مہاجر وں کی بڑی تعداد نے اس وقت کے کراچی کے علاقے لالو کھیت، حالیہ لیاقت آباد میں پڑاؤ ڈالا یہاں 50 کی دہائی میں ہندوستان کی سابقہ ریاست حیدرآباد دکن سے ہجرت کر کے آنے والے جناب عزیز اللہ جنگ نے ایک سینما تعمیر کیا جس کا نام فردوس رکھا گیا۔فردوس سینما اس وقت کی مین سڑک جو آئ آئ چندریگر روڈ سے ملاتی تھی وہاں بنایا گیا اورپھر اس کے مقابل نیرنگ سینما بھی بن گیا -ان دونوں سینما ہاؤسز میں ہفتے کے کسی ایک دن لیڈیز شو میں کوئ اچھی فلم بھی چلتی تھی جس کا کرایہ محض ایک روپیہ ہوتا تھا عزیز اللّہ جنگ نے 50 کی دہائی میں ہی کراچی کے علاقے ناظم آباد سائٹ میں ایک دوسرا سینما چمن کے نام سے بھی بنایا۔ ی۔60 کی دہائی آتے آتے کراچی ایک پر رونق اور جگمگاتے شہر کا روپ دھار چکا تھا۔ جس شہر کی آبادی 1947 میں محض ساڑھے چار لاکھ تھی وہ 60 کی دہائی کے وسط میں 20 لاکھ ہو گئی۔ عزیز اللہ جنگ ایک دور دس نگاہ رکھنے والے انسان تھے، تو انہوں نے کراچی کی روز افزوں ترقی کے پیش نظر 1965 میں ایک ایسے سینما کی بنیاد ڈالی جو پورے ایشیا میں اپنی نوعیت کا دوسرا سینما تھا اس سے پہلے ایشیا میں صرف جاپان میں اس طرح کا سینما 1962 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قسم کا دنیا میں پہلا سینما امریکہ کے شہر نیو جرسی میں رچرڈ ہولنگ ہیڈ (Richard Holling Head) نامی شخص نے تعمیر کیا۔ جس کا افتتاح 6 جون 1933 کو ہوا۔
عزیز اللّہ جنگ کا کراچی کا یہ سینما (کھلی ہوا کا) اوپن ائر ڈرائیو ان سینما تھا۔ اس سنیما کا نام ” کاروان ڈرائیو ان موویز “ رکھا گیا۔عزیز اللہ جنگ نے اس مقصد کے لیے اب قصہ پارینہ بن جانے والی ڈالمیا سیمنٹ فیکٹری سے متصل ایک بلند پر فضا مقام پر وسیع و عریض قطع زمین حاصل کیا۔ اس زمانے کے لحاظ اس سینما کی تعمیر پر بھاری رقم خرچ کی گئی سینما کے میدان میں بیک وقت 500 کاریں آ سکتی تھیں اور فلم بین اپنی کاروں میں بیٹھے بیٹھے پوری فلم دیکھ کر لطف اندوز ہو سکتے تھے۔ ہر کار کی پارکنگ کی جگہ پر ایک چھوٹے سے پول پر اسپیکر نصب ہوتا تھا، گاڑی کا شیشہ اتار کر اس اسپیکر کے ذریعے کار میں براجمان فلم بین فلم کے مکالمے وغیرہ سن سکتے تھے۔سینما کا اسکرین سطح زمین سے 20 فٹ اونچا 11 فٹ لمبا اور 50 فٹ چوڑا تھا، جو تمام شائقین کی کاروں سے صاف نظر آتا تھا۔ اس کے علاوہ مز200 آدمیوں کی گنجائش کا ایک امریکن طرز کا خوبصورت ریسٹورنٹ بھی موجود تھا کراچی کے سینما ہاؤسز کے عروج و زوال کی کہانی -جس کے لان میں کرسیوں پر بیٹھ کر بھی سنیما اسکرین پر دکھائی جانے والی فلم کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ فلم کی اسکرین کی لمبائی، چوڑائی اس قدر تھی کہ اس پر 70 ایم ایم فلمیں بھی چلائی جا سکتی تھیں۔
سنیما غروب آفتاب کے بعد شروع ہوتا تھا اور رات گئے تک چلتا رہتا تھا۔شائقین جب چاہیں یہاں آ اور جا سکتے تھے جب چاہیں کار سے اتر کر ریسٹورنٹ میں کھانے پینے کے ساتھ فلم کے مزے بھی لے سکتے تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ اس سنیما کی تیار میں اس وقت 20 لاکھ روپے خرچ ہو گئے تھے جو اس سستے زمانے میں ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت کے بیس لاکھ آج کے 60 کروڑ روپے بنتے ہیں۔کیا خوب صورت دور تھا، جب نیو کراچی سے ٹاور تک سینما گھروں کو نئی فلم کی ریلیز کے موقع پر برقی قمقموں سے دُلہن کی طرح سجایا جاتا تھا۔سب سے زیادہ سینما کراچی کے علاقے صدر میں تھے، سینما گھروں کا ایک جال بچھا ہوا تھا، بدھ کے روز خواتین کے لیے فلم کے خصوصی شوز ہوتے تھے۔سینما گھروں میں قائم کینٹین کا اپنا حسن تھا، پان کے کیبن میں حسین یادیں قید ہیں، نئی فلموں کی ریلیز کے موقع پر خوب ہنگامہ ہوتا تھا، ٹکٹیں بلیک ہوا کرتی تھیں۔سینما گھروں میں پاکستان کے سیاست دانوں نے ہمیشہ گہری دل چسپی لی، سابق صدر آصف علی زرداری کا بھی سینما انڈسٹری سے تعلق رہا۔
لندن میں اداکاری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے اداکار طلعت حسین نے کراچی کے ایک سینما گھر میں ٹکٹ چیکر کے طورپر کام کیا۔سستی تفریح کی وجہ سے فلمیں اور ان کے گیت سپرہٹ ہوا کرتے تھے، جدید سینما گھروں کی ابتداء ندیم مانڈوی والا نے لاہور کے ڈی ایچ اے سینما سے کی اور اس میں سب سے پہلے جیو اور شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ نمائش کے لیے پیش ہوئی تھری ڈی سینما کا آغاز بھی کراچی سے ہوا، ایک زمانے میں کراچی کی گلیوں میں پردے پہ فلموں کی نمائش ہوتی تھی، ایک جانب حضرات اور دوسری جانب خواتین بیٹھ کر فلموں سے محظوظ ہوتی تھیں۔قیام پاکستان کے بعد فلم انڈسٹری نے تیزی کے ساتھ ترقی کی، فلم سازی کے کام میں تیز رفتاری کے سبب یہاں نئے سینما ہاؤسز کی ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا، جس کے نتیجے میں پُورے ملک میں نئے سینما تعمیر ہونے لگے، شہر کراچی میں یہ تعداد 126تک پہنچ گئی تھی۔کراچی کا شمار پاکستان میں سب سے زیادہ سینما گھر والے شہر میں ہوتا تھا، آج پورے پاکستان میں اتنے سینما گھر نہیں ہیں، جتنے کراچی میں ہوا کرتے تھے۔آج 2019ء میں کوئی بھی پاکستانی فلم صرف 80/70 سینما گھروں میں ریلیز کی جاتی ہے، جب کہ بھارت میں نئی فلم 5 ہزار سینما گھروں کی زینت بنتی ہے
ہر کمال را زوال
جواب دیںحذف کریں