1970ء اور 1980ء کی دہائیوں تک کراچی سرکلر ریلوے اپنے عروج پر تھی۔ روزانہ 104 ٹرینیں چلتیں جن میں سے 80 مرکزی لائن پر جب کہ 24 لوپ لائن پر چلتی تھیں۔ لیکن " پنجاب پولیس اور پنجاب ٹرانسپورٹ مافیا" کی سازشوں کی بدولت 1999ء میں کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ بحالی کی کوششیں ابھی تک بارآور نہیں ہو سکیں۔ کراچی کی یہ لوکل ٹرین ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن اور لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان ریلویز کی مرکزی ریلوے لائن پر بھی دو روٹس یعنی کراچی شہر سے لانڈھی اور کراچی شہر سے ملیر چھاؤنی کے درمیان 28 لوکل ٹرینیں چلتیں تھیں۔ اس کے پہلے مرحلہ پر 3 کروڑ 88 لاکھ روپے لاگت آئی اور پہلے ہی سال کراچی سرکلر ریلوے کو اس دور کا 5 لاکھ روپے کا منافع بھی ہوا تھا۔ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) نے کراچی سرکلر ریلوے کیلئے تقریبا ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تاہم جائیکا نے اس منصوبے کو اپنی زیر نگرانی سخت مانیٹرنگ سے مشروط کردیا
ظاہر ہے کہ بدعنوانوں کے رہتے تو ممکن ہی نہ تھا۔ اس لئے یہ بہترین منصوبہ داخل دفتر ہو گیا 2013 ءمیں سابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کیلئے 2.6 ملین امریکی ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی جس میں کئی نئے اسٹیشن اور ان اسٹیشنوں کے مطابق کئی نئے بس روٹس چلانے کا اعلان بھی کیا گیالیکن ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر نہ جانے کن وجوہات کی بنا ءپر یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار ہوگیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر سرکلر ریلوے کو سی پیک منصوبے کا حصہ بناتے ہوئے اسے تین برسوں میں تکمیل تک پہنچانے کا عندیہ دیا گیا اس منصوبے پر تقریباً 270 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ۔وزارت پلاننگ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کیلئے 43 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پچھایا جائے گا۔یہ منصوبہ حکومت سندھ اور چین کو مکمل کرنا تھا جبکہ اس منصوبے کی نگرانی وزارت پلاننگ کی ذمہ داری تھی۔
سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت اوسطا ایک سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر کل 24 اسٹیشن بنائے جانے کی بات کی گئی تاہم یہ منصوبہ بھی التواءکا شکار ہوگیا۔ اب سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کیا ہے ،تجاوزات کے خلاف کامیاب آپریشن کو دیکھتے ہوئے اس بات کی اُمید انتہائی روشن ہے کہ سپریم کورٹ کے اس حکم پر بھی عمل درآمد ہوگا اور کراچی کی کم از کم سات لاکھ عوام کوسرکلر ریلوے کی صورت میں سفری سہولیات میسر آسکیں گی۔کراچی دنیا کے گنجان ترین شہروں میں سے ایک ہے، جس کی موجودہ آبادی (محتاط اندازے کے مطابق) تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ ہے جو ٹوکیو، نئی دہلی، ممبئی، نیویارک، میکسیکو سٹی، منیلا اور جکارتہ سے زیادہ ہے۔کراچی کی یہ آبادی 2030ءتک 3کروڑ 34 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے
لہٰذااس منصوبے کی تکمیل سے ایک جانب سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں تو دوسری جانب اس شہر کے باسیوں کی سفری مشکلات کو دور کرنے کیلئے بھی وقت کا تقاضا ہے کہ سرکلر ریلوے جیسے منصوبوں کا آغاز کرکے کراچی کی روشنیوں کو بحال کیا جائے، ویسے ایک اطلاع کے مطابق 24نومبر سے کراچی سے سکھر تک کیلئے سکھر ایکسپریس چلائی گئی ہے جس سے یقینا لوگوں کو فائدہ پہنچے گا ۔اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں یومیہ سفر کرنے والوں کی تعداد 7 لاکھ سے زائد ہے، 24 فیصد لوگ پبلک ٹرانسپورٹ، 91 فیصد موٹر سائیکل، 1.7 فیصد کانٹریکٹ کرئیرز، 21 فیصد ذاتی گاڑیوں اور 8 فیصد لوگ پک اینڈ ڈراپ کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ان 7 لاکھ لوگوں کیلئے 6 ہزار سے زائد بسیں تقریباً 300 روٹس پر چلتی ہیں، ان میں سے 85 فیصد بسیں پرانی اور ناقص ہیں، یوں شہر کے 42 فیصد مسافروں کا بوجھ پبلک ٹرانسپورٹ کو اٹھانا پڑتا ہے، اس مسئلے کا حل موثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ہے اور کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی ہے۔
خدا کرے کوئ تو کراچی کا خیر خواہ ہو
جواب دیںحذف کریں