جمعہ، 20 ستمبر، 2024

سیکیورٹی پروٹوکول

 

 ابھی کچھ ہفتوں پہلے کی بات ہے نیٹ پر ایک وڈیو دیکھی پاکستان  کے دارالخلافہ  اسلام آباد کی چمچماتی   سڑک پر  میرے وطن کے کسی وی آئ پی کا ننھا سا بیٹا اپنی ننھی سی  بچہ سائیکل پر بیٹھا  سائیکل چلا رہاہے اور بچے کے پیچھے انتہائ آہستہ روی سے چم 'چم کرتی قیمتی لاتعداد گاڑیا  ں بچہ پروٹوکول کے ساتھ چل رہی تھیں -یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پروٹوکول کی تمام                  گاڑیاں یقیناً عوام کے ٹیکس کے پیسے  کے پٹرول سے ہی چلتی ہیں -لیکن اب کچھ عرصہ سے   وی آئی پی کلچر کے خلاف  آوازیں سنائ دی جا رہی ہیں ،  خدارا ہمارے اوپر ناجائز ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے بجائے آپ اپنے ناجائزاخراجات کو ختم کریں ،   آپ  کو معلوم بھی  نہیں ہوگا کہ جب آپ کی گاڑیا فراٹے بھرتی ہو ئ  سڑکوں پر دوڑ رہی ہوتی ہیں پولیس والے سخت پہرے میں  راستے بلاک کیئے پہرہ دے رہے ہوتے ہیں  سینکڑوں گاڑیاں آ پ کے گزر جانے تک سانپ سونگھے کھڑی ہوتی ہیں  - مریض گاڑیوں میں مر رہے ہوتے ہیں، بچے سکولوں سے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں،  لوگ آفس وغیرہ سے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں۔ گاڑیوں کی رش میں پھنس کر اکثر لوگ بے ہوش ہو جاتے ہیں۔

 جھوٹی شان و شوکت دکھانے والوں کے سبب انسانی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں،  ۔     عہدوں پر   ہر دوسرا فرد غیرقانونی طور پر سیکورٹی یا پروٹوکول کے نام پر پولیس، رینجرز یا دوسرے کسی سیکورٹی ادارے کے اہلکاروں کی سرکاری گاڑیوں کے حصار میں سفر کرتا ہے تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ کوئی بڑے صاحب یا صاحبہ گزر رہی ہیں-نام نہاد VIPsکو جلد ازجلد اپنی منزل تک پہنچانے کے لئے دوسری گاڑیوں کو سائیڈ یا ٹکر مارنے سے بھی سیکورٹی یا پروٹوکول والے نہیں ہچکچاتے۔۔قانونی طور پر سیکورٹی یا پروٹوکول کا حق گنے چنے حکومتی ذمہ داروں کو ہی حاصل ہے لیکن اب تو شاید ہی کوئی وزیر مشیر، جج، جرنیل اور اہم عہدوں پر فائز فرد بغیر پروٹوکول کے باہر نکلتا ہو۔ اب تو سرکاری افسران خصوصاً پولیس اور سول انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے اکثر ڈپٹی کمشنر، کمشنرز بھی سیکورٹی اور پروٹوکول کے بغیر باہر نہیں نکلتے۔جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ ماسوائے ایک محدود تعداد کے اہم ترین سرکاری عہدیداروں کے، پروٹوکول اور سیکورٹی کانوائے کے ساتھ سفر کرنے والے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ قومی پیسہ کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ٹریفک حادثات اور بدنظمی کا بھی باعث بنتے ہیں۔

 ضرورت اس  بات کی ہے  کہ پروٹوکول کو ہر سطح اور ہر محکمہ سے ختم کیا جائے۔  اور ہر اُس فرد کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے جو غیرقانونی طور پر پروٹوکول یا سیکورٹی استعمال کر رہا ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ چاہے کوئی VIP ہو یا اُس کا پروٹوکول اور سیکورٹی عملہ، ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔سیکورٹی اور پروٹوکول کے نام پر دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو سزا دینی چاہئےغریب پولیس والوں کے لئے بھی سوچیئے جو سردی گرمی بارش  ہر موسم میں اوپن فضاوں میں  پروٹوکول دینے کھڑے ہوتے ہیں  راستوں، انٹرنیٹ، موبائل فون کی بندش کے ساتھ دوسری پابندیوں سے جہاں پاکستانی شہریوں  کا  ذہنی سکون برباد ہوتا ہے اور معمولات زندگی درہم برہم ہو جاتے ہیں، وہیں انہیں بعض اوقات ایسا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے، جس کی زندگی بھر تلافی نہیں ہو پاتی۔ اکثر پڑھنے اور سننے میں آتا ہے کہ فلاں وی آئی پی کی سیکیورٹی کی وجہ یا راستوں کی بندش کی وجہ ایمبولینس ٹریفک میں پھنس گئیں اور مریض زندگی کی بازی ہار گئے۔ جو لوگ ہٹو بچو کی آوازوں اور سیکیورٹی پروٹوکول کے نام پر گاڑیوں کی فوج ظفر موج ساتھ لے کر چلنے کے شوقین حکمرانوں اور مقتدر شخصیات کے باعث زندگی کی بازی ہارتے ہیں وہ اپنے گھر والوں کے پیارے اور کوئی تو گھر کے واحد کمانے والے ہوتے ہیں، لیکن اس کا احساس عوام کے دکھ درد کے حقیقی احساس سے عاری ان حکمرانوں کو نہیں ہوتا۔
لڑکی زچگی کے لئے رکشہ میں روانہ  ہوئ اور راستے میں طویل وقت کا پروٹوکل  نے راستہ بند کیا ہوا  تھا  اور بالآخر لڑکی نے رکشہ میں بچہ ڈیلیور کیا آس پڑوس کی گاڑیوں سے لوگوں نے اتر کر ابتدائ مدد کی پروٹول ختم ہوا تب لڑکی ہسپتال پہنچائ گئ 

راستوں کی بے جا بندش  سے ہزاروں لوگوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور انہیں بھوکا پیٹ سونے پر بھی مجبور کر دیتی ہے۔ جب بھی راستے بند کیے جاتے ہیں تو ان علاقوں میں  دکانوں، فیکٹریوں، کارخانوں میں روز کی اجرت پر کام کرنے والے ملازمین، سڑکوں پر پھیری یا ٹھیلا لگا کر اپنے گھر والوں کے لیے چٹنی روٹی کا انتظام کرنے والے غریب اس روز بیروزگار رہتے ہیں۔راستوں کی بندش ہو یا انٹرنیٹ، موبائل فون کی بندش ہمیشہ سیکیورٹی تھریٹ کو جواز بنایا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جن کا کام دہشتگردوں کو روکنا ہے وہ دہشتگردوں کو روکنے کے بجائے پُرامن شہریوں کی آمدورفت پر ہی کیوں ڈاکا مارتے ہیں۔ اب تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی راستے بند کرنے کوغیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند نہ کریں -

1 تبصرہ:

  1. اکثر پڑھنے اور سننے میں آتا ہے کہ فلاں وی آئی پی کی سیکیورٹی کی وجہ یا راستوں کی بندش کی وجہ ایمبولینس ٹریفک میں پھنس گئیں اور مریض زندگی کی بازی ہار گئے

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر