے، کتابوں کی اشاعت کے معاملات اور بہت کچھ،فیض جیل میں جو کچھ پڑھتے اس کے بارے میں تاثرات سے اہلیہ کو آگاہ کرتے۔ کتابیں جیل بھجوانے کا تقاضا کرتے۔ ایک دفعہ چیخوف کے ڈرامے ’تھری سسٹرز‘ پڑھنے کو جی چاہا۔ ایلس سے فرمائش کی جو پوری کردی گئی۔ اس پر خوش ہوکر لکھا
’مجھے خوشی ہے کہ تم نے مجھے چیخوف کی کتاب بھیج دی۔ پڑھنے میں بہت لطف آ رہا ہے۔ چیخوف کی تحریر سے کتنا گہرا پیار اور کتنی بے پناہ شفقت ٹپکتی ہے۔‘ ایلس بھی کتاب پڑھنے سے حاصل ہونے والی خوشی کے بارے میں شوہر کو بتاتیں:’میں رابرٹ برائوننگ کی سوانح عمری پڑھ رہی تھی، بہت زبردست ہے۔ کیا نفیس انسان تھا اور کیا بہترین شاعر، دل سوزی بھی اور سریلا پن بھی۔ اس کتاب میں چند خطوط بھی شامل ہیں جو اپنی ذات میں خالص شاعری ہیں۔‘خط کے ذریعے دونوں کی آدھی ملاقات ہوجاتی تھی۔ جیل میں بالمشافہ ملاقات ذاتی اعتبار سے جاں گسل ہوتا۔ اس کے لیے ایلس کو تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا خاص طور پر گرمیوں میں حیدر آباد جیل جانے کے لیے لمبا سفر انھیں نڈھال کر دیتا۔ بعض دفعہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے سفرمؤخر کرنا پڑتا۔جیل میں بیوی بچوں کی جدائی کا غم اپنی جگہ عذاب ضرور تھا لیکن بہرحال یہ آس تو تھی کہ بھلے دن بھی آئیں گے لیکن حیدر آباد جیل میں انھیں بھائی کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا جو اس لیے بھی زیادہ شدت اختیار کر گیا کہ عزیز از جان بھائی طفیل ان سے ملنے کے مقررہ وقت سے کچھ ہی دیر پہلے اچانک جاں سے گزر گیا۔ غم زدہ فیض نے بیوی کو لکھا: آج صبح میرے بھائی کی جگہ موت میری ملاقات کو آئی۔‘
بھائی کی موت پر شکستہ دل شاعر نے یہ مرثیہ تحریر کیا:
مجھ کو شکوہ ہے مرے بھائی کہ تم جاتے ہوئے
لے گئے ساتھ مری عمرِ گذشتہ کی کتاب
اس میں تو میری بہت قیمتی تصویریں تھیں
اس میں بچپن تھا مرا، اور مرا عہدِ شباب
اس کے بدلے مجھے تم دے گئے جاتے جاتے
اپنے غم کا یہ دمکتا ہوا خوںرنگ گلاب
کیا کروں بھائی، یہ اعزاز کیونکر پہنوں
مجھ سے لے لومری سب چاک قمیصوں کا حساب
آخری بار ہے، لو مان لو اک یہ بھی سوال
آج تک تم سے میں لوٹا نہیں مایوس جواب
آ کے لے جاﺅ تم اپنا یہ دمکتا ہوا پھول
مجھ کو لوٹا دو مری عمرِ گذشتہ کی کتاب
جاری ہے