منگل، 12 اگست، 2025

ڈیجیٹل زمانے کی ڈیجیٹل محبتیں اور ہمارا اخلاقی زوال


 ڈیجیٹل  زمانے کی ڈیجیٹل محبتیں 'کیا کبھی خواب میں کسی نے اس دور کے بارے میں سوچا ہو گا   کہ ایک عورت جس کے پاس باوفا شوہر بھی ہوگا   اور بچے بھی ہوں گے وہ گھر میں بچوں اور شوہر کو آگاہ کئے بغیر دوسرے ملک محض اس لئے چلی آئ   ہو گی کہ اس کو ایک دوسرے  مرد کی محبت نے  اپنا اسیر  کر لیا ہو گا  'یہ ہے ڈیجیٹل میڈیا کا کمال   ْہوا یوں کہ  پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع دیر بالا کے رہائشی نصر اللہ کی چند سال قبل انڈیا کی ریاست اتر پردیش کی ایک خاتون انجو سے سوشل میڈیا کے ذریعے  کوئ  گیم کھیلتے ہوئے بات چیت ہونا شروع ہوئی جو وقت کے ساتھ محبت میں بدل گئی اور اب انجو اس پاکستانی نوجوان سے ’ملنے‘ کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہیں۔بی بی سی ہندی کو معلوم ہوا ہے کہ انڈین شہری انجو پہلے سے شادی شدہ ہیں اور وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ انڈیا کے الور شہر کے علاقے بھیواڑی میں رہتی تھیں۔صحافی موہر سنگھ مینا نے بی بی سی ہندی کے لیے بھیواڑی میں موجود انجو کے چالیس سالہ شوہر اروند سے بات کی ہے۔

 
انجو کے شوہر نے بتایا ہے کہ ان کی اہلیہ ’21 جولائی کو یہ کہہ کر گھر سے نکلی تھیں کہ وہ جے پور جائیں گی۔ تب سے ہم ان سے واٹس ایپ پر بات کر رہے تھے۔‘23 جولائی کی شام جب بیٹے کی طبیعت خراب ہوئی تو انجو سے پوچھا گیا کہ وہ کب واپس آئیں گی۔ تو انھوں نے بتایا کہ وہ پاکستان میں ہیں اور جلد ہی واپس آ جائیں گی۔روند کے مطابق انجو نے کسی کو اپنے پاکستان جانے کے بارے میں کبھی شک نہیں ہونے دیا اور انھیں بس اتنا معلوم تھا کہ انجو کے پاس کئی سال پہلے بنوایا گیا پاسپورٹ تھا۔پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا کے رہائشی نصر اللہ سے ملنے اور مبینہ طور پر ’منگنی‘ کرنے کے لیے آنے والی انڈین خاتون انجو کا کہنا ہے کہ انھوں نے انڈیا میں اپنے شوہر اور بچوں کو بتا دیا تھا کہ وہ پاکستان جا رہی ہیں۔انڈیا کے ٹی وی چینل زی نیوز سے ویڈیو کال کے ذریعے بات کرتے ہوئے انڈین خاتون انجو کا کہنا تھا کہ ’شوہر کو یہ علم تو تھا ہی کہ میں باہر جا رہی ہوں اور میں نے سوچا کہ جب میں بارڈر پار کر لوں گی تو انھیں بتا دوں گی اور میں نے انھیں بتایا بھی تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو بھی پاکستان ساتھ لے کر آؤں لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کو بھی پاسپورٹ کی ضرورت ہو گی۔


زی ٹی وی کے اینکر کے اس سوال پر کہ کیا آپ پاکستان میں نصراللہ سے شادی کرنے والی ہیں، انجو نے کہا کہ وہ پاکستان نصراللہ سے شادی کرنے نہیں آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نصراللہ ان کے دوست ہیں اور وہ یہاں ان سے ملنے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ان کے پورے خاندان سے ملاقات ہوئی ہے اور یہ سب لوگ بہت اچھے ہیں اور میرا بہت خیال رکھا جاتا ہے’میرا ایسا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔ وہ بس میرے دوست ہیں، ان سے ملنے اور پاکستان گھومنے آئی ہوں۔‘پاکستان جانے کا خیال کیسے آیا کے سوال پر انجو نے کہا کہ ہماری سوشل میڈیا کے ذریعے بات چیت ہوتی تھی۔ مجھے وہاں جانے کے متعلق کچھ پتا نہیں تھا تو میں نے نصراللہ سے کہا کہ وہ انڈیا آ جائیں لیکن اس میں بہت وقت لگتا ہے۔ پھر میں نے نصراللہ سے کہا کہ میری درخواست کے لیے کاغذات جمع کروا دو۔ایک سوال میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نصر اللہ سے ملنے کا شوق تو تھا ہی لیکن میں یہاں آنا چاہتی تھی کیونکہ عام جگہوں پر تو سب چلے جاتے ہیں لیکن پاکستان آنے کا خطرہ تو کوئی کوئی مول لیتا ہے۔


انجو نے بتایا کہ میں نصراللہ سے کہتی تھی کہ مجھے دیر اور اپنا علاقہ دکھاؤ۔انجو نے انڈیا میں اپنے ایک دفتری ساتھی کی جانب سے ہراساں کرنے اور تنگ کرنے کے متعلق بھی بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مجھے اغوا کرنے اور مارنے کی دھمکی دیتے تھے اور میں نے اس متعلق پولیس کو بھی بتایا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ ایسا نہیں کہ انڈیا میں ان کے شوہر سے ان کے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف پاکستان گھومنے آئی ہیں۔ادھر ڈسڑکٹ پولیس افسر دیر بالا مشتاق احمد خان نے سوموار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس نے نصراللہ اور ان کے خاندان  کو پابند کیا ہے کہ انڈین خاتون انجو ایک ماہ بعد 21 اگست سے پہلے دیر بالا چھوڑ دیں۔ان کا کہنا ہے کہ انجو کے پاس صرف اپر دیر کی رہائش کا ایک ماہ کا ویزہ اور این او سی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے انڈین خاتون انجو سے رسمی انٹرویو کیا ہے۔’اس انٹرویو میں ہم نے نہ تو منگنی اور نہ ہی شادی کی بات سنی ہے۔ بہرحال یہ فیس بک کی دوستی ہے۔ اس سے آگے کا فیصلہ نصراللہ اور ان کا خاندان کرے گا کہ یہ منگنی کرتے ہیں یا شادی، یہ ان کا اپنا گھریلو معاملہ ہے۔‘مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ رسمی انٹرویو کے بعد ہم نے انجو کی ذاتی زندگی کا خیال رکھا اور ان کو سیکیورٹی فراہم کردی گئی ہےنصراللہ کی انجو سے فیس بک پر دوستی ہوئی تھی۔ اس کے بعد پاکستانی سفارت خانے کو 2022 میں درخواست بھیجی گئی تھی۔
 

 نصراللہ کی اس درخواست پر انڈیا میں پاکستانی سفارت خانے نے انجو کو ویزہ جاری کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انجو نے لاہور کے واہگہ بارڈر پر امریگیشن کی ہے۔ لاہور سے راولپنڈی تک انجو نے بس کا سفر کیا تھا۔راولپنڈی میں نصراللہ نے انجو کا استقبال کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا خطہ کی مہمان نوازی مشہور ہے اور ہم انجو کی مہمان نوازی کریں گے۔دوسری جانب 29 برس کے پاکستانی نوجوان نصر اللہ کے مطابق وہ اگلے دو سے تین دن میں انجو سے باضابطہ منگنی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے دس بارہ دن بعد انجو واپس انڈیا چلی جائیں گی۔انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بعد انجو دوبارہ شادی کے لیے پاکستان آئیں گی۔ یہ میری اور انجو کی ذاتی زندگی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ اس میں مداخلت کی جائے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ میڈیا سے بھی دور رہا جائے۔‘اس وقت انجو دیر بالا میں نصراللہ کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ ڈی پی او دیر بالا محمد مشتاق نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین شہری کی اس وقت انجو دیر بالا میں نصراللہ کے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ڈی پی او دیر بالا محمد مشتاق نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انڈین شہری کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔انجو کے لیے بھی پاکستان کا ویزہ حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ خصوصاً دیر بالا تک پہنچنے کے لیے جو ایک دور دراز ضلع ہے جس کی ایک سرحد افغانستان سے ملتی ہے۔
 

1 تبصرہ:

  1. ماؤں کو چاہئے کہ اپنے جوان بیٹوں کو بتائیں کہ شادی شدہ عورت کے ساتھ عاشقی کا کھیل نہیں کھیلیں

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر