جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

دیپالپور کی مذہبی سرگرمیوں میں شیعہ سنی کا ذکر نہیں

 


ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس شہر میں صدر بازار سے ملحقہ محلہ گیلانیاں میں سید فیملی کے گھرانے قیامِ پاکستان سے پہلے سے سکونت پذیر ہیں۔سید روشن علی گیلانی کون تھے؟سید روشن علی گیلانی آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکن تھے۔ اُن کی وفات 49 برس کی عمر میں سنہ 1961میں ہوئی۔اِن کے بیٹے سید ناصر محمود گیلانی بتاتے ہیں کہ 'ضلع منٹگمری میں آل انڈیا مسلم لیگ کی نمایاں شخصیات میں سید روشن گیلانی شامل تھے۔'سید روشن علی بانی پاکستان محمد علی جناح کے رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا ممتاز دولتانہ کے ساتھ بھی قریبی تعلق تھا اور قیامِ پاکستان کے بعد فاطمہ جناح سے سیاسی تعلق اُستوار رکھا۔سید ناصر محمود بتاتے ہیں کہ 'قیامِ پاکستان کے بعد یہ زیادہ عرصہ حیات نہ رہ سکے، مگر فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے رہے اور ایوب خان کی مخالفت کرتے رہے، اس کی سزا بھی انھیں دی گئی۔تقسیمِ ہند کے وقت سید روشن گیلانی، دیپالپور میں مہاجرین کے معاملات کی نگرانی کرتے رہے۔سید ناصر محمود کہتے ہیں کہ 'انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کو دیپالپور میں بسانے کی ذمہ داری سید روشن شاہ کے سپرد تھی۔'محرم کی مجالس اور جلوس میں کس مسلک کے لوگ شریک ہوتے ہیں؟


مسجد غوثیہ گیلانیہ مسلکی ہم آہنگی کا کئی دہائیوں سے مرکز بنی ہوئی ہے۔عام دِنوں میں بھی اس میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جبکہ محرم کے دِنوں میں تو یہ جامع طور پر مسلکی ہم آہنگی کی ایک بڑی علامت بن جاتی ہے۔نو محرم کا دن اور دس محرم کی رات مسجد کے احاطے میں تعزیے اور عَلم تیار کیے جاتے ہیں۔اس دوران دِن اور رات بھر ایک طرف دسویں محرم کی مجالس اور جلوس کے لیے اشیا تیار ہوتی رہتی ہیں تو دوسری طرف سنی مسلک کے افراد اپنی عبادات میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ تعزیے و عَلم کی تیاری میں مدد بھی فراہم کرتے رہتے ہیں۔مسجد گیلانیہ غوثیہ میں تیار ہونے والے تعزیے اور عَلم دس محرم کی صبح سید روشن علی گیلانی کے ڈیرے پر پہنچا دیے جاتے ہیں۔یہاں سے پھر ایک جلوس برآمد ہوتا ہے جو صدر بازار سے ہوتا ہوا، پاک پتن گیٹ پر پہنچتا ہے اور وہاں سے غلہ منڈی روڈ پر امام بارگاہ سجادیہ کے سامنے سے گزرتا ہوا دربارسخی سیدن شاہ پر اختتام پذیر ہوتا ہےدسویں محرم کی مجلس اور جلوس میں ہر مسلک کے افراد شریک پائے جاتے ہیں، 


حتیٰ کہ مقامی مسیحی برادری کے افراد بھی مجالس اور جلوس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔سید احمد رضا گیلانی جو مسجد غوثیہ گیلانیہ کے متولی ہیں کہتے ہیں کہ 'دسویں کے جلوس میں مسیحی برادری کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں، زیادہ تر یہ لوگ ملازم ہیں، جو ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ بعض تو صرف ماتم دیکھنے کی غرض سے بھی آ جاتے ہیں۔'مقامی رہائشی واجد مسیح سے جب یہ پوچھا کہ وہ خود اور ان کی کمیونٹی کے کتنے لوگ مجالس و دیگر مذہبی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں ہماری کمیونٹی کے تیس سے چالیس فیصد لوگ محرم کی مجالس اور جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ 'اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہاں کی مسلم برادری نے چرچ بنوانے میں مدد کی اور سید ناصر محمود گیلانی اور دیگر اہم لوگ ہمارے لیے نیک خیالات رکھتے ہیں، مددبھی کرتے رہتے ہیں۔'


شعیہ مسلک کے مقامی رہائشی غلام حُر کا کہنا تھا کہ 'مسجد غوثیہ کے اندر تعزیہ کی تیاری کے لیے مسجد کے اندر مخصوص جگہ بنی ہوئی ہے۔'یہاں گیلانی خاندان جو سنی بھی ہیں اور بعض گھرانے شیعہ بھی کا باہمی الحاق ہے۔ حتیٰ کہ مسجد کے مرکزی دروازہ کی پیمائش کے لیے بھی اہل سنت نے شیعہ برادری کے مرکزی افراد سے پوچھ کر اس کو بنایا کیونکہ تعزیہ باہر نکالنے کے لیے مرکزی دروازہ کا اُونچا ہونا ضروری تھا۔جہاں اہلسنت مجالس اور جلوس میں شرکت کرتے ہیں وہاں بعض جگہوں پر لنگر کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔'سنی مسلک کے حامل مقامی رہائشی عامر حسین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اہلسنت اور شیعہ مسلک میں ہم آہنگی کیوں ہے اور کب سے ہے؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ 'یہاں سنی شیعہ والا کوئی سوال نہیں۔ میں نے تو یہاں تک دیکھا کہ دیوبند مکتبہ فکر کے لوگ بھی یہاں کے سید خاندان اورمحرم کی سرگرمیوں کا احترام کرتے ہیں۔میری عمر پینتالیس سال ہونے والی ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو یہاں ایسا ہی دیکھ رہے ہیں ہمارے بزرگ بھی یہی بتاتے ہیں۔'اہلسنت کی مسجد مسلکی ہم آہنگی کا نمونہ کیسے؟اب سوال یہ ہے کہ مسلکی ہم آہنگی کی موجودہ فضا کیسے اور کیونکر قائم ہوئی؟اس سوال کے جواب میں سید ناصر محمود شاہ کا کہنا تھا 'یہاں کی مذہبی سرگرمیوں میں شیعہ سنی کا ذکر نہیں

1 تبصرہ:

  1. یہ تو بہت ہی خوبصورت بات ہے کہ فرقہ واریہ کی کا کوئ تذکرہ نہیں یہاں کی فضاؤں میں

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر