رجب طیّب اردوان اسپتال -اگر ضلعے کی پَس ماندگی کی ایک بڑی وجہ، طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں چند خاندانوں کی اجارہ داری کو بھی قرار دیا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ ان خاندانوں میں کھر، قریشی، ہنجرا، بخاری، دستی، نواب، گرمانی، جتوئی، گوپانگ، چانڈیہ، لغاری اور سیال شامل ہیں۔ جب کہ ان ہی سرداروں میں سردار کوڑا خان مرحومؒ کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،جنہوں نے اپنی ہزاروں ایکڑ اراضی غریب و نادار لوگوں کے لیےوقف کرکے خدمتِ خلق کی عظیم مثال قائم کی۔ آج بھی ان کی جائیداد سے حاصل ہونے والی آمدنی نادار و مستحق افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جارہی ہے۔2010ء میں مظفّرگڑھ میں آنے والے بدترین سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے، سیکڑوں انسانی جانوں کا زیاں ہوا۔ تاہم، مشکل کی اس گھڑی میں دیگر ممالک کے علاوہ دوست ملک ترکی نے خصوصی طور پر یہاں کے مصیبت زدہ لوگوں کی دل کھول کر مدد کی۔ ترکی کے تعاون سے ڈیرہ غازی خان روڈ پر اعلیٰ معیار کا 300 بیڈز پر مشتمل ایک اسپتال تعمیر کیا گیا، جہاں روزانہ سیکڑوں مریضوں کے مفت علاج کے ساتھ مفت ادویہ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔سردار کوڑا خان جتوئی-صرف یہی نہیں، بلکہ غریب،بے گھر افراد کے لیے 1400گھروں پر مشتمل رہایشی کالونی بھی تعمیر کی گئی۔
ترکی کے تعاون سے بنایا گیا ’’رجب طیّب اردوان اسپتال‘‘ یہاں کے باسیوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ بلاشبہ، دوست ملک تُرکی نے یہاں کے لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرکے دوستی اور انسانی ہم دردی کی ایک بڑی مثال قائم کی۔ ضلعے کے دیگر مسائل کی بات کی جائے، تو یہاں کی ٹوٹی پھوٹی خستہ حال سڑکیں برسوں سے تعمیر و مرمت کی راہ دیکھ رہی ہیں، پورے ضلعے میں صحت و صفائی اور نکاسیِ آب کا نظام انتہائی ناقص ہونے کے باعث ہیپاٹائیٹس، تپِ دق اورگُردوں سمیت سرطان جیسے خطرناک موذی امراض کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ فضائی آلودگی کے باعث آنکھوں، جِلد اور سانس کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ 2010 ءمیں آنے والے بدترین سیلاب کے بعد یہاں زیر ِزمین پینے کا پانی آلودہ ہونے سے متعدد بیماریاں پھیلنے لگیں، تو حکومتِ پنجاب کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے صاف اور میٹھے پانی کا منصوبہ شروع کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے یہ بھی کرپشن کی نذر ہوکر آج تک پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ اگرچہ سیلاب کی تباہی کے بعد بہت سے ممالک اور عالمی اداروں سے اربوں روپے کی امداد حاصل ہوئی، جس سے نئے سرے سے ایک نیا شہر بنایا جاسکتا تھا، تاہم بدقسمتی سے اس میں بھی زیادہ پیسا کرپشن ہی کی نذر ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے کئی سو ایکڑز پر موجود جنگلات کو اجاڑ دیا گیا، درختوں کی کٹائی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، جس کا سدّباب بے حد ضروری ہے۔
تھرمل پاور اسٹیشن-زرعی لحاظ سے یہاں کی زرخیز زمینیں بہترین پیداواری صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن نہری پانی کی غیر مساوی تقسیم اور پانی کی چوری کے باعث چھوٹے کاشت کاروں کی زمینیں بنجر ہوتی جارہی ہیں۔ ضلعے کی زرخیز زمینوں کا بیش تر حصّہ سرکاری تحویل میں ہے، اگر یہ زمینیں کاشت کاری کے لیے غریب ہاریوں کو دے دی جائیں، تٖو کروڑوں روپے ماہانہ آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم، بدقسمتی سے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی قبضہ مافیا نے کل سرکاری رقبے کے آدھے سے زیادہ حصّے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ تجاوزات کے باعث بازار، سڑکیں اور گلیاں سکڑتی جارہی ہیں، جب کہ بسوں اور رکشوں کے غیر قانونی اڈوں اور بے ہنگم ٹریفک نے بھی شہر کا حُسن ماند کردیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے دوسرے اضلاع کی طرح مظفّرگڑھ میں بھی تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن شروع تو کیا ہے، لیکن سیاسی مداخلت کے باعث حالیہ آپریشن بُری طرح ناکام ہوتا نظر آتا ہے۔
ضلع مظفّر گڑھ سے تعلق رکھنے والے بہت سے سیاست دانوں نے ملک گیر شہرت پائی، جن میں نواب زادہ نصر اللہ خان، غلام مصطفیٰ کھر، سردار عبدالقیوم خان، نصرللہ خان جتوئی، حنا ربانی کھر اور جمشید احمد خان دستی کے علاوہ علم و فکر کے اعتبار سے پروفیسر شاہدہ حسین مرحوم، پروفیسر ڈاکٹر کریم ملک مرحوم، شجاعت مندخان، پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب خان قلندرانی اور محمد جمیل کے نام قابلِ ذکر ہیں، جب کہ مضطر بخاری اور رضا ٹوانہ نام وَر شاعر گزرے ہیں اور صحافتی حوالے سے خان عبدالکریم خان ،اعجاز رسول بھٹّہ، اے بی مجاہد اور عبدالسمیع خان کی خدمات کو بھی کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔فنون لطیفہ کے حوالے سے مظفرگڑھ کے بڑے اور نامور نام پیش خدمت ہیں گلوکار استاد پٹھانے خاں, گلوکار استاد شوکت علیم, اداکار توقیر ناصر, اداکارہ سائرہ خان, اداکار شیخ اسد عاقب, اداکار بلال اعوان, اداکار عرفان ساگر, اداکار ادریس ملک, شاعر کشفی ملتانی, شاعر مخدوم غفور ستاری, شاعر انور سعید انور, شاعر خلیل مرزا, شاعر سعید اختر سعید, شاعر مخدوم نوید ستاری, شاعر رضا ٹوانہ, شاعر افضل چوہان, شاعر احمد سعید گل, شاعر سلیم نتکانی, شاعر شکیل عادل-جبکہ صحافت کے شہسواروں میں عون رضا گوپانگ۔ اعجاز رسول بھٹہ۔ اے بی مجاہد۔ شیخ کاشف نذیر محمد عدنان مجتبی بہترین اور بے باک صحافت میں مشہور ہیں
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ شہر کے تمام اسٹیک ہولڈر آگے بڑھ کر اپنا اپنا ھصہ ڈالیں اور شہر کو چار چاند لگاءیں جیسا کہ ترکی کے صدر نے لگایا
جواب دیںحذف کریں