جمعہ، 17 اکتوبر، 2025

مدو جزراصغر اور مدو جزر اکبر کیا ہوتے ہیں

     کرہء ارض پر  پروردگار عالم کا بنایا ہوا یک متوازن سسٹم مثلاً زمین، چاند کے درمیان ’’مرکزگریز قوت‘‘ کو متوازن رکھتا ہے لیکن سطح زمین پر دو قوتیں برابر نہیں ہوتیں۔ چاند کے قریب کناروں میں قوتِ کشش چاند کی طرف زیادہ ہوتی ہے جب کہ دوسری طرف ’’مرکز گریز‘‘ قوت کناروں پر مخالف سمت میں عمل کرتی ہے جوزیادہ ہوتی ہے۔ چونکہ چاند زمین کے گرد طواف کرتا ہے، جس کی وجہ سے تقریباً ’51 منٹ’مدوجزر‘‘ روزانہ دیر سے پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ بلند مدوجز12گھنٹے 25منٹ کے فرق سے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس لئےتقریباً چھ گھنٹے 45منٹ تک  مدو جزر کے عمل میں پانی آہستہ آہستہ چڑھتا ہے، پھر اُترنا شروع ہو جاتا ہےاور 6 گھنٹے 45 منٹ تک پانی اُترتا رہتا ہے۔ اس طرح ساحل سمندر کا وہ حصہ جو چڑھائو کے وقت پانی میں ڈوب گیا تھا، پھر باہر نمودار ہو جاتا ہے۔ پانی کے اس طرح اُتار چڑھائو کے عمل کو ’’مدوجزر‘‘کہتے ہیں۔ جو عربی زبان کا لفظ ہے جہاں ’’مد‘‘ پانی کے چڑھائو اور’’جزر‘‘ پانی کے اُترنے کا نام ہوتا ہے۔ ۔ جسے  اردو  زبان میں جوار بھاٹا بھی کہتے ہیں


  یہ تمام قدرتی عمل قوت کشش کے ماتحت ہوتا ہے، جس میں سورج کے مقابلے میں چاند کی قوت کشش کو بڑی فوقیت حاصل ہے لیکن اس کے علاوہ عام طور پر سطح زمین سے منسلک ارضی و جغرافیائی عوامل کی کارکردگی کی وجہ سے بھی پانی میں ’’مدوجزر‘‘ کی تخلیق ہوتی ہے لیکن اس کی شدت اور وقت میں مختلف مقامات پر فرق پایا جاتا ہے، کیوں کہ سمندر کے مختلف حصے یا سیکشن چاند اور سورج کی کشش کے حوالے سے علیحدہ ردِعمل کو ظاہر کرتے ہیں ،جس کی وجہ یہ ہے کہ سمندر ایک مکمل پانی کا جسم تو ہے لیکن سمندری فرش کے ناہموار پروفائل، پہاڑی سلسلے ، ساحل کی بناوٹ اور خطےکی پوزیشن نے اسے مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔خصوصی طور پر مدوجزر میں فرق پیدا ہونے کی صورت میں ناہموار اُبھارکی تشکیل ایک عمدہ مثال ہے، جس کی اصل وجہ وہ’’ مرکز گریز قوت‘‘ (Centrifugal Force)ہے جو زمین کی گردش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور مدوجزر کی تخلیق کا سبب بنتے ہیں سورج کی وجہ سے سمندر میں جوار بھاٹا آتا ہے



 لیکن سورج زمین سے خاصی دوری پر ہونے کی وجہ سے سمندر پر اس کا اثر کم ہوتا ہے۔ چاند اور سورج کی مشترکہ کشش ثقل سمندری پانی پر عمل کرتی ہے تو پھر حالات مختلف ہو جاتے ہیں۔ مثلاً چاند کی پہلی تاریخ اور چودہ تاریخ کو سورج، زمین اور چاند ایک اُفق لائن میں آجاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کرئہ ارض پر موجود سمندر کے پانی کو چاند اور سورج آپس میں مل کر یعنی متحدہ کشش کے ذریعہ اپنی طرف کھینچتے ہیں، پھر ایسا ہوتا ہے کہ سورج کی کشش سے چاند کی پیدائشی کشش میں اضافہ ہوتا ہے، نتیجے میں سمندر کے پانی میں معمول کی نسبت زیادہ اُتار چڑھاؤ پیدا ہونے لگتا ہے- پانی کا اُتارچڑھائو زیادہ تر تین سے چار فٹ تک ہوتا ہے اس قسم کے مدوجزر کو مدوجزر اصغر (Neap Tide)کہتے ہیں  یہی کیفیت مخصوص وقت میں سورج کی کشش کی وجہ سے بھی ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے اور یوں سمندر کا پانی مدوجزر کی زد میں آتارہتا ہے۔


 دراصل یہ سارا عمل نہ صرف چاند اور سورج کی گردش کا نتیجہ ہوتا ہے بلکہ جس طرح زمین کی محوری گردش 21جون کو ’’راس السرطان‘‘ کو جنم دیتی ہے ۔یعنی اس تاریخ کو خطہ سرطان پر زمین پر سورج کی کرنیں سیدھی پڑتی ہیں اور دن لمبے ہو جاتے ہیں۔ سورج آسمان پر زیادہ اونچا معلوم ہونے لگتا ہے۔ -۔ اس صورت حال میں سمندر کا پانی ٹھاٹیں مارنا شروع کر دیتا ہے ، کئی کئی فٹ اونچا ہو جاتا ہے اور سمندر میں طغیانی آتی ہے جو تباہ کن طوفان میں تبدیل ہو کر خوفناک منظر پیش کرتا ہے۔ یہ بہت بڑا جوار بھاٹا ہوتا ہے جسے ’’مدوجزر‘‘ اکبر (Spring Tide) کہتے ہیں۔ لیکن چاند کی ساتویں اور اکیسویں تاریخ کو چاند سورج کے ساتھ زاویہ قائمہ بناتاہے۔ چناں چہ چاند کی کشش پانی کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور سورج کی کشش پانی کو اپنی طرف لیکن چونکہ چاند سورج کی نسبت زمین کے قریب ہے اسی لئے اس کی کشش زیادہ اثرانداز ہوتی ہے اور سورج کی کشش پر غالب آجاتی ہے۔ ،  


1 تبصرہ:

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر