جمعرات، 29 جنوری، 2026

گورنمنٹ ہاسپٹلز میں ا ینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں ہے

 

  پورے کراچی  کے    گورنمنٹ ہاسپٹلز  میں کتے  کے کاٹ لینے کی ویکسین دستیاب نہیں ہے-جبکہ کتے کے کاٹنے کے واقعات  میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے-گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی اور عباسی شہید اسپتال میں اینٹی ریبیز ویکسین نہیں سال 2025 میں صوبے میں 22 شہریوں کی کتوں کے کاٹنے سے ہلاکت اور 29 ہزار افراد زخمی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور ریبیز پروگرام کے تحت ویکسین کی عدم دستیابی کے معامل پر درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے آئینی بینچ کو تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے۔عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر فریقین سے چار ہفتوں میں رپورٹس طلب کرلی ہے۔ طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے 2024 میں آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی کرنے اور ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ریبز کنٹرول پروگرام شروع نہیں کیا۔درخواست گزار نے کہا کہ کے ایم سی ہیلپ لائن نمبر 1093 بھی غیر فعال ہوچکا ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدر آمد کیوں نہیں کیا جارہا؟ جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ویکسینشن ہر جگہ دستیاب ہیں باقی ڈی جی سے رپورٹ جمع کروا دیں گے۔طارق منصور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ کیونکہ آوارہ کتوں کے غول کراچی کی ہر گلی اور محلے میں دندنا رہے ہیں


جسٹس یوسف علی سعید کا کہنا تھا کہ جواب آنے دیں تمام پہلووں کا جائزہ لے کر حکم نامہ جاری کریں گے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کیس جلدی سنا جائے کتوں کے کاٹنے سے صوبے میں ہزاروں لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ 2 دسمبر ،5 202کراچی (بابر علی اعوان / اسٹاف رپورٹر) سندھ میں ریبیز اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں،جناح اور انڈس اسپتال میں 18 ہلاکتیں رپورٹ۔ وزارِت صحت سندھ  کے مطابق صوبے بھر میں ایک سال کے دوران کتے کے کاٹے کے 2 لاکھ 84 ہزار 138 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی تعداد بھی ہزاروں میں ہو سکتی ہے کیونکہ صوبے میں بیماریوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی مکمل اور منظم نظام موجود نہیں۔دوسری جانب انڈس اسپتال کورنگی میں زیرِ علاج جیکب آباد سے تعلق رکھنے والا 12 سالہ حیدر علی بدھ کو ریبیز سے انتقال کر گیا، جس کے بعد انڈس اسپتال میں رواں سال ریبیز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے۔


 انڈس اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ان ہلاکتوں کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جاں بحق ہونے والے پانچ افراد نے قریبی مراکز سے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی اس کے باوجود ریبیز کا مرض ان میں سرائیت کرگیا اور وہ جانبرنہ ہو سکے جس سے ویکسین کی افادیت اور لگانے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں بھی رواں سال ریبیز سے 9 مریض جاں بحق ہوئے۔ اس طرح صرف دو اسپتالوں میں ریبیز کے باعث 18 افراد انتقال کر چکے ہیں، جو بیماری کی شدت اور سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹے کے بیشتر متاثرین کو بروقت اور مکمل پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس (PEP) میسر نہیں آ پاتی، جس کے باعث معمولی زخم بھی جان لیوا بیماری میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ بچاؤ مرض ہے تاہم علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ تقریباً ہمیشہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔


ماہرین صحت کے مطابق سندھ میں آوارہ کتوں کی آبادی، ویکسینیشن، نس بندی اور ریبیز کو کنٹرول کرنے کے نظام میں واضح کمزوریاں موجود ہیں  اس لئےجب تک مؤثر ڈاگ کنٹرول، ماس ویکسینیشن اور ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ریبیز سے انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافے پر قانون ساز بنچ نے سماعت کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبے میں سال 2025 کے دوران کتوں کے کاٹنے سے 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 29 ہزار سے زائد شہری زخمی ہوچکے ہیں درخواست گزار ایڈووکیٹ گزار طارق منصور نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سندھ حکومت نے ء2025 میں 2000 سے زائد افراد کو کنٹرول نہیں کیا۔ کے ایم سی کی ہیلپ لائن 1093 کو بھی غیر فعال کر دیا گیا ہے۔سماعت کے دوران یہ کڑوا سچ سامنے آیا کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی اور عباسی شہید اسپتال جیسے بڑے طبی مراکز میں بھی اینٹی ریبیز ویکسین دستیاب نہیں۔ جہاں ایک طرف درخواست گزار نے ویکسین کی عدم دستیابی اور آوارہ کتوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے کی شکایت کی۔ جہاں پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ ویکسین ہر جگہ موجود ہے اور اس حوالے سے ڈی جی رپورٹ پیش کی جائے گی جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ حکم جاری کیا جائے گا،

1 تبصرہ:

  1. حکومت کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلدصوبے بھر کے ہاسپٹلز میں اینٹی ریبیز ویکسین مہیا کرے

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر