جمعرات، 4 ستمبر، 2025

موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے-پارٹ 2

 



قران پاک میں ارشاد باری تعالیِ ہے 'زرا تم زمین میں چل پھر کے تو دیکھو ہم نے ان کو کیسے ہلاک کر مارا  -اب دیکھئے ایک عظیم  شہر تو دریافت ہو گیا لیکن اس کے مکین کہاں گئے تاریخ اس معاملے پر خاموش ہے -چلئے ا ب شہر کے خدوخال دیکھتے ہیں -  موہنجودڑو کا عمومی پلان ہڑپہ جیسا ہی تھا ۔ شہر کے مغرب میں قلعہ ہے، گلیوں کی ترتیب و مکانات اور اناج گھر سب ہڑپہ جیسے ہیں۔ البتہ یہاں کی منفرد اور سب سے نمایاں چیز بڑا اشنان گھر ہے جس کا مطلب ہے بڑا غسل خانہ یا عظیم حمام۔ یہ ایک بڑی سی عمارت ہے، جس کے وسط میں ایک بڑا سا تالاب ہے۔ یہ تالاب شمال وجنوب میں39فٹ لمبا اور شرقی و غربی میں23فٹ چوڑا اور آٹھ فٹ گہرا ہے۔ شمال اور جنوب دونوں سمت سے اینٹوں کے زینے نیچے اترتے تھے، جن پر لکڑی کے تختے لگادیے گئے تھے ۔ تالاب کی چار دیواری کی بیرونی سمت پر ایک خاص قسم کالیپ کیا گیا ہے، جسے ’بچومن لُک‘ کہاجاتا ہے۔ یہ لُک ہائیڈرو کاربن کا قدرتی طور پر نکلنے والا مادہ ہے اور فطرت میں مختلف حالات میں آج بھی دستیاب ہے۔ اس لیپ سے تالاب میںپانی رسنے کا سد باب کیا گیا ہے۔دراصل موہنجودڑو تو دریائے سندھ کے اندر ایک جزیرہ نما خشکی پر واقع تھا۔


 اس کے ایک طرف دریائے سندھ تھا اور دوسری طرف دریائے سندھ سے نکلنے والا نالہ بہتا تھا، جو آگے جا کر واپس دریا میں مل جاتا تھا ۔ اسی لیے شہر کی حفاظت کے لیے ایک میل لمبا حفاظتی بند باندھا گیا تھا ۔ موہنجودڑو میں بار بار سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت ملتا ہے ۔ سیلاب کی لائی ہوئی گاد سے اس شہر کی سطح زمین سے تیس فٹ بلند ہوگئی۔ کا خیال ہے کہ یہ کسی درخت کے گرد حفاظتی حصار ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ درخت مقدس تھا اور یہ عمارت اس مقدس درخت کا مندر تھی۔ شاید پیپل مندر۔ اس عمارت کے مختلف حصوں میں سفید چونے کے پتھر کے بنے ہوئے ایک بڑے مجسمے کے تین ٹکڑے ملے ہیں۔ ان کو جوڑیں تو مجسمہ مکمل ہوجاتا ہے۔ یہ ایک بیٹھا ہوا آدمی ہے۔ مجسمے کی مکمل اونچائی 1/2 16انچ ہے۔ اس داڑھی ہے مگر موچھیں منڈی ہوئی ہیں، بال اکٹھے کرکے سر کے پیچھے ان کا جوڑا بنایا ہوا ہے اور ایک باریک مینڈھی گوند کر سر کے ارد گرد باندھی گئی ہے۔ جو آگے ماتھے کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اگر مینڈھی نہیں تو کپڑے کی باریک پٹی ہے جو باندھی گئی ہے۔


 اس آدمی نے دونوں ہاتھ کولہوں پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک قدر اونچا ہے اور دوسرا نیچا۔ آنکھوں کے اندر غالباً موتی جڑے گئے تھے جو بعد میں گر گئے۔اس عمارت کی دیواریں موٹی، دروازہ عظیم الشان مگر رقبہ مختصر ہے۔   ۔موہنجودڑو میں ایک اور عمارت پر مندر ہونے کا شبہ کیا گیا ہے۔ اس کی بیرونی دیواریں 1/2 چار فٹ موٹی ہے اور آٹھ دس فٹ انچائی محفوظ ملی ہے۔ اس کے اندر کچھ اینٹوں کے چبوترے بنے ہوئے ہیں۔ یہ یا تو ان کے اوپر ستون تعمیر کیے گئے تھے۔ جن پر کوئی زبردست عمارت کھڑی تھی۔ یا پھر ان کا دوسرا کوئی مقصد بھی ہو سکتا ہے۔ عمارت کے وسط میں صحن ہے۔ جو 23   19 فٹ سائز کا ہے۔ دو چھوٹے صحن اس بڑے صحن کے شمال اور جنوب میں ہیں۔ جنوبی صحن میں ایک کنواں ہے۔ایک نہایت دلچسپ عمارت شہر کے شمال مغربی کونے پر ہے۔ اس میں آمنے سامنے دو قطاروں میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ جن کی تعداد سولہ ہے۔


 ان سولہ کمروں میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک اندرونی کمرہ ہے۔ گویا کل چوبیس کمرے ہیں۔ ہر بیرونی کمرے کے مقابلے میں اندرونی کمرے کا رقبہ دگنا ہے۔ سولہ کمروں میں سے ہر ایک میں ایک کونے میں پانی کا کھرا بنایا گیا ہے۔ دیوار میں پانی کی نکاسی کے سوراخ ہیں۔ سر مارٹیمر ویلر اور دوسرے ماہرین کا خیال ہے اندرونی کمرہ بیڈ روم تھ۔ لگتا ہے یہ غلاموں کی بیرکیں تھیں۔ پہلے اس عمارت پر مندر کا شبہ کیا گیا تھا مگر یہ بہت بڑی ہے۔ تو پھر ان بیرکوں کا غلاموں کی رہائش گاہ ہونا اور بھی یقینی ہوجاتا ہے۔ ان بیرکوں دیواریں بہت پتلی ہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہ ایک منزلہ تھیں۔ ان کے پاس ایک کنواں ہےشہر کا کچھ حصہ ابھی تک کھودا گیا۔ خاص طور پر بدھ اسٹوپہ جوں کا توں کھڑا ہے۔

 


سندھ کی مقامی زبان میں اسے موئن جو دڑو جبکہ اردو میں موہنجوداڑو کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’ مردو ں کا ٹیلا‘‘۔ موہنجودڑو کا قلعہ ایک ٹیلے پر واقع ہے، جو جنوب میں سطح زمین سے بیس فٹ اور شمال میںچالیس فٹ اُونچا ہے۔ آجکل دریائے سندھ کی ایک شاخ اس سے تین میل کے فاصلے پر بہتی ہے۔ جب یہ شہر آباد تھا تو اس وقت قلعے کی مشرقی دیوار کے پاس سے دریا کی ایک شاخ گزرتی تھی۔ مغربی جانب جو حفاظتی بند تھا، اس سے دریا ایک میل دور تھا ۔ یہ قلعہ ایک چبوترے پر بناہوا ہے، اس چبوترے کو مٹی اور کچی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔موہنجودڑو کو فن تعمیر اور انسانی ترقی کی ایک اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بربادی کے سینتیس سو برس بعد تک اس کی باقیات کا کوئی نشان نہیں ملا تھا، مگر انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں پہلی مرتبہ اس تہذیب کے کچھ بچے کھچے آثار اور نشانات ملے، جس کے بعد ماہرین نے اس قدیم شہر کے بارے میں حقائق کو باقاعدہ طور پر جمع کرنا شروع کیا۔1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپا کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال بعد اسی طرح کے آثار راکھال داس بینرجی کو موہنجودڑو کی سر زمین سے ملے، جس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کودی گئی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔اور  کھدائی کا کام شروع ہوا، 

بدھ، 3 ستمبر، 2025

موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے-پارٹ-1

  



 اگر آپ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں موئین جو دڑو سر فہرست رکھئے مو ہنجودڑوکا قلعہ اصل شہر کے اندر ایک منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا تھا، جس کے ارد گرد گلیاں ایک جال کی شکل میں پھیلی ہوئی ہیں -ہم جب موہنجودڑو جیسا عالی شان شہر دیکھتے ہیں جس کے مکانات پختہ، مضبوط اور دو تین منزلہ اونچے تھے، ساتھ ہی وہاں سڑکیں اور بازار قائم تھے، تو اس شہرخاموشاں کے باشندوں کی زندگی و رواج اور عادات سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ موہنجودڑو کے وہ آثار جو سب سے زیادہ گہرائی میں ہیں، سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں، جس کا مطلب یہی ہے کہ انسانی تہذیب کے سارے معاملات صدیوں پہلے عمل میں آچکے تھے اور یہ بنیادی ترقی میں یا تو بہت آگے نکل گئے ، یا پھر ختم ہوتے چلے گئے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ہم اپنے شہروں کو دیکھیں تو وہ اتنے منظم نظر نہیں آتے جتنا کہ صدیوں پرانی تہذیب کے شہر نظر آتے ہیں۔ اس پر ہمیں سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے-



خیا ل کیا جاتا ہے کہ موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے، اس شہر نے 2500 قبل مسیح سے 1700 قبل مسیح تک ترقی کی۔’یہ اپنے علاقے کا     ایک  مرکز ی شہر تھا جس کے سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور مذہبی روابط میسوپوٹیمیا اور مصر کے ساتھ تھے۔ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے شہروں کے مقابلے میں، جنھوں نے ایک ہی وقت میں ترقی کی تھی،  یہ تہذ یب  یافتہ شہر  1700 قبل مسیح میں ختم ہو گیا تھا، اور آج تک کسی کو قطعی طور پر یقین نہیں ہے کہ اس شہر کے باشندے یہاں سے کیوں نقل مکانی کر گئے یا وہ کہاں گئے۔آئے اب شہر کی سیر کرتےہیں  -اس شہر کی شمال مشرقی سمت میں   ایک طویل عمارت ہے۔ جو 230.78 فٹ ہے۔ اس کے وسط میں  وسیع عریض   صحن بھی ہے۔ اس میں تین برآمدے کھلتے ہیں۔ چاروں طرف بیرکوں کی طرح سے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ اکثر کمروں کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں۔ اس عمارت کو شاہی محل یا بڑے بچاری کا گھر سمجھنا مشکل ہے۔


 کیوں کہ اس کا طرز تعمیر رہائشی مکانوں جیسا نہیں ہے۔ اس لیے کھدائی کرنے والوں نے اسے کالج کا نام دیا تھا۔ جب تک مزید کھدائی سے اس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا کہ یہ عمارت کیا تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔اشنان گھر اور کالج کے جنوب میں ایک اور اجتماعی مقصد کی عمارت ملی ہے۔ جو بعد میں تبدیل کردی گئی ہے۔ لیکن ابتد میں یہ ایک بہت بڑا مربع شکل کا ہال تھا۔ جس کا ہر مربع 90 فٹ کا تھا۔ اس کے اندر اینٹوں سے بیٹھنے کی نشتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ پورے ہال میں گزرنے کے پانچ رستے ہیں۔ ہر دو رستوں کے درمیان میں نشتوں کی چار قطاریں ہیں۔ ہر قطار میں پانچ نشتیں ہیں۔ یا تو ان کے اوپر لکڑی کی خوبصورت نشتیں لگائی گئی تھیں یا انہی پر ہی سامعین بیٹھے تھے۔ یہ کل ایک سو نشتیں ہیں موہن جو وڑو میں ایک ایسی عمارت ملی ہے۔ جو اگرچہ رہائشی قسم کی ہے مگر بہت بڑی ہے۔ یہ شرقاً غرباً 250 فٹ لمبی ہے۔ یقیناً یہ ایک محل ہے۔ بیرونی دیوار 1/2 3 فٹ سے لے کر 7 فٹ تک موٹی ہے، اس میں دو بڑے صحن ہیں۔ جن کو ایک پانچ فٹ چوڑی غلام گردش آپس میں ملاتی ہے۔



 اس کے ایک سرے پر 8 فٹ چوڑا دروازہ ہے۔ گھر کے دو مختلف کمروں میں کنویں تھے۔ ایک کمرے میں ایک گول تنور تھا۔ اس کا قطر تین فٹ آٹھ انچ اور اونچائی 1/2 3 فٹ ہے، اس کی شکل موجودہ تنوروں سے جیسی ہے۔ محل میں چار زینے اوپر جاتے تھے۔شہر میں ایک اور پبلک بلڈنگ ملی ہے جو یا تو مسافروں کے ٹہرنے کے لیے سرائے تھی یا پھر ترتھ یاتریوں کے ٹہرنے کے یاتری استھان تھی۔ اصل عمارت ایک بہت بڑے ہال پر مشتمل ہے جو انگریزی کے حروف ایلL کی شکل کا ہے۔ اس ہال کی دیواروں کے باہر ارد گرد اینٹوں کے ستون بنے ملے ہیں، جن کے اوپر غالباً برآمدے کی چھت ڈالی گئی تھی۔ جو ہال کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی۔ جنوب مشرقی کونے پر ایک چار فٹ گیارہ انچ چوڑا دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔ بعد میں یہ دروازہ بند کرکے شمالی جانب مرکز میں دیوار کاٹ کر ایک دروازہ نکلا گیا تھا۔ اس کے قریب ایک رستہ پانی کے نکاس کا بنایا گیا تھا۔ 


جو زمین دوز سفالی پائپ سے ملحق تھا۔ ہال کے ایک کونے میں ایک فلیش سسٹم بیت الخلا بنایا گیا تھا۔ایک اور بڑی عمارت ملی ہے، 87 * 1/2 64 فٹ ہے۔ اس میں کچھ کمرے تو اندر صحن میں کھلتے ہیں جو رہائشی معلوم ہوتے ہیں اور کچھ باہر گلی میں کھلتے ہیں۔ ان کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں اور نہایت عمدگی سے بنائے گئے ہیں۔ باہر کا ایک بہت بڑا کمرہ ایسا ہے جس میں پانچ گول مخروطی گڑھے اینٹوں سے بنائے گئے۔ ان میں کڑاہ یا دوسرے برتن جو دھات کے ہوں گے ٹکائے جاتے ہوں گے۔ یا تو یہ کوئی ریستوان ہوگا یا رنگریز کا کارخانہ۔ایک اور اجتماعی نوعیت کی عمارت ملی ہے جو 52 * 40 فٹ ہے۔ اس کی دیواریں چار فٹ موٹی ہیں۔ اس کا دروازہ جنوب کی طرف سے ہے۔ جس میں دو متوازی سیڑھیاں اوپر چڑھتی ہیں۔ جو مرکز میں آ کر مل جاتی ہیں۔ دروازہ بہت بڑا ہے۔ اس عمارت کے اندر صحن میں اینٹوں کا ایک دائرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا اندونی قطر چار فٹ ہے۔

 جاری ہے


پیر، 1 ستمبر، 2025

زمین کی میخیں پہاڑ ہیں

 

  "'زمین کی میخیں پہاڑ ہیں  "پہاڑوں کا زمین کی سطح پر میخوں کی طرح گڑے ہونا!! مفسرین کرام کے مطابق جب زمین پیداکی گئی تو ابتداً لرزتی تھی ،ڈولتی تھی ،جھولتی تھی اور ادھر ادھر ہچکولے کھاتی تھی۔ایسی صورت میں انسان کا اس پر زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی پشت پر جابجا پہاڑوں کے طویل سلسلے میخوں کی طرح بنا دیے اور انہیں اس تناسب سے جابجا مقامات پر پیدا کیا جس سے زمین پر لرزش اور جھول بند ہو گئی اور وہ اس قابل بنا دی گئی کہ انسان اس پر اطمینان سے چل پھر سکے۔قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں ایک حیرت انگیز تحقیق ابھی حال ہی میں ماہرین ارضیات نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر موجود پہاڑوں کی ایک خاص اہمیت ہے اور یہ زمین کی سطح میں بالکل میخوں یعنی کیلوں کی طرح گھڑے ہوئے ہیں۔ جدید ماہرین ارضیات ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین کا نصف قطر 6,378 کلو میٹر ہے۔ زمین کی سب سے باہری سطح ٹھنڈی ہے لیکن اندرونی پرتین ا نتہائی گرم اور پگھلی ہوئی حالت میں ہیں۔


 اس پر مکانات وغیرہ تعمیر کر سکے اور سکون سے پوری زندگی بسر کر سکے۔دوسرے مقام پرارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَجَعَلْنَا فَی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بَھِمْ ص وَجَعَلْنَا فَیْھَا فِجَاجًا سُبُلًا  لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ)  اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈُھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں 'شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں''  (الانبیاء،21:31)  جہاں زندگی کا کوئی امکان موجود نہیں اور یہ کہ زمین کی سب سے بیرونی پرت جس پر ہم آباد ہیں ،نسبتاً انتہائی باریک ہے۔مختلف جگہوں پر اس کی موٹائی1 سے 70 کلومیٹر تک ہے چنانچہ یہ ممکن تھا کہ زمین کی یہ پرت یا تہہ (Crust) اپنے اوپر بوجھ کی وجہ سے کسی بھی وقت ڈگمگا جاتی۔ جسکی ایک وجہ''بل پڑنے کا عمل'' ہے جس کے نتیجے میں پہاڑ بنتے ہیں اور زمین کی سطح کو استحکام ملتا ہے۔ڈاکٹر فرینک پریس امریکہ کے ایک ماہر ارضیات ہیں اور یہ امریکی صدر جمی کارٹر کے مشیر بھی رہ چکے ہیں ۔انہوں نے ایک کتاب پہاڑوں کے اوپر تصنیف کی جو اب امریکی  ' یونیورسٹیز کے ارضیات کے نصاب میں شامل ہے ۔


 اس میں وہ لکھتے ہیں کہ کہ پہاڑ مثلث نما ہوتے ہیں ،زمین کے اندر گہرائی تک ان کی جڑیں ہوتی ہیں اور یہ کہ پہاڑ زمین کو استحکام فراہم کرتے ہیں۔ جغرافیائی ماہرین کے مطابق زمین کا اندرونی مرکز سطح زمین سے تقریبا ً6,378 کلومیٹر دور ہے جو کور (Core) کہلاتا ہے۔ اسکے اندرونی اور بیرونی حصے ہیں۔ اندرونی مرکزی حصہ ٹھوس لوہے کے ایک بڑے گیند کی شکل میں ہے۔ اس میں نکل اور لوہا ہے۔ اس کی بیر ونی سطح دھاتوں کے پگھلے ہوئے مادے پر مشتمل ہے جو زمین کی سطح سے نیچے گہرائی کی جانب تقریبا 2,900 کلومیٹر  دور واقع ہے ۔  اس کے اوپر والا حصہ (حفاظتی ڈھال یا غلاف) Mantale ہے جو زمین کی اوپر والی تہہ سے تقریباً 100 کلومیٹر نیچے سے شروع ہو کر 2,900 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔زمین کا زیادہ تر حصہ اسی پر مشتمل ہے لہٰذا اسی وجہ سے اس پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنا دیا گیا تاکہ زمین کاتوازن برقرار رہے اور یہ اپنی جگہ سے لڑھک نہ جائے 'قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کابار ہا مرتبہ تذکرہ فرمایا ہے۔ 


مثلاً...(اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا ۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا)'' کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخیں ''  ( النبا، 78: 6-7)قرآن یہ نہیں کہتا کہ پہاڑوں کو میخوں کی طرح زمین میں اوپر سے گاڑا گیا ہے بلکہ یہ کہ پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنایا گیا ہے۔ "اوتادا"ً کا مطلب خیمے گاڑنے والی میخیں ہی ہوتا ہے ۔آج جدید ارضیات بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ پہاڑوں کی جڑیں زمین میں گہرائی تک ہوتی ہیں ۔یہ بات انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں سامنے آئی تھی کہ پہاڑ کا بیش تر حصہ زمین کے اندر ہوتا ہے اور صرف تھوڑا سا حصہ ہمیں نظر آتا ہے ،بالکل اسی طرح جیسے زمین میں گڑی ہوئی میخ کا بیش تر حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے یا جس طرح ''آئس برگ'' کی صرف چوٹی ہمیں نظر آتی ہے جبکہ نوے فیصد حصہ پانی کے اندر ہوتا ہے ۔انڈین پلیٹ بحر ہند کے کنارے واقع ممالک خاص طور پر انڈیا،سری لنکا ،اورتھا ئی لینڈ سے انڈونیشیا اورملایا تک پھیلی ہوئی ہے۔  ماہرین ارضیات کے مطابق پہاڑ ٹیکٹونز پلیٹوں کے کناروں پر پائے جاتے ہیں یہ زمین کی بیرونی سطح کو جمانے اور مستحکم بنانے میں ممدومعاون ہیں۔


اتوار، 31 اگست، 2025

دریاؤں کے کنارے آباد قدیم تہزیبیں

 


 یہ کہانی آج کی نہیں بلکہ  روز ازل  سے انسان نے دریاؤ ں کے کنارے   رہنے اور بسنے کا رواج ڈالا مصر نے سمندر کی تہہ میں ایک قدیم ڈوبی ہوئی بستی کے آثار  برآمد کئے ہیں۔ ان کھنڈرات میں  عمارتوں کے حصے، قیمتی نوادرات اور ایک قدیم بندرگاہ شامل ہے، جن کی تاریخ ۲؍ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جا رہی ہے۔مصری حکام کے مطابق یہ مقام ابو قیر بے کے سمندر  میں واقع ہے اور ممکنہ طور پر قدیم شہر’’کینوپس‘‘ کا ہی حصہ ہے جوبطلیموسی شاہی  دور کا میں ایک اہم مرکز تھا۔ اس خاندان نے تقریباً۳۰۰؍ سال  مصر پر حکومت کی، جبکہ بعد میں رومی سلطنت نے یہاں تقریباً ۶۰۰؍  برس حکمرانی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل زلزلوں اور سمندری سطح بلند ہونے کی وجہ سے یہ شہر اور اس کے قریب کا بندرگاہی شہر’’ہیرکلیون‘‘ سمندر میں ڈوب گیا۔ اس کے بعد سے یہ علاقہ قدیم آثار کا ایک خزانہ بن چکا ہے۔جمعرات کو کرینوں کے ذریعے سمندر کی تہہ سے مجسمے نکالے گئے۔اس کامیابی پر غوطہ خور جو انہیں نکالنے میں شامل تھے، ساحل پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے۔


 مصری وزیر سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے کہا ہے کہ ’’سمندر کے نیچے اب بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے، لیکن ہم صرف مخصوص اور قیمتی اشیاء کو سخت معیار کے تحت نکال سکتے ہیں۔‘‘ یہ دریافت نہ صرف مصر کی سیاحتی صنعت کیلئےایک بڑی خوشخبری ہے بلکہ عالمی ماہرین آثارِ قدیمہ کیلئے بھی ایک انمول تحفہ سمجھی جا رہی ہے۔مصر نے سمندر کی تہہ میں ایک قدیم ڈوبی ہوئی بستی کے آثار  برآمد کئے ہیں۔ ان کھنڈرات میں عمارتوں کے حصے، قیمتی نوادرات اور ایک قدیم بندرگاہ شامل ہے، جن کی تاریخ ۲؍ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جا رہی ہے۔مصری حکام کے مطابق یہ مقام ابو قیر بے کے سمندر  میں واقع ہے اور ممکنہ طور پر قدیم شہر’’کینوپس‘‘ کا ہی حصہ ہے جوبطلیموسی شاہی  دور کا میں ایک اہم مرکز تھا۔ اس خاندان نے تقریباً۳۰۰؍ سال  مصر پر حکومت کی، جبکہ بعد میں رومی سلطنت نے یہاں تقریباً ۶۰۰؍  برس حکمرانی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل زلزلوں اور سمندری سطح بلند ہونے کی وجہ سے یہ شہر اور اس کے قریب کا بندرگاہی شہر’’ہیرکلیون‘‘ سمندر میں ڈوب گیا۔


 اس کے بعد سے یہ علاقہ قدیم آثار کا ایک خزانہ بن چکا ہے۔جمعرات کو کرینوں کے ذریعے سمندر کی تہہ سے مجسمے نکالے گئے۔اس کامیابی پر غوطہ خور جو انہیں نکالنے میں شامل تھے، ساحل پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے۔مصری وزیر سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے کہا ہے کہ ’’سمندر کے نیچے اب بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے، لیکن ہم صرف مخصوص اور قیمتی اشیاء کو سخت معیار کے تحت نکال سکتے ہیں۔‘‘ یہ دریافت نہ صرف مصر کی سیاحتی صنعت کیلئےایک بڑی خوشخبری ہے بلکہ عالمی ماہرین آثارِ قدیمہ کیلئے بھی ایک انمول تحفہ سمجھی جا رہی ہے- اب زرا ایک نظر دریائے سندھ کے کناروں پر آباد  قدیم تہذیبوں پر نظر ڈالتے ہیں - وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز  موئن جو دڑو بھی تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی، وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے۔یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ختم ہو گیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اسے قدیم مصر  کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔



 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ عظیم تہذیب کی دریافت-1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال کے بعد اسی طرح کے آثار راکھال داس بینرجی کو موہن جودڑو کی سر زمین میں دستیاب ہوئے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔ چنانچہ رائے بہادر دیا رام سہنی، ڈائریکٹر ارنسٹ میکے اور محکمہ آثاریات کے دیگر احکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا تاہم کھدائی کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ وادی سندھ کی تہذیب کی بے نقابی اور تشریح شاید بیسویں صدی کا عظیم ترین عصریاتی واقعہ ہے۔ کیوں کہ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہن جو دڑو کی کھدائی سے پہلے سمجھا ہی نہ جا سکا

ہفتہ، 23 اگست، 2025

اب کراچی والوں کا آخری سہارا سپریم کورٹ ہے

 




   فرنگی  اس خطے میں اپنے اغراض  و مقاصد لے کر آئے تھے لیکن  جاتے ہوئے وہ ہم کو ایسے پائیدار اثاثے دے گئے کہ ہم اپنی آزادی کے  بعد اسی برس ہونے کو آئے  ان کے مقابلے کا  تو کیا اس معیار کے پانچویں درجے کا بھی کوئ اثاثہ نہیں بنا سکے   ان کا بنایا ہوا ڈرینج  سسٹم آج بھی صحیح و سالم حالت میں موجود ہے اور کام کر رہا ہے  -ٹرانسپورٹ  کا کتنا بہترین نظام ہوا کرتا تھا  جو کراچی میں تعینات پولیس مافیا نے  برباد کر کے کھڈے لائن لگا دیا  ہے اور اب   کراچی والوں کا آخری سہارا سپریم کورٹ ہے، وطن عزیز میں کہاں کیا مسئلہ ہے اور اسے کیسے حل کیا جاسکتا ہے اس پر غورو خوض ہورہا ہے، بتدریج یہ عمل تیزی اور مزید شفافیت کی جانب مائل ہے۔اسی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور ریلوے کی زمینوں سے قبضہ چھڑانے کا حکم جاری کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے تمام علاقوں سے ریلوے لائنز کلیئر کرائی، کے ایم سی اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے بوگیاں تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ ریلوے کی مدد سے روٹ کا تعین کرے گی ۔اعلیٰ عدالت نے سیاحتی مقاصد کیلئے صدر سے اولڈ سٹی ایریا تک ٹرام لائن کی بحالی کا بھی حکم دیا۔ گزشتہ دنوں تجاوزات کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے جن پر برق رفتاری سے کام کیا جارہا ہے، اس فیصلے کے نتیجے میں آج ہم کراچی کی ان عمارتوں کو دیکھنے کے قابل ہوئے ہیں جنہیں تجاوزات نے ہم سے چھپا رکھا تھا۔


اس کے بعد عدالت کی جانب سے دوسرا بڑا حکم سرکلر ریلوے کے حوالے سے آیا جس نے ایک جانب عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی تو دوسری جانب تشویش۔خوشی اس لئے کہ سفری سہولیات کی عدم دستیابی اس شہر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، سرکلر ریلوے کی بحالی اس مسئلے کا سب سے احسن حل ہے جبکہ تشویش اس لئے کہ اس حل تک پہنچنے کیلئے بے شمار تجاوزات راہ میں حائل ہوں گی جنہیں دور کرنا یقیناً دشوار گزار مرحلہ ہے،گو اس وقت شہر میں گرین لائن منصوبے کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور اس سے مخصوص روٹ کے مسافروں کو کافی سہولت ہوجائے گی لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر یہ انتہائی ناکافی ہے۔سپریم کورٹ نے سرکلر ریلوے کی بحالی کےساتھ ساتھ ریلوے کی زمین پر سے تجاوزات ختم کرانے کا حکم بھی دیا ہے جس کے بعد سرکلر ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کیلئے آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔


ان اطلاعات کے ساتھ ہی کراچی کے مختلف علاقوں میں ریلوے انتظامیہ کی جانب سے سرکلر ریلوے کی زمین لیز پر دیئے جانے کی خبریں سامنے آنے لگیں،شنیدن ہے کہ ریلوے حکام نے سرکلر ریلوے لائن پر قائم تجاوزات کی لیز سے متعلق ڈپٹی کمشنر ساﺅتھ اور متعلقہ محکمے کو خط لکھا ہے جس کا متن کچھ یوں ہے کہ سرکلر ریلوے کی زمین پٹرول پمپ، پارکنگ اور گودام کیلئے لیز پر دی گئی گی ،لیز پر دی گئی زمینیں ضلع وسطی، جنوبی سمیت دیگر اضلاع میں واقع ہیں جن میں وزیر مینشن، گلبائی، لیاقت آباد اور پاپوش نگر کے علاقے قابل ذکر ہیں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ریلوے ٹریک پر جگہ ،جگہ تجاوزات ، جھونپڑ یا ں اور غیر قانونی تعمیرات ہیں جنہیں واگزار کرنے کیلئے حکومت کو 21 کلو میٹر ٹریک سے تجاوزات کا خاتمہ کرانا ہوگا یعنی ضلع شرقی میں 20 کلو میٹر ٹریک میں سے 11 کلو میٹر پر ،ضلع وسطی میں 7 میں سے 6 کلو میٹر پر ،ضلع غربی میں ساڑھے11 میں سے ڈھائی کلو میٹر ٹریک پر قبضہ ہے، ضلع جنوبی کے ساڑھے چارمیں سے ڈیڑھ کلو میٹر ٹریک پر تجاوزات قائم ہیں۔



یاد رہے کہ 1999ءمیں بند ہونے والی سرکلر ریلوے کے ٹریک پر 2005 ءتک صرف چند مقامات پر ہی تجاوزات تھیں ،بعد ازاں قبضہ مافیا کی جانب سے لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، ناظم آباداور گلستان جوہر سے گزرنے والے ٹریک پر تجاوزات قائم کرادی گئیں،جن میں فرنیچر، غیر قانونی دکانیں، گودام مختلف کارخانے، مویشی منڈیاں، رکشہ اسٹینڈ، گاڑیوں کے ورکشاپ، کباڑ بازار اور رہائشی کالونیاں شامل ہیں۔ گلشن اقبال 13 ڈی، بھنگوریا گوٹھ اور پاپوش میں تو ریلوے ٹریک لاپتہ ہی ہو گیا ہے اور کئی کلومیٹر علاقے پر اب کاروباری مراکز قائم ہو چکے ہیں۔نارتھ ناظم آباد ٹریک پر کانٹے والے ملازم کے کوارٹرپر قبضہ کر کے تندور قائم کردیا گیا بعض ریلوے ٹریکس پر سگنلز آج بھی آویزاں ہیںجبکہ نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلشن اقبال ریلوے ٹریکس پر سے پھاٹک غائب ہوچکے ہیں، مختلف علاقوں میں ٹریکس ختم کرکے کچی سڑکیں بنائی جاچکی ہیں جبکہ ریلوے ٹریک کو کچرا کنڈیوں کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے،


 بعض ٹریکس جرائم پیشہ اور منشیات کے عادی افراد کی آماجگاہیں بن چکے ہیں۔یاد رہے کہ حکومت سندھ کو سرکلر ریلوے منصوبے کیلئے 360 ایکڑ زمین درکار ہے، جس میں سے 70 ایکڑ پر قبضہ ہے جہاں 4500کے قریب مکانات اور 3000دیگر تعمیرات موجود ہیں۔سرکلر ریلوے کا منصوبہ 1969 ءمیں پاکستان ریلوے کی جانب سے شروع کیا گیا تھاجس کے تحت ڈرگ روڈ سے سٹی اسٹیشن تک خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں ، اس اس سہولت سے سالانہ 60لاکھ افراد مستفید ہوا کرتے تھے ۔سرکلر ریلوے کی افادیت کے پیش نظر 70سے 80 کی دہائی کے درمیان کراچی سرکلر ریلوے کے تحت روزانہ 24 ٹرینیں لوکل لوپ ٹریک اور 80 مین ٹریک پر چلائی گئیں۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہوکر لیاقت آباد سے گزر کر سٹی اسٹیشن کراچی پر ختم ہوتی تھی جبکہ مرکزی ریلوے لائن پر بھی کراچی سٹی اسٹیشن سے لانڈھی اور کراچی سٹی اسٹیشن سے ملیر چھاونی تک ٹرینیں چلاکرتی تھیں

جمعہ، 22 اگست، 2025

کراچی میں پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی

 


       21  اگست  2025  ءکی کراچی سے خبر ہے -   کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 34 افراد زخمی  2 لوگ جاں بحق ہوگئے ہیں ۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے گودام میں دھماکے سے زخمیوں کی تعداد 34 ہوگئی، جناح اسپتال میں 20 جبکہ سول اسپتال میں 14 زخمی لائے جا چکے ہیں، جناح اسپتال میں 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ایم اے جناح روڈ کراچی میں آتشبازی کے گودام میں زوردار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی ، ۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے سے گرد و نواح کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور آگ لگ گئی تھی، جس پر چند گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد قابو پالیا گیا، گودام میں لگی آگ بھجانے میں 10 فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا،  پٹاخوں کے گودام میں دھماکے اور آگ لگنے کے بعد سیاہ دھواں پھیل گیا تھا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے گودام میں دھماکے  کے بعد جناح اسپتال میں 20 جبکہ سول اسپتال میں 14 زخمی لائے جا چکے ہیں، جناح اسپتال میں 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 



پولیس کا کہنا ہے کہ گودام کے مالکان دو بھائی ہیں، دھماکے میں زخمی ہوئے ایک بھائی کا ابتدائی بیان لیا گیا ہے، دونوں کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں ایسے گوداموں کی اجازت نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اس سے قبل  سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ایسٹ فرخ رضا کا کہنا تھا کہ آتش بازی کے گودام میں دھماکا ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ہوا ہے، ایسٹ پولیس پریڈی پولیس کو ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا کا کہنا تھا کہ امدادی رضا کاروں اور فائر بریگیڈ کے عملے کو سہولت دی جا رہی ہے۔کراچی کے علاقے صدر میں ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں زور دار دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔


دھماکا تاج کمپلیکس کے قریب الآمنہ پلازہ کی بیسمنٹ میں قائم پٹاخوں کے گودام میں سہ پہر کے وقت ہوا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ قریبی اسکول اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ ایک نوجوان کی لاش ملبے سے نکالی گئی۔جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت اسد شاہ کے نام سے ہوئی، جو پٹیل پاڑہ کا رہائشی اور مدرسے کا طالبعلم تھا۔ اسد کے چچا جمال شاہ کے مطابق، وہ اپنے بھائی افسر شاہ سے ملاقات کے لیے عمارت میں آیا تھا کہ دھماکے کی زد میں آ گیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق زخمیوں کو جناح اسپتال اور سول اسپتال منتقل کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے سے عمارت کے ستون اور دیواریں متاثر ہوئیں، سیمنٹ کے بلاکس وہاں کھڑی گاڑیوں پر جاگرے، جبکہ قریبی دکانوں، اسکول اور رہائشی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔


فائربریگیڈ کی بارہ گاڑیوں، دو باؤزرز اور ایک اسنارکل کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا اور متاثرہ عمارت کی چھت پر پھنسے افراد کو بحفاظت اتارا گیا۔گودام میں دھماکا خیز مواد موجود تھا: سی ٹی ڈی-چیف فائرآفیسر ہمایوں نے بتایا کہ تاج میڈیکل کمپلیکس کے قریب ’ الآمنہ پلازہ‘ کے تہہ خانے میں سپر فائر ورکس کے نام سے گودام قائم تھا، جہاں آتشبازی کے سامان کی تیاری کے لیے خام مال ذخیرہ کیا گیا تھا جبکہ سی ٹی ڈی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے انکشاف کیا کہ گودام میں صرف آتشبازی کا نہیں بلکہ دھماکا خیز مواد بھی موجود تھا۔انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ لوگ اسے آتشبازی کا سامان کہتے ہیں مگر اس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔ قانون کے مطابق ایک دکان میں 50 کلوسے زیادہ مواد نہیں رکھاجاسکتا۔ انہوں نے رہائشی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو نہایت خطرناک قرار دیا۔واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں دھماکے کے فوری بعد آگ کے شعلے بلند ہوتے اور شہریوں کو بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

جمعرات، 21 اگست، 2025

دریا اپنا راستہ کبھی بھی کسی کو نہیں دیتا

   

دریا اپنا راستہ کبھی بھی کسی کو نہیں دیتا -در یا کافی دنوں سے خشک پڑا تھا  جہاں ناشتہ کر رہے تھے وہ حادثہ کے مقام سے تھوڑا دور تھا اور اس وقت پانی کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔پہاڑوں پر 2 دن سے مسلسل بارش ہو رہی تھی جسکی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور دیکھتے دیکھتے پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا اور اچانک پانی کو آتے دیکھ کر یہ لوگ  خوشی کے مارے دیوانہ وار پاگلوں کی طرح وہاں دور آگے دوڑ کر گئے تاکہ ویڈیوز اور تصاویر بنا سکیں اور کچھ لوگ پانی کے قریب بھاگ کر گئے اور وہاں سیلفیاں بناتے ہوئے فوٹوگرافی کرنا شروع کر دی جبکہ ان کے کچھ رشتے دار بیٹھے رہے اور منع کرتے رہے کہ زیادہ اندر مت جائیں لیکن یہ گروہ  پانی کے ساتھ سیلفیاں لیتے رہے بلکہ بیٹھے رہ جانے والے باقی افراد کو بھی بلاتے رہے کہ آ جائیں اور پانی کو دیکھیں لیکن باقی رشتہ دار بیٹھے رہے اور انکو آوازیں دے کر بلاتے رہے کہ واپس آ جائیں اور انکو چیخ چیخ کر کہا کہ پیچھے سے پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا ہے نکلو فوری لیکن اس بدنصیب خاندان کے چند افراد کا سیلفی جنون ختم نہیں ہوا اور پھر پانی کا بہت بڑا ریلا آ گیا اور یہ لوگ خوفزدہ ہو کر کنارے کی طرف نہیں بھاگے بلکہ ڈر کے مارے اس ٹیلے پر چڑھ گئے اور پھر جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔



  تصاویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن بدلتے رہے لیکن پانی کا بہاؤ اور لیول بڑھتا گیا اور لوگ دریا کنارے ویڈیوز بناتے رہے لیکن مدد کے لئے کوئی نہیں گیا نہ ہوٹل والے اور نہ مقامی انتظامیہ آگے آئی اور پھر دردناک سانحہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہو گیا-پختونخوا میں دریائے سوات میں ایک المناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بدقسمت خاندان دریائے سوات کے کنارے تفریح کے لیے ڈسکہ، سیالکوٹ سے آیا تھا۔ خاندان کے لیے خوشی کے یہ لمحات قیامت میں تبدیل ہو گئے۔بتایا جاتا ہے کہ مینگورہ بائی پاس کے قریب اچانک پانی کا ریلا آنے سے 16 افراد دریا میں بہہ گئے۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں آج کل موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔ مختلف اطلاعات کے مطابق دریائے سوات میں سات مقامات پر ڈوبنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔سوات بائی پاس پر بچوں، خواتین اور مردوں سمیت 19 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے،


ان میں ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 11 افراد بھی شامل ہیں جن میں سے صرف تین کو بچایا جاسکا، ڈوبنے والے افراد کی ہولناک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، بدقسمت خاندان دریا کی بپھری ہوئی موجوں میں گھرا رہا اور مدد کا انتظار کرتا رہا۔ دریا کے کنارے پر موجود عام لوگوں نے اپنے طور پر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن دریا کا پانی بہت تیز تھا، جس کی وجہ سے ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔دوسری جانب وہ تمام لوگ عام شہری تھے جنھیں اس قسم کی ہنگامی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی تربیت حاصل تھی اور نہ ہی ان کے پاس حفاظتی سامان اور دیگر آلات موجود تھے۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری اداروں کو اطلاعات بھی پہنچائی گئیں لیکن بروقت امداد نہ پہنچ سکی۔صوبائی ریسکیو ادارے دریا میں گھر ہوئے افراد کو بچانے میں ناکام رہے بلکہ موقع پر ہی نہ پہنچ سکے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے غفلت برتنے پر2 اسسٹنٹ کمشنرز سمیت 4 افسران کو معطل کردیا ہے۔


اس المناک اور افسوس ناک سانحے پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے افسوس کا اظہار کیا ہے، واقعات کے مطابق ڈسکہ، سیالکوٹ کا بدقسمت خاندان گزشتہ رات سوات گیا، اس خاندان کے ساتھ کوسٹر میںڈسکہ کے ہی 35 افراد سوار تھے، یہ سب آپس میں رشتے دار اور تعلق والے تھے۔جمعے کو سوات بائی پاس کے مقام پر ناشتہ کے لیے رکے اس دوران سیلابی ریلہ آگیا تو خاندان نے فوری طور پر اونچے ٹیلے پر پناہ لی، ان کے ساتھ مردان اور کراچی کے تین افراد بھی تھے، رفتہ رفتہ پانی کا بہاؤ تیز اور اونچا ہوتا گیا اور ایک ایک کرکے تمام 19افراد دریا میں بہہ گئے، مقامی افراد کے مطابق انھوں نے فوراً ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی مگر امدادی ٹیمیں کافی تاخیر سے پہنچیں، تب تک لوگ دریا میں بہہ چکے تھے۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ڈوبنے والی فیملیز دریا کے پاٹ میں بجری کے ایک ٹیلے پر ناشتہ کر رہی تھیں، یہاں بریک فاسٹ پوائنٹ غیرقانونی طور پر بنایا گیا تھا۔



 اچانک دریا میں پانی کی سطح بلند ہوئی اور وہ ٹیلہ چاروں طرف سے پانی میں گھِر گیا، وہ لوگ دریا کے کنارے تک نہیں پہنچ سکے، مرد ،خواتین اور بچے چیختے رہے اور سامنے موجود لوگوں سے مدد کی اپیل کرتے رہیں لیکن کسی قسم کے امداد فراہم نہیں ہوسکی اور تمام افراد پانی کے ریلے میں بہہ گئے ، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے جوان کافی دیر بعد نمودار ہو گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔سانحہ سوات نے پورے ملک کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔ اس دردناک سانحے کے وڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ جسے دیکھ کر ہر دردِدل رکھنے والا شخص دکھی ہو گیا ہے۔ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں سیر وتفریح کے لیے جانا ایک معمول کی بات ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں حکومتوں نے کبھی بنیادی انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی ریسکیو اداروں کے اہلکاروں اور افسروں کی جوابدہی کا کوئی میکنزم بنایا ہے۔ سانحہ سوات کی وڈیو کلپس دیکھ کر یہ احساس زیادہ گہرا ہوتا ہے کہ بدقسمت خاندان کو بآسانی بچایا جاسکتا تھا۔ اگر تربیت یافتہ عملہ ہوتا اور ان کے پاس ریسکیو کا سامان اور آلات ہوتے تو ٹیلے پر موجود لوگوں کو بچانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر