پاکستان میں منشیات کا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں استعمال -پاکستان میں آئے روز منشیات کے بڑھتے دلدل نے ہماری نوجوان نسل کے روشن مستقبل کو داؤ پر لگا کر لاکھوں پڑھے لکھے معزز خاندانوں کا سکون برباد کر رکھا ہے۔ نوجوان نسل خاص طور پر کالجوں، یونیورسٹیوں، ہاسٹلوں کے طلباؤ طالبات، جیلوں کے قیدیوں میں آئیس، ہیروئن، کوکین، چرس، افیون، شراب، مارفین کے ٹیکے سگریٹ نوشی، شیشہ نوشی کے استعمال میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو تا جار ہا ہے۔ جس پر والدین کے ساتھ ساتھ تمام حکومتی ادارے بری طرح ناکام نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان نارکاٹکس کنٹرول پولیس، ایکسائز پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی بھاری کھیپ قبضے میں لے کر قانونی کاروائی کرتے رہتے ہیں۔ سزاؤں کے قانون میں سخت ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کے باوجود ملک میں دھشت گردی کے بعد دوسرا سب سے سنگین جرم منشیات کی فیکٹریاں اور سمگلنگ ہے۔
Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
پیر، 6 نومبر، 2023
پاکستان میں منشیات کا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ا ستعمال
بھکاری ڈرائور کو کوسنا دے کر چلا گیا اور بس ڈرائور نے بس چلا دی لیکن ہوا یہ کہبس معمول کے مطابق چلتی ہوئ اچانک ڈرائور کا ہاتھ اسٹئرنگ پر سلپ کرنے کی وجہ سے ایک دم فٹ پاتھ پر چڑھ گئ اور پھر پہلے ڈرائوراور کنڈکٹر بس سے نیچے اترا پھر ایک ایک مسافر کر کے اترے پھر ڈرائور نے بس کو ہلکا کرنے کے لئے سارے مسافروں کو بس اتار کر بس کو فٹ پاتھ سے اتارنے کی کوشش کی اس کی کوشش میں سارے مسافروں نے بھی ساتھ دیا لیکن بس اڑیل گھوڑے کی طرح ٹس سے مس نہیں ہوئ اب ڈرائور فٹ پاتھ پر کھڑا خجل لہجے میں کہہ رہا تھا 'مجھے فقیر ککو خیرات دے دینی چاہئے تھی ،میرا بھی زاتی یہی خیال ہے کہ کوئ سوالی جب اللہ کے نام پر مانگ رہا ہو تواس کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاو 'اسوقت ہیروئن بھکاری کے لئے کھانے سے بڑھ کر اہم تھی ن محفوظ رہیں آمین اس وقت منشیات کی وبا نے ملک کی نوجوان نسل کی صحت پر شب خون مارا ہے ،کوئی شہر ،کوئی دیہات ، اسکول، کالج، جامعات منشیات کے مختلف آئٹموں سے محفوظ نہیں۔ چرس عام بکتی ہے، کرسٹل، لوشن ، کوکین ، افیون ، بھنگ گلی کوچوں میں دستیاب ہے، منشیات کے عادی افراد کے لیے سرکاری اسپتالوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے،
۔ضروری ہے کہ لیاری ، روتھ فاؤ سول اسپتال،جناح اسپتال اور ملک کے سرکاری اسپتالوں میں منشیات کے وارڈ اور اس کے معالجاتی شعبہ قائم ہونا چاہئیں، پاکستان میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2013 میں 70لاکھ کے قریب لوگ منشیات کے عادی تھے تاہم ایک اندازے کے مطابق اب یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے-اقوام متحدہ کے ادارے UNODC کی 2020 ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق، 35 ملین سے زیادہ لوگ منشیات کے استعمال کے نتائج سے دوچار ہوئے۔ ڈبلیو ایچ او کےمطابق دنیا میں تمباکو کے استعمال سے ہر سال 8 ملین سے زیادہ لوگ مرتے ہیں جن میں سے 1.2 ملین اموات صرف غیر فعال تمباکو نوشی سے ہوتی ہیں۔ پاکستان میں 8.1 ملین افراد منشیات کے عادی ہیں، سالانہ 50 ہزار نئے منشیات استعمال کرنے والوں کومنشیات کے عادی افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ جن میں 78 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین شامل ہیں۔
شامل اعداد و شمار اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ منشیات کے عادی افراد میں سے 55 فیصد کا تعلق پنجاب اور 45 فیصد ملک کے دیگر صوبوں سے ہے-بتایا جاتا ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں اب اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانوں کے لڑکے اور لڑکیاں ان خطرناک نشوں کے عادی ہو رہے ہیں جن کا نجام بس موت کی گہری کھائ ہے-انسداد منشیات مہم پنجاب کے کنسلٹنٹ ذوالفقار حسین کے مطابق اپریل میں لاک ڈاؤن کے دوران لاہور کی مختلف سڑکوں، باغوں اور پارکوں میں منشیات کے عادی افراد کی 51 لاشیں ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک تشویش ناک صورت حال ہے کیونکہ اس سے قبل ہر ماہ 24 سے 28 منشیات کے عادی افراد کی لاشیں لاہور کے مختلف علاقوں سے ملتی تھیں۔ مضمون کے آخر میں اپنے معاشرے کے والدین سے گزارش ہے کہ خدارا اپنی اولاد کو دوست بن کر ان کا ساتھ دیں تاکہ وہ جرائم پیشہ لوگوں کے ہتھے نا چڑھ سکیں -آپ کی اولاد نا صرف آپ کی بلکہ پورے سماج کی دولت ہے اللہ آپ کا حامئ و مددگار ہو آمین-ثمّہ آمین
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا
اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب میں خود ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں