چاندنا صرف یہ کہ ہماری روز مرہ کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ہمارے ماضی سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی آوا گون کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے لیکن اسلام اس کی نفی کرتا ہے۔آواگون کا فلسفہ بھی چاند کے اثرات سے جڑا ہوا ہے کیوں کہ چاند انسان کے ماضی پر حکمرانی کرتا ہے۔ان میں فیثا غورث، سقراط، افلاطون، بینجمن فرنیکلن، ایمریسن، تھوریو، ٹالسٹائی، مارک ٹوئن، ہنری فورڈ، عظیم ماہرِ نفسیات کارل یونگ اور جارج پیٹن وغیرہ شامل ہی- ہم دیکھتے ہیں کہ آسمان پر چمکنے والا چاند جو ہماری زمین کے گرد رات دن چکر لگارہا ہے ، یہ بھی ہماری زندگی اور زندگی کے بیشتر معاملات میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ خاص طور پر پورا چاند ہمارے جذبات پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔وہ مثبت برق پاروں کو جنم دیتا ہے جو ہماری جلد سے چمٹ کر ہمارے دماغ پر دباو ¿ ڈالتے ہیں۔مغرب میں دماغی صحت کے اداروں اور پولیس کے محکمے میں کام کرنے والے لوگوں نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پورے چاند کے دوران میں کچھ لوگ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں یا ان کے دماغی دوروں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
اس دوران میں عام طور سے زیادہ حادثات جنم لیتے ہیں اور ذہنی امراض کے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ایک پولیس آفیسر کا بیان ہے کہ ساحل سمندر پر لوگ پورے چاند کے دوران میں ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ہیں۔دراصل چاند کی گردش سے جنم لینے والے برق پارے جو ہمارے دماغ پر دباو ڈالتے ہیں، سمندری سطح پر اکٹھا ہوتے ہیں۔ اگر ہم کسی بلند پہاڑ پر جائیں یا کسی بلند مقام پر قیام کریں تو خود کو زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں یا جب ہم غسل کرتے ہیں تو یہ برق پارے دھل جاتے ہیں اور ہم خود کو زیادہ ترو تازہ محسوس کرتے ہیں۔شاید ان برق پاروں کی زیادتی ہمارے دماغ پر اثر انداز ہوکر دماغی صلاحیتوں کو زیادہ متحرک بھی کرتی ہے یعنی دماغ کے زیادہ خلیے کام کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں غیر معمولی ذہانت اور فکرو فلسفے کا اظہار ہوتا ہے۔دنیا بھر میں ساحل سمندر کے نزدیک رہنے والے افراد خاصے تیز و طرار اور غیر معمولی طور پر ذہین پائے گئے ہیں، وہ زیادہ متحرک انداز میں زندگی گزارتے ہیں
یہاں کچھ آیات قرآنی ہیں جو ستاروں اور انسانی زندگی کے تعلق کو نمایاں طور پر بیان کرتی ہیں۔ جیسے سورہ والشمس، القمر اور النجم شامل ہیں سورہ النحل آیت 12 :”اور اسی نے تمھارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں، سمجھنے والوں کے لیے اس میں نشایناں ہیں”۔ سورہ الانعام آیت 97:”اور وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو، عقل والوں کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں”۔ اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ قدیم زمانوں میں سمندروں، میدانوں اور صحراؤں میں سفر کرنے والے ہمیشہ ستاروں کو اپنا راہبر بنا کر منزل کی طرف سفر کرتے تھے۔ انسان کا یہ طرز عمل قرآن کی ان آیات کے عین مطابق ہے۔ سورہ یونس آیت 5:”وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو، (سب کچھ) اللہ نے تدبیر سے پیدا کیا ہے، سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے”۔
علم روحانیت میں چاند کو مرکزی مقام حاصل ہے اور چاند کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف نقوش اور الواح تیار کی جاتی ہیں۔ سورہ والنجم کی آیات 1-3:”تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے، کہ تمھارا رفیق(محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں، اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں”۔ یہاں خالق کائنات اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت اور عظمت بیان کرنے کے لیے ستارے کی قسم کھا رہا ہے۔ قرآن کریم صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کے سامنے نازل ہوا ہمیں کسی کتاب اور تفسیر میں نہیں ملتا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھما نے ان آیات کو دیکھ کر کہا ہو کہ انسان کا ستاروں سے کیا تعلق۔ اللہ نے ستارے کی قسم کھا کر بتا دیا کہ انسان کا ستاروں سے گہرا رشتہ ہے۔ جب حکم الہی کے مطابق رشتہ ثابت ہو چکا تو پھر یہ بات بھی طے ہے کہ دوسرے انسان رشتوں کی طرح ستاروں سے رشتہ بھی انسانی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔
سورہ الواقعہ آیات 75-77:”ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم، اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے، کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے”۔ یہاں رب العالمین نے قرآن کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے ستاروں کی منازل(چالوں) کی قسم کھائی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالی نے جہاں انسان اور ستاروں کا تعلق بیان کیا ہے وہاں یہ بھی واضح کردی ہے کہ قرآن کریم اہل عقل اور ان لوگوں کے لیے ہے جو حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔