پیر، 18 اگست، 2025

کیا چاند ہماری روز مرہ کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے

 



چاندنا  صرف یہ کہ ہماری روز مرہ کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ ہمارے ماضی سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی آوا گون کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے لیکن اسلام اس کی نفی کرتا ہے۔آواگون کا فلسفہ بھی چاند کے اثرات سے جڑا ہوا ہے کیوں کہ چاند انسان کے ماضی پر حکمرانی کرتا ہے۔ان میں فیثا غورث، سقراط، افلاطون، بینجمن فرنیکلن، ایمریسن، تھوریو، ٹالسٹائی، مارک ٹوئن، ہنری فورڈ، عظیم ماہرِ نفسیات کارل یونگ اور جارج پیٹن وغیرہ شامل ہی- ہم دیکھتے ہیں کہ آسمان پر چمکنے والا چاند جو ہماری زمین کے گرد رات دن چکر لگارہا ہے ، یہ بھی ہماری زندگی اور زندگی کے بیشتر معاملات میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ خاص طور پر پورا چاند ہمارے جذبات پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔وہ مثبت برق پاروں کو جنم دیتا ہے جو ہماری جلد سے چمٹ کر ہمارے دماغ پر دباو ¿ ڈالتے ہیں۔مغرب میں دماغی صحت کے اداروں اور پولیس کے محکمے میں کام کرنے والے لوگوں نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پورے چاند کے دوران میں کچھ لوگ بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں یا ان کے دماغی دوروں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔


اس دوران میں عام طور سے زیادہ حادثات جنم لیتے ہیں اور ذہنی امراض کے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ایک پولیس آفیسر کا بیان ہے کہ ساحل سمندر پر لوگ پورے چاند کے دوران میں ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ہیں۔دراصل چاند کی گردش سے جنم لینے والے برق پارے جو ہمارے دماغ پر دباو ڈالتے ہیں، سمندری سطح پر اکٹھا ہوتے ہیں۔ اگر ہم کسی بلند پہاڑ پر جائیں یا کسی بلند مقام پر قیام کریں تو خود کو زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں یا جب ہم غسل کرتے ہیں تو یہ برق پارے دھل جاتے ہیں اور ہم خود کو زیادہ ترو تازہ محسوس کرتے ہیں۔شاید ان برق پاروں کی زیادتی ہمارے دماغ پر اثر انداز ہوکر دماغی صلاحیتوں کو زیادہ متحرک بھی کرتی ہے یعنی دماغ کے زیادہ خلیے کام کرنے لگتے ہیں اور اس کے نتیجے میں غیر معمولی ذہانت اور فکرو فلسفے کا اظہار ہوتا ہے۔دنیا بھر میں ساحل سمندر کے نزدیک رہنے والے افراد خاصے تیز و طرار اور غیر معمولی طور پر ذہین پائے گئے ہیں، وہ زیادہ متحرک انداز میں زندگی گزارتے ہیں

 


   یہاں کچھ آیات قرآنی   ہیں جو ستاروں اور انسانی زندگی کے تعلق کو نمایاں طور پر بیان کرتی ہیں۔ جیسے سورہ والشمس، القمر اور النجم شامل ہیں سورہ النحل آیت 12 :”اور اسی نے تمھارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں، سمجھنے والوں کے لیے اس میں نشایناں ہیں”۔ سورہ الانعام آیت 97:”اور وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو، عقل والوں کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں”۔ اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ قدیم زمانوں میں سمندروں، میدانوں اور صحراؤں میں سفر کرنے والے ہمیشہ ستاروں کو اپنا راہبر بنا کر منزل کی طرف سفر کرتے تھے۔ انسان کا یہ طرز عمل قرآن کی ان آیات کے عین مطابق ہے۔ سورہ یونس آیت 5:”وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو، (سب کچھ) اللہ نے تدبیر سے پیدا کیا ہے، سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے”۔



 علم روحانیت میں چاند کو مرکزی مقام حاصل ہے اور چاند کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف نقوش اور الواح تیار کی جاتی ہیں۔ سورہ والنجم کی آیات 1-3:”تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے، کہ تمھارا رفیق(محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نہ رستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں، اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں”۔ یہاں خالق کائنات اپنے نبی کریم صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت اور عظمت بیان کرنے کے لیے ستارے کی قسم کھا رہا ہے۔ قرآن کریم صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کے سامنے نازل ہوا ہمیں کسی کتاب اور تفسیر میں نہیں ملتا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھما نے ان آیات کو دیکھ کر کہا ہو کہ انسان کا ستاروں سے کیا تعلق۔ اللہ نے ستارے کی قسم کھا کر بتا دیا کہ انسان کا ستاروں سے گہرا رشتہ ہے۔ جب حکم الہی کے مطابق رشتہ ثابت ہو چکا تو پھر یہ بات بھی طے ہے کہ دوسرے انسان رشتوں کی طرح ستاروں سے رشتہ بھی انسانی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔


سورہ الواقعہ آیات 75-77:”ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم، اور اگر تم سمجھو تو یہ بڑی قسم ہے، کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے”۔ یہاں رب العالمین نے قرآن کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے ستاروں کی منازل(چالوں) کی قسم کھائی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالی نے جہاں انسان اور ستاروں کا تعلق بیان کیا ہے وہاں یہ بھی واضح کردی ہے کہ قرآن کریم اہل عقل اور ان لوگوں کے لیے ہے جو حقیقت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

راہب اور سر حضرت امام حسین علیہ السلام

  


راہب اور سرحسین علیہ السلام

 اس میں کوئی شک نہیں کہ حسینؓ سب کے ہیں ،مسلمانوں کے علاوہ ہندو عیسائی ،بدمت اور یہودیوں میں بھی ایسے حقیقت پسند لوگ موجود رہے ہیں جنہوں نے حضرت امام حسینؓ کی شان میں کلمہ بلند کیا اور نوحے لکھے ہیں ۔عیسائیوں کی حضرت امام حسینؓ سے عقیدت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ایرانی محقق محمد رضا زائری نے اپنی کتاب میں امام حسینؓ سے پولس سلامہ جیسے عیسائی محقق کی عقیدت و محبت کا ذکر کرتے ہوئے خود ان ہی کی زبانی لکھاہے ’’ میں بچپنے سے قرآن مجید اور تاریخ اسلام کا شیفتہ تھا اور جب بھی شہادت حضرت علیؓ اور ان کے فرزند امام حسین علیھماالسلام کی بات آتی تھی تو حق کی نصرت اور باطل کے خلاف جنگ کا شعلہ میرے سینے میں روشن ہوجاتا۔ ممکن ہے کوئی یہ اعتراض کرے کہ ایک مسیحی کو اسلام کی تاریخ بیان کرنے کا کیا حق پہنچتا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ میں ایک عیسائی ضرور ہوں لیکن تنگ نظر عیسائی نہیں ہوں‘‘سلامہ نے ایک منظوم کلام میں واقعہ کربلا ، امام حسینؓ کی تحریک کے آغاز اور اس تحریک کے مختلف مراحل اور حضرت امام حسینؓ کی شہادت کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور لکھتے ہیں کہ حسینؓ تیرے غم نے مجھ مسیحی کوبھی رلادیا دیا اور آنسوؤں کے قطرے میرے آنکھوں سے جاری ہوئے اور تابندہ ہوگئے۔ ہرگز اس شخص کی کیفیت جو دور سے آگ کا نظارہ کرتا ہے اس جیسی نہیں ہوسکتی جو خود آگ میں جل رہا ہے۔ 



چوتھی صدی ہجری کے محدث حضرت محمد بن حبان تمیمی دارمیؒ نے اپنی کتب ’’الثقات اور اسیرۃ‘‘ میں بھی ایک عیسائی راہب کے بارے میں لکھا ہے کہ اس نے جب حضرت امام حسینؓ کے سر انور پر تجلیات دیکھیں تو اس نے اپنی ساری جمع پونجی دیکر سر انور کا رات بھر دیدارکیا اور مسلمان ہوگیا تھا ۔ابن حبان لکھتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے اہل بیت کرام کی سراپا عفت خواتین اور لاڈلے بچوں کے ساتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سرانور کو ملک شام لے جانے کا حکم دیا۔ جب بھی قافلہ والے کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو امام حسینؓ کے سرانور کو صندوق سے نکالتے اور معاذ اللہ ایک نیزہ پر رکھتے اور کوچ کرنے تک اس کی حفاظت کرتے، پھر روانگی کا موقع ہوتا تو سرانور کو صندوق میں رکھتے اور روانہ ہوجاتے۔ اس طرح وہ لوگ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں عیسائی عبادت خانہ تھا۔اس وقت وہاں ایک راہب موجود تھا۔اپنے معمول کے مطابق ظالموں نے امام عالی مقامؓ کے سرانور کونیزہ پر رکھا اور عبادت خانہ کی کسی جگہ نیزہ لگادیا۔


عبادت خانہ میں رہنے والے عیسائی نے رات میں دیکھا کہ عبادت خانہ سے آسمان کی طرف عظیم الشان نور بلند ہورہا ہے۔ راہب نے فوراً ظالموں کے پاس آکر کہا’’ تم کون ہو اور یہ سرانور کس کا ہے؟‘‘ان لوگوں نے کہا’’ ہم اہل شام ہیں اور یہ سر ایک خارجی  کا ہے‘‘ اس کا نام کیا ہے -بدبخت نے مولا کا نام بتایا پھر اس نے ماں اور باپ کا نام پوچھا کیونکہ راہب نورانی تجلیات دیکھ کر  ان بدبختوں کا پاس آیا تھا  -پھر اس نے کہا’’ تم کیسی بدبخت قوم ہو، قسم بخدا ! اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسل مبارک کا کوئی فرد اب موجود رہتا تو ہم اس کی ایسی تعظیم کرتے کہ اس کو اپنی آنکھوں پر رکھتے‘‘ پھر کہا’’ اے لوگو! مجھے دس ہزار دینار میرے آباء و اجداد سے وراثت میں ملے ہیں، اگر میں دس ہزار دینار تمہیں دے دوں تو کیا سرانور آج رات رکھنے کیلئے مجھے دو گے؟‘‘یزیدیوں نے کہا’’ کیوں نہیں‘‘ پس عیسائی راہب نے دینار کی تھیلی انڈیل دی۔ ان لوگوں نے دینار گن کر تھیلی میں رکھ لئے اور اس پر مہر لگا کر صندوق میں محفوظ کرلئے، پھر سرانور کو عیسائی راہب کی طرف بڑھادیا۔


راہب نے نہایت تعظیم کے ساتھ سرانور لے کر اس کو غسل دیا اور اپنی گود میں رکھ کر رات بھر روتا رہا ۔جب صبح کا وقت قریب ہوا تو کہا’’ اے سرانور! میں اپنے آپ ہی پر قابو رکھتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپؓ کے نانا حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں‘‘ یہ کہہ کر مسلمان ہوا اور امام حسینؓ کی غلامی میں شامل ہوا ۔پھر سرانور کو ان کے حوالہ کیا، ان لوگوں نے سرانور دوبارہ صندوق میں رکھا اور روانہ ہوگئے۔ جب دمشق کے قریب پہنچے تو کہنے لگے کہ ہم دس ہزار دینار آپس میں تقسیم کرلیتے ہیںَ اگر یزید دیکھ لے گا تو ہم سے چھین لے گا، چنانچہ صندوق کھول کر دینار کی تھیلی جیسے ہی کھولی تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دینار ٹھیکری بن چکے ہیں اور اسی ٹھیکری کی ایک جانب سورہ ابراھیم کی یہ آیت لکھی ہوئی پائی۔ 

ترجمہ’’ ظالم جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو اس سے ہرگز بے خبر مت سمجھو۔ ‘‘ اور دوسری جانب سورۃ الشعراء کی یہ آیت لکھی دیکھی ’’ ترجمہ: عنقریب ظلم کرنے والے جان لیں گے کہ وہ کیسی بری جگہ لوٹیں گے‘‘ یہ واقعہ دیکھ کر بعض لوگوں نے توبہ کی اور بعض اسی حال پر قائم رہے ۔ ۔

 

 ۔ 

اتوار، 17 اگست، 2025

"مسجد کوفہ" مسلمانوں کی عظمت و رفعت کی نشانی

  



     مستند روائت ہے کہ مسجد  کوفہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے  کی تھی  اور حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے بعد اس کی تعمیر نو کی. اس مسجد میں ایک محراب ہے جسے محرابِ امام علی علیہ السلام کہتے ہیں، جہاں امام علی علیہ السلام نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی جگہ انہیں شہید کیا گیا. یہ مسجد مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور اس کی زیارت کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں. مسجد کوفہ کی تعمیر میں مختلف ادوار میں اضافہ اور بہتری کی گئی، جس کی وجہ سے اس کی موجودہ شکل کئی صدیوں کی تعمیرات کا نتیجہ ہے۔ اس مسجد میں کئی اہم تاریخی واقعات پیش آئے اور اس نے اسلامی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا ہے.مسجد کوفہ کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ مسجد مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور اس میں نماز پڑھنے کی فضیلت بہت زیادہ ہے-

 

مسجد کوفہ کے صحن میں ایک بڑا سا پانی کا حوض ہے-( روائت ہے کہ   اس حوض کے مقام پر  حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کا روٹیاں بنانے کا تندور تھا )اس کے ساتھ ہی وضو کی جگہ بھی ہے اور پینے کے پانی کے لئے کولر   ہوتے ہیں، مسجد کوفہ میں انبیاء کرام اور فرشتوں کے مصلے بھی موجود ہیں، وہ مقام بھی موجود ہے جہاں رسولِ کریمؐ نے معراج پہ جاتے ہوئے یہاں  ٹہر کر عبادت کی، حضرت آدم و حوا علیہ السلام کا مقام اور مولائے کائنات علی ابن ابی طالبؑ کا محراب اور مقتل گاہ ، اور جہاں آپ بیٹھ کر فیصلے کیا کرتے تھے ساتھ ہی حضرت مسلم بن عقیلؑ اور امیر مختار ثقفیؓ کی قبور بھی موجود ہیں۔مسجد کوفہ کے صحن میں موجود یہ حوض وہ مقام ہے جہاں سے طوفانِ نوحؑ کے وقت پانی  ابلا  تھا اور پھر پوری دنیا  کو کو سیلاب  میں ڈبو دیا تھا ۔ مسجد کوفہ سے نکلتے ہی قریب مولا علیؑ کا گھر ہے اور کچھ فاصلہ پہ صحابی جلیل القدر حضرت میثمِ تمارؓ آرام پذیر ہیں۔



ابتداء اسلام میں حضرت سلمان فارسی رضوان الله تعالى عليه کی تجویز پر اس مسجد کی تعمیر کا دوبارہ اہتمام کیاگیا۔حضرت علی (ع) نے بارہا اس مسجد میں نماز کے لئے قیام فرمایا،  اس کے منبر پر خطبے دیئے، بعض امور میں فیصلے کئے اور نظام حکومت کا انتظام و اہتمام کیا۔جغرافیائی طور پر  مسجد کوفہ،نجف الاشرف کے صوبے میں واقع ہے، کوفہ مخصوصا اپنی  معتدل آب و ہوا، اچھی اور زرخیز زمین کی وجہ سے زیادہ ممتاز ہے۔ دریائے فرات اس کے قریب سے گزرتے ہیں۔مسجد کوفہ میں صحابی حضرت میثم تماررضوان الله تعالى عليه، مسلم بن عقیل عليه السلام، ہانی بن عروہ رضوان الله تعالى عليه، اور مختار ثقفی رضوان الله تعالى عليه،  کے مراقد واقع ہیں۔ اس کے علاوہ اس مسجدمین بہت سارے انبیاء اوصیاء کرام علیھم السلام کے آرام گاہ بھی ہیں ۔یہیں آئمہِ اہل بیتؑ کے مقامات بھی ہیں جہاں یہ خدا کی برگزہدہ ہستیاں خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتی رہیں، مقامِ امام جعفر صادق، مقامِ امام زین العابدینؑ اور مقام امام زمانہؑ موجود ہیں، اس مسجد میں عبادت کرنے کے لئے خاص اعمال بجالائے جاتے ہیں۔ امام زین العابدینؑ سے روایت ہے کہ مسجد سہلہ میں دو رکعت نماز ادا کرنے والے کہ زندگی میں خداوندکریم دو سال کا اضافہ فرما دیتا ہے، اور کوئی پریشان حال شخص اگر اس مسجد میں دو رکعت ادا کرے تو رب تعالیٰ اس کی پریشانی دور فرما دیتا ہے


مسجد کی عمارت:مسجد کوفہ کی لمبائی 110 میٹر اور چوڑائی 101 میٹر جبکہ اس کا رقبہ 11110 میٹر (اور بقولے 11162 میٹر) مربع ہے اور اس کو 10 میٹر اونچی دیواروں سے محفوظ بنائی گئی ہے۔ مسجد کی کھلی فضا کا رقبہ 5642 میٹر مربع اور اس کے شبستانوں کا رقبہ 5520 میٹر مربع ہے۔ اس مسجد کے ستونوں کی تعداد 187 اور میناروں کی تعداد 4 ہے جن کی اونچائی 30 میٹر ہے۔مسجد کوفہ کے دروازے 5 ہیں؛ جو "باب الحجہ (باب الرئیسی)، باب الثعبان، باب الرحمہ، باب مسلم ابن عقیل اور باب ہانی بن عروہ" ہے۔ مسجد کوفہ سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلہ پہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جس کا نام "مسجد سہلہ" ہے۔مسجد سہلہ مسجد کوفہ کی طرح اپنے اندر بہت سے راز دفن کئیے ہوئے ہے، دراصل یہ مسجد بعد میں بنی اس سے پہلے یہاں مختلف انبیاء کرامؑ کے گھر تھے،۔ امام باقرؑ سے روایت ہے کہ خدا نے کوئی ایسا نبیؑ مبعوث نہیں فرمایا جس نے اس مسجد میں عبادت نہ کی ہوامامِ زمانہ امام مہدیؑ جب خانہ کعبہ میں ظہور فرمائیں گے تواس کے بعد وہ کوفہ کو اپنا دارلخلافہ بنائیں گے 


 

ہفتہ، 16 اگست، 2025

ہمارے وطن کی فضایہ کے قابل فخر شاہین

 



 ائیر مارشل نور خان سے پہلے ائیرمارشل اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ تھے۔ انھوں نے پاک فوج کے طیارے اور سازوسامان حاصل کرنے کی بھرپور اور کامیاب کوشش کی۔ انھوں نے پائلٹوں کی تربیت کے لیے بھی بہت محنت کی لیکن اپریل، مئی 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میں رن آف کچھ کے تنازعے پر انھوں نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کو فون کر کے دونوں ممالک کی ائر فورسز کو اس تنازعے سے دور رکھنے کا اہتمام کیا۔ بادی النظر میں یہ اقدام معمولی نظر آتا ہے لیکن اس سے فضائیہ کے مورال پر بہر طور منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اصغر خان کے اس طرز عمل پر 23 جولائی 1965 کو آنے والے ائر چیف نور خان نے شدید تنقید کی تھی اور فوری طور فضائیہ کو الرٹ پر ڈال کر کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں پروازیں شروع کرادی تھیں۔ جس سے پاک فضایہ جنگ کے لیے تیار ہو گئی اور اس نے جنگ میں بہترین مہارت کا ثبوت دیا۔



ائرہیڈ کوارٹر ماری پور (کراچی) میں تھا اور بعد کو پشاور منتقل ہوا۔ اس منتقلی سے پہلے وہاں پر فلائنگ بیس کے علاوہ بہت سے دفاتر بھی تھے جو ملک کے شمالی حصے کی فضائی نگرانی کرتے تھے۔ ان کے سربراہ ائر وائس مارشل نورخان تھے جو ائر آفیسر کمانڈنگ (AOC) کہلاتے تھے۔ اب نور خان صاحب میں ایک خاص صلاحیت تھی وہ ایک اچھے کھلاڑی کو فوراً بھانپ لیتے تھے۔ کھلاڑی کسی کھیل کا ہو، اس سے بحث نہیں، مگر اس میں آگے بڑھنے کی رمق ہوتی تو وہ نور خان صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتی تھی۔ پشاور کے قریب ایک چھوٹا سا گائوں تھا، بلکہ اب بھی ہے، جسے غالباً نواں کلی کہتے ہیں۔ وہاں کے بیشتر رہنے والے پشاور ائر فورس بیس پر ملازم تھے۔ آفیسر میس کے تمام بیرے تو تقریباً اسی گائوں سے تھے، ان کے علاوہ جو ٹینس اور سکوائش کھلانے پر معمور تھے، یعنی ان دو کھیلوں کے مارکر، وہ بھی اسی گائوں سے تھے۔ ان میں سے ایک کا نام تھا ہاشم، جو سکوائش کھلایا کرتا تھا۔



اب نور خان صاحب نے کہیں اسے کھیلتے دیکھ لیا اور انہیں اس میں کچھ ایسی صلاحیت نظر آئی کہ وہ اسے انگلستان بھیجنے پر تُل گئے تاکہ وہ عالمی مقابلہ جیت سکے۔ یہ غالباً 1959ء کا واقعہ ہے۔ اسے بھیجنے کا خرچ پورا کرنے کے لیے انہوں نے افسروں سے چندے کی اپیل کی۔ مجھے یاد ہے میں نے بھی اس کارخیر کے لیے دس بیس روپے دیے تھے۔ بہرحال نورخان صاحب نے کسی نہ کسی طرح اپنے پشاور آفیسر میس کے سکوائش مارکر کو لندن بھجوا دیا اور سکوائش کی دنیا میں ایک نیا نام ابھرا… ہاشم خان۔ اس کے بعد تو اس کے عزیز و اقارب سکوائش کی دنیا پر چھا گئے۔ ہاشم خان نے جو کمال کر دکھایا وہ تو اپنی جگہ مگر نورخان صاحب کی نظر کا کمال بھی بھلایا نہیں جا سکتاہے اگر غازی ایم ایم عالم کا ذکر کریں تو وہ 1965ء میں انہوں نے وہ عالمی فضائی ریکارڈ قائم کیا جس کو آج تک کوئی توڑ نہیں پایا۔انہوں نے بھارت کے کل 9طیاروں کو مارگرایا جبکہ ایک منٹ میں 5 طیارے مار گرانے کا ریکارڈ الگ ہے۔


ایم ایم عالم نے پوری فارمیشن کوٹارگٹ کیا۔ 6 ستمبر کو پاک فضائیہ نے پٹھانکوٹ، جام نگر، آدم پور، ہلواڑہ، کلائی کنڈا اور باغ دوگرا پر کامیاب حملے کرکے اہدا ف حاصل کیے۔7 ستمبر کو بھارتی ایئر فورس نے 33 حملے کیے لیکن وہ شاہینوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے۔1965ء کی جنگ میں ایئر چیف، پائلٹس انجینئرز اور دیگر زمینی عملے نے مل کر شب و روز کام کیا اورملک کا نہ صرف کامیاب دفاع کیا بلکہ دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ تقسیم کے وقت یہ بے ایمانی کی گئی تھی کہ فوج اور ایئر فورس کو اس کا پورا سامان نہیں دیا گیا تھا لیکن کم وسائل کے باوجود بھارت کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔


 اس جنگ کے پہلے دو دنوں میں ہی بھارت کے 35 جہاز تباہ ہوگئے تھے۔پاک فضائیہ نے بھارت کے کل 110 طیارے مارگرائے۔ ہر سال 7 ستمبر کو یوم فضائیہ ان شہدا اور غازیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی جان کی بازی لگا کر ملک وقوم کا دفاع کیا اور بھارت کے لاہور اور سیالکوٹ پر قبضے کے خواب کو خاک میں ملا دیا۔شہیدسرفراز احمد رفیقی اور یونس حسین شہید جیسے جانباز پائلٹس کے جسدِ خاکی بھی بھارت نے واپس نہیں کیے اور وہ بھارت میں ہی مدفون ہیں۔شاہینوں کا جذبہ اب بھی تازہ دم ہے

زہانت کا پیکر افتخار عارف

  

  ایک ادیب ہو یا  شاعر ہو اس کے فن  میں  پختگی  اس وقت آتی ہے جب فنکار حالات و واقعات  پر مظبوط گرفت رکھتا ہو -اسی گرفت کی خوبی کے سبب  فنکار کا رشتہ اپنے قاری سے قریب تر ہوتا جاتا ہے ۔ اور افتخار عارف  کا کلام جدید اردو شاعری میں ایک منفرد آواز کے ساتھ قاری کے دل و دماغ پر دیر تک چھایا رہتا ہے۔اور ابلاغی تاثیر خود بخود قاری کو  اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔افتخار عارف کا کلام ایک ایسا جدید گلدستہ ہے جو کلاسیکی گلزار سخن کے رنگ و خوشبو سے ہم آمیز ہے۔کلاسیکی لفظیات کو نئے مفاہیم کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔لفظ کے مزاج سے واقفیت رکھتے ہیں اس لیے بیشتر اشعار میں زبان کا خلاقانہ اظہار ہوا ہے۔انھوں نے پرانی غزل کے احساس کے ساتھ ساتھ نئی غزل کے تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔-افتخار عارف نے جس طرح ایک عام موضوع پر قلم اٹھایا اور اسے ایک خاص شعری ہیئت میں ڈھال کر ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کر کے جو حسن بخشا وہ واقعی امتیازی وصف کے لائق ہے۔


 افتخار عارف 21مارچ 1944کو لکھنو ٔ میں پیدا ہوئے ان کا خاندان تعلیم یافتہ تھا خود انھوں نے لکھنؤیونی ورسٹی سے ایم اے کیا اور عملی زندگی میں اتر آئے ۔ریڈیو پاکستان میں نیوز کاسٹر کی حیثیت سے منسلک ہوئے اور دس روپئے فی بلیٹن کے حساب سے خبریں پڑھنے لگے۔کچھ دنوں کے بعد پی ٹی وی سے جڑ گئے اور خوب محنت سے کام کیا ۔ان کا پروگرام ’’کسوٹی ‘‘ بہت زیادہ پسند کیا گیا ۔تمام لوگوں نے اس پروگرام کو کافی سراہا ۔افتخار عارف علمی و ادبی حوالے سے کہیں آگے نکل جانے کے بائوجود آج بھی ’’کسوٹی ‘‘سے پہچانے جاتے ہیں ۔کسوٹی نے گھر گھر ان کی ذہانت کا چرچا کیا۔اس عہد نے افتخار عارف کو منفردشناخت بخشی انہوں نے  ان عہدوں پر بہترین کا م کیا ۔1977  سے  1980تعلقات عامہ بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس لندن۔پھر1981تا1990ایگزیکٹو انچارج، اردو مرکز لندن افتخار عارف نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر اردو مرکز لندن کو پوری دنیا میں متعارف کرایا۔ 


1990میں مرکز بند ہوگیا افتخار عارف پاکستان واپس آگئے یہاں ایک بار پھر انھیں محبت و عزت سے نوازاگیا ۔حکومت پاکستان نے 19مئی 1991کو انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ڈائرکٹر جنرل بنایا اس عہدے پر وہ 1995تک رہے ۔پھر آگے چل کر انھیں مقتدرہ قومی زبان کا صدر بنایا گیا۔یہاں بھی وہ اپنے منصب کے تقاضے بحسن خوبی نبھاتے رہے۔انھوں نے لا تعداد کتابوں کے فلیپ اور مقتدرہ کے زیر اہتمام شائع ہونے والے منصوبوں کے ابتدائیے لکھے۔افتخار عارف کی ادبی ارتقا کی اولین شناخت ان کی شاعری ہےجدیداردو شاعری میں ایک اہم نام افتخار عارف کا ہے ۔وہ حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں ،افتخار عاف کے یہاں کلاسیکی شاعری کا مطالعہ بہت عمیق ہے۔مروجہ اوزان اور بحروں کو بھی نئے تجربے کے ساتھ خوب استعمال کیے ہیں ۔افتخار عارف نے پرانی اور مذہبی تلمیحات کو اپنی شاعری میں استعمال کرکے تنوع پیدا کیا ہے اور دور حاضر کے مسائل سے ہم آہنگ کرکے اردو ادب کے دامن کو خوب وسعت بخشی ہے۔افتخار عارف اپنی شاعری میں ایسی تاثیر عطا کرتے ہیں جو پڑھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے ،اور شعری لوازمات کا بھر پور استعمال کی وجہ سے ان کی شاعری میں چار چاند لگ جاتا ہے۔انھوں نے نہ صرف علامتوں،مبالغوں،استعاروں اور تلمیحوں کو وسعت دی ہیں بلکہ ہم عصر مسائل کو بھی اپنی شاعری میں بحسن خوبی پیش کیا ہے۔


جب افتخار عارف  نے بھی وطن سے دوری  کےعذاب جھیلے اور  یہ دکھ ان کی شاعری میں سمٹ   آئے     تو انھیں دنیا کے  ہر منظر کی کشش سے زیادہ وطن عزیز کی کشش  نظر آتی ہے۔وطن سے لگا ؤ گھر کی بے گھری گھر کے احوال کی نشان دہی اور گھر کے منظر سے اسودگی افتخار عارف کو جدید شاعروں میں سب سے الگ اور نمایاں کرتی ہیں۔ان کا ذخیرہ الفاظ اس قدر صاحب ثروت ہے کہ وہ جیسے چاہتے ہیں انھیں صفحہ قرطاس پر موتیوں کی طرح بکھیرتے چلے جاتے ہیں ۔انھیں کبھی الفاظ کی کمی نہیں پڑتی اور اپنے احساس افکار اور گفتار کو پیراہن و پیکر عطا کرنے کی دولت سے مالا مال ہیں ۔حسی تجربہ شاعر کے لاشعور میں پوری طرح جڑیں پکڑ لیتا ہے تو کسی آمد کے لمحے میں ذہن کے روشن حصے کی طرف آجاتا ہے۔اب شاعر اسے پوری ذہنی بیداری کے ساتھ دیکھتا ہے،اور جو کچھ دیکھتا ہے ایک فطری سحر کاری کے ساتھ الفاظ میں بیان کردیتا ہے۔


افتخار عارف کی شاعری سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں حسی تجربے کے ساتھ ذہنی عمل کی مناسب کار فرمائی موجود ہے سچے اور اچھے فنکار کی پہچان یہ ہے کہ وہ عام زمان و مکان سے الگ دوسرا زمان و مکان اپنے اندر رکھتا ہو۔اور بالکل اسی طرح انسان کو ایک کھلاڑی سے تعبیر کرکے اس کو اپنی باری کا منتظر دکھایا ہے۔جو اپنا کردار ادا کرنے کا منتظر ہے۔یعنی ہم زندگی کے کھیل میں لگے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔آخیر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری زندگی کی بولتی قدروں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنے لہجہ کی الگ پہچان بنائی ہے۔ افتخار عارف کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچی ہو ں کہ علامہ اقبال نے بلکل صحیح کہا تھا 
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

جمعہ، 15 اگست، 2025

کالج آف نرسنگ شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان

 




  شیخ زیدسلطا ن النہیان نے بنفس نفیس  رحیم یار خان میں جن فلاحی کاموں کا بیڑہ اٹھا یا ان میں  میڈیکل کالج رحیم یار خان اس لئے سر فہرست مانا جائے گا کہ اس کا تعلق  صحت کے شعبے سے ہے ،PHA  -انڈرگریجویٹ پروگرام-کالج پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، پاکستان نرسنگ کونسل اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ انڈر گریجویٹ پروگرام پیش کر رہا ہے۔ ، یہ ایک پبلک میڈیکل کالج ہے جو رحیم یار خان، پنجاب، پاکستان میں واقع ہے۔ اس کا نام شیخ زید بن سلطان النہیان کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔ میڈیکل کالج کا الحاق شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان سے ہے جس میں 900 بستر ہیں اور یہ ضلع رحیم یار خان کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ شیخ زید میڈیکل کالج مارچ 2003 میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، رحیم یار خان میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ رحیم یار خان میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔



 شیخ زید میڈیکل کالج (جے ایس زیڈ ایم سی) کا جریدہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سپورٹ یونٹ، شیخ زید میڈیکل کالج/ہسپتال، رحیم یار خان کے تحت انسٹی ٹیوٹ اور ریجن میں ہیلتھ ریسرچ پبلیکیشن کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ذریعے تسلیم شدہ۔ہر سال، کالج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور کے زیر اہتمام داخلہ امتحان کے ذریعے اوپن میرٹ پر 150 طلبہ کو داخلہ دیتا ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کے ذریعے تسلیم شدہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور سے الحاق شدہ۔ الحاق شدہ ادارے-شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان ( پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے نام سے جانا جاتا تھا ) ایم بی بی ایس-ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی-بی ایس سی (آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی -بی ایس سی (میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی)بی ایس سی آنرز۔ (میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی) نر  سنگ ڈپلوماپوسٹ گریجویٹ پروگرام


-شیخ زاید میڈیکل کالج اور اس سے منسلک ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ ہیں اور درج ذیل میں تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ان پروگراموں میں داخلہ پنجاب ریذیڈنسی پروگرام کے تحت سنٹرل انڈکشن پالیسی کے ذریعے ہے۔ شعبه جات-اناٹومی-بائیو کیمسٹری-کمیونٹی میڈیسن- فرانزک دوا-پیتھالوجی-فارماکولوجی-فزیالوجی-طب اور اس سے متعلقہ محکمے۔کارڈیالوجی-ڈرمیٹولوجی-عام دوا-نیورولوجی-اطفال-بنیادی سائنس کے شعبے  - روک تھام کی دوانفسیات-پلمونولوجی ( سینے کی دوا )-ریڈیو تھراپی-یورولوجیسرجری اور متعلقہ شعبہ جات-اینستھیزیالوجی-کارڈیک سرجری--کاسمیٹک سرجری-جنرل سرجری-نیورو سرجریپرسوتی اور امراض نسواں-امراض چشم-زبانی اور میکسیلو فیشل سرجری-آرتھوپیڈکس-


Otorhinolaryngologyپیڈیاٹرک سرجری-ریڈیولوجی-سٹوڈنٹ سوسائٹیزشیخ زید میڈیکل کالج میں درج ذیل سوسائٹیز طلبہ کے لیے کام کر رہی ہیں:زیدیان آگاہی اور ادبی سوسائٹی (ZALS)زیدیان میڈیا آرٹس اینڈڈرامیٹکس(ZMAD)زیدیان ایتھلیٹک اینڈ اسپورٹس کلب (ZASC)زیدیان بلڈ ڈونر سوسائٹی (ZBDS)پسماندہ طبی امداد کے نیٹ ورک کی مدد کرنا (HUMANe)پیشنٹ کیئر سوسائٹی (PCS)SZMC کے طالب علم نے مصر میں اپنے الما میٹر کی نمائندگی کی۔انڈرگریجویٹ ریسرچرز


-شیخ زید میڈیکل کالج کے طلبہ کو ہمیشہ اصل تحقیق کرنے، دنیا بھر میں قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالے پیش کرنے اور ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جرائد میں شائع ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایس زیڈ ایم سی کے ایک طالب علم نے اپریل 2006 میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز حیدرآباد میں منعقدہ پاکستان فزیالوجیکل سوسائٹی کی 10ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں بہترین پیپر پریزنٹیشن کا ایوارڈ جیتا تھا] SZMC کے طلبہ نے پہلی سارک، شفا کالج آف میڈیسن، اسلام آباد میں نومبر 2008 میں منعقدہ 11ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں 5 اصل تحقیقی مقالے پیش کیے تھےSZMC کے ایک طالب علم نے فروری 2009 میں قاہرہ میں 17ویں بین الاقوامی عین شمس میڈیکل اسٹوڈنٹس کانگریس میں اپنا مقالہ پیش کیا  ایس زیڈ ایم سی کے طلبہ نے ایم بی بی ایس کے دوران اپنے اصلی تحقیقی مقالے معروف قومی جرائد میں شائع کیے ہیں۔


بدھ، 13 اگست، 2025

شیخ زید النہیان جن کا دوسرا گھر رحیم یار خان

      شیخ  زید  النہیان  کا جب  پاکستان سے دوستانہ  استوار ہو  تب انہوں نے اپنے لئے   چولستان کے علاقے میں ایک  تعمیر کرنے کا ارادہ بنایا ایک محل اور اس کے لئے  رحیم یار خان شہر سے چند کلومیٹر کی دوری پر  ایک قطعہ زمین کا انتخاب کیا گیا   پھر محل اور شہر سے آمدو رفت کے لیے ایئرپورٹ سے محل تک  خصوصی شاہراہ تعمیر ہوئی۔ اور پھر یہ محل اور یہ شاہراہ  پنجاب کے لوگوں کے لئے  بہت کشادگی کا باعث بن گئ  رفتہ رفتہ شہر کا پھیلاؤ بھی اسی جانب ہوتا چلا گیا اور اب محل سے صرف کچھ ہی فاصلے پرحکمران نہیں، پوری حکومت آتی تھی رئیس عباس زیدی کے مطابق ستر کی دہائی میں پہلی بار شیخ زید نے رحیم یار خان ضلع میں سرکاری زمین لیز پر حاصل کی جو ریگستان میں واقع تھی۔ان کے مطابق اس کے بعد ان کے دور میں چار ہزار ایکڑ مزید زمین لیز پر لی گئی جو بنجر اور بے آباد تھی۔ ’وہاں پانی نہیں تھا لیکن اس زمین کو آباد کیا گیا، سڑکیں بنائی گئیں، اور صحرا کے خانہ بدوشوں کی زندگی بدل گئی۔‘تاہم رئیس عباس زیدی کے مطابق بطور ڈپٹی کمشنر متحدہ عرب امارات کے حکمران کی رحیم یار خان آمد کے بعد ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بڑھ جایا کرتی تھی۔


جب شیخ زید زیادہ عرصے کے لیے آتے تھے تو ان کی مجلس یعنی کابینہ کا اجلاس بھی ادھر ہی ہوا کرتا تھا اور اکثر دوسرے ممالک کے عہدیداران ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس دوران بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں جو خود شیخ زید سے ملنے آیا کرتی تھیں جبکہ نواز شریف اپوزیشن لیڈر تھے، وہ بھی آتے تھے۔‘رئیس عباس زیدی کہتے ہیں کہ ’محل میں شیخ زید کے کمرے کے باہر چیتے کی کھال لگی تھی جو ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ کے طور پر دی تھی اور ان کی ہدایت تھی کہ اس کھال کو ہٹایا نہ جائے۔‘عرب حکمرانوں کا شکار کے لیے پاکستان آنے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ ایک خیال یہ ہے کہ پاکستان میں خلیجی ممالک کے سربراہان کی شکار کے لیے آمد کا باقاعدہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت سے شروع ہوا تھا۔جبکہ ایک اور عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں عرب حکمرانوں کی شکار کے ارادے سے آمد کا سلسلہ 1970 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تیل کی دولت سے مالامال مشرق وسطی کی ریاستوں سے بہتر تعلقات استوار کیے۔


مصنف ندیم فاروق پراچہ کی ایک تحریر میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1970 کی دہائی کے وسط میں رحیم یار خان شکار کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کا پسندیدہ علاقہ بن گیا کیونکہ ان کے اپنے صحراؤں میں تلور معدوم ہوتا جا رہا تھا۔ یہ شیوخ دسمبر سے فروری کے مہینوں میں آتے کیونکہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں نایاب سمجھا جانے والا پرندہ تلور موسمِ سرما گزارتا ہے۔رفتہ رفتہ یہ حکومت اور مقامی لوگوں کے لیے منافع بخش کام بھی بن گیا۔ 2019 میں معاشی امور پر رپورٹ کرنے والے جریدے ’دی اکانمسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کے عوض شکار گاہ، ایک لاکھ ڈالر کے عوض دس دن کا اجازت نامہ دیا جانے لگا جس کے تحت صرف سو تلور کے شکار کی اجازت دی جاتی اور ہر تلور کے عوض ایک ہزار ڈالر اضافی دینا ہوتے۔



تاہم اس سے قبل یہ معاملہ اس وقت متنازع ہو گیا تھا جب بلوچستان ہائی کورٹ نے نومبر 2014 میں اپنے ایک فیصلے میں عرب شیوخ کو شکار گاہیں الاٹ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد اگست 2015 میں اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے تلور کے شکار پر پابندی عائد کرنے کے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔تاہم پھر جنوری 2016 میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے تلور کے شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔اس وقت جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلے میں لکھا تھا کہ عالمی ادارہ برائ ے جنگلی حیات نے تلور کو اُن پرندوں میں شامل نہیں کیا جن کی نسل معدوم ہو رہی ہے اور اقوامِ متحدہ کا کنونشن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ان نسلوں کی افزائش کر کے شکار کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ قانون کا جائزہ لے کر عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ تلور کے شکار پر مستقل پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔


شیخ زید النہیان کا ’دوسرا گھر‘تحقیق سے علم ہوتا ہے کہ ستر کی دہائی میں شیخ زید نے رحیم یار خان میں فلاحی منصوبوں کا آغاز کر دیا تھا۔ ڈان اخبار کی 24 جنوری 1974 کی خبر کے مطابق اس دن شیخ زید نے رحیم یار خان کے محل میں ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ شہر سے صحرا تک 19 میل طویل سڑک تعمیر کروائی جائے گی جبکہ ہسپتال اور مسجد کی تعمیر کا اعلان بھی کیا گیا۔ شہر کے ڈپٹی کمشنر نے اس سڑک کا نام شیخ زید روڈ رکھنے کا اعلان کیا۔رئیس عباس زیدی، جو اس وقت پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ہیں، 1993 سے 1996 تک رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ’متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زید اس وقت بھی رحیم یار خان آیا کرتے تھے جب ان کا ملک تیل کی وجہ سے امیر نہیں ہوا تھا۔‘شیخ زید کے رحیم یار خان سے تعلق کے بارے میں بتاتے ہوئے اہم سفارتی ذرائع نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات کے قیام سے قبل ہی شیخ زید النہیان رحیم یار خان کے دوروں پر آیا کرتے تھے۔

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر