گذشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے 750000 ٹن سے زائد چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ اور اب حکومت نے 750000 ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس ٹوپی ڈرامے میں سبسڈی کا فائدہ بھی چینی مافیا کو اور درآمد پر منافع بھی چینی مافیا کو آٹے کی مفت تقسیم میں سارا فائدہ منافع خور ما فیا کا یعنی حکومت اورشوگر مافیا ملکر عوام کا خون چوس رہے ہیں،کیونکہ حکومت اور مافیا ایک ہی ہیں -بتایا جا رہا ہے کہ عوام پر چینی کی مد میں 600 ارب کا بوجھ ڈالا جا ئے گا جو سیدھا سیدھا مافیا کی جیب میں جائے گا ،ملک میں اس وقت چینی کی قیمت بعض شہروں میں 200روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔پا کستان کے ادارہ شماریات کے مطابق گذشتہ ہفتے چینی کی فی کلو ریٹیل قیمت 182 فی کلو تھی جو گذشتہ سال 143 روپے تھی۔ چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے حکومت نے چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم تیس جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال میں 750000 ٹن چینی کی برآمد کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے ذریعے شوگر ملز نے چینی برآمد کر کے غیر ملکی زرمبادلہ کی صورت میں آمدنی حاصل کی۔ دوسری جانب مقامی مارکیٹ میں صارفین کے لیے اس کی قیمت بڑھ گئی۔
موجودہ حکومت سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی ایسا ہی ایک تنازع پیدا ہوتا تھا۔ اپوزیشن کی تنقید کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر ایف آئی اے نے ایک انکوائری بھی کی جس میں ملک میں چینی کی قلت اور اس کی قیمت میں اضافے کا ذمہ دار شوگر ملز کو قرار دیا گیا تھا۔ایف آئی اے کی اس انکوائری رپورٹ میں جے ڈی ڈبلیو یعنی جمالدین والی گروپ، رحیم یار خان گروپ، اومنی گروپ، شامین احمد خان گروپ کی شوگر ملز کو اس وقت چینی بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔اس انکوائری میں ملز کو چینی کی برآمد کے لیے برآمدی سبسڈی سے فائدہ اٹھا کر منافع کمانے کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں اضافے سے زیادہ منافع کمانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔واضح رہے کہ اس وقت بھی چینی کی برآمد کی وجہ سے اس کی قیمت مقامی منڈی میں کافی اوپر چلی گئی تھی۔
جمالدین والی شوگر مل کی ویب سائٹ پر موجودہ معلومات کے مطابق جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیو گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ہیں جس کی ملکیت میں تین شوگر ملز ہیں -پاکستان میں کتنی شوگر ملز ہیں اور ان کے مالکان کون ہیںپاکستان کے صنعتی شعبے میں شوگر انڈسٹری کا حصہ قریب ساڑھے تین فیصد ہے۔پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ کے مطابق اس تنظیم کے 48 ارکان ہیں۔ تاہم ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نامی سرکاری ادارے کے مطابق اس وقت مجموعی طور پر 72 شو گر ملز کام کر رہی ہیں۔جبکہ پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی تعداد 85 ہے --جن کی اکثریت 45 شوگر ملز پنجاب میں قائم ہیں جبکہ سندھ میں ان کی تعداد 32 اور خیبر پختونخوا میں آٹھ ہے۔
چینی سے جڑے تنازعات پر اکثر شوگر ملز مالکان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان کے منافع کی قیمت عام صارفین کو چکانی پڑتی ہے۔درحقیقت ملک میں قائم کئی شوگر ملز کاروباری افراد کے علاوہ بااثر سیاسی شخصیات اور خاندانوں کی ملکیت میں بھی ہیں تاہم ہم نے اس حوالے سے کچھ جانچ پڑتال کی ہے-پاکستان میں شوگر ملز کی ملکیت خالصتاً کاروباری افراد، جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کے ساتھ ساتھ سیاسی افراد کے پاس بھی ہے۔ ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:جمالدین والی شوگر مل اور جہانگیر ترین -جمالدین والی شوگر مل کی ویب سائٹ پر موجودہ معلومات کے مطابق جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیو گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ہیں جس کی ملکیت میں تین شوگر ملز ہیں۔ ان میں دو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان اور ایک سندھ کے ضلع گھوٹکی میں موجود ہے۔
اس گروپ کے بورڈ کے ڈائریکٹر اور چیئرمین مخدوم احمد محمود ہیں جو سابق گورنر پنجاب ہیں۔ اسی طرح ان کے بیٹے سید مصطفی محمود بھی ایک بورڈ کے ایک ڈائریکٹر ہیں جو رحیم یار خان سے پی پی پی کے ٹکٹ پر ایم این اے ہیں۔شریف گروپ، شوگر مل،شریف گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی ملکیت میں دو شوگر ملز ہیں جن میں سے ایک رمضان شوگر مل اور دوسری العربیہ شوگر مل ہے۔چینی فورینزک رپورٹ: ’ترین، زرداری، شریف خاندان سمیت چھ بڑے گروپس نے فراڈ اور ہیرا پھیری کی‘وفاقی کابینہ نے جمعرات کو چینی بحران سے متعلق فورینزک رپورٹ عام کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کے نو بڑے گروپوں کی ملز کی آڈٹ کی تفصیلات شامل ہیں۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی اہم کاروباری شخصیت جہانگیر ترین، سابق حکمران شریف خاندان، گجرات کے چوہدری برادران، پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے ’فراڈ اور ہیرا پھیری کی ہے‘
باقی رہے نام اللہ کا -یہ چار دن کی دنیا ہے جتنا چاہے لوٹ کا مال جمع کر لے حساب تو اللہ کے گھر ہونا ہے
جواب دیںحذف کریں