مقابر کی عمارات کی تعمیر کے لیئے ایران سے انجینئرز ، معماروں کی بڑی ٹیم اور دوسرے ماہرین کو ایک مدعو کیا گیا تھا۔گولکنڈہ دکن کے خوبصورت ترین اور تاریخی یادگار قطب شاہی گنبدوں پر توجہ دے کر اسے پھر سے نئ شکل دی ہے ۔قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر ہندوستان اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں تاکہ دکن اور ایران کے صدیوں پرانے ثقافتی تعلقات کا احیا ہوسکے۔ ہرے بھرے گھنیرے درختوں کے سائے تلے وہ بلند کردار قطب شاہی خاندان کے ارکان آرام کررہے ہیں جنہوں نے 200 سال تک دکن پر حکومت کی اور دنیا کو چارمینار اور شہر حیدرآباد کا تحفہ دیا۔قطب شاہی گنبدوں میں خوبصورت نقش و نگار اور پچی کاری کا کام آج بھی ماضی کی شان و شوکت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ان میں حیات بخشی بیگم کا مقبرہ مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ماں صاحب کے نام سے مشہور اس خاتون نے تین قطب شاہی بادشاہوں کے دور میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ ایک بادشاہ کی بیٹی، ایک حکمران کی بیوی اور حیدرآباد کے بانی محمد قلی قطب شاہ کی والدہ تھیں۔
اسی مناسبت سے ماں صاحبہ کے لیئے سب سے شاندار مقبرہ بنایا گیا تھا اور کئی سال کی مرمت اور تزئین کے بعد یہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ان گنبدوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایسے بلند مقام پر تعمیر کیئے گئے ہیں کہ دور دور سے ان کا نظارہ کیا جاسکتا۔ ان میں سے کچھ مقبرے دو منزلہ اور کچھ ایک منزلہ ہیں اور ان تک پہنچنے کے لیئے سیڑھیوں پر چڑھ کر بلندی تک پہنچنا پڑتا ہے۔ سارے مقبرے اور ان کی کمانیں اور فصیلیں بالکل متوازن انداز میں ایک ہی طرح سے بنائی گئی ہیں اور ہر عمارت کے وسط میں قبروں کی نشانیاں بنی ہوئی ہیں۔ایران اور انڈیا کا تعاون -قلعہ گولکنڈہ کے دامن میں پھیلے وسیع و عریض ابراہیم باغ میں ہند و ایران طرز تعمیر کے ان خوبصورت نمونوں کو ایک نئی زندگی دینے کے منصوبے پر انڈیا اور ایران کے عہدیدار کام کر رہے ہیں کسی زمانے میں ان تمام قبروں پر انتہائی قیمتی ، نیلے اور سبز رنگ کے کتبے لگے ہوئے تھے لیکن بعد میں انہیں چرالیا گیا۔اب ریاستی حکومت نہ صرف ان تمام گنبدوں بلکہ پورے ابراہیم باغ اور اس میں موجود حیات بخشی مسجد اور سرائے کو بھی بحال کرنا چاہتی ہے۔
ریاستی وزیر سیاحت و ثقافت ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کا کہنا ہے کہ 10 کروڑ روپے کے اس منصوبے کا مقصد اس علاقے کو اتنا خوبصورت اور پرکشش بنادینا ہے کہ اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں جگہ حاصل ہوسکے۔حیدرآباد میں واقع ایرانی قونصل خانہ بھی اس پراجیکٹ میں گہری دلچسپی لے رہا ہے ایرانی حکومت کے سینٹر فار ہیریٹیج مانومنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خوشنویس نے اس سلسلے میں ریاستی عہدیداروں سے بات چیت کی ہے۔حیدرآباد میں ایران کے قونصل جنرل حسین راوش کا کہنا ہے کہ ایران پہلی بار ملک سے باہر کسی تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیئے کام کرے گا۔ گیتا ریڈی نے بتایا کہ ایرانی ماہرین کی ایک ٹیم بہت جلد حیدرآباد کا دورہ کرے گی تاکہ منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ریاستی حکومت میں محکمہ سیاحت کی پرنسپل سکریٹری چترا رامچندرن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے کے تحت قطب شاہی گنبدوں کے اطراف ایرانی طرز کے ایک باغ کو ترقی دی جائے گی جن میں باغیچے، کیاریاں اور جھیل ہوں گی۔ یہ باغ بالکل اصفہان کے باغ کے طرز پر بنایا جائے گا۔
حال ہی میں اصفہان کے دورے سے واپس لوٹیں گیتا ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اصفہان اور حیدرآباد کی مماثلت دیکھ کر حیران رہ گئیں اور خود ایرانی عہدیدار بھی اس سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے بھی اس پراجیکٹ کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔یہ نقش و نگار ایران کی قدیم تعمیرات سے گہری مماثلت رکھتے ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہریاستی حکومت کو امید ہے کہ پھر ایک بار ایرانی ماہرین کے یہاں آنے سے نہ صرف ان یادگاروں کی اصل خوبصورتی اور رونق بحال ہوگی اور حیدرآباد سیاحت کے عالمی نقشے پر ایک اہم منزل بن کر ابھرے گا بلکہ ایران اور حیدرآباد کے قدیم تعلقات بھی پھر ایک مرتبہ اسی عروج پر پہنچیں گے۔حکومت اس منصوبے کو اس انداز میں روبہ عمل لانا چاہتی کہ ان مقبروں اور دوسری عمارتوں کی اصل حیثیت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ ایرانی ماہرین چارمینار، اور قلعہ گولکنڈہ کی تزئین اور بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ حیدرآباد کے شاندار تاریخی ورثے کا تحفظ ہوسکے۔ گیتا ریڈی نے امید ظاہر کی کہ یہ پراجیکٹ حیدرآباد کی خوبصورتی میں چار چاند لگادے گا۔1912ء میں صدر المہام حیدرآباد نواب میر یوسف علی خان، سالارجنگ سوم نے اِن مقابر کی بحالی و مرمت کا حکم جاری کیا۔اِس احاطہ میں ایک نیا کنواں کھدوایا گیا اور ایک خوشنماء باغ دوبارہ لگایا گیا۔
تحریر انٹر نیٹ کی مدد سے لکھی گئ ہے