پیر، 18 دسمبر، 2023

علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین

 


علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین  ۔ مشاہدات اور مراتب کے لحاظ سے اس کے تین درجے ہیں۔ یقین اسے کہتے ہیں جو کسی بھی طرح متزلزل نہ ہو۔ اگر کسی شئے کے علم کے بارے میں دلیل و برہان کے ذریعے اس حد تک یقین ہو جائے کہ تردد نہ رہے تو اسے علم الیقین کہتے ہیں۔اگر یہ علم دلیل و برہان سے گزر کر مشاہدہ بن جائے تو اسے عین الیقین کہتے ہیں۔ اگر علم کی حقیقت سامنے آ جائے اور بلا کم و کاست حقیقت شئے یا شئے کی تہہ کا علم ہو جائے تو اسے حق الیقین کہتے ہیں۔مثلاً میں نے کہا انگور، اور انگور کی تعریف بھی بیان کر دی تو آپ نے یقین کر لیا تو یہ علم، علم الیقین ہے۔آپ نے پہاڑ پر یا باغ میں جا کر انگور کی بیل پر انگور کے خوشے دیکھ لئے اس کا الگ ذائقہ بھی چکھ لیا، خوشبو سونگھ لی یہ عین الیقین ہے۔ آپ نے یہ علم حاصل کر لیا کہ انگور کی بیل میں انگور کیوں لگتے ہیں؟ زمین میں سے انگور میں مخصوص مٹھاس، کھٹاس، ذائقہ میں قدرت کے کون سے فارمولے کام کر رہے ہیں تو یہ حق الیقین ہے۔دوسری مثال:میں نے کہا، آپ نے سنا ’’آدمی‘‘۔ میری بات کا آپ نے یقین کر لیا یہ علم الیقین ہے۔ آدمی کی خصوصیات کا علم ہو گیا اور آدمی کی تعریف معہ اس کی صلاحیتوں کے آپ کے سامنے بیان کر دی گئی اور آپ کے شعور نے اسے قبول کر لیا تو یہ علم عین الیقین ہے
 
 اگر آدمی کے تخلیق راز و نیاز، حیات و ممات کی قدریں اور اللہ کے وہ رموز جو اللہ نے انسان کی روح میں مخفی کر دیئے ہیں اور جن سے آدم کو واقف کر دیا گیا ہے اس کا علم حاصل ہو جائے تو اسے حق الیقین کہتے ہیں۔آئینہ کی مثالایک شخص آئینہ دیکھتا ہے۔ آئینہ میں اس کا عکس نظر آتا ہے مگر وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ میرے سامنے مجھ جیسا ایک انسان ہے تو یہ حالت علم الیقین ہے۔ اگر دیکھنے والے کو یہ یقین ہے کہ اپنا ہی عکس دیکھ رہا ہوں لیکن وہ اپنی آئینہ کی حقیقت سے ناواقف ہے تو یہ حالت عین الیقین ہے۔ اگر دیکھنے والا اپنی، آئینہ کی اور عکس کی حقیقت جانتا ہے تو یہ حالت حق الیقین ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حقائق کی اشیاء کی جستجو اور تحقیق کا طبعی ذوق تھا اور وہ ہر چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے، تحقیق اور ریسرچ ان کی زندگی کا خاص مقصد تھا، وہ تحقیق کے ذریعے اللہ وحدہ لا شریک لہٗ کی قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ اسی ذوق، ریسرچ اور تحقیق کے جذبے سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے موت کے بعد زندگی یعنی مر جانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے متعلق اللہ کے حضور سوال کیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’اے ابراہیم! کیا تم اس مسئلے پر یقین نہیں رکھتے؟‘‘حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فوراً عرض کیا:’’میں بلا توقف اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آپ قادر مطلق ہیں، آپ سب کچھ کر سکتے ہیں، میرا سوال اس لئے ہے کہ میں علم الیقین کے ساتھ عین الیقین اور حق الیقین کا خواستگار ہوں۔ میری تمنا ہے کہ ’’اے میرے رب! تو مجھے آنکھوں سے مشاہدہ کرا دے۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’چند پرندے لے لو اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے سامنے والے پہاڑ پر ڈال دو اور پھر فاصلے پر کھڑے ہو کر انہیں پکارو۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو آواز دی تو ان سب کے اجزاء علیحدہ علیحدہ ہو کر اپنی اپنی شکل میں آ گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا:’’اے میرے پروردگار! مجھے دکھا تو کس طرح مردوں کو زندہ کرے گا؟‘‘کہا: ’’کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟‘‘۔ کہا:’’کیوں نہیں لیکن دلی اطمینان چاہتا ہوں۔‘‘کہا: ’’پس چار پرندے لے پھر ان کو اپنے ساتھ مانوس کر پھر رکھ دے ہر ہر پہاڑوں پر ان کے جز ڈال کر۔ پھر ان کو بلا، وہ آئیں گے تیرے پاس دوڑتے ہوئے اور تو یہ جان لے۔ بے شک اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے۔‘‘

(سورۃ بقرہ۔ ۲۶۰)اللہ تعالیٰ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ عرض کرنا کہ ایمان تو ہے لیکن دلی اطمینان کے لئے یہ سوال کرتا ہوں، کا مفہوم یہ ہے کہ دل کے اطمینان کیلئے یقین(مشاہدہ) ضروری ہے۔اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے، کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا-جب ایمان دل میں داخل ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے-

اسلام جسموں پر آتا ہے جبکہ ایمان دلوں میں داخل ہوتا ہے۔ جسم جب اطاعت گزار ہوجائیں، سر جب اللہ کے حضور جھک جائے، بندہ اللہ کے دروازے پر جب ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجائے، ماہ رمضان میں اللہ کے لئے روزہ داربن جائے، حج کے مہینے میں اللہ کے گھر میں لبیک اللھم لبیک کی آوازیں بلند کرتا ہوا چلا جائے، زکوۃ و صدقات دینا شروع ہوجائے۔ نیز احکامات دین پر عمل پیرا ہونا شروع ہوجائے تو یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ دین اس کے جسم سے ظاہر ہورہا ہے۔ پس جب ظاہر اللہ کے حضور جھک گیا تو مسلم ہوگیا اور جب قلب و باطن اللہ کے حضور جھک گئے تو مومن ہوگیا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ سر تو اللہ کی بارگاہ میں جھکا رہتا ہے مگر دل نہیں جھکتا۔ ۔ ۔ اگر دل جھک جائے تو ساری کایا ہی پلٹ جائے۔ ۔ ۔ دل جھک جائے تو ساری زندگی کے طور طریقے بدل جائیں۔ ۔ ۔ دل جھک جائے تو سوچ کے انداز بدل جائیں۔ ۔ ۔ دل جھک جائے تو انسانی زندگی کے تمام اعمال اور رویے بدل جائیں۔ ۔ ۔ دل جھک جائے تو اخلاق بدل جائے۔ ۔ ۔ وہ انسان ایک نیا انسان بن جائے گا۔ لیکن جب صرف ظاہر جھکتا ہے اور دل نہیں جھکتا تو پھر مومن ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا، اسی لئے ارشاد فرمایا کہ مومن ہونے کا دعویٰ اس وقت کرنا جب ایمان داخلِ قلب ہوجائے، جب ایمان تمہارے دل کی حالت بن جائے تب مومن ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے اور اسی کو دل کی تصدیق کرنا بھی کہتے ہیں-۔‘‘

(سورۃ الحجرات۔ اعلیٰ اور اسفل حواس یعنی زندگی کے تمام اعمال کا ریکارڈ ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ ازل تا ابد پورا کائناتی نظام اللہ  بنائی ہوئی فلم ہے، ازل میں موجود یہ ریکارڈ(Film) ہے جو عالم ارواح، عالم برزخ اور عالم ناسوت میں مظاہر بن رہا ہے، ہر عالم ایک اسکرین کی طرح ہے۔ اسکرین پر فلم کا مظاہرہ ہوتا ہے تو دنیا کی ہما ہمی اور گہما گہمی ہمیں نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پرندوں کے ساتھ شکست و ریخت کا جو عمل کیا اس سے پرندوں کا جسمانی نظام بکھر گیا لیکن پرندوں کی زندگی کا اول و آخر ریکارڈ موجود رہا، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے پرندوں کے الگ الگ اعضاء کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا تو ریکارڈ شدہ نظام بحال ہو گیا اور پرندے زندہ ہو گئے۔ مرنے کے بعد جی اٹھنے کا تکوینی قانون بھی یہی ہے کہ اللہ کے حکم سے درہم برہم سسٹم ’’ریکارڈ‘‘ کے مطابق بحال ہو جائے گا۔ یہ جو کچھ ہم نے عالم ناسوت میں کیا ہے وہ سب ریکارڈ ہے جب اللہ تعالیٰ چاہے گا یہ ریکارڈ (فلم) دوبارہ ڈسپلے ہو جائے گا تو ہاتھ ، پیر، آنکھ خود گواہی دیں گے کہ ہم نے اچھے یا برے اعمال کئے ہیں۔اور انکسار کی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر