گلگت بلتستان کا خطہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، برف باری معمول سے کم ہو رہی ہے، گلیشیئر بھی متاثر ہو رہے ہیں، ساتھ ساتھ بغیر منصوبہ بندی کے تیز رفتاری سے ہونے والی ترقیاتی کام بھی اس کے ماحولیاتی نظام میں خلل ڈال رہے ہیں۔شمالی علاقوں کے درخت بے دردی سے کاٹے جارہےہیں -گلگت بلتستان کا خطہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، برف باری معمول سے کم ہو رہی ہے، گلیشیئر بھی متاثر ہو رہے ہیں، ساتھ ساتھ بغیر منصوبہ بندی کے تیز رفتاری سے ہونے والی ترقیاتی کام بھی اس کے ماحولیاتی نظام میں خلل ڈال رہے ہیں۔نہایت بےہنگم اور ہر کسی گائیڈ لائن کے بغیر ہونے والی بلا روک و ٹوک تعمیرات زرعی زمینوں اور سبزہ و گیاہ کو تیزی سے نگل رہی ہیں، وہیں پر سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے جگہ جگہ بغیر پلاننگ کے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹل بے ترتیب کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔محکمہ جنگلات میں درکار بنیادی اصطلاحات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی جسکی وجہ سے جنگلات کے محدود ذرائع پر بہت دباؤ ہے۔ بااثر لوگوں کی سپورٹ، الیکٹرک آروں، گاڑیوں اور اسلحہ سے لیس ٹمبر مافیا سے ان جنگلات کو محفوظ رکھنے کے لئے محکمہ جنگلات نے 3500 نہتے اور پیدل فارسٹ گارڈز اور فارسٹرز تعینات کر رکھے ہیں۔
ایک فارسٹ گارڈ/فارسٹر کے پاس اوسطاَ 100 سے 500 کلومیٹر لمبی نہروں/سڑکوں کے کنارے موجود درختوں یا 500 سے 2000 ایکڑ جنگل کی حفاظت کی بھاری ذمہ داری ھوتی ہے جس کے لئے وہ 24/7 راؤنڈ دی کلاک زمہ دار ھوتے ہیں، جنگل میں مسلسل باقاعدگی سے پیٹرولنگ کرنا اور نقصان جنگل کی صورت میں ڈیمیج رپورٹ کے ذریعے اپنے بلاک آفیسر کو آگاہ کرنا فارسٹ گارڈ کی بنیادی ڈیوٹی ہے۔ یہ قیمتی جنگل وسیع علاقے میں بکھرے ہوتے ہیں جس پر ٹمبر مافیا کی نظر ھوتی ہے لیکن اس کی حفاظت ایک اکیلے،نہتے اور معمولی تنخواہ لینے والے فارسٹ گارڈ اور فارسٹر کی ذمہ داری ہے جن کے لئے ٹمبر مافیا کا مقابلہ کرنا ناممکن ہےنہایت بےہنگم اور ہر کسی گائیڈ لائن کے بغیر ہونے والی بلا روک و ٹوک تعمیرات زرعی زمینوں اور سبزہ و گیاہ کو تیزی سے نگل رہی ہیں، وہیں پر سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے جگہ جگہ بغیر پلاننگ کے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹل بے ترتیب کھمبیوں کی طرح اگ رہے ہیں۔وڈ برسٹ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ کلاوڈ برسٹ کی اصطلاح سنی اورپھر آنکھوں سے دیکھی بھی اور خوفناک ترین مناظر بھی دیکھے جیسے پہاڑوں سے سیاہ رنگ کا ملبہ بہتے ہوئے شہر کی جانب آتے دیکھا تو دوسری جانب بادل جو پھٹ کے پہاڑ پر گرا تو پہاڑ کئ ٹن وزنی پتھروں میں چورا چورا ہوا اور پھر نشیب میں آبادی پر گھروں میں آ کے ٹکرائے اور انسان مویشی مال و اسباب سب کے تہس نہس کر ڈلا -، کلاؤڈ برسٹ ہماری زمین کو متاثر کرنے والی ماحولیاتی تبدیلی کا ایک نیا مظہر ہے۔
اس میں نام کی طرح عملاً بادل نہیں پھٹتے، تاہم بہت کم وقت میں ایک چھوٹے سے علاقے پر اچانک اتنا پانی برستا ہے کہ زمین اور نکاسی کا نظام اس کو سنبھال نہیں پاتا۔ اگر ایسی صورتحال ہو تو یہ برساتی پانی سیلابی ریلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے جب کہ مٹی کے تودے گرنےاور کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب زمین یا فضا میں موجود بادلوں کے نیچے سے گرم ہوا کی لہر اوپر کی جانب کلاوڈ برسٹ کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے اٹھتی ہے اور بادل میں موجود بارش کے قطروں کو ساتھ لے جاتی ہے۔ اس وجہ سے عام طریقے سے بارش نہیں ہوتی اور نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی بننے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے کیونکہ بارش کے نئے قطرے بنتے ہیں اور پرانے قطرے اپ ڈرافٹ کی وجہ سے واپس بادلوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں،جس کا نتیجہ طوفانی بارش کی شکل میں نکلتا ہے کیونکہ بادل اتنے پانی کا بوجھ برداشت نہیں کرپاتے۔ محکمہ موسمیات پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کو رین گش اور رین گسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرکسی چھوٹے علاقے میں مختصر وقفے میں شدید بارش ہوجائے تو اسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ مخصوص علاقے میں ایک گھنٹے میں کم سے کم 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جائے۔انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کلاؤڈ برسٹ مقامی واقعہ ہوتا ہے، جو مختصر وقفے کے لیے رونما ہوتا ہے اور گرج چمک اور شدید برقی یا بجلی کی سرگرمی کی وجہ بنتا ہے۔
اس میں عموماً بادل کے نیچے کی ہوا اوپر اٹھتی ہے اور پانی کے قطروں کو کچھ دیر گرنے سے روکتی ہے۔ اب جیسے ہی ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے پانی کی بڑی مقدار بادل سے گرتی ہے اور یوں بادلوں کا پانی گویا اس طرح بہتا ہے ۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کلاؤڈ برسٹ کے زیادہ ترواقعات پہاڑی علاقوں میں رونما ہوتے ہیں۔ جب پانی کی بڑی مقدار نیچے گرتی ہے تو سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے بہاؤ میں آبادی اور فصلوں کا بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں ایک گھنٹے میں 200 ملی میٹر بارش ہوجائے تو اسے کلاؤڈبرسٹ کہا جا سکتا ہے۔ مظفرآبادمیں موسمیاتی تبدیلی سے سمندری طوفان غیر معمولی بارشیں اور لوگ نئی اصطلاح کلاؤڈ برسٹ سے آشنا ہوئے ہیں۔پاکستان بھی دیگر ممالک کی طرح موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کے باعث موسمی تغیرات کا سامنا کر رہا ہے۔ کہیں غیر معمولی بارشیں تو کہیں قیامت خیز گرمی، سیلاب، گلیشیئر پگھلنے کی رفتار میں اضافہ اور دیگر کئی موسمی تبدیلیاں شدید متاثر کر رہی ہیں ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے بونیر، سوات اور صوبے کے دیگر شہروں میں سیلابی صورتحال پر کہا کہ کلاؤڈ برسٹ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک سیکنڈ کا بھی وقت نہیں ملتا، مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے زیادہ فوکس کریں گے ہمیں مستقبل کیلئےکلاؤڈ برسٹ سے متعلق خصوصی تیاری کرنا ہو گی۔ ڈائریکٹر امجدعلی خان نے بتایا کہ بونیر میں کلاؤڈبرسٹ کی وجہ سے تباہی زیادہ ہوئی ہے کلاؤ ڈبرسٹ کی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی،۔موسلادھار اور غیر معمولی بارشوں کے دوران شہریوں نے ایک لفظ سنا ’’کلاؤڈ برسٹ‘‘ ہوا ہے۔ اس کے لفظی معنی تو ’’بادل پھٹنا‘‘ ہیں
بونیر میں تباہی-چند روز پہلے تک بشونئی سرسبز پہاڑوں میں گھرا خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر کا ایک خوبصورت گاؤں تھا جس کے بیچوں بیچ ایک خوبصورت ندی بہتی تھی۔ اس ندی کے ساتھ مکان تھے۔15 اگست یعنی جمعے کی صبح بشونئی کے لوگ صبح سویرے اٹھے اور اپنے اپنے کام پر چلے گئے تھے۔ بچوں کے سکول جانے کے بعد خواتین گھروں کے کاموں میں مصروف ہو گئیں۔یہ سب اس بات سے بے خبر تھے کہ اگلے لمحوں میں کیا ہونے والا ہے۔ اس صبح شدید بارش ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق اچانک پانی کا ایسا ریلا آیا جو ’اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر لایا اور راستے میں آنے والی عمارتیں ملیا میٹ کرتا ہوا آنا فانا پورا گاؤں تباہ کر گیا۔‘یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب شروع ہونے والی بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں اب تک کم از کم 314 افراد ہلاک اور 156زخمی ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بونیر میں 217 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔