مہتاب خان (مرحوم)،،،!!! (مغربی پاکستان کے پہلے چیف-(سول) انجینئر،، تربیلا ، ورسک اور منگلا ڈیم کے ڈیزائنر،، صدارتی ایوارڈ،، تمغہء امتیاز،، گولڈ میڈلسٹ)
مہتاب خان مرحوم کی زندگی نوجوانوں کیلئے ہر لحاظ سے فقید المثال ہے ،،، نہایت ہی غربت ،، پسماندگی اور نامساعد حالات میں پیدا ہونے والے مہتاب خان کے دور میں شاہڈھیرئ گاؤں اسکول نام کی چیز سے نا آشنا تھا!پر گاؤں میں اسکول کی عدم موجودگی اور غربت اس مردآہن کے راستے کی دیوار نہیں بن پائیں،، پڑھنے لکھنے کا شوق تھا،،لگن تھی،، لہذا اپنی علمی پیاس بجھانے اور جہالت کی تاریکیوں کو چھیرنے کے سفر پر نکلے اور ودودیہ اسکول سیدو شریف میں داخلہ لیا،،، جبکہ اسکول کے قریب رہنے کی غرض سے کانجو میں ایک مسجد میں رہائش اختیار کرلی،! پر مسجد کے طلباء کا رویہ ان کے ساتھ کافی سوتیلا تھا،، کیونکہ ان کی نظر میں وہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر انگریزوں کی کتابیں پڑھتے تھے،،!! وہ محلہ بھر کی مساجد سے "وظیفے" اکھٹے کرکے ادھر مسجد میں ہی کھا لیتے،، لیکن پھر مسجد کے طلباء نے انگریزی تعلیم کی وجہ سے ان کا سوشل بائیکاٹ کردیا،، اور انہیں ساتھ کھانے سے بیدخل کر دیا!مسجد میں ان کی زندگی کافی مشکل ہوگئ تھی،، لہذا وہاں سے نکل انہوں نے علیگرامہ میں ایک مشہور و معروف شخص کے ڈیرے حجرے پر رہائش اختیار کرلی،، جہاں انہیں رات کو دیا جلاکر پڑھنے کی عیاشی میسر تھی،ودودیہ اسکول سیدو شریف سے مڈل پاس کرنے کے بعد انہوں نے تھانہ ہائی اسکول میں داخلہ لیا،، یہ انگریزوں کا دور تھا،، اور تھا نہ کے خوانین (خانان) کے بچوں کو پولیٹیکل ایجنٹ انتظامیہ کی طرف سے اسکالر شپ ملتا،،!! مہتاب خان کی زندگی بڑی مشکل تھی،، اور آگے اندھیرا تھا کہ ان حالات میں پڑھائی کیسے جاری رکھیں گے
،،!خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ان دنوں ان خوانین کے بچوں نے کسی بات پر ہڑتال کرکے اسکول کا بائیکاٹ کر دیا،، بس یہ مہتاب خان کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا!اسکول کے انگریز پرنسپل نے اپنے بڑوں کو تجویز دیدی کہ اس دفعہ وہ اسکالر شپ کی رقم ایک غریب مگر ہونہار طالب علم کو دینا چاہتا ہے! پرنسپل کو اجازت مل گئ،، لہذا اس نے مہتاب خان کو اپنے دفتر میں بلاکر اسے جھولی پھیلانے کو کہا!مہتاب خان نے جھولی دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر پھیلائی،، اور انگریز پرنسپل اس کی جھولی میں سکے ڈالنے لگا،، مہتاب خان کے بقول سکے اتنے زیادہ تھے،، کہ ان کیلئے اپنی جھولی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا،!اب رقم ہاتھ تو آگئ تھی،، پر اسے سنبھال کر رکھنے کا مرحلہ درپیش تھا،، اس کا حل یہ نکالا کہ مہتاب خان مرحوم نے تھانہ بازار میں ایک دکاندار سے بات کی،، رقم اس کے پاس امانتا رکھوائی،، اس شرط پہ کہ جب اسے رقم کی ضرورت ہوگی،، وہ تھوڑی تھوڑی لیا کریں گے،،!!اس زمانے میں پشاور بورڈ کا قیام عمل میں نہیں آیاتھا اور لاہور تعلیمی بورڈ تھا،، مہتاب خان نے میٹرک امتیازی پوزیشن سے پاس کیا،میٹرک کرنے کے بعد مہتاب خان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آیا ان کی تعلیم مکمل ہوگئ ہے،، یا آگے پڑھنا ہے،، اسکول کے پرنسپل نے ان کی رہنمائی کرکے بتایا کہ آگے اور پڑھنا ہے،! میٹرک میں نمایاں کامیابی کے بعد مہتاب خان کا نام کافی مشہور ہوگیا،،
اسلامیہ کالج پشاور کے انگریز پرنسپل تک بھی بات پہنچ گئ،، جو بڑی بےتابی سے اس نوجوان سے رابطہ کرنے کی کوشش میں لگ گئے!ان دنوں دیولئ گاؤں کے منجور خان (مرحوم) کسی کام سے پشاور گئے تھے،، وہاں پرنسپل کو پتہ چلا کہ ایک ایسا شخص سوات سے آیا ہے،، جو مہتاب خان کو جانتا ہے،،!!پرنسپل صاحب نے اسی وقت مہتاب خان کے نام ایک خط لکھ کر مرحوم و مغفور منجور خان کے ہاتھ ارسال کیا،،!! مہتاب خان کے بقول وہ اس وقت ہیدل نواں کلی (نویکلے) کی چڑھائی اتر رہےتھے کہ منجور خان کا وہاں سے گذر ہوا،، مہتاب خان پر نظر پڑتے ہی تانگہ رکوایا،، اور انہیں پاس بلاکر خط حوالے کردیا،،!! مہتاب خان کے بقول انہوں نے ادھر کھڑے کھڑے وہ خط پڑھا،، اور پڑھنے کے بعد ان پر سرور و دیوانگی کی سی کیفیت طاری ہوگئ،، اور وہیں سڑک پہ کھڑے کھڑے دیوانہ وار اچھلنے لگا،،،!!سکالر شپ ملنے کے بعد مہتاب خان نے اسلامیہ کالج پشاور سے نمایاں پوزیشن میں بی ایس سی کیا،،، اس کے بعد علیگڑھ کالج (انڈیا) سے ایم ایس سی (ریاضی) کیا ،، بعد میں انہوں نے سول انجینئرنگ (بیچلر) کی ڈگری حاصل کی!اسی دوران دوسری جنگ عظیم چھڑ گئ،، اور برطانوی راج کو نوجوان پائلٹوں کی ضرورت پیش آگئ،، جس کا حل یہ نکالا گیا کہ انجنئرنگ کے طلباء کو جہاز اڑانے کی تربیت دی جائے،، ان میں مہتاب خان بھی شامل تھے،، انہوں نے تین مہینے تک پائلٹ کی ٹریننگ لیکر کچھ عرصہ کیلئے جنگی جہاز بھی اڑایا،،!!
اس کے علاوہ انہوں نے ایل ایل بی بھی کیا تھا،،،!!جب انہوں نے سول انجینئرنگ (بیچلر) کی ڈگری مکمل کی،، تو اس وقت امریکہ کی طرف سے سالانی ایک طالب علم کو فل پیڈ اسکالر شپ دی جاتی تھی،، اس سال یہ اسکالر شپ مہتاب خان کو ملی،، اس طرح وہ امریکہ چلے گئے،، اور ٹیکساس یونیورسٹی سے ماسٹر (سول انجینئرنگ ) کی ڈگری حا صل کی،،تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں رہنے کے بجائے اپنے وطن کی خدمت کیلئے واپس آگئے،،تب سوات کے شاہی خاندان کی جانب سے انہیں جاب کی آفر مل گئ،، لیکن اس وقت ایک انگریز انجینئر نے انہیں مشورہ دیا کہ سوات میں وہ ضائع ہوجائینگے،، کیونکہ علاقہ محدود اور مواقع گنتی کے ہیں،، اس انگریز نے انہیں سول انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں ایس ڈی او کا عہدہ پیش کیا،مہتاب خان نے یہ پیشکش قبول کرلی،، جس کے بعد کامیابیوں نے ان کے قدم چومے اور زندگی بھر ہم رکاب رہیں
یہہ کلی بھی اس گلستان خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی
یہ تحریر میں نے اپنی فیس بک سے عاریتاً لی ہے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
جواب دیںحذف کریں