جمعہ، 27 ستمبر، 2024

بجلی کے بل عوام کی موت کے پروانے ثابت ہو رہے ہیں

 


ڈسکہ میں بجلی اور گیس کا بل زیادہ آنے پر خاتون نے زہریلی گولیاں کھاکر خودکشی کرلی۔اے آر وائی نیوز کے مطابق پنجاب کے شہر ڈسکہ کے علاقے منڈے کی میں 16 ہزار روپے کا گیس کا بل آیا اور اس کے بعد 9 ہزار روپے کا بجلی کا بل آگیا جس پر 50 سالہ خاتون نے زہریلی گولیاں کھاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔پچاس سالہ بیوہ خاتون رضیہ کے گھر میں فاقوں کی نوبت آگئی تھی اس کے تین لڑکے مزدوری نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھے اسی دوران گیس کا 16 ہزار روپے بل آیا اور بجلی کا 9 ہزار روپے کا بل آگیا۔بل کی عدم ادائیگی پر گیپکو کے اہلکار بجلی کا میٹر اتارنے بیوہ خاتون کے گھر پہنچے تھے۔خاتون نے دلبرداشتہ ہوکر  گندم میں رکھنے والی گولیاں نگل کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ متوفی رضیہ اپنے گھر میں دانے بھوننے کی بھٹی بنارکھی تھی جس سے وہ اپنے خاندان کی کفالت میں بھی مددگار تھی۔خاتون کی لاش ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی۔


 بجلی کا زیادہ بل آنے پر تین بچوں کے باپ نے انتہائی قدم اٹھا لیاواضح رہے کہ گزشتہ ماہ اگست میں چشتیاں کے علاقے محبوب کالونی کے محمد ساجد کا بجلی کا بل زیادہ آنے پر بھائیوں سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد 30 سالہ ساجد نے دلبرداشتہ ہوکر زہریلی گولیاں کھالیں تھیں۔پولیس کا بتانا تھا کہ محمد ساجد سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا اور تین بچوں کا باپ تھاریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ ساجد کو طبی امداد کے لیےاسپتال منتقل کیا جارہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا تھا۔پنجاب کے ضلع بہاولنگر کے شہر چشتیاں میں بجلی کا زیادہ بل آنے پر تین بچوں کے باپ نے انتہائی قدم اٹھالیا ۔اے آر وائی نیوز کے مطابق چشتیاں کے علاقے محبوب کالونی کے محمد ساجد کا بجلی کا بل زیادہ آنے پر بھائیوں سے جھگڑا ہوا تھا جس کے بعد 30 سالہ ساجد نے دلبرداشتہ ہوکر زہریلی گولیاں کھالیں۔پولیس کا بتانا ہے کہ محمد ساجد سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا اور تین بچوں کا باپ تھا۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ساجد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جارہا تھا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا-گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں بجلی کا بل زیادہ آنے پر لڑائی کے بعد سگے بھائی نے اپنے بھائی کا قتل کردیا تھا، دونوں بھائی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ 

بجلی کا بل زیادہ آنے پر بھائی کے ہاتھوں بھائی کیسے قتل ہوا؟ماں نے ساری داستان سنادیبوڑھی خاتون نے بتایا تھا کہ اسی بات پر دونوں بھائیوں میں پہلے تلخ کلامی ہوئی اور پھر بات بڑھتے بڑھتے دونوں لڑ پڑے، اس وقت میں ان دونوں کے آگے ہاتھ جوڑتی رہی لیکن وہ پھر بھی لڑتے رہے۔میرے ایک بیٹے نے کہا کہ میں اسے گھر میں نہیں رکھوں گا یہ بل دے گا تو اسے رکھوں گا، بیٹے نے اسی دوران اس کا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ماں نے بتایا تھا کہ اسی سامان میں ایک چھری بھی تھی، کسی خاص منصوبے کے تحت میرے بیٹے نے اپنے بھائی کو چھری نہیں ماری، بس اچانک ماری سمجھ ہی نہیں آئی کہ کیسے ہوگیا۔خاتون کا کہنا تھا کہ اب گھر میں کوئی کمانے والا نہیں، میں تو مرگئی ہوں میں کیا کروں، ایک بیٹا جیل چلا گیا ہے اور ایک بیٹا مرگیا ہے اور اب گھر بالکل خالی ہوگیا ہے، میرے دو ہی بیٹے تھے۔
 
بجلی کے بلوں نے عوام سے جینے کی رہی سہی امید بھی چھین لی ہے، یہ بھاری بل غریبوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہورہے ہیں۔اے آر وائی کی اینکر مہر بخاری کی تہلکہ خیز رپورٹ میں بجلی کے بھاری بلوں اور حکومتی بے حسی کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے گئے ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک طرف عوام ہیں تو دوسری طرف صدر، وزیرزعظم زاور چیف جسٹس کو لامحدود بجلی کے یونٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔بجلی کے بھاری بلوں سے غریب اس قدر پریشان ہیں کہ وہ بل آنے کے بعد خودکشی کی کوشش کررہے ہیں، گزشتہ دنوں رکشہ ڈرائیورز غلام محمد نے 19 ہزار روپے سے زائد بجلی کا بل آنے پر پٹرول چھڑک کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔عوام کا کہنا تھا کہ یہاں لوگوں کی دو وقت کی روٹی پوری نہیں ہورہی اور واپڈا، کے الیکٹرک و دیگر بجلی کی کمپنیاں بجلی کے بھاری بل بھیج دیتی ہیں۔پاکستان میں اس وقت لاکھوں گھرانے ایسے ہیں جو کہ فقط ایک پنکھا ہی چلاتے ہیں مگر ان کا بل ہزاروں میں آتا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں 67 فیصد اضافہ کیا گیا ہے

جبکہ الیکشن سے قبل ن لیگ اور پیپلزپارٹی بجلی کے مفت یونٹس دینے کے وعدے کررہے تھے۔وفاقی کابینہ نے نیپرا کی جانب سے سمری کے بعد بجلی کے ٹریف میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ کردی ہے، اب گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا ایک یونٹ کم ازم 48 روپے 84 پیسے کا ہوگا۔حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں اضافہ آئی ایم ایف کی شرائط پر کیا گیا ہے جبکہ حکومت تجاوزیز پر نیپرا کی جانب سے 8 جولائی کو فیصلہ کیا جائے گا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عوام بجلی کے بھاری بلوں تلے پس چکے ہیں جبکہ سرکاری اہلکار چاہے وہ صدر ہوں، وزیراعظم ہوں یا عام واپڈا اہلکار ان کے لیے کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی صدر پاکستان کو ماہانہ 2 ہزار یونٹس مفت دیے جاتے ہیں، صدر کے انتقال کے بعد صدر کی زوجہ کو بھی بجلی کے 2 ہزار یونٹس مفت فراہم کیے جاتے ہیں، وزیراعظم پاکستان کو بھی لامحدود مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔چیف جسٹس کو ان کی مدت میں اور ریٹائرمنٹ کے بعد ماہانہ 2 ہزار بجلی کے مفت یونٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر کو بلوں کی ادائیگی کے ل ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے ہیں جبکہ ارکان اسمبلی بل خود ادا کرتے ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی بجلی کے لامحدود یونٹس استعمال کرتے ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک لاکھ 99 ہزار واپڈا ملازمین کو سالانہ 8 سے 100 ارب روپے کی بجلی مفت دی جاتی ہے۔عوام کا کہنا تھا کہ بل اتنے اتنے بھیج دیتے ہیں کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے، اتنا بھاری بل آیا ہے 42 ہزار روپے کا ہم  کہاں جائیں گے،  

1 تبصرہ:

  1. مائیں بجلی کا بل بھرنے کے لیے اپنی بالیاں بیچنے لگیں۔ ڈاکٹر حمیراطارق، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی شعبہ خواتین

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر