پیر، 1 ستمبر، 2025

زمین کی میخیں پہاڑ ہیں

 

  "'زمین کی میخیں پہاڑ ہیں  "پہاڑوں کا زمین کی سطح پر میخوں کی طرح گڑے ہونا!! مفسرین کرام کے مطابق جب زمین پیداکی گئی تو ابتداً لرزتی تھی ،ڈولتی تھی ،جھولتی تھی اور ادھر ادھر ہچکولے کھاتی تھی۔ایسی صورت میں انسان کا اس پر زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی پشت پر جابجا پہاڑوں کے طویل سلسلے میخوں کی طرح بنا دیے اور انہیں اس تناسب سے جابجا مقامات پر پیدا کیا جس سے زمین پر لرزش اور جھول بند ہو گئی اور وہ اس قابل بنا دی گئی کہ انسان اس پر اطمینان سے چل پھر سکے۔قرآن اور جدید سائنس کی روشنی میں ایک حیرت انگیز تحقیق ابھی حال ہی میں ماہرین ارضیات نے دریافت کیا ہے کہ زمین پر موجود پہاڑوں کی ایک خاص اہمیت ہے اور یہ زمین کی سطح میں بالکل میخوں یعنی کیلوں کی طرح گھڑے ہوئے ہیں۔ جدید ماہرین ارضیات ہمیں بتاتے ہیں کہ زمین کا نصف قطر 6,378 کلو میٹر ہے۔ زمین کی سب سے باہری سطح ٹھنڈی ہے لیکن اندرونی پرتین ا نتہائی گرم اور پگھلی ہوئی حالت میں ہیں۔


 اس پر مکانات وغیرہ تعمیر کر سکے اور سکون سے پوری زندگی بسر کر سکے۔دوسرے مقام پرارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَجَعَلْنَا فَی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بَھِمْ ص وَجَعَلْنَا فَیْھَا فِجَاجًا سُبُلًا  لَّعَلَّھُمْ یَھْتَدُوْنَ)  اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈُھلک نہ جائے اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں 'شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کر لیں''  (الانبیاء،21:31)  جہاں زندگی کا کوئی امکان موجود نہیں اور یہ کہ زمین کی سب سے بیرونی پرت جس پر ہم آباد ہیں ،نسبتاً انتہائی باریک ہے۔مختلف جگہوں پر اس کی موٹائی1 سے 70 کلومیٹر تک ہے چنانچہ یہ ممکن تھا کہ زمین کی یہ پرت یا تہہ (Crust) اپنے اوپر بوجھ کی وجہ سے کسی بھی وقت ڈگمگا جاتی۔ جسکی ایک وجہ''بل پڑنے کا عمل'' ہے جس کے نتیجے میں پہاڑ بنتے ہیں اور زمین کی سطح کو استحکام ملتا ہے۔ڈاکٹر فرینک پریس امریکہ کے ایک ماہر ارضیات ہیں اور یہ امریکی صدر جمی کارٹر کے مشیر بھی رہ چکے ہیں ۔انہوں نے ایک کتاب پہاڑوں کے اوپر تصنیف کی جو اب امریکی  ' یونیورسٹیز کے ارضیات کے نصاب میں شامل ہے ۔


 اس میں وہ لکھتے ہیں کہ کہ پہاڑ مثلث نما ہوتے ہیں ،زمین کے اندر گہرائی تک ان کی جڑیں ہوتی ہیں اور یہ کہ پہاڑ زمین کو استحکام فراہم کرتے ہیں۔ جغرافیائی ماہرین کے مطابق زمین کا اندرونی مرکز سطح زمین سے تقریبا ً6,378 کلومیٹر دور ہے جو کور (Core) کہلاتا ہے۔ اسکے اندرونی اور بیرونی حصے ہیں۔ اندرونی مرکزی حصہ ٹھوس لوہے کے ایک بڑے گیند کی شکل میں ہے۔ اس میں نکل اور لوہا ہے۔ اس کی بیر ونی سطح دھاتوں کے پگھلے ہوئے مادے پر مشتمل ہے جو زمین کی سطح سے نیچے گہرائی کی جانب تقریبا 2,900 کلومیٹر  دور واقع ہے ۔  اس کے اوپر والا حصہ (حفاظتی ڈھال یا غلاف) Mantale ہے جو زمین کی اوپر والی تہہ سے تقریباً 100 کلومیٹر نیچے سے شروع ہو کر 2,900 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔زمین کا زیادہ تر حصہ اسی پر مشتمل ہے لہٰذا اسی وجہ سے اس پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنا دیا گیا تاکہ زمین کاتوازن برقرار رہے اور یہ اپنی جگہ سے لڑھک نہ جائے 'قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کابار ہا مرتبہ تذکرہ فرمایا ہے۔ 


مثلاً...(اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِھٰدًا ۔ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا)'' کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اور پہاڑوں کو میخیں ''  ( النبا، 78: 6-7)قرآن یہ نہیں کہتا کہ پہاڑوں کو میخوں کی طرح زمین میں اوپر سے گاڑا گیا ہے بلکہ یہ کہ پہاڑوں کو میخوں کی طرح بنایا گیا ہے۔ "اوتادا"ً کا مطلب خیمے گاڑنے والی میخیں ہی ہوتا ہے ۔آج جدید ارضیات بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ پہاڑوں کی جڑیں زمین میں گہرائی تک ہوتی ہیں ۔یہ بات انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں سامنے آئی تھی کہ پہاڑ کا بیش تر حصہ زمین کے اندر ہوتا ہے اور صرف تھوڑا سا حصہ ہمیں نظر آتا ہے ،بالکل اسی طرح جیسے زمین میں گڑی ہوئی میخ کا بیش تر حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا ہے یا جس طرح ''آئس برگ'' کی صرف چوٹی ہمیں نظر آتی ہے جبکہ نوے فیصد حصہ پانی کے اندر ہوتا ہے ۔انڈین پلیٹ بحر ہند کے کنارے واقع ممالک خاص طور پر انڈیا،سری لنکا ،اورتھا ئی لینڈ سے انڈونیشیا اورملایا تک پھیلی ہوئی ہے۔  ماہرین ارضیات کے مطابق پہاڑ ٹیکٹونز پلیٹوں کے کناروں پر پائے جاتے ہیں یہ زمین کی بیرونی سطح کو جمانے اور مستحکم بنانے میں ممدومعاون ہیں۔


اتوار، 31 اگست، 2025

دریاؤں کے کنارے آباد قدیم تہزیبیں

 


 یہ کہانی آج کی نہیں بلکہ  روز ازل  سے انسان نے دریاؤ ں کے کنارے   رہنے اور بسنے کا رواج ڈالا مصر نے سمندر کی تہہ میں ایک قدیم ڈوبی ہوئی بستی کے آثار  برآمد کئے ہیں۔ ان کھنڈرات میں  عمارتوں کے حصے، قیمتی نوادرات اور ایک قدیم بندرگاہ شامل ہے، جن کی تاریخ ۲؍ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جا رہی ہے۔مصری حکام کے مطابق یہ مقام ابو قیر بے کے سمندر  میں واقع ہے اور ممکنہ طور پر قدیم شہر’’کینوپس‘‘ کا ہی حصہ ہے جوبطلیموسی شاہی  دور کا میں ایک اہم مرکز تھا۔ اس خاندان نے تقریباً۳۰۰؍ سال  مصر پر حکومت کی، جبکہ بعد میں رومی سلطنت نے یہاں تقریباً ۶۰۰؍  برس حکمرانی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل زلزلوں اور سمندری سطح بلند ہونے کی وجہ سے یہ شہر اور اس کے قریب کا بندرگاہی شہر’’ہیرکلیون‘‘ سمندر میں ڈوب گیا۔ اس کے بعد سے یہ علاقہ قدیم آثار کا ایک خزانہ بن چکا ہے۔جمعرات کو کرینوں کے ذریعے سمندر کی تہہ سے مجسمے نکالے گئے۔اس کامیابی پر غوطہ خور جو انہیں نکالنے میں شامل تھے، ساحل پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے۔


 مصری وزیر سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے کہا ہے کہ ’’سمندر کے نیچے اب بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے، لیکن ہم صرف مخصوص اور قیمتی اشیاء کو سخت معیار کے تحت نکال سکتے ہیں۔‘‘ یہ دریافت نہ صرف مصر کی سیاحتی صنعت کیلئےایک بڑی خوشخبری ہے بلکہ عالمی ماہرین آثارِ قدیمہ کیلئے بھی ایک انمول تحفہ سمجھی جا رہی ہے۔مصر نے سمندر کی تہہ میں ایک قدیم ڈوبی ہوئی بستی کے آثار  برآمد کئے ہیں۔ ان کھنڈرات میں عمارتوں کے حصے، قیمتی نوادرات اور ایک قدیم بندرگاہ شامل ہے، جن کی تاریخ ۲؍ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی بتائی جا رہی ہے۔مصری حکام کے مطابق یہ مقام ابو قیر بے کے سمندر  میں واقع ہے اور ممکنہ طور پر قدیم شہر’’کینوپس‘‘ کا ہی حصہ ہے جوبطلیموسی شاہی  دور کا میں ایک اہم مرکز تھا۔ اس خاندان نے تقریباً۳۰۰؍ سال  مصر پر حکومت کی، جبکہ بعد میں رومی سلطنت نے یہاں تقریباً ۶۰۰؍  برس حکمرانی کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل زلزلوں اور سمندری سطح بلند ہونے کی وجہ سے یہ شہر اور اس کے قریب کا بندرگاہی شہر’’ہیرکلیون‘‘ سمندر میں ڈوب گیا۔


 اس کے بعد سے یہ علاقہ قدیم آثار کا ایک خزانہ بن چکا ہے۔جمعرات کو کرینوں کے ذریعے سمندر کی تہہ سے مجسمے نکالے گئے۔اس کامیابی پر غوطہ خور جو انہیں نکالنے میں شامل تھے، ساحل پر خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے۔مصری وزیر سیاحت و آثارِ قدیمہ شریف فتحی نے کہا ہے کہ ’’سمندر کے نیچے اب بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے، لیکن ہم صرف مخصوص اور قیمتی اشیاء کو سخت معیار کے تحت نکال سکتے ہیں۔‘‘ یہ دریافت نہ صرف مصر کی سیاحتی صنعت کیلئےایک بڑی خوشخبری ہے بلکہ عالمی ماہرین آثارِ قدیمہ کیلئے بھی ایک انمول تحفہ سمجھی جا رہی ہے- اب زرا ایک نظر دریائے سندھ کے کناروں پر آباد  قدیم تہذیبوں پر نظر ڈالتے ہیں - وادی سندھ کی قدیم تہذیب کا ایک مرکز  موئن جو دڑو بھی تھا۔ یہ لاڑکانہ سے بیس کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی، وادی سندھ کی تہذیب کے ایک اور اہم مرکز ہڑپہ صوبہ پنجاب سے 686 میل دور ہے۔یہ شہر 2600 قبل مسیح موجود تھا اور 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ختم ہو گیا۔ تاہم ماہرین کے خیال میں دریائے سندھ کے رخ کی تبدیلی، سیلاب، بیرونی حملہ آور یا زلزلہ اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اسے قدیم مصر  کی تہذیبوں کا ہم عصر سمجھا جاتا ہے۔



 1980ء میں یونیسکو نے اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ عظیم تہذیب کی دریافت-1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپہ کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال کے بعد اسی طرح کے آثار راکھال داس بینرجی کو موہن جودڑو کی سر زمین میں دستیاب ہوئے۔ اس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کو ملی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔ چنانچہ رائے بہادر دیا رام سہنی، ڈائریکٹر ارنسٹ میکے اور محکمہ آثاریات کے دیگر احکام کے تحت کھدائی کا کام شروع ہوا تاہم کھدائی کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔ وادی سندھ کی تہذیب کی بے نقابی اور تشریح شاید بیسویں صدی کا عظیم ترین عصریاتی واقعہ ہے۔ کیوں کہ اس تہذیب کی وسعت اور معنویت کو 1922ء میں موہن جو دڑو کی کھدائی سے پہلے سمجھا ہی نہ جا سکا

ہفتہ، 23 اگست، 2025

اب کراچی والوں کا آخری سہارا سپریم کورٹ ہے

 




   فرنگی  اس خطے میں اپنے اغراض  و مقاصد لے کر آئے تھے لیکن  جاتے ہوئے وہ ہم کو ایسے پائیدار اثاثے دے گئے کہ ہم اپنی آزادی کے  بعد اسی برس ہونے کو آئے  ان کے مقابلے کا  تو کیا اس معیار کے پانچویں درجے کا بھی کوئ اثاثہ نہیں بنا سکے   ان کا بنایا ہوا ڈرینج  سسٹم آج بھی صحیح و سالم حالت میں موجود ہے اور کام کر رہا ہے  -ٹرانسپورٹ  کا کتنا بہترین نظام ہوا کرتا تھا  جو کراچی میں تعینات پولیس مافیا نے  برباد کر کے کھڈے لائن لگا دیا  ہے اور اب   کراچی والوں کا آخری سہارا سپریم کورٹ ہے، وطن عزیز میں کہاں کیا مسئلہ ہے اور اسے کیسے حل کیا جاسکتا ہے اس پر غورو خوض ہورہا ہے، بتدریج یہ عمل تیزی اور مزید شفافیت کی جانب مائل ہے۔اسی سپریم کورٹ نے حال ہی میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور ریلوے کی زمینوں سے قبضہ چھڑانے کا حکم جاری کیا ہے۔سپریم کورٹ نے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے تمام علاقوں سے ریلوے لائنز کلیئر کرائی، کے ایم سی اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے بوگیاں تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقامی انتظامیہ ریلوے کی مدد سے روٹ کا تعین کرے گی ۔اعلیٰ عدالت نے سیاحتی مقاصد کیلئے صدر سے اولڈ سٹی ایریا تک ٹرام لائن کی بحالی کا بھی حکم دیا۔ گزشتہ دنوں تجاوزات کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے جن پر برق رفتاری سے کام کیا جارہا ہے، اس فیصلے کے نتیجے میں آج ہم کراچی کی ان عمارتوں کو دیکھنے کے قابل ہوئے ہیں جنہیں تجاوزات نے ہم سے چھپا رکھا تھا۔


اس کے بعد عدالت کی جانب سے دوسرا بڑا حکم سرکلر ریلوے کے حوالے سے آیا جس نے ایک جانب عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی تو دوسری جانب تشویش۔خوشی اس لئے کہ سفری سہولیات کی عدم دستیابی اس شہر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، سرکلر ریلوے کی بحالی اس مسئلے کا سب سے احسن حل ہے جبکہ تشویش اس لئے کہ اس حل تک پہنچنے کیلئے بے شمار تجاوزات راہ میں حائل ہوں گی جنہیں دور کرنا یقیناً دشوار گزار مرحلہ ہے،گو اس وقت شہر میں گرین لائن منصوبے کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے اور اس سے مخصوص روٹ کے مسافروں کو کافی سہولت ہوجائے گی لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر یہ انتہائی ناکافی ہے۔سپریم کورٹ نے سرکلر ریلوے کی بحالی کےساتھ ساتھ ریلوے کی زمین پر سے تجاوزات ختم کرانے کا حکم بھی دیا ہے جس کے بعد سرکلر ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کیلئے آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ۔


ان اطلاعات کے ساتھ ہی کراچی کے مختلف علاقوں میں ریلوے انتظامیہ کی جانب سے سرکلر ریلوے کی زمین لیز پر دیئے جانے کی خبریں سامنے آنے لگیں،شنیدن ہے کہ ریلوے حکام نے سرکلر ریلوے لائن پر قائم تجاوزات کی لیز سے متعلق ڈپٹی کمشنر ساﺅتھ اور متعلقہ محکمے کو خط لکھا ہے جس کا متن کچھ یوں ہے کہ سرکلر ریلوے کی زمین پٹرول پمپ، پارکنگ اور گودام کیلئے لیز پر دی گئی گی ،لیز پر دی گئی زمینیں ضلع وسطی، جنوبی سمیت دیگر اضلاع میں واقع ہیں جن میں وزیر مینشن، گلبائی، لیاقت آباد اور پاپوش نگر کے علاقے قابل ذکر ہیں۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ریلوے ٹریک پر جگہ ،جگہ تجاوزات ، جھونپڑ یا ں اور غیر قانونی تعمیرات ہیں جنہیں واگزار کرنے کیلئے حکومت کو 21 کلو میٹر ٹریک سے تجاوزات کا خاتمہ کرانا ہوگا یعنی ضلع شرقی میں 20 کلو میٹر ٹریک میں سے 11 کلو میٹر پر ،ضلع وسطی میں 7 میں سے 6 کلو میٹر پر ،ضلع غربی میں ساڑھے11 میں سے ڈھائی کلو میٹر ٹریک پر قبضہ ہے، ضلع جنوبی کے ساڑھے چارمیں سے ڈیڑھ کلو میٹر ٹریک پر تجاوزات قائم ہیں۔



یاد رہے کہ 1999ءمیں بند ہونے والی سرکلر ریلوے کے ٹریک پر 2005 ءتک صرف چند مقامات پر ہی تجاوزات تھیں ،بعد ازاں قبضہ مافیا کی جانب سے لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد، گلشن اقبال، ناظم آباداور گلستان جوہر سے گزرنے والے ٹریک پر تجاوزات قائم کرادی گئیں،جن میں فرنیچر، غیر قانونی دکانیں، گودام مختلف کارخانے، مویشی منڈیاں، رکشہ اسٹینڈ، گاڑیوں کے ورکشاپ، کباڑ بازار اور رہائشی کالونیاں شامل ہیں۔ گلشن اقبال 13 ڈی، بھنگوریا گوٹھ اور پاپوش میں تو ریلوے ٹریک لاپتہ ہی ہو گیا ہے اور کئی کلومیٹر علاقے پر اب کاروباری مراکز قائم ہو چکے ہیں۔نارتھ ناظم آباد ٹریک پر کانٹے والے ملازم کے کوارٹرپر قبضہ کر کے تندور قائم کردیا گیا بعض ریلوے ٹریکس پر سگنلز آج بھی آویزاں ہیںجبکہ نارتھ ناظم آباد، لیاقت آباد اور گلشن اقبال ریلوے ٹریکس پر سے پھاٹک غائب ہوچکے ہیں، مختلف علاقوں میں ٹریکس ختم کرکے کچی سڑکیں بنائی جاچکی ہیں جبکہ ریلوے ٹریک کو کچرا کنڈیوں کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے،


 بعض ٹریکس جرائم پیشہ اور منشیات کے عادی افراد کی آماجگاہیں بن چکے ہیں۔یاد رہے کہ حکومت سندھ کو سرکلر ریلوے منصوبے کیلئے 360 ایکڑ زمین درکار ہے، جس میں سے 70 ایکڑ پر قبضہ ہے جہاں 4500کے قریب مکانات اور 3000دیگر تعمیرات موجود ہیں۔سرکلر ریلوے کا منصوبہ 1969 ءمیں پاکستان ریلوے کی جانب سے شروع کیا گیا تھاجس کے تحت ڈرگ روڈ سے سٹی اسٹیشن تک خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں ، اس اس سہولت سے سالانہ 60لاکھ افراد مستفید ہوا کرتے تھے ۔سرکلر ریلوے کی افادیت کے پیش نظر 70سے 80 کی دہائی کے درمیان کراچی سرکلر ریلوے کے تحت روزانہ 24 ٹرینیں لوکل لوپ ٹریک اور 80 مین ٹریک پر چلائی گئیں۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہوکر لیاقت آباد سے گزر کر سٹی اسٹیشن کراچی پر ختم ہوتی تھی جبکہ مرکزی ریلوے لائن پر بھی کراچی سٹی اسٹیشن سے لانڈھی اور کراچی سٹی اسٹیشن سے ملیر چھاونی تک ٹرینیں چلاکرتی تھیں

جمعہ، 22 اگست، 2025

کراچی میں پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی

 


       21  اگست  2025  ءکی کراچی سے خبر ہے -   کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 34 افراد زخمی  2 لوگ جاں بحق ہوگئے ہیں ۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے گودام میں دھماکے سے زخمیوں کی تعداد 34 ہوگئی، جناح اسپتال میں 20 جبکہ سول اسپتال میں 14 زخمی لائے جا چکے ہیں، جناح اسپتال میں 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ایم اے جناح روڈ کراچی میں آتشبازی کے گودام میں زوردار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی ، ۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے سے گرد و نواح کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور آگ لگ گئی تھی، جس پر چند گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد قابو پالیا گیا، گودام میں لگی آگ بھجانے میں 10 فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا،  پٹاخوں کے گودام میں دھماکے اور آگ لگنے کے بعد سیاہ دھواں پھیل گیا تھا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے گودام میں دھماکے  کے بعد جناح اسپتال میں 20 جبکہ سول اسپتال میں 14 زخمی لائے جا چکے ہیں، جناح اسپتال میں 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 



پولیس کا کہنا ہے کہ گودام کے مالکان دو بھائی ہیں، دھماکے میں زخمی ہوئے ایک بھائی کا ابتدائی بیان لیا گیا ہے، دونوں کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں ایسے گوداموں کی اجازت نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اس سے قبل  سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ایسٹ فرخ رضا کا کہنا تھا کہ آتش بازی کے گودام میں دھماکا ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ہوا ہے، ایسٹ پولیس پریڈی پولیس کو ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا کا کہنا تھا کہ امدادی رضا کاروں اور فائر بریگیڈ کے عملے کو سہولت دی جا رہی ہے۔کراچی کے علاقے صدر میں ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں زور دار دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔


دھماکا تاج کمپلیکس کے قریب الآمنہ پلازہ کی بیسمنٹ میں قائم پٹاخوں کے گودام میں سہ پہر کے وقت ہوا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ قریبی اسکول اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ ایک نوجوان کی لاش ملبے سے نکالی گئی۔جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت اسد شاہ کے نام سے ہوئی، جو پٹیل پاڑہ کا رہائشی اور مدرسے کا طالبعلم تھا۔ اسد کے چچا جمال شاہ کے مطابق، وہ اپنے بھائی افسر شاہ سے ملاقات کے لیے عمارت میں آیا تھا کہ دھماکے کی زد میں آ گیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق زخمیوں کو جناح اسپتال اور سول اسپتال منتقل کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے سے عمارت کے ستون اور دیواریں متاثر ہوئیں، سیمنٹ کے بلاکس وہاں کھڑی گاڑیوں پر جاگرے، جبکہ قریبی دکانوں، اسکول اور رہائشی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔


فائربریگیڈ کی بارہ گاڑیوں، دو باؤزرز اور ایک اسنارکل کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا اور متاثرہ عمارت کی چھت پر پھنسے افراد کو بحفاظت اتارا گیا۔گودام میں دھماکا خیز مواد موجود تھا: سی ٹی ڈی-چیف فائرآفیسر ہمایوں نے بتایا کہ تاج میڈیکل کمپلیکس کے قریب ’ الآمنہ پلازہ‘ کے تہہ خانے میں سپر فائر ورکس کے نام سے گودام قائم تھا، جہاں آتشبازی کے سامان کی تیاری کے لیے خام مال ذخیرہ کیا گیا تھا جبکہ سی ٹی ڈی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے انکشاف کیا کہ گودام میں صرف آتشبازی کا نہیں بلکہ دھماکا خیز مواد بھی موجود تھا۔انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ لوگ اسے آتشبازی کا سامان کہتے ہیں مگر اس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔ قانون کے مطابق ایک دکان میں 50 کلوسے زیادہ مواد نہیں رکھاجاسکتا۔ انہوں نے رہائشی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو نہایت خطرناک قرار دیا۔واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں دھماکے کے فوری بعد آگ کے شعلے بلند ہوتے اور شہریوں کو بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔

جمعرات، 21 اگست، 2025

دریا اپنا راستہ کبھی بھی کسی کو نہیں دیتا

   

دریا اپنا راستہ کبھی بھی کسی کو نہیں دیتا -در یا کافی دنوں سے خشک پڑا تھا  جہاں ناشتہ کر رہے تھے وہ حادثہ کے مقام سے تھوڑا دور تھا اور اس وقت پانی کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔پہاڑوں پر 2 دن سے مسلسل بارش ہو رہی تھی جسکی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور دیکھتے دیکھتے پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا اور اچانک پانی کو آتے دیکھ کر یہ لوگ  خوشی کے مارے دیوانہ وار پاگلوں کی طرح وہاں دور آگے دوڑ کر گئے تاکہ ویڈیوز اور تصاویر بنا سکیں اور کچھ لوگ پانی کے قریب بھاگ کر گئے اور وہاں سیلفیاں بناتے ہوئے فوٹوگرافی کرنا شروع کر دی جبکہ ان کے کچھ رشتے دار بیٹھے رہے اور منع کرتے رہے کہ زیادہ اندر مت جائیں لیکن یہ گروہ  پانی کے ساتھ سیلفیاں لیتے رہے بلکہ بیٹھے رہ جانے والے باقی افراد کو بھی بلاتے رہے کہ آ جائیں اور پانی کو دیکھیں لیکن باقی رشتہ دار بیٹھے رہے اور انکو آوازیں دے کر بلاتے رہے کہ واپس آ جائیں اور انکو چیخ چیخ کر کہا کہ پیچھے سے پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا ہے نکلو فوری لیکن اس بدنصیب خاندان کے چند افراد کا سیلفی جنون ختم نہیں ہوا اور پھر پانی کا بہت بڑا ریلا آ گیا اور یہ لوگ خوفزدہ ہو کر کنارے کی طرف نہیں بھاگے بلکہ ڈر کے مارے اس ٹیلے پر چڑھ گئے اور پھر جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔



  تصاویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن بدلتے رہے لیکن پانی کا بہاؤ اور لیول بڑھتا گیا اور لوگ دریا کنارے ویڈیوز بناتے رہے لیکن مدد کے لئے کوئی نہیں گیا نہ ہوٹل والے اور نہ مقامی انتظامیہ آگے آئی اور پھر دردناک سانحہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہو گیا-پختونخوا میں دریائے سوات میں ایک المناک واقعے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔ بدقسمت خاندان دریائے سوات کے کنارے تفریح کے لیے ڈسکہ، سیالکوٹ سے آیا تھا۔ خاندان کے لیے خوشی کے یہ لمحات قیامت میں تبدیل ہو گئے۔بتایا جاتا ہے کہ مینگورہ بائی پاس کے قریب اچانک پانی کا ریلا آنے سے 16 افراد دریا میں بہہ گئے۔ خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں آج کل موسلادھار بارشیں ہو رہی ہیں۔ مختلف اطلاعات کے مطابق دریائے سوات میں سات مقامات پر ڈوبنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 75 سے زائد افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے۔سوات بائی پاس پر بچوں، خواتین اور مردوں سمیت 19 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے،


ان میں ڈسکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 11 افراد بھی شامل ہیں جن میں سے صرف تین کو بچایا جاسکا، ڈوبنے والے افراد کی ہولناک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، بدقسمت خاندان دریا کی بپھری ہوئی موجوں میں گھرا رہا اور مدد کا انتظار کرتا رہا۔ دریا کے کنارے پر موجود عام لوگوں نے اپنے طور پر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن دریا کا پانی بہت تیز تھا، جس کی وجہ سے ان کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔دوسری جانب وہ تمام لوگ عام شہری تھے جنھیں اس قسم کی ہنگامی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی تربیت حاصل تھی اور نہ ہی ان کے پاس حفاظتی سامان اور دیگر آلات موجود تھے۔ دوسری جانب اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری اداروں کو اطلاعات بھی پہنچائی گئیں لیکن بروقت امداد نہ پہنچ سکی۔صوبائی ریسکیو ادارے دریا میں گھر ہوئے افراد کو بچانے میں ناکام رہے بلکہ موقع پر ہی نہ پہنچ سکے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے غفلت برتنے پر2 اسسٹنٹ کمشنرز سمیت 4 افسران کو معطل کردیا ہے۔


اس المناک اور افسوس ناک سانحے پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے افسوس کا اظہار کیا ہے، واقعات کے مطابق ڈسکہ، سیالکوٹ کا بدقسمت خاندان گزشتہ رات سوات گیا، اس خاندان کے ساتھ کوسٹر میںڈسکہ کے ہی 35 افراد سوار تھے، یہ سب آپس میں رشتے دار اور تعلق والے تھے۔جمعے کو سوات بائی پاس کے مقام پر ناشتہ کے لیے رکے اس دوران سیلابی ریلہ آگیا تو خاندان نے فوری طور پر اونچے ٹیلے پر پناہ لی، ان کے ساتھ مردان اور کراچی کے تین افراد بھی تھے، رفتہ رفتہ پانی کا بہاؤ تیز اور اونچا ہوتا گیا اور ایک ایک کرکے تمام 19افراد دریا میں بہہ گئے، مقامی افراد کے مطابق انھوں نے فوراً ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی مگر امدادی ٹیمیں کافی تاخیر سے پہنچیں، تب تک لوگ دریا میں بہہ چکے تھے۔میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ڈوبنے والی فیملیز دریا کے پاٹ میں بجری کے ایک ٹیلے پر ناشتہ کر رہی تھیں، یہاں بریک فاسٹ پوائنٹ غیرقانونی طور پر بنایا گیا تھا۔



 اچانک دریا میں پانی کی سطح بلند ہوئی اور وہ ٹیلہ چاروں طرف سے پانی میں گھِر گیا، وہ لوگ دریا کے کنارے تک نہیں پہنچ سکے، مرد ،خواتین اور بچے چیختے رہے اور سامنے موجود لوگوں سے مدد کی اپیل کرتے رہیں لیکن کسی قسم کے امداد فراہم نہیں ہوسکی اور تمام افراد پانی کے ریلے میں بہہ گئے ، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے جوان کافی دیر بعد نمودار ہو گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔سانحہ سوات نے پورے ملک کو سوگ میں ڈبو دیا ہے۔ اس دردناک سانحے کے وڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ جسے دیکھ کر ہر دردِدل رکھنے والا شخص دکھی ہو گیا ہے۔ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں سیر وتفریح کے لیے جانا ایک معمول کی بات ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں حکومتوں نے کبھی بنیادی انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ نہیں دی اور نہ ہی ریسکیو اداروں کے اہلکاروں اور افسروں کی جوابدہی کا کوئی میکنزم بنایا ہے۔ سانحہ سوات کی وڈیو کلپس دیکھ کر یہ احساس زیادہ گہرا ہوتا ہے کہ بدقسمت خاندان کو بآسانی بچایا جاسکتا تھا۔ اگر تربیت یافتہ عملہ ہوتا اور ان کے پاس ریسکیو کا سامان اور آلات ہوتے تو ٹیلے پر موجود لوگوں کو بچانا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔

شمالی علاقوں کا حسن جو گہنا گیا

 



 


گلگت بلتستان کا خطہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، برف باری معمول سے کم ہو رہی ہے، گلیشیئر بھی متاثر ہو رہے ہیں، ساتھ ساتھ بغیر منصوبہ بندی کے تیز رفتاری سے ہونے والی ترقیاتی کام بھی اس کے ماحولیاتی نظام میں خلل ڈال رہے ہیں۔شمالی علاقوں کے درخت بے دردی سے کاٹے جارہےہیں -گلگت  بلتستان کا خطہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، برف باری معمول سے کم ہو رہی ہے، گلیشیئر بھی متاثر ہو رہے ہیں، ساتھ ساتھ بغیر منصوبہ بندی کے تیز رفتاری سے ہونے والی ترقیاتی کام بھی اس کے ماحولیاتی نظام میں خلل ڈال رہے ہیں۔نہایت بےہنگم اور ہر کسی گائیڈ لائن کے بغیر ہونے والی بلا روک و ٹوک تعمیرات زرعی زمینوں اور سبزہ و گیاہ کو تیزی سے نگل رہی ہیں، وہیں پر سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے جگہ جگہ بغیر پلاننگ کے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹل بے ترتیب کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔محکمہ جنگلات   میں درکار بنیادی اصطلاحات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی جسکی وجہ سے جنگلات کے محدود ذرائع پر بہت دباؤ ہے۔  بااثر لوگوں کی سپورٹ، الیکٹرک آروں، گاڑیوں اور اسلحہ سے لیس ٹمبر  مافیا سے ان جنگلات کو محفوظ رکھنے کے لئے محکمہ جنگلات نے 3500 نہتے اور  پیدل فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز تعینات کر رکھے ہیں۔



 ایک فارسٹ  گارڈ/فارسٹر کے پاس اوسطاَ 100 سے 500 کلومیٹر لمبی نہروں/سڑکوں کے کنارے  موجود درختوں یا 500 سے 2000 ایکڑ جنگل کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری ھوتی ہے  جس کے لئے وہ 24/7 راؤنڈ دی کلاک زمہ دار ھوتے ہیں، جنگل میں مسلسل  باقاعدگی سے پیٹرولنگ کرنا اور نقصان جنگل کی صورت میں ڈیمیج رپورٹ کے  ذریعے اپنے بلاک آفیسر کو آگاہ کرنا فارسٹ گارڈ کی بنیادی ڈیوٹی ہے۔ یہ  قیمتی جنگل وسیع علاقے میں بکھرے ہوتے ہیں جس پر ٹمبر مافیا کی نظر ھوتی ہے  لیکن اس کی حفاظت ایک اکیلے،نہتے اور معمولی تنخواہ لینے والے فارسٹ گارڈ  اور فارسٹر کی ذمہ داری ہے جن کے لئے ٹمبر مافیا کا مقابلہ کرنا ناممکن ہےنہایت بےہنگم اور ہر کسی گائیڈ لائن کے بغیر ہونے والی بلا روک و ٹوک تعمیرات زرعی زمینوں اور سبزہ و گیاہ کو تیزی سے نگل رہی ہیں، وہیں پر سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے جگہ جگہ بغیر پلاننگ کے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹل بے ترتیب کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔وڈ برسٹ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ کلاوڈ برسٹ کی اصطلاح سنی اورپھر آنکھوں سے دیکھی بھی  اور خوفناک ترین مناظر بھی دیکھے جیسے پہاڑوں سے سیاہ رنگ کا ملبہ بہتے ہوئے شہر کی جانب آتے دیکھا  تو دوسری جانب بادل جو پھٹ کے پہاڑ پر گرا تو پہاڑ کئ ٹن وزنی پتھروں میں چورا چورا ہوا اور پھر نشیب میں  آبادی پر گھروں میں آ کے ٹکرائے اور انسان مویشی مال و اسباب سب کے تہس نہس کر ڈلا  -، کلاؤڈ برسٹ ہماری زمین کو متاثر کرنے والی ماحولیاتی تبدیلی کا ایک نیا مظہر ہے۔


 اس میں نام کی طرح عملاً بادل نہیں پھٹتے، تاہم بہت کم وقت میں ایک چھوٹے سے علاقے پر اچانک اتنا پانی برستا ہے کہ زمین اور نکاسی کا نظام اس کو سنبھال نہیں پاتا۔ اگر ایسی صورتحال ہو تو یہ برساتی پانی سیلابی ریلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے جب کہ مٹی کے تودے گرنےاور کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب زمین یا فضا میں موجود بادلوں کے نیچے سے گرم ہوا کی لہر اوپر کی جانب کلاوڈ برسٹ کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے اٹھتی ہے اور بادل میں موجود بارش کے قطروں کو ساتھ لے جاتی ہے۔ اس وجہ سے عام طریقے سے بارش نہیں ہوتی اور نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی بننے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے کیونکہ بارش کے نئے قطرے بنتے ہیں اور پرانے قطرے اپ ڈرافٹ کی وجہ سے واپس بادلوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں،جس کا نتیجہ طوفانی بارش کی شکل میں نکلتا ہے کیونکہ بادل اتنے پانی کا بوجھ برداشت نہیں کرپاتے۔ محکمہ موسمیات پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کو رین گش اور رین گسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرکسی چھوٹے علاقے میں مختصر وقفے میں شدید بارش ہوجائے تو اسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ مخصوص علاقے میں ایک گھنٹے میں کم سے کم 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جائے۔انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کلاؤڈ برسٹ مقامی واقعہ ہوتا ہے، جو مختصر وقفے کے لیے رونما ہوتا ہے اور گرج چمک اور شدید برقی یا بجلی کی سرگرمی کی وجہ بنتا ہے۔



 اس میں عموماً بادل کے نیچے کی ہوا اوپر اٹھتی ہے اور پانی کے قطروں کو کچھ دیر گرنے سے روکتی ہے۔ اب جیسے ہی ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے پانی کی بڑی مقدار بادل سے گرتی ہے اور یوں بادلوں کا پانی گویا اس طرح بہتا ہے ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کلاؤڈ برسٹ کے زیادہ ترواقعات پہاڑی علاقوں میں رونما ہوتے ہیں۔ جب پانی کی بڑی مقدار نیچے گرتی ہے تو سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے بہاؤ میں آبادی اور فصلوں کا بہت نقصان ہو سکتا ہے۔   اگر کسی علاقے میں ایک گھنٹے میں 200 ملی میٹر بارش ہوجائے تو اسے کلاؤڈبرسٹ کہا جا سکتا ہے۔  مظفرآبادمیں موسمیاتی تبدیلی سے سمندری طوفان غیر معمولی بارشیں  اور لوگ نئی اصطلاح کلاؤڈ برسٹ سے آشنا ہوئے ہیں۔پاکستان بھی دیگر ممالک کی طرح موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث موسمی تغیرات کا سامنا کر رہا ہے۔ کہیں غیر معمولی بارشیں تو کہیں قیامت خیز گرمی، سیلاب، گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اور دیگر کئی موسمی تبدیلیاں شدید متاثر کر رہی ہیں ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے بونیر، سوات اور صوبے کے دیگر شہروں میں سیلابی صورتحال پر کہا کہ کلاؤڈ برسٹ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک سیکنڈ کا بھی وقت نہیں ملتا، مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے زیادہ فوکس کریں گے ہمیں مستقبل کیلئےکلاؤڈ برسٹ سے متعلق خصوصی تیاری کرنا ہو گی۔ ڈائریکٹر امجدعلی خان نے بتایا کہ بونیر میں کلاؤڈبرسٹ کی وجہ سے تباہی زیادہ ہوئی ہے کلاؤ ڈبرسٹ کی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی،۔موسلادھار اور غیر معمولی بارشوں کے دوران شہریوں نے ایک لفظ سنا ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ ہوا ہے۔ اس کے لفظی معنی تو ’’بادل پھٹنا‘‘ ہیں


بونیر میں تباہی-چند روز پہلے تک بشونئی سرسبز پہاڑوں میں گھرا خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کا ایک خوبصورت گاؤں تھا جس کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت ندی بہتی تھی۔ اس ندی کے ساتھ مکان تھے۔15 اگست یعنی جمعے کی صبح بشونئی کے لوگ صبح سویرے اٹھے اور اپنے اپنے کام پر چلے گئے تھے۔ بچوں کے سکول جانے کے بعد خواتین گھروں کے کاموں میں مصروف ہو گئیں۔یہ سب اس بات سے بے خبر تھے کہ اگلے لمحوں میں کیا ہونے والا ہے۔ اس صبح شدید بارش ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق اچانک پانی کا ایسا ریلا آیا جو ’اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر لایا اور راستے میں آنے والی عمارتیں ملیا میٹ کرتا ہوا آنا فانا پورا گاؤں تباہ کر گیا۔‘یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب شروع ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک کم از کم 314 افراد ہلاک اور 156زخمی ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں 217 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پیر، 18 اگست، 2025

کیا چاند ہماری روز مرہ کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے

 



چاندنا  صرف یہ کہ ہماری روز مرہ کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ہمارے ماضی سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی آوا گون کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے لیکن اسلام اس کی نفی کرتا ہے۔آواگون کا فلسفہ بھی چاند کے اثرات سے جڑا ہوا ہے کیوں کہ چاند انسان کے ماضی پر حکمرانی کرتا ہے۔ان میں فیثا غورث، سقراط، افلاطون، بینجمن فرنیکلن، ایمریسن، تھوریو، ٹالسٹائی، مارک ٹوئن، ہنری فورڈ، عظیم ماہرِ نفسیات کارل یونگ اور جارج پیٹن وغیرہ شامل ہی- ہم دیکھتے ہیں کہ آسمان پر چمکنے والا چاند جو ہماری زمین کے گرد رات دن چکر لگارہا ہے ، یہ بھی ہماری زندگی اور زندگی کے بیشتر معاملات میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ خاص طور پر پورا چاند ہمارے جذبات پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔وہ مثبت برق پاروں کو جنم دیتا ہے جو ہماری جلد سے چمٹ کر ہمارے دماغ پر دباو ¿ ڈالتے ہیں۔مغرب میں دماغی صحت کے اداروں اور پولیس کے محکمے میں کام کرنے والے لوگوں نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پورے چاند کے دوران میں کچھ لوگ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں یا ان کے دماغی دوروں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔


اس دوران میں عام طور سے زیادہ حادثات جنم لیتے ہیں اور ذہنی امراض کے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ایک پولیس آفیسر کا بیان ہے کہ ساحل سمندر پر لوگ پورے چاند کے دوران میں ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ہیں۔دراصل چاند کی گردش سے جنم لینے والے برق پارے جو ہمارے دماغ پر دباو ڈالتے ہیں، سمندری سطح پر اکٹھا ہوتے ہیں۔ اگر ہم کسی بلند پہاڑ پر جائیں یا کسی بلند مقام پر قیام کریں تو خود کو زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں یا جب ہم غسل کرتے ہیں تو یہ برق پارے دھل جاتے ہیں اور ہم خود کو زیادہ ترو تازہ محسوس کرتے ہیں۔شاید ان برق پاروں کی زیادتی ہمارے دماغ پر اثر انداز ہوکر دماغی صلاحیتوں کو زیادہ متحرک بھی کرتی ہے یعنی دماغ کے زیادہ خلیے کام کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں غیر معمولی ذہانت اور فکرو فلسفے کا اظہار ہوتا ہے۔دنیا بھر میں ساحل سمندر کے نزدیک رہنے والے افراد خاصے تیز و طرار اور غیر معمولی طور پر ذہین پائے گئے ہیں، وہ زیادہ متحرک انداز میں زندگی گزارتے ہیں

 


   یہاں کچھ آیات قرآنی   ہیں جو ستاروں اور انسانی زندگی کے تعلق کو نمایاں طور پر بیان کرتی ہیں۔ جیسے سورہ والشمس، القمر اور النجم شامل ہیں سورہ النحل آیت 12 :”اور اسی نے تمھارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں، سمجھنے والوں کے لیے اس میں نشایناں ہیں”۔ سورہ الانعام آیت 97:”اور وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو، عقل والوں کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں”۔ اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ قدیم زمانوں میں سمندروں، میدانوں اور صحراؤں میں سفر کرنے والے ہمیشہ ستاروں کو اپنا راہبر بنا کر منزل کی طرف سفر کرتے تھے۔ انسان کا یہ طرز عمل قرآن کی ان آیات کے عین مطابق ہے۔ سورہ یونس آیت 5:”وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو، (سب کچھ) اللہ نے تدبیر سے پیدا کیا ہے، سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے”۔



 علم روحانیت میں چاند کو مرکزی مقام حاصل ہے اور چاند کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف نقوش اور الواح تیار کی جاتی ہیں۔ سورہ والنجم کی آیات 1-3:”تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے، کہ تمھارا رفیق(محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں، اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں”۔ یہاں خالق کائنات اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت اور عظمت بیان کرنے کے لیے ستارے کی قسم کھا رہا ہے۔ قرآن کریم صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کے سامنے نازل ہوا ہمیں کسی کتاب اور تفسیر میں نہیں ملتا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھما نے ان آیات کو دیکھ کر کہا ہو کہ انسان کا ستاروں سے کیا تعلق۔ اللہ نے ستارے کی قسم کھا کر بتا دیا کہ انسان کا ستاروں سے گہرا رشتہ ہے۔ جب حکم الہی کے مطابق رشتہ ثابت ہو چکا تو پھر یہ بات بھی طے ہے کہ دوسرے انسان رشتوں کی طرح ستاروں سے رشتہ بھی انسانی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔


سورہ الواقعہ آیات 75-77:”ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم، اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے، کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے”۔ یہاں رب العالمین نے قرآن کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے ستاروں کی منازل(چالوں) کی قسم کھائی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالی نے جہاں انسان اور ستاروں کا تعلق بیان کیا ہے وہاں یہ بھی واضح کردی ہے کہ قرآن کریم اہل عقل اور ان لوگوں کے لیے ہے جو حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر