ویسے تو کئی سالوں سے کراچی کے تمام ہی علاقوں میں لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں، انھوں نے کراچی کے لیے دعوے زیادہ اورکام برائے نام کیا۔ ہر ایک حکومت نے کراچی کو جی بھر کر لوٹا ہے۔ اب دیکھئے کہ کراچی کے اہم سرکاری دفاتر،گورنر، وزیر اعلیٰ ہاؤس، سٹی کورٹس اور ریڈ زون بھی کراچی کے پرانے ضلع جنوبی میں ہے جہاں مسائل کی بھی بھرمار ہے اور فراہمی و نکاسی آب، بجلی،گیس پانی و دیگر بلدیاتی مسائل کراچی کے سات اضلاع میں جنوبی ضلع میں سب سے زیادہ ہیں اوراب کراچی والوں کے لئے نئ افتاد یہ ہے کہ کراچی کے 60 لاکھ موٹرسائیکل سواروں کو نئی نمبر پلیٹں لگانے کا کہا گیا ہے۔اس فیصلے سے کراچی والوں کو مزید مالی بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔ حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ تمام موٹرسائیکلوں پر نئی اجرک والی پلیٹیں لگائیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے بڑھا دیے گئے ہیں اور یہ مہربانی پورے سندھ کے لیے نہیں صرف کراچی کے لیے ہے حالانکہ اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو اس کا اطلاق پورے سندھ پر ہونا چاہیے۔
سندھ حکومت کو کراچی کی تباہ حال سڑکوں، بجلی،گیس، پانی فراہمی و نکاسی آب کے مسائل کو حل کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ کراچی کی گاڑیوں کے لیے اجرک والی نمبر پلیٹ ضروری کیوں؟محکمہ ایکسائز کے ذرائع کے مطابق نئی نمبر پلیٹوں میں سکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ گاڑیوں کی شناخت کو مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے کراچی کے سوک سینٹر میں واقعہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کے دفاتر میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہاں لوگ گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹیں حاصل کرنے آئے ہیں اور عمارت میں داخل ہونے 3والوں کے لئے کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہے۔اور عملے کی بے حد کمی ہے لوگ دفاتر سے چھٹی کر کے پلیٹس کے لئے دھکے کھا رہے ہیں -سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے پرانی نمبر پلیٹوں کو قبول نہ کرنے کے اعلان کے گاڑیوں پر نئی نمبر پلیٹیں نصب کروانا ضروری قرار پایا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے ذرائع کے مطابق نئی نمبر پلیٹوں میں سکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ گاڑیوں کی شناخت کو مزید محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکےتاہم شہریوں کو ایکسائز کے دفاتر میں نمبر پلیٹیں حاصل کرنے کی غرض سے گھنٹوں کے انتظار کی کوفت اٹھانا پڑی رہی ہے۔
سوک سینٹر میں نمبر پلیٹ حاصل کرنے کی غرض سے لائن میں لگے ایک شہری نے بتایا کہ ’گاڑی اپنے نام پر ٹرانسفر کرنے کی مہلت 14 اگست کو ختم ہو جائے گی ۔‘ گاڑی کی نمبر پلیٹ حاصل کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ ’نمبر پلیٹ تو مل گئی ہے، لیکن یہاں انتظامیہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ خواتین کے لیے تھوڑی سہولت ضرور ہے، مگر مجموعی طور پر بدانتظامی اور رش نے عوام کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔‘وزیر ایکسائز مکیش کمار چاولہ نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’سندھ حکومت نے نئی نمبر پلیٹوں پر سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک کا ڈیزائن شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جیسے اسلام آباد کی نمبر پلیٹس پر فیصل مسجد، پنجاب میں گندم کا خوشہ اور خیبرپختونخوا میں خیبر پاس کا نشان موجود ہے، ویسے ہی سندھ کی نمبر پلیٹوں پر اجرک کے ڈیزائن کو شامل کیا گیا ہےتاکہ قومی یک جہتی کے علاوہ ہر صوبے کی انفرادی پہچان بھی سامنے آئے۔‘
سندھ میں اجرک کے ڈیزائن اور ’چِپ‘ کے ساتھ نئی نمبر پلیٹس اسلام آباد میں رجسٹریشن کے ساتھ نمبر پلیٹ، پنجاب میں کیوں نہیں؟'سندھ تعلیمی اداروں میں اجرک اور ٹوپی کے تحفے پر پابندی کیوں؟انہوں نے مزید بتایا کہ ’تین اقسام کی نمبر پلیٹس جاری کی جا رہی ہیں: سرکاری گاڑیوں کے لیے سبز، پرائیوٹ گاڑیوں کے لیے سفید اور کمرشل گاڑیوں کے لیے پیلی۔ یہ نمبر پلیٹیں جدید سکیورٹی فیچرز سےآراستہ ہوں گی، جن میں بارکوڈ اور ایک مخصوص سکیورٹی تھریڈ نصب ہے، جو رات کے اندھیرے میں بھی نمبر پلیٹ کو کیمرے سے واضح طور پر شناخت کے قابل بناتا ہے جبکہ نئی نمبر پلیٹس سیف سٹی پراجیکٹ سے بھی منسلک ہوں گی۔‘ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’سکیورٹی فیچرز کے ذریعے مشتبہ گاڑیوں کی نگرانی، ٹریکنگ اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا آسان ہو جائے گا۔‘محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفاتر میں نئی نمبر پلیٹیں ھاصل کرنے والوں کی رش دیکھی جا سکتی ہے
( مکیش کمار کے مطابق: ’نمبر پلیٹ سکیم 2022 میں لانچ کی گئی تھی اور اب تک 21 لاکھ گاڑیوں کو نئی نمبرپلیٹس جاری کی جا چکی ہیں۔ سندھ میں تقریباً 12 لاکھ موٹر سائیکل ایسی ہیں جو ابھی رجسٹرڈ نہیں ہیں، جبکہ دو دو لاکھ پرانی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ایسی ہیں جنہوں نے نئی سکیورٹی فیچر والی نمبر پلیٹس حاصل کی ہیں۔‘ترجمان ٹریفک پولیس نے موقف بتایا کہ ’شہریوں کو نمبر پلیٹ کے معاملے پر بلاوجہ چالان نہیں کیا جا رہا، بلکہ صرف اُن گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جن کے پاس مکمل دستاویزات موجود نہیں ہیں یا جن پر نمبر پلیٹ ہی نہیں لگی۔
حکومت سندھ کو چاہئے کہ ایک تو عمل زیادہ کرے دوسرے مزید سینٹرز بنا کر وہاں سے پلیٹس کا اجرا کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے
جواب دیںحذف کریں