اتوار، 4 جنوری، 2026

بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ بینف نیشنل پارک کینیڈا کی سیر

بینف نیشنل پارک اس وقت کینیڈا کے مقبول ترین سیاحتی  شہروں  میں سے ایک  خوبصورت  شہر ہے۔ 1976 میں بین الاقوامی خلائی یونین اور خلائی اجسام کو نام دینے والے ادارے نے رسمی طور پر مریخ کے ایک گڑھے کا نام بینف رکھا۔ اس گڑھے کا قطر 5 کلومیٹر ہے۔سردیوں میں درجہ حرارت منفی 15 سے منفی پانچ تک رہتا ہے۔ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت  22 ڈگری اور کم سے کم 7 ڈگری رہتا ہے۔ سال بھر برفباری کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ سالانہ برف کی شرح 2 اعشاریہ 34 میٹر ہے۔ قدرتی مناظر کی خوبصورتی شروع ہو جاتی ہے اور بینف پہنچ کر تو بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ یہ ایسا ٹاؤن ہے جیسا عموما ً فلموں میں دکھایا جاتا ہے، چاروں جانب سے پہاڑوں میں گھرا ہوا، کہیں آبشار گر رہی ہے تو کہیں جھرنے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی احساس ہوتا ہے کہ اگر سیاحوں کیلئے ایک آئیڈیل جگہ بنانی ہو تو وہ ایسی ہوگی۔ بینف میں چلنے والی بسیں سیاحوں کو آس پاس کے خوبصورت مقامات تک لے جاتی ہیں، ہر بات کی رہنمائی کیلئے جگہ جگہ نقشے اور سمت کے نشان لگے ہیں، شہر کی ٹرانسپورٹ ایپ کے ذریعے بھی آپ معلومات لے سکتے ہیں۔ یہ سب باتیں ہم جیسے لوگوں کو بہت متاثر کرتی ہیں-کینیڈا اپنے شاندار اور قدیم قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہے، اور بینف نیشنل پارک کو راکی ​​پہاڑوں کے دل میں ایک چمکتا ہوا  نگینہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے بلند و بالا پہاڑوں، کرسٹل صاف جھیلوں اور بھرپور ماحولیاتی نظام کے ساتھ، یہ دنیا بھر کے لاکھوں مسافروں کے لیے خوابوں کی منزل بن گیا ہے۔ 


بینف نیشنل پارک کی سیر نہ صرف فطرت میں غرق ہونے کا سفر ہے، بلکہ دلچسپ بیرونی سرگرمیوں کا تجربہ کرنے، مقامی ثقافت کے بارے میں جاننے اور ناقابل فراموش یادیں تخلیق کرنے کا موقع بھی ہے بینف نیشنل پارک دریافت کریں: کینیڈا کے دل میں ایک قدرتی جنت۔کینیڈا اپنے شاندار اور قدیم قدرتی مناظر کے لیے مشہور ہے، اور بینف نیشنل پارک کو راکی ​​پہاڑوں کے دل میں ایک چمکتا ہوا  ہیرا سمجھا جاتا ہے۔ اپنے بلند و بالا پہاڑوں، کرسٹل صاف جھیلوں اور بھرپور ماحولیاتی نظام کے ساتھ، یہ دنیا بھر کے لاکھوں مسافروں کے لیے خوابوں کی منزل بن گیا ہے۔ بینف نیشنل پارک کی سیر نہ صرف فطرت میں غرق ہونے کا سفر ہے، بلکہ دلچسپ بیرونی سرگرمیوں کا تجربہ کرنے، مقامی ثقافت1. بینف نیشنل پارک کی تلاش کی تاریخ اور اہمیت۔بینف نیشنل پارک، جو 1885 میں قائم ہوا، کینیڈا کا پہلا قومی پارک تھا۔ 1885 میں قائم کیا گیا، بینف نیشنل پارک کینیڈا کا پہلا قومی پارک ہے اور دنیا کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک ہے۔ اسے ابتدائی طور پر ریلوے کے کارکنوں نے دریافت کیا تھا جنھیں قدرتی گرم چشمے ملے تھے۔ اس کے بعد سے، بینف تیزی سے ایک مقبول سیاحتی مقام بن گیا ہے، جو بے شمار سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہ بن گیا ہے۔



بینف نیشنل پارک کی تلاش صرف ایک خوبصورت منظر کا سفر نہیں ہے بلکہ تاریخی جڑوں کی طرف واپسی بھی ہے۔یہ شہر ٹرانس کینیڈا ہائی وے پر واقع ہے۔تاریخ-1880 کی دہائی میں بینف کو پہلے پہل بسایا گیا۔ 1883 میں کینیڈین پیسیفک ریلوے کے ملازمین کو یہاں سلفر پہاڑ کے ایک جانب گرم پانی کے چشمے ملے۔ 1885 میں کینیڈا نے یہاں وفاقی ریزرو کے لیے 26 مربع کلومیٹر کا علاقہ مختص کر دیا۔ اس علاقے کو بین الاقوامی تفریحی اور سپا کے مرکز کے لیے ترویج دی جانے لگی۔ 1887 میں ریزرو کا علاقہ بڑھا کر 673 مربع کلومیٹر کر دیا گیا۔ اس وقت اسے راکی ماؤنٹین پارک کا نام دیا گیا۔ کینیڈا میں نیشنل پارک کے نظام کی یہ ابتدا ثابت ہوئی                       بینف کے شہر کو ریلوے اسٹیشن کے پاس سیاحتی مرکز کے طور پر بنایا گیا۔ اسے 1990 تک حکومت کے نیشنل پارک کے نظام نے چلایا جس کے بعد سے اسے کینیڈین نیشنل پارک کے اندر موجود شہر کا درجہ دے دیا گیا۔1884 میں اس علاقے کو لارڈ سٹیون نے بینف کا نام دیا۔ لارڈ سٹیون کینیڈین پیسیفک ریلوے کے ایک سابقہ ڈائریکٹر تھے۔ ان کی جنم بھومی کا نام بینف تھا جو سکاٹ لینڈ میں واقع ہے۔ کینیڈین پیسیفک ریلوے نے اپنی پٹڑی کے نزدیک بہت سارے ہوٹل بنائے اور بینف سپرنگز ہوٹل کو بین الاقوامی سیاحی مرکز قرار دیا۔2007 میں بینف کی کل آبادی 8721 افراد تھی جس میں سے 7437 افراد مستقل طور پر یہاں آباد ہیں۔ غیر مستقل آبادی کی تعداد 1284 افراد ہے۔ یہاں کا کل رقبہ 4 اعشاریہ 85 مربع کلومیٹر ہے۔ آبادی کی گنجانیت 1381 اعشاریہ 7 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔


 یہاں کل عمارات کی تعداد 2844 جبکہ مستقل طور پر آباد عمارتیں 2568 ہیں۔ اوسط سالانہ گھریلو آمدنی 55017 ڈالر ہے۔1985 میں اقوام متحدہ نے بینف نیشنل پارک کو کینیڈا کے راکی پہاڑی سلسلے کے پارکوں میں سے ایک اور عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دے دیا۔  اس پارک میں  ہر تاریخی نشان سیاحت کی ترقی، فطرت کے تحفظ، اور مقامی لوگوں کی ثقافتی نقوش کی کہانیاں رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنف سیاحوں کے لیے ایک خاص مقام بن گیا ہے. شاندار قدرتی خوبصورتی                       سے مالا مال بینف                     کینیڈا کے سب سے بڑے پرکشش مقامات میں سے ایک  ایسی دلکش  جگہ ہے ، جس کی  پورے کینیڈا میں کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ 6,600 کلومیٹر سے زیادہ کے رقبے پر محیط یہ پارک ایک متنوع ماحولیاتی نظام کا حامل ہے، جس میں پہاڑ، گلیشیئر، وادیاں، جھیلیں اور گھنے جنگلات شامل ہیں۔یہاں کے طول و عرض میں  سردیوں میں سفید برف سے ڈھک جاتے ہیں  بینف نیشنل پارک کی سیر کرنا اپنے آپ کو ایڈونچر اور جوش میں پوری طرح غرق کرنے کا ایک موقع ہے۔بینف کا دورہ کرتے وقت سب سے زیادہ لطف اندوز ہونے والے تجربات میں سے ایک قدرتی گرم چشموں میں بھیگنا ہے Banff کا دورہ کرتے وقت سب سے زیادہ خوشگوار تجربات میں سے ۔ بینف اپر ہاٹ اسپرنگس          سلفر سے بھرپور پانی کے لیے مشہور ہے، جو   طویل دنوں کی تلاش کے بعد آرام  کے متلاشی  لوگوں کو            بھر پور  توانا   ہونے میں مدد کرتا ہے۔۔



 

1 تبصرہ:

  1. قدرت کی رعنائ زمین میں ہر طرف موجود ہے -بس دیکھنے والی آنکھ چاہئے

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر