پیر، 15 ستمبر، 2025

صبیحہ 'سنتوش فلمی دنیا کی حسین اور با صلاحیت جوڑی

 

 یہ  1957 کا دور تھا پاکستان کی فلمی صنعت  ابھی اپنے قدم جما رہی تھی کہ  فلمی دنیا میں ایک حسین و جمیل اور باصلاحیت اداکارہ نے   فلمی اسکرین پر قدم رکھا اور راتوں رات شہرت کے بام پر  براجمان ہو گئ- صبیحہ خانم اُس دور کی پہلی ہیروئن تھیں، جب پاکستانی سنیما پر کام کرنے والی زیادہ تر ہیروئنز متحدہ ہندوستان کی فلموں میں بھی کام کرچکی تھیں۔ وہ پہلی ہیروئن تھیں، جو پاکستانی سرزمین پر پیدا ہوئیں اور اپنے فلمی کیریئر کا آغاز بھی اسی سرزمین سے  ۔ 1950ء میں بہ طور اداکارہ پہلی بار انہوں نے پنجابی فلم ’’بیلی‘‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جس کے ہدایت کار مسعود پرویز تھے۔ یہ حُسن اتفاق ہے کہ ان کے خاوند اداکار سنتوش کمار کی بھی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی۔ اس فلم میں صبیحہ کا کردار ثانوی تھا۔ فلم کی ہیروئن شاہینہ تھیں۔ ’’بیلی‘‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کرنے والے ان دونوں ستاروں کا تعلق آگے چل کر اس قدر مضبوط ہوگیا کہ دونوں جیون ساتھی بن کر کام یاب اور پُروقار ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔سنتوش کمار 11جون 1982ء میں اپنی بیگم صبیحہ کو داغِ مفارقت دے گئے۔


ان کے جانے کے بعد وہ ان کی بیوہ بن کر باقی زندگی تادم گزارتی رہیں۔ صبیحہ خانم 16دسمبر 1938ء کو پنجاب کے شہر گجرات میں پیدا ہوئیں۔ اُن کی والدہ اقبال بیگم اور والد محمد علی ماہیا نے محبت کی شادی کی تھی۔ والدہ کا گھرانہ ایک متمول زمیندار تھا، جب کہ ان کے والد ایک کوچوان تھے۔ والد اور والدہ دونوں فنی دُنیا سے وابستہ رہے۔ ان کی والدہ نے متحدہ ہندوستان کی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فن کار ماں باپ کی اس بیٹی مختار بیگم، صبیحہ خانم بننے کے لیے کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ ابتدائی حالات کے دُکھ، والدہ کی موت کے بعد ان کی زندگی غم و یاس کی تصویر بنی رہیں، کم سن اور معصوم مختار صرف نام کی مختار نہیں، ان کے والد نےکم عمری میں ہی انہیں اپنے اداکار دوست سلطان کھوسٹ (معروف اداکار عرفان کھوسٹ کے والد) کے توسط سے ریڈیو پر لے گئے، نو برس کی اس لڑکی نے جب ریڈیو لاہور پر اپنی مترنم آواز میں یہ نظم پڑھی’’؎ اے مائوں بہنوں بیٹیوں دنیا کی عزت تم سے ہے‘‘ تو سُننے والی تمام سماعتیں محو ہوگئیں۔


 سلطان کھوسٹ اس بچی کے اندر چھپی ہوئی ایک بڑی فن کارہ کو بھانپ چکے تھے۔ فلمی دُنیا سے متعارف ہونے سے کچھ عرصےقبل لاہور کے ایک اسٹیج ڈرامے ’’بت شکن‘‘ میں انہیں ہیروئن کا کردار ملا۔ اس ڈرامے کو معروف فلمی صنعت فلم ساز و ہدایت کار عزیز میرٹھی نے لکھا تھا اور اس اسٹیج ڈرامے کو نفیس خلیل نے ڈائریکٹر کیا تھا۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں پہلی بار ان کا نام صبیحہ ایم اے لکھا گیا تھا۔ سلطان کھوسٹ نے مختار کو صبیحہ بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ’’بت شکن‘‘ ڈرامے کو دیکھنے کے لیے اُس وقت کی متعدد فلمی شخصیات آئیں، جن میں حکیم احمد شجاع، انور کمال پاشا، مسعود پرویز اور سبطین نسلی کے نام شامل تھے۔ ان لوگوں نے اس ڈرامے میں صبیحہ کی اداکاری دیکھنے کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کے لیے ان کے والد کی رضامندی حاصل کی۔ پہلی بار فلمی کیمرے کا سامنا انہوں نے ہدایت کار شکور قادری کی فلم ’’ہماری بستی‘‘ کے ایک منظر کو فلماتے ہوئے کیا، لیکن ’’ہماری بستی‘‘ سے قبل ان کی فلم ’’بیلی‘‘ ریلیز ہوگئی۔ ’’ہماری بستی‘‘ میں اداکاری کے ساتھ انہوں نے گلوکاری بھی کی۔ 



یہ دونوں فلمیں 1950ء میں ریلیز ہوئیں۔ اسی سال ہدایت کار انور کمال پاشا کی پہلی کام یاب پاکستانی اردو فلم ’’دو آنسو‘‘ ریلیز ہوئی، جس میں صبیحہ اور سنتوش کمار نے لیڈنگ رول کیے۔ بہ طور ہیرو ہیروئن یہ ان دونوں کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم کے دو ہدایت کار تھے ۔ انور کمال پاشا اور مرتضیٰ جیلانی اس فلم سے پاکستان کی فلمی صنعت نےاپنی کام یابی کا سفر شروع کیا۔ 1951ء میں پہلی بار بہ طور سولو ہیروئن صبیحہ خانم کو فلم ساز و ہدایت کار امین ملک نے اپنی فلم ’’پنجرہ‘‘ میں اداکار مسعود کے مدِمقابل ہیروئن کاسٹ کیا۔ یہ پاکستانی فلمی صنعت کا ابتدائی دور تھا ، جب چند ہیروئنز اور چندہیرو کام کرہے تھے ۔ صبیحہ خانم جیسی حسین و جمیل اداکارہ کوفلم بینوں نے بے حد پسند کیا۔ ان کی آمد نے باکس آفس کو بھی سپر ہٹ فلمیں دیں۔ 1953ء میں نمائش ہونےوالی انور کمال پاشا کی یادگار کام یاب فلم ’’غلام‘‘ وہ پہلی فلم تھی، جس میں باکس آفس پر صبیحہ کو سپر اسٹار کا اعزاز دیا۔


 اس فلم میں ان کے ہیئر اسٹائل کو خواتین فلم بین نے بے حد پسند کیا۔ اس فلم میں ان کے بالوں کے ایک خوب صورت اسٹائل کو اُس دور کی خواتین نے اپنایا۔ بیوٹی پارلرز میں خواتین صبیحہ کی طرح ہیئر اسٹائل بنانے پر اصرار کرتی تھیں -اپنے محبوب شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی عمر کے باقی ماہ وسال اپنے بچوں کے ساتھ گزارے اور آخری میں معمر اور باوقار زندگی  اور ماضی کی حسین و درخشاں  یادیں  چھوڑ کر خالق حقیقی کے پاس چلی گئیں

اتوار، 14 ستمبر، 2025

اردو شاعری کا ایک نفیس نام 'اطہر نفیس

 



شاعر اطہر نفیس کا اصل نام کنور اطہر علی خان تھا۔ وہ 1933ء میں علی گڑھ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی اسکول علی گڑھ سے حاصل کی اور پھر ان کا خاندان پاکستان چلا آیا جہاں کراچی میں اطہر نفیس نے ایک روزنامے میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہ ادبی صفحہ کے نگراں رہے اور اس کام کے ساتھ ان کی مشقِ سخن بھی جاری رہی۔پنی شاعری کے حوالے سے ان کی اپنی یہ رائے ہے کہ یہ جذبات و احساسات نیز تجربات و مشاہدات کے اظہار کا ذریعہ ہے کے نزدیک ایک اچھا شاعر زندگی کی اعلیٰ اخلاقی اور تہذیبی قدروں کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بلکہ انہیں اپنے اندر جینے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے ایمانداری سے اپنے عہد کی صداقتوں کو اپنی شاعری کے توسط سے پیش کرنے کی سعی کی ہے اور مسلسل تخلیقی ریاضت سے اردو شعرو ادب میں اپنی شناخت مستحکم کی ہے۔شاعری واقعتاً ایک الہامی کیفیت ہے جس کا نزول حساس دلوں پر ہوتا ہے۔شعر گوئی کے لئے کسی سند یا تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 



معروف گلوکارہ فریدہ خانم نے 60 کی دہائی میں جب ریڈیو اور بعد میں ٹیلی ویژن سے اپنی پہچان کا سفر شروع کیا تو کئی مشہور شعراء کا کلام ان کی آواز میں سنا گیا۔ ان کی گائی ہوئی غزلیں، گیت بہت پسند کیے گئے، لیکن ایک غزل نے فریدہ خانم کو ملک گیر شہرت اور مقبولیت عطا کی۔ شاعر تھے اطہر نفیس اور اس غزل کا مطلع تھا:

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا

کوئی مہر نہیں، کوئی قہر نہیں، پھر سچّا شعر سنائیں کیا

آج اردو زبان کے اسی معتبر غزل گو شاعر اور صحافی اطہر نفیس کی برسی ہے۔ وہ 1980ء میں وفات پاگئے تھے۔ اطہر نفیس نے اپنی منفرد شاعری اور لب و لہجے سے ادبی حلقوں اور باذق قارئین میں اپنی شناخت بنائی اور پاکستان کے معروف شعراء میں سے ایک ہیں۔ فریدہ خانم کی مدھر آواز میں اطہر نفیس کی غزل اس قدر مقبول ہوئی کہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ہر پروگرام میں باذوق سامعین اور ناظرین اسے سننے کی فرمائش کرتے تھے۔ گلوکارہ فریدہ خانم جب میڈیا اور نجی محفلوں میں غزل سرا ہوتیں تو ان سے یہی غزل سنانے پر اصرار کیا جاتا تھا۔



ڈاکٹر مناظر عاشق ہر گانوی اطہر نفیس کے متعلق لکھتے ہیں ’’اطہر نفیس کی غزل میں نیا ذائقہ اور نیا آہنگ ملتا ہے۔ ان کے لہجے میں نرمی ہے۔ زبان کی سادگی ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے۔ ان کی عصری حسیات نے نئے شاعرانہ وجدان کی تشکیل کی ہے۔ احساس کی شکست و ریخت سے ان کو حظ ملتا ہے اور اس کی ادائی ان کی شاعری کو ایک منفرد آہنگ عطا کرتی ہے۔ اطہر نفیس بھیڑ میں بھی اکیلے نظر آتے ہیں۔ اس لئے کہ ان کی آواز میں انفرادیت اور نیا پن ہے۔ وہ اپنے اظہار کیلئے نئی زمینیں تلاش کرکے لائے۔‘اردو کے اس معروف شاعر نے اپنے منفرد لب و لہجے، خوب صورت اور دل نشیں اسلوب سے ہم عصر تخلیق کاروں کے درمیان اپنی الگ پہچان بنائی۔ وہ اپنے تخلیقی وفور اور دل کش اندازِ‌ بیان کے سبب ادبی حلقوں اور قارئین میں مقبول تھے۔ اطہر نفیس نے اردو غزل کو خیال آفرینی اور اس کے ساتھ ایک خوب صورت، لطیف اور دھیما لہجہ عطا کیا۔ اطہر نفیس کی شاعری کا مجموعہ 1975ء میں ’’کلام‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا تھا۔

 

سو رنگ ہے کس رنگ سے تصویر بناؤں

میرے تو کئی روپ ہیں کس روپ میں آؤں

کیوں آ کے ہر اک شخص مرے زخم کریدے

کیوں میں بھی ہر اک شخص کو حال اپنا سناؤں

کیوں لوگ مصر ہیں کہ سنیں میری کہانی

یہ حق مجھے حاصل ہے سناؤں کہ چھپاؤں

اس بزم میں اپنا تو شناسا نہیں کوئی

کیا کرب ہے تنہائی کا میں کس کو بتاؤں

کچھ اور تو حاصل نہ ہوا خوابوں سے مجھ کو

بس یہ ہے کہ یادوں کے در و بام سجاؤں

بے قیمت و بے مایہ اسی خاک میں یارو

وہ خاک بھی ہوگی جسے آنکھوں سے لگاؤں

کرنوں کی رفاقت کبھی آئے جو میسر

ہمراہ میں ان کے تری دہلیز پہ آؤں

خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہ

اور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں

رہ جائیں کسی طور میرے خواب سلامت

اس ایک دعا کے لیے اب ہاتھ اٹھاؤں

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا

اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا

وہ زہر جو دل میں اتار لیا پھر اس کے ناز اٹھائیں کیا

پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں

ہم خود بھی کسی کے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا

اک آگ غم تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی

جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامن دل کو بچائیں کیا

ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صورت گر کچھ خوابوں کے

بے جذبۂ شوق سنائیں کیا کوئی خواب نہ ہو تو بتائیں کیا

 اچھا شاعر زندگی کی اعلیٰ اخلاقی اور تہذیبی قدروں کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بلکہ انہیں اپنے اندر جینے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ انہوں نے ایمانداری سے اپنے عہد کی صداقتوں کو اپنی شاعری کے توسط سے پیش کرنے کی سعی کی ہے اور مسلسل تخلیقی ریاضت سے اردو شعرو ادب میں اپنی شناخت مستحکم کی ہے

قلعہ گولکنڈہ سے قطب شاہی مقابر کا منظرپارٹ 2

 

 مقابر کی  عمارات  کی تعمیر کے لیئے ایران سے انجینئرز ، معماروں کی بڑی ٹیم  اور دوسرے ماہرین کو ایک مدعو کیا  گیا تھا۔گولکنڈہ  دکن کے خوبصورت ترین اور تاریخی یادگار قطب شاہی گنبدوں پر توجہ دے کر اسے پھر سے نئ  شکل دی ہے ۔قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر ہندوستان اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں تاکہ دکن اور ایران کے صدیوں پرانے ثقافتی تعلقات کا احیا ہوسکے۔ ہرے بھرے گھنیرے درختوں کے سائے تلے  وہ بلند کردار قطب شاہی خاندان کے ارکان آرام کررہے ہیں جنہوں نے 200 سال تک دکن پر حکومت کی اور دنیا کو چارمینار اور شہر حیدرآباد کا تحفہ دیا۔قطب شاہی گنبدوں میں خوبصورت نقش و نگار اور پچی کاری کا کام آج بھی ماضی کی شان و شوکت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ان میں حیات بخشی بیگم کا مقبرہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ماں صاحب کے نام سے مشہور اس خاتون نے تین قطب شاہی بادشاہوں کے دور میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ایک بادشاہ کی بیٹی، ایک حکمران کی بیوی اور حیدرآباد کے بانی محمد قلی قطب شاہ کی والدہ تھیں۔



اسی مناسبت سے ماں صاحبہ کے لیئے سب سے شاندار مقبرہ بنایا گیا تھا اور کئی سال کی مرمت اور تزئین کے بعد یہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ان گنبدوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایسے بلند مقام پر تعمیر کیئے گئے ہیں کہ دور دور سے ان کا نظارہ کیا جاسکتا۔ ان میں سے کچھ مقبرے دو منزلہ اور کچھ ایک منزلہ ہیں اور ان تک پہنچنے کے لیئے سیڑھیوں پر چڑھ کر بلندی تک پہنچنا پڑتا ہے۔ سارے مقبرے اور ان کی کمانیں اور فصیلیں بالکل متوازن انداز میں ایک ہی طرح سے بنائی گئی ہیں اور ہر عمارت کے وسط میں قبروں کی نشانیاں بنی ہوئی ہیں۔ایران اور انڈیا کا تعاون -قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر انڈیا اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں کسی زمانے میں ان تمام قبروں پر انتہائی قیمتی ، نیلے اور سبز رنگ کے کتبے لگے ہوئے تھے لیکن بعد میں انہیں چرالیا گیا۔اب ریاستی حکومت نہ صرف ان تمام گنبدوں بلکہ پورے ابراہیم باغ اور اس میں موجود حیات بخشی مسجد اور سرائے کو بھی بحال کرنا چاہتی ہے۔


ریاستی وزیر سیاحت و ثقافت ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کا کہنا ہے کہ 10 کروڑ روپے کے اس منصوبے کا مقصد اس علاقے کو اتنا خوبصورت اور پرکشش بنادینا ہے کہ اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں جگہ حاصل ہوسکے۔حیدرآباد میں واقع ایرانی قونصل خانہ بھی اس پراجیکٹ میں گہری دلچسپی لے رہا ہے ایرانی حکومت کے سینٹر فار ہیریٹیج مانومنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خوشنویس نے اس سلسلے میں ریاستی عہدیداروں سے بات چیت کی ہے۔حیدرآباد میں ایران کے قونصل جنرل حسین راوش کا کہنا ہے کہ ایران پہلی بار ملک سے باہر کسی تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیئے کام کرے گا۔ گیتا ریڈی نے بتایا کہ ایرانی ماہرین کی ایک ٹیم بہت جلد حیدرآباد کا دورہ کرے گی تاکہ منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ریاستی حکومت میں محکمہ سیاحت کی پرنسپل سکریٹری چترا رامچندرن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت قطب شاہی گنبدوں کے اطراف ایرانی طرز کے ایک باغ کو ترقی دی جائے گی جن میں باغیچے، کیاریاں اور جھیل ہوں گی۔ یہ باغ بالکل اصفہان کے باغ کے طرز پر بنایا جائے گا۔



حال ہی میں اصفہان کے دورے سے واپس لوٹیں گیتا ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اصفہان اور حیدرآباد کی مماثلت دیکھ کر حیران رہ گئیں اور خود ایرانی عہدیدار بھی اس سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے بھی اس پراجیکٹ کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔یہ نقش و نگار ایران کی قدیم تعمیرات سے گہری مماثلت رکھتے ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہریاستی حکومت کو امید ہے کہ پھر ایک بار ایرانی ماہرین کے یہاں آنے سے نہ صرف ان یادگاروں کی اصل خوبصورتی اور رونق بحال ہوگی اور حیدرآباد سیاحت کے عالمی نقشے پر ایک اہم منزل بن کر ابھرے گا بلکہ ایران اور حیدرآباد کے قدیم تعلقات بھی پھر ایک مرتبہ اسی عروج پر پہنچیں گے۔حکومت اس منصوبے کو اس انداز میں روبہ عمل لانا چاہتی کہ ان مقبروں اور دوسری عمارتوں کی اصل حیثیت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ ایرانی ماہرین چارمینار، اور قلعہ گولکنڈہ کی تزئین اور بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ حیدرآباد کے شاندار تاریخی ورثے کا تحفظ ہوسکے۔ گیتا ریڈی نے امید ظاہر کی کہ یہ پراجیکٹ حیدرآباد کی خوبصورتی میں چار چاند لگادے گا۔1912ء میں صدر المہام حیدرآباد نواب میر یوسف علی خان، سالارجنگ سوم نے اِن مقابر کی بحالی و مرمت کا حکم جاری کیا۔اِس احاطہ میں ایک نیا کنواں کھدوایا گیا اور ایک خوشنماء باغ دوبارہ لگایا گیا۔

تحریر انٹر نیٹ  کی مدد سے  لکھی گئ  ہے 

ہفتہ، 13 ستمبر، 2025

گولکنڈہ 'باغ ابراہیم میں قطب شاہی سلاطین کے مقابر

 



جنوبی ہندوستان کا  قدیم شہر گولکنڈہ ایک ایسا شہر ہے جس کی تعمیرات اس کو کسی زمانے میں قدیم نہیں ہونے   دیتی ہیں گولکنڈہ کے روشن راستوں  پر چلتے ہوئے ہر قدم پر احساس ہوتا ہے کہ آپ خود اسی دور میں سانس لے رہے ہیں  جس میں گولکنڈہ سانس لے رہا ہے '  قطب شاہی مقابر گولکنڈہ، موجودہ حیدرآباد، دکن، بھارت میں واقع قطب شاہی سلطنت کے حکمرانوں کے مقابر ہیں۔ اِن مقابر کو قطب شاہی سلطنت کے طرزِ تعمیر کا شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔ حیدرآباد، دکن، میں یہ مقابر قدیم طرزِ تعمیر اور اسلامی معماری کے امتزاج کا نمونہ ہیں۔ یہ مقابر 1543ء سے 1687ء تک تعمیر کیے جاتے رہے۔ قطب شاہی سلطنت کے چھ حکمران یہیں مدفون ہیں۔  درجنوں تاریخی مساجد میں مکہ مسجد سے مشابہت رکھنے والی قطب شاہی سلطنت کے چوتھے بادشاہ ابراہیم قلی قطب شاہ کی جانب سے سنہ 1550 میں تعمیر کردہ مسجد ابراہیم باغ کا نام بھی قابل ذکر ہے یہ مسجد مکہ مسجد سے 20 کلو میٹر دور قلعہ گولکنڈہ کے قریب واقع ہے لیکن یہ وقف بورڈ اور حکومت کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ مسجد ابراہیم باغ زمین سے 200 فٹ اونچائی پر ہے۔ اس مسجد میں بیک وقت ایک ہزار مصلی نماز ادا کرسکتے ہیں۔


موجودہ حیدرآباد، دکن، بھارت میں قلعہ گولکنڈہ کے شمالی دروازے یعنی بنجارا دروازے سے شمال کی جانب موجودہ بڑا بازار روڈ سے گزرتے ہوئے مزید شمال کی جانب چلتے جائیں تو 1.8 کلومیٹر کے فاصلہ پر قطب شاہی مقابر کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ پیدل چلنے پر یہ راستہ 10-12 منٹ کی مسافت کا ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ مقام ابراہیم باغ کہلاتا ہے۔ شارع بڑا بازار سے شمال مشرق کی جانب داخل ہوں تو یہ سڑک شارع سات مقبرہ (Seven Tombs Road) کہلاتی ہے۔قلعہ گولکنڈہ سے دیکھنے پر یہ مقابر نظر آتے ہیں۔یہ مقبرے ایک ہموار سطح زمین پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ مقبروں کی عمارت ایک بلندپختہ  اینٹوں  کے چبوتروں سے شروع ہوتی ہے۔ عمارت مربع چوکور نما ہے جن پر درمیان میں ایک گنبد کلاں مدور شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ گنبد اولاً نیلی اور سبز رنگ کی کاشی کار ٹائیلوں سے مزین تھے مگر امتدادِ زمانہ کے باعث اب صرف   پختہ اینٹوں  اور چونے کے رنگ کے باعث دیکھنے میں سیاہ نظر آتے ہیں۔



 تمام مقابر کی عمارات پرگنبدِ کلاں کے ساتھ چار  چھوٹے  گنبد  نما مینار تعمیر کیے گئے ہیں جو کم بلند ہیں۔ عمارت   پر سیاہ مرمر لگایا گیا ہے جو زمانہ دراز گزرنے پر بھی سیاہی مائل دکھائی دیتا ہے اور اِس رنگ میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔عمارات میں سرخ پتھر کو بطور اینٹ کے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ عمارات بیک وقت ہندوستانی اور اسلامی معماری کا امتزاج دکھائی دیتی ہیں۔ مقبروں کی عمارات کے ساتھ خوشنماء باغ لگائے گئے تھے۔ 2015ء میں ان باغات کی بحالی و مرمت کا کام کیا گیا ہے۔یہ مقام پہلی بار بطور شاہی قبرستان کے 1543ء میں اختیار کیا گیا جب سلطان قطب شاہی سلطنت قلی قطب الملک کا انتقال ہوا۔ قلی قطب الملک کے مقبرے کا زمینی چبوترا چہار جانب سے 30 میٹر بلند ہے۔ مقبرہ ہشت پہلو ہے اور مقبرے کی ہر دیوار کی چوڑائی 10 میٹر ہے۔ مقبرہ پر ایک  راؤنڈشکل گنبد  ہے جو دور سے دیکھنے پر تاجِ شاہی نظر آتا ہے۔ اِس مقبرہ کے اندرونی جانب میں تین قبور اور بیرونی جانب 21 قبور ہیں۔ مقبرہ کا کتبہ شاہی خط ثلث، خط نسخ میں کندہ کیا گیا ہے۔ اِس کتبہ میں قلی قطب الملک کو بڑے مالک لکھا گیا ہے جو دکن کی عوام اُنہیں پکارا کرتی تھی۔



یہ مقبرہ 1543ء کے اواخر تک مکمل ہوگیا تھا۔اس سرزمین کو سب سے پہلے حضرت بابا شرف الدین 585۔687ھ) نے اپنے بابرکت قدموں سے تقدس اور وقار عطا کیا۔ آپ اپنے مرشد شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کی ہدایت پر عراق سے ہندوستان تشریف لائے اور نوبرس تک یہاں کے مختلف شہروں میں قیام کرنے کے بعد قطب شاہی سلطنت کے قیام سے پہلے654ھ میں دکن پہنچے(3)۔ حضرت بابا شرف الدین کے ساتھ آپ کے دوبھائیوں بابا شہاب الدین اور بابا فخرالدین کے علاوہ ستّر مریدین بھی شامل تھے۔ آپ نے اپنے قیام کے لیے ایک بلند پہاڑی کا انتخاب فرمایا تھا جو آج بھی آپ ہی کے نام سے موسوم ہے۔ حضرت باباشرف الدین نے کم وبیش37 سال تک باشندگانِ دکن کو اپنے روحانی فیض سے مالا مال کیا۔ آج بھی آپ کا آستانۂ مبارک حیدرآباد اور اس کے اطراف واکناف کے مسلمانوں اور ہندوؤں کی زیارت گاہ بناہوا ہے۔قطب شاہی گنبد- قطب شاہی خاندان ایرانی نژاد تھا اور اس با زوق خاندان  نے  اپنی تعمیرات میں محلات تاریخی یادگاروں اور مقبروں کا جو ورثہ چھوڑا ہے اس پر ایرانی طرز تعمیر کی چھاپ بالکل نمایاں ہے۔ 

جاری ہے

ہاں شعر کا موسم بیت گیا-ابن انشا ء

 

 


انشاء جی کے آخری ایام میں کینسر کے مرض کے سلسلے میں ان کے ساتھ راولپنڈی کے CMH   گیا تو انہیں وہاں داخل کر لیا اور ٹیسٹوں کے بعد ہمیں بتایا کہ کینسر پھیل گیا ہے اور تھوڑے دن کی بات رھ گئی ہے کیوں کہ علاج کافی وقت سے چل رہا تھا ہم کئی بار یہاں آ چکے تھے 

شام کے وقت ہم دونوں ہسپتال کے اپنے کمرے میں باتیں کر رہے تھے کہ کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی میں نے دروازہ کھولا تو میرے سامنے ایک بہت خوبصورت تیس سالہ عورت ہاتھوں میں پھولوں کا گلدستہ لئے کھڑی مُسکرا رہی تھی میں اُسے کمرے میں لے آیا 

محترمہ نے گلدستہ انشاء جی کے ہاتھ میں دیا اور رونا شروع کر دیا اور کہا کہ انشاء جی میں آپ کی فین ہوں اور آپ میرے آئیڈیل ہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ کا کینسر پھیل گیا ہے اور آخری اسٹیج پر ہے میں اللّٰہ سے دُعا کرتی ہوں کہ وہ میری زندگی کے پانچ سال آپ کو دے دے میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں میں اپنی ساری زندگی آپ کو دے دیتی لیکن میری مجبوری یہ ہے کہ میرے چھوٹے چھوٹے دو بچے ہیں جن کو مجھے پالنا ہے میں پھر بھی سچے دل سے پانچ سال  آپ کو دے رہی ہوں انشاء جی اُس کی اس بات پر زور سے ہنسے اور کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں  ٹھیک ہوں خاتون تقریباً ایک گھنٹہ بیٹھنے کے بعد چلی گئی تھوڑی دیر بعد انشاء جی رونے لگے اور کہا کہ دیکھو جمیل الدین یہ میری فین ہے اور دو بچوں کی ماں بھی ہے اور مجھے اپنی زندگی کے پانچ سال دینا چاہتی ہے اس کو کیا پتہ کہ ایک دن بھی کتنا قیمتی ہوتا ہے میرا تو وقت آ گیا ہے اللّٰہ اسے اپنے بچوں میں خوش وخرم رکھے   میں اُس رات انشاء کے ساتھ ہسپتال میں رہا اور اگلے  روز میں نے دو دن کی اجازت لی کہ میں اپنے عزیزوں سے مل آؤں جو کہ پنڈی میں رہتے تھے  -میں دو روز بعد واپس آیا تو انشاء نے مجھے اپنی تازہ نظم اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے  رو رو کر سنائی- جس میں اُس خاتون کے پانچ سالوں کا ذکر بھی کیا  اردو ادب میں یہ نظم مجھے بہت پسند ہے میری آپ دوستوں سے گزارش ہے کہ آپ کم از کم دو مرتبہ اس کو ضرور پڑھنا-میں خود اس نظم کو بار بار گنگناتا رہتا ہوں بہت کمال اور شاہکار ہےانشاء جی پچاس سال کی عمر میں اللّٰہ کو پیارے ہو گئے تھے 

 

-اب عمر کی نقدی ختم ہوئی اب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے-ہے کوئی جو ساہو کار بنے

-ہے کوئی جو دیون ہار بنے-کچھ سال ،مہینے، دن لوگو -پرپر سود بیاج کے بن لوگوہاں اپنی جا ں کے خزانے سے

-ہاں عمر کے توشہ خانے سے-کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟

جب نام ادھار کا آیا ہے

-کیوں سب نے سر کو جھکایا ہےکچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں-جنہیں جاننے والے جانے ہیں

-کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں-کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں-ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس-دس پانچ برس دو چار برس-ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے

-ہاں اور خرا ج بھی دے لیں گے-آسان بنے، دشوار بنے-پر کوئی تو دیون ہار بنے-تم کون ہو تمہارا نام کیا ہےکچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے

-کیوں ا س مجمع میں آئی ہو-کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو-یہ کاروبار کی باتیں ہیں-یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں

-ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے-سب عمر کی نقدی ختم کیےگر شعر کے رشتے آئی ہوتب سمجھو جلد جدائی ہو

-اب گیت گیا سنگیت گیا

-ہاں شعر کا موسم بیت گیا-اب پت جھڑ آئی پات گریں-کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں -یہ اپنے یار ---پرانے ہیں -اک عمر سے ہم کو جانے ہیں-ان سب کے پاس ہے مال بہت-

-ہاں عمر کے ماہ و سال بہت

-ان سب کو ہم نے بلایا ہے-اور جھولی کو پھیلایا ہے-تم جاؤ ا ن سے بات کریں

-ہم تم سے نا ملاقات کریں-کیا پانچ برس ؟

کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟جب عمر کا آ خر آتا ہے

-ہر دن صدیاں بن جاتا ہے-جینے کی ہوس نرالی ہے-ہے کون جو ا س سے خالی ہے

کیا موت سے پہلے مرنا ہے؟

-تم کو تو بہت کچھ کرنا ہےپھر تم ہو ہماری کون بھلاہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا ہےکیا سود بیاج کا لالچ ہے ؟

کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛تم جا کر پوری عمر جیویہ پانچ برس،

 یہ چار برس

-چھن جائیں تو لگیں ہزار برس - سب دوست گئے سب یار گئے

                                                                      -               تھے جتنے ساہو کار ، گئے-بس ایک یہ ناری بیٹھی ہےیہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟

ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟

-ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے-جب مانگیں جیون کی گھڑیاںگستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں

ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے

کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے-جو ساعت و ماہ و سال نہیں-وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں

لو ا پنے جی میں ا تار لیا

لو ہم نے تم سے ادھار لیا

جمعہ، 12 ستمبر، 2025

التت، وادی ہنزہ میں بالائی کریم آباد پر ایک قدیم ترین قلعہ ہے

 

گلگت بلتستان کا قلعہ  ۔ یہ دراصل ریاست ہنزہ کے آبائی حکمرانوں کا گھر تھا، جن کے نام کے ساتھ میر لگایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں کئی چھوٹی اور خودمختار ریاستیں موجود تھیں، جن میں سے دو ہنزہ اور نگر تھیں۔ یہ دونوں ریاستیں روایتی طور پر ایک دوسرے کی مخالف اور دریائے ہنزہ پر آمنے سامنے واقع تھیں۔ قلعہ التت کو ہنزہ کے میروں (شاہی خاندان) نے گیارہویں صدی میں تعمیر کروایا تھاقلعہ التت...  اس قلعے میں لداخ اور تبتی فن تعمیر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ 900سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود اس قلعے نے اب تک اپنی شان برقرار رکھی ہوئی ہے۔ تاریخ میں قلعہ التت نہ صرف کئی حملوں کو روکنے میں کامیاب رہا بلکہ زلزلوں میں بھی اس نے اپنا وجود قائم رکھا۔ یہ خصوصیت اسے اپنے دور کی حیرت انگیز اور فن تعمیر کا شاہکار بناتی ہے۔شہروں میں رہنے والوں کو شمالی علاقہ جات بالخصوص گلگت بلتستان کی خوبصورتی، پُرفضا مقامات، سکون، طرزِ زندگی اور جغرافیائی خصوصیات ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔


 وادی ہنزہ کا ذکر کریں تو یہاں کے اصل باشندے بروشو کہلاتے ہیں، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ سکندر اعظم کے لشکر میں شامل یونانی فوجیوں کی اولادیں ہیں۔ ان کے آبا و اجداد روح کی عبادت کرنے والے یعنی شامانیت مذہب کے پیروکار تھے۔ تاہم، 15ویں صدی میں اس علاقے میں اسلام متعارف کروایا گیا اور 1830ء کے قریب بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے۔ التت، وادی ہنزہ کا ایک قدیم گاؤں ہے، جو اپنے قلعے کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ التت کے قدیم لوگوں کا تعلق سلطنت فارس کے ترقی پذیر اور زراعت سے وابستہ ترک قبیلے’ہن‘ سے تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس بستی کا پرانا نام ہنوکوشل تھا، جس کا مطلب ہنوں کا گاؤں ہے۔قلعہ دریائے ہنزہ سے ایک ہزار فٹ کی بلندی پر اونچی پہاڑی پر واقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے ایک چٹان کے اوپر چھ مختلف درجوں میں تعمیر کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر اسے محل کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا لیکن بعد میں ’شکاری مینار‘ تعمیر کرکے اسے قلعے میں تبدیل کر دیا گیا۔


قلعے کے اس واحد مینار کو خصوصی طور پر جنگ کے دوران علاقے کی نگرانی کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اتنی اونچائی سے ارد گرد موجود تمام پہاڑوں، چشموں، جنگلوں اور نہروں پر آسانی سے نظر رکھی جاسکتی تھی۔ابتدائی دنوں میں یہ قلعہ اطراف میں آبادی اور تاجروں سے گھرا ہوا تھا۔ تاجر قدیم شاہراہ ریشم کے راستے چین سے داخل ہوتے اور دنیا بھر سے اپنا مال یہاں لاتے تھے جس کی وجہ سے یہ جلد ہی خطے کا ثقافتی مرکز بن گیا۔ التت قلعے کے شکاری مینار پر چڑھ کر نیچے دیکھنے اور قلعے میں گھومتے ہوئے قدیم طرزِ زندگی کے آثار اب بھی نظر آتے ہیں۔ اس عظیم قلعہ بند عمارت کے فن تعمیر کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ کیسے اس دور میں اعلیٰ درجے کی انجینئرنگ کی گئی تھی۔ اس کے در و دیوار اور اندر موجود ایک ایک شے شاہانہ دور کی اَن مٹ یادیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔تقسیم ہند کے بعد بھی ہنزہ ایک شاہی ریاست کے طور پر قائم رہی لیکن یہ سلسلہ 1972ء تک چل سکا۔ بعد میں التت قلعے کی بحالی کا کام کیا گیا اور2007ءسے یہ میوزیم کے طور پر کام کر رہا ہے۔


 اس کے علاوہ پرانے گاؤں اور ارد گرد کی ترقی اور تزئین و آرائش بھی کی گئی۔ قلعے کے تحفظ اور بحالی کا کام ڈھانچے کے نقائص کی درستی، موجودہ دیواروں کا استحکام اور مرمت، چھتوں کا بدلنا، لکڑیوں کے خراب ہونے کا حل نکالنا اور مناسب روشنی کی فراہمی پر مرکوز رہا۔ دروازوں، کھڑکیوں اور سیڑھیوں پر بڑی مہارت سے لکڑی کا کام کر کے انہیں بالکل پرانی حالت میں بحال کیا گیا۔ لکڑی کے چھوٹے کمرے اور حصوں پرعمدہ کشیدہ کاری کی گئی۔ قلعے میں دیدہ زیب کام کی باقیات اب بھی موجود ہیں، یوں لگتا ہے کہ وہ گویا ماضی کی د استان سنا رہی ہوں۔ شاہی خاندان کے استعمال شدہ برتن بھی نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں جبکہ ان کے لباس، بادشاہ کا دربار، شاہی باورچی خانہ اور زندان سمیت ہر شے اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ قلعہ التت کا سب سے خوبصورت مقام رائل گارڈن ہے، جہاں کی تروتازگی اور ہر سو پھیلی ہریالی آج بھی ویسی ہی ہے۔ التت قلعہ ایک اہم سیاحتی مقام ہے، جسے2007ء سے عوام کے لیے کھولا گیا۔ وادی ہنزہ کے نظارے دیکھنے والے سیاح یہاں آکر یقیناً اس خوبصورتی کے ہمیشہ گرویدہ رہتے ہوں گے۔ ہنزہ کے اس قدیم قلعے کو ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لئے 2011ء کا یونیسکو ایشیا پیسفک ایوارڈ دیا گیا تھا۔


بدھ، 10 ستمبر، 2025

یہ لاش کہہ رہی ہے 'اب معاف کردو

 



 یہ کہانی اس محبت کی کہانی ہے جس کا انجام وہی ہوا جو پاکستانی سماج میں ہوتا ہے اور ہوتا چلا آ رہا ہے انگریز نے ستی کی رسم پر موت کی سزا رکھی تھی اور ان چند لوگوں کوموت کے گھاٹ اتارا بھی تھا جنہوں خفیہ طریقے سے عورت کو ستی کیا تھا پھر وہ قانون آج تک رائج ہے-لیجئے میں کہاں آ گئ بات ہو رہی ہےکوہستان میں گلیشیئر سے ملنے والی 28 برس پرانی لاش جس کی تدفین کے لیے جرگے کی مدد سے ’جنگ بندی‘ کروانا پڑی-تو اس جنگ کا آغاز ہوا تھا محبت کے ماروں کی موت سے جن  کے گھر کا نوجوان  غیرت کی رسم میں مارا گیا تھا اور مقتول کے گھر والوں نے کہا تھا 'ہم انتقام لیں گے اور پھر یہ انتقام آج تک ٹھنڈا نہیں ہو ا-پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے دورافتادہ پہاڑی علاقے ’پالس‘ کے رہائشی نصیر الدین لگ بھگ 28 برس قبل جب ’خاندانی دشمنی‘ اور اپنی ’جان کو لاحق خطرات‘ کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے سے فرار ہو رہے تھے تو شاید اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ فرار کی اِس کوشش کے دوران نا صرف وہ اپنی جان سے جائیں گے



بلکہ اُن کی میت ملنے میں بھی 28 برس کا عرصہ لگے گا اور یہی برسوں پرانی ’خاندانی دشمنی‘ اُن کی میت کی اپنے ہی آبائی علاقے میں تدفین کی راہ میں حائل ہو جائے گی۔جون 1997 میں پالس کی وادی ’لیدی‘ کے برف پوش پہاڑوں میں لاپتہ ہو جانے والے نصیرالدین کی کہانی ناقابل یقین لگتی ہے۔ نام نہاد غیرت کے نام پر ہونے والے ایک قتل اور اس کے بطن سے جنم لیتی ’خاندانی دشمنی‘ نے 28 برس قبل نصیر الدین کو اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھااپنی ’جان کے خوف‘ سے اپنے آبائی علاقے سے ’فرار‘ ہونے والے نصیر الدین کے ہمراہ اس سفر میں اُن کے چھوٹے بھائی کثیرالدین بھی تھے۔ دونوں بھائی الگ الگ گھوڑوں پر سوار تھے اور جلد از جلد علاقے سے نکل جانا چاہتے تھے۔کثیرالدین کے مطابق ’وادی لیدی‘ کے برف پوش پہاڑوں پر سفر کرتے ان بھائیوں پر جب ’مخالفین کی جانب سے‘ فائرنگ کی گئی تو نصیرالدین وہاں موجود ایک گلیشیئر میں بنے برفانی غار میں چلے گئے اور ان سے بچھڑ گئے۔کثیرالدین کے مطابق فائرنگ تھمنے کے بعد انھوں نے اپنے بھائی کو بہت تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکے۔ 28



 برس بعد یہ کہانی ایک دفعہ دوبارہ اُس وقت زندہ ہوئی جب اسی علاقے میں ایک گلیشیئر پگھلنے کے نتیجے میں نصیرالدین کی برف میں دبی لاش برآمد ہوئی۔مال مویشی چرانے والے ایک شخص کو یہ لاش یکم اگست 2025 کو ملی جو ’نا صرف ٹھیک حالت میں تھی بلکہ اس کی جیب میں موجود شناختی کارڈ بھی درست حالت میں تھا۔‘جیسے ہی لاش کو ڈھونڈنے والے شخص کی ’پالس‘ واپسی ہوئی تو یہ خبر ’جنگل کی آگ‘ کی طرح پھیل چکی تھی کہ گلیشیئر کے نیچے سے نصیر کی لاش 28 سال بعد مل چکی ہے مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ اُنھیں دفنایا کہاں جائے کیونکہ وہ ’خاندانی دشمنی‘ جس کے ڈر سے نصیر اپنے آبائی علاقے سے نقل مکانی کر گئے تھے، وہ دونوں خاندانوں کے بیچ آج بھی جاری ہے اور ان کے اہلخانہ کے لیے اس علاقے میں جانا ممکن نہیں تھا۔لاش کی آبائی علاقے میں واپسی، تدفین کی کہانی اور بیٹے کا غم یہ وہ وقت تھا جب پالس کے اہلِ علاقہ سامنے آئے تو اس ناقابل یقین کہانی میں موجود انسانی المیے کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ’دشمن‘ خاندانوں میں ثالثی کی۔جرگہ بٹھایا گیا اور بحث کے بعد دونوں حریف خاندان 10 اگست تک حد بندی (جنگ بندی) پر متفق ہو گئے۔ 



یہ طے پایا کہ اس عرصے کے دوران کوئی فریق دوسرے پر حملہ آور نہیں ہو گا، نصیر کی اپنے علاقے میں تدفین کی جائے گی اور ان کے اہلخانہ تعزیت کے لیے آنے والوں سے ملیں گے۔اس فیصلے کے بعد نصیر الدین کی لاش کو بدھ (پانچ اگست) کی صبح پالس پہنچایا گیا جہاں اُن کی قبر پہلے سے تیار تھی اور نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد وہاں اُن کی تدفین کر دی گئی۔نصیر الدین نے سوگوران میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہے۔ نصیر الدین کے بیٹے نعیم جب اپنے والد کی میت لے کر وادی لیدی سے پالس پہنچے تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے لیے خاندانی دشمنی کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے میں دن کی روشنی میں آنا مُمکن نہیں تھا۔میں  یہاں پہلے بھی آتا تھا مگر دن کی روشنی میں نہیں۔ اب والد کی لاش کے ساتھ آیا ہوں، جرگے کی کوشش اور جنگ بندی کی وجہ سے اپنے علاقے میں دن کی روشنی میں قدم رکھنا مُمکن ہوا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے برسوں کے بعد اپنے والد کے ساتھ اپنے آبائی علاقے کے اس سفر کی تکلیف الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ دشمنی کی وجہ سے اپنے علاقے میں نہیں رہ سکے۔


مگر والد آبائی علاقے میں سپردِ خاک کرنا کسی حد تک سکون کا باعث بنا کہ چلو انھیں اپنی مٹی تو نصیب ہوئی۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمیں والد کی تدفین بھی کرنا تھی اور جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری بھی۔ والد کو ایک مرتبہ پھر یہاں پالس میں اکیلے چھوڑ کر ہمیں 10 اگست کو اس علاقے سے چلے جانا ہے۔‘معاہدے کے ’ضامنوں‘ کا بھی کہنا ہے کہ جنگ بندی 10 اگست تک ہی جاری رہے گی اس کے بعد کسی کی کوئی ضمانت نہیں۔تدفین کا معاہدہ کیسے ہوا؟دونوں حریف خاندانوں کے درمیان نصیرالدین کی تدفین کی غرض سے معاہدہ کروانے والے جرگے کے سربراہ حریف گُل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نصیر الدین کے خاندان کی دشمنی یہاں برسوں پرانی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس کو حل کرنے کی ماضی میں بھی کوششیں کی گئیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔‘’جب 28 سال بعد نصیر الدین کی لاش ملی تو اُن کے خاندان والوں نے ہم سے رابطہ کیا اور گزارش کی کہ کوئی ایسا معاہدہ ہو جائے کہ ہم نصیر کا جنازہ اور تدفین اپنے آبائی علاقے کروا سکیں۔ اس پر ہم نے کوشس کی، جرگہ منعقد کیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ طے پایا کہ نماز جنازہ اور پھر تعزیت کی غرض سے دونوں خاندانوں میں 10 اگست تک جنگ بندی ہو گی اور اس دوران دونوں خاندان ایک دوسرے پر کوئی بھی حملہ نہیں کریں گے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر