جمعرات، 17 اگست، 2023

امام حسین ع سے ہندو شعرا و مشاہیرکی عقیدت

 

 

جھانسی کی رانی لکشمی بائی کو امام حسین سے غیر معمولی عقیدت تھی۔ پروفیسر رفیعہ شبنم نے اپنی کتابہندوستان میں شیعیت اور عزاداری میں جھانسی کی رانی کے تعلق سے لکھا ہے کہ وہ یوم عاشورہ بڑے خلوص وعقیدت کے ساتھ مجلس عزا برپا کرتی تھی۔ مہارانی لکشمی بائی کی قائم کردہ مجلس اب تک جھانسی پولیس کوتوالی میں منعقد کی جاتی ہے جہاں پہلے اس رانی کا قلعہ تھا جس نے امام حسین علیہ السلام سے حق پر ڈٹے رہنے کا سبق حاصل کیا تھا ۔ منشی جوالہ پرشاد اختر لکھتے ہیں کہصوبہ اودھ میں امام حسین کی فوج کے سپہ سالار اور علمبردار عباس کے نام کا پہلا علم اودھ کی سرزمین سے اٹھا جس کے اٹھانے کا سہرا مغلیہ فوج کے ایک راجپوت سردار دھرم سنگھ کے سر ہے۔ اودھ سلطنت میں لکھنؤ کی عزاداری کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ محرم کی مجلسوں اور جلوسوں میں ہندوں کی شرکت و عقیدت ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا ایک ایسا نمونہ ہے جس نے قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لکھنؤ کے ہندوؤں کی امام حسین سے عقیدت

مسز میر حسن علی نے لکھنؤ کی عزاداری کے سلسلہ میں اہل ہنود کی امام حسین سے غیر معمولی عقیدت و احترام کا ذکر اپنی ایک تحریر میں کرتی ہوئی لکھتی ہیں کہ لکھنؤ کا مشہور روضہ کاظمین ایک ایسے ہی ہندو عقیدت مند جگن ناتھ اگروال نے تعمیر کرایا تھا۔ اسی طرح راجا جھالال کا عزاخانہ جو آج بھی لکھنؤ کے ٹھاکر گنج محلہ میں واقع ہے جسے نواب آصف الدولہ کے دور میں راجا جھالال نے تعمیر کرایا تھا۔ راجا بلاس رائے اور راجا ٹکیل رائے نے بھی عزاخانے تعمیر کرائے اور ان میں علم اور تعزیے رکھے۔ گوالیار کے ہندومہاراجاں کی امام حسین سے عقیدت خصوصی طور پر قابل ذکر ہے جو ہر سال ایام عزا کا اہتمام بڑی شان و شوکت سے کرتے تھے۔مدھیہ پردیش کے علاقہ گونڈوانہ کے ضلع بیتول میں بلگرام خصوصًا بھاریہ نامی قصبہ میں ہریجن اور دیگر ہندو حضرات امام حسین سے بے پناہ عقیدت و محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے اہم اور ضروری کاموں میں کامیابی کے لیے حسین بابا کا تعزیہ اٹھانے کی منت مانتے ہیں۔

عصر حاضر کے نامور صحافی جمناداس اختر نے ہندوں کی عزاداری کے بیان میں حسینی برہمنوں میں عزاداری کی تاریخی روایات کی طرف نشان دہی کرتے ہوئے لکھاہے۔ حسینی برہمنوں میں دت اور موہیال ذات سے تعلق رکھنے والے ہندو عقیدت مندوں کا تعلق زیادہ تر صوبہ پنجاب سے ہے حسینی برہمنوں کے بزرگ راہیب نے نصرت امام میں اپنے بیٹوں کو قربان کر دیا تھا۔ راہیب کو سلطان کا خطاب بخشا گیا تھا اسی مناسبت سے انہیں حسینی برہمن یا حسینی پنڈت بھی کہا جاتا ہے وہ امام حسین کے تقدس و احترام کے بڑے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہمیراتعلق موہیالیوں کی دت ذات سے ہے اور ہمیں حسینی برہمن کہا جاتا ہے۔ عاشورہ کے روز ہم لوگ سو گ مناتے ہیں۔ کم از کم میرے خاندان میں اس دن کھانا نہیں کھایا جاتا ہے۔ سری نگر کے امام باڑے میں حضرت امام حسین کا موئے مبارک موجود ہے جو کابل سے لایا گیا ہے۔ ایک حسینی برہمن اسے سو سال قبل کابل کے امام باڑے سے لایا تھا۔

کشمیر سے کنیا کماری تک پھیلے ہوئے ہندوستان میں ماہ محرم آتے ہی یہاں کے مختلف شہروں، قصبوں، پہاڑی بستیوں اور دیہاتوں میں عزاداری سیدالشہدا کی مجالس اور جلوس عزا میں مشترکہ تہذیب کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جس میں ہندو عقیدت مند مسلمان عقیدت مندوں کے ساتھ شریک عزا ہوتے ہیں۔ کہیں ہندو حضرات عزاداروں کے لیے پانی و شربت کی سبیلیں لگاتے ہیں تو کہیں عزاخانوں میں جا کر اپنی عقیدتوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں اور اپنی منتیں بڑھاتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کہ عقیدت مند ہندو خواتین اپنے بچوں کو علم اور تعزیوں کے نیچے سے نکال کر حسین بابا کی امان میں دیتی ہیں۔اجستھان اور آندھرا میں ہندوؤں کی عزاداریا مام حسینؑ کو غیر مسلم شعراء کا خراجِ عقیدت -آندھراپردیش کے لاجباڑی ذات سے تعلق رکھنے والے اپنے منفرد انداز میں تیلگو زبان میں دردناک لہجہ میں پر سوز المیہ کلام پڑھ کر کربلا کے شہیدوں کو اپنی عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح راجستھان کی بعض ہندو ذات کے لوگ کربل اکی جنگ کا منظرنانہ پیش کرتے ہیں اور ان کی عورتیں اپنے گاں کے باہر ایک جلوس کی شکل میں روتی ہوئی نکلتی ہیں۔ یہ عورتیں اپنی مقامی زبان میں یزیدی ظلم پر اسے کوستی ہیں اور اپنے رنج وغم کا اظہار اپنے بینوں کے ذریعے کرتی ہیں۔

 راجستھان میں ہندوں کی عزاداری کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ مہاراجے جو ہندو سوراج کے لقب سے جانے جاتے تھے شب عاشور سر و پا برہنہ نکلتے تھے اور تعزیہ پر نقدی چڑھایا کرتے تھے۔پریم چند کا مشہور ڈراما کربلا حق و باطل سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اسی طرح اردو ادب میں ایسے ہندو شاعروں کی تعداد کچھ کم نہیں جنہوں نے اپنی معرکہ آرا منظوم تخلیقات میں معرکہ کربلا سے انسانیت کے اعلیٰ کرداروں کی خوشہ چینی کی ہے۔ ایسے قابل ذکر شعرا بیجاپور کے راماروا، مکھی داس، منشی چھنولال دلگیر، راجا بلوان سنگھ، لالہ رام پرشادبشر، دیاکشن ریحان، راجا الفت رائے، کنوردھنپت رائے، کھنولال زار، دلورام کوثری، نانک لکھنوی، منی لال جوان، روپ کماری، یوگیندر پال صابر جوش ملیشانی منشی گوپی ناتھ امن، چکبست، باواکرشن مغموم، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر، کرشن بہاری، ڈالٹر دھرمیندر ناتھ، ماتھر لکھنوی، مہیندر سنگھ اشک، بانگیش تیواری، گلزاردہلوی، بھون امروہوی وغیرہ کا کلام امام حسین سے ان کی غیر معمولی عقیدتوں کا مظہر ہے۔

۔ اسلام کی بقاء کا راز کربلا ہے۔ جس طرح نبی کی نبوت کسی ایک قوم یا قبیلے کے لئے نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح امام ؑ کی امامت بھی تمام عالمِ بشریت و جن و انس کے لئے ہوتی ہے۔ میرے پاس ہندو اور سکھ شاعروں کا نعتیہ کلام بھی موجود ہے اور ان کا رثائی کلام بھی۔  ۔ میں سوچتا ہوں کہ حسین ؑ تو مسلمانوں کے نبی (ص) کے لاڈلے نواسے تھے۔۔ پھر ڈاکٹر ستنام سنگھ خمار کو حسینؑ سے اتنا عشق کیوں؟ نکتہ یہی ہے جو ہندو شاعرہ روپ کماری نے کہا تھا۔ جوش ملیح آبادی کا مصرع بھی لمحہ بہ لمحہ اس حقیقت کا گواہ بنتا چلا جا رہا ہے کہ ‘‘ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ -امام حسینؑ کو غیر مسلم شعراء کا خراجِ عقیدت -امام حسین ؑ صرف مسلمانوں کے لئے ہی قابلِ تعظیم نہیں بلکہ دنیا کا ہر عدل پسند انسان امامِ عالی مقام کی قربانی اور ہدف کو تعظیم و تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بے شک مسلم مشاہیر، مفکرین، علماء اور شعراء واقعہ کرب و بلا کو اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔

جمعرات، 10 اگست، 2023

مرتبہ ء شہادت اللہ کی نظر میں

 

 

 شہید کربلاامام حسین علیہ السّلام کی شہادت-یہ کائنات عالم کی وہ شہادت عظمیٰ ہے جس پر زمین و ہفت آسمان روئے-سمندر کی آخری حدود تک کی مخلوقات خدا روئیں  شجر و ہجر روئے-ہوائیں روئیں -بحرو بر روئے -خشک و تر روئے-ماہِ محرم ہمیں نواسۂ رسول،شہیدِ کربلا حضرت امام حسین اوران کے عظیم جاں نثاروں کی یاد دلاتا ہے ،جنہوں نے کربلا میں ظلم اور باطل نظام کے خلاف کلمۂ حق بلند کرتے ہوئے راہِ حق میں اپنی جانیں قربان کیں۔شہدائے کربلا کے سالار حضرت امام حسین علیہ السّلام  کی ذاتِ گرامی جرأت وشجاعت اور حق وصداقت کا وہ بلند مینار ہے، جس سے دین کے متوالے ہمیشہ حق کی راہ پر حق و صداقت کا پرچم بلند کرتے رہیں گے-قران مجید والفرقان الحمید میں ارشادِباری تعالیٰ ہے:’’اورجولوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں، انہیں مُردہ مت کہو (وہ مردہ نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں،اللہ تعالیٰ کے راستے میں  جان جان آفریں دیننے والوں کو شہید کیونکہ  کہتے ہیں ؟ لیکن تمہیں(ان کی زندگی کا) شعور نہیں ہے‘‘۔(سورۃ البقرہ)شہادت ایک عظیم رتبہ اور بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں، جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے۔

 اللہ تعالیٰ کے راستے میں  جان جان آفریں دیننے والوں کو شہید  کہتے ہی-مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ ۚوَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًا ؕ(۶۹)ترجمہ کنز الایمان ::اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔  ؟شہادت کے فضائل سے قرآن وحدیث بھرے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک مسلمان کی حقیقی ودائمی کامیابی یہی ہے کہ وہ اﷲ کے دین کی سربلندی کی خاطر شہید کردیا جائے، لہٰذا ایک مومن کی تو دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ اﷲ کی راہ میں شہادت سے سرفراز ہو۔’ سورۃ النساء ‘‘ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہدائے کرام کوان لوگوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جن پراللہ تعالیٰ نے اپناخاص فضل وکرم اورانعام واکرام فرمایا اور انہیں صراطِ مستقیم اور سیدھے راستے کامعیاروکسوٹی قرار دیا ہے۔میدان کربلا میں امام حسین کی ثابت قدمی-بے شک سیّد الشہدا حضرت امام حسینؓ نے اپنے پیارے نانا ، خاتم النبیین، رحمت اللعالمین جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دین ِ کے گلشن کو اپنے پاکیزہ نورانی لہو سے ایسا سیراب فرمایا کہ تاقیامت اس گلشن میں آنے والے طالبانِ عشق مولیٰ اس سے سیراب ہوتے رہیں گے۔

حضرت امام حسینؓ کی ذاتِ اقدس سے ہی طالبانِ مولیٰ کو ایفائے عہد، راہِ حق میں جرأت و بہادری ،رضائے الٰہی کے حصول میں حقیقی وفا و قربانی اور شدید سخت آزمائشوں میں ثابت قدم رہنے کا عظیم درس ملتاہے- دنیا کی بے شمار نعمتوں سے انسان لطف اندوز  ہوتا ہے، کسی نعمت کو کھاتا ہے، کسی کو پیتا ہے، کسی کو سونگھتا ہے، کسی کو دیکھتا ہے اور ان کے علاوہ مختلف طریقوں سے تمام نعمتوں کا استعمال کرتا ہے اور ان سے مسرور ومحفوظ ہوتا ہے، لیکن مردِ مؤمن کو شہادت سے جو لذّت حاصل ہوتی ہے، اس کے مقابل دنیا کی ساری لذّتیں ہیچ ہیں، یہاں تک کہ شہید جنت کی تمام نعمتوں سے فائدہ اٹھائے گا اور ان سے لُطف اندوز ہو گا، مگر جب اس کو اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سر کٹانے کا مزہ یاد آئے گا تو وہ جنت کی ساری نعمتیں اور ان کا مزہ بھول جائے گا اور تمنا کرے گا کہ اے کاش !میں دنیا میں واپس کیا جاؤں اور بار بار شہید کیا جاؤں۔قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : اِنَّ لشَھِیْدٍ عِندَ اللہِ سَبْعَ خِصَالٍ ، اَنْ یُغْفَرَ لَہُ فِی اَوَّلِ دَفْعَةٍ مِن دَمْعِہ وَيَری مَقْعَدَہ فِی الجَنَّةِ وَ یُحَلّی حُلَّةَ الِایْمَانِ وَ یُزوَّجَ مِنَ الحُورِ العِیْنِ وَ یُجَارُ مِن عَذَابِ القَبْرِ وَیَامَنَ مِنْ یَوْمِ الفَزَعِ الْاَکْبَرِ وَیُوْضَعَ عَلی رَاسِہ تَاجُ الوَقَارِ الْیَا قُوْتَةُ مِنْہ خَیْرٌ مِنَ الدُنْیَا وَمَا فِیْھَا وَ یُزَوَّجَ اِثْنَتَیْنِ وَ سَبْعِینَ زَوْجَةً مِنَ الحُوْرِ العِینِ وَیُشَفَّعُ فِیْ سَبْعِینَ اِنْسَانًا مِنْ اَقَارِبِہ۔

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ کے یہاں شہید کے لئے 7 کرامتیں ہیں ۔ پہلی بار اسکے بدن سے خون نکلتے ہی اسکی بخشش فرمادی جاتی ہے جنت میں وہ اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے ایمان کے زیور سے آراستہ کردیا جاتا ہے حوروں سے اسکی شادی کردی جاتی ہے عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے قیامت کی ہولناکیوں سے مامون رکھا جاتا ہے اسکے سر پر یاقوت کا تاج عزت رکھا جاتا ہے جو دنیا و ما فیھا سے بہتر ہوتا ہے -اسکے اقربا سے ستر شخصوں کے حق میں اسے شفیع بنایا جائے گا۔جو لوگ لڑائی میں قتل کئے جاتے ہیں، حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ان میں سے ایک وہ بندۂ مؤمن ہے، جو اپنی جان اور اپنے مال سے اللہ کی راہ میں لڑے اور دشمن سے خوب مقابلہ کرے، یہاں تک کہ قتل کردیا جائے گا۔ یہ وہ شہید ہے، جو صبر اور مشقت کے امتحان میں کامیاب ہوا۔ 

۔ حضرت علی علیہ السلام کی اتنی بڑی فضیلتیں ہونے کے باوجود ، سب سے پہلے پیغمبرِ اِسلام پر ایمان لانے والے،پیغمبر اسلام کی جگہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر سونا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے بھائی ہیں ،اماموں کے والد اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ہمسر ہیں ، بت شکن تھے اور جنگ خندق کے روز آپ علیہ السلام کی ایک ضربت دونوں جہانوں کی عبادت سے افضل پھر بھی آپ علیہ السلام نے کبھی  «فُزت» نہیں فرمایا لیکن جب آپ علیہ السلام کے مبارک سر پر محراب عبادت میں ضربت لگی تو فرمایا :«فزت و ربّ الکعبة» رب کعبہ کی قسم آج علی کامیاب ہوا۔علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، علی کی نگاہ میں بستر پر آنے والی موت سے ،خدا کی راہ میں تلوار سے ہزار بار چھلنی ہو کر مرنے کی اہمیت زیادہ ہے۔۔ جنگ احد میں شہادت نصیب نہ ہونے پر علی علیہ السلام غمگین تھے یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے آپ علیہ السلام کو شہادت کی خوشخبری سنائی

یہ شہید اللہ تعالی کے عرش کے نیچے خیمۂ خداوندی میں ہوگا۔اسلام کی نشر و اشاعت اور اس کی بقا کے لئے بے شمار شہداء نے شہادت کا جام نوش کیا، مگر ان تمام شہداء میں سیّد الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام  کی شہادت بے مثل ہے کہ آپ جیسی مصیبتیں کسی دوسرے شہید نے نہیں اُٹھائیں، تین دن کے بھوکے پیاسے اس حال میں کہ آپ کے رفقاء عزیز و اقارب و اہل و عیال اور چھوٹے بچے پانی کے لئے تڑپ رہے تھے، جب کہ پانی موجود تھا، یہاں تک کہ دشمن کےجانور بھی اس سے سیراب ہو رہے تھے-

سیما اور سچن -محبّت کہانی

 

اگر دیکھا جائے تو آ ج کے دور میں الیکٹرانک میڈیا دنیا کے دور دراز شہروں -ملکوں میں رہنے والے افراد کے لئے ایسی طاقت ور سورس ہے،  جس کے ذریعے سے ملک کے لوگوں میں آگاہی اور شعور بیدار کیا جاسکتا ہے، اقدار، روایات اور تہذیب پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔  وہ کسی طرح نوجوانوں کے لیے مناسب نہیں، رہن سہن، لباس، تہذیب، زبان سب ہی گراوٹ کا شکار ہے۔پھر پاکستانی اور   انڈین  ڈرامے ہیں جو آگاہی کے نام پر وہ کچھ دکھاتے ہیں جو معاشرے میں ایک فی صد کہیں ہورہا ہوتا ہے جرائم ہوں یا عشق و عاشقی کی تربیت ہمارے ڈرامے بخوبی اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ بعض دفعہ تو مجرم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں آئیڈیا ڈراموں سے ملا تھا۔ ٹھیک ہے عقل مند کہتے ہیں کہ برائی کو جتنا عام دکھایا اور بتایا جائے گا وہ اتنی ہی پھیلے گی۔-اس کے علاوہ جوان بیویوں کو چھوڑ کر دیار غیر پیسہ کمانے چلے جانا بھی معاشرے میں فساد کا باعث ہوتا ہے-پھر انٹر نیٹ کے مختلف گیمز ہیں جن کے زریعہ دو اجنبی مردو زن قریب آتے ہیں اور پھر وہی ہوتا ہے جو سیما اور سچن کیس میں سامنے آیا ہے 

سیما حیدر کیس پر اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ۔بھارتی پولیس نےسیما حیدر سے پانچ پاکستانی پاسپورٹ ، چار موبائل ، دو ویڈیو کیسٹس اور ایک ادھورے نام پر مشتمل غیر مستعمل پاسپورٹ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔دوسری جانب پولیس نے سیما حیدر کے حوالے سے ایک تفصیلی نوٹ جاری کیا ہے جس میں تفصیلی سے بتایا گیا ہے کہ سیما حیدر پاکستان سے ہندوستان کیسے پہنچی ہے ۔تفصیلات کےمطابق کھٹمنڈو کے ایک ہوٹل مالک گنیش نے دعوی کیا ہے کہ سیما حید ر اور سچن نے اس کے ہوٹل میں 8 دن قیام کیا۔رپورٹ کے مطابق گنیش  کا کہنا ہے کہ مارچ 2023 میں دونوں اس کے ہوٹل میں آئے تھے سیما اور سچن زیادہ تر ہوٹل کے کمرے میں ہی رہتے تھے اور صرف شام کو باہر نکلتے تھے اور ساڑھے 9 بجے تک واپس آجاتے تھے ۔ گنیش کے بیان کے مطابق ہوٹل کا کمرہ بک کرنے کے لئے سچن پہلے آیا تھا جبکہ سیما اس سے اگلے دن پہنچی تھی اسی طرح سیما نے ایک دن پہلے ہوٹل چھوڑا تھا اور اگلے دن سچن نے چیک آؤٹ کیا ۔ گنیش کا دعوی ہے کہ دونوں کے ہمراہ کوئی بچہ نہیں تھا کمرے میں بس دونوں تھے ۔ سچن نے اپنا نام شیوانش لکھایا تھا جبکہ کرائے کی ادائیگی بھارتی روپوں میں نقد کی گئی تھی۔

لکھنؤ ، 24جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پاکستان سے فرار مبینہ طور پر مرتد ہوکر ہندو مذہب میں داخل ہونے والی خاتون سیما حیدر ہر طرح کے دعوے کر رہی ہیں لیکن جب سے یوپی اے ٹی ایس نے اپنی جانچ شروع کی ہے۔ اس معاملے میں آئے روز نئے انکشافات ہو نے لگے ۔ اب اسی تناظر میں اتر پردیش کے بلند شہر سے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جن پر الزام ہے کہ اس نے اپنی طرف سے سیما اور سچن مینا کے لیے جعلی دستاویزات بنائے تھے۔گرفتار ملزمان کے نام پشپیندر مینا اور پون مینا ہیں۔ یہ دونوں بھائی ہیں اور ان میں ایک عوامی خدمت مرکز ہے جہاں وہ کام کرتے ہیں۔ اب الزام یہ ہے کہ سیما حیدر اور سچن ان بھائیوں کے پاس جعلی دستاویزات بنوانے آئے تھے۔کچھ پیسوں کے عوض دونوں نے جعلی دستاویزات بنا کر دے دیا۔ اب اے ٹی ایس نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید پوچھ گچھ ہونے جا رہی ہے۔اب یہ پہلا انکشاف نہیں ہے جس کی وجہ سے سرحدی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

 کچھ دن پہلے نیپال کے ایک ہوٹل کے مالک نے کہا تھا کہ سیما اور سچن وہاں ضرور ٹھہرے ہیں لیکن پھر سچن نے اپنا نام شیونش بتایا تھا۔ یعنی وہاں بکنگ بھی فرضی نام رکھ کر کی گئی۔ سیما حیدر نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس الزام کی تردید کی۔ ان کی طرف سے کہا گیا کہ ان کا نام چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔حال ہی میں سیما حیدر کی شادی کی تصویر بھی وائرل ہوئی تھی۔ وائرل تصویر میں سیما حیدر سچن کے ساتھ کھڑی ہیں، ان کے چار بچے بھی موجود ہیں۔ ایک اور تصویر بھی سامنے آئی ہے جس میں سیما سچن کے پاؤں چھو رہی ہیں۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیما نے خود دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سچن مینا سے اس سال 13 مارچ کو نیپال کے پشوپتی مندر میں شادی کی تھی۔ اس وقت تک اس شادی کا کوئی ثبوت نہیں ملا؛ لیکن اب اچانک تین ایسی تصویریں منظر عام پر آگئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شادی ہوئی ہے۔

ملک بھر میں میڈیا کے ذریعہ سنسنی بنائی گئی پاکستانی خاتون سیما حیدر کو لے کر جیوتش پیٹھ شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند سرسوتی نے بڑا بیان دے ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیما حیدر ملک کے لئے خطرہ ہے، اگر وہ زیادہ دیر تک ملک میں رہی تو ہندوستان کے ساتھ کوئی نہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتاہے، اس لیے سیما حیدر نامی عورت کو جلد از جلد پاکستان بھیجو۔ انہوں نے یہ بات مدھیہ پردیش کے نرسنگھ پور ضلع میں واقع پرمہنسی گنگا آشرم جھوتیشور میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ سیما کو فوری طور پر ان کے ملک واپس بھیج دینا چاہئے-شنکر اچاریہ کے مطابق ایک وقت تھا جب سیاست مذہب کی سرپرستی میں ہوتی تھی، لیکن اب وہ سیاست نہیں رہی۔ اب سیاست ہو رہی ہے کہ عوام کو کیسے بے وقوف بنایا جائے؟وہیں گیان واپی کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ چاہتے تھے کہ شیولنگ کی پوجا کی جائے، پوجا کے لئے 108 گھنٹے اپواس پر بیٹھے رہے۔ ہمارے دیوتا، پرکٹ ہونے کے بعد بھی پوجیہ نہیں ہیں، ایسے میں ہمارے ملک کے کروڑوں سناتنی لوگ افسردہ ہیں۔جیوتش پیٹھ شنکراچاریہ اوی مکتیشورانند سرسوتی نے مندروں میں ڈریس کوڈ کی بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ جب کمپنیوں اور اسکولوں میں ڈریس کوڈ ہے تو مندروں میں بھی ڈریس کوڈ ہونا چاہئے۔بھگوان کے سامنے کیسا لباس پہن کر جانا چاہئے، یہ ڈریس کوڈ ہونا ضروری ہے۔ ہمارا بھی تو ڈریس کوڈ ہے۔

پیر، 7 اگست، 2023

بھکشووں کا پیشوا 'گوتم بدھ

 

 

سن 563 ق م میں ہمالیہ کی ترا ئ میں کپل وستو کے راجہ شدھودا نا کے گھر میں ایک شہزادہ پیدا ہوا جس کا نام سدھارتھ رکھا گیا ۔ ننھے شہزادے کو شروع سے ہی تلوار بازی اور جنگی فنون سکھائے گئے ۔ اس کے علاوہ اپنے وقت کے دانا استادوں نے اسے مذہب و فلسفے کی خصوصی تعلیم دی ۔ سدھارتھ کا خاندانی نام گوتم تھا،  جو آگے چل کر گوتم بدھ(Gautama Buddha) بنا ۔ گوتم کی شادی   ہوئی ، جس سے اس کے ہاں ایک خوب صورت بیٹا پیدا ہوا۔ اس شہزا دے کو بچپن سے غو ر و فکر کی عا دت تھی- غور و فکر کی منزلوں سے گزرتے ہو ۓ ایک دن گوتم بدھ  دنیا سے تیاگ لےکرجنگل کی جا نب نکل گیا  -کئ برس کے بعد اپنی حالت پر غورکرکے گوتم بدھ اس نتیجے پر پہنچا کہ حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہ طریقہ درست نہیں تھا۔ گوتم نے تیاگ ختم کیا اور پیپل کے درخت کے نیچے یو گا کا ایک آسن جما کر بیٹھ گیا اور تہیہ کرلیا کہ جب تک اسے نروان نہیں ملے گا، تب تک وہ اس درخت کے نیچے ہی بیٹھار ہے گا۔ آخر انسانی دکھوں ، عذابوں ، بیماریوں ، بڑھاپے اور موت کا سبب کیا ہے؟ یہ سوال مسلسل اس کے ذہن میں گردش کرتا رہا تو اچانک اسے اس سوال کا جواب مل گیا اوراسے نروان حاصل ہو گیا۔ 

گوتم کہتا ہے کہ "میں نے اپنا ذہن ایک نکتے پر مرکوز رکھا اور مجھے خالص گہری و مافوق الانسانی بصیرت حاصل ہوگئی ، جس سے میں نے خود کو مرتے اور پھر جنم  لیتے دیکھا اسکوگہرے غو ر و فکر کی عا دت تھی- ہرجنم میں دکھ، اذیتیں عذاب اور تکلیفیں وغیرہ پہلے جنم سے بھی زیادہ تھیں ۔ ایک جنم کے گناہوں کی سزا، انسان دوسرے جنم میں بھگت رہا تھا۔ بس میں بات سمجھ گیا اور مجھے میرے سوالات کا جواب یہ ملا کہ "انسانی دکھوں کی بڑی وجہ انسانی جنم ہے"۔  نروان حاصل کرنے کے بعد گوتم ، جو اب گوتم بدھ بن چکا تھا، وہ شاگردوں کو با قاعدہ تعلیم دینے لگا۔شہزادہ سدھارتھ نے تنہائی میں انسان کی موجودگی کے مسائل پر استغراق کیا، آخر ایک شام جب وہ ایک عظیم الجثہ انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا تو اسے اس معمے کے سبھی ٹکڑے  باہم یکجا ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ سدھارتھ نے اس کے بعد ساری رات غورو فکر میں بتائی ، صبح ہوئی تو اس پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ اس نے حل پالیا ہے اور وہ یہ کہ اب وہ بدھ بن گیا ہے۔ جس کے معنی ایک اہل بصیرت کے ہیں۔ شہزادہ سدھارتھ جب بدھ بنا تو اس کی عمر 35 برس تھی۔  زندگی کے اگلے 45 سال اس نے شمالی ہندوستان میں سفر کرتے ہوئے گزارے، وہ ان لوگوں کے سامنے اپنے خیالات کا پرچار کرتا جو اسے سننے آتے تھے، 483 قبل مسیح میں وہ  اپنی وفات کے سال تک ہزاروں پیروکار بنا چکا تھا۔

 اگرچہ اس کے افکار لکھے نہیں گئے تھے  لیکن اس کے ماننے والوں نے اس کی تعلیمات کو یاد رکھا  ۔  گوتم کی ساری تپسیا اور اس کے اخلاقی نظام کا حاصل  یہ ہے کہ نروان حاصل کیا جائے ، مگر یہ نروان ہے کیا ؟ اسے کوئی حتمی لفظی معنی دینا تو کچھ مشکل ہے مگر اس کا مفہوم واضح ہے ۔ سنسکرت میں نروان کا طالب ہے " بجھا نا اور ختم کرنا"  اور اس کا مفہوم بنتا ہے خواہشات کی آگ کو بجھا نا۔ اس کے دیگر معنی یہ ہیں ، آواگون یعنی دوبارہ پیدائش سے نجات ،انفرادی شعور کا خاتمہ ،مرنے کے بعد خوشی وسکون حاصل کرنا ، اگر ان تمام مفاہیم کو بدھ کے تناظر میں رکھ کر نروان کا کوئی ایک مفہوم واضح کیا جائے  تو وہ ہوگا "ہرقسم کی خواہشات کے خاتمے کے ذریعے  ،ازلی دکھوں سے نجات  اس وقت کے دستور کے مطابق گوتم بدھ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر درس دیتا تھا اور پھر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اور ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر جاری رکھتا تھا۔ اس کے پیروکاروں کی تعداد بڑھنے لگی ۔ آخر کار جب و وسفر کر تا تھا تو بارہ سو پیروکار یا بھکشو  بھی ہمراہ ہوتے ۔ مہاویر کی طرح گوتم نے بھی دیدوں کی الوہیت سے انکار کیا اور کہا کہ یہ برہمنوں کے تخلیق کردہ ہیں ۔

  وہ ہند و نظام میں مروج پر وہتی نظام کے سخت خلاف تھا، جس میں بابے، مہاراج، پروہت  اور دوسرے مذہبی پیشوا اپنے پیٹ بھرنے کے لیے سادہ و جاہل لوگوں کو بے وقوف بنا کر ، چالاکی سے ٹھاٹ باٹ کی زندگی گزار رہے تھے۔  گوتم بدھ کے خیالات تیزی سے پھیلنے لگے اور یہ ہر جگہ مقبول ہونے لگے جوں جوں اس کی عمر بڑھتی گئی اس کے اندرونی سکون میں اضافہ ہوتا چلا گیا  گوتم نے اپنی تعلیمات کو موثر بنانے کے لیے ان کو مختلف تشریحات یعنی خلاصوں میں تقسیم کیا۔ گوتم بدھ کے مطابق، دکھ کے محرک اور وجوہات ختم کر دیں تو دکھ ختم ہو جائیں گے۔ یعنی خواہش کا خاتمہ ہی دکھوں کا خاتمہ ہے ۔“  دکھوں کے خاتمے کا یہ عظیم راستہ آٹھ منازل پرمشتمل  ہے جو یہ ہیں : درست نظر ، درست اراده، درست گفتگو، درست رویہ، درست کمائی،  درست کوشش، درست سوچ اور درست مراقبہ ۔بدھ نے پانچ اخلاقی فرمان جاری کیے، جو کہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہ    بدھ کے فلسفے کا مرکز انسان ہے ۔ انسان کے دکھ اور ان کا خاتمہ، بدھ کے نزدیک بہت اہم ہے۔ اس کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔ اہنسا اور عدم تشدد کا پیغام ہے، مساوات کا پیغام ہے اور پورے عالم انسانیت کی بھلائی کے لیے سچائی ، دیانت داری اور راست گوئی کا پیغام ہے۔ یہ پیغام تیزی سے ہر طرف پھیلا۔ نیپال و ہندوستان سے ہوتا ہوا موجودہ پاکستان، افغانستان، وسطی ایشیا اور روس تک پہنچا۔ دوسری طرف مشرق بعید سے ہوتا ہوا، خصوصا جاپان و چین میں انتہائی مقبول ہوا۔ پورے ایشیا میں جگہ جگہ بدھ کے آثار موجود ہیں ۔

بدھ مت میں کئی فرقے پیدا ہوئے لیکن نروان ان کا مرکزی نکتہ ہے، جس پر سب متفق ہیں۔ ہندوستان کا عظیم فلسفی شہنشاہ "اشوکا"  بھی بدھ مت کا پیروکار ہو گیا تھا اور  اس نے بے شمار مقامات پر بدھ کے مجسمے نصب کروائے ۔ زمانے کی گرد ہر نظریے کو دھندلا دیتی ہے مگر آج بھی گوتم کے فلسفہ انسانیت ، محبت اورہمدردی کے  کروڑوں پرستار موجود ہیں ۔  سن 483 ق م میں چہرے پر بے پناہ سکون اور دھیمی مسکراہٹ سجائے تاج و تخت کو ٹھکرانے والا کپل وستو کا شہزادہ اپنے لاکھوں بھکشوؤں کو سوگوار چھوڑ کر 80 سال کی عمر میں اس دنیا کو خاموشی سے الوداع کہہ گیا۔           گوتم نے ساری زندگی ہرقسم کی قربانی وعبادت کی مخالفت کی مگر اس کےانتقال کے بعد اس کی ہی پوجا شروع ہوگئی۔ جگہ جگہ اس کے مجسمے نصب ہو گئے اور بھکشوا سے ایک عظیم نر وان یافتہ اور نجات یافتہ روح سمجھ کر پوجنے لگے۔

جمعرات، 3 اگست، 2023

کمر خمیدہ -شہید کربلا -حبیب ابن مظاہر

 

روائت ہے کہ جب میدان کر بلا سے امام عالی مقام نے صحا بہ رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ  وسلم (حبیب ابن مظاہر)کو خط لکھ کر جنگ کی صورتحال بتائ تو آپ نے فوراً سامان سفر باندھا اور نصرت امام کے لئے نکل کھڑے ہوئے-کوفہ کا ماحول اتنا ناسازگار تھا کہ آپ دن کو چھپ جاتے اور رات کو مخفی طور پر سفر کرتے -اس طرح آپ امام علیہ السلام سے کربلا میں جا ملےآپ کا شمار کوفہ کے ان زعمائے شیعہ میں ہوتا ہے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھاتھا۔ آپ نے مسلم بن عقیل کو امام علیہ السلام کے لئے یہ کہہ کر جواب دیا تھا : قسم ہے اس خدا کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں میں بھی وہی کہتا ہوں جو انھوں نے کہا اور عابس بن شبیب شاکری کی کی طرف اشارہ کیاتھا ( طبری ،ج٥، ص ٣٥٥ ) کربلا میں عمر بن سعد کے پیغام رساں قرہ بن قیس حنظلی تمیمی سے آپ نے کہا تھا : واے ہو تجھ پر اے قرہ بن قیس ! تو ظالموں کی طرف کیوں کر پلٹ رہاہے، تو اس ذات کی مدد کر جس کے آباء واجداد کی وجہ سے اللہ نے تجھے اور ہمیں دونوں کو کرامت عطا کی ہے۔(طبری، ج٥،ص ٤١١ ) جب نو محرم کو شام میں سپاہ اموی عمر بن سعد کی سالاری میں امام حسین علیہ السلام پر حملہ آور ہوئی تھی تو عباس بن علی  بیس (٢٠)سواروں کے ہمراہ ان لوگوں کے پاس گئے جن بیس میں جناب حبیب بھی تھے۔

 حبیب نے اس وقت فرمایاتھا : خدا کی قسم کل قیامت میں وہ قوم بہت بری ہوگی جس نے یہ قدم اٹھایا ہے کہ ذریت و عترت واہل بیت پیغمبرۖ کو قتل کردیا جو اس شہر ود یار کے بہت عبادت گزار ، سحر خیزی میں کوشاں اور اللہ کا بہت ذکر کرنے والے ہیں جب آپ مسلم بن عوسجہ کے زخمی جسم پر آئے اور مسلم نے امام علیہ السلام کی نصرت کی وصیت کی تو آپ نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم میں اسے انجام دوں گا ۔(طبری ،ج٥، ص ٤٣٦ )امام حسین علیہ السلام نے آپ کو بائیں محاذ کا سالار بنایا تھا ۔( طبری، ج٥،ص ٤٢٢ ) حصین بن تمیم آپ کے قتل پر فخر و مباہات کررہا تھا اور آپ کے سر کو گھوڑے کے سینے سے لٹکا دیا تھا۔ آپ کے بیٹے قاسم بن حبیب نے قصاص کے طور پر آپ کے قاتل بدیل بن صریم تمیمی کو قتل کردیا ،یہ دونوں با جمیرا کی جنگ میں مصعب بن زبیر کی فوج میں تھے ۔اسی گیرودار میں حصین بن تمیم تمیمی نے حسینی سپاہیوں پر حملہ کردیا۔ادھر سے حبیب بن مظاہر اس کے سامنے آئے اور اس کے گھوڑے کے چہرے پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ اچھل پڑا اور وہ گھوڑے سے نیچے گر پڑا تو اس کے ساتھیوں نے حملہ کرکے اسے نجات دلائی ۔

آپ میدان جنگ میں دلیرانہ رجز پڑھتے ہوئے حملہ آور ہوئےأ میں حبیب ہوں اورمیرے باپ مظاہر ہیں۔ جب آتش جنگ بر افروختہ ہوتی ہے تو ہم بڑے بہارد اورمرد میدان ہیں۔ تم اگر چہ تعداد میں بہت زیادہ ہو لیکن وفاداری میں ہم تم سے بہت آگے ہیں اور مصیبتوں میں بہت صابر ہیں ۔ہم حجت و برہان میں سربلند ،حق و حقیقت میں واضح تر اورتقوا کے میدان میں تم سے بہت بہترہیں اور ہم نے تم پر حجت تمام کردی۔پھر فرمایا :خدا کی قسم اگر ہم تعداد میں تمہارے برابر ہوتے یا تم سے کچھ کم ہوتے توپھر دیکھتے کہ تمہاری جماعتوںکو کتنے پیچھے کردیتے ،اے حسب ونسب کے اعتبار سے بدترین لوگو!اس کے بعد آپ نے بڑا سخت جہاد کیا۔جنگ کے دوران بنی تمیم کے ایک شخص بدیل بن صریم نے آپ پر حملہ کیا اور ایک نیزہ مار ا جس سے آپ زمین پر گر پڑے اور چاہا کہ اٹھیں لیکن فوراً حصین بن تمیم نے آپ کے سر پرتلوارسے وار کردیا۔ آپ زمین پر گرپڑے، تمیمی نیچے اترا اوراس نے آپ کاسر قلم کردیا۔

۔ابو مخنف نقل کرتے ہیں کہ مجھ سے سلیمان بن ابی راشد نے حمید بن مسلم کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے ۔۔ جب بدیل نے سر کاٹ لیا تو حصین اس سے بولا : میں بھی اس کے قتل میں شریک ہوں۔ بدیل بولا : خدا کی قسم میرے علاوہ کسی دوسرے نے اسے قتل نہیں کیا ہے تو حصین نے کہا اچھا یہ سر مجھے دے دو تاکہ میں اسے گھوڑے کی گردن میں لٹکادوں تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں اور جان لیں کہ میں بھی اس کے قتل میں شریک ہوں . پھر تم اسے لے کر عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلے جانا۔ وہ جو تمہیں اس کے قتل پر عطا'یا اور بخشش سے نوازے گا مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے لیکن بدیل نے اس سے انکار کیا تو پھر ان کی قوم نے اس مسئلہ میں ان دونوں کے درمیان صلح کرائی جس کے نتیجے میں اس نے حبیب بن مظاہر کا سر حصین بن تمیم کو سونپ دیا اور حصین اپنے گھوڑے کی گردن میں جناب حبیب کا سر لٹکائے پوری فوج میں چکر لگانے لگا پھر اس کے بعد یہ سر بدیل کو لوٹا دیا . جب یہ لوگ کوفہ لوٹے تو بدیل نے اپنے گھوڑے کے سینے سے حبیب کے سرکو لٹکا دیا اوراسی حال میں ابن زیاد کے محل میں حاضری دی ۔

قاسم بن حبیب جوابھی جوان تھے انہوں نے یہ منظر دیکھا تواس سوار کے ساتھ ساتھ ہوگئے اوراسے کسی طرح نہیں چھوڑرہے تھے تو بدیل مشکوک ہوگیااور بولا : اے بچے تجھے کیا ہوگیا ہے کہ میرا پیچھا پکڑے ہے ؟ قاسم نے کہا : یہ سر جو تمہارے ساتھ ہے یہ میرے بابا کا سر ہے۔ کیا تم مجھ کو عطا کروگے تاکہ میں اسے دفن کردوں ؟ بدیل: اے بچے امیر اس سے راضی نہ ہوگا کہ یہ سر دفن کیا جائے۔ میں تو یہ چاہتا ہوںکہ ان کے قتل پر امیر مجھے اس کی اچھی پاداش دے۔اس نوجوان بچے نے جواب دیا : لیکن خدا اس پر تمہیں بہت برا عذاب دے گا ،خدا کی قسم تم نے اپنی قوم کے بہترین شخص کو قتل کردیا اور پھر وہ بچہ رونے لگا ۔ یہ واقعہ گزر گیا اور روزگار اسی طرح گزرتے رہے یہاں تک کہ جب مصعب بن زبیر نے'' با جمیرا'' میں جنگ شروع کی تو قاسم بن حبیب بھی اس کے لشکر میں داخل ہوگئے تو وہاں آپ نے اپنے باپ کے قاتل کو ایک خیمے میں دیکھا۔ جب سورج بالکل نصف النہار پر تھا آپ اس کے خیمے میں داخل  ہوئے تو وہ سورہا تھا تو آپ نے تلوار سے اس پر وارکر کے اس کو قتل کردیا۔  جب حبیب بن مظاہر شہید ہوگئے تو حسین علیہ السلام کے دل پربڑا دھکا لگا؛ آپ نے فرمایا : ''أحتسب نفس وحما  أصحاب'' خود کو اور اپنی حمایت کرنے والے اصحاب کے حساب کو خدا کے حوالے کرتا ہوں اور وہیں ذخیرہ قرار دیتاہوں

خدائے مہربان آپ پر جنت کے باغوں کا سایہ عطا فرمائے آمین۔

بدھ، 2 اگست، 2023

قدم گاہ مولا علی علیہ السّلام

 

 یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ نبئ کریم حضرت محمد مصطفٰے صلّی اللہ علیہ واِ لہ وسلّم کے زمانے سے ہی سفیران اسلام کی دنیا میں آمدورفت شروع ہو گئ تھی-اور مولائے کائنات کی برّصغیر آمد کے بارے میں بھی رویات موجود ہیں -انہی روایات میں سے ایک روائت آپ کے پاء مبارک کے نشان بھی بتائے جاتے ہیں جن کو قدم گاہ مولا علی کہا جاتا ہے آئے قدم گاہ  کی زیا  ر ت کر تےہیں -محمد حسین خان شائع شدہ اگست 19، 2021 1 زیر تعمیر قدم گاہ  تاریخی قدم گاہ مولا علی کی طرف جاتا ہے مذہبی ہم آہنگی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے سینٹ کے دور میں شہر کے سب سے پرانے علاقوں میں حکام کی توجہ کا مرکز شہر کے تجارتی علاقوں میں سے ایک ہے۔ رام جب مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے، شیعہ اور غیر شیعہ، اس جگہ پر جمع ہوتے ہیں۔ قدم گاہ اس وقت بھی امن کا گڑھ رہا ہے جب حیدرآباد نسلی فسادات سے دوچار تھا۔ یہ سنی مکتبہ فکر کے بزرگ حضرت وہاب شاہ جیلانی کے مزار کے قریب واقع ہے، جس پر بہت سے وفادار بھی آتے ہیں،

 جنہیں اپنے مقدس مقامات تک پہنچنے کے لیے ایک ہی تنگ گلی کا استعمال کرنا پڑتا ہے لیکن انھوں نے اس پر کبھی لڑائی نہیں کی۔ اگرچہ دونوں اطراف کے انتظامی راستے کے استعمال پر اختلاف رکھتے تھے، لیکن اس سے کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ قدم گاہ مزار کا تعمیراتی کام 2009 سے جاری ہے۔ قدم گاہ درحقیقت پتھر کا 4-5 انچ کا سلیب ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک نمازی چٹائی ہے جس پر سجدہ کی حالت میں حضرت علی کے ماتھے، ہاتھ، گھٹنوں اور پاؤں کے نشانات ہیں۔ مشہور روایت ہے کہ یہ چٹائی ایران کے شاہ فتح شاہ کچار کی طرف سے تحفہ ہے جنہوں نے اسے 1805 میں تالپوروں کے ایک سفیر سید ثابت علی شاہ کو پیش کیا تھا، لیکن شیعہ محققین جیسے پروفیسر ڈاکٹر مرزا امام علی اور زوار عبدالستار درس میں اختلاف ہے جس پر تالپور حکمران نے دراصل اپنا سفیر ایران بھیجا تھا۔

 سید ثابت علی شاہ 1208 ہجری میں اہل بیت سے محبت کے لیے متعدد تحائف کے ساتھ ایران گئے۔ تحائف میں گھوڑے، قرآنی نسخے، زیورات، تلواریں اور سجی ہوئی چھوٹی چھریاں شامل تھیں۔ ان تحفوں کے بدلے میں کتاب کہتی ہے کہ شاہ ایران نے انہیں وہ نمازی چٹائی پیش کی جس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش تھے۔ لیکن درس کا استدلال ہے کہ یہ میر غلام علی تالپور تھا جس نے سبط علی شاہ کو بھیجا تھا۔ درس کہتے ہیں کہ ’’دراصل وہ دور جس میں ثابت نے ایران کا سفر کیا وہ دور ہے جب میر غلام علی نے سندھ پر حکومت کی تھی۔ "وہ جگہ جہاں نماز کی چٹائی مومنین کی 'زیارت' کے لیے محفوظ کی گئی ہے وہ اس کی تیسری آرام گاہ ہے۔ میر نصیر علی نے اسے 1841 میں قلعہ سے موجودہ قدم گاہ میں منتقل کیا تھا جہاں اسے پہلی بار محفوظ کیا گیا تھا۔ کاظم واجد مرزا، جنہوں نے قدم گاہ کے جنرل سیکرٹری کے طور پر 11 سال (1994-2005) تک خدمات انجام دیں، کہا کہ قدم گاہ کے بارے میں مشہور کہانیوں کی تاریخی طور پر تصدیق کی ضرورت ہے۔

 وہ درس اور ڈاکٹر امام سے متفق نہیں ہیں کہ سبط علی شاہ ہی نماز کی چٹائی لائے تھے۔ "سبط علی شاہ نے اپنا ایران کا سفرنامہ لکھا اور اس میں کہیں نہیں لکھا کہ یہ آثار وہی لائے تھے، حالانکہ انھوں نے اپنے سفر کی بہت سی معمولی تفصیلات بھی بتا دی تھیں۔ وہ اپنے سفر کے اس اہم پہلو سے کیسے محروم رہ سکتا ہے؟" وہ کہتے ہیں. اس کا دعویٰ ہے کہ یہ تالپوروں کا ایک وزیر اسماعیل شاہ تھا، جو ایران سے آثار لایا تھا، اور عظیم دانشور مرزا قلیچ بیگ (1853-1909) کی تیار کردہ معلومات پر انحصار کرتا ہے۔ کاظم مرزا قلیچ بیگ کی اولاد ہیں جو کاظم کے والد کے نانا تھے۔ "قلیچ کے نانا خسرو بیگ میر نصیر تالپور کے دور حکومت میں وزیر تھے اس لیے ان کا دور ان کے قریب ہے۔ سطحی کی بجائے مستند معلومات ہونی چاہئیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ مرزا افسوس کرتے ہیں کہ پکے قلعہ کے اندر قدم گاہ کی پہلی آرام گاہ محفوظ نہیں تھی۔ قلعہ سے منتقلی کے دوران نمازی چٹائی کو بھی نقصان پہنچا۔ وہ کمرہ جہاں تالپوروں نے رکھا تھا اسے محفوظ رکھا جانا چاہیے تھا۔" وہ کہتے ہیں۔ قدم گاہ کو اب تیسری آرام گاہ میں منتقل کر دیا گیا ہے جو ابھی زیر تعمیر ہے، درس کہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کوفی رسم الخط میں لکھے گئے قرآن کے 15 سپارے بھی ثابت علی شاہ کو پیش کیے گئے۔ "ہم نے انہیں محفوظ کر لیا ہے۔ باقی 15 کو امام علی رضا کے مقبرے میں رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹر امام علی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ نماز کی چٹائی سب سے پہلے تالپوروں نے موجودہ حیدرآباد کے ایک کمرے میں (پکے قلعہ) کے لیے رکھی تھی جب اسے ایران سے لایا گیا تھا۔ تالپور قدم گاہ کو خراج عقیدت پیش کرتے تھے اور اسے عوام کے لیے نہیں کھولا جاتا تھا۔

لیکن اسے 1841 میں موجودہ قدم گاہ کے احاطے میں منتقل کر دیا گیا تاکہ عقیدت مندوں کو خراج عقیدت پیش کر سکیں۔" وہ کہتے ہیں کہ 1843 میں انگریزوں کے ہاتھوں تالپوروں کو شکست دینے اور جلاوطن ہونے کے بعد، ان کے نوکروں نے قدم گاہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھال لی، درس کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1908 میں انجمن امامیہ وجود میں آئی جو اب قدم گاہ چلا رہی ہے۔ موجودہ قدم گاہ کا سنگ بنیاد 1993 میں رکھا گیا تھا۔ اس کا ڈیزائن نجف اشرف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مزار سے مشابہ ہے۔ اس کا زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے۔ احاطہ شدہ علاقہ 3,134 مربع گز پر پھیلا ہوا ہے جس میں دکانیں، ہسپتال، صحن وغیرہ شامل ہیں۔ "ہم قدم گاہ کو نجف سندھ سمجھتے ہیں،" درس نے نجف سندھ کے عنوان سے اپنی کتاب دکھاتے ہوئے کہا۔ قدم گاہ کا گنبد اس کے دائیں اور بائیں میناروں ے ساتھ مکمل ہو چکا ہے۔ "گنبد کا فینسی کام اس وقت کیا جانا ہے جب اس کا تعمیراتی کام مکمل ہو  نے کے قر یب  ہے"

پیر، 31 جولائی، 2023

ایلی کاٹ کا ذ وا لجنا ح کا جلو س

 

یہ قیام پاکستان سے قبل کی بات ہے ایک قابل لیڈی ڈاکٹر کے یہاں شادی کے پانچ برس بعد تک اولاد کی نعمت نہیں تھی لیکن وہ محرم کی مجا لس میں بہت    عقید ت سے شريک ہو تی تھیں- ایک بار انہوں نے یوم عاشور پر عورتوں کو دعائیں کرتے دیکھا تو اپنی دوست سے پوچھا کہ یہ خواتین کیا کر رہی ہیں دوست نے بتایا کہ یہ ا ولاد ہونے کی منت مان رہی ہیں چنانچہ لیڈی ڈفرن نے بھی دوست سے سب پوچھ کر اپنے یہاں اولاد ہونے کی منّت مان لی اور پھر ان کی گود امام حسین علیہ السّلام کے وسیلے سے ہری بھری ہوگئ -اب میں یہاں سے بی بی سی کا مضمون پرنٹ کر رہی ہوں 

صوبہ سندھ کے ضلع حید-ر آباد میں گذشتہ 52 سال سے محرم کی آٹھ تاریخ کو ایلی کاٹ کے نام سے بھی ایک ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ کون تھے اور اُن کی کہانی کیا ہے۔حیدرآباد کے چند عمر رسیدہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ سفید فام تھےاور وہ ہر سال محرم الحرام میں سیاہ کپڑے زیب تن کیے عزاداری میں پیش پیش ام آتے تھے۔بیلے ڈانس کے دلدادہ ایلی کاٹ اپنے ڈرائیور کی زبانی واقعہ کربلا سُن کر ایسے مسلمان ہوئے کہ انھوں نے گھر بار اور بیوی بچے سب کچھ چھوڑ دیا اور مرتے دم تک ’غم حسین‘ کو سینے سے لگائے رکھا۔چارلی ایلی کاٹ جنھوں نے مسلمان ہونے کے بعد اپنا نام علی گوہر رکھا، ان کا جنم کہاں ہوا اس کا کوئی ریکارڈ موجود حکومت سندھ کے مرتب کردہ انسائیکلوپیڈیا سندھیانہ کا دعویٰ ہے کہ ایلی کاٹ عرف علی گوہر کی والدہ لیڈی ڈفرن ہسپتال حیدرآباد میں میڈیکل سپرنٹینڈنٹ تھیں اور ان کے والد آرتھر سڈنی کاٹ حیدرآباد اور میرپورخاص میں کلیکٹر تھے۔ ۔ ایلی کاٹ کی والدہ کے منشی محمد علی کی بیگم سے اچھے مراسم تھے۔ ان کی اولاد نہیں تھی تو ایک بار جب اشرف شاہ کے پڑ سے جلوس آرہا تھا تو سب کو دعا مانگتا ہوا دیکھ کر انھوں نے بھی دعا مانگی اور اسی سال ان کو اولاد نرینہ ہوئی۔ چارلی ایلی کاٹ کی والدہ بچے کی پید  ا ئش کے بعد  حیدرآباد کے ہر ماتمی جلوس میں نذر و نیاز کرتی تھیں

انسائکلوپیڈیا سندھیانہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر لیڈی ڈفرن محرم میں ایلی کاٹ کو سیاہ کپڑے پہناتی تھیں۔ بعد میں ایلی کاٹ نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام علی گوہر رکھا۔وہ سندھ کے محکمہ ایکسائز میں انسپکٹر بھی رہے۔ وہ اپنا وقت قدم گاہ ا اشرف شاہ کے پڑ میں گزارتے تھے۔وہ لندن بھی گئے جہاں والد نے ان کی شادی کرائی۔ ان کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا بھی تھا۔قیام پاکستان کے بعد انھوں نے واپس جانے سے انکار کیا اور یوں ماں بیٹا یہاں مقیم ہو گئے۔ ایلی کاٹ کی وفات 1971 میں ہوئی اور اشرف شاہ کے پڑ کا نام ایلی کاٹ کے نام سے مشہور ہوا۔واضح رہے کہ پڑ سندھی میں اس علاقے کو کہتے ہیں جہاں علم لگایا جاتا ہے اور ذوالجناح کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ قدیم حیدرآباد میں ہر علاقہ وہاں کے رہائشی افراد کے پیشے کے لحاظ سے آباد ہوا اور تالپور حکومت میں ہر جگہ پڑ اور علم بنائے گئے۔حیدر آباد میں گذشتہ 54 سال سے محرم کی آٹھ تاریخ کو ایلی کاٹ کے نام سے بھی ایک ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے-ایلی کاٹ نے اپنی انگریز بیوی سے کہا وہ ’مومن‘ ہونا چاہتے ہیں ایلی کاٹ کے ڈرائیور کا نام عبدالغفور چانڈیو تھا اور ان سے ہی واقعہ کربلا اور حضرت علی کے حالات زندگی کے بارے میں سُن کر ایلی کاٹ کو بھی حسینی قافلے میں شامل ہونے کا شوق ہوا۔

عبدالغفور چانڈیو کے بیٹے غلام قادرچانڈیو نے سنہ 2004 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایلی کاٹ نے اُن کے والد عبدالغفور سے کہا تھا کہ وہ بھی ماتمی جلوس نکالنا چاہتے ہیں لیکن عبدالغفور چانڈیو گریز کرتے رہے اور کہتے رہے کہ اس کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔بقول غلام قادر، چارلی اپنے فیصلہ پر اٹل رہے۔ بالآخر عبدالغفور نے چارلی ایلی کاٹ کی سرپرستی میں ماتمی جلوس نکالنے کے لیے حامی بھر لی، جس پر چارلی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔حیدرآباد کے پکے قلعہ میں چانڈیوں کی امام بارگاہ سے پہلی بار ذوالجناح کا جلوس نکالنے کی تیاری کی گئی۔ یکم محرم الحرام کو جب یہ جلوس روانگی کے لیے تیار تھا تو عجیب اتفاق یہ ہوا کہ چارلی کی والدہ کی وفات ہو گئی۔غلام قادر بتاتے ہیں کہ بابا عبدالغفور نے ایلی کاٹ کو یاد دلایا کہ انھیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اس کام میں بڑی قربانی دینی پڑتی ہے جس سے ایلی کاٹ کا ایمان اور پختہ ہو گیا۔ایلی کاٹ نے صبح کو والدہ کی حیدرآباد کے شمال میں واقع گورا قبرستان میں تدفین کی اور شام کو اپنے غم کو بھول کر اور سیاہ کپڑے پہن کر ننگے پاؤں ماتم میں شامل ہو گئے۔غلام قادر جو ایلی کاٹ کے ساتھی رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ ایلی کاٹ نے اپنی انگریز بیوی کو بتایا کہ وہ ’مومن‘ ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے اُن کے سامنے دو راستے ہیں، پہلا یہ کہ وہ بھی مسلمان ہو جائیں اور دوسرا یہ کہ واپس انگلینڈ چلی جائیں اور اپنی زندگی گزاریں۔

اُن کی بیوی نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور وہ بچوں سمیت انگلینڈ چلی گئیں، جہاں سے وہ کبھی بھی چارلی کے لیے لوٹ کر نہیں آئیں۔چارلی اب علی گوہر بن چکے تھے۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر چلے گئے جہاں انھوں نے چھ ماہ تک ملنگوں والی زندگی گزاری۔ چھ ماہ بعد حیدرآباد لوٹ آئے اور بقیہ تمام زندگی اپنے ڈرائیور عبدالغفور کے پاس رہ کر گزار دی۔ اپریل 1971 کو چارلی ایلی کاٹ کی وفات ہوئی اور انھیں اُسی ماتمی گنبد میں دفن کر دیا گیا، جہاں وہ رہتے تھے۔حیدرآباد میں ماتمی جلوسوں کی منزل قدم گاہ ہوتی ہے اور یکم محرم سے لے کرعاشورہ تک جلوس یہاں پر سلامی دیتے ہیں کراچی سے قبل حیدرآباد سندھ کا دارالحکومت تھا۔ انگریزوں نے جب سندھ کو فتح کیا تو اس وقت سندھ پر تالپور خاندان کی حکومت تھی جو حیدرآباد، میرپور خاص اور خیرپور ریاستوں میں تقیسم تھی۔ تالپور شیعہ مسلک کے پیروکار تھے۔

 

 

 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر