جمعرات، 16 اکتوبر، 2025

حضرت لقمان کو ندائے غیبی آئ

 

  قران  کریم  میں حضرت لقمان  کے نام کی ایک سورۃ آپ کے نام سے موسوم ہے اس سورہ میں آپ نے اپنے بیٹے کو مخا طب کر کے ایسی نصیحتیں کی ہیں جو تمام  انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں -آپ  تمام عمر بھر لوگوں کو نصیحتیں فرماتے رہے۔ تفسیر فتح الرحمن میں ہے کہ آپ کی قبر مقام صرفند میں ہے جو رملہ کے قریب ہے اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ آپ کی قبر رملہ میں مسجد اور بازار کے درمیان میں ہے اور اس جگہ ستر انبیا علیہم السلام بھی مدفون ہیں۔ جن کو آپ کے بعد یہودیوں نے بیت المقدس سے نکال دیا تھا اور یہ لوگ بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر وفات پا گئے تھے۔ آپ کی قبر پر ایک بلند نشان ہے اور لوگ اس قبر کی زیارت کے لیے دور دور سے جایا کرتے ہیں۔اللہ کے ایک سچّے بندے تھے اللہ سبحانہٗ نے ان کے اندر وہ خوبیاں دیکھیں جو کہ ایک نبی کے اوصاف میں ہونی چاہئے توایک دن فرشتے کو ان کے پاس اس وقت بھیجا جب کہ ایک دن وہ دوپہر کے کھانے کے بعدقیلولہ کر رہے تھے
 

 غیب سے ندائے فرشتہ آئ کہ ائے لقمان رحمۃ اللہ علیہاللہ تعالٰی آپ  کو منصبِ نبوّت عطا کرنا چاہتا ہے ،اور اللہ تعالیٰ جلِّ شانہٗ نے آپ کا جواب منگوایا ہے۔حضرت لقمان رحمۃ اللہ علیہ ندائے فرشتہ سن کر ہوشیارہو  گئے انہوں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن فرشتہ نظر نہیں آیا لیکن فرشتہ کی اپنے قریب موجودگی کو انہوں نے محسوس کر کے جواب میں فرشتے سے کہا کہ اللہ نے میری مرضی طلب کی ہے یا مجھے حکم دیا ہے ،فرشتے نے کہا آ پ کی رضا طلب کی ہے،حضرت لقمان رحمۃ اللہ علیہ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالٰی سے کہنا کہ میں اپنے آپ کو نبوّت کا گراں بار منصب اٹھا نے کا اہل نہیں پاتا ہوں   چنانچہ فرشتے حضرت لقمان کا جواب لے کر واپس چلے گئے ،اور پھر اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السّلام سے علم حکمت واپس لے کر وہ علم حضرت لقمان رحمۃ اللہ علیہ کو دیا اور منصب نبوّت پر حضرت موسٰی علیہ السّلام کو سرفراز کیا۔یاد رہے کہ دنیا کے پہلے حکیم و طبیب حضرت موسٰی علیہ السّلام تھے اور حضرت لقمان رحمۃ اللہ علیہ کے سگے خالہ زاد بھائ بھی تھے
 

  حضرت لقمان کا طریقہ علاج سادہ اور فطری اصولوں پر مبنی تھا۔ وہ بیماریوں کو دور کرنے کے لیے قدرتی جڑی بوٹیوں اور غذائی اجزاء کا استعمال کرتے تھے۔ اس کے علاوہ، وہ مریضوں کی روحانی اور نفسیاتی صحت پر بھی توجہ دیتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جسم اور روح دونوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔حضرت لقمان ایک طبیب اور حکیم کے طور پر جانے جاتے تھے، اور انکے علاج کے طریقے قرآن و حدیث میں بھی بیان ہوئے ہیں۔ ان کے علاج کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:جڑی بوٹیوں کا استعمال:حضرت لقمان مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے جڑی بوٹیوں کا استعمال کرتے تھے۔ وہ جڑی بوٹیوں کی خصوصیات سے بخوبی واقف تھے اور ان کا صحیح استعمال جانتے تھے۔متوازن غذا:وہ مریضوں کو متوازن غذا کھانے کی تلقین کرتے تھے اور ان کی غذا میں مناسب مقدار میں غذائی اجزاء شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے تھے۔صفائی اور پرہیز:حضرت لقمان صفائی کی اہمیت پر بہت زور دیتے تھے اور مریضوں کو پرہیز کرنے کی بھی تاکید کرتے تھے۔روحانی اور نفسیاتی علاج:وہ سمجھتے تھے کہ روحانی اور نفسیاتی صحت کا براہ راست جسمانی صحت پر اثر پڑتا ہے۔
 

حضرت لقمان  جب  مریض  کی نبض دیکھ  کر اس کے مرض کو پہچان لیتے  تب وہ مریض کی روحانی اور نفسیاتی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔دعا اور توکل:حضرت لقمان علاج کے ساتھ ساتھ دعا اور توکل کی بھی تلقین کرتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ شفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور دعا اس کا ایک ذریعہ ہے۔حضرت لقمان کا طریقہ علاج ایک جامع اور فطری طریقہ تھا جو جسم، روح اور ذہن کو صحت مند بنانے پر مرکوز تھا۔حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو جن کا نام انعم تھا۔ چند نصیحتیں فرمائی ہیں جن کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ لقمان میں ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی دوسری نصیحتیں آپ نے فرمائی ہیں جو تفاسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ درزی کا پیشہ کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ آپ بکریاں چراتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ حکمت کی باتیں بیان کر رہے تھے تو کسی نے کہا کہ کیا تم فلاں چرواہے نہیں ہو؟ تو آپ نے فرمایا کہ کیوں نہیں، میں یقینا وہی چرواہا ہوں تو اس نے کہا کہ آپ حکمت کے اس مرتبہ پر کس طرح فائز ہو گئے؟ تو آپ نے فرمایا کہ باتوں میں سچائی اور امانتوں کی ادائیگی اور بیکار باتوں سے پرہیز کرنے کی وجہ سے   

1 تبصرہ:

  1. حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں-حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا ” اے بیٹے! اللہ کا شریک نہ ٹھہرانا ،بے شک شرک بڑا بھاری ظلم ہے “۔ حضرت لقمان نے آگے فرمایا کہ ” اے میرے بیٹے! اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو (تو بھی اسے معمولی نہ سمجھنا وہ عمل ) کسی پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہویا پھر زمین کے اندر(زمین کی تہہ میں چھپا ہوا ہو ) اللہ تبارک وتعالیٰ اسے ظاہر فرمائیں گے،بے شک اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین و باخبر ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر