21 اگست 2025 ءکی کراچی سے خبر ہے - کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 34 افراد زخمی 2 لوگ جاں بحق ہوگئے ہیں ۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے گودام میں دھماکے سے زخمیوں کی تعداد 34 ہوگئی، جناح اسپتال میں 20 جبکہ سول اسپتال میں 14 زخمی لائے جا چکے ہیں، جناح اسپتال میں 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ایم اے جناح روڈ کراچی میں آتشبازی کے گودام میں زوردار دھماکے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی ، ۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔دھماکے سے گرد و نواح کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور آگ لگ گئی تھی، جس پر چند گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد قابو پالیا گیا، گودام میں لگی آگ بھجانے میں 10 فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا، پٹاخوں کے گودام میں دھماکے اور آگ لگنے کے بعد سیاہ دھواں پھیل گیا تھا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کا کہنا ہے کہ پٹاخوں کے گودام میں دھماکے کے بعد جناح اسپتال میں 20 جبکہ سول اسپتال میں 14 زخمی لائے جا چکے ہیں، جناح اسپتال میں 4 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گودام کے مالکان دو بھائی ہیں، دھماکے میں زخمی ہوئے ایک بھائی کا ابتدائی بیان لیا گیا ہے، دونوں کو شامل تفتیش کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں ایسے گوداموں کی اجازت نہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اس سے قبل سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ایسٹ فرخ رضا کا کہنا تھا کہ آتش بازی کے گودام میں دھماکا ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ہوا ہے، ایسٹ پولیس پریڈی پولیس کو ہر ممکن امداد فراہم کر رہی ہے۔ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا کا کہنا تھا کہ امدادی رضا کاروں اور فائر بریگیڈ کے عملے کو سہولت دی جا رہی ہے۔کراچی کے علاقے صدر میں ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں زور دار دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔
دھماکا تاج کمپلیکس کے قریب الآمنہ پلازہ کی بیسمنٹ میں قائم پٹاخوں کے گودام میں سہ پہر کے وقت ہوا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ قریبی اسکول اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ ایک نوجوان کی لاش ملبے سے نکالی گئی۔جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت اسد شاہ کے نام سے ہوئی، جو پٹیل پاڑہ کا رہائشی اور مدرسے کا طالبعلم تھا۔ اسد کے چچا جمال شاہ کے مطابق، وہ اپنے بھائی افسر شاہ سے ملاقات کے لیے عمارت میں آیا تھا کہ دھماکے کی زد میں آ گیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق زخمیوں کو جناح اسپتال اور سول اسپتال منتقل کیا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔عینی شاہدین کے مطابق، دھماکے سے عمارت کے ستون اور دیواریں متاثر ہوئیں، سیمنٹ کے بلاکس وہاں کھڑی گاڑیوں پر جاگرے، جبکہ قریبی دکانوں، اسکول اور رہائشی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
فائربریگیڈ کی بارہ گاڑیوں، دو باؤزرز اور ایک اسنارکل کی مدد سے آگ پر قابو پایا گیا اور متاثرہ عمارت کی چھت پر پھنسے افراد کو بحفاظت اتارا گیا۔گودام میں دھماکا خیز مواد موجود تھا: سی ٹی ڈی-چیف فائرآفیسر ہمایوں نے بتایا کہ تاج میڈیکل کمپلیکس کے قریب ’ الآمنہ پلازہ‘ کے تہہ خانے میں سپر فائر ورکس کے نام سے گودام قائم تھا، جہاں آتشبازی کے سامان کی تیاری کے لیے خام مال ذخیرہ کیا گیا تھا جبکہ سی ٹی ڈی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے انکشاف کیا کہ گودام میں صرف آتشبازی کا نہیں بلکہ دھماکا خیز مواد بھی موجود تھا۔انچارج سی ٹی ڈی راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ لوگ اسے آتشبازی کا سامان کہتے ہیں مگر اس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا۔ قانون کے مطابق ایک دکان میں 50 کلوسے زیادہ مواد نہیں رکھاجاسکتا۔ انہوں نے رہائشی علاقوں میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کو نہایت خطرناک قرار دیا۔واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں دھماکے کے فوری بعد آگ کے شعلے بلند ہوتے اور شہریوں کو بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔