ایک دن کی بات ہےمیرا کسی کام سے اپنے گھر فیڈرل بی ایریا بلاک 9 سے عزیز آبا دنمبر8جانا ہوا واپسی پر میں نے دیکھا عزیز آباد آٹھ نمبر کے کونے پر ایک وسیع عریض کمپری ہنسیو بوائز اسکو ل کے بہت بڑے گراؤنڈ میں تین حصوں میں طالب علم اپنے انٹرویل ٹائم میں الگ الگ کھیل 'کھیل رہے تھے -میں بچوں کے ہاتھ تھامے کھڑی ہو کر محویت سے طالب علموں کے کھیل دیکھتی رہی -پھر اللہ کریم کی کرم نوازی سے وہ دن بھی آیا جب میرے اپنے بچے اسی اسکول میں امتیازی کامیابی سے ہمکنار ہو کر دہلی کالج کے طالب علم بنے-میں آج کراچی میں طالبعلموں کی حق تلفی دیکھ کر بہت دکھی ہوتی ہوں جن سے ا نکے کھیل کے میدان چھین لئے گئے اور کوئ پرسان حال نہیں کہ قوم کے نونہالوں پر یہ ظلم نہیں کرو-ویسے تو کراچی میں سارے ہی کھیل بڑے شوق سے کھیلے جاتے تھے لیکن ایک ایسا کھیل تھا جو شوق کے علاوہ جنون سے کھیلا اور دیکھا جاتا اور وہ تھا کرکٹ۔کھیل کود کے اس باب میں ہم بھی زیادہ تر توجہ اسی کھیل پر مرکوز رکھیں گے۔
کرکٹ ایک ایسا کھیل تھا جو ایک بیٹ اور ایک بال کی ملکیت ہونے کے بعد چند دوستوں کو اکٹھا کرکے کہیں بھی شروع کیا جاسکتا تھا۔بیٹنگ کی باریاں لینے کا بہت خوب صورت اندازتھا۔ ایک ہموار جگہ پر کھلاڑیوں کی تعدادکے مطابق لکیریں لگا دی جاتی تھیں اور ان کے پیچھے نمبر لکھ کر بیٹ کے نیچے چھپا دیئے جاتے تھے۔ باہر سے صرف لکیریں ہی نظر آتی تھیں۔ہر کھلاڑی ان میں سے کسی ایک لکیر پر انگلی رکھ دیتا تھا۔ پھر بیٹ اٹھا دیا جاتا اور ہر ایک کو اپنا نمبر دیکھ کر پتہ چل جاتا تھا کہ اس کی بیٹنگ کی باری کب آنی ہے۔ جگہ کا بھی تکلف نہیں تھا۔ کوئی نہ کوئی چھوٹا بڑا میدان مل جاتا تو ٹھیک، اور جو نہ بھی ہوتا تو محلے کی کچی پکی گلیاں تو تھیں نا۔ عموماً ایک لڑکا جو کسی کھاتے پیتے گھر کا ہوتا تھا، اپنے ذاتی وسائل سے بیٹ بال اور وکٹیں لے آ تا تھا۔ باقی چونکہ سارے ہی مفت خورے ہوتے اس لیے اس لڑکے کی کھیل میں موجودگی بڑی اہمیت رکھتی تھی۔اس کے بڑے ناز نخرے اٹھائے جاتے اور اس کو آنکھ کا تارا بنا کر رکھتے تھے۔بلے بازی میں بھی اس کو پہلی باری دے دی جاتی تھی۔
کئی دفعہ تو وہ کلین بولڈ بھی ہو جاتا تو فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا۔ مزاج برہم ہونے کی صورت میں وہ اپنا بیٹ بال اوروکٹیں اٹھا کر کھلاڑیوں کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر پتلی گلی سے نکل جاتا اور مستقبل کے عمران خان ا ور حنیف محمد منھ تکتے رہتےاس قسم کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے اکثر بچے چندہ ا کٹھاکرکے ہلکا پھلکا سامان لے آتے تھے، جس میں کم از کم بلا اور ٹینس گیند ضروری ہوتے۔ وکٹوں کا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔ پیچھے کوئی کرسی کھڑی کر لی جاتی تھی یا کسی قریبی دیوار پر کوئلے سے تین موٹی موٹی لکیریں کھینچ کر وکٹ بنا لی جاتی تھی، تاکہ کرکٹ کی رسمیں بھی پوری ہو جائیں اور کھیل کا بھرم بھی قائم رہے۔ سرکاری اسکولوں اور کالجز میں چند ہی ادارے ایسے تھے جہاں طلبا وطالبات کے لیے کھیل کود کے مواقع میسر تھے۔ ان میں بھی بیشتر اداروں میں نئے کلاس رومز تعمیر کرنے کے لیے گراؤنڈز کی جگہ کو ہی استعمال کیا گیا۔ شہروں میں پرائمری اسکولوں میں تو کھیل کے میدان کا تصور ہی نہیں تھا۔
بچے علاقوں میں کھلی جگہوں اور گلیوں میں جسمانی ورزش اور کرکٹ سمیت مختلف کھیلوں سے محظوظ ہوتے تھے جو ان کی ذہنی اور جسمانی نشونما کے لیے بے حد ضروری ہے۔ انہی گلیوں سے بڑے بڑے کھلاڑیوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنایا۔لاہور میں گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج سول لائنز کے درمیان ہونے والے کرکٹ کے مقابلے دیکھنے کے لیے لوگ شہر کے مختلف علاقوں سے گورنمنٹ کالج کے گراؤنڈ میں پہنچتے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ اسکول اور کالج/ یونیورسٹی لیول پر کرکٹ سمیت مختلف کھیل محدود ہوتے گئے اور آج کھیلوں کے یہ مقابلے شاذونادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ قومی کھیل ہاکی اور سکواش میں پاکستان انتہائی پیچھے چلا گیا اور کرکٹ میں بھی ٹیلنٹ کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے۔ باقی کھیلوں کے بارے میں تو حکومت نے کبھی سوچا بھی نہیں۔سرکاری اداروں کی سرپرستی میں قبضہ مافیا نے لاتعداد ایسی خالی زمینوں پر قبضہ کیا جہاں مقامی بچے مختلف گیمز کھیلتے دکھائی دیتے تھے۔ کئی میدانوں کو کھیلوں کے لیے وقف کرنے کے بجائے حکومت نے خود پلازے اور عمارتیں کھڑی کرنے میں پراپرٹی مافیا کی مدد کی یا پھر انہیں وہ جگہیں الاٹ کردیں۔
یہ ایک توجہ طلب مسلہ ہے جس کو پارے سماج کو ملکر سنبھالنا چاہئے
جواب دیںحذف کریں