مستند روائت ہے کہ مسجد کوفہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے کی تھی اور حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے بعد اس کی تعمیر نو کی. اس مسجد میں ایک محراب ہے جسے محرابِ امام علی علیہ السلام کہتے ہیں، جہاں امام علی علیہ السلام نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی جگہ انہیں شہید کیا گیا. یہ مسجد مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور اس کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں. مسجد کوفہ کی تعمیر میں مختلف ادوار میں اضافہ اور بہتری کی گئی، جس کی وجہ سے اس کی موجودہ شکل کئی صدیوں کی تعمیرات کا نتیجہ ہے۔ اس مسجد میں کئی اہم تاریخی واقعات پیش آئے اور اس نے اسلامی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے.مسجد کوفہ کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ مسجد مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے-
مسجد کوفہ کے صحن میں ایک بڑا سا پانی کا حوض ہے-( روائت ہے کہ اس حوض کے مقام پر حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا روٹیاں بنانے کا تندور تھا )اس کے ساتھ ہی وضو کی جگہ بھی ہے اور پینے کے پانی کے لئے کولر ہوتے ہیں، مسجد کوفہ میں انبیاء کرام اور فرشتوں کے مصلے بھی موجود ہیں، وہ مقام بھی موجود ہے جہاں رسولِ کریمؐ نے معراج پہ جاتے ہوئے یہاں ٹہر کر عبادت کی، حضرت آدم و حوا علیہ السلام کا مقام اور مولائے کائنات علی ابن ابی طالبؑ کا محراب اور مقتل گاہ ، اور جہاں آپ بیٹھ کر فیصلے کیا کرتے تھے ساتھ ہی حضرت مسلم بن عقیلؑ اور امیر مختار ثقفیؓ کی قبور بھی موجود ہیں۔مسجد کوفہ کے صحن میں موجود یہ حوض وہ مقام ہے جہاں سے طوفانِ نوحؑ کے وقت پانی ابلا تھا اور پھر پوری دنیا کو کو سیلاب میں ڈبو دیا تھا ۔ مسجد کوفہ سے نکلتے ہی قریب مولا علیؑ کا گھر ہے اور کچھ فاصلہ پہ صحابی جلیل القدر حضرت میثمِ تمارؓ آرام پذیر ہیں۔
ابتداء اسلام میں حضرت سلمان فارسی رضوان الله تعالى عليه کی تجویز پر اس مسجد کی تعمیر کا دوبارہ اہتمام کیاگیا۔حضرت علی (ع) نے بارہا اس مسجد میں نماز کے لئے قیام فرمایا، اس کے منبر پر خطبے دیئے، بعض امور میں فیصلے کئے اور نظام حکومت کا انتظام و اہتمام کیا۔جغرافیائی طور پر مسجد کوفہ،نجف الاشرف کے صوبے میں واقع ہے، کوفہ مخصوصا اپنی معتدل آب و ہوا، اچھی اور زرخیز زمین کی وجہ سے زیادہ ممتاز ہے۔ دریائے فرات اس کے قریب سے گزرتے ہیں۔مسجد کوفہ میں صحابی حضرت میثم تماررضوان الله تعالى عليه، مسلم بن عقیل عليه السلام، ہانی بن عروہ رضوان الله تعالى عليه، اور مختار ثقفی رضوان الله تعالى عليه، کے مراقد واقع ہیں۔ اس کے علاوہ اس مسجدمین بہت سارے انبیاء اوصیاء کرام علیھم السلام کے آرام گاہ بھی ہیں ۔یہیں آئمہِ اہل بیتؑ کے مقامات بھی ہیں جہاں یہ خدا کی برگزہدہ ہستیاں خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتی رہیں، مقامِ امام جعفر صادق، مقامِ امام زین العابدینؑ اور مقام امام زمانہؑ موجود ہیں، اس مسجد میں عبادت کرنے کے لئے خاص اعمال بجالائے جاتے ہیں۔ امام زین العابدینؑ سے روایت ہے کہ مسجد سہلہ میں دو رکعت نماز ادا کرنے والے کہ زندگی میں خداوندکریم دو سال کا اضافہ فرما دیتا ہے، اور کوئی پریشان حال شخص اگر اس مسجد میں دو رکعت ادا کرے تو رب تعالیٰ اس کی پریشانی دور فرما دیتا ہے
مسجد کی عمارت:مسجد کوفہ کی لمبائی 110 میٹر اور چوڑائی 101 میٹر جبکہ اس کا رقبہ 11110 میٹر (اور بقولے 11162 میٹر) مربع ہے اور اس کو 10 میٹر اونچی دیواروں سے محفوظ بنائی گئی ہے۔ مسجد کی کھلی فضا کا رقبہ 5642 میٹر مربع اور اس کے شبستانوں کا رقبہ 5520 میٹر مربع ہے۔ اس مسجد کے ستونوں کی تعداد 187 اور میناروں کی تعداد 4 ہے جن کی اونچائی 30 میٹر ہے۔مسجد کوفہ کے دروازے 5 ہیں؛ جو "باب الحجہ (باب الرئیسی)، باب الثعبان، باب الرحمہ، باب مسلم ابن عقیل اور باب ہانی بن عروہ" ہے۔ مسجد کوفہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلہ پہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جس کا نام "مسجد سہلہ" ہے۔مسجد سہلہ مسجد کوفہ کی طرح اپنے اندر بہت سے راز دفن کئیے ہوئے ہے، دراصل یہ مسجد بعد میں بنی اس سے پہلے یہاں مختلف انبیاء کرامؑ کے گھر تھے،۔ امام باقرؑ سے روایت ہے کہ خدا نے کوئی ایسا نبیؑ مبعوث نہیں فرمایا جس نے اس مسجد میں عبادت نہ کی ہوامامِ زمانہ امام مہدیؑ جب خانہ کعبہ میں ظہور فرمائیں گے تواس کے بعد وہ کوفہ کو اپنا دارلخلافہ بنائیں گے