پنجاب حکومت نے آٹھ اضلاع میں فوج کو مدد کے لیے بُلا لیا ہے-ہر طرف دلخراش مناظر ہیں امدادی کیمپوں میں لوگ ایک ایک وقت کے کھانے پر گزارہ کر رہیں اور پانی ہے کہ منہ زوری کے ساتھ چڑھا چلا آ رہا ہے دریائے راوی میں جموں و کشمیر سے آنے والے پانی سے پاکستان کے ضلع نارووال کے درجنوں دیہات بھی زیرِ آب آ گئے ہیں۔دریائے راوی نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے گاؤں کوٹ نیناں کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ دوسری طرف انڈیا سے ایک نالہ 'اوج' بھی آتا ہے جو اسی مقام پر دریائےِ راوی میں شامل ہوتا ہے۔مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں کے مطابق دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث نارووال کے لگ بھگ 35 سے 40 چھوٹے بڑے گاؤں زیرِ آب ہیں۔ضلع نارووال دو طرح سے سیلابی پانی سے متاثر ہو رہا ہے، ایک جانب تو دریائے راوی کے پانی سے اور دوسری جانب ان نالوں سے جو جموں و کشمیر سے آتے ہیں اور راوی میں ملتے ہیںنارووال سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی راحیل نے بتایا کہ راوی میں آنے والے سیلابی ریلے ہی کے باعث گرودوارہ کرتارپور صاحب کی عمارت کئی فٹ پانی میں ڈوب چکی ہے۔ جبکہ نارووال سے شکر گڑھ جانے والی سڑک کا بھی تین سے چار کلومیٹر تک کا حصہ سیلابی پانی میں ڈوب چکا ہے۔
جبکہ اس کے آس پاس کے دیہات مکمل زیرِ آب ہیں۔جموں و کشمیر سے آنے والے نالوں کی وجہ سے نارووال کی تحصیل ظفر وال میں درجنوں دیہات زیرِ آب ہیں۔ یہاں موجود ایک بڑا قصبہ 'کنجروڑ' جس کی آبادی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے، کو اس وقت شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔دوسری جانب نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث بھی ظفروال کی صورتحال مخدوش بن رہی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق نالہ ڈیک پر حفاظتی بند متعدد مقامات سے ٹوٹ چکے ہیں جبکہ ہنجلی کے مقام پر موجود پُل بھی مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔نالہ ڈیک اس وقت سیالکوٹ کے بعض دیہی علاقوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ چونڈہ سے ظفر وال جانے والی سڑک بھی اسی نالے میں سیلابی صورتحال کے باعث بڑی حد تک متاثر ہوئی ہے۔دریائےِ راوی میں سیلابی صورتحال شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کو بھی متاثر کر رہی ہے، جبکہ اسی دریا نے فیصل آباد کے علاقے تاندلیاوالہ اور ضلع ساہیوال کو بھی متاثر کیا ہے۔
ننکانہ صاحب کے مقامی صحافی جاوید احمد کے مطابق روای کے سیلابی پانی سے ہیڑے، جٹاں داواڑہ، نواں کوٹ، خزرہ آباد اور لالو آنہ کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح شیخ داٹول، گجراں دا ٹھٹہ، کھوہ صادق، ڈیرہ حاکم، ڈیری مہر اشرف کی آبادیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔اوکاڑہ کا موضع جندراکہ، جس کی آبادی 30 ہزار سے زائد ہے، جہیڈو اور جھنڈومنج میں بھی دریائے روای سے آنے والا سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کا بھی دریائے راوی کی طغیانی سے متاثر ہونے کا امکان ہے اور مقامی حکام کے مطابق اس کے متعدد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔مقامی صحافی محمد احسان کے مطابق مقامی حکام بتا رہے ہیں کہ راوی کے کنارے پر آباد سو سے زائد چھوٹی بڑی آبادیوں بشمول بستی جموں ڈولوں، جلی تریانہ، جلی فتیانہ، ماڑی پتن، شیرازہ، ٹھٹھہ ڈوکاں وغیرہ کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔نارووال-دریائے راوی نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کے گاؤں کوٹ نیناں کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتا ہے
دریائے چناب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں سیالکوٹ، منڈی بہاوالدین، سرگودھا، گجرات، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ شامل ہیں۔ ان اضلاع کی حد تک چناب کے پانی کی شدت تھوڑی زیادہ رہتی ہے۔وزیر آباد کے مقامی صحافی عقیل لودھی کے مطابق چناب کا پانی فی الوقت وزیر آباد شہر کو متاثر کر رہا ہے، ۔ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے انتہائی شمال میں واقع علاقہ بجوات جو دریائے چناب اور دریائے توی کے وسط میں واقع ہے، سیلاب سے شدید متاثر ہے۔ اس میں لگ بھگ ستر کے قریب دیہات آتے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق سیالکوٹ شہر کو ان دیہاتوں سے ملانے والا راستہ مکمل طور پر زیر آب ہے۔منڈی بہاؤ الدین سے تعلق رکھنے والے مقامی زمیندار و کاروباری شخصیت فرحان وڑائچ کے مطابق منڈی بہاؤ الدین کے علاقے قادر آباد، فرخ پور بھٹیاں، کالاشادیاں، باری، رنڈیالی، ملہیاں، جوکالیاں، کھسرلونگ، سعداللہ پور، کامونکی، چاڑکی، بھابڑا، لاکھا کدھر متاثرہو رہے ہیں -
پنجاب میں سیلاب کے باعث اب تک کئ اموات ہوچکی ہیں سیانے کہہ رہے ہیں ' ذرا سیلاب گزرنے دیں اور پانی اترنے دیں ۔ چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چُھوئیں گی ۔ مرغی ، گوشت ، مچھلی ، گندم ، سبزیاں ، چارہ اور دیگر استعمال کی اشیاء بہت مہنگی ہو جائیں گی۔ اس کی وجہ لوگوں کی بد دیانتی کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق بھی ہونگے ۔ ظاہر ہے اتنے بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب سے بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا ۔ فصلیں تباہ ہونگی ، کسان سب سے بڑا متاثر طبقہ ہوگا ۔ اجناس ، خوراک کے ذخیرے ضائع ہونے کا الگ سے اثر پڑے گا ۔ چارہ ، ونڈا ، کھل اور خوراک مہنگے ہونے سے پروڈکشن کاسٹ بڑھے گی ۔ جانور ، مرغیاں ، مچھلیاں مرنے سے ، خوراک مہنگی ہونے سے سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن بگڑ جائے گا اور سب سے زیادہ عام شہری متاثر ہوگا ۔ہم اس وقت سیلاب کے علاقے سے کوسوں دور بیٹھے ہیں اور ابھی سے ، میری نظروں کے سامنے اس سیلاب کی "تپش" محسوس ہونے لگی ہے ۔ رہ گئے سیلاب زدہ علاقے تو وہ تو پھر ایک لمبے عرصے تک تبدیل ہوکر رہ جائیں گے ۔اللّٰہ کرے ایسا نہ ہو مگر ہم نے سیلاب کو عملاً بھگتا ہے اور ان باتوں کا تجربہ کرکے بیٹھے ہیں
یہ تحریر انٹرنیٹ سے لی ہے
موجودہ صورتحا ل میں ملک کے مخیر افراد کو ہر ممکن مد کرنی چاہئے
جواب دیںحذف کریں