یہ 1957 کا دور تھا پاکستان کی فلمی صنعت ابھی اپنے قدم جما رہی تھی کہ فلمی دنیا میں ایک حسین و جمیل اور باصلاحیت اداکارہ نے فلمی اسکرین پر قدم رکھا اور راتوں رات شہرت کے بام پر براجمان ہو گئ- صبیحہ خانم اُس دور کی پہلی ہیروئن تھیں، جب پاکستانی سنیما پر کام کرنے والی زیادہ تر ہیروئنز متحدہ ہندوستان کی فلموں میں بھی کام کرچکی تھیں۔ وہ پہلی ہیروئن تھیں، جو پاکستانی سرزمین پر پیدا ہوئیں اور اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بھی اسی سرزمین سے ۔ 1950ء میں بہ طور اداکارہ پہلی بار انہوں نے پنجابی فلم ’’بیلی‘‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جس کے ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ یہ حُسن اتفاق ہے کہ ان کے خاوند اداکار سنتوش کمار کی بھی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس فلم میں صبیحہ کا کردار ثانوی تھا۔ فلم کی ہیروئن شاہینہ تھیں۔ ’’بیلی‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والے ان دونوں ستاروں کا تعلق آگے چل کر اس قدر مضبوط ہوگیا کہ دونوں جیون ساتھی بن کر کام یاب اور پُروقار ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔سنتوش کمار 11جون 1982ء میں اپنی بیگم صبیحہ کو داغِ مفارقت دے گئے۔
ان کے جانے کے بعد وہ ان کی بیوہ بن کر باقی زندگی تادم گزارتی رہیں۔ صبیحہ خانم 16دسمبر 1938ء کو پنجاب کے شہر گجرات میں پیدا ہوئیں۔ اُن کی والدہ اقبال بیگم اور والد محمد علی ماہیا نے محبت کی شادی کی تھی۔ والدہ کا گھرانہ ایک متمول زمیندار تھا، جب کہ ان کے والد ایک کوچوان تھے۔ والد اور والدہ دونوں فنی دُنیا سے وابستہ رہے۔ ان کی والدہ نے متحدہ ہندوستان کی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فن کار ماں باپ کی اس بیٹی مختار بیگم، صبیحہ خانم بننے کے لیے کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ ابتدائی حالات کے دُکھ، والدہ کی موت کے بعد ان کی زندگی غم و یاس کی تصویر بنی رہیں، کم سن اور معصوم مختار صرف نام کی مختار نہیں، ان کے والد نےکم عمری میں ہی انہیں اپنے اداکار دوست سلطان کھوسٹ (معروف اداکار عرفان کھوسٹ کے والد) کے توسط سے ریڈیو پر لے گئے، نو برس کی اس لڑکی نے جب ریڈیو لاہور پر اپنی مترنم آواز میں یہ نظم پڑھی’’؎ اے مائوں بہنوں بیٹیوں دنیا کی عزت تم سے ہے‘‘ تو سُننے والی تمام سماعتیں محو ہوگئیں۔
سلطان کھوسٹ اس بچی کے اندر چھپی ہوئی ایک بڑی فن کارہ کو بھانپ چکے تھے۔ فلمی دُنیا سے متعارف ہونے سے کچھ عرصےقبل لاہور کے ایک اسٹیج ڈرامے ’’بت شکن‘‘ میں انہیں ہیروئن کا کردار ملا۔ اس ڈرامے کو معروف فلمی صنعت فلم ساز و ہدایت کار عزیز میرٹھی نے لکھا تھا اور اس اسٹیج ڈرامے کو نفیس خلیل نے ڈائریکٹر کیا تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں پہلی بار ان کا نام صبیحہ ایم اے لکھا گیا تھا۔ سلطان کھوسٹ نے مختار کو صبیحہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ’’بت شکن‘‘ ڈرامے کو دیکھنے کے لیے اُس وقت کی متعدد فلمی شخصیات آئیں، جن میں حکیم احمد شجاع، انور کمال پاشا، مسعود پرویز اور سبطین نسلی کے نام شامل تھے۔ ان لوگوں نے اس ڈرامے میں صبیحہ کی اداکاری دیکھنے کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کے لیے ان کے والد کی رضامندی حاصل کی۔ پہلی بار فلمی کیمرے کا سامنا انہوں نے ہدایت کار شکور قادری کی فلم ’’ہماری بستی‘‘ کے ایک منظر کو فلماتے ہوئے کیا، لیکن ’’ہماری بستی‘‘ سے قبل ان کی فلم ’’بیلی‘‘ ریلیز ہوگئی۔ ’’ہماری بستی‘‘ میں اداکاری کے ساتھ انہوں نے گلوکاری بھی کی۔
یہ دونوں فلمیں 1950ء میں ریلیز ہوئیں۔ اسی سال ہدایت کار انور کمال پاشا کی پہلی کام یاب پاکستانی اردو فلم ’’دو آنسو‘‘ ریلیز ہوئی، جس میں صبیحہ اور سنتوش کمار نے لیڈنگ رول کیے۔ بہ طور ہیرو ہیروئن یہ ان دونوں کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم کے دو ہدایت کار تھے ۔ انور کمال پاشا اور مرتضیٰ جیلانی اس فلم سے پاکستان کی فلمی صنعت نےاپنی کام یابی کا سفر شروع کیا۔ 1951ء میں پہلی بار بہ طور سولو ہیروئن صبیحہ خانم کو فلم ساز و ہدایت کار امین ملک نے اپنی فلم ’’پنجرہ‘‘ میں اداکار مسعود کے مدِمقابل ہیروئن کاسٹ کیا۔ یہ پاکستانی فلمی صنعت کا ابتدائی دور تھا ، جب چند ہیروئنز اور چندہیرو کام کرہے تھے ۔ صبیحہ خانم جیسی حسین و جمیل اداکارہ کوفلم بینوں نے بے حد پسند کیا۔ ان کی آمد نے باکس آفس کو بھی سپر ہٹ فلمیں دیں۔ 1953ء میں نمائش ہونےوالی انور کمال پاشا کی یادگار کام یاب فلم ’’غلام‘‘ وہ پہلی فلم تھی، جس میں باکس آفس پر صبیحہ کو سپر اسٹار کا اعزاز دیا۔
اس فلم میں ان کے ہیئر اسٹائل کو خواتین فلم بین نے بے حد پسند کیا۔ اس فلم میں ان کے بالوں کے ایک خوب صورت اسٹائل کو اُس دور کی خواتین نے اپنایا۔ بیوٹی پارلرز میں خواتین صبیحہ کی طرح ہیئر اسٹائل بنانے پر اصرار کرتی تھیں -اپنے محبوب شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی عمر کے باقی ماہ وسال اپنے بچوں کے ساتھ گزارے اور آخری میں معمر اور باوقار زندگی اور ماضی کی حسین و درخشاں یادیں چھوڑ کر خالق حقیقی کے پاس چلی گئیں